57.1K
55

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 16

“دل تیرے سنگ جوڑ لیا”
از
حوریہ ملک

کمبل اس کے چہرے سے سرکاتے ہوئے اس نے نرم نگاہوں سے اس کا چہرہ دیکھا۔
جو لیمپ کی مدہم روشنی میں مٹے مٹے میک اپ کے ساتھ بہت دلکش لگ رہا تھا۔
بنا چینج کیے وہ اسی بھاری لباس، جیولری اور مٹے مٹے میک اپ کے ساتھ سوتی اپنے وجود کی خوبصورتی سمیت اس کے پریشان حال دل کو قدرے پرسکون کر گئی۔

یہ اس کی نگاہوں کی تپش تھی شاید کہ گہری نیند سوئی نگاہ کسمساتی ہوئی اسے چونکا گئی۔
پہلے اس کا دل چاہا کہ وہ اسے سونے دے لیکن پھر کچھ سوچ کے وہ دھیرے سے جھکا اور اس کی پیشانی پہ ڈھلکے ہوئے ٹیکے کو اتارتے ہوئے سرگوشی نما آواز میں اسے پکارا۔

“نگاہ!” اس کی سرگوشی اور ہاتھوں کی خاموش حرکت پہ محوِ استراحت نگاہ کی نیند میں خلل پڑا۔

“مجھے اندازہ نہیں تھا کہ نیند کی اس قدر رسیا ہیں آپ؟” اسے آنکھیں کھولتے دیکھ کے وہ نرم لہجے میں بولتا ہوا اس کے جھومر کی جانب متوجہ ہوا تو وہ جو قندیل اور مہوش بیگم کے گھنٹہ ڈیڑھ قبل جانے کے بعد سو گئی تھی اسے اچانک سامنے دیکھ کے حیران ہوئی۔

“آپ یہاں اس وقت؟” نیند سے بھری آنکھیں دیوار گیر گھڑی پہ ڈالتی وہ متعجب سی لیٹے سے اٹھ بیٹھی تو اس کے سوال پہ سائیڈ ٹیبل پہ اس کا ٹیکا اور جھومر رکھتا ضرغام بہت سکون سے اس کی جانب پلٹا۔

“مجھے اور کہاں جانا تھا نگاہ؟” سوال کے جواب میں کیے گئے سنجیدہ سوال پہ وہ چپ سی ہو گئی۔
نجانے کیوں اس کے دل کے نہاں خانوں میں یہ خیال آیا تھا کہ شاید آج کی رات وہ شہرے سے نکاح کی بدولت اس کے پاس نہیں آئے گا۔
مگر اس نے اس کی یہ غلط فہمی دور کر کے اسے کسی قدر حیران کر دیا تھا۔

“ویسے مجھے پتہ نہیں تھا کہ ڈریس لینے کے لیے آپ اتنا اس لیے مچل رہی تھی کہ پہن کے اسے سونا تھا آپ نے؟” وہ جس کے اندر اس قدر گھٹن تھی کہ سانسیں بھاری پڑ رہی تھیں وہ اس کے اندر چھپے دکھ کو کم کرنے کے لیے اس سے بہت ہلکے پھلکے انداز میں محوِ گفتگو ہوا تھا کیونکہ جو کچھ ہو چکا تھا وہ اس کے لیے ناقابلِ تلافی تھا۔

“ایسا کچھ نہیں تھا۔” اس کی شرارت پہ وہ ہلکا سا جھینپی اور اس کے بڑھتے ہاتھوں کو دیکھ کے وہ اس بار ہلکا سا پرے ہوئی اور اپنا گلوبند اتارنے لگی۔

“ش۔۔شہرے کہاں ہے؟” گلوبند اتار کے سائیڈ ٹیبل پہ رکھنے کے بہانے اس نے رخ موڑتے ہوئے بہت مدہم سے لہجے میں سوال کیا۔
اس کا یہ سوال اس لمحے ضرغام کو ایک زوردار چابک کی طرح محسوس ہوا تھا، اس کا دل چاہا وہ کہیں دور بہت دور جا کے چھپ جائے۔
مگر وائی رے قسمت وہ یہ نہیں کر سکتا تھا اس لیے خود کو سنبھالتے ہوئے اس نے آہستگی سے آگے بڑھ کے نگاہ کے کندھوں پہ اپنے ہاتھ جماتے ہوئے اس کا رخ اپنی جانب موڑا تو اس کے گہرے لمس اور مضبوط گرفت پہ نگاہ نے گھبرا کے اس کے گھمبیر تاثرات لیے چہرے کو دیکھا۔
اس کے چہرے کی گھمبیرتا اس کی دھڑکنوں کو منتشر کر گئی۔

“کیا یہ بہتر نہیں ہو گا کہ اس وقت آپ مجھ سے ہماری بات کریں۔” سنجیدگی سے کہتے ہوئے اس نے دایاں ہاتھ بڑھاتے ہوئے اس کے سمپل سے جوڑے میں لگی پنوں کو نکالنا چاہا تو اس قدر نزدیکی, اس کے الفاظ اور کمرے میں چھائی معنی خیز خاموشی نے کب سے دل میں عجیب سا دکھ اور خالی پن لیے بیٹھی نگاہ کو احساس دلایا کہ آج ان کی شبِ زفاف ہے اور سامنے موجود شاندار مرد اس کا شوہر ہے۔

“میں۔۔۔۔میں خود کر لوں گی۔” گھبرائے ہوئے لہجے میں کہتے ہوئے وہ سرعت سے اس کی گرفت سے نکلی تو اس کی اس حرکت پہ گہری سانس بھرتے ہوئے ضرغام نے سنجیدگی سے اسے دیکھا۔

“نگاہ میں آپ کے احساسات کی قدر کرتا ہوں اور یہ چیز میرے لیے قابلِ قدر اور احترام ہے کہ آپ نے اپنی زندگی کے انمول لمحات میں مجھے کسی اور کو سونپنے کی ہمت کی ہے لیکن خدارا مجھے نعوذبااللّٰہ فرشتہ مت سمجھیے گا اور مجھ سے میری برداشت اور صبر سے بڑھ کے امتحان مت لیجیے گا۔ میں یہ تسلیم کرتا ہوں اور سمجھتا بھی ہوں کہ اس وقت آپ کے لیے میری پیش رفت کو ایسی کیفیات کے ساتھ قبول کرنا مشکل ہے اسی لیے میں اس وقت آپ کو سپیس دے دیتا ہوں مگر یہ یاد رکھیے گا کہ یہ سپیس طویل ہرگز نہیں ہو گی۔” وہ جو بمشکل اس کی گرفت سے نکلتی کانپتے ہاتھوں کے ساتھ بالوں میں لگی پنیں اتار رہی تھی اس کی اس قدر واضح گفتگو پہ جہاں کی تہاں کھڑی رہ گئی۔
وہ نہیں جانتی تھی کہ وہ اتنی جلدی اس کی ایک جذباتی حرکت سے اس کے احساسات کو جانچ لے گا۔یہ سچ تھا کہ وہ اس لمحے واقعی سپیس چاہتی تھی کیونکہ تین گھنٹے قبل ہوا واقعہ اس کے اعصاب پہ اس قدر حاوی ہو رہا تھا کہ ضرغام سامنے ہو کے بھی سامنے محسوس نہ ہو رہا تھا، وہ اس کی موجودگی کو محسوس کر کے دلی سکون کے ساتھ اس رشتے میں رنگ بھرنا چاہتی تھی۔
اس کی خاموش کو محسوس کر کے وہ مزید بولا۔

“میں نہیں جانتا کہ آنے والا وقت کیسے حالات پیدا کرتا ہے لیکن اگر اللّٰہ نے مجھے اس آزمائش کے لیے چنا ہے تو میرے لیے دعا کریں کہ میں اس میں سرخرو ہوں باقی آپ ریلیکس رہیں اور چینج کر کے سو جائیں۔” اسی مخصوصی لب و لہجے میں کہتے ہوئے وہ وارڈروب کی جانب بڑھا اور اپنا نائٹ سوٹ نکالنے لگا۔
سوٹ نکالتے ہوئے اس کی ذہنی رو بھٹکی جب وہ شہرے کو سوات سے واپس گھر لایا تھا تو تب ابھی نکاح کی بات نہیں ہوئی تھی۔
وہ چینج کرنے کے لیے کمرے میں آیا تو وہاں کا منظر دیکھ کہ وہ چونک گیا تھا۔
کمرے کے عین وسط میں گرا گفٹ اور نیم کھلی کلوزٹ۔۔نیچے جھک کے جب اس نے گفٹ اٹھایا تو اس پہ لکھے شہرے کے نام کو دیکھ کے وہ پہلے چونکا اور پھر گہری سانس بھرتے ہوئے اس گفٹ کو ڈرا میں رکھ گیا۔
اس وقت دماغ اس قدر ابتری کا شکار تھا کہ وہ کھلی کلوزٹ کے متعلق فراموش کر گیا لیکن آج اس لمحے اس کے ذہن میں اچانک یہ سوال اٹھا کہ اس دن اس کی کلوزٹ کس نے کھلی چھوڑی تھی؟؟
چند لمحے سوچنے کے بعد وہ سر جھٹکتے ہوئے واشروم کی جانب بڑھ گیا۔
جبکہ ڈریسنگ مرر کے سامنے کھڑی نگاہ میک اپ ریموو کرتی ہوئی یاسیت سے اس رات کے متعلق سوچ رہی تھی جس کے بارے میں اس نے بہت خوش کن خواب بُنے تھے مگر خواب تھے کہ خشک پتوں کی مانند بکھرتے چلے گئے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس غیرمتوقع آواز پہ زحلے نے پلٹ کے دروازے کی جانب دیکھا تو وہاں کھڑے ابراہیم صاحب کو دیکھ کے اس کی سانسیں ٹوٹنے لگیں۔

“بابا!” وہ بمشکل ہمت کرتی آگے بڑھی جب معیز نے سرعت سے اس کی کلائی تھامی۔

“نہیں ہے تمہارا کوئی رشتہ ہمارے باپ سے اور ہم سے۔” اس کی کلائی تھام کے اسے فرش پہ دور دھکیلتے ہوئے وہ پھنکارا تو ابراہیم صاحب تڑپ کے اس کی جانب بڑھے۔

“معیز بکواس بند کرو اپنی، میری بیٹی ایسا کوئی کام نہیں کر سکتی جس سے میری عزت پہ حرف آئے۔” ان کے الفاظ پہ چور چور ہوئی زحلے کو جیسے نئے سرے سے سانسیں عطا ہوئی تھیں۔
اس نے فرش سے چہرہ اٹھا کہ متشکر مگر نم نگاہوں سے باپ کی جانب دیکھا جو اس کا خون آلود چہرہ دیکھ کے تڑپ اٹھے تھے۔

“آپ کی آنکھوں پہ اس کے لائے گئے پیسوں کی پٹی بندھی ہے لیکن ہم اتنے بیغیرت نہیں ہوئے کہ اس جیسی بے حیا کو گھر میں رہنے دیں۔آپ ابھی فیصلہ کریں کہ آپ کو اسے گھر رکھنا ہے یا ہم دونوں کی موت دیکھنی ہے۔” باپ کی بات سن کے معید آگے بڑھا اور بے حد سفاک اور کریہہ لہجے میں بولتے ہوئے زحلے اور ابراہیم صاحب دونوں کے رنگ فق کر گیا۔

“برائے مہربانی یہ میلو ڈرامہ کہیں باہر جا کے رچائیں اور نکلیں ہمارے گھر سے۔” شازمین میر اب گھر کے مردوں کے آنے سے پہلے انہیں گھر سے باہر کرنا چاہتی تھی۔
وہ بہت سکون کے ساتھ اپنے مہرے چلا رہی تھی لیکن کچھ دن قبل ہی اسے اطلاع ملی تھی کہ زحلے ابراہیم اس پیلس کےگڑھے مردے اکھاڑنے کی کوشش کر رہی ہے تبھی اس نے ترپ کا پتہ کھیلنے کا سوچا جس میں زحلے سے اس کی بے ایمانی کا بدلہ اس انداز میں لینے کا سوچا کہ ذوالنورین میر یہ سمجھے کہ وہ کسی کے کہے پہ یہ سب ڈرامہ کر رہی تھی۔
اور اپنے اس مقصد میں وہ بہت اچھے سے کامیاب رہی تھی۔

“کیوں نکلیں ہم اس گھر سے، اگر میری بیٹی یہاں کوئی غلط کام کر رہی تھی تو اس میں قصوروار صرف میری بیٹی کیوں آپ کا بیٹا کیوں نہیں؟” دل میں اٹھتے شدید درد پہ بمشکل قابو پاتے ابراہیم صاحب اچانک بلند آواز میں چلائے تو کب سے خاموش تماشائی بن کے زحلے کے خون آلود چہرے کو تکتے ذوالنورین میر سمیت سب نے چونک کے انہیں دیکھا۔
حالانکہ وہ نہیں جانتے تھے کہ زحلے کی جاب کی نوعیت کیا ہے مگر یہاں آتے ہی ملازماوں کی باتیں سن کے وہ جان گئے تھے کہ بیٹی کی دراصل نوکری کیا تھی؟
اس سب کے باوجود وہ سب کچھ دیکھ کے بھی یہ ماننے میں متامل تھے کہ ان کی بیٹی ایسا کریہہ فعل کر سکتی ہے۔

“اب اس بات کا کیا مطلب ہوا؟” شازمین میر ناگواری سے بولیں۔ان کے علاوہ میر پیلس کے بقیہ افراد بس دلچسپی سے یہ شو انجوائے کر رہے تھے بس وہی بول رہی تھیں۔

“اس بات کا بہت واضح مطلب ہے خاتون کہ جس طرح میری بیٹی کے متعلق ثبوت و شواہد اکٹھے کر کے اسے مجرم قرار دیتے ہوئے ہمیں مطلع کیا ہے اور میرے ‘غیرت مند’ بیٹے اسے سزا دینے کا سوچ رہے ہیں تو یہی سب آپ کے بیٹے کے ساتھ کیوں نہیں؟ اس لیے کہ وہ لڑکا ہے ان کے لیے کوئی سزا و جزا کا تصور ہی نہیں۔” درد تھا کہ جسم میں پھیلتا جا رہا تھا لیکن وہ بہت ہمت کے ساتھ بیٹوں اور باقی سب افراد کے سامنے ڈٹ کے کھڑے بیٹی کے لیے لڑ رہے تھے جو ہمت کھوتی اب واپس کارپٹ پہ دوزانو ہو کے بیٹھی بے جان چہرے کے ساتھ سبھی کو اجنبی نگاہوں سے تک رہی تھی۔

“میں اِن کا بیٹا نہیں ہوں اس لیے ڈائریکٹ مجھ سے بات کریں۔ کیا چاہتے ہیں آپ مجھ سے؟” بہت سپاٹ اور خشک لہجے میں آواز بلند کرتے ہوئے اس نے ابراہیم صاحب کو اپنی جانب متوجہ کیا تو انہوں نے گردن گھما کے اسے دیکھا جو بیڈ کراون سے ٹیک لگائے نیم دراز سپاٹ چہرے کے ساتھ ان کی جانب ہی متوجہ تھا۔

“مجھے اپنی بیٹی پہ یقین ہے کہ وہ کوئی غلط کام نہیں کر سکتی لیکن یہ معاشرہ چونکہ ایسے بہت سے غیرت مندوں سے بھرا ہے۔” انہوں نے وہاں موجود افراد کی جانب اشارہ کرتے ہوئے قدرے تھکے تھکے لہجے میں کہتے ہوئے کچھ ثانیے کا وقفہ لیا۔

“اس لیے اگر میری بیٹی اس غیرت مندی کے چکر میں دربدر ہوتی ہے تو تم بھی یہ گھر چھوڑو گے اور اگر تم یہ نہیں کرتے تو خدا کی قسم میں غریب اور بیمار ضرور ہوں لیکن یہاں میں تم لوگوں کے خاندان کے لیے اچھا ہرگز ثابت نہیں ہوں گا۔” ابراہیم صاحب کے الفاظ پہ زحلے کی خاموش آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ اسے احساس ہوا کہ والدین واقعی کس قدر انمول اثاثہ ہیں۔
جب ہر طرف سے ہر کوئی آپ کی عزت و جان کا دشمن بنا ہو تو یہ والدین کا وجود ہی ہوتا ہے جو آہنی دیوار کی مانند ان کی سازشوں کو روک دیتا ہے۔

“آپ کی بات بجا ہے لیکن اس کی بجائے میرے لیے بہتر سزا یہ ہے کہ مس ابراہیم سے میرا نکاح کر دیا جائے کیونکہ ہم ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں اور تبھی ہم سے یہ غلطیاں ہوئی ہیں۔” روبوٹک انداز میں بہت ہی غیرمتوقع طور پہ ذوالنورین کے کہے گئے الفاظ پہ وہاں موجود سبھی افراد پہ کمرے کی چھت ایک دھماکے ساتھ گویا گر پڑی تھی۔

وہ شاید پہلا شخص تھا جو یوں بیڈ پہ لیٹا ایک ادھیڑ عمر شخص سے اس کی بیٹی کو اس کے سر نیم سے مخاطب کر تا پسند کرنے کا اعتراف کرتے ہوئے نکاح کا پروزل دے رہا تھا۔

“یہ کیا کہہ رہے ہو تم؟” اس کا کیا گیا دھماکہ اس قدر غیرمتوقع تھا کہ سنبھلتے ہی شازمین میر اس کی جانب متوجہ ہوتیں تیز لہجے میں بولیں۔

“میرے معاملات سے دور رہیں، اتنی دیر سے آپ کو اس لیے کمرے میں برداشت کر رہا ہوں تو اس کی بھی کوئی ریزن ہے لیکن اس سے زیادہ کچھ کرنے کا سوچیے گا بھی مت۔” درشت اور اہانت آمیز لہجے میں بولتا ہوا وہ انہیں وہیں شٹ اپ کال دے گیا۔
وہ جانتی تھی کہ وہ اسے اس لیے برداشت کر رہا تھا کہ کل وہ اسے ایک ویڈیو دکھا چکی تھی جس میں زحلے اسے اپنے جال میں پھنسانے کا ذکر کر رہی تھی۔
یہ تب کی ہی ویڈیو تھی جب شازمین میر نے اسے کانٹریکٹ پیپر پہ سائن کرواتے ہوئے اسے اس کی ڈیوٹیس بتائی تھیں۔
لیکن ویڈیو کی ایڈیٹنگ ایسی ہوئی تھی کہ دیکھنے سننے والا فوری طور پہ یہی سمجھتا کہ زحلے ابراہیم یہاں صرف اور صرف ذوالنورین میر کو ٹریپ آئی تھی۔

“ہر گز نہیں، یہ نکاح کبھی نی۔۔۔۔۔۔” اس کے کیے گئے دھماکے سے سنبھلتا ہوا معیز بلند آواز میں انکاری ہوا جب ابراہیم صاحب کی سنجیدہ آواز گونجی۔

“کب کرنا ہے نکاح؟” یہ سوال پوچھتے ہوئے ابراہیم صاحب کے سینے میں درد کی تیز لہر اٹھی جسے بمشکل دباتے ہوئے انہوں نے نظریں نیچی کر کے کارپٹ پہ بیٹھی بیٹی کو دیکھا جو آنکھوں میں لاتعداد شکوے، بے تحاشا بے یقینی اور دکھ لیے انہیں تک رہی تھی۔

“ابھی۔” یک لفظی جواب پہ ابراہیم صاحب کی جانب زحلے کی خاموش آنکھوں سے آنسو نکلا اور خون آلود رخسار سے ہوتا اس کی گود میں جا گرا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“اماں سائیں!” طلال جو کہ کچھ دیر پہلے ہی حویلی پہنچا تھا وہ آج بہت دنوں کے بعد زنان خانے کی طرف آیا اور آتے ہی ساجدہ بیگم کو پکارنے لگا۔

“کیا بات ہے طلال بچے؟ کسے بلا رہے ہو؟” نسرین بیگم جو اپنے کمرے سے نکل رہی تھیں اسے دیکھ کے میٹھے لہجے میں بولیں۔

“اماں کہاں ہیں چچی سائیں؟” اس نے سنجیدگی سے استفسار کیا۔

“کہاں ہونا ہے بیچاری نے، جب سے آبگینے کا موا شوہر منہ پہ کالک مل کے گیا ہے تب سے ہی بیچاری کمرے کی ہو کے رہ گئی ہے۔” بظاہر ہمدردی جتاتے ہوئے انہوں نے اپنے اندر کا بغض بھی باہر نکالا۔
وہ فطرتاً بہت بری نہیں تھیں لیکن اتنی اچھی بھی نہیں تھیں، وہ دیورانی جٹھانی والے روایتی جلاپے سے مکمل مالا مال تھیں جس کی بدولت وہ اکثر جٹھانی سے زیادتی کر جاتی تھیں۔

ابھی بھی آبگینے کے نام پہ طلال کے چہرے کے عضلات تن سے گئے جبکہ بڑی بڑی روشن آنکھوں میں بھی سرد مہری چھا گئی۔
دونوں ہاتھوں کی مٹھیاں زور سے بھینچتے ہوئے وہ نسرین بیگم کو کوئی بھی جواب دیے بغیر ساجدہ بیگم کے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔

“السلام علیکم اماں سائیں!” کمرے میں داخل ہوتے ہی اس نے بلند آواز میں سلام کیا اور صوفے پہ بیٹھی ماں کے پاس براجمان ہوتا وہ ان سے ان کی خیریت دریافت کرنے لگا۔

“اماں سائیں!جس دن گردیزی ہاوس والے حویلی آئے تھے اس دن کی تصویریں ہیں یہاں کسی کے پاس؟” اس نے ان کی خیریت وغیرہ پوچھنے کے بعد اچانک ہی بہت سرسری سے انداز میں آبگینے اور رہبان کا تذکرہ کیے بغیر استفسار کیا۔
تو اس قدر اچانک سوال پہ وہ پہلے چونکیں اور پھر بولیں۔

“میرے موبائل میں ہیں شاید، زاہرہ نے بنائی تھیں۔” وہ مرجھائے سے لہجے میں بولیں کہ انہیں لگا شاید وہ تصویریں ڈیلیٹ کرنے والا تھا جبکہ وہ تو بس اب تصویریوں کے ذریعے بیٹی کا چہرہ دیکھا کرتی تھیں۔

جبکہ ان کی سوچوں کے برعکس وہ بہت توجہ کے ساتھ تصویریں دیکھتا ایک جگہ پہ رکا۔

“یہ کون ہے؟” اس نے ایک تصویر ان کے سامنے کی جس میں آبی کے دائیں بائیں دو خوبصورت لڑکیاں بیٹھی تھیں۔
چونکہ نکاح والے دن مردان اور زنان حصہ الگ الگ تھے اس لیے وہ لوگ ایک دوسرے کے خاندان سے متعارف نہ ہوئے تھے خاص طور پہ نوجوان نسل۔

“یہ رہبان کی بہن ہے آیت اور یہ اس کی پھپھو کی بیٹی ہے دریہ۔” انہوں نے جھجھکتے ہوئے تعارف کروایا کیا تو اس کی آنکھوں کی چمک بڑھ گئی۔
بہت خاموشی سے وہ تصویر اپنے نمبر پہ سینڈ کرنے کے بعد اس نے موبائل ان کی جانب بڑھا دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زبردست سی انگڑائی لیتے ہوئے اس نے کروٹ بدلی اور دونوں بازو پھیلا کے کچھ انچ کے فاصلے پہ سوئی اپنی شیرنی کو بازووں میں سمیٹ کے سینے سے لگایا۔

کل ضرغام کے نکاح کے بعد جب وہ گھر پہنچا تو اس سے تپی ہوئی آبگینے نے حملوں سے جو استقبال کیا تھا اس نے بمشکل اس کے حملوں کو اپنے بے باک استحقاق سے روکتے ہوئے خود میں بکھر جانے پہ مجبور کر دیا تھا۔
اور یہ شاید نہیں یقیناً اس کی ہی محبوبانہ شدتوں کا کمال تھا کہ وہ یوں بکھری ہوئی سی گہری نیند میں مگن اس کی بازووں میں سوئی پڑی تھی۔

“سوتے ہوئے زیادہ breath taking لگتی ہو مسز۔” اس کے ایک دوسرے میں پیوست گلابی ہونٹوں پہ ایک شریر سی نگاہ ڈالتے ہوئے اس نے اپنے ہونٹ اس کے بالائی لب کے درمیان بنے تل پہ رکھے اور پھر ہونٹ سرکتے ہوئے بالائی لب کو چھونے لگے۔

“اور یوں میرے رنگ میں رنگی تو حواسوں پہ چھا رہی ہیں۔” اس نے اپنی براون ٹی شرٹ جو اس وقت وہ زیب تن کیے ہوئے تھی اس کے گول گلے پہ انگلی پھیرتے ہوئے ایک دفعہ پھر سے سرگوشی کی تو اس کی انگلی کی سرسراہٹ، مخمور آنکھوں کی تپش اور لبوں کی بے باک گستاخیوں کے باعث وہ ہولے سے کسمسائی۔

اس کے کسمسانے پہ وہ اس سے قدرے فاصلے پہ ہوا اور مڑ کے سائیڈ ٹیبل کی دراز سے مخملیں کیس نکالا اور اسے کھول کے اس کے اندر سے بہت نفیس سی گھڑی نکالنے لگا۔
جب اس نے شادی کا سوچا تھا کہ ایسے کسی بھی تگفے کا اس کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا لیکن جب اس نے اس رسم کو ختم کرنے کا ارادہ بنایا تو تب اس نے بارات سے تین گھنٹے قبل جا کے یہ گھڑی پسند کی تھی جس کے خوبصورت ڈائل کے ایک طرف R اور دوسری جانب A اس طرح سے کنندہ تھا کہ ان میں ننھے ننھے ڈائمنڈز لگے ہوئے تھے۔
ان ڈائمنڈز کی چمک جب ڈائل پہ پڑتی تو دیکھنے والی آنکھ مبہوت رہ جاتی۔
سوئی ہوئی آبگینے کی نازک کلائی ہاتھ میں لیتے ہوئے وہ اس دیدہ زیب اور قیمتی گھڑی کو اس کے ہاتھ کی زینت بنانے لگا۔

“تاریخ میں لکھا جائے گا کہ ایک ایسا ایس پی بھی گزرا ہے جو اپنے سسرالیوں کو دن دیہاڑے تگنی کا ناچ نچا سکتا ہے لیکن اپنی بیوی کے زبانی اور عملی حملوں کے خوف سے اسے سوتے میں منہ دکھائی گفٹ کر رہا ہے۔” خفگی نما انداز میں بڑبڑاتے ہوئے اس نے اس کی نازک کلائی کو اپنے سامنے کیا تو بے ساختہ وہ اس کی کلائی کو چومنے لگا۔
یہ اس کے لمس کی شدت تھی یا اس کی قربت کا اعجاز کہ سوتی ہوئی آبگینے نے کسمساتے ہوئے اپنی مندی مندی آنکھیں کھول کے ماحول کا جائزہ لینا چاہا جب خود پہ جھکے رہبان کو دیکھ کے فطری طور پہ بوکھلا سی اٹھی۔

“آپ کیا کر رہے ہیں صبح صبح؟” اس نے کلائی اس کی گرفت سے آزاد کرواتے ہوئے گھبرائے سے لہجے میں استفسار کیا تو وہ جو اس کے وجود کی نرمیوں میں گم ہونے والا تھا اس کی آواز پہ اس کی جانب متوجہ ہوا۔

“وہی جو رات کو کر رہا تھا۔” اس قدر برجستہ مگر بے شرمی و بے باکی سے چور جواب پہ آبگینے کے کانوں سے دھواں نکلنے لگا۔
اس نے بڑی بے ساختگی میں خود کمبل کھینچتے ہوئے خود کو اس کی نگاہوں سے چھپانا چاہا۔

“میرا دل صبح صبح بے ایمان ہو چکا ہے مسز رہبان، میں اب اس پردے کی اجازت ہرگز نہیں دوں گا۔” کمفرٹر اس کے چہرے پہ پہنچنے سے قبل ہی اس نے ہاتھ میں دبوچتے ہوئے بھاری لہجے میں کہا تو وہ زچ سی ہو گئی۔

“آپ اس قدر بے شرم اور بے باک کیوں ہیں؟ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ پیر سائیں نے آپ کو ہمارے لیے چُن کیسے لیا؟” وہ جس کی زندگی حویلی میں بہت بے رنگ سی گزری تھی وہ اس کی شدتوں، بے باکیوں اور محبوبانہ شرارتوں اور باتوں سے بے تحاشا زچ ہو چکی تھی۔
اور اس کے زچ ہونے کی سب سے بڑی نشانی یہ تھی کہ وہ اس کے حق جتاتے انداز سے اس قدر گھبرا چکی تھی اس کے کہے پہ واپس ‘آپ’ پہ آ چکی تھی۔

“لاحولہ ولا قوت الا باللّٰہ! اب آپ کے پیر سائیں کے ساتھ تو بے شرم اور بے باک ہونے سے رہا جو انہیں اندازہ ہوتا کہ میں کیسا ہوں۔” اس نے جیسے شدید برا مانتے ہوئے کہا اور کمبل اس کے چہرے سے ہٹایا۔

“مجھے آپ کی ماما سے بات کرنی ہے۔” اس سے پہلے کہ وہ اس کے چہرے پہ جھکتا وہ قدرے تیز اور بلند آواز میں بولی تو وہ ٹھٹھکا اور یہی مہلت منتظر سی آبگینے کے لیے کافی تھی۔
وہ پھرتی سے اسے پرے ہٹا کے بیڈ سے نیچے اتری اور بنا لمحے کی دیری کیے واشروم کی جانب بھاگ گئی۔

“دھوکہ باز مجرموں کے لیے میرے پاس ناقابلِ برداشت سزائیں ہوتی ہیں مسز رہبان!” اسے واشروم میں گم ہوتے دیکھ کے اس اچانک کاروائی پہ سنبھلتے ہوئے رہبان نے ہانک لگائی تو واشروم کا دروازہ بند کرتی آبی کی سانسیں پل بھر کے لیے انتشار کا شکار ہوتیں واپس اعتدال پہ آئی تھیں۔
اسی لمحے اس کی نگاہیں اپنی کلائی پہ موجود گھڑی پہ پڑیں تو اس نے بے ساختہ واشروم کے بند دروازے کی جانب دیکھتے ہوئے گویا اس پار دیکھنا چاہا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“السلام علیکم!” ملک ہاوس میں معمول کی مانند اس وقت ناشتے کے لیے سب ڈائیننگ ہال میں جمع ہوئے تھے جب حسبِ معمول اس کی آواز ہال میں گونجی تو ڈائیننگ ہال میں قدم رکھتے ضرغام نے بے ساختہ نظر اٹھا کے اس کی جانب دیکھا جو سیاہ ٹراوزر کے ساتھ براون شارٹ پہنے کندھوں پہ بلیک شال اوڑھے، سنہری بالوں کو پونی میں جھکڑے وہ بے رنگ اور ستے ہوئے چہرے کے ساتھ داد بخش ملک کی جانب بڑھ رہی تھی۔

یہ وہ جانتی تھی کہ اس کے لیے کس قدر مشکل تھا واپس اس دہلیز کو پار کرنا لیکن اسے یہ کرنا تھا وہ جو ارادہ باندھ چکی تھی اس کے لیے اسے سب کا سامنا کرنا تھا کیونکہ یہ بات وہ بھی جانتی تھی کہ وہ ان سب سے چھپ نہیں سکتی تھی اس لیے اس نے ہمت جتا کے پہلا قدم بڑھایا تھا۔

“بیٹھو شہری بیٹے، ناشتہ کریں۔” ثمرین بیگم نے خوشدلی سے اسے گلے لگاتے ہوئے کہا تو اس نے ہولے سے نفی میں سر ہلایا۔
اس نے تاحال ضرغام کو نہیں دیکھا جو ابھی تک وہیں کھڑا اسی کی جانب متوجہ تھا۔

“نہیں، مجھے نگاہ چچی سے ملنا ہے۔” نفی میں سر ہلاتے ہوئے اس نے مدہم لہجے میں کہا۔
جبکہ اس کے ‘نگاہ چچی’ کہنے پہ جہاں سبھی افراد نے متعجب و افسوس کن انداز میں اس کی جانب دیکھا وہیں چند قدم دور کھڑے ضرغام کے اندر آگ سی دہکنے لگی۔

جاری ہے۔