57.1K
55

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 33

“دل تیرے سنگ جوڑ لیا”
از
حوریہ ملک
Episode#33;

اپنی بھنویں سکیڑتے ہوئے اس نے بہت توجہ سے کچھ فاصلے پہ پارک ہوتی گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ پہ بیٹھے شخص کو دیکھا۔
اس شخص کی پہچان ہونے پہ بے ساختہ اس کی پیشانی پہ بل پڑے تھے۔

“آپ کا بھائی کیا کرتا ہے؟” گاڑی ریورس کرتے ہوئے اس نے سنجیدگی سے سیٹ کے ساتھ سر ٹکائے آبگینے کو مخاطب کیا تو وہ چونکی۔

“کون؟طلال لالہ؟” اس نے اچنبھے سے استفسار کیا کیونکہ یہ پہلی دفعہ تھا جب وہ اُس کی فیملی کے متعلق اس سے کوئی بات کر رہا تھا۔

“ہاں وہی۔” مختصر جواب دیتے اس نے نظریں سامنے روڈ پہ موجود ٹریفک پہ جمائیں۔

“وہ تو بابا سائیں کے ساتھ ہی بزنس سنبھالتے ہیں۔” اس نے آہستگی سے جواب دیا۔اس کا جواب سن کے اس کی پیشانی کے بٙل گہرے ہوئے تھے۔

“اِس شخص کا یونی میں کیا کام ہے؟” اس نے دل ہی دل میں سوچا کیونکہ اسے ‘شاہ خاندان’ سے کسی اچھے کی امید نہ تھی۔
سفیر سائیں جیل میں اُن کی کسٹڈی کے انڈر تھا جہاں اسے ہر روز مدہم مگر پر اذیت ٹارچر دیا جاتا تھا۔
اُس جیسے شخص کو جیل سے نکلوانا شاہ حویلی والوں کے لیے بائیں ہاتھ کا کھیل ہوتا جو اگر اس کے خلاف کیس اسد ملک نہ لڑ رہے ہوتے کیونکہ وہ اسد ملک کی بہو(شہرے ملک) کو اغوا کر کے اس کو ٹارچر کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا تھا۔یہ جرائم اُس کے بظاہر دنیا کی نظر میں تھے لیکن اسے کسٹڈی میں رکھنے والے رہبان کی نظر میں اس کے جرائم ناقابلِ تلافی تھے اس لیے انہوں نے بہت ہوشیاری سے سفیر سائیں کے وکیل کے مخالف اسد ملک کو لایا تھا۔اسد ملک کے مضبوط دلائل کے باعث سفیر سائیں کو ضمانت نہ مل سکی تھی۔
اور یہی شکست شاہ خاندان والوں سے برداشت نہیں ہو رہی تھی۔اور وہ ہر ممکنہ کوشش کر رہے تھے کہ کسی طریقے سفیر سائیں تک پہنچا جا سکے۔
ایسے میں رہبان کو طلال کی یونی میں موجودگی بھی اسی مقصد کا حصہ لگی۔

“آپ لالہ کے متعلق کیوں پوچھ رہے ہیں؟” اس کی بے لگام ہوتی سوچوں کو آبگینے کی سوالیہ آواز نے بریک لگائی تھی۔

“سسرالیوں کے متعلق مکمل اپ ڈیٹ رہنا چاہیے نا۔” بے نیازی سے کہتے ہوئے وہ جی جان سے آبگینے کا دل جلا گیا۔

“جی بالکل اور یہ بات آپ کو شادی کے چار ماہ بعد یاد آئی ہے۔” اس کے طنز پہ رہبان نے نظر گھما کے اسے دیکھا جو اب قدرے بہتر دِکھ رہی تھی۔

“بالکل بھی نہیں، میں نے تو شادی سے چار پانچ سال پہلے ہی سسرالیوں کے متعلق اپ ڈیٹ رہنا شروع کر دیا تھا۔یہ تو بس کنفرمیشن چاہ رہا تھا۔” زیرِ لب مسکراتے ہوئے وہ بولا جب اچانک کچھ یاد آنے پہ وہ گاڑی کی سپیڈ کم کرتا آبگینے کی طرف مکمل متوجہ ہوا جو اس کی بات پر خفگی سے نظریں گھما کے باہر کے نظاروں کی جانب متوجہ ہو چکی تھی۔

“ویسے آبگینے کبھی تم نے یا حویلی کی کسی لڑکی نے اپنے چچا سائیں کی گاڑی کے شیشے توڑے ہیں؟” اسے نجانے کیوں اس پل بہت اچانک ماضی کا خوشگوار سا واقعہ یاد آیا تو پوچھ بیٹھا۔
شیشے کے پار تکتی آبگینے اس کا سوال سن کے خفیف سی ہو گئی جبکہ چہرے کا زرد رنگ بھی قدرے گلابی ہوا۔

“کیوں؟آپ کیوں پوچھ رہے ہیں؟” اس نے ابرو اچکاتے ہوئے اسے کھوجتی نگاہوں سے دیکھا۔

“تم بتاو تو۔” جتنا عجیب و غریب ان کا رشتہ تھا، اتنے ہی عجیب و غریب یہ دونوں تھے کہ کبھی ‘تم’ اور کبھی ‘آپ’۔لیکن جو بھی تھا ان کا رشتہ اب ایک ہموار زون میں داخل ہو چکا تھا۔
مگر وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ ایک تند و تیغ طوفان ان کے رشتے کی خوبصورتی نگلنے کو بیقرار بیٹھا تھا۔

“ہاں، وہ بس ایک دفعہ۔ چچا سائیں کی گاڑی پر کہیں جا رہی تھی جب رستے میں چچا سائیں کی گاڑی سے کچھ الیگل سامان نکلنے کی وجہ سے ہمیں بہت خواری جھیلنی پڑی تو بس اس دن غصے میں شیشے توڑ دیے تھے۔” اپنی ہتھیلیاں مسلتے ہوئے وہ قدرے شرمندہ سے انداز میں بول رہی تھی جب اپنے اندازے کی درستگی پہ وہ قہقہہ لگا کے ہنس پڑا۔

“مجھے پتہ تھا ایسا دل گردے کا کام میری مسز ہی کر سکتی ہے۔” ہنستے ہوئے اس نے شرارت سے اسے دیکھا جو شاکی انداز میں اسے دیکھ رہی تھی۔
یونہی لفظی چھیڑ چھاڑ کے دوران وہ اسے لیے شہر کی بہترین گائناکالوجسٹ کے پاس لے آیا۔

“ویسے آپ کے رخِ روشن کو دیکھ کے لگ تو نہیں رہا کہ آپ کو کسی ڈاکٹر کی ضرورت ہے لیکن اب مما اور تائی جان کا حکم ہے اس لیے یہاں لے آیا۔” گاڑی پارک کرتا وہ متبسم لہجے میں گویا ہوا۔
تو وہ سلگتی ہوئی اس کی جانب مڑی۔

“کیا مطلب ہے آپ کا؟” اس نے غراتے ہوئے استفسار کیا تو اس کے جنگلی بلی والے انداز کو دیکھ کے اسے اس کا شیشہ توڑنے والا کارنامہ یاد آیا تو ہونٹوں پہ ایک دفعہ پھر سے ہنسی پھوٹ پڑی۔

“مطلب میرا یہ ہے کہ آپ کی طبیعت کو ڈاکٹر کی نہیں بلکہ میرے ساتھ لانگ ڈرائیو کی ضرورت تھی۔دیکھیں زرا اپنا چہرہ کتنا فریش لگ رہا ہے۔” مچلتی مسکان کو بمشکل ضبط کرتا وہ بظاہر سنجیدگی سے بولتے بولتے اچانک اس کے رخسار پہ جھکا تو اس کے ہونٹوں کا لمس اپنے رخسار پہ محسوس کرتی وہ ایک دم بوکھلا اٹھی۔

“رہبان پلیز، ہم ہاسپٹل پارکنگ میں ہیں۔” کترائے ہوئے انداز میں بولتی وہ بنا اسے دیکھے جلدی سے گاڑی کا دروازہ کھول کے باہر نکلی۔

“ایک تو یہ بندہ سکون سے بیٹھے بیٹھے اچانک ہی دل دہلا دیا کرتا ہے۔” اپنے دہکتے رخسار کو تھپتھپاتی وہ اس کی ہمراہی میں اندر کی جانب بڑھ گئی۔

ہاسپٹل میں داخل ہو کر وہ اسے ساتھ لیے سیدھا ریسپیشن پہ گیا اور اپنا کارڈ دکھا کر ‘ڈاکٹر عنبرین’ کے بارے میں پوچھا۔

“جی سر!ڈاکٹر صاحبہ ابھی ہی پہنچی ہیں۔آپ جا سکتے ہیں اندر۔” اب پولیس والوں کو انتظار کون کروائے یہی سوچ کر ریسیپشنسٹ نے انہیں فوراً اندر بھیج دیا۔
ڈاکٹر کے کیبن میں اس نے صرف آبگینے کو بھیجا کیونکہ بقول نرس وہ چیک اپ کے بعد اندر آ سکتا ہے۔اسے ان کی منطق کی سمجھ تو نہ آئی لیکن کندھے اچکا کر باہر کھڑا اس کا ویٹ کرنے لگا۔ تقریباً بیس سے پچیس منٹس کے بعد آبگینے تو باہر نہ آئی مگر اسے ضرور اندر بلایا گیا۔

“السلام علیکم ڈاکٹر!ایوری تھنگ از اوکے نا؟” اندر داخل ہوتے اس نے ایک نظر ڈاکٹر کو دیکھ کر اسے دیکھا جو صبح کی نسبت اس وقت جیسے سرخ گلاب بنی ہوئی تھی۔

“وعلیکم السلام ایس پی صاحب!ایوری تھنگ از فائن اینڈ گڈ۔” ڈاکٹر عنبرین نے مسکراتے ہوئے اس کی تشفی کروانی چاہی۔

“لیکن اِن کی طبیعت صبح کافی ڈاون فیل ہو رہی تھی؟” جب سب کچھ ٹھیک ہے تو اس کی طبیعت کو کیا ہوا؟یہی سوچ کہ اس نے ڈاکٹر کے سامنے اس کی کنڈیشن بیان کی۔

“پریشانی کی کوئی بات نہیں ہے ایس پی صاحب کیونکہ ایسی کنڈیشن میں طبیعت میں اپس اینڈ ڈاونز آتے رہتے ہیں کیونکہ آپ کی وائف پریگنینٹ ہیں۔” ڈاکٹر کے نرم خو انداز میں کہے گئے الفاظ پہ اس کا وجود جیسے ہِل کے رہ گیا۔
اس نے ایک جھٹکے سے پھٹی پھٹی آنکھوں کے ساتھ گردن گھما کے پہلے ڈاکٹر کے متبسم چہرے کو دیکھا اور پھر اسے دیکھا جو اس کی نگاہوں سے بچنے کے لیے سرخ چہرہ چھپانے کی تگ و دو میں تھی۔

“اوہ مائی گاڈ!” چند لمحے لگے تھے اسے ان کے کہے الفاظ کو سمجھنے میں اور پھر اگلے ہی پل وہ تیزی سے آبگینے کی جانب بڑھا اور اسے بازووں کے گھیرے میں لیتا زور سے سینے میں بھینچ گیا۔

“تھینک یو، تھینک یو سو مچ۔دنیا کا بہترین اور انمول تحفہ دیا ہے آپ نے مجھے۔تھینک یو میری جان۔آپ نہیں جانتی کہ اس وقت میں کتنا خوش ہوں۔” اسے سینے سے لگائے وہ والہانہ انداز میں اس کے چہرے کے ایک ایک نقش کو اپنے ہونٹوں سے چھوتا اسے پاگل کر دینے کے در پے تھا۔
کسی اجنبی فرد کے سامنے اس کی ایسی دیوانگی اس کے حواس چھین رہی تھی۔
وہ کہہ رہا تھا کہ وہ اپنی خوشی بتا نہیں سکتا لیکن اُس کی خوشی اس کی دیوانگی اور اس کی آنکھوں سے چھلک رہی تھی۔

“رہ۔۔رہبان پلیز، ڈاک۔۔ڈاکٹر۔۔۔” اس کے ہونٹوں کے سلگتے لمس اور بازووں کے مضبوط گھیرے میں وہ بمشکل بول پائی تھی۔جب اس کے کہے ٹوٹے پھوٹے الفاظ پہ اسے جیسے کرنٹ سا لگا۔
اس نے آہستگی سے اسے دور کرتے ہوئے پلٹ کے ڈاکٹر کی جانب دیکھا جو دانستاً ان کی جانب سے نظریں پھیرے مسکرا رہی تھی۔
اپنی بے خودی پہ خجل ہوتا وہ اپنے گھنیرے بالوں میں انگلیاں پھیرتا ڈاکٹر کی جانب متوجہ ہوا۔

“تھینک یو ڈاکٹر۔” ڈاکٹر کا شکریہ ادا کر کے اس نے اس کی جانب دیکھا جو اپنی جانب درست کرتے اپنی بکھری سانسوں کو بحال کرتی اس کی جانب دیکھنے سے مکمل گریزاں تھی۔

“میں نے کچھ ملٹی وٹامنز اور ہدایات لکھ دی ہیں۔ کوشش کیجیے گا کہ مدر ٹینشن فری رہے اور ہیلتھی ڈائٹ لے تاکہ بے بی فِٹ رہ سکے۔” پریسکریشن اسے تھماتے ہوئے ڈاکٹر عنبرین نے تاکید کی تو وہ ہولے سے سر خم کرتا اسے ساتھ لیے کیبن سے باہر نکل گیا۔
جبکہ اندر اپنے کیبن میں بیٹھی ڈاکٹر عنبرین اس مشہور زمانہ جلاد ایس پی کی اپنی بیوی کے لیے دیوانگی دیکھ کر مسکرا رہی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“کیسی ہو؟” وہ بہت سے گنگناتی ہوئی اپنی کلاس کی جانب بڑھ رہی تھی جب عقب سے آتی شناسا سی آواز پہ مڑی۔

“اوہ آپ۔” اپنے سے چند قدم کے فاصلے پہ کھڑے طلال کو دیکھ کے وہ چونکی تھی۔
“کیسی ہو؟” اس نے اپنا سوال دوبارہ دہرایا۔

“الحمداللّٰہ، آپ یہاں کیسے؟” اس نے نرمی سے سوال کیا حالانکہ وہ پوچھنا یہ چاہتی تھی کہ ‘آپ میرے پیچھے کیوں آ گئے؟” لیکن اتنی بے مروت وہ نہیں تھی۔

“تم بیوقوف ہو یا واقعی نہیں جانتی کہ میں بنا مطلب کہ یہاں آئے روز یونی کیوں آتا ہوں؟” اس کے میک اپ سے پاک نکھرے چہرے کو گہری نگاہوں سے تکتے ہوئے وہ بھاری لہجے میں بولا تو اس نے ٹھٹھک کے اس کی جانب دیکھا جو پوری توجہ سے اسی کی جانب متوجہ تھا۔

“کیا مطلب ہے آپ کا؟” اس کی نگاہوں سے وہ خاصی جزبز ہوئی تھی۔
“یہ ادھار تو میرے گلے پڑ رہا ہے۔” وہ دل ہی دل میں بڑبڑائی۔

“مطلب تم گھر جا کے ضرور سوچنا اور مجھے کل بتانا کہ میں بنا مطلب کہ یونی کیوں آتا ہوں؟” اس کے چہرے کے اتار چڑھاو کا جائزہ لیتا وہ سکون سے بولا تو دریہ کے چہرے پہ خفگی سی پھیل گئی۔

“میں کیوں آپ کو گھر جا کے سوچوں؟ میری بھلا سے آپ روز یونی آئیں۔بار بار آئیں۔” کندھے اچکا کے کہتی وہ کلاس میں جانے کو مڑنے لگی تو طلال کے چہرے پہ ناگواری سی پھیل گئی جسے سرعت سے چھپاتے ہوئے وہ اس کے ہم قدم ہوا۔

“ایک دن تو اب تمہیں مجھ کو اپنی سوچوں میں رہنے کی جگہ دینی پڑے گی ورنہ میرا یونی روز آنا بار بار آنا کسی کام کا نہیں رہے گا۔” گہرے لہجے میں بولتا وہ ایک دفعہ پھر سے اس کی توجہ بھٹکانے میں کامیاب ہوا تھا۔
اس کے الفاظ نے اب کی بار ناصرف اس کی توجہ بھٹکائی تھی بلکہ اس کے دل کی لے بھی لحظے بھر کو انتشار کا شکار ہوئی۔

“میری کلاس ہے، اللّٰہ حافظ۔” الجھے ہوئے لہجے میں کہتی وہ بنا اسے دیکھے تیزی کے ساتھ اپنی کلاس آنے پر اس میں گھس گئی جبکہ وہ وہیں جینز کی پاکٹس میں ہاتھ پھنسائے کلاس کے کھلے دروازے کو تادیر تکتا رہا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دھڑکتے دل کے ساتھ اس نے کپکپاتے ہاتھوں سے اپارٹمنٹ کے بند دروازے کو چھوا تو دروازہ خود بخود کھلتا چلا گیا۔
اتنے عرصے کے بعد اسے اپنے پیروں پہ مکمل ہوش و حواس کے ساتھ دیکھنے کا احساس اس کو ناقابلِ بیاں احساسات سے دوچار کر رہا تھا جبکہ آنکھیں گویا بن بادل برسات برسنے کو بے تاب ہوئی پڑی تھیں۔
کھلے دروازے سے اندر قدم رکھتے ہوئے جیسے ہی وہ اپارٹمنٹ میں داخل ہوئی تو اس کے اٹھتے قدم وہیں ساکت ہو گئے جبکہ سانس بھی کہیں سینے میں اٹک سی گئی تھی۔
ہاں وہ وہی تھا جس کے نینوں کا تارا تھی وہ, ہاں وہ وہی تھا جس نے اسے بچانے کے لیے جان کی بازی لگانے سے دریغ نہ کیا تھا۔
ہاں وہ وہی تھا جو اس کے لیے سالوں ہوش کی وادیوں سے دور بھٹکتا رہا تھا۔
وہ وہی تھا جس کا انگ انگ زخموں سے چور تھا لیکن اس وقت وہ اس کے سامنے بالکل ٹھیک اپنے پیروں پہ مضبوطی کے ساتھ کھڑا اپنی خوبصورت آنکھیں اس پہ جمائے ہوئے تھا۔
دونوں میں سے کوئی بھی اپنی جگہ سے ایک قدم بھی آگے نہ بڑھا تھا بلکہ اس وقت وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھتے ہوئے گویا گزرے ماہ و سال کی ازیتوں کو بھلائے اس لمحے کے سحر میں جھکڑے ہوئے تھے۔
مگر اس لمحے کا سحر اس وقت ختم ہوا جب اسے دیکھتی نگاہ کی آنکھوں میں آنسووں کی دبیز دھند چھانے لگی اور اس کے سامنے کھڑے ذوالقرنین میر کا عکس دھندلا ہونے لگا۔

“نگاہ!” اس کی آنکھوں میں چمکتے آنسووں کو دیکھ کر وہ تڑپ کے اس کی جانب بڑھا جو اس کے ہونٹوں سے نکلتا اپنا نام سن کے اپنا ضبط کھوتی اس کے قریب آنے پر اس کے سینے سے جا لگی۔

“نین!” بلند آواز میں روتی نگاہ کو سینے سے لگائے دونوں اپنے غم سلط کرنے کی کوشش کر رہے تھے مگر جب نگاہ کے رونے میں کمی نہ آئی تو نین نے اس کے سر کو سہلاتے ہوئے اسے پکارا۔

“نگاہ!شش، رونا بند کرو پلیز۔” اس کے نرم خو لہجے پر اس کے آنسو تھمنے کی بجائے مزید تیز ہوئے تو وہ پریشان ہوا۔

“نگاہ پلیز یار، تمہارے آنسو مجھے تکلیف دے رہے ہیں۔” اس کے لہجے کی بے بسی اور اضطراب پہ وہ بمشکل اپنی سسکیوں پہ قابو پاتی اپنے آنسو روکنے کی کوشش کرنے لگی۔

“کیا اتنی بری شکل ہو گئی ہے میری کہ مجھے دیکھتے ہی تمہارے آنسو نکل آئے؟” ماحول کی افسردگی کو کم کرنے کے لیے وہ ہلکے پھلکے انداز میں بولا تو وہ بے ساختہ نم آنکھوں کے ساتھ مسکرا دی۔
اس کے مسکراتے چہرے کو دیکھ کر اس نے اس کا ہاتھ تھام کے کچن کی جانب قدم بڑھائے اور پھر اسے کرسی پہ بٹھا کر خود فریزر سے جوس نکالنے لگا۔

“تم ٹھیک ہو نین؟” اسے یک ٹک تکتی نگاہ نے آہستگی سے سوال کیا تو جوس گلاسوں میں انڈیلتا نین ٹھٹھکا لیکن فوراً خود کو کمپوز کرتے ہوئے اپنے کام کی طرف متوجہ ہو گیا۔

“اگر جسمانی لحاظ سے پوچھ رہی ہو تو ہاں ٹھیک ہوں لیکن اگر مینٹلی پوچھ رہی ہو تو نہیں۔” بنا کچھ چھپائے اس نے صاف گوئی سے کہتے جوس کا گلاس اس کے سامنے رکھا۔

“ولید انکل کے بارے میں کچھ پتہ چلا؟” اس نے جوس کا سپ لیتے ہوئے اسے دیکھا جو ان کے گروپ میں سب سے نرم خو جانا جاتا تھا لیکن حالات نے اسے نجانے کن چک پھیریوں میں الجھا دیا تھا۔

“ابھی کوئی ٹھوس خبر نہیں ملی لیکن یہ سننے میں آ رہا ہے کہ انہیں کراچی لے جایا گیا ہے۔ اب کل کراچی کے لیے نکلوں گا۔” اس نے سنجیدگی سے کہتے ہوئے اس کے سامنے پڑی کرسی سنبھالی۔

“اکیلے جاو گے؟” وہ فوراً متفکر ہوئی۔

“اونہوں، وہ سڑیل(ضر) ہرگز اکیلا نہیں جانے دے گا۔” اس نے بھنویں سکیڑتے ہوئے کہا تو وہ ہولے سے مسکرا دی لیکن اگلے ہی کچھ سوچ کے اس کی مسکراہٹ مدہم ہوئی۔

“نین!تم جانتے ہو کہ مم۔۔میرا مطلب کہ میں اور ض۔۔” وہ جھجھکتے ہوئے بول رہی تھی جب اس نے اس کی بات کاٹی۔

“میں سب جانتا ہوں نگاہ اور میرے لیے یہ بات اہم ہے کہ تم اب بھی صرف میری ہو۔ جو ہوا وہ دیکھا جائے تو اس رشتے کی توہین ہے لیکن حالات کا تقاضا ہی کچھ ایسا بن گیا کہ سب کو یہ قدم اٹھانا پڑا مگر اب انشاءاللّٰہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔” اس کا بایاں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے وہ بول رہا تھا جب اس کی نظر اس کے ہاتھ میں پہنی انگوٹھی پہ پڑی تھی۔

“یہ میں نے ضر کے ساتھ جا کے تمہارے لیے خریدی تھی۔” اس انگوٹھی کو انگلی سے چھوتے ہوئے وہ رسان سے گویا ہوا تو اس کی پلکیں ایک دفعہ پھر سے بھیگنے لگیں۔

“میں کل کراچی جاوں گا۔مجھے آئیڈیا نہیں کہ میں وہاں کتنے دن تک رکوں گا لیکن تم اپنی عدت وہیں ضر کے گھر میں رہ کے ختم کرو گی۔میں انشاءاللّٰہ پاپا کے ساتھ ہی واپس آوں گا تب تک یہ تینوں یہاں موجود میس کو سنبھالیں گے۔” اس کے ہاتھ کو نرمی سے سہلاتے ہوئے وہ آنے والے وقت کے پلانز کے متعلق آگاہ کر رہا تھا۔

جبکہ اسے توجہ سے سنتی نگاہ اس کو اپنی آنکھوں میں اتار رہی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

غصے سے آگ بگولہ ہوتی شازمین میر نے زور سے فائلز میز پہ پٹخیں۔

“نا کوئی ریکارڈ، نا کوئی ڈیلنگ، پھر اکاونٹس کا پیسہ کہاں گیا؟” وہ اپنے سامنے موجود اکاونٹینٹس کو دیکھتی بلند آواز میں دھاڑی تھی۔

“میم!ہم نہیں جانتے کہ پیسے کہاں گئے ہیں کیونکہ پیسے پہلے ولید سر پھر ان کے بیٹوں کے سائن کے بعد ہی ٹرانسفر ہوتے تھے لیکن جب سے وہ لوگ آفس نہیں آتے ساری ڈیلنگز اور ٹرانسفارمیشن آپ کے سگنیچر کے بعد ہوتی ہے۔” اکاونٹینٹ مینیجر نے سنجیدگی سے اسے جواب دیا تو وہ مزید بپھر گئی۔

“دفع ہو جاو تم سب لوگ یہاں سے اور کل تک مجھے چاہے پاتال سے ڈھونڈ کے لانا پڑے لیکن سارا پیسہ کل مجھے چاہیے۔” اتنا بڑا دھچکہ اس کو پاگل کر رہا تھا تبھی وہ بری طرح سے چیخ رہی تھی۔
ان سب کے جانے کے بعد وہ عبدالرحمن اور آفاق میر کی جانب متوجہ ہوئی جو خود اس انکشاف پہ غم و غصے کا شکار تھے۔

“اس لنگڑے شخص کو اب تک اس لیے سر پہ سجا کے بٹھایا ہے کہ اس کا اس حالت میں ہونا ہمارے لیے فائدہ مند ثابت ہو رہا ہے۔پاور آف اٹارنی نا ملنے کے باوجود اس کی معذوری کی بناء پہ سارے اختیارات ایک طرح سے ہمیں مل گئے ہیں ایسے میں اکاونٹس کا پیسہ کیسے غائب ہو سکتا ہے۔” جس پیسے کے لیے وہ سالوں سے شطرنج بچھائے چال پہ چال چل رہی تھی وہ پیسہ اس کی ناک تلے سے غائب ہونے لگا تھا۔
یہ سوچ ہی اسے پاگل کر دینے کے درپے تھی۔

“تم پریشان نہیں ہو میں کل تک سارے سی سی ٹی وی کیمرے چیک کرتا ہوں اور تمام ریکارڈ کا بھی تفصیل سے جائزہ لیتا ہوں۔” عبدالرحمن میر نے بیوی کے آگ بگولہ وجود کو ٹھنڈا کرنا چاہا۔

“بھابھی یہ ان لڑکوں کا کیا دھرا تو نہیں؟” آفاق میر نے اس کا دھیان دوسری جانب مبذول کروانا چاہا تو اس نے نخوت سے سر جھٹکا۔
“اونہوں، ہمارے گھر کے معاملات سے انہیں کیا لینا دینا۔ ایک دوست ان کا نجانے کب کا مر کھپ چکا ہے، دوسرا معذور ہے اور اس سے ملنے پہ میں نے پابندی لگا رکھی ہے۔ویسے بھی وہ دونوں سفیر سائیں کے نشانے پہ ہیں اس لیے وہ اپنی جان بچانے کے چکروں میں ہیں انہیں پرائے معاملات سے کیا لینا دینا۔” اس نے فورا سے پہلے ان کی بات کو رد کیا۔

“سفیر سائیں تو اس لڑکے کی کسٹڈی میں نہیں ہے؟” آفاق میر نے اچنبھے سے سوال کیا۔
“وہ کسٹڈی میں ہے، باقی پورا خاندان تو باہر ہے نا جو ان دونوں کو گِدھوں کی طرح نوچ کھانے کو تیار ہے۔” سفاکی سے کہتی وہ اپنے لیپ ٹاپ کو آن کرنے لگی۔

“عبدالرحمن!کل تک مجھے ہر حال میں اس پیسے کے متعلق اپ ڈیٹ کرو کیونکہ یہ پیسہ یہ پاور پانے کے لیے سالوں سے لڑ رہی ہوں۔ابھی ہی مکمل بساط پلٹنے کا وقت آیا ہے۔” پراسرار انداز میں کہتے ہوئے اس نے شوہر کو تاکید کی تو وہ سر اثبات میں ہلاتے اپنے موبائل پہ کوئی نمبر ڈائل کرنے لگے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ سُن ہوئے اعصاب کے ساتھ پڑی ہوئی تھی جب اس کے تاریک ذہن میں بارش ہونے کا احساس جاگا تو اس کا تاریک ذہن رفتہ رفتہ بیدار ہونے لگا۔
ذہن جب عالمِ غنودگی میں پہنچا تو اسے محسوس ہوا جیسے اس کے چہرے پہ بارش کے قطرے وقفے وقفے سے گر رہے ہوں۔

“شہرے!” اچانک ہی ایک مانوس سی آواز اس کے کانوں میں گونجی تو اس کا ذہن مزید صاف ہونے لگا۔

“شہرے!” اس کے چہرے پہ پانی کا ہلکا سا چھڑکاو کرتے ضر نے آہستگی سے اس کا گال تھپتھپایا تو شہرے کے اعصاب و حواس بیدار ہونے لگا۔
رخسار پہ محسوس ہوتے بھاری ہاتھ کے گرم لمس پہ اس نے گھبراتے ہوئے پوری قوت سے اپنی بند آنکھیں کھولیں تو نگاہ خود پہ جھکے ضرغام کے خوبصورت چہرے سے جا ٹکرائی۔

اس کے چہرے پہ نظر پڑتے ہی اس کا مائنڈ ریوائنڈ ہوا تو چہرے پہ فوراً حواس باختگی پھیل گئی اور وہ ایک جھٹکے سے اسے پرے کرتی خود بیٹھی۔
اٹھ کے بیٹھنے پہ اسے احساس ہوا کہ وہ اس گاڑی کی فرنٹ سیٹ پہ نہیں بلکہ ایک نرم و ملائم بستر پہ موجود تھی۔

“کہاں ہوں میں اس وقت؟” ضرغام کے ساتھ اکیلے یوں اجنبی جگہ پہ ہونے کا احساس اس کی دھڑکنیں سست کر رہا تھا۔

“ریلیکس، آپ میرے ساتھ ہیں پریشان نہیں ہوں۔” اس کے گھبرائے ہوئے چہرے کو دیکھ کے اس نے اسے تسلی دیتے ہوئے اپنے نزدیک کرنا چاہا جب وہ بدکتی مزید پیچھے کو سرکی۔
“شہرے ریلیکس، میں ہرگز ابھی آپ سے ڈیٹ مارنے کے لیے یہاں نہیں آیا ہوں۔” اس کی گھبراہٹ کا پسِ منظر جان کر اس نے ایک دفعہ پھر سے اسے تسلی دینی چاہی۔

“تو پھر کیا کرنے آئے ہیں؟” اس کے اگلے سوال پہ وہ اسے دیکھ کے رہ گیا۔
پہلے تو اس کا دل چاہا اس فضول سوال کا جواب کسی اور طریقے سے دے لیکن پھر اس کا خیال کر کے ارادہ منسوخ کر دیا۔

“میں آپ کے ساتھ کچھ دیر لانگ ڈرائیو پہ جانا چاہ رہا تھا لیکن آپ تو ڈیٹ کا لفظ سُن کے ہی بے ہوش ہو گئیں اس لیے آپ کو یہاں لانا پڑا۔یہ میرا اپارٹمنٹ ہے۔” اس نے اب کے تفصیلاً اس کی تشفی کروانی چاہی۔

“ویسے ڈیٹ کا لفظ سن کے آپ اتنی پریشان کیوں ہو گئی تھیں؟” اس نے محسوس کیا تھا کہ وہ نکاح کے شروع والے دنوں کی طرح اس وقت اس سے متنفر نظر نہیں آ رہی تھی وجہ شاید یہاں کا اکیلا پن تھا جس سے وہ گھبرائی تھی اس لیے اس سے چھوٹے چھوٹے سوال کرنے لگا۔

“ہاں تو لڑکے اتنے فضول فضول کام کرتے ہیں ڈیٹس پہ تو اس لیے میں پریش۔۔۔۔۔۔” اپنی ہی دھن میں مگن وہ روانی سے بولتے بولتے ایک دم سے چپ ہوتی اسے دیکھنے لگی جو چمکتی نگاہوں سے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔

“آپ کے خیال میں، میں آپ کے ساتھ فضول فضول کام کر سکتا ہوں؟” اس کا ہاتھ تھام کے بہت سہولت کے ساتھ اسے اپنے نزدیک کھینچتا وہ بھاری لہجے میں گویا ہوا۔
تو وہ جو اس بلا ارادہ قربت پہ جزبز ہوتی فوراً مزاحمت پہ اتری تھی اس کے الفاظ پہ دھک سے رہ گئی لیکن پھر بہت سارے لمحے اس کی آنکھوں کے سامنے لہرائے تو چہرے کی رنگت دہکنے لگی۔

“آپ ابھی بھی وہی کر رہے ہیں۔” پوری قوت لگاتی وہ اس سے دور ہونے کی تگ و دو میں تھی جب اس نے اسے سمیٹتے ہوئے اپنے سینے سے لگایا تو شہرے کو لگا اس کی سانسیں تھم گئی ہیں۔
اسے اپنے سینے میں بھینچے اس نے بایاں ہاتھ بڑھا کے اس کے سلکی بالوں میں اٹکی پونی کھینچی تو بال اس کی نازک کمر پر بکھر گئے۔

“میں تو پیار کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔” اس کے کھلے بالوں میں چہرہ چھپاتا وہ خمار آلود آواز میں بولتا اس کے رگ و پے میں سنسنی سی بھر گیا۔
اس کی خمار آلود آواز، پرتپش سانسوں کی لپک اور گردن کو چھوتے اس کے نرم لب اس کی شرٹ جھکڑ کے بیٹھی شہرے کی ہتھیلیاں نم کر گئے۔
اس سے پہلے کہ اس کی یہ بے اختیاری ایک بپھرے سمندر کی مانند سب بہا کے لے جاتی۔شہرے کے چہرے پہ پھسلتے آنسو اسے ہوش کی وادیوں میں پٹخ گئے۔

“شہرے ریلیکس، آپ رو کیوں رہی ہیں؟” اس سے تھوڑا دور ہوتا وہ اس کے رخساروں پہ پھسلتے آنسو چنتا پریشانی سے بولا تو وہ اور بلند آواز میں رونے لگی۔

“آپ۔۔آپ کو شرم نہیں آتی۔میں۔۔آپ کو نہیں پتہ کہ ایسے جب آپ میرے سامنے آتے ہیں تو مجھے کک۔۔کیا ہوتا ہے۔” اس نے کبھی اس شخص کے متعلق ایسا نہیں سوچا تھا لیکن اب اس کے ساتھ اس قدر قیامت خیز قربت اس کے دل پہ تباہ کاریاں کر گئی تھی تبھی وہ اس کے سینے پہ مکے مارتی روتی ہوئی بے ربط سا بول رہی تھی۔

“اوکے آئم سوری شہرے، ریلیکس۔” وہ اس کی کیفیت سمجھ رہا تھا تبھی رسانیت سے کہتے اس کے آنسو صاف کرنے چاہے جب شہرے نے روتے ہوئے اس کے دونوں ہاتھ تھامے۔

“خ۔۔خبردار آج کے بعد م۔۔میرے ساتھ ایسا مت کرنا۔آپ پلیز پہلے جیسے ہی رہیں جیسے جب چاچو تھے ویسے۔” وہ نہیں جانتی تھی کہ وہ کیا بول رہی تھی لیکن اس کے الفاظ پہ ضرغام نے گہری سانس بھر کے توجہ سے اسے دیکھا جسے اس کی چند لمحے کی قربت بے تحاشا گڑبڑا چکی تھی۔

“مطلب کہ آپ چاہتی ہیں کہ میں آپ کا شوہر ہونے کے باوجود آپ کے ساتھ ‘چاچو’ جیسا رویہ رکھوں؟” اس کے نازک ہاتھوں میں جھکڑے اپنے مضبوط ہاتھوں کو ایک نظر دیکھنے کے بعد اس کی نگاہ اس کے بکھرے بالوں پہ جا ٹکی تھی۔
جبکہ شہرے جو اب قدرے سنبھل چکی تھی اس کے سوال پہ تھوڑا جزبز ہوئی لیکن پھر اس کے ہاتھ چھوڑتی سر اثبات میں ہلا گئی۔

“شوہر والا رویہ آپ نگاہ کے ساتھ رکھ لیں لیکن مجھے آپ نے تنگ نہیں کرنا پلیز۔” جو شخص اس کی نظر میں اس کا سب سے بڑا مجرم تھا اسی سے وہ اپنے لیے فیور مانگ رہی تھی۔

“میری کلوزٹ میں رکھا اپنا سرخ سکارف دیکھنے کے بعد بھی آپ چاہتی ہیں کہ میں آپ کو ایسی رعایت دوں؟” وہ جاننا چاہتا تھا کہ آیا وہ اس کی فیلنگز سے واقف تھی یا نہیں اس لیے اس کے سرخ سکارف کا تذکرہ کیا۔
مگر وہ تو سرخ سکارف کے ساتھ نگاہ کی منگنی کی تصاویر دیکھ کے الجھ چکی تھی اس لیے وہ جان کے بھی کچھ نہ جان سکی تبھی وہ ضر کے سوال پہ اس وقت چپ سی ہو گئی۔
کیونکہ وہ اس وقت نگاہ کا کھاتہ نہیں کھولنا چاہتی تھی کہ یہاں تنہائی تھی اور اسے یہاں سے نکلنا تھا۔

“مجھے گھر جانا ہے۔” بیڈ پہ پڑی پونی ہاتھ میں لیتے بال باندھنے کی ناکام کوشش کرتی وہ اس سے مخاطب ہوئی۔

“لائیں میں باندھ دوں۔” اس کی کوشش دیکھ کر اس نے ہاتھ آگے بڑھایا تو وہ اس نے خاموشی سے پونی اس کے ہاتھ پہ رکھ دی کہ اسے پونی باندھنی نہیں آتی تھی اور کھلے بالوں کے ساتھ وہ گھر نہیں جانا چاہتی تھی۔

“ادھر واشروم ہے، اپنا ہاتھ منہ دھو کے فریش ہوں۔پھر نکلتے ہیں گھر کے لیے۔” اس کے بال باندھنے کے بعد اس نے کہا تو وہ سر اثبات میں ہلاتی واشروم کی جانب بڑھ گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“آپ نین سے ملنا چاہتی ہیں آنٹی؟” اس نے روٹی کا نوالہ کلثوم میر کے منہ میں ڈالتے ہوئے محتاط سے انداز میں پوچھا جو اپنی کلائیوں میں پہنی چوڑیوں پہ انگلی پھیر رہی تھیں۔

“نین سے؟” انہوں نے جیسے پرسوچ انداز میں اسے دیکھتے گویا کچھ یاد کرنے کی کوشش کی۔

“نین تو چوڑیاں لینے گیا ہے لیکن ذونین کو سب ڈانٹ رہے تھے وہ کہاں ہے؟” ان کے الجھے ہوئے سوالیہ انداز پہ ان کو کھانا کھلاتی زحلے کے وجود کو کرنٹ سا لگا۔

“اب یہ ذونین کون ہے؟” اس نے بے اختیار سوچا۔
“مجھے لگتا ہے کہ میں ایک نارمل گھرانے کی بجائے کسی بھول بھلیاں میں آ گئی ہوں جہاں ہر روز ایک نیا دھماکہ ہوتا ہے مجھ پر۔” ان کے قدرے بہتری کی طرف مائل وجود کو دیکھتی وہ سوچوں میں کھوئی ہوئی تھی جب کلثوم میر کی آواز نے اسے ہوش کی وادیوں میں لا پٹخا۔

“تم میری بہو ہو نا؟” ان کی ذہنی رو شاید بھٹک چکی تھی اور ایسا دن میں دو سے تین بار تو ضرور ہوتا تھا کہ وہ اس سے یہ سوال ضرور کرتی تھیں۔

“پھر نین کیوں نہیں آتا؟” انہوں نے اپنا پرانا سوال دہرایا۔
“کیونکہ وہ آ نہیں سکتا، آپ کو اس کے پاس جانا ہو گا۔آپ چلیں گی میرے ساتھ؟” اس نے کھانے کی ٹرے سائیڈ پہ رکھتے ہوئے ان کے ہاتھ تھامے تو ان کے چہرے پہ خوف پھیلا تھا۔

“باہر گئی تو وہ پھر باندھ دے گی۔” ان کے لہجے کا خوف اس کا دل چیر گیا تھا۔
“اب ایسا نہیں ہو گا نا میں ایسا ہونے دوں گی۔آپ نے پریشان نہیں ہونا میں کچھ دیر بعد آپ کو آپ کے بیٹے سے ملواوں گی۔” ان کے ہاتھوں کو محبت سے تھپتھپاتی وہ اپنی جگہ سے اٹھی تھی۔
یہ اس کی انتھک محنت اور کلثوم میر سے انسیت تھی جس کی بدولت وہ اب بہتری کی طرف مائل اس کی بہت سی باتوں کو سمجھنے کی کوشش کرتی تھیں۔
ایسے میں زحلے کو پوری امید تھی کہ بہت جلد کلثوم میر اپنے ہوش و حواس میں آ جائیں گی۔
خوشی سے سوچتی ہوئی وہ مگن سی اپنے کمرے تک پہنچی اور ایک جھٹکے سے دروازہ کھول کے اندر داخل ہوئی۔

“تمہارے لیے گڈ نیوز ہے تمہاری مما ت۔۔۔۔۔تم؟؟” اپنی ہی دھن میں بولتے ہوئے اس کی نگاہ جب سامنے پڑی تو اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔

جاری ہے۔