57.1K
55

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 54

“دل تیرے سنگ جوڑ لیا”
از
حوریہ ملک
Episode#54(2nd last episode part 3);

اس کے یوں پیروں میں آ کے بیٹھنے پر بھی اس کے وجود میں کوئی حرکت نہ ہوئی۔
مگر اس وقت اس کا پورا وجود ہِل کے رہ گیا اور دل سینے کی گہری کھائی میں کہیں ڈوب کے ابھرا تھا۔
جب اس نے اپنا گھنیرے بالوں سے بھرا ہوا سر یونہی اس کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھے اس کی آغوش میں رکھا۔
تو گم صم بیٹھی زحلے کو لگا کہ وہ کبھی حرکت کر ہی نہیں سکتی۔
یہ لمحہ اس پل جیسے ساری زندگی پہ بھاری پڑتا وہیں ٹھہر سا گیا تھا۔

“مجھے۔۔۔۔” اس کی آغوش میں چہرہ چھپائے بالآخر اس نے بولنا شروع کیا تو اس کی سانسوں کی پرتپش لپک سے اسے اپنا وجود دہکتا ہوا محسوس ہوا۔

“مجھے نہیں پتہ کہ میں کن الفاظ سے آپ کے دل کو پہنچنے والی اس تکلیف کا ازالہ کروں؟” اس کا بھاری لہجہ گونجا تو زحلے کو اس سے خوف آنے لگا کہ وہ اسے ایک بار پھر سے اپنا اسیر کر دینے کے درپے تھا۔

“میں خود کو ٹھیک نہیں کہوں گا لیکن زندگی نے اُس اُس جگہ سے، اُس اُس رشتے سے ٹھوکر کھلائی تھی کہ اعتبار نامی احساس اندر سے ختم ہو چکا تھا۔ جب آپ پہلی دفعہ یہاں آئی تھیں میں پہلی نظر میں آپ کو پہچان نہیں پایا تھا کیونکہ خون اور آنسووں کی چادر کے پار آپ کو چند لمحوں کے لیے دیکھنا اگرچہ دل میں کہیں گڑھ چکا تھا۔مگر وہ چہرہ صاف نہیں تھا۔ اس وقت مجھے مما، ڈیڈ اور نین کے متعلق کوئی خوش آئند خبر نہیں مل پا رہی تھی۔ایسے میں آپ کی صورت میں شازمین میر کی ایک نئی سازش نے مجھے آپ سے متنفر کر دیا تھا اور میرے کٹیلے رویے کا شکار بننے لگی آپ۔میں شازمین میر کی سازش کا شکار ہوتا بقول آپ کے یہ کاغذی رشتہ ہرگز نہ اپناتا جو میں آپ کو پہچانتا نا۔ میں نے وہ موتی دیتے ہوئے کبھی نہیں سوچا تھا کہ پھر کبھی آپ سے ملاقات ہو گی۔” بات کرتے کرتے وہ رکا تو زحلے کی دھڑکنیں بھی مدہم ہوئی تھیں کیونکہ وہ چہرے کا رخ اس انداز میں بدل چکا تھا کہ اس کے سلگتے لب اس کے پہلو سے ٹکراتے خون کی گردش تیز کر رہے تھے۔

“اس حادثے نے میری ٹانگوں اور ریڑھ کی ہڈی کو ایفیکٹ کیا تھا مگر ڈاکٹر صاحب کی جان توڑ کوششوں سے میں کھڑا ہو پایا تھا۔جب آپ یہاں آئی تھیں تب میں ٹھیک ہو چکا تھا مگر اس حد تک نہیں کہ بنا سہارے کے بہت زیادہ چل پھر سکتا۔ جب میں آپ کے بارے میں جان چکا تو میں نے سوچا کہ نکاح کے بعد آپ کو سچائی بتا دوں۔ لیکن میں ایسا نہیں کر سکا تھا کہ اگر شازمین میر کو اس کی خبر ہو جاتی تو آپ کو نقصان پہنچا سکتی تھیں۔ آئم سوری جس رشتے کی بنیاد ہی اعتماد ہوتا ہے میں اس میں آپ کو اعتماد نہیں سونپ سکا۔” بھاری مگر مدہم لہجے میں بولتے ہوئے وہ اس کے اندر بڑھکتی اذیت و تکلیف کی آگ کو کم کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
جو بالکل چپ چاپ بیٹھی اس کی اس قدر نزدیکی کو بمشکل برداشت کرتی خود پہ ضبط کیے بیٹھی تھی۔

“کچھ کہیں گی نہیں؟” اس کی ایسی خاموشی اس پہ بھاری پڑ رہی تھی۔
اس کا چیخنا چلانا اگرچہ دل کو تکلیف دے رہا تھا مگر یہ خاموشی اس تکلیف پہ بھی بھاری تھی۔

“بخت خان سے جب بچانے کے لیے گئے تھے تو مجھے بے ہوش تم نے خود کیا تھا؟” اس کے سوال پہ اس کے سر کے بالوں پہ نگاہیں جمائے وہ ٹھہرے ہوئے لہجے میں بولی تو اس قدر غیر متوقع سوال پہ ذوالنورین نے چہرہ اس کی گود سے نکال کے حیرت سے اسے دیکھا۔
جو سپاٹ تاثرات لیے اس کے چہرے کی بجائے سر کے بالوں کو دیکھتی بظاہر بڑے پرسکون انداز میں بیٹھی ہوئی تھی۔

“ہاں۔” حیرت کا غلبہ اگر چہ بہت حاوی تھا مگر جواب دینا لازم تھا۔
تبھی وہ آہستگی سے اقرار کر گیا۔اس کے اقرار کرنے پہ زحلے نے ایک لاشعوری نظر اس کے ہاتھوں پہ ڈالی جہاں ہاتھوں کی پشت پر ہلکی ہلکی خراشیں واضح تھیں جو واضح کر رہی تھیں کہ اسے بیہوش کرنے کے بعد وہ کیا کرتا رہا تھا۔

“کیا میں یہ سمجھ لوں کہ آپ۔۔۔۔۔” اس کے چہرے پہ جمائے اس نے بولنا چاہا جب اس کے الفاظ سے خائف ہوتی زحلے اس کی بات مکمل ہونے سے قبل ہی بول پڑی۔

“تم اٹھو میرے سامنے سے۔مجھے کپڑے چینج کرنے ہیں۔” اپنے کپڑوں پہ لگے چائے کے داغ دیکھ کر اسے بروقت بہانہ سوجھ گیا تھا۔
“میرے الفاظ آپ سننا نہیں چاہتی تو مجھے اپنے جذبات کا سہارا لینا چاہیے۔” گہرے لہجے میں بولتے ہوئے وہ اس کے سامنے سے اٹھا تو زحلے نے الجھ کے اس کی جانب دیکھتے گویا اس کی بات سمجھنا چاہی تھی۔
جب وہ اس کے سامنے کھڑا ہوتا اس کی جانب جھکا اور اپنا دائیں ہاتھ اس کے بالوں کے نیچے سے گزار کر اس کی گردن کی پشت پہ ٹکایا تو زحلے کی ریڑھ کی ہڈی تک سنسنا اٹھی۔
اس نے فوراً سنبھلتے ہوئے اسے روکنا چاہا تھا مگر تب تک وہ اس کے ہونٹوں پہ جھکتا اپنے ہونٹوں پہ اٹکے ان کہے الفاظ کو اپنے پرزور جذبات کی صورت میں اس کے اندر اتارنے لگا تو زحلے کو اپنی سانس بند ہوتی محسوس ہوئی۔
اس نے بے ساختہ اس کے اسی بازو کو تھاما جس کا ہاتھ اس کی گردن پہ جما ہوا تھا۔
اس کے انداز میں اس قدر تشنگی و وارفتگی تھی کہ زحلے کو اپنے اعصاب بکھرتے ہوئے محسوس ہو رہے تھے جبکہ دل گویا اس وقت ہاتھوں میں دھڑکنے لگا تھا۔
ایک ہاتھ بھنچی ہوئی مٹھی کی صورت گود میں رکھے وہ دوسرے ہاتھ سے اس کا بازو جھکڑے اس منہ زور ہوتے طوفان کو برداشت کرنے کی کوشش کر رہی تھی مگر یہ سب اس کے نازک اعصاب پہ بھاری پڑ رہا تھا۔

اس کی یہ مدہوشی اس سے پہلے کہ تمام حد بندیاں توڑ جاتی کہ دروازے پہ ہونے پہ والی دستک پہ زحلے کے گم ہوتے اعصاب فوراً الرٹ ہوئے۔
اس نے اپنی زور سے بند کی ہوئی آنکھیں کھول کے اسے دیکھا جو اس پہ جھکا اپنی پیاس بجھانے میں مصروف تھا۔
اس نے کپکپاتا ہوا ہاتھ اس کے سینے پہ جماتے ہوئے اسے ہوش دلانے کی کوشش کی تو اس کے نرم ہونٹوں کی نرماہٹ محسوس کرتا ذوالنورین اس کے کپکپاتے ہاتھ کا لمس اپنے سینے پہ محسوس کرتا گویا خماری کے گہرے سمندر سے ڈوب کر ابھرا تھا۔
خود پہ ضبط کے کڑے پہرے بٹھاتا وہ ہولے سے اس سے دور ہوتا اسے دیکھنے لگا جو ہنوز ایک ہاتھ سے اس کا بازو تھامے دوسرا ہاتھ اس کے سینے پہ دھرے گہرے سانس بھرتی لرزتے نم ہونٹوں کے ساتھ اس کی نگاہوں کو جھکڑ گئی۔

“و۔۔۔وہ درو۔۔۔” اس نے اس کی توجہ دروازے پہ ہونے والی دستک کی سمت کروانی چاہی جب دروازہ ایک دفعہ پھر سے بجایا گیا اور ساتھ ہی ملازم کی آواز آئی۔

“سر!آپ کے دوست آئے ہیں اور وہ آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔” ملازم کی مودب آواز پہ وہ ٹھٹھکا تھا کہ اس وقت تو سب ‘ملک ہاوس’ گئے تھے پھر اس سے ملنے کے لیے کون سا دوست آ گیا تھا۔

وہ ابھی سوچ ہی رہا تھا کہ دروازہ ایک جھٹکے سے کھلنے پر پہلے سے ہی بوکھلائی زحلے نے اسے زور سے دھکا دینے کے سے انداز میں خود سے پرے دھکیلا اور خود پھرتی سے کھڑی ہوتی اس سے مزید فاصلہ بڑھا گئی۔

“السلام علیکم!” کمرے میں آنے والے ضرغام نے ایک نظر سرخ چہرہ لیے قدرے گڑبڑائی سی حیران پریشان زحلے کو نرمی سے سلام کرتے ہوئے قدم اس کی جانب بڑھائے اور رکھ کے ایک مکا اس کے جبڑے پہ رسید کیا تو جہاں اس اچانک حملے پہ وہ ہِل کے رہ گیا تھا وہیں زحلے نے اپنی بے ساختہ بلند ہونے والی چیخ کو روکنے کے لیے دونوں ہاتھ منہ پہ رکھے تھے۔

“کمینے انسان!تیری وجہ سے میں اپنی بیوی کو انتظار کرتا ہوا چھوڑ کے اپنی مہندی کا فنکشن لیٹ کیے جا رہا ہوں اور تم یہاں سکون سے بیٹھے ہوئے ہو۔” بلند آواز میں کہتے ہوئے اس نے ایک دفعہ پھر سے اس کے جبڑے کو نشانہ بنایا تو اس کے آخری الفاظ پہ اس کا دماغ بھنا سا گیا۔

“تمہیں اپنی گتھیاں سلجھانے کے لیے یہی ٹائم ملا تھا ہاں۔” اس نے ایک دفعہ پھر سے اپنا ہاتھ بلند کیا تو حیران و مضطرب کھڑی زحلے دوڑ کے ان کے نزدیک آئی اور بڑے نا محسوس انداز میں ان دونوں کے بیچ جا کھڑی ہوئی۔

“پلیز۔۔اسے مت ماریں۔یہ میری وجہ سے لیٹ ہوا تھا۔” اس کی اس بے ساختگی پہ جہاں ذوالنورین نے اس کے ڈھال بنے وجود کو اچنبھے سے دیکھا وہیں ضرغام اپنی امڈ آنے والی مسکان بمشکل دباتے ہوئے ذوالنورین کو دیکھا جو مکمل طور پر چارج ہو چکا تھا۔

“میم!آپ پیچھے ہو جائیں، نکال لینے دیں اسے اپنی بھڑاس۔” بظاہر بڑی سادگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس نے زحلے کو پرے کر کے آگے آنا چاہا جب وہ اس کی طرف مڑتی دبا دبا سا چلائی۔

“تمہیں سمجھ نہیں آ رہی کہ تم پہلے زخمی ہو اس پر مزید کیوں خود کو ٹارچر کروانا چاہتے ہو؟” وہ ابھی تک لاشعوری طور پر اسی ذوالنورین کے زیرِ اثر تھی جو کسی کا محتاج تھا تبھی وہ ایسا جذباتی ردعمل دے رہی تھی جو اس کے دلی جذبات کی چیخ چیخ کے عکاسی کر رہا تھا۔
“اور آپ پلیز۔۔۔۔۔” وہ بات کرتی کرتی ضرغام کی طرف مڑی جو سیاہ شلوار قمیض پہنے آستینیں کہنیوں تک فولڈ کیے محظوظ کن انداز میں انہیں دیکھ رہا تھا۔
“اسے کچھ مت کہیں۔میری وجہ سے یہ لیٹ ہو گیا ہے۔ابھی یہ آپ کے ساتھ چلا جائے گا۔” اس نے بیک وقت دونوں کو رام کرنا چاہا۔

“یہ اکیلا نہیں آ رہا ہے بلکہ آپ بھی ساتھ آ رہی ہیں کیونکہ بھائی کی خوشی میں بہنیں شریک ضرور ہوا کرتی ہیں۔اس لیے میں جلدی سے تیار ہو کے اس کے ساتھ آئیں۔میں آپ دونوں کا انتظار کروں گا۔” اپنی طبیعت کے برخلاف بہت نرمی اور تفصیل سے کہتے ہوئے وہ زحلے کو جزبز سا کر گیا۔
ابھی تو اس سے ناراضگی ہی ختم نہ ہوئی تھی کہ اس کے ساتھ فنکشن پہ جانا؟؟ وہ خاصے شش و پنچ کا شکار ہو چکی تھی۔

“بلکہ آپ ایسا کریں میرے ساتھ چلیں۔یہ بعد میں آ جائے گا۔” اس کے مزید کہنے پہ وہ اور زیادہ الجھی تھی۔
اس نے بے ساختہ اس کی طرف دیکھا جس کی آنکھیں اسے صاف صاف اسے اکیلا چھوڑ کے جانے کی نفی کر رہی تھیں۔

“مم۔۔میں تیار ہو کے آ جاوں گی۔” اسے کھل کے منع کرنا بھی مناسب نہ لگا کہ اس نے سیدھا بہن بنا دیا تھا اور نا یوں منہ اٹھا کے چلے جانا۔
ذوالنورین سے ناراضگی اپنی جگہ لیکن اس کے ہوتے ہوئے اس بات کی تسلی تو ضرور رہے گی نا کہ وہ ان کمفرٹیبل یا ان سیکیور فیل نہیں کرے گی۔

“اوکے جیسا آپ بہتر محسوس کریں اور تو اگر اپنی محبوبیت جتانے کی کوشش کرنے میں مزید لیٹ ہوا تو تو مجھے اچھی طرح سے جانتا ہے۔ آدھ گھنٹے میں زحلے کو لے کے پہنچو۔” زحلے کو نرمی سے کہہ کر اس نے ذوالنورین کو لتاڑا تو کلس کے رہ گیا۔

“ملک صاحب!یہ جو آپ غنڈہ گردی دکھا کے جا رہے ہیں نا یاد رکھیے گا آپ پہ ادھار رہے گی یہ۔” اس کے پلٹنے پہ اس نے عقب سے ہانک لگائی لیکن وہ ان سنی کرتا ہوا کمرے کی دہلیز پار کر گیا۔
جبکہ کمرے کے بیچ و بیچ کھڑی زحلے اس بات پہ پریشان ہو رہی تھی کہ وہ فنکشن کے مطابق پہنے کیا؟
اس کی اس پریشانی سے قطعی بے خبر وہ ضرغام کی ہدایت پہ ناچاہتے ہوئے بھی کپڑے لیے واشروم کی جانب بڑھنے لگا۔
جب اچانک کچھ یاد آنے پر وہ مڑا اور واپس وارڈروب کی طرف گیا اور چند سیکنڈز بعد ایک پیکٹ لیے اس کی جانب بڑھا۔

“مجھے اچھا لگے گا اگر آپ اسے پہنیں گی۔” گہرے لہجے میں بولتا وہ ہولے سے اس کے بالوں کو چھوتا واشروم میں غائب ہو چکا تھا جبکہ وہ غائب دماغی سے ہاتھ میں پکڑے پیکٹ کو دیکھتی رہ گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس کے بے لگام ہوتے لب اس تل کی سواری پہ اپنا سلگتا ہوا لمس چھوڑتے اس کی سانسیں منتشر کرنے کے درپے تھے۔

“ض۔۔ضرغام پلیز۔” لائٹ کے اچانک جانے پہ سب نے جب اپنے موبائلز کی ٹارچ آن کی تو حیا آمیز کیفیت پہ کسی کے دیکھ لینے کا خوف غلبہ پانے لگا تھا۔
کیونکہ اس اچانک افتاد پہ ایک چیخ و پکار مچ چکی تھی جس میں سب سے زیادہ یہ آواز تھی کہ ‘سٹیج کی طرف روشنی کرو، شہرے گھبرا جائے گی۔”
مگر یہ شخص یقیناً کچھ کر کے ہی یہاں بیٹھا تھا کہ ابھی تک کسی نے بھی ڈائریکٹ سٹیج کی طرف ٹارچ نہیں ماری تھی۔

“میرا انتظار کیوں نہیں کیا؟” اس کے کانوں میں موجود جھمکے کو ہونٹوں سے چھوتے ہوئے اس نے بھاری لہجے میں استفسار کیا تو اس کا دل مارے شرم اور خوف کے تیز تیز دھڑکنے لگا۔

“اسی وجہ سے نہیں کیا تھا۔” لب و دست کی بڑھتی گستاخیوں پہ اس کی زبان پھسلی تو ضرغام کی آنکھوں کی چمک مزید بڑھ گئی۔
“پھر تو آپ کی ایسی جرات کسی کام نہ آئی مسز ضرغام ملک۔” بھاری لہجے میں کہتے ہوئے اس نے چہرہ اس کے بالوں میں چھپانا چاہا جب اس کے ہونٹوں سے بے ساختہ ایک چیخ سی نکلی تھی۔
اور اس کی چیخ کا نکلنا تھا کہ بیک وقت کئی ٹارچ کا رخ سٹیج کی طرف مڑا اور اگلے چند سیکنڈز میں ہال ایک دفعہ پھر سے جگمگاتی روشنیوں سے نہلا گیا۔

“کیا ہوا شہری تم ٹھیک ہو؟” ملک ہاوس کے بیشتر مکین متفکر انداز میں سٹیج کی طرف بڑھے جہاں وہ حواس باختہ سی سرخ چہرہ لیے بمشکل ان کو جواب دے رہی تھی۔
اس کی چیخ پہ سب متفکر ہوئے پڑے وہاں ضرغام کی موجودگی کو نوٹس ہی نہ کر پائے مگر جب شہرے کی جانب سے تشفی ہو گئی تو ماہ وش چچی کا دھیان شہرے کے پہلو میں براجمان ضرغام کی طرف گیا جو خاصی گہری نگاہوں سے اپنی چھوئی موئی سی بنی مسز کو گھور رہا تھا۔

“ضرغام!تم کب آئے اور یہاں کیا کر رہے ہو؟” ان کی حیرانی بجا تھی۔
“اپنی ہی مہندی کے فنکشن پہ میں نہیں آوں گا تو کون آئے گا۔” اس نے سنجیدگی سے انہیں جواب دیا تو وہ معنی خیزی سے مسکرانے لگیں۔

“تو اس کا مطلب یہ ہے کہ شہرے کی چیخ تمہاری آمد کے سبب تھی؟” وہ مسکراتی نظروں سے انہیں دیکھتے ہوئے پوچھنے لگیں تو وہاں موجود ینگ جنریشن میں ہو ہا سی مچ گئی جبکہ ان کی بات پہ اس کا جھکا ہوا سر مزید جھک گیا تھا۔

“اس کا جواب تو مجھے بھی مطلوب ہے چچی بیگم۔” گہری نظریں اس پہ ٹکائے وہ بظاہر ان سے بولا لیکن بات کا پسِ منظر سمجھتی شہرے نے بے ساختہ اپنا دوپٹہ زور سے دائیں ہاتھ کی مٹھی میں دبوچا۔

“چلو بھئی شہرے، ہمیں بتاو کہ تمہاری چیخ اپنے شوہر کی اندھیرے میں خوفناک شکل دیکھ کر نکلی ہے یا وجہ کوئی اور تھی؟” نگاہ نے شرارتی نظر ان دونوں پہ ڈالتے ہوئے استفسار کیا تو سب اشتیاق بھری نگاہوں سے انہیں دیکھنے لگے۔
جن کا یوں ایک ساتھ مل جانا سب کے لیے کسی معجزے سے کم نہ تھا۔

“وہ۔۔۔” سب کی توجہ خود پہ مبذول پا کے وہ بوکھلا چکی تھی اس پہ مستزاد ساتھ بیٹھے شخص کے کندھے کا مسلسل اس سے ٹکرانا اس کے حواس منتشر کر رہا تھا۔
“وہ میں بال ٹھیک کرنے لگی تھی تو یہ انگوٹھی بالوں میں اٹک گئی تو مجھے لگا بال کھل جانے لگے ہیں تو میری چیخ نکل گئی۔” بمشکل ذہن میں بات آنے پر اس نے ٹوٹے پھوٹے انداز میں بات بنائی تو سب مسکرا دیے جبکہ اس کے بالوں پہ نظریں جمائے ضرغام کی آنکھیں ایک دم سے لو دینے لگیں۔

“ویسے بالوں میں اٹکنے والا ہاتھ تمہارا ہی تھا یا۔۔۔۔۔۔” سب کے ادھر ادھر ہٹنے پہ نگاہ ذومعنی انداز میں بولتی بات ادھوری چھوڑ کے مسکرانے لگی تو اس کی ہتھیلیاں پسینے سے تر ہونے لگ گئیں۔
اسے اندازہ ہرگز نہ تھا کہ یہ سب اتنا مشکل ہو گا۔

“نگاہ پلیز۔” اس نے بے ساختہ پہلو بدلتے ہوئے اسے ٹوکنا چاہا جب لحظے بھر کے لیے اسے اپنا سانس رکتا ہوا محسوس ہوا کیونکہ وہ بڑے استحقاق سے اس کے اوپر موجود ڈوپٹے کے نیچے سے اپنا مضبوط بازو گزارتے ہوئے اس پہ اپنی گرفت مضبوط کر چکا تھا۔

“بالوں اور ان پہ لگے پھولوں کے بکھرنے پر ایسا پرزور احتجاج جبکہ میرے ارادے اس سے زیادہ خطرناک ہیں۔” گھمبیر لہجے میں مہکتے جذبات کی حدت اسے موم کی طرح پگھلانے لگی تھی۔
وہ بے ساختہ خود میں سمٹی تھی کیونکہ کمر کے گرد لپٹا ہوا ہاتھ بڑی بے باکی کے ساتھ اس کے وجود کی نرمی محسوس کر رہا تھا جبکہ وہ شرم و حیا میں ڈوبی سٹیچ پہ آنے والوں کو دیکھ رہی تھی جو باری باری رسم پوری کر رہے تھے۔

“ہم پانچ دوستوں میں تم وہ واحد ہو جسے اپنی شادی کا ایسا کوئی فنکشن یوں اٹینڈ کرنا نصیب ہوا ہے۔” جس لمحے رہبان اور نین نے اپنی بیویوں کے ساتھ سٹیج پہ قدم رکھا تھا اس وقت آف وائٹ شلوار قمیض پہنے ذوالنورین میر کے مضبوط قدموں کے ساتھ قدم ملاتی سی گرین لانگ فراک جس کے بارڈر اور بازووں پر سلور رنگ کا خوبصورت کام ہوا تھا زیب تن کیے، لمبے بالوں کی ڈھیلی سی چٹیا بنائے، لمبی آستین والے بازووں کے باوجود دونوں کلائیوں میں ہمرنگ کانچ کی چوڑیاں پہنے، پیروں میں کھسے پہنے وہ سلور کلر کے ٹاپس اور گلے میں اپنا وہی لاکٹ پہنے حسبِ عادت سر پہ دوپٹہ سجائے ہال میں داخل ہوئی تو بہت ساری نگاہیں ایک ساتھ ان کی طرف اٹھی تھیں۔
اور اس شاندار سی جوڑی کو دیکھ کر رشک و حسد کے ملے جلے احساسات بہت سی نگاہوں میں جھلملانے لگی۔
ضرغام کے والدین اور باقی سب سے ملنے اور زحلے کے تعارف کروانے کے بعد وہ اسے ساتھ لیے سٹیج کی طرف بڑھا تھا۔

“یہ میرا دوست ہے ذوالنورین میر اور یہ اس کی بیوی ہے زحلے ذوالنورین۔” ان کے سٹیج پہ آنے پر ضرغام نے شہرے کا ان سے تعارف کروایا۔
جو اگر چہ ان سب سے واقف تھی اور ان سے مل بھی چکی تھی مگر درمیان میں اتنے سالوں کا گیپ آیا تھا کہ وہ ان کو مکمل طور پر یاد نہ رکھ پائی تھی۔

“شی از سو کیوٹ اینڈ پریٹی۔” ہلکی سی لپ اسٹک لگائے سٹائلش مگر سادہ سی فراک اور ہمرنگ پاجامے میں ملبوس زحلے دوپٹہ اوڑھے اپنے نرم تاثرات اور ملائمت سے بھرپور نقوش کے ساتھ اس قدر خوبصورت لگ رہی تھی کہ اس سے ہاتھ ملاتی شہرے بے ساختگی میں بول اٹھی۔

شہرے کی تعریف پہ وہ پہلے حیران ہوئی، پھر جھینپی اور پھر اسی قدر سرخ پڑی تھی۔
اس پہ نظریں جمائے ذوالنورین نے اس کے چہرے پہ اترنے والے ہر رنگ کو نگاہوں کے رستے دل میں اتارا تھا۔

“اب اس تعریف کے بدلے میں تمہاری غنڈہ گردی ہزار دفعہ معاف کر سکتا ہوں۔” ضرغام کی طرف دیکھتے ذوالنورین نے لب دباتے ہوئے کہا تو ضر نے کھا جانے والی نگاہوں سے اسے دیکھا۔

“تم سے معافی مانگ کون رہا ہے؟” اس کے ناک پر سے مکھی اڑانے والے انداز پہ رہبان فوراً الرٹ ہوا۔

“یہ کون سی کوڈ ورڈ گفتگو جاری ہے جس کا مجھے علم نہیں؟” فوراً آنکھیں سکیڑتے ہوئے اس نے ان دونوں کی طرف دیکھا۔

“تو چھوڑ اس بات کو۔بچوں کے جاننے کی بات نہیں ہے یہ۔” ذوالنورین نے اسے تاو دلانے کو پچکارنے والے انداز میں کہا تو شہرے سمیت سٹیج پہ موجود ان سبھی کی ہنسی نکل گئی۔
جبکہ رہبان تو گویا جلتے توے پہ جا بیٹھا تھا۔

“میں ایک بچے کا باپ بننے والا ہوں۔” اس کے احتجاجی الفاظ پہ آبگینے فوراً سٹپٹائی تھی لیکن وہاں پرواہ کسے تھی۔
وہ آج ہر طرح کی فکر سے آزاد برسوں بعد یوں مل کے بیٹھے تھے جہاں وہ ایک دوسرے کو رگید رہے تھے۔

“ٹھیک کہہ رہے ہو رہبان تم۔دوسروں کو بچہ بنا رہا ہے حالانکہ خود یہ ابھی تک سٹوڈینٹ بنا گھوم رہا ہے۔” نگاہ نے ہنسی دباتے ہوئے ایک شرارتی نظر زحلے اور ذوالنورین پہ ڈالی تو زحلے نے بے ساختہ اس کی طرف دیکھا جو اسی کی طرف متوجہ تھا۔

“یہ اس بات پہ عمل کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ ماں کی گود سے لے کر قبر تک علم حاصل کرو۔” شہرے کے ساتھ بیٹھے ضرغام نے بھی ان کی شرارت میں حصہ لیا تو سب کی ہنسی بڑی بے ساختہ تھی۔

“ہاں تو اس علم حاصل کرنے کا رزلٹ بھی تو انمول حاصل ہوا نا؟” والہانہ نگاہوں سے زحلے کی طرف دیکھتا وہ محبت سے چور لہجے میں گویا ہوا تو زحلے سب کی نظریں خود پہ فوکس پا کے خود کو لاپرواہ شو کروانے کو ادھر ادھر دیکھنے کی کوشش کرنے لگی مگر اس کے چہرے کی سرخی اس کی اندرونی جذبات کی عکاسی کرنے لگی۔

اسی طرح کی لفظی چھیڑ چھاڑ کے دوران ملک ہاوس کی ینگ جنریشن کے ساتھ مل کر انہوں نے شہرے اور ضرغام کو تیل اور مہندی سے اس قدر نہلایا کہ ان کی شکلیں بگڑ کے رہ گئیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“اب اگر ایک دفعہ پھر سے تم نے میری طرف دیکھا نا تو میں گاڑی سے نکل جاوں گی۔” خود پہ اٹھتی نین کی نگاہوں سے چھلکتے جذبات سے خائف ہوتی نگاہ نے بظاہر شاکی لہجے میں کہا تو اس کی رنگت میں گھلتے گلال کو دیکھتی نین کی آنکھیں مسکرا رہی تھیں۔

“گاڑی سے اترنے کی بجائے کیا یہ بہتر نہیں کہ تم یہاں آ کے بیٹھ جاو تاکہ میں بار بار گردن موڑ کے تمہیں دیکھنے کی زحمت سے بچ جاوں۔” اپنی ٹانگوں کی طرف اشارہ کرتا وہ مسکراہٹ دباتے ہوئے بولا تو نگاہ نے کرنٹ کھا کے اس کی جانب دیکھا جو نچلا لب دانتوں میں دبائے گاڑی ڈرائیو کر رہا تھا۔

“یو آر سو مین ذوالقرنین میر۔” اس نے تپتے ہوئے لہجے میں کہا تو اس کا بے ساختہ قہقہہ گاڑی میں گونجا تھا۔

“ایسی خوبصورت بیوی پہلو میں بیٹھی ہو تو اتنا مین ہونا چلے گا یار۔” مسکراتے ہوئے ایک گہری نظر اس پہ ڈالتا وہ مہکتے ہوئے لہجے میں بولا تو وہ بے اختیار خود میں سمٹی تھی۔

“تم۔۔تم گاڑی پہ فوکس کرو اور دھیان سے گھر پہنچو۔مجھے نیند آ۔۔۔۔۔” دانستاً اس کی توجہ خود سے ہٹانے کے لیے وہ بول رہی تھی جب اس نے فوراً ہاتھ اٹھاتے ہوئے اس کی بات منقطع کی۔

“آں ہاں!یہ نیند والا بہانہ ہرگز نہیں چلے گا کیونکہ میں گھر جا کے بہت زیادہ مِین ہونے کا ارادہ رکھتا ہوں۔” بے باک لہجے میں کہتے ہوئے اس نے یاتھ بڑھا کے اس کا دایاں ہاتھ اپنی گرفت میں لیا تو اس کے ہاتھ کے دباو پہ وہ دانتوں سے لب کچل کے رہ گئی۔

جبکہ بڑھتی ہوئی گاڑی کے ساتھ نین کا ہاتھ اس کی کلائی پہ ٹھہرتا اس کی نس کو ہولے ہولے سے پریس کرتا اس کی سانسوں پر بھاری پڑ رہا تھا جو ہمیشہ نین کے اس روپ سے خائف ہوتی راہِ فرار تلاشنے لگتی تھی۔
مگر ہمیشہ کی طرح اس بار بھی راہِ فرار اسے اسی ستمگر کی مضبوط بانہوں اور کشادہ سینے میں ملا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تارکول کی بنی سڑک پہ فراٹے بھرتی گاڑی میں چھائی خاموشی کو ان دونوں کے ان کہے جذبات کی گونج توڑنے کی کوشش کر رہی تھی۔
مگر ان کہے جذبات سے خوفزدہ زحلے میوزک پلیئر کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے لگی جب اچانک گاڑی میں گونجنے والے الفاظ پہ تھراہ سی گئی۔

ہم کو ہمی سے چرالو
دل میں کہیں تم چھپا لو
ہم اکیلے کھو نہ جائیں
دور تم سے ہو نہ جائیں
پاس آو گلے سے لگا لو

گانے کے اچانک گونجنے والوں بولوں پہ اس کی نگاہ بے ساختہ اس کی طرف اٹھی جو اسی کی طرف دیکھتا بہت سے پیام دے رہا تھا۔
ان جذبوں کی شدت سے چور نگاہوں کے تصادم سے گھبراتی زحلے نے فوراً سرخ ہوتے ہوئے میوزک پلیئر بند کیا اور اپنا رخ مکمل طور پہ ونڈو کی جانب موڑ کے اس کی نگاہوں سے بچنے کی سعی کرنے لگی تو اس کی اس حرکت پہ وہ زیرِ لب مسکراتا ہوا سر جھٹک کے رہ گیا۔

“یہ راستہ گھر کی طرف تو نہیں جاتا۔” کچھ لمحے ونڈو کے باہر جھانکنے کے بعد وہ اچانک بولی تو گاڑی کی فضا میں چھایا فسوں ٹوٹ سا گیا۔

“یہ راستہ بھی گھر کو ہی جاتا ہے۔” وہ ٹھہرے لہجے میں بولتا اپنی تمام تر توجہ ڈرائیونگ پہ مرکوز رکھنے کی کوشش کر رہا تھا کیونکہ اس کا مہکا ہوا دلکش سراپا اس کے جذبات کو بھڑکائے جا رہا تھا۔

“لیکن یہ راستہ تو م۔۔۔۔۔۔۔” جانے پہچانے راستے کو دیکھتی وہ الجھی تھی۔

“اگر آپ ابھی میری کوئی گستاخی برداشت نہیں کر سکتیں تو کچھ لمحے کے لیے خاموشی سادھ لیں کیونکہ اب کی بار آپ کی مزاحمت ان جذبات کا مقابلہ نہیں کر سکے گی۔” ٹھنڈے لہجے میں پنہاں تپش پہ اس کے گال تپ اٹھے۔
وہ کم سن بچی ہرگز نہ تھی جو اتنی کھلی ڈلی بات کا مطلب نہ سمجھ پاتی۔تبھی خود پہ لپٹا دوپٹہ مزید سختی سے اپنے گرد لپیٹتی وہ تب تک خاموشی سے رخ موڑے بیٹھی رہی جب تک ان کی گاڑی ڈھلتی رات کے پونے چار بجے ‘ابراہیم صاحب’ کے گھر کے سامنے نہ رکی۔
چونکہ فنکشن لیٹ شروع ہوا تھا اس لیے وہ وہاں سے فارغ ہو کے نکلے بھی اچھا خاصا لیٹ تھے۔
اور پھر وہاں سے ابراہیم صاحب کے گھر تک کا فاصلہ ایک گھنٹے تک کا تھا اس لیے وہ لوگ خاصے غیرمناسب وقت پر پہلی دفعہ ایک ساتھ وہاں آئے تھے۔
جس پہ زحلے خاصی متعجب و بے چین تھی لیکن وہ پرسکون تھا کہ وہ ابراہیم صاحب کو اطلاع دے چکا تھا۔

“ہم اس وقت بابا سے ملنے کیوں آئ۔۔۔۔۔۔” دروازے کے سامنے ٹھہرتی زحلے اب مزید خود پہ قابو نہ رکھ پائی تو بول اٹھی لیکن مقابل موجود شخص اس کی توقع سے زیادہ بے شرم تھا۔
جو اس کا سوال پورا ہوئے بغیر کمال جرات سے جھک کے اس کے ہونٹوں کو چھوتا ہوا سیدھا ہوا۔

“آپ کچھ کہہ رہی تھیں؟” اپنے ہونٹوں کو دانتوں میں دبائے اس کے ہونٹوں پہ نظریں جمائے وہ سادگی سے بولا تو زحلے نے جل کے رخ بدل لیا جبکہ وہ مسکراتے ہوئے اب دروازے پہ دستک دے رہا تھا۔

دروازہ ابراہیم صاحب کی دیکھ بھال کے لیے متعین لڑکے نے کھولا تھا۔
دروازہ کھلنے پہ وہ سیدھا ابراہیم صاحب کے کمرے کی طرف آئے جو نا صرف جاگے ہوئے تھے بلکہ خاصے پرتپاک انداز میں ان سے ملے۔

“اس وقت آپ کو زحمت اس لیے دینا پڑی کہ پرسوں ہمارا ولیمہ ہے بلکہ میرے بھائی کا ولیمہ بھی ہے جس میں آپ نے ضرور شرکت کرنی ہے۔” چند مکالمات کے تبادلے کے بعد وہ مودبانہ اور محبت بھرے انداز میں ابراہیم صاحب سے گویا ہوا تو زحلے نے ششدر نگاہوں سے اسے دیکھا۔

“ولیمہ؟” اس کے کانوں میں بار بار یہی لفظ گونج رہا تھا جبکہ آنکھوں میں اب بے یقینی کے ساتھ شدید غصہ بھی امڈ آیا تھا۔

“کس کے ساتھ ولیمہ کرنا چاہتے ہو کیونکہ مجھے تو اس ولیمہ کے متعلق کوئی خبر نہیں۔” غصہ اس قدر شدید تھا کہ وہ ابراہیم صاحب کی موجودگی کا لحاظ کیے بغیر بولی تو ایک نیا کیس خود پہ دائر ہوتا دیکھ کے وہ گہری سانس بھر کے رہ گیا۔

“ڈیڈ اور مما کی طرف سے سرپرائز تھا لیکن مجھے ابھی تھوڑی پہلے نین سے علم ہوا ہے تو ابھی بابا کو دعوت دی ہے۔” اس نے بڑے تحمل سے اپنی صفائی پیش کرنے کی کوشش کی تھی۔

“زحلے بچے!شوہر کو عزت سے مخاطب کیا کرتے ہیں اس کی عزت کرتے ہیں۔اس کی عزت کرو گی تو اپنی عزت ہو گی۔” بیٹی کے طرزِ تخاطب پر ابراہیم صاحب نے فوراً اسے ٹوکا تو وہ اس کی موجودگی کے باعث جزبز سی ہو گئی۔

“جی بابا۔” ہولے سے کہتی وہ سر جھکا گئی جبکہ اس کا ماتھا چومتے ابراہیم صاحب اب ذوالنورین کی جانب متوجہ ہو چکے تھے جو انہیں مناسب الفاظ میں ان سے چھپی باتوں کو ڈسکس کرنے لگا جن میں سرِفہرست مم ڈیڈ اور نین کی اچانک منظر عام پہ واپسی تھی۔

ابراہیم صاحب کے ساتھ اچھا خاصا وقت گزارنے اور ناشتہ کرنے کے بعد جب وہ وہاں سے نکلے تو اس وقت صبح کے ساڑھے آٹھ بج رہے تھے۔

“یہ تو آپ نے سن ہی لیا ہو گا کہ ہمارا ولیمہ ہے پرسوں تو اس ولیمہ کو حلال کرنے کے لیے آج میرے لیے خود کو سجانے کی کوشش کریں گی؟” میر پیلس کے پورٹیکو میں گاڑی روکتے ذوالنورین نے اس کی جانب جھکتے ہوئے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے گھمبیر لہجے میں دلپزیر سی فرمائش کی تو نیند سے چور ہوتی زحلے کی نیند بھک سے اڑی۔
اور وہ پھٹی پھٹی نگاہوں سے اسے دیکھنے لگی جو پچھلی سیٹ سے برائیڈل ڈریس کا ڈبہ اٹھاتے ہوئے اس کی جانب بڑھا رہا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اپنے تیل اور مہندی سے اٹے وجود کو ایک گھنٹے کے طویل نرم باتھ سے فریش کرنے کے بعد وہ سفید رنگ کے ڈھیلے ڈھالے ٹراوزر شرٹ میں ملبوس واشروم سے باہر نکلی تو خود کو خاصا تروتازہ اور پرسکون محسوس کر رہی تھی۔

“تھینک گاڈ، یہ تیل اور مہندی کی سمیل تو ختم ہوئی ورنہ کچھ گھنٹوں سے تو خود سے عجیب سی فیلنگ آ رہی تھی۔” خود کلامی کے سے انداز میں بڑبڑاتی وہ گیلے بال تولیے میں لپیٹے ڈریسنگ مرر کی جانب بڑھی اور موئسچرائزنگ کریم کی بوتل اٹھائی۔

“اور مجھے اس وقت آپ کو اس ڈریس میں دیکھ کر عجیب سی فیلنگز آ رہی ہیں۔” عقب سے آتی غیرمتوقع بھاری مردانہ آواز پہ بوتل اس کے ہاتھوں سے چھوٹتی کارپٹ پر جا گری جبکہ وہ ایک جھٹکے سے پیچھے مڑی تو بالوں میں اٹکا ہوا تولیہ بھی سرکتا ہوا پیروں میں آن گرا۔
جبکہ اس کی کھلی آنکھیں بے یقینی سے اس کی جانب دیکھ رہی تھیں جو صوفے سے اٹھ کر مضبوط قدم اٹھاتا ہوا اس کی جانب بڑھ رہا تھا۔
یک ٹک اسے دیکھتی شہرے کا سکتہ اس وقت ٹوٹا جب اس کا مضبوط ہاتھ اس کے بالوں سے ٹپکتے پانی کے باعث نم ہونے والی شرٹ سے ٹکرایا۔

جاری ہے۔