57.1K
55

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 43

“دل تیرے سنگ جوڑ لیا”
از
حوریہ ملک
Episode#43;

“نگاہ سے شادی؟” اس کی سماعتوں میں گونجتے یہ الفاظ اس کی دھڑکنوں کی رفتار مدہم کر گئے تھے۔

“مجھے کیا؟یہ سب تو ایک نا ایک دن ہونا ہی تھا۔مجھ سے رشتہ کون سا بحالتِ خوشی و رضامندی طے کیا تھا۔” اگلے ہی حقیقت کا ادراک ہوتے ہی اس نے سر ہولے سے جھٹکتے ہوئے ادھ کھلے دروازے سے اندر قدم رکھے۔
جبکہ دل میں ہنوز ایک نامحسوس سی کسک ہلکورے لے رہی تھی۔

توجہ سے قدم اٹھاتے ہوئے اس نے چائے اس کے نزدیک پڑی شیشے کی چھوٹی سی میز پہ دھری اور خود اپنا ڈریس لینے کے لیے وارڈروب کی جانب بڑھ گئی۔

“میڈم!” اس کے وارڈروب کی جانب بڑھتے قدم اس کی پکار پہ یکلخت تھمے تھے۔
اس نے بنا مڑے گردن گھما کے اس کی جانب دیکھا جو ہنوز موبائل پہ مصروف ایک ہاتھ سے اسے نزدیک آنے کا اشارہ کر رہا تھا۔
ماتھے پہ بل لیے اس نے ناسمجھی سے اس کی اس حرکت کو دیکھا اور پھر واپس رخ موڑتے ہوئے وارڈروب کی جانب بڑھ گئی۔

“ایک اچھی ٹیوٹر وہ ہوتی ہیں جو سٹوڈینٹ کے ایگزامینیشن سنٹر سے آنے کے بعد اس کے ایگزام کے متعلق کنسرن دکھائے۔” اس کی یہ بے پرواہی اس قدر کھِلی کہ اس نے فوری کال کاٹ کے اس کی جانب فقرہ اچھالا تھا۔
جو اس کی بات سن کر لب بھینچ کے رہ گئی تھی۔

“آپ کے پیپر کے متعلق میں پوچھ چکی ہوں۔” اس کے ایک دفعہ پھر سے ‘آپ’ اور ‘تم’ کے اس چکر سے الجھتے ذوالنورین نے گھور کے اس کی سبز دوپٹے میں چھپی نازک پشت کو دیکھا۔

“لیکن میں اس وقت زیادہ تفصیل سے بتانا چاہتا ہوں۔” اس کی پشت پہ نظریں جمائے وہ اپنے لفظوں پہ زور دیتے ہوئے بولا تو اپنے کپڑے نکالتی زحلے کے ہاتھ اس کے الفاظ پہ ٹھٹھکے لیکن اگلے ہی پل اس نے سیاہ رنگ کا لباس بڑی سرعت سے اپنی طرف کھینچا۔

“مجھے چینج کرنے کے بعد اماں کی طرف جانا ہے۔ان کی نیند کا وقت ہو چکا ہے اور پھر بابا سے بات بھی کرنی ہے۔” اس کی جانب دیکھنے سے قطعی گریز کرتے ہوئے اس نے سنجیدگی سے اس کے گوش اپنے اعتراضات گزارتے ہوئے وارڈورب کا کھلا پٹ بند کیا۔

“اماں کے بیٹے کو اگنور کر کے اماں کے پاس جائیں گی تو انہیں نیند نہیں آئے گی اور جہاں تک بابا کی بات ہے تو انہیں بھی یقیناً یہ بات پسند نہیں آئے گی کہ اُن کے داماد کو اگنور کر کے انہیں ٹائم دیا جائے۔” اس کی خود سے خائف جھکی نگاہوں کو گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے اس نے ذومعنی انداز میں کہا تو اس نے ٹھٹھک کے اس کی جانب دیکھا۔
جو بڑی گہری نگاہوں سے اسی کی جانب متوجہ تھا، اس کی نظروں کی لپک سے خائف وہ واپس پلکیں جھپکا گئی تھی۔

“بابا کو بالکل برا نہیں لگے گا کیونکہ بابا یہ حقیقت جانتے ہیں کہ میرا آپ سے یا اس گھر سے ہمیشہ کا کوئی تعلق نہیں ہے اور نا آپ اس رشتے کے پابند ہیں۔” دل پہ اس کے نئے نئے الفاظ کی چوٹ تھی جو لفظ لفظ میں تلخی ٹپک رہی تھی۔
اسے ٹکڑا توڑ تلخ جواب دینے کے بعد وہ تیزی سے واشروم کی جانب بڑھ گئی۔

“یہ عورت مجھے ایک دن ساری مصلحتیں بھاڑ میں جھونک کر انہیں یہ اچھے سے باور کروانے پہ مجبور کر کے ہی چھوڑے گی کہ اِن کا اس گھر سے اور مجھ سے درحقیقت کیا اور کس قدر مضبوط رشتہ ہے۔” واشروم کے بند دروازے کو سرد نگاہوں سے گھورتے ہوئے وہ سلگتے ہوئے لہجے میں بڑبڑایا اور اس کا انتظار کرتے ہوئے چائے کی ٹھنڈی پیالی کو منہ لگا لیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“نگاہ کب جا رہی ہے؟” اسد صاحب کے پرسنل سٹڈی روم کی جانب بڑھتے ہوئے اس کے قدم ان کی سنجیدہ آواز پہ تھم گئے۔
“کل ہی لیکن بظاہر وہ دیکھنے والوں کے لیے یہیں ہو گی۔کیونکہ ولید انکل ابھی ہاسپٹل ہی ہیں۔ہمیں ہر قدم بڑی ہوشیاری سے اور سوچ سمجھ کے اٹھانا ہو گا۔” ضرغام ملک کی ہر قسم کے تاثرات سے عاری سرد آواز پہ اس کا رواں رواں چونک اٹھا۔

“نگاہ کہاں جا رہی ہے؟” اس کا دل بے ساختہ دھک دھک کرنے لگا تھا۔

“کہیں نگاہ کو ڈائیورس۔۔۔۔۔؟” وہ ان کی ڈائیورس سے متعلق مکمل طور پر بے خبر تھی کیونکہ ضرغام اور نگاہ سے اس دن کی تلخ کلامی کے بعد وہ اتنا عرصہ ان سے کیا گھر میں سبھی سے ہمکلام نہ ہوئی تھی۔

“حالات کا تقاضا بھی فی الحال یہی ہے کہ نگاہ اور نین کا نکاح ہاسپٹل میں ہی کر دیا جائے۔” اسد صاحب کی پروقار و بارعب آواز پر اسے پورے ‘ملک ہاوس’ کی چھت اپنے سر پر ٹوٹتی محسوس ہوئی تھی۔
“نگاہ اور ن۔۔۔۔” اس کے لب ہولے سے پھڑپھڑائے تھے جبکہ دل اس وقت شدید گھٹن کا شکار ہونے لگا تھا۔
“نکاح کا ہونا بے حد ضروری ہے کیونکہ جب تک نگاہ اور نین کا رشتہ واضح نہیں ہو جاتا وہ لوگ نگاہ اور تمہارے سابقہ تعلق کو اچھال سکتے ہیں۔” انہوں نے اسی سنجیدگی و رسانیت سے مزید کہا تو اس نے لڑکھڑاتے قدموں کو سہارا دینے کے لیے بے اختیار دیوار کا سہارا لیا تھا۔
آنسووں کی بے ترتیب قطاریں اس کی سنہری آنکھوں سے بہتی اس کے گلابی رخساروں کو بھگوئے جا رہی تھیں۔
سٹڈی روم بیسمنٹ کی طرف تھا اس لیے اس طرف اس وقت کوئی بھی نہ تھا جو اس کی حالتِ زار کو دیکھ پاتا۔

“ٹھیک کہہ رہے ہیں آپ۔وہ لوگ اس وقت شکست کے احساس سے اس قدر بِلبلا رہے ہیں کہ کہیں نہ کہیں سے ہماری کوئی کمزوری تلاشنے کی کوشش میں ہیں۔” ایک اجنبی مگر خوبصورت آواز گونجی تو اسے ادراک ہوا کہ اس وقت سٹڈی میں اسد صاحب اور ضرغام کے علاوہ کوئی اور تیسرا بھی موجود تھا۔

“کچھ سال پہلے وہ اپنی کوشش میں اس قدر کامیاب ہوئے تھے کہ ہم پانچوں سے ہمارے مستقبل کے خوابوں سمیت محبت کا احساس بھی چھین لیا تھا مگر اس بار ان کی یہ کوشش ہرگز کامیاب نہیں ہو گی۔” ضرغام کی گونجنے والی بھاری آواز میں اس سمے گزرے لمحوں کی تلخیاں بھی سمٹ آئی تھیں۔

“تم آج رات کو نگاہ کو لے کر نکل جانا یہاں گھر میں سب کو میں سنبھال لوں گا۔” اسد صاحب کی سنجیدہ آواز پہ وہ مزید اپنے پیروں پہ کھڑی نہ رہ سکی تو وہیں دیوار کے ساتھ ٹیک لگاتی نیچے کی طرف بیٹھتی چلی گئی۔

“اور شہرے؟” اچانک ضرغام کے اس مختصر سوال پہ وہاں دیوار کے ساتھ لٹی پٹی حالت میں بیٹھی شہرے کے دل کی دھڑکن تھمی تھی۔

“کیا تم نہیں چاہتے کہ اب شہرے کو اس محبت کا یقین دلاو جو محبت سالوں پہلے کسی کی سازشوں کی نذر ہو گئی تھی، وہ محبت جسے تمہیں خود سلانا پڑا، وہ محبت جو تمہاری ہر شے سے لپٹی ہوئی ہے، وہ محبت جو۔۔۔۔۔۔۔۔۔” جواب اسد ملک کی بجائے اسی خوبصورت اجنبی آواز میں آیا تھا۔
مگر پھر اسد صاحب کی آواز پہ وہ آواز بند ہو گئی تھی، یقیناً اسد صاحب سائیڈ پہ ہوئے تھے تبھی اس تیسرے شخص نے زبان کھولی تھی۔
لیکن اس سب سے بے نیاز شہرے جو اس بند کمرے میں ہونے والے انکشافات پر بے حال ہوئی بیٹھی تھی۔
اس اجنبی شخص کے ہونٹوں سے نکلنے والے اِن دھماکہ خیز الفاظ کی تاب نہ لاتے ہوئے وہیں دیوار کے پاس ڈھیر ہو گئی تھی۔

“شہرے کو بہت نرمی سے ڈیل کرنا ضرغام۔اسے پہلے ہی بہت سارے حادثات نے اس کی فطرت و طبیعت کے برعکس ایک نئے روپ میں ڈھال دیا ہے۔اب یہ آخری وار بہت کڑا ہے اس لیے صبرو تحمل کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔” سارا پروگرام اسے اچھے سے سمجھانے کے بعد انہوں نے اسے رسان بھری نرمی سے تلقین کی تو اس نے سر ہولے سے اثبات میں ہلایا۔
اور پھر رہبان کے ہمراہ ان کی معیت میں دروازہ کھولتے ہوئے سٹڈی روم سے باہر قدم رکھا تو ان تینوں نفوس کے قدم ایک ساتھ گویا زمین نے جھکڑ لیے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گیلے بال ٹاول میں لپیٹے وہ واشروم سے نکلی تو کمرہ خالی تھا۔
اسے زیادہ سوچنا نا پڑا وہ یقیناً اپنی وہیل چیئر پہ ساتھ والے کمرے میں موجود کلثوم میر کے پاس گیا ہو گا۔
اس موقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے اس نے جلدی سے قدم ڈریسنگ مرر کی جانب بڑھائے اور ڈریسنگ کے دراز کو کھولتے اس میں سے رکھا چوڑیوں کا ڈبہ نکالا۔
کلائیوں میں موجود سبز چوڑیاں نکالنے کے بعد اس نے ڈبے سے سیاہ چوڑیاں نکالی اور کلائیوں کی زینت بنانے لگی۔
روزِ اول کی مانند اس کا سامان اس کی ڈریسنگ ٹیبل پہ سجانے کی بجائے اس نے یونہی ایک دراز میں چھپا رکھا تھا لیکن کلثوم میر کے پاس جانے سے قبل وہ ہمیشہ کی طرح ایک اچھی بہو کی طرح مکمل تیار ہوا کرتی تھی۔

ہاتھوں میں چوڑیاں پہننے کے بعد اس نے گلے میں پہنی چین کا موتی سیدھا کرتے ہوئے بالکل درمیان میں کیا اور پھر اپنے سر پہ بندھے ٹاول کی جانب ہاتھ بڑھایا تھا۔

“ویسے اس ڈریس کی فٹنگ کچھ زیادہ نہیں ہے؟” ٹاول نکالنے کے بعد وہ بال سارے ایک سائیڈ پہ پھینکے بالوں کو ٹاول سے رگڑ رہی تھی جب عقب سے آتی خوبصورت مانوس سی مردانہ آواز پہ ٹاول اس کے ہاتھوں سے چھوٹ کے نیچے کارپٹ پہ جا گرا۔
اس نے پھٹی پھٹی نگاہوں سے سامنے شیشے کی جانب دیکھا جہاں وہ نجانے کب آ کے بیڈ پہ نیم دراز بڑی توجہ سے اس کی جانب متوجہ نظر آ رہا تھا جبکہ اس کی وہیل چیئر بیڈ کی پائتنی کی جانب پڑی تھی۔

“آپ نے میری بات کا جواب نہیں دیا۔” اس کی شاکڈ سی اس خاموشی پہ محظوظ ہوتے ہوئے اس نے اپنا سوال دہرایا تو وہ گڑبڑاتے ہوئے ہوش میں آئی تھی۔
اور فوراً بالوں کو ایک جھٹکے سے پیچھے کی جانب اچھالتے ہوئے اپنا دوپٹہ درست کرنا چاہا لیکن گلے پر ہاتھ مارنے پر دوپٹے کی غیر موجودگی اسے مزید بوکھلا گئی تھی۔

اس نے فوراً پلٹ کر بیڈ کی جانب دیکھا مگر دوپٹہ وہاں بھی موجود نہ تھا مگر۔۔۔۔
دوپٹے کی تلاش میں نظریں دوڑاتے جب نظر بھٹکتی ہوئی اس کی نگاہوں سے ٹکرائی تو جسم کا سارا خون جیسے چہرے پہ آن اکٹھا ہوا تھا۔
کیونکہ وہ آنکھوں میں ڈھیروں جذبات لیے بڑی بے شرمی و بے باکی کے ساتھ اس کا جائزہ لیتا اس کو سر تا پا شرم و حیا کے رنگوں سے دہکا سا گیا۔
اس نے بے ساختہ کمر پہ بکھرے بال اٹھا کے اپنے سینے پر بکھیرے کیونکہ سیاہ فراک کا گول گہرا ہونے کے باعث اس کی نگاہوں کی بے باکی کو جٙلا بخش رہا تھا۔

“آ۔۔میرا دوپٹہ کہاں ہے؟” سینے پہ بکھیرے بالوں پر ایک ہاتھ رکھے وہ مدہم سی نروس آواز میں گویا ہوئی تھی۔

“یہ۔” بڑے پرسکون انداز میں اس نے اپنے وجود تلے دبے شیفون کے سیاہ دوپٹے کی جانب اشارہ کیا تو زحلے حیرانگی سے اسے دیکھتی رہ گئی۔
جو اس کا دوپٹہ آدھے سے زیادہ اپنی کمر کے نیچے دبائے بڑی بے باک نگاہوں سے اسے اپنے حصار میں لیے ہوئے تھا۔

“ادھر دیں مجھے۔” اپنے دل کی بگڑتی حالت سے گھبراتے ہوئے اس نے اشارہ کیا۔
“سوری میڈم!میں ٹھہرا معذور بندہ۔آپ کی مدد کرنے سے قاصر ہوں۔آپ خود آ کے اپنا دوپٹہ لے لیجیے۔” دوسری جانب اس کے بڑی معصومیت سے یوں پہلو بچانے پر زحلے کے پہلے سے ہی بڑھکتے سلگتے دل کو مزید کھولن ہوئی تبھی وہ تن فن کرتی آگے بڑھی اور اس سے چند قدموں کے فاصلے پر ٹھہرتی دوپٹے کی جانب ہاتھ بڑھا گئی۔

لیکن اگلے ہی لمحے اسی بڑھے ہوئے ہاتھ پہ اس کے مضبوط ہاتھ کی گرفت پر اس نے بے یقینی و حیرت سے اسے دیکھا جو اسے حیران ہونے کی بھی مہلت دیے بنا اپنی جانب کھینچ چکا تھا۔

“آہہہہ!” ایک مدہم سی چیخ بے ساختہ اس کے خوبصورت ہونٹوں سے نکلی جو اس کے کشادہ سینے پر گرنے کے باعث تھم سی گئی تھی۔

“یہ کیا بدتمیزی ہے؟” اس کے وجود سے ٹکراتے ہی جب اس کے وجود کے گرم لمس سے اس کے ٹھنڈے وجود کو گرماہٹ کا احساس ہوا تو وہ سرعت سے سر اس کے سینے سے اٹھاتی تڑپی تھی۔

“میں ڈریس کی فٹنگ زرا نزدیک سے چیک کرنا چاہتا تھا۔” اس کے وجود کو گہری نگاہوں کی زد میں لیے اس کے ذومعنی الفاظ زحلے کے وجود کو کپکپا سے گئے۔

“چھوڑو مجھے۔مجھ سے ایسی بدتمیزی نہیں کر سکتے تم۔” اس کے بازو کی گرفت اپنے گرد محسوس کرتی وہ مچلتے ہوئے وہ دبے دبے لہجے میں چلائی تھی۔
جس کے جواب میں اس نے بڑی سرعت سے اس کی گردن میں ڈولتے ہوئے موتی پہ اپنے لب رکھتے ہوئے اسے بڑے اچھے سے احساس دلایا کہ وہ اس سے ایسی کیا ہر طرح کی ‘بدتمیزی’ کر سکتا ہے۔
جبکہ اس کی اس گستاخی پہ زحلے نے اپنی مدغم ہوتی دھڑکنوں کے ساتھ بمشکل خود پہ قابو پایا۔

“جواب تو میں دے چکا ہوں لیکن پھر بھی پوچھنا چاہتا ہوں کہ ایسی بدتمیزی نہ کرنے کی قدغن کیوں؟” اس کے حیا و غصے کی ملی جلی کیفیت سے سرخ پڑتے چہرے کو تکتے اس نے سوال کیا۔
“میں تمہاری ٹیچر ہوں۔مجھ سے دور رہو پلیز۔” اتنے دنوں بعد اسے یوں ایک دفعہ پھر سے پٹڑی سے اترا دیکھ کر اس کے حواس گم یو رہے تھے۔
جبکہ دوسری جانب سیاہ لباس میں، نم بالوں کے ساتھ اسے بانہوں میں قید کیے وہ اس کے چہرے پہ اترتے رنگوں اور آنکھوں کی کپکپاہٹ دیکھتے وہ دل میں مچلتے جذبات سے خائف ہوا جا رہا تھا۔
اتنے مہینوں سے حد بندی کا شکار ہوا اس وقت اس کی قربت میں پاگل ہوا جا رہا تھا۔

“آپ یہ یاد رکھے ہوئے ہیں کہ آپ میری ٹیچر ہیں۔یہ کیوں نہیں یاد رکھتی کہ میں آپ کا شوہر بھی ہوں۔” بھاری مخمور لہجے میں کہتے ہوئے وہ ایک دفعہ پھر سے اس کی گردن کی جانب جھکا تو زحلے نے بڑی تیزی سے آنکھیں موندتے ہوئے اپنا چہرہ گھمانا چاہا۔
مگر وہ ایک ہاتھ اس کے نم بالوں میں اٹکائے دوسرا ہاتھ اس کی نم بالوں سے نم کمر پہ رکھے اس کی گردن میں چہرہ چھپائے اس کی مہک اپنی سانسوں میں اتارنے لگا۔

“تم۔۔پاگل ہو گئے کیا۔” اس کی سانسوں کی پرتپش لپک اس کے حواس چھین رہی تھی۔تبھی اس کے سینے پہ ہاتھ رکھتی وہ گھٹی گھٹی آواز میں بولی تھی۔
کیونکہ اس کے ہونٹوں کا بے باک لمس اس کے حرکات و سکنات کو ہپناٹائز کر رہا تھا۔

“بالکل۔ٹیچر کے روپ میں مجھے انسٹرکشنز دیتے ہوئے آپ پاگل پن کر جاتی ہیں تو جواباً مجھے آپ کو یہ باور کروانا ضروری ہو جاتا ہے کہ سٹوڈنٹ بالخصوص وہ جو شوہر بھی ہوں وہ پاگل پن کی حدوں کو چھوتے ہیں۔” گہرے لہجے میں بولتے ہوئے اس کے لب بڑی آزادی و حق کے ساتھ اس کی شفاف گردن پہ رقص کر رہے تھے جبکہ مضبوط ہاتھ کی انگلیاں نازک کمر پر سرسراتی اس کی سانسوں کے تال میل کو الجھا رہی تھیں۔

“دور ہٹو پلیز۔تم یہ سب اپنی دوسری بیوی کے ساتھ کر لینا۔مم۔۔میں تمہاری بیوی نہیں ہوں۔” جب دست و لب کی گستاخیاں مزید بڑھیں تو وہ بمشکل اس کے ہونٹوں پہ ہاتھ جماتی کانپتے ہوئے لہجے میں گویا ہوئی تو ذوالنورین نے الجھتے ہوئے اپنی مخمور نگاہیں اس کی جانب اٹھائیں جو اس کی قربت سے دہکتی ہوئی گہرے سانس لے رہی تھی۔

“کون سی دوسری بیوی؟” اس کا نازک ہاتھ ہنوز اس کے ہونٹوں پہ موجود تھا جب وہ بولا۔

“ج۔۔جس سے تم نے شادی کرنی ہے۔” وہ جلدی سے گویا ہوئی تھی۔

“اوکے فی الحال جس سے شادی کر رکھی ہے انہیں تو اپنے سارے رشتے ازبر کروا لوں۔” پرسکون انداز میں کہتے ہوئے اس نے کروٹ بدلتے ہوئے اسے تکیے پہ لٹایا اور خود کروٹ کے بل اس پہ سایہ فگن ہوا تھا۔
اس کی قربت و الفاظ سے خائف زحلے اس کی جسمانی حرکات و سکنات نا جان سکی جو بنا کسی سہارے کے کروٹ بدل چکا تھا۔

“ن۔۔نہیں۔یہ رشتہ ویسا رشتہ نہیں ہے ذوالن۔۔۔۔۔” اس کے ارادوں سے خوفزدہ اس نے اسے روکنا چاہا لیکن اس کی چاہت سے سرشار وہ بڑے گستاخانہ انداز میں اس کے ہونٹوں پہ جھکا اور اس کے مزاحمت کے لیے تیار سارے الفاظ بڑی بے باکی سے سمیٹتا چلا گیا۔
جبکہ اس کی شدت پہ کپکپاتی زحلے نے اس کے سینے پہ رکھے ہاتھوں کی مٹھیاں اس قدر شدت سے بھینچی کہ اس کی شرٹ سمیت اس کے سینے بال تک دبوچ گئی۔
اس کی سانسوں پہ قابض ذوالنورین اس کی اس معصوم حرکت پہ مزید بہکتا چلا گیا۔
قیامت خیز پرفسوں لمحات اس وقت کمرے کی خاموش فضا میں رقص کر رہے تھے جہاں ذوالنورین کے ہونٹوں کی بڑھتی گستاخی زحلے کی سانسوں کو مدہم کر رہی تھی۔
تبھی وہ اس کے ہونٹوں کو رہائی بخشتا اس کے سرخ رخساروں پہ جھکا تھا جب ساتھ والے کمرے میں موجود کلثوم میر اچانک کمرے میں داخل ہوئی تھیں۔

“دلہن!” ان کی اچانک آواز پہ کپکپاتی ہوئی بے حال پڑی زحلے کی آنکھیں پٹ سے کھلیں تو نگاہ سیدھی اس کے خوبصورت و وجیہہ چہرے سے ٹکرائی جو اس کے چہرے پہ جھکا مدہوش ہوا تھا۔

“دلہ۔۔۔۔” ذحلے کو پکارتے ہوئے اچانک ان کی نظر بیڈ کی جانب بڑھی تو زبان کو جیسے بریک لگی تھی۔تب تک زحلے خود کو سنبھالتی خود پہ جھکے ذوالنورین کو پوری قوت سے سائیڈ پہ دھکیلتی اس کے پہلو سے اٹھی تھی۔
جبکہ ذوالنورین جو کہ کلثوم میر کی آمد سے بے خبر تھا اس کے یوں خود کو جھٹکنے پر سرعت سے اس کی کلائی تھامتے ہوئے واپس اپنی طرف کھینچا تو زحلے کا دل چاہا کہیں شرم سے ڈوب مرے۔
یا پھر اس شخص کے رکھ کے دو مارے جو اس پل بے شرمی کے سارے ریکارڈ توڑنے کے چکروں میں تھا۔

“سوری!میں نے سوچا تم کام کر رہی ہو۔” اس آکورڈ سی سچویشن کو کلثوم میر کی معذرت خواہانہ نے توڑا تو ذوالنورین نے ایک جھٹکے سے گردن گھمائی تو مما کو دیکھ کے جھینپ سا گیا۔

“نن۔نہیں وہ میں بس۔۔۔وہ میں اپنا دوپٹہ لینے آئی تھی۔” کلثوم میر کی بات پہ شرم و حیا سے چور زحلے ان سے نظریں چراتی الفاظ ترتیب دینے کی کوشش کر رہی تھی جب پاس پڑے دوپٹے پہ نظر پڑی تو جلدی سے دوپٹہ کھینچ کے گلے میں ڈالا تھا۔

“اوکے۔تم ریلیکس ہو کے دوپٹہ لو۔میں اب نماز پڑھ لوں۔” اس کے خوبصورت چہرے پہ بکھرے رنگ، بیٹے کے چہرے پہ چھائے جذبات اور کمرے کی معنی خیز خاموشی کو دیکھتے ہوئے انہوں نے قدم واپس موڑتے ذومعنی انداز میں کہا اور اپنے کمرے کی جانب چل پڑیں۔

جبکہ وہ تیزی سے اس کے نزدیک سے اٹھتی ان کے پیچھے لپکنے کو تھی۔

“اپنا حلیہ سنوار لیں میڈم ورنہ آپ کا حلیہ مما کو بات چوڑیوں سے پوتے تک لے جانے پہ مجبور کر دے گا۔” عقب سے آنے والی اس کی معنی خیز آواز پہ اس کے قدم من من بھر کے ہو گئے۔
اسے اس لمحے ٹوٹ کے اس شخص سے حیا آئی تھی جس شخص کے متعلق وہ چند لمحے قبل شدید بدگمان تھی۔
مگر وہ شخص بڑی چالاکی سے اس کی بدگمانی کا کوئی سماں کیے بنا اسے اس حد تک بکھیر چکا تھا کہ اس کے روئیں روئیں سے اس کی خوشبو آ رہی تھی۔
ڈوپٹہ بڑی مضبوطی کے ساتھ اپنے گرد لپیٹتی وہ بنا اس کی جانب دیکھے کلثوم میر کے کمرے میں گھس گئی۔
جو اپنی ذہنی طور پہ نوے فیصد تندرست ہو چکی تھیں لیکن وہ تاحال ان کے ساتھ ہی مقیم تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“ویسے یہ پہلا نکاح ہو گا جو کہ ہو تو ہاسپٹل میں رہا ہے لیکن یہاں دولہا دلہن سمیت سبھی خاصے خوش اور مطمئن نظر آ رہے ہیں ماشاءاللّٰہ سے۔” گلاب جامن منہ میں رکھتے ہوئے رہبان نے صوفے پہ بیٹھے نین اور نگاہ کی جانب دیکھا تھا۔

“کیا مطلب ہے تمہارا؟” پانی کا گلاس خالی کر کے میز پر رکھتے ضر نے گھور کے اسے دیکھا۔
جاری ہے۔