57.1K
55

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 21

“دل تیرے سنگ جوڑ لیا”
از
حوریہ ملک

دریہ کے سوال پہ سب لحظے بھر کے لیے چپ سے کر گئے اور پھر سب سے پہلے داود نے ہی سنبھلتے ہوئے کندھے اچکائے۔

“نا آیا تو نا آئے، نام پتہ یا اپنا نمبر اسی نے نہیں دیا نا تو اب اگر اسے ضرورت ہوئی پیسوں کی تو وہ دریہ سے پیسے آ کے لے لے گا ورنہ ہم پیسے کلرک آفس میں جمع کروا دیں گے یا کوشش کریں گے کہ اگر اس نے کارڈ سے پیمنٹ کی ہے تو اس کی مدد سے اس تک پہنچ جائیں۔” وہ سنجیدگی سے گویا ہوا تو سب نے گہری سانس بھری۔

“اور تم پلیز آج کے بعد اکیلی یونی مت جانا۔” واپس سیب کھاتی دریہ کی طرف گردن گھماتا وہ خفیف سے لہجے میں گویا ہوا تو وہ خجل سی ہو گئی۔
“اچھا نا،اب بس بھی کر دو۔” اس نے اب کے خجالت مٹانے کو چڑے ہوئے انداز میں کہا تو وہ سب بھی سر جھٹک کے موضوعِ گفتگو تبدیل کر گئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گاڑی رکنے کی آواز پہ وہ روتے ہوئے چونکی اور سر اٹھا کے دیکھا تو جگمگاتی روشنیوں سے اس سمے مزین خوبصورت گھریلو عمارت کے سامنے گاڑی رکی ہوئی تھی۔

اس نے دیکھا کہ ان کی گاڑی کے رکتے ہی دو نفوس تیز قدموں سے چلتے ہوئے گاڑی کی جانب لپکے۔

“آبگینے!یہ رہبان کے والد اور بھائی ہیں،آپ ان کے ساتھ گھر جائیں۔” ان دونوں کے گاڑی تک پہنچتے ہی ڈرائیونگ سیٹ پہ بیٹھا شخص سنجیدگی سے بولا تو وہ بدک اٹھی۔

“نہیں!م۔۔۔مجھے رہبان کے ساتھ رہنا ہے۔” اس سمے خون سے نہائے رہبان کو دیکھ کے وہ پریشانی میں یہ تک فراموش کر گئی کہ وہ اسی رہبان سے جان چھڑوانے کے چکر میں ہی یہاں آ رہی تھی۔
مگر اس وقت تو اسے بس اس کے پاس رہنے سے غرض تھی۔

“اوکے آپ رہنا اس کے ساتھ لیکن فی الحال آپ گھر جائیں۔مجھے اسے ہاسپٹل لے کے جانا ہے اور آپ کی ضد ناصرف آپ کے لیے بلکہ اس کے لیے بھی ٹھیک نہیں ہے۔” اس نے اسی سنجیدگی سے اسے کہتے ہوئے ڈور ان لاک کیا تو اس کے آنسووں میں تیزی آنے لگی۔
اس نے بے بسی سے سیٹ پہ بے سدھ پڑے رہبان کو دیکھتے ہوئے اپنی سسکی روکی تو اس کے بے سدھ وجود میں ہلچل سی مچی۔

“م۔۔مسز!” اس کی بھاری درد سے چور آواز پہ اس کی ہچکیاں ایک دم سے بلند ہوئیں جس پہ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا شخص چڑ سا گیا۔

“انکل!آپ ان کو آنٹی کے حوالے کر کے آئیں پلیز۔” گاڑی کا شیشہ نیچے کرتے ہوئے اس نے ضبط سے کھڑے حماد گردیزی کو مخاطب کیا تو آبگینے اس بے حس شخص کی پشت کو دیکھتی مارے بے بسی کے گاڑی سے اتر گئی۔

گاڑی سے نکل کے اس نے دیکھا کہ سامنے ایک پرکشش شخصیت لیے لگ بھگ پچاس پچپن سالہ مرد اور تقریباً رہبان کا ہی عمر مرد کھڑے تھے۔
ان دونوں کی حالت اور آنکھوں کے سرخ کنارے دیکھ کے اندازہ ہو رہا تھا کہ وہ چند لمحے بیتنے والی قیامت سے باخبر تھے۔

“السلام علیکم!” اس نے آنسووں سے بھیگی بھاری آواز میں بمشکل سلام کیا تو حماد صاحب آگے بڑھے۔

“وعلیکم السلام!آ جاو بیٹا۔” اس کے سر پہ ہاتھ رکھے اور اسے ساتھ لگائے گھر کی جانب بڑھے تو اس نے دیکھا دوسرا مرد(داود) گاڑی میں بیٹھ رہا تھا۔

“بیٹا میرا آپ سے ایک ریکویسٹ ہے کہ اپنا چہرہ صاف کریں اور اندر کسی کو بھی یہ خبر نہ ہونے دیجیے گا کہ رہبان زخمی ہے۔اس کی ماں اور دادی پریشان ہوں گی۔ٹھیک ہے نا؟” اسے ساتھ لے کے اندر کی جانب بڑھتے ہوئے وہ ستے ہوئے لہجے میں اسے سمجھا رہے تھے تبھی وہ اپنے اندر ابلتے ہوئے آنسووں کو واپس حلق میں اتارتی اپنے اوپر اوڑھی چادر سے اپنا چہرہ صاف کرنے لگی۔

وسیع و عریض روشنیوں میں ڈوبے لان کو بے جان قدموں کے ساتھ عبور کرنے کے بعد وہ صدر دروازے کے پاس پہنچے تو اس نے دیکھا کہ ادھ کھلے دروازے سے ایک نوجوان مرد تیز تیز قدموں سے اسی جانب آ رہا تھا۔

“ڈیڈ!کہاں چل پڑے تھے آپ اور داودی اتنی ایمرجنسی میں؟بی جان کی طبی۔۔۔۔۔” وہ جھنجھلائے ہوئے انداز میں بولتا ہوا اس پہ نظر پڑنے پہ جیسے سٹاپ ہوا تھا۔

“یہ کون۔۔۔۔ارے یہ تو بھابھی ہیں۔” اچنبھے سے بولتے بولتے وہ اسے پہچان کے حیرانگی و مسرت کے ملے جلے تاثرات کے ساتھ گویا ہوا۔
اور پھر اس کے بلند آواز میں لگائے نعرے “بھابھی آ گئی ہیں۔” پہ جیسے ایک دم سے لاونج میں ہلچل سی مچ گئی اور سارے ہی وہاں آن موجود ہو گئے۔

“اگر آپ سب کو گراں نہ گزرے تو پہلے بچی کو بیٹھ لینے دو پھر مل لینا۔” جب سب ایک ساتھ اس کی جانب لپکے تو حماد صاحب نے انہیں ٹوکا۔
اور پھر تسلی سے اسے سب کے ساتھ باری باری متعارف کروایا۔

گردیزی ہاوس میں طاہر گردیزی کی وفات کے بعد بی جان اپنے دو بیٹوں رضا گردیزی اور حماد گردیزی اور بیٹی عقیدت کے ساتھ رہنے لگیں۔
وقت کی گردش سالوں کا پہیہ دوڑانے کے بعد حماد صاحب کو سائرہ بیگم ، رضا صاحب کو ان ہی کی بہن مائرہ بیگم سے اور عقیدت کو حماد کے دوست بدر کے ساتھ جوڑ گیا۔
حماد صاحب اور سائرہ بیگم کے دو بیٹے رہبان، ریحان اور ایک بیٹی آیت تھیں۔
رضا صاحب اور مائرہ بیگم کی تین بیٹیاں زمل، مشعل، عدن اور ایک بیٹا داود تھا۔
جبکہ عقیدت اور بدر صاحب کی ایک بیٹی دُریہ(درِمکنون)، بیٹے حمدان اور عالیان تھے۔

سب کے ساتھ ساتھ متعارف ہونے کے بعد وہ بی جان اور سائرہ بیگم کے درمیان صوفے پہ سکڑی سمٹی بیٹھی ہوئی تھی۔

“رہبان کہاں ہے اور بچی کا چہرہ اس قدر سُتا ہوا کیوں ہے؟” بی جان نے اس کے بجھے بجھے اور بے رنگ چہرے کو دیکھتے ہوئے استفسار کیا تو ہزار ضبط کے باوجود اس کی آنکھیں آنسووں سے نم ہونے لگیں۔

“رہبان کا تو آپ کو پتہ ہے بی جان کہ اچانک ڈیوٹی پہ جانا پڑتا ہے اور آپ کی بہو کی ایسی صورتحال سے نپٹنے کی پہلی ہی ٹرائی ہے اس لیے یہ پریشان ہے۔” حماد صاحب نے اپنے مخصوص متانت بھرے انداز میں بی جان کے سوال کا جواب دیا تو بی جان کو بے ساختہ اس پہ پیار آ گیا۔
انہوں نے اسے ساتھ لگاتے ہوئے اس کی پیشانی چومی تو اس کا دل گداز ہونے لگا۔

“رہبان لالہ کو اللّٰہ پوچھے گا، ایسے اچانک اپنی مسز کو کون بھیجتا ہے؟پہلی دفعہ بھابھی گھر آئی ہیں اور ہم ان کا شاندار سا استقبال بھی نہ کر سکے۔” مشعل کے اندر کا دکھ اور ملال لفظوں کا روپ دھارتا سب کے ہونٹوں پہ مسکان بکھیر گیا۔

“تو ابھی یونہی سمجھو کہ بھابھی آئی ہی نہیں جب لالہ آئے تو ان کے آنے پہ دونوں کا استقبال کر لیں گے۔” عالیان کے کہنے پہ مشعل نے کھا جانے والی نگاہوں سے اسے گھورا۔

“چلیں استقبال کو چھوڑو اور بھابھی کو بھائی کے کمرے میں چھوڑ کے آو تاکہ بھابھی فریش ہو تب تک کھانا لگواتی ہوں میں۔” سائرہ بیگم اپنی جگہ سے اٹھتی لڑکیوں سے مخاطب ہوئیں تو سبھی الرٹ سی اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئیں۔

“تم لوگ بیٹھ جاو۔تم لوگوں نے آبی کو فریش کرنے کی بجائے اپنی فضول باتوں میں لگا لینا ہے اس لیے میں اسے چھوڑ آتی ہوں روم تک۔” اس کے چہرے سے واضح ہو رہا تھا کہ اس وقت نا وہ کسی کی باتوں میں دلچسپی لے رہی ہے نا اسے یہ باتیں اچھی لگ رہی ہیں۔
اس لیے عقیدت بیگم خود اپنی جگہ سے اٹھیں کہ لڑکیوں نے فضول میں ہی اسے باتوں سے زچ کر دینا تھا۔

تبھی وہ اسے بازو کے حلقے میں لیے آگے بڑھیں تو لڑکیاں اپنا سا منہ لے کے وہیں واپس تھپ سے بیٹھ گئیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تکیے میں منہ دیے وہ گہری نیند میں ڈوبا ہوا تھا جب سائیڈ ٹیبل پہ پڑے اس کے موبائل کی رنگ ٹیون پہ اس کی گہری نیند میں خلل پڑا۔
مندی مندی آنکھوں کے ساتھ تکیے سے سر نکال کے اس نے ہاتھ ادھر ادھر مارتے ہوئے موبائل ڈھونڈ کے کال بند کرنی چاہی۔

لیکن کال بند کرنے سے پہلے جب نیند میں ڈوبی آنکھیں بلنک کرتی سکرین پہ پڑیں تو اس کی آنکھیں پٹ سے کھل گئیں۔فورا سے پہلے اس نے کال پک کرتے ہوئے موبائل کان سے لگایا اور اپنی جمائی روکتے ہوئے سیدھا ہوا۔

“السلام علیکم!” نیند میں ڈوبی خمار زدہ آواز میں دوسری جانب سلامتی بھیجی۔

“وعلیکم السلام!کہاں ہو؟” حسبِ توقع دوسری جانب اس کی سڑی ہوئی آواز سنی تو اس نے گردن گھما کے بیڈ کی دوسری جانب دیکھا جہاں نگاہ موجود نہیں تھی۔
بلکہ وہ گزشتہ راتوں میں سے ایک رات بھی اس کی موجودگی میں بیڈ پہ نہیں سوتی تھی۔گہری سانس بھرتے ہوئے وہ کال کی جانب متوجہ ہوا۔

“رات کے اس پہر ہر شریف انسان اپنے گھر،اپنے کمرے میں موجود گہری نیند میں سویا ہوتا ہے۔” اس کی سڑی آواز کا اسی انداز میں جواب دیتے ہوئے اس نے دوبارہ ہاتھ منہ پہ جما کے اپنی جمائی روکی۔

“اور چونکہ یہ بات پوری دنیا جانتی ہے کہ تم شریف انسان نہیں ہو اس لیے اب مجھے یہ بتاو کہ کہاں ہو تم؟” دوسری کال پہ موجود شخص نے اسے مکمل طور پہ تپانے کے بعد اپنے آخری الفاظ پہ زور دیا تو اس کی کشادہ پیشانی پہ بل پڑے۔

“لاڈلی بیوی نہیں ہو تم میری جو تمہیں ایسے سوالوں کے جوابات دوں اس لیے تم مجھے یہ بتاو کہ اس وقت کال کیوں کی؟” بے مروت انداز میں اس پہ واپسی حملہ کرتے ہوئے اس نے رکھائی سے استفسار کیا۔

“رہبان ہاسپٹل میں ہے۔” اس کے کیے گئے دھماکے پہ وہ جیسے ہِل کے رہ گیا۔

“کیا؟کب ہوا یہ اور کس نے کیا؟” سنبھلتے ہوئے اس نے تابڑ توڑ سوالات کرتے ہوئے جلدی سے بستر چھوڑا اور سائیڈ ٹیبل پہ پڑا اپنا والٹ، کی چین اور گھڑی اپنے ٹراوزر کی جیب میں گھسایا۔

“دو گھنٹے قبل اور ایسی حرکت ماسوائے اس کے سسرالیوں کے اور کوئی نہیں کر سکتا۔” اس کے سپاٹ انداز میں دیے گئے جواب پہ اس کے متفکر چہرے پہ مشتعل تاثرات چھا گئے۔

“تم کیسے وہاں پہنچے اور اسے ہاسپٹل پہنچایا؟” اپنے اسی حلیے میں ہی وہ اپنے بکھرے بالوں میں دوسرے ہاتھ کی انگلیاں پھیرتا دروازے کی سمت بڑھا۔

“گاڑی پہ۔” دوسری جانب سے دیے گئے برجستہ مگر سڑے ہوئے جواب پہ وہ بھنا اٹھا تبھی بنا کچھ کہے کال بند کر گیا۔

“ایڈیٹ!” زیرِ لب اسے مہذب الفاظ سے نوازتے ہوئے وہ دل میں ڈھیروں پریشانی لیے باہر کی طرف بڑھ رہا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رات کا نجانے کون سا پہر تھا جب ایک عجیب سے کھٹکے کی آواز پہ اس کی نیند بھک سے اڑی۔
دل میں خوف جبکہ خوبصورت آنکھوں میں نیند کے رنگ لیے اس نے مدہم سی روشنی میں اردگرد کے ماحول کا جائزہ لینا چاہا جب ایک دفعہ پھر سے کھٹکا ہوا تو وہ ایک جھٹکے سے سیدھی ہو بیٹھی۔

“کک۔۔کون؟” صوفے پہ بیٹھے آنکھوں میں ہراس لیے اس نے چاروں اوڑ نگاہ گھمائی تو بیڈ پہ نیم دراز ذوالنورین کو سائیڈ ٹیبل کی جانب جھکے دیکھ کے اس کی نظر ٹھٹھک گئی لیکن اگلے ہی لمحے وہ سرعت سے اپنی جگہ سے اٹھی۔

“کیا ہوا؟کچھ چاہیے کیا تمہیں؟” اس کے بیڈ کے نزدیک ٹھہرتے ہوئے اس نے گھبرائے ہوئے لہجے میں استفسار کیا تو رات کے آخری پہر غیر متوقع طور پہ اس کی پکار سن کے ذوالنورین نے اپنی خوبصورت پلکیں اٹھا کے اسے دیکھا تو نگاہ پل میں گویا اس کے مخملیں وجود کی رعنائیوں کے ساتھ جھکڑ سی گئی تھی۔

نائٹ بلب کی مدہم سی زرکاری روشنی میں وہ ڈاکٹر ارتضی کی نواسی کے بھجوائے گئے جدید تراش خراش کے کپڑوں میں سے اس وقت چاکلیٹ براون کلر کے دیدہ زیب لباس میں ملبوس تھی۔ چونکہ ثمرہ(ڈاکٹر صاحب کی نواسی) نے کپڑے جدید فیشن کے مطابق پسند کر کے بھیجے تھے تبھی سوٹ کی فٹنگ اور اس پہ مستزاد زحلے کے گلابی مائل سفید رنگ میں جچتا وہ چاکلیٹ کلر اس سمے ایک عجب سا سحر بکھیر رکھا تھا۔
اس نے ہمیشہ اسے بڑی چادر اور دوپٹے میں ملفوف پایا تھا لیکن اس وقت نجانے نیند کا غلبہ حاوی تھا یا خوف کا احساس اس قدر زیادہ ہو چکا تھا کہ وہ کندھے پہ جھولتے ڈوپٹے اور لمبے بالوں کی ڈھیلی سی چٹیا سے نکلی لٹوں سے بے خبر اپنے توبہ شکن سراپے کے ساتھ اس سے چند قدم کے فاصلے پہ کھڑی اس کے لیے باعثِ امتحان بن رہی تھی۔

“کچھ چاہیے کیا تمہیں؟” اس کی مسلسل خود پہ جمی گہری نگاہوں کے ارتکاز پہ جزبز ہوتے ہوئے اس نے دوبارہ اسے پکارا تو اس کے گلے کی حرکت کرتی ہوئی ہڈی پہ اس کی نگاہ گئی۔

“ہاں۔” گلے کی ہڈی سے پھسلتی ہوئی نگاہ جب صراحی دار گردن پہ پہنچی تو اس پے لپٹی چین اور اس میں لٹکتے چھوتے سے نیلے موتی سے نگاہ جا کے الجھ سی گئی۔
وہ بارہا دفعہ اسے سہارا دینے کو اس کے نزدیک آئی تھی لیکن اس نے یہ چین اس کی گردن میں پہلی دفعہ دیکھی تھی اس کی وجہ شاید یہی تھی کہ اس وقت وہ جو سوٹ زیب تن کیے بے حجابانہ اس کے سامنے آ گئی تھی اس کا گلا خاصا گہرا تھا۔

“کیا؟” اس کی بولتی نگاہوں سے بے نیازی برتنے کی سعی کرتے ہوئے اس نے سوالیہ انداز میں اس کی جانب دیکھا۔وہ ہنوز اپنے لاپرواہ حلیے سے بے خبر و بے نیاز لگ رہی تھی۔

“آپ۔” اس کے برجستہ یک لفظی جواب پہ اس کے نیند کے ہی ہنڈولوں میں جھولتے وجود کو حیرت کا زبردست جھٹکا لگا۔

“جی؟” آنکھوں میں شدید حیرت و بے یقینی سموئے وہ اسے تک رہی تھی جو اب ٹیبل لیمپ کا بٹن پریس کرتا کمرے میں روشنی کر گیا۔

“اس میں اتنا حیران کیوں ہو رہی ہیں آپ؟یہی کرنا چاہتی تھی نا آپ بھی؟” بے رحم انداز میں کہتے ہوئے اس نے حملہ کیا تو اس نے بلبلا کے اس کی جانب دیکھا جس کی روشن آنکھیں بتا رہی تھیں کہ وہ ساری رات سویا نہ تھا۔

“ارادہ بنانے اور عمل کرنے میں فرق ہوتا ہے۔تصویر کا ایک رخ دیکھ تم میرے کردار پہ یوں حملہ نہیں کر سکتے۔” وہ اس کی دی گئی لفظی چوٹ پہ چٹخ اٹھی تو اس کے ہونٹوں پہ ایک تمسخرانہ مسکان بکھر گئی۔

“کردار تک تو میں ابھی پہنچا ہی نہیں ہوں ٹیچر صاحبہ، ابھی تو بات پہلی سیڑھی سے شروع کی ہے۔” اس کی ہر لمحہ بے تاثر اور سرد رہنے والی خوبصورت آنکھیں اس پل نجانے کیوں بہت ہی رنگ سجائے ہوئے تھیں۔
اور شاید انہی رنگوں سے گھبراتے ہوئے اس نے لاشعوری طور پہ اپنے سینے پہ ہاتھ پھیرا تو ڈوپٹے کی غیر موجودگی محسوس کر کے اس کا دماغ بھک سے اڑا۔

اسے اس لمحے ان آنکھوں کے بدلتے رنگوں کی وجہ معلوم ہوئی تبھی اس نے فورا کندھے پہ لٹکا دوپٹہ تھام کے سر پہ اوڑھنا چاہا۔

“اونہوں، یہ تکلف دن کے وقت کر لیجیے گا جب آپ میری ٹیوٹر ہوں گی۔رات کے اس پہر آپ میری بیوی بن کے مجھے بہکا سکتی ہیں۔” بھاری لہجہ، رات کی تاریکی و بولتی ہوئی خاموشی اور خوبصورت آنکھوں کے بدلتے رنگ اس پل اس پہ مل کے حملہ آور ہوئے تھے۔

اس نے اس کی بولتی آنکھوں کے ارتکاز سے گھبراتے کپکپاتے ہاتھوں کے ساتھ دوپٹہ سر پہ اوڑھ کے اپنے گرد اچھی طرح سے پھیلایا تو سیاہ آنکھوں کی چمک دوگنی ہو گئی۔

“پانی پلائیں مجھے۔” دوپٹہ اوڑنے کے بعد اس نے قدم واپس کو موڑنے چاہے جب اس کی سنجیدہ پکار پہ اس کے قدم رکے تھے۔
اس نے پلٹ کے بے بسی سے سائیڈ ٹیبل پہ پڑی منرل واٹر کی بوتل اور گلاس کو دیکھا اور نپے تلے قدم اٹھاتی اس کے مزید نزدیک گئی۔

“یہ لو۔” اس نے گلاس بھر کے اس کی سمت بڑھایا کہ وہ نیم دراز تھا اس لیے پانی خود ہی پی سکتا تھا۔

“میں نے آپ کو ایک کام سونپا تھا مس ابراہیم؟” وہ گلاس رکھ کے واپس پلٹ رہی تھی جب اس نے سرعت سے اس کے دوپٹے کا پلو تھام کے اسے روکا تو اس کی اس بے ساختہ حرکت پہ زحلے کا دل بھی پل بھر کے لیے تھم سا گیا۔

“اس کام کو کر دینے کے بعد کیا تم مجھے اس رشتے سے آزاد کر دو گے؟” چند لمحے سوچنے کے بعد بنا اس کی جانب مڑے اس نے گھٹی گھٹی سانس لیتے ہوئے مدہم لہجے میں استفسار کیا تو گویا کمرے میں خوفناک سناٹا چھا گیا۔
گھڑی کی ٹک ٹک کرتی سوئیاں اور رات کی خاموشی میں اس کی سانسوں کی منتشر لٙے عجب فسوں طاری کر رہی تھی۔
اور اس فسوں کو چند ثانیے بعد ذوالنورین کی سنبھلی ہوئی آواز نے توڑا۔

“بالکل نہیں۔وہ کام تو ڈگری مکمل کرنے کے بدلے سونپا گیا تھا۔وہ کام مکمل کریں اور اپنی ایک ڈیوٹی ختم کروائیں۔” بنا کسی لگی لپٹی کے وہ گویا ہوا تو دل میں امڈنے والے شدید اشتعال کو بمشکل ضبط کرتے ہوئے اس نے دوپٹے کا پلو اپنی طرف کھینچا لیکن مقابل کی گرفت مضبوط تھی۔

“میرا دوپٹہ چھوڑو۔” اس نے سپاٹ لہجے میں اسے کہتے ہوئے دوبارہ سے پلو کھینچا لیکن اگلا لمحہ گویا قیامت بن کے اس پہ ٹوٹا تھا۔
اس کی حرکت کے جواب میں اس نے پلو سمیت اس کی کلائی کو اچانک اپنی گرفت میں لیتے ہوئے اپنی طرف کھینچا تو وہ لچکیلی ڈھال کی مانند اس کے اوپر آن گری۔

“آہ۔۔۔۔۔۔” اس اچانک افتاد پہ اس کے ہونٹوں سے نکلنے والی چیخ بہت بے ساختہ تھی۔
اس اچانک افتاد کا ادراک ہوتے ہی اس نے پھرتی سے اس کے اوپر سے اٹھنا چاہا لیکن پلو تھامے ہاتھ نے فورا کمر کے گرد گرفت مضبوط کی۔
تو زندگی میں پہلی دفعہ اپنے اس قدر نزدیک ایک جائز رشتے میں بندھے بھرپور مرد کے اس پرحدت لمس پہ اس کا وجود جل اٹھا جبکہ دھڑکنیں جیسے اپنے لٙے بھول بیٹھی تھیں۔

“اگر اس رشتے سے آزاد ہونا چاہتی ہیں تو پہلے جو کام کہا ہے وہ مکمل کریں۔ لیکن تب تک۔۔۔۔۔۔۔” لیمپ کی سفید روشنی میں وہ اس کے ملائم چہرے پہ بکھرنے والے بہت سے رنگوں میں الجھی ناگواری، گھبراہٹ، بے یقینی و حیرت کا جائزہ لیتے ہوئے بول رہا تھا جب زحلے کی پھٹی پھٹی آنکھیں اس کی آستین پہ لگے خون سے جا ٹکرائیں۔

“یہ خون ک۔۔۔۔۔۔۔۔” وہ ہر شے فراموش کیے پریشانی سے بول رہی تھی جب اسی آستین والے ہاتھ کا لمس اپنے بالوں میں محسوس کر کے اس کا دل دھک سے رہ گیا۔

ایسی غیرمتوقع اور ان چاہی صورتحال و قربت پہ اس کا دل چاہا وہ پھوٹ پھوٹ کے رو دے۔

“چھوڑو مجھے پلیز۔” اس نے نم آنکھوں کے ساتھ التجائیہ انداز میں اس شخص سے منت کی جس کا آدھا وجود معذور تھا لیکن پھر بھی اس کی گرفت کی مضبوطی قابلِ دید تھی۔

“یہ آنسووں کے خطرناک ہتھیار مجھ پہ نہیں چلیں گے بلکہ میں اُن ساری اداوں سے متعارف ہوں گا جو مجھ پہ آزما کے آپ مجھے پاگل کرنا چاہتی تھیں۔اس لیے مینٹلی و جسمانی طور پہ تیار رہیں مس ابراہیم۔” اسے اندازہ ہوا کہ وہ شخص زچ کر دینے کے نت نئے طریقوں سے بخوبی واقف تھا۔
اور وہ ان طریقوں کا آہستہ آہستہ استعمال کر کے اس کو ناصرف جسمانی بلکہ زہنی سزا سے بھی دوچار کرنا چاہتا تھا۔

“اور یہ رہی اس کی پہلی جھلک۔” برف و آگ کا ملاپ لیے لہجے میں کہتے ہوئے وہ اسے سمجھنے یا سنبھلنے کا موقع دیے بغیر جو ہاتھ اس کے بالوں پر رینگ رہا تھا اسے ایک جھٹکے سے اس کے بالوں میں پھنسا کے اس کا چہرہ ہولے سے اوپر کو اٹھا کے اس کی گردن میں چہرہ چھپایا تو وہ سر تا پا لرز اٹھی۔
اس نے بے ساختہ دونوں ہاتھوں کی مٹھیاں زور سے بھینچتے ہوئے اس کے سینے پہ مارتے ہوئے پرے ہونا چاہا لیکن وہ سکون سے اس کی گردن کے ساتھ لپٹی چین کو اپنے ہونٹوں کی گرم حدت سے مہکاتا اسے دہکتے انگاروں کی نذر کر گیا۔

“زوالنورین پلیز۔۔۔۔۔۔” اس کی بڑھتی ہوئی جسارت پہ گھبراتے ہوئے وہ چیخ اٹھی تبھی اس نے اس کی گردن سے چہری نکال کے اسے دیکھا جو سرخ چہرے، لرزتی پلکوں پہ اٹکے آنسووں اور کپکپاتے ہونٹوں کے ساتھ اس کی گرفت میں مقید اس پہ بکھری ہوئی تھی۔

اس کی حالت دیکھتے ہوئے اس نے اس کی کمر کے گرد اپنی گرفت ڈھیلی کی تو وہ بجلی کی سی رفتار سے اس دہکتی گرفت سے نکلی اور بھاگنے کے سے انداز میں چلتی واشروم میں جا گھسی۔

“بابا!” واشروم کے بند دروازے کے ساتھ ٹیک لگاتے ہوئے اس نے بے ساختہ باپ کو یاد کیا جبکہ ایک ہاتھ جھلستی ہوئی گردن کو سہلاتے ہوئے گویا اس بے مہر کے پہلے پرشدت اور استحقاق بھرے لمس کو مٹانے کی ناکام سعی میں مصروف تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ ضرغام کی اُس رات کی گئی گستاخی کے بعد شاید دسواں روز تھا جب سب کے بار بار بلانے اور آمنہ بیگم کے بارہا بار استفسار کرنے پہ وہ ایک دفعہ پھر سے ‘ملک ہاوس’ کا گیٹ کراس کر رہی تھی۔
کیونکہ اس رات کی گئی ضرغام کی حرکت نے اس کے دل میں جہاں اس کے لیے پیدا ہوئے تنفر کو مزید ہوا دی تھی وہیں اس کے دل میں اس کے حوالے سے ایک خوف بھی پیدا کر دیا تھا تبھی وہ ‘ملک منزل’ کے ڈرائیور کے ساتھ ہی کالج آتی جاتی رہی اور پیپرز کا بہانہ بنا کے ملک ہاوس آنے سے گریز کیا۔
مگر اب اسے اطلاع ملی تھی کہ وہ تین چار دن سے گھر نہیں آیا تھا اپنے کسی دوست کے پاس ہے تبھی اس نے ہمت کر کے وہاں آنے کی کوشش کر ہی ڈالی تھی۔

ہاتھوں میں اپنے نوٹس لیے وہ بائیں کندھے پہ بیگ لٹکائے بلیو ٹراوزر کے ساتھ مسٹرڈ لوز سی شارٹ شرٹ پہنے گلے میں سٹالر لپیٹے سنہرے بالوں کی اونچی سی پونی کیے، پیروں میں کینوس شوز پہنے خوبصورت پتھریلی روش پہ قدم اٹھا رہی تھی جب عقب سے آتی بھاری مانوس آواز پہ اس کے قدم رکے تھے۔

“السلام علیکم اینڈ مارننگ۔” اس آواز پہ اس نے بے ساختہ پلٹ کے اسے دیکھا جو بلیک جاگنگ ڈریس میں ملبوس اس سے چند قدم کے فاصلے پہ موجود اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
اسے دیکھتے ہی لاشعوری طور پہ اسے اپنا رخسار جلتا ہوا محسوس تھا تبھی اس نے بنا سلام کا جواب دیے چہرے کا رخ موڑتے ہوئے قدم اٹھایا۔

“شہرے سلام کا جواب دیتے ہیں۔” اس کی سرزنش کرتی آواز پہ اس کا اٹھتا قدم وہیں تھم گیا تھا۔

“آپ کو کیوں دوں؟اور اب اگر آپ نے مجھ سے مزید کوئی بات کی تو میں بڑے دادا کو بتاوں گی کہ کچھ دن پہلے آپ نے میرے کمرے میں آ کے میرے ساتھ بدتمیزی کی ہے۔” گردن واپس اس کی جانب گھماتے ہوئے اس نے اکھڑ انداز میں اسے خود سے زیادہ گفتگو کرنے سے روکتے ہوئے دھمکی دی تو اس کی دی گئی دھمکی پہ سامنے کھڑے ضرغام کے ہونٹوں پہ مسکان پھیلی تھی۔

“مطلب آپ اپنے سسر سے اپنے شوہر کی خود کے ساتھ کی گئی ‘بدتمیزی’ کی شکایت لگائیں گی؟سیریسلی؟” لفظ بدتمیز پہ زور دیتے ہوئے اس نے بایاں ابرو اچکاتے ہوئے جس انداز میں سوال کیا۔
شہرے کا چہرہ خفگی و خجالت سے مزید تپنے لگا۔

“بڑے دادا ہیں وہ میرے۔خبردار ان کے ساتھ میرا کوئی اور رشتہ جوڑنے کی ضرورت نہیں ہے اور میں ناصرف آپ کی بدتمیزی کا بتاوں گی بلکہ یہ بھی بتاوں گی کہ آپ نے نگاہ کی منگنی تڑوانے کے بعد اس زبردستی شادی کی ہے اور تو اور میرے کڈنیپ کے پیچھے بھی آپ کا ہی ہاتھ تھا۔” بنا اس سے ڈرے وہ جب بولنے پہ آئی تو تلخ انداز میں بولتی چلی گئی جبکہ اس کے ہر لفظ پہ سامنے کھڑے ضرغام کے چہرے کی گھمبیرتا بڑھتی چلی گئی۔
جبکہ گردن اور ماتھے کی نمایاں ہوتی رگیں اندرونی خلفشار کو ظاہر کرنے لگیں۔

“یہ فضول بکواس کس نے کی ہے آپ سے؟” اس کے خاموش ہونے پہ اس نے بمشکل خود کو کنٹرول کرتے ہوئے سرد لہجے میں استفسار کیا تو اس کے اتنے پرسکون انداز میں اس استفسار پہ وہ پھٹ پڑی۔

“آپ کی کلوزٹ آپ کے کالے کارناموں سے بھری پڑی ہے۔” کاٹ دار لہجے میں کہتی وہ ایک متنفر نگاہ اس کے چہرے پہ ڈال کے اندر کی جانب بڑھ گئی۔
جبکہ وہ وہیں اس کے کیے گئے دھماکے کی زد میں ششدر کھڑا اسی جگہ کو گھور رہا تھا جہاں کچھ لمحے قبل وہ کھڑی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کروٹ پہ کروٹ بدلتی وہ نیند میں بھی خاصی بے چین لگ رہی تھی۔
اور گزشتہ تین راتوں سے وہ اس کمرے میں اس جہائزی سائز بیڈ کی داہنی طرف لیٹتی تو نیند جیسے کوسوں دور جا بھاگتی اور کمرے کا مالک کا خیال دھیان کے سبھی دھاگے اپنے ساتھ جوڑ لیتا تھا۔

اس وقت بھی وہ کچی پکی نیند میں کروٹیں لے رہی تھی جب دو روز پہلے حماد صاحب کا اس کو دیا گیا موبائل فون گنگنا اٹھا۔
نیند تو پہلے ہی آنکھوں سے روٹھی ہوئی تھی تبھی اس نے لپک کے موبائل اٹھایا لیکن سکرین پہ پرائیویٹ کالنگ جگمگا رہا تھا۔
وہ الجھ سی گئی لیکن پھر بھی کال پک کر کے خاموشی سے موبائل کان سے لگا لیا۔

“مسز!” دوسری جانب سے کہے گئے اس ایک لفظ پہ اس کے سارے وجود میں سرد سی لہر دوڑ گئی۔
وہ نہیں جانتی تھی اسے کیا ہوا تھا لیکن اتنے بعد اس آواز میں اس شخص کے ہونٹوں سے یہ لفظ سن کے اس کی آنکھوں سے آنسو قطار در قطار بہنے لگے۔

“مسز!کیا ہوا؟ رو رہی ہو کیا؟” اس کی سوں سوں کی آواز پہ دوسری طرف وہ بے چین ہوا تھا۔
لیکن روتی ہوئی آبگینے اسے نہیں بتا سکتی تھی کہ اسے اس لمحے اس کے ہونٹوں سے نکلا ایک ایک لفظ کس قدر قیمتی محسوس ہو رہا تھا۔
گزشتہ چار دنوں سے اس نے اس لب و لہجے کو کس قدر یاد کیا تھا وہ اس سمے محسوس کر سکتی تھی۔

“رہبان؟” سسکیوں کو بمشکل روکتے ہوئے اس نے اسے پکارا جو ہاسپٹل کے بیڈ پہ لیٹا اس کے رونے پہ بے چین ہو رہا تھا۔

“رہبان کی جان!رونا مت کریں پلیز، سسرالیوں کی گولیوں سے بچ گیا ہوں لیکن سسرالیوں کی لڑکی کی آنکھوں سے بہنے والے آنسووں میں بہہ جاوں گا یار۔” اپنے مخصوص انداز میں بولتا وہ اس کے بہتے آنسووں کو مزید روانی بخش گیا۔

“تم۔۔تم ٹھیک ہو؟” اس نے روتے ہوئے اس سے پوچھا اور ایک اچٹتی نگاہ دیوار گیر گھڑی پہ ڈالی جو اس وقت پونا ایک بجا رہی تھی۔

“ایسے روتے ہوئے پوچھیں گی تو کیسے کہہ سکتا ہوں کہ ٹھیک ہوں میں۔” رہبان کے خوبصورت آواز میں کہے گئے الفاظ پہ اس کا دل گداز ہونے لگا۔

اس کی یہ باتیں۔۔۔۔۔۔۔
اس پہ انکشاف ہوا تھا کہ وہ اس کی باتوں کی، اس کے خوبصورت لب و لہجے کی، اس کے لوفرانہ انداز کی بہت بری طرح سے عادی ہو رہی ہے۔
اور اس وقت وہ ہر طرح کے ممکنہ مسئلے سے درکنار ہو کے بس اس وقت اس کی باتوں کو ہی سننا چاہتی تھی۔وہ اسے بس صحیح سلامت واپس یہاں اس کے اپنوں کے بیچ دیکھنا چاہتی تھی۔
بعد میں جو کرنا تھا وہ ان اذیت ناک لمحوں کو اس وقت سوچنا نہیں چاہتی تھی اس لیے فوراً خود کو سنبھالا۔

“میں اب نہیں رو رہی ہوں۔” آنسو پونچھتے ہوئے اس نے اطلاع بہم پہنچائی تو وہ فون کال سے لگائے اسے سنتا وہ بے ساختہ مسکرا دیا۔

“میں بھی ‘اب’ ٹھیک ہوں۔” اس کے متبسم لہجے میں دیے گئے جواب پہ اس کے وجود میں ایک گہرا سکون اترا تھا۔
“تم گھر کب آو گے؟” اس نے بے چینی سے دوسرا سوال کیا۔

“مجھے کیوں لگ رہا ہے کہ میری مسز میری محبت میں شدید قسم کی گم ہو چکی ہے اور میری جدائی اس پہ گراں گزر رہی ہے۔” اپنے سوال کے بدلے میں اس کے متبسم لہجے میں کہے گئے ان الفاظ پہ اسے سنتی آبگینے کو اپنا وجود ہوا میں معلق محسوس ہوا۔

“آبگینے؟” اس کی خاموشی پہ اس نے اسے پکارا تو ہڑبڑا سی گئی۔

“نن۔۔نہیں ہرگز نہیں۔ایسا بالکل نہیں ہے میں بس اس لیے پریشان ہوں کہ تم۔۔تم میرے گھر والوں کی وجہ سے اس حالت میں پہنچے ہو۔” اپنی کیفیات سے خود ہی کنارہ کشی کرتے ہوئے اس نے فورا اس کی تردید کی۔

“اچھا مطلب کہ آپ مجھے اپنے گھر والوں کا داماد سمجھ کے میرے لیے پریشان ہو رہی ہو؟” ضرورت سے زیادہ ‘اچھا’ کھینچتے ہوئے اس نے سنجیدگی سے سوال کیا تو اس نے شد و مد سے گردن اثبات میں ہلائی۔

“بالکل۔” بنا اس کی بات پہ غور کیے اس نے جواب دیا تو اس کے بے ساختہ ابھرنے والے بلند قہقہے پہ اسے احساس ہوا تو چہرہ خجالت سے فوراً سرخ پڑا۔

“مسز!ایک نایاب پیس ہو آپ خیر کل ڈیڈ کے ساتھ ہاسپٹل آئیے گا اپنے گھر والوں کے داماد کی عیادت کے لیے۔” مچلتی ہوئی مسکان کو ہونٹوں میں دباتے ہوئے وہ بولا تو اس نے جھلاتے ہوئے کال بند کر دی جبکہ وہ موبائل انگلیوں میں گھماتا کچھ سوچ کے تادیر مسکراتا رہا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“دریہ!اتنا انتظار میں نے ناول کی اگلی قسط آنے کا نہیں کیا جتنا انتظار ہمیں اس ان دیکھے دیالو کا کرنا پڑ رہا ہے۔” وہ سب جو آبگینے کی گھر آمد کے باعث آج پانچ دن بعد یونی آئے تھے وہ دریہ کے ساتھ اسی جگہ اکٹھے ہو کے براجمان تھے جہاں اس دن دریہ کو طلال ملا تھا لیکن دو گھنٹوں کے انتظار کے بعد بھی جب اس کی آمد نہ ہوئی تو زمل جھلا اٹھی۔

“اب اس میں اس کی کیا غلطی ہوئی بھلا، ہم اتنے دنوں بعد جو آئے ہیں تو وہ مجھے جھوٹی اور بھوکی لڑکی سمجھ کے چلا گیا ہو گا۔” دریہ جو خود اس انتظار سے زچ ہو چکی تھی، چڑچڑے انداز میں گویا ہوئی۔
کیونکہ اسے تو اب اس شخص کی شکل بھی بھول رہی تھی تبھی وہ پاگلوں کی طرح ہر آنے جانے والے مرد کو دیدے پھاڑ پھاڑ کے تک رہی تھی۔

“بس کر دو دریہ یوں پاگلوں کی طرح لڑکوں کو گھورنا، نجانے کتنے لوگ تو زیرِ لب ہمیں سنا گئے ہیں کہ بھائی پاس بیٹھے ہیں اور بہن لڑکے تاڑ رہی ہے۔” حمدان نے اس کی آنکھوں کے سامنے ہاتھ لہراتے ہوئے شرارتی انداز میں اسے چھیڑا تو اس نے فوراً ایک دھموکا اس کے کندھے پہ رسید کیا۔

“یہ ایسا ہی ایک دھموکا اب ان لوگوں کے منہ پہ مارنا جو تم لوگوں کو اب سنا کے گیا۔” سکون سے اسے جواب دینے کے بعد وہ واپس لڑکوں کو تارنے میں مصروف ہو گئی۔
جبکہ ان سب کی لڑائیوں اور لفظی جنگ کو بہت محظوظ کن انداز میں ملاحظہ کرتا طلال جعفر ان لوگوں سے کچھ فاصلے پہ پڑے سنگی بنچ پہ ان لوگوں کی جانب سے رخ موڑے سیاہ جینز پہ بلیو سویٹر زیب تن کیے، سر پہ پی کیپ جمائے گلے میں مفلر لپیٹے ہاتھوں میں چائے کا ڈسپوزیبل کپ لیے اس میں سے چسکیاں بھر رہا تھا۔

“درِمکنون بدر!پیسے اس لیے خرچ نہیں کیے تھے کہ واپسی پہ آپ کے پورے خاندان کا شکریہ حاصل کروں۔یہ پیسے اور شکریہ تبھی وصولوں گا جب صرف تم ہو گی اور میں ہوں گا۔” دل ہی دل میں اس سے مخاطب ہوتے ہوئے اس نے کپ سے چائے کا آخری گھونٹ بھرا اور اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا۔

جاری ہے۔