No Download Link
Rate this Novel
Episode 26
“دل تیرے سنگ جوڑ لیا”
از
حوریہ ملک
اس کے کشادہ سینے سے ٹکرانے پر اس نے فورا بوکھلاتے ہوئے اس کی جانب دیکھا جو اسی کی جانب مکمل طور پہ متوجہ تھا۔
اس کی نگاہوں کے ارتکاز پہ اس نے اپنے پیر مضبوطی سے سیڑھی پہ جماتے ہوئے کسمساتے ہوئے اس کی گرفت سے نکلنا چاہا تو اس نے بنا کسی ردوکد کے اسے اپنی گرفت سے آزاد کر دیا۔
“کہاں جا رہی ہیں؟” ایک ہاتھ پینٹ کی بائیں جیب میں گھساتے ہوئے اس نے بات برائے بات استفسار کیا تو وہ جو اس کے یکسر بدلے رویے پہ تھوڑی سی حیران ہوئی تھی اس کے مخاطب کرنے پہ چونک اٹھی۔
“ارسم چاچو سے ملنے۔” مختصر سا جواب دیتے ہوئے وہ اس کے سامنے سے ہٹنے کی منتظر تھی جبکہ وہ جو جانتا تھا کہ ارسم اور آئلہ اس کے بیسٹ فرینڈز سے ہیں ہنکارہ بھرتا اس کے پہلو میں سے گزرتا سیڑھیاں اترنے لگا۔
جبکہ وہ سر جھٹکتی ہوئی ارسم سے ملنے چل دی جو اوپر ٹیرس پہ اس کا ہی منتظر تھا۔
“حد ہے ارسم چاچو، اب کون سا بندہ اتنی سیڑھیاں چڑھنے کے بعد یہاں آپ کے ہاتھ کی بنی چائے پینے آئے؟” ٹیرس پہ رکھی کرسیوں میں سے ایک پر دھپ کی آواز کے ساتھ بیٹھتے ہوئے وہ خفگی سے گویا ہوئی تو عمارہ اور قندیل نے دبی دبی مسکان کے ساتھ اسے دیکھا۔
“مجھے بس تم اتنا بتاو کہ کیا ضروری ہے کہ تم میرے نام کے ساتھ چاچو لگائے بغیر مجھ سے بات کر سکتی ہو؟” ارسم نے جس انداز میں استفسار کیا وہ کھلکھلاتی ہوئی شرارت سے سر نفی میں ہلا گئی۔
“میں بہت باادب بچی ہوں، نام بلاتی اچھی لگوں گی کیا؟” اس نے دبی دبی مسکان کے ساتھ استفسار کیا تو وہ پرتاسف انداز میں اسے دیکھنے لگا۔
“اور ابھی تم یہ کہتی ہو کہ میں تمہارا بیسٹ فرینڈ ہوں۔” اس نے گویا اسے احساس دلانا چاہا کہ دوست کو چاچو نہیں کہتے۔
“تو چاچو کیا دوست نہیں ہوتے؟” اس نے آنکھیں پٹپٹاتے ہوئے جواباً سوال کیا تو وہ اس کی اس مصنوعی معصومیت پہ دانت کچکچا کے رہ گیا جبکہ باقی سب بہت دنوں کے بعد اسے یوں موڈ میں دیکھ کے مسکرا رہے تھے۔
“بالکل جب چاچو اچانک شوہر بن سکتا ہے تو چاچو دوست کیوں نہیں ہو سکتا؟” اچانک ہی اس کے پندرہ سالہ بھائی، شاہ زیب ملک جو کہ بورڈنگ میں ہوتا ہے کی اینٹری اور وہ بھی ان الفاظ کے ساتھ شہرے کو سر تا پا جھلسا سی گئی جبکہ باقی سب نے گویا فرمائشی قہقہہ لگایا۔
“مجھے تو آج تک سمجھ یہ نہیں آئی کہ یہ میرا بھائی ہے یا ضرغام چ۔۔۔۔” چڑتے ہوئے بولتی وہ ایک دم سے رکی اور پھر اپنے الفاظ کا گلا وہیں گھوٹتی ہوئی ان سب کی شرارتی نگاہوں کی زد سے بچنے کی ناکام کوشش کرتی نئے الفاظ مرتب کرنے لگی۔
“یا آپ سب کا چمچہ ہے۔” اس نے اُس کا نام لینے کی بجائے سب کا صیغہ استعمال کیا اور ارسم کے ہاتھوں بنی چائے کے سپ لینے لگی۔
“خبردار لڑکی جو ہمارے بچے پہ الزام لگانے کی کوشش کی۔” آئلہ جو کہ اسی کی ہم عمر تھی اس نے فوراً آگے بڑھ کے شاہ زیب کو ساتھ لگایا۔
“بالکل آج سے کچھ ماہ قبل تم ضرغام لالہ کی سب سے بڑی فین، چمچی، فورک، گلاس، پلیٹ سب کچھ تھی۔” قندیل نے بھی فورا شاہ زیب کی حمایت کی تو وہ اس کا چہرہ چار سو وولٹ کے بلب کی مانند چمکنے لگا جبکہ وہ قندیل کی یہ بات سن کے لحظے بھر کے لیے چپ رہ گئی۔
“بھئی ہم صیغہٴ ماضی کو فراموش کرتے ہوئے ابھی کی بات کرتے ہوئے بتا دیں کہ ہمیں اس وقت آپ کے ضرغام لالہ بالکل اچھے نہیں لگتے۔” اس کا چہرہ دیکھتے ہوئے ارسم نے ہمیشہ کی طرح فورا اس کا ساتھ دینا چاہا تو وہ مسکرا دی۔
“اس ناپسندیدگی کی کوئی خاص وجہ؟” عقب سے آتی نگاہ کی آواز پہ سب نے ایک ساتھ پلٹ کے اس کی جانب دیکھا جو ان ہی کی سمت آ رہی تھی۔
“یہ وجہ کیا کم ہے کہ وہ ہمیں وقت نہیں دیتے۔” ارسم نے سنبھلتے ہوئے جواب دیا جبکہ شہرے بہت توجہ کے ساتھ اسے آتے ہوئے دیکھ رہی تھی۔
“کیا نگاہ نے اپنی مرضی سے اپنے منگیتر سے رشتہ ختم کر کے ضرغام سے شادی کی تھی یا ضرغام نے زبردستی کی؟ اسے تکتے ہوئے اس کے دماغ میں یہ خیال آیا۔
“پھر تو مجھے بھی ان کو ناپسند کرنا چاہیے کیونکہ وقت تو وہ مجھے بھی نہیں دیتے۔” اس نے مسکرا کے کہتے ہوئے ان کی شرارت میں حصہ لیا تو سب ہی ہنس دیے۔
“آپ کے تو ناراض ہونے یا ناپسند کرنے کے لیے تو یہ ہی وجہ کافی ہے کہ انہوں نے آپ کے ہوتے ہوئے مجھ سے نکاح کر لیا۔” اس کے دماغ میں چھائے خیالات کی یورش اتنی زیادہ تھی کہ وہ نگاہ کی بات کے جواب میں خود کو یہ کہنے سے روک نہ سکی جبکہ اس کی ایسی غیرمتوقع بات پہ سب نے ہی ایک دم سے چونک کے اسے دیکھا تھا۔
جبکہ ارسم نے ماتھے کو ‘افف” والے انداز میں اپنے دائیں ہاتھ سے سہلاتے ہوئے اسے دیکھا جو کہ نگاہ کی جانب ہی متوجہ تھی جو اس کی بات سن کے ثانیے بھر کے لیے چپ سی ہو گئی تھی۔
“میں ضرور اس بات پہ ناراض ہوتی اگر جو وہ ضرغام اور تم شہرے نہ ہوتی۔” کچھ ہی لمحوں میں سنبھلتے ہوئے اس نے اس انداز میں جواب دیا کہ وہ الجھ سی گئی جبکہ نجانے کیوں اس بار ارسم مسکرا دیا۔
“ویسے ارسم چاچو یہ ٹی پارٹی کس خوشی میں تھی؟” شاہ زیب نے سب کے ایک ساتھ ہی چپ ہو جانے پہ اس آکورڈ سے موضوع کا رخ موڑنا چاہا۔
“تمہارے آنے کی خوشی میں۔” اس نے اسے چڑانے کو جواب دیا اور حسبِ توقع وہ چڑ بھی گیا۔
“جی بالکل اسی لیے مجھے خبر ہی نہیں تھی۔سچی بتائیں یہ شہری چٹوری کا پروگرام تھا نا؟” اس نے آنکھیں سکیڑتے ہوئے بہن کو دیکھا تو سبھی اس کے انداز پہ مسکرا دیے اور گفتگو میں حصہ لینے لگے کیونکہ موضوع بدل چکا تھا۔
لیکن اس کے باوجود ان سب کے درمیان بیٹھی ہوئی نگاہ اس لمحے کی یاد میں الجھنے لگی جو اسے ضرغام اور شہرے سے دونوں سے بیک وقت محبت میں مبتلا ہوئی تھی۔
ماضی:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نیند میں کروٹ لیتے ہوئے اس نے سر تکیے میں گھسیڑنا چاہا جب ایک عجیب سے احساس کے تحت اس نے پٹ نے آنکھیں کھولیں تو سامنے ہی وہ ملگجی سی زرکاری روشنی میں اس کی جانب پشت کیے پیلے رنگ کی ٹی شرٹ زیب تن کیے بیڈ سے پیر نیچے کو لٹکا کے بیٹھا کسی سے کال پہ مصروف تھا۔
“کیا میں تمہیں پاگل نظر آتا ہوں جو تمہاری اس بکواس پہ یقین کر لوں گا؟” اس کی دبی دبی آواز پہ اس کی نیند کا غلبہ مزید کم ہوا تو اس نے ایک نظر دیوار گیر گھڑی پہ ڈالی جہاں اس وقت صبح کے چار بج رہے تھے۔
وہ مزید حیران ہوئی کہ اس وقت وہ کس کے ساتھ کال پہ مصروف تھا۔
“سر!ہم سچ کہہ رہے ہیں کہ ہمیں خود خبر نہ ہو سکی کہ کس وقت وہ یہاں سے غائب ہوئے کیونکہ وہ تو ابھی صحیح سے چل بھی نہیں سکتے تھے۔” دوسری جانب موجود آفیسر نے اس کے تیور ملاحظہ کرتے ہوئے نرم لہجے میں کہتے ہوئے اسے ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی۔
“ضرغام اور نین کو اطلاع دی؟” اس کا اگلا سوال قدرے کمپوزڈ لہجے میں پوچھا گیا تھا لیکن جواب میں نجانے کیا گیا تھا جو وہ بھڑک اٹھا۔
“کیا مطلب ہے تمہاری اس بکواس کا؟ایک شخص جو بیماری کی حالت میں تھا وہ تم بارہ لوگوں کی سیکیورٹی کے باوجود بھاگ نکلا ہے اور تم لوگوں نے ہم میں سے کسی کو اطلاع دینا بھی گوارا نہیں سمجھا۔” اس کی آواز سے عیاں ہوتے اشتعال میں اسے نجانے کیوں تفکر کے رنگ زیادہ محسوس ہوئے تھے۔
وہ انگڑائی لیتی ہوئی سیدھی ہوئی اور نیم دراز ہوتے ہوئے بیڈ کراون سے سر ٹکاتی وہ پھر سے اسے دیکھنے لگی جو اس سے مکمل بے نیاز فون پہ مصروف تھا۔
“اپنی عقل سے پیدل ٹیم کو الرٹ کرو اور جلد از جلد اسے ڈھونڈو ورنہ تم لوگوں کی لاشوں کو ایسے ٹھکانے لگاوں گا کہ آنے والی نسلیں یاد رکھیں گی۔” اس کے لہجے کی برودت آبگینے کی ہتھیلیوں کو پسینے سے تر کر گئیں۔
“گدھے، الو کے پٹھے، فل ٹرینڈ ٹیم لے کر ایک بیمار بندے کی سیکیورٹی میں لگے ہوئے ہیں اور بندہ پھر بھی ان کی کسٹڈی سے بھاگ۔۔۔۔۔ایک منٹ۔۔۔۔” کال بند کرنے کے بعد وہ جھلستے ہوئے بڑبڑائے جا رہا تھا جب ایک دم سے وہ ٹھٹھک گیا۔
وہ جو دل میں عجیب سے احساسات لیے اس کی پشت کو تکتی اس کی خودکلامی کو سماعت کر رہی تھی اس کے ٹھٹھکنے پہ نیند کے خمار سے پُر آنکھیں لیے اسے دیکھنے لگی جو اب اپنے موبائل پہ ایک اور نمبر ملا رہا تھا۔
“تو ن۔۔۔۔۔” کال پک ہونے پہ اس نے کچھ کہنا چاہا لیکن غالباً دوسری جانب سے اس کی بات کاٹی گئی تھی تبھی وہ چپ ہو گیا تھا جبکہ دوسری جانب اس پہر اس کی کال دیکھ کے نیند میں مکمل غرق ضرغام اپنی نیند کے خراب ہونے پہ بھنا ہی گیا۔
“میریڈ ہونے کے باوجود تمہیں اتنی سینس نہیں ہے کہ رات کے کسی بھی پہر کسی میریڈ بندے کو ڈسٹرب نہیں کرتے۔” اُس نے اسے اسی کے انداز میں ٹوکنے کی کوشش کی کیونکہ سیدھی بات وہ سمجھتا نہیں تھا لیکن وہ اُلٹی بات بھی نہیں سمجھتا تھا اس کا اسے اندازہ نہ تھا۔
“ہاں بالکل جیسے میں یہ بات نہیں جانتا کہ رات کے بارہ بج رہے ہوں یا تین تجھے تیری بیویوں نے ویسے ہی منہ نہیں لگانا۔” دوسری جانب سے کیے گئے حملے کے جواب میں وہ ایسے تڑخ کے بولا کہ وہ جان گئی کہ دوسری جانب یقیناً اس کا وہی دوست ہو گا جسے وہ شام میں بھی ‘دو بیویوں’ کا طعنہ دے رہا تھا۔
“نین کو ہاسپٹل سے تو نے غائب کروایا ہے نا؟” اس سے پہلے دوسری جانب سے وہ مزید کچھ کہتا اپنے اندر کی کھدبد سے الجھتا وہ سنجیدگی سے گویا ہوا تو اس کی ایسی پہیلیوں بھری گفتگو پہ اب کے آبگینے کی ساری نیند اڑ چکی تھی۔
“میں کیسے غائب کروا سکتا ہوں؟وہ بھی اس صورت میں جب وہ تیری ٹیم کے انڈر سیکیور ہو؟” دوسری جانب اس کے اچانک سوال پہ پل بھر کے لیے بھی چونکے بغیر اس نے نارمل سے انداز میں جواب دیا تو اس کے اس انداز پہ وہ جل ہی تو گیا۔
“تیرے اس تجاہل عارفانہ پہ میرا دل چاہ رہا ہے کہ تم میرے سامنے ہوتے اور میں تیرے تھوبڑے کو اس قدر سُجاتا کہ شہری زندگی بھر تمہیں منہ لگانے سے کتراتی۔ زلیل انسان یہاں میں اپنی خوشگوار رات کو بھاڑ میں جھونک کے اُس کے لیے پریشان ہو رہا ہوں اور ادھر تم نے اسے غائب کروانے کے بعد ہمیں اطلاع دینے کی زحمت تک نہیں کی۔” وہ تو جیسے بھرا بیٹھا تھا تبھی اس کی بات سننے کے بعد وہ جو شروع ہوا تو قدرے بلند آواز میں بولتا وہ اس پل اپنے ساتھ کمرے میں آبگینے کی موجودگی کو فراموش کر بیٹھا تھا۔
“صبح کے چار بج رہے ہیں اس لیے خوشگوار رات والا طعنہ ہر گز نہ دو۔” اس ساری بات میں گویا اسے اسے صرف اسی بات سے انحراف ہوا تھا۔
جبکہ اس کے طنز کو بمشکل پیتے ہوئے اس نے ایک نظر گھڑی پہ ڈالی اور پھر قدرے مدہم لہجے میں گویا ہوا۔
“نگاہ کو بتایا تم نے؟”
اس کے سوال پہ دوسری جانب موجود ضرغام بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے ٹھٹھک گیا۔
“کیا تمہیں لگتا ہے کہ ایسی سچویشن میں یہ بتانا چاہیے؟” وہ جانتا تھا کہ یہ سوال ہونے کے باوجود سوال ہرگز نہ تھا تبھی خاموش رہا۔
“ابھی تم آرام سے نیند پوری کرو اپنی اور ٹینشن نہیں لو بس میرے لیے دعا کرو۔” اس کی خاموشی پہ وہ جمائی روکتے ہوئے گویا ہوا تو اس کے آخری الفاظ پہ رہبان کے دل کو کچھ ہوا۔
“تم بہت اچھے ہو ضرغام۔” اس کے ہونٹوں سے نجانے کیوں اور کیسے یہ الفاظ پھسل پڑے جو دوسری جانب ضرغام کو پل بھر کے لیے ششدر کر گئے جبکہ نیم دراز آبگینے بھی اس کے یکسر بدلے ہوئے لہجے پہ چونکی تھی۔
“لیکن بعض اوقات ضرورت سے زیادہ اچھائی ہمارے گلے کا پھندہ بن جاتی ہے جیسے تمہارے گلے کا پھندہ بن ہوئی ہے اور مزید بنے گی۔” ضرغام کی خاموشی پہ وہ مزید گویا ہوا تو اس نے گہری سانس خارج کرتے ہوئے گویا اندر کی گھٹن کو باہر نکلنے کا راستہ دیا۔
“اللّٰہ حافظ۔” بنا مزید کچھ کہے اس نے آہستگی سے کہہ کے کال بند کی تو اس نے ایک نظر موبائل کی سکرین پہ ڈال کے اسے واپس سائیڈ ٹیبل پہ رکھا اور پھر بازو کھول کے ہوا میں بلند کرتے ہوئے گویا خود کو ریلیکس کرنا چاہا ہو۔
اس کام سے فارغ ہونے کے بعد اس نے اپنا تکیہ درست کرتے ہوئے پلٹ کے دیکھا تو اسے جاگتے پا کے ہرگز حیران نہ ہوا کیونکہ کال کے دوران وہ اپنی پشت پہ جمی اس کی گہری نگاہوں کے ارتکاز کو جان چکا تھا۔
“کیا میں یہ جان کے خوش ہو سکتا ہوں کہ میری خود سے دوری کے باعث آپ کی نیند میں خلل پیدا ہوا ہے؟” اس کی نیند کے خمار سے گلابی ہوتی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے وہ اس کے پہلو میں دراز ہوا تو اس نے فوراً خود کو ایک انچ پرے کھسکایا۔
“آپ یہ جان کے شرمندہ ہوں کہ آپ کی آوازوں کی وجہ سے میری نیند خراب ہوئی ہے۔” اس کے جذبات کا جنازہ نکالتی وہ نماز کا وقت ہوتے دیکھ کے اٹھنے کو پرتولنے لگی جب اس نے سرعت سے اس کا ہاتھ پکڑ کے اسے اپنی طرف کھینچا۔
“چھوڑیں مجھے، نماز پڑھنی ہے مجھے۔” اسے خود کے گرد بازووں کی گرفت مضبوط کرتے دیکھ کے وہ بری طرح سے بوکھلائی لیکن وہ اثر لیے بغیر اس کو خود میں مقید کیے کروٹ بدل کے اس پہ جھکا۔
“شوہر کو نظرانداز کر کے نماز پڑھو گی تو اللّٰہ پاک ناراض ہوں گے۔” آنکھوں میں شرارت لیے وہ اس کی ٹھوڑی پہ جھکا تو اس کی جسارت پہ اس نے فوراً پلکیں موندیں۔
“یہ شوہر مجھ سے راضی نہیں ہو سکتا۔چھوڑیں مجھے۔” اس سے پہلے کہ وہ مزید کسی جسارت کا مرتکب ٹھہرتا وہ اس کے کندھوں پہ ہاتھ رکھتی پھر سے مزاحمت کرنے لگی۔
“منہ دکھائی نہیں لو گی؟” اس کی مزاحمت کو سہولت سے نظرانداز کیے وہ اب کے اس کے رخساروں پہ جھکا تو اس نے خفگی سے اسے دیکھا لیکن اچانک ہی اس کے ذہن میں اس کی گئی گفتگو گونجی تو اس کے سوال کا جواب دیے بنا اس نے اپنا سوال اس کے سامنے پیش کیا۔
“کون غائب ہوا ہے؟” وہ جو مدہوشی سے اس کی آنکھوں پہ جھکنے والا تھا اس کے سوال کو سن کے چونک گیا اور پھر گہری سانس خارج کرتے ہوئے اس کی پیشانی کو ہولے سے چوم کے سیدھا ہوا۔
“ہمارا دوست۔” اس کے مختصر سے جواب پہ اس نے چونک کے اسے دیکھا جس کے چہرے پہ اب نرم تاثر کی بجائے ایک دلگیر سا تاثر چھا چکا تھا۔
“وہ ہاسپٹل کیوں ہے؟ کیا ہوا اسے؟” وہ کبھی اس کے معاملات میں نہ پڑتی لیکن جو کچھ کرنے کا ارادہ وہ باندھ چکی تھی اس پہ عمل پیرا ہونے سے قبل وہ اسے یہ باور کروانا چاہتی تھی وہ اس کے ساتھ ‘خوش اور مطمئن’ ہے۔
“اُس سے اس کی محبت چھینی گئی ہے۔” قطعی غیرمتوقع جواب پہ اس نے کرنٹ کھا کے اس کے چہرے کو دیکھا جس پہ گئے دنوں کی ازیت چھائی ہوئی تھی۔
ماضی:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سیاہ جوگرز میں مقید ان پانچوں کے پیر جاگنگ ٹریک پہ دوڑتے ہوئے ایک دوسرے کو شکست دے رہے تھے جبکہ ہونٹوں پہ بکھرتی ہنسی ایک دوسرے کو جینے کا سبب دے رہی تھی۔
“تم لوگوں کو شرم نہیں آ رہی کہ میرے لڑکی ہونے کا لحاظ کر کے ہی اپنی سپیڈ آہستہ کر لو۔” ان سے چند قدم پیچھے رہ جانے والی نگاہ نے ان چاروں کو دیکھتے ہوئے ہانک لگائی تو چاروں نے پلٹ کے اس کی جانب دیکھا جو گرے جاگنگ سوٹ میں ملبوس اپنے گھٹنوں پہ دونوں ہاتھ جمائے قدرے جھک کے گہرے سانس لیتی ہوئی انہیں ہی تک رہی تھی۔
“ہم ضرور یہ لحاظ کرتے جو ہمیں زرا سا بھی شبہ ہوتا کہ تم واقعی لڑکیوں کی طرح نازک اندام ہو۔” ذوالنورین نے مسکرا کے کہتے ہوئے اسے چھیڑا تو اس کے نتھنے پھولنے لگے جبکہ باقی تینوں نے بمشکل اپنی مسکان ضبط کی۔
“نین!اپنے بھائی کو سمجھا لو۔” اس نے ضرغام کے بائیں جانب کھڑے ذوالقرنین میر کو مخاطب کیا جو بہت نرم نگاہوں سے اس کی جانب دیکھ رہا تھا۔
“ذونین!” اس کے کہنے پہ اس نے مسکراہٹ کو بمشکل ہونٹوں کے کناروں پہ دباتے ہوئے اس کے کہے کے مطابق اپنے ‘بھائی’ کو تنبیہہ کی۔
“ویسے اگر تمہارے اندر کی ‘لڑکی’ کو سکون مل گیا ہو تو ہم جاگنگ مکمل کر لیں، لڑکی صاحبہ؟” رہبان نے اسے دوبارہ سے منہ کھولتے دیکھ کے استفسار کیا تو اس کے الفاظ پہ ضرغام اور ذوالنورین کے قہقہے گونج اٹھے جبکہ ذوالقرنین نے قہقہے کا گلا گھونٹتے ہوئے فقط مسکرانے پہ اکتفا کیا۔
“تم پہنچو آج ذرا یونی، پورا دن اُس حرا کو تمہارے پیچھے نہ لگا کے رکھا تو پھر کہنا۔” وہ منتقمانہ انداز میں گویا ہوتی واپس سے ان کے ساتھ ٹریک پہ دوڑنے لگی۔
“یہ تمہارے منتقمانہ مزاج سے ہمیں حوصلہ رہتا ہے کہ تم لڑکی ہی ہو ورنہ جس طرح تمہارے والدِ محترم کو یہ خدشہ رہتا ہے نا کہ ہم چار لڑکوں کے ساتھ رہتے ہوئے تم لڑکیوں والے ناز و انداز بھولتی جا رہی ہو ویسے ہی ہمیں بھی یہ خطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔” اس کی دھمکی کو چٹکیوں میں اڑاتے ہوئے رہبان جس مسخرے پن سے گویا ہوا ان سب کے پیٹ میں ہنسی روکنے کی کوشش میں جیسے گولے سے بننے لگے تھے۔
“خدا کا واسطہ ہے اب یہ آخری چکر بنا کوئی بونگی چھوڑے پورا کرنے دو۔” ضرغام نے ان کی چونچ دوبارہ کھلنے سے قبل انہیں وارن کیا تو چار و ناچار وہ چپ ہوتے یہ آخری راونڈ مکمل کرنے لگے۔
اب کے بھاگتے دوڑتے قدموں کے ساتھ پارک میں لگے درختوں سے گرتے پتوں نے بے ساختہ اس دوستی کے تاحیات سلامت رہنے کی دعا کی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“ویسے نگاہ کے فرنٹ سیٹ پہ بیٹھنے کا ہمیں یہ فائدہ ضرور ہوا ہے کہ گاڑی ڈرائیو نہیں کرنی پڑتی۔” ذوالنورین نے ڈرائیو کرتے ذوالقرنین کو دیکھتے ہوئے شرارت سے کہا تو اس کی بات کا پسِ منظر سمجھتے ہوئے اس نے پلٹ کے ایک عدد گھوری سے اسے نوازا۔
“تم اگر ڈرائیو کرتے تو میں ہرگز فرنٹ سیٹ پہ نہ بیٹھتی۔” اس نے تنک کے جواب دیا۔
“اب کھلم کھلا تو اپنے جذبات کا اظہار نہ کرو ہمارا لڑکا عالمِ مدہوشی میں گاڑی کہیں دے مارے گا۔” رہبان نے اس کی بات کو ذوالقرنین کے مسکراتے چہرے کے ساتھ نتھنی کرتے ہوئے حملہ کیا تو وہ جھینپ سی گئی۔
“انتہائی کوئی بے شرم قسم کی مخلوق ہو تم دونوں۔” اس نے جھینپ مٹانے کو رہبان اور ذونین کو رگیدا۔
“ان دونوں کی چھوڑو یہ بتاو کہ انکل سے ہمارے ساتھ جانے کی پرمیشن لے لی ہے؟” ضرغام نے ان تینوں کی لفظی جنگ کو روکتے ہوئے موضوعِ گفتگو بدلا۔
“وہ تو میں نے اُسی دن لے لی تھی۔بھئی اب ہونے والی بھابھی کو دیکھنے کا چانس مل رہا ہے تو ضائع کیوں کریں بھلا۔” اس نے کھنکھتے لہجے میں کہتے ہوئے آخر میں شرارت سے گردن گھما کے اسے دیکھا جو اس ذکر پہ دلکشی سے مسکرا دیا۔
“یہ بات تو سچ ہے، یہ شاید پہلی شادی ہو گی جہاں ہم جیسے چار باراتی دلہا دلہن کو دیکھنے کی بجائے ہونے والی بھابھی دیکھنے جائیں گے۔” ذونین نے بھی مسکراتے ہوئے اس کی تائید کی تو وہ چاروں بھی مسکرا دیے۔
“ویسے ضرغام تمہیں شہرے کو اپنے جذبات سے آگاہ کر دینا چاہیے۔” یونی کی پارکنگ میں گاڑی روکتے ہوئے نین نے ضرغام کو مخاطب کیا تو وہ جو اپنی منی بوتل سے پانی پی رہا تھا اسے اچھو سا لگ گیا۔
“خدا کا خوف کرو نین، ابھی سے اسے سب بتا کے اس کا کم سن دماغ خراب کر دوں؟” سنبھلتے ہوئے اس نے رومال سے اپنے گیلے کپڑے صاف کرتے ہوئے اسے لتاڑا۔
“ارے دماغ ہرگز خراب نہیں ہو گا یہ اپنی نگاہ کو ہی دیکھ لو اس کا ہوا دماغ خراب حالانکہ یہ بھ۔۔۔۔۔۔” رہبان نے گاڑی سے اترتے ہوئے ایک بار پھر سے نگاہ پہ اٹیک کیا تو حسبِ توقع وہ اس پہ چڑھ دوڑی اور پھر اگلے دو منٹ میں وہ دونوں پارکنگ میں ادھر ادھر بھاگتے ہوئے ان تینوں کے ہونٹوں پہ مسکراہٹیں بکھیر رہے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک طویل سی ڈرائیو کے بعد ان کی گاڑی ‘ملک ہاوس’ کے دیوہیکل گیٹ کے سامنے رکی تو چوکیدار نے فورا گیٹ وا کیا۔
گیٹ کھلنے پہ گاڑی پتھریلی روش پہ پھسلتی ہوئی وسیع و عریض پورچ میں آن رکی جہاں پہلے ہی تین سے چار عدد گاڑیاں موجود تھیں۔
گاڑی پارک کرنے کے بعد وہ سب ایک ساتھ گاڑی سے باہر نکلے تو ضرغام نے وہاں آ کے ٹھہرتے ملازم سے سامان نکالنے کو کہا اور خود انہیں ساتھ لیے آگے بڑھا۔
“ضرغام!تمہارا گھر بہت پیارا ہے۔” نگاہ نے ایک ستائشی نظر لان پہ لگے رنگے برنگے پھولوں پہ ڈالی۔
اس کی بات کے جواب میں اس سے قبل کے ضرغام کچھ کہتا صدر دروازے کو کھول کے ایک دم سے تین لڑکیاں ایک ساتھ باہر نکلیں اور انہیں دیکھ کے پہلے تو ٹھٹھکیں لیکن پھر چیختی ہوئیں ایک ساتھ ان کی جانب لپکیں۔
“یا وحشت۔” ان تینوں کے ہی چیخنے اور بھاگنے پہ وہ چاروں بوکھلاتے ہوئے ضرغام کے پیچھے ہو گئے جبکہ ان کی اس حرکت پہ وہ دانت کچکچا کے رہ گیا۔
“ضرغام لالہ!”
“ضرغام چاچو!”
ایک ساتھ یہ آواز ان چاروں کے کانوں میں پڑی تو انہوں نے سنبھلتے ہوئے سامنے دیکھا جہاں وہ تینوں خوبصورت سی لڑکیاں خاصی محبت کے ساتھ ضرغام سے مل رہی تھیں۔
“سامنے آو ذلیلو۔” گردن ہولے سے گھما کے وہ زیرِ لب بولا تو وہ فورا اس کے ساتھ آ کھڑے ہوئے۔
“یہ چاروں میرے دوست ہیں۔یہ نگاہ ہیں، یہ ذوالقرنین، یہ ذوالنورین اور یہ رہبان ہے۔” اس نے چاروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ان کا تعارف کروایا تو وہ نگاہ سے ملنے لگیں۔
“یہ آئلہ اور آیانہ ہیں میری سسٹرز جبکہ یہ۔۔۔۔۔۔” سیاہ ٹراوزر شرٹ میں ملبوس کھلتی ہوئی کلی محسوس ہوتی شہرے کا تعارف کرواتے ہوئے وہ جانے کیوں اٹکا تھا۔
“یہ شہرے ہیں۔” ان چاروں کی استفہامیہ نگاہوں کے جواب میں اس نے سنبھلتے ہوئے تعارف مکمل کیا تو نوخیز کلی کی مانند کھلتی ہوئی شہرے اس تعارف پہ شاکی سی ہوئی۔
“ضرغام چاچو! ناٹ فیئر، آئلہ اور آیانہ آپ کی بہنیں ہیں تو میں کچھ نہیں لگتی۔” اس کی خفگی پہ جہاں ضرغام کی گردن میں گلٹی سی ابھر کے معدوم ہوئی وہیں وہ چاروں شاکڈ رہ گئے۔
“ضرغام چاچو!” ان چاروں نے بیک وقت ضرغام کی جانب دیکھا جو شہرے کو دیکھنے سے مکمل احتراز برت رہا تھا۔
اور پھر یکایک اس شاک کو جب شعور سے آگہی ملی تو یکلخت ہی ملک ہاوس کا وسیع و عریض لان جناتی قہقہوں سے گونج اٹھا۔
جاری ہے
