No Download Link
Rate this Novel
Episode 45
“دل تیرے سنگ جوڑ لیا”
از
حوریہ ملک
Episode#45;
اس کی بوکھلاہٹ کو اطمینان سے ملاحظہ کرتے ہوئے اس نے بڑی سہولت کے ساتھ اس کے گود میں دھرے بائیں ہاتھ کو تھاما تو نگاہ کو جیسے کرنٹ سا لگا۔
اس نے بڑی بے ساختگی میں ہاتھ کو فوراً کھینچنا چاہا لیکن دوسری جانب فوری گرفت مضبوط کرتے اس کے ارادے کو ناکام بنا دیا گیا تھا۔
“نین پلیز۔۔۔۔” نئے نئے بندھے اِس رشتے کا اعجاز تھا یا دونوں کے دلوں میں پنپتی محبت کی تپش تھی۔ جو بھی تھا لیکن نگاہ اس لمحے اس کی نگاہوں کی گرمی سے پگھلتی جا رہی تھی۔
“اس قدر گھبرا کیوں رہی ہو؟” اس کے ہاتھ کو دائیں ہاتھ میں تھامے وہ بائیں ہاتھ کے انگوٹھے سے اس کی کلائی کی نبض کو ہولے سے دباتا اس کی دھڑکنیں سست کر رہا تھا۔
“مجھے ایسے دیکھو گے تو گھبراوں گی ہی ناں۔” نامحسوس انداز میں ہاتھ چھڑوانے کی کوشش کرتی وہ خائف سے لہجے میں بولی تو اس کی دلکش قہقہہ اگلے ہی پل کمرے کی فضا کو معطر کر گیا۔
جبکہ وہ جو اس کے دیکھنے سے خائف ہو رہی تھی۔اس کے اتنے عرصے بعد زندگی سے بھرپور قہقہے کو سن کر وہ بے خودی و سرشاری سے بنا پلک جھپکائے اس کے خوبرو چہرے کو تکے گئی۔
“میرے دیکھنے کی تو خیر ہے لیکن خدا کی قسم اگر تم مزید کچھ سیکنڈ انہی والہانہ نگاہوں سے مجھے تکتی رہی تو میں ضبط کھو بیٹھوں گا۔” اس کی نگاہوں کی محویت و وارفتگی محسوس کرتا وہ اپنی ہنسی بمشکل ضبط کرتا بھاری دلکش لہجہ میں بولا تو وہ فوراً گڑبڑاتی ہوئی اپنی نظریں جھکا گئی۔
“جب دل تمہارا اسیر ہوا تھا تو کبھی سوچا تک نہ تھا کہ یوں ایک دم سے جدائی درمیان میں آن پڑے گی۔” چند لمحوں کی خاموشی کے بعد وہ جو بولنا شروع ہوا تو بیتے دنوں کی اذیت سے نگاہ کے چہرے کا رنگ فوراً بدلا۔
اس نے بے ساختہ نظر اٹھا کے دیکھا جو اس کی بجائے اس کے ہاتھوں پہ نظریں جمائے اس کے بائیں ہاتھ کی تیسری انگلی میں موجود انگوٹھی کو گھما رہا تھا۔
“یہ جدائی اس قدر ظالم تھی کہ ہمارے بہت سے خوبصورت جذبات و احساسات تک کھا گئی لیکن اس کی اچھی بات یہ رہی کہ جو محبت ہمارے دل کے نہاں خانوں میں مقید تھی وہ اس کی رگیں اب ہمارے پورے وجود کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہیں۔” اس کے بھاری لہجے میں بیک وقت بہت سے احساسات و جذبات سانس لے رہے تھے۔
“اس سارے دورانیے میں جو کچھ تم نے فیس کیا ہے اس کا مداوا شاید میں کبھی نہ کر سکوں لیکن۔۔۔۔۔۔۔” وہ مزید بول رہا تھا جب اس نے اپنے ہاتھ اس کی گرفت سے چھڑوائے بغیر آگے بڑھ کے بہت نرمی سے اس کے کندھے کو اپنے ہونٹوں سے چھوا۔
“نین اور نگاہ کبھی ایک دوسرے سے الگ نہیں تھے، نا ہیں نا کبھی انشاءاللّٰہ ہوں گے۔جو ہوا وہ ہمارا نصیب تھا اور ہمارا نصیب اللّٰہ نے اس قدر شاندار لکھا ہے کہ ہزار صعوبتوں کے بعد بھی ہم آج ایک ہیں۔” بہت ہی خوبصورتی کے ساتھ اپنے قیمتی جذبات کا اظہار کرتی وہ اسے بیتے دنوں کی خلش سے نکالتی پرمسرت احساس میں مبتلا کر گئی۔
“تم میرے لیے بہت قیمتی ہو نگاہ۔” اس پل نگاہ کے الفاظ اور اس کی خوبصورت جسارت کے سامنے وہ واقعی اپنے الفاظ کو ہیچ سمجھ رہا تھا۔
تبھی محبت و عقیدت سے مغلوب ہوتے اس نے اسے بازووں میں بھرتے ہوئے پوری شدت کے ساتھ اپنے سینے سے لگاتے ہوئے خود میں بھینچا تو اس کی سانسیں گویا سینے میں اٹکنے لگیں۔
بے پناہ ہمت کا مظاہرہ کرتی وہ اپنی دلفریب جسارت سے اس کی تکلیف کم کرنے کی کوشش کرتی اس کے ایسے ردعمل کے لیے قطعی تیار نہ تھی تبھی اس کی مضبوط گرفت اسے حیا سے مغلوب کر گئی۔
“نین!میری سانس بند ہو جائے گی۔” دبے دبے لہجے میں کہتے ہوئے اس نے اس کے سینے میں چہرہ چھپایا تو اس کے لہجے کے مدھر پن نے اس کی مدہوشی کو مزید بڑھاوا دیا۔
“ابھی نہیں۔ابھی عشق کے امتحان مزید بھی ہیں۔ابھی مجھے تمہیں یہ بھی بتانا ہے کہ کب کب تمہاری جدائی کے احساس نے میری سانسوں کی رفتار کو کم کیا تھا۔” ہاتھوں کے ہالے میں اس کا ملائم چہرہ تھامے وہ بے خودی سے اس کے چہرے کے تمام نقوش کو اپنے نرم گرم لمس سے دہکاتا گھمبیر آواز میں بولا تو اس کی ہتھیلیوں میں پسینہ اترنے لگا۔
“مجھے پلیز تم کچھ مت بتاو۔” اسے اپنے ہونٹوں پہ جھکتا دیکھتی وہ مارے گھبراہٹ کے فوراً بولی تو اس کے ہونٹوں پہ بڑی معنی خیز سے مسکان پھیلی اور پھر اسی مسکان کے رنگ اس کے ہونٹوں پہ بھی بکھیرنے کے لیے وہ اس پہ جھکتا چلا گیا۔
جبکہ اس کی بانہوں میں مقید نگاہ اس کی اس گستاخانہ پیار بھری حرکت پہ بے ساختہ دونوں بازووں کا حصار اس کے گرد مضبوط کر گئی۔
“میں نہیں جانتا کہ انتقام یا بدلے کی جس راہ پہ ہم لوگ نکل چکے ہیں اس کی منزل کیا ہو گی۔مگر میں ان لمحوں کو تمہارے سنگ اس انداز میں امر کرنا چاہتا ہوں کہ تمہارے روم روم میں میری محبت اتر جائے۔” اس کی سانسوں کو روانی بخشنے کے بعد اس کی صراحی دار گردن کو اپنے لمس کی حدت سے مہکاتا وہ بھاری لہجے میں بولا تو نگاہ نے فوراً اس کی جانب دیکھا اور اپنی پاگل ہوتی دھڑکنوں کے ساتھ اس کے چہرے کو اپنے نازک ہاتھوں میں تھاما۔
“جو تم چاہتے ہو اس میں اللّٰہ تم سب کو کامیاب کرے گا۔لیکن اس سب میں تمہیں ہر حال میں میرے پاس لوٹ کے آنا ہے کہ میں نے تمہارے بغیر اتنے سال کاٹے ہیں۔مجھے آنے والی زندگی تمہارے ساتھ، ہمارے بچوں کے ساتھ تمہارے والدین کے ہمراہ گزارنی ہے۔” اس کی آنکھوں میں دیکھتی وہ ایک ان کہے وعدے میں باندھتی نئی امیدوں کے دیپ جلا گئی۔
اور انہی دیپوں کے سائے میں خود کو محسوس کرتا وہ کھل کے مسکرایا تھا۔
“آو پھر اس آنے والی نئی زندگی کی جانب ایک نیا قدم بڑھائیں۔” اسے اپنی بانہوں میں سمیٹے وہ گھمبیر لہجے میں کہتا ہوا بیڈ کی جانب بڑھا تو اس کی دھڑکنوں نے ایک دفعہ پھر سے شور مچانا شروع کر دیا۔
“لائٹ بند کرو۔جب تم مجھے ایسے دیکھتے ہو تو مجھے شرم آتی ہے اور پھر۔۔۔۔۔۔۔” اسے بیڈ پہ لٹانے کے بعد اس نے اس کی جانب دیکھا تو وہ فوراً خائف سے انداز میں بولنے لگی مگر اگلے ہی لمحے نین کی محبت بھری شدتیں اسے مکمل طور پر اپنے بس میں کرتی ہر شے سے بیگانہ ہونے پر مجبور کر گئیں۔
اسے بازووں میں سمیٹے وہ ہجر کی فصیلیں کاٹنے کے بعد ملنے والی اس وصل کی رات میں اس کے وجود کی نرمیوں کو محسوس کرتا ہوا اس کی رگ رگ میں اتر رہا تھا۔
جبکہ اس کی بازووں میں مقید نگاہ اس کی شدتوں سے مدہوش ہوتی اس کے بازووں پہ اپنی گرفت مضبوط کرتی اس خوبصورت قید میں سمٹتی چلی گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج بہت دنوں کے بعد وہ کچن کی طرف آئی تھی کیونکہ شازمین میر سے اس دن کی بدکلامی کے بعد وہ اسے موقع ہی نہیں دے رہا تھا کہ وہ کوئی اس طرح کا کام کرے۔
بلکہ وہ اسے اپنے کاموں اور اپنے پیپرز میں ہی مصروف کیے ہوئے تھا جبکہ کلثوم میر اور اس کے کھانے وغیرہ کی ذمہ داری ایک کل وقتی ملازمہ کے ذمہ تھی۔
لیکن آج صبح سے ہی شازمین میر،ان کے شوہر و دیور کے گھر سے نکلنے کے بعد وہ جب ڈرائیور کے سہارے و ہمراہ پیپر دینے کے لیے نکلا تو کلثوم میر کو بھی ساتھ لے لیا تاکہ ان کا بھی منتھلی چیک اپ کروایا جا سکے۔
اس وقت سہ پہر کے ساڑھے چار ہو رہے تھے لیکن اُن دونوں کی واپسی تاحال نہ ہوئی تھی اس لیے وہ اپنے لیے چائے بنانے کے لیے چار و ناچار نیچے چلی آئی۔
ساس پین لے کر اس میں دودھ ڈال کے ابھی برنر پہ رکھا ہی تھا کہ قدموں کی آہٹ پہ فوراً گردن گھمائی تو نگاہ خود کو تکتی سامعہ میر سے جا ٹکرائی۔
“آو، چائے پیو گی؟” اسے یوں کھڑے خود کو تکتے پا کے اس نے ازراہِ مروت استفسار کیا۔
کیونکہ اس کے یوں کھڑے ہونے اور اس پہ سونے پر سہاگہ کے خود کو تکتے پا کے وہ بے چین ہوئی تھی۔
“کبھی جو تم یوں ہی اتنی ہی آسانی سے پوچھو کہ ‘ذوالنورین میر’ لو گی؟” ٹھہرے ہوئے لہجے میں بولتی وہ سانس لینے کو رکی تو دودھ میں چینی ڈالتی زحلے نے سائیں سائیں کرتے دل و دماغ کے ساتھ پلٹ کے حیرت و بے یقینی سے اسے دیکھا۔
جو اسی طرح اس کو تکتی مزید بولی۔
“تو میں لمحے کی بھی دیر کیے بغیر تمہیں کہوں کہ ہاں، مجھے سارے کا سارا ‘ذوالنورین میر’ دے دو۔” اس کے لہجے میں پنپتی لاحاصل حسرتیں زحلے کے پورے وجود کو جلا کے راکھ کر رہی تھیں۔
وہ سمجھ نہ پا رہی تھی کہ ایک ڈرامے کی مانند بندھے اس ان چاہے رشتے میں آنے والے یہ انکشافات اسے اس قدر تکلیف کیوں دے رہے تھے؟
“ت۔۔تمہیں اگر ذوالنورین چاہیے تھا تو تم اسے مجھ تک پہنچنے سے قبل اپنے نام کر سکتی تھی۔” کافی ثانیوں کے بعد بمشکل خود کو اور بکھرتے دل کو سنبھالتی وہ سادہ سے لہجے میں بولتی دودھ میں بنتے ابال دیکھنے لگی۔
مگر آنکھوں میں امڈنے والی آنسووں کی دبیز تہہ اسے پریشان کر رہی تھی۔
“کیا اتنا ہی آسان تھا اُس شخص کو پا لینا جس نے آپ کی عزت پہ وار کیا ہو؟” یہ سوال اس سے پوچھتے اس کے دل نے ہزار بار اس پہ ملامت کی۔
لیکن وہ ضمیر کو بس یونہی مطمئن کیا کرتی تھی کہ اس نے اس کی عزت پہ وار کیا تھا تبھی وہ رخ موڑ گئی تھی۔
جبکہ اس کے اس کڑے سوال پہ وہ گہری سانس بھرتی اس کی سمت مڑی جو ہنوز کچن کی دہلیز پہ کھڑی تھی۔
“تو کیا جس نے عزت پہ وار کیا ہو اسے دوسروں سے مانگنا اس قدر آسان ہے؟” اس کا انتہائی سکون سے پوچھا گیا سوال سامعہ میر کا چہرہ بلبلاہٹ سے سیاہ کر گیا۔
اس کے چہرے کے بدلتے رنگوں کو باریک بینی سے پرکھتی ہوئی وہ مزید بولی۔
“ایسا تب ہوتا ہے سامعہ جب ایسا نہ ہوا ہو کیونکہ جو عزت پہ وار کر دے وہ چاہے دل کی اونچی مسند پہ کیوں نہ بیٹھا ہو اسے پیروں کی دھول بننے میں دیر نہیں لگتی۔ لیکن کیا ہے نا کہ یہ بات تم آج تک کسی سے بھی کہہ نہیں سکی ہو کہ جو پرچار تم یا تمہاری ماما کرتی ہیں کہ ذوالنورین نے تمہاری عزت پہ ہاتھ ڈالا ہے تو ایسا تو کچھ ہوا ہی نہیں ہے بلکہ اس کے کردار کی مضبوطی اور شخصیت کی خوبصورتی تمہارے دل پہ ضرور وار کر چکی ہے۔” وہ جو کبھی پلٹ کے بولی نہ تھی آج بولی تو پھر اسے ایسا آئینہ دکھا گئی جس میں دکھائی دیتی اپنی کریہہ صورت اسے اہانت و سبکی میں مبتلا کر گئی۔
“ایسا ک۔۔کچھ نہیں ہے جیسا تم ک۔۔کہہ رہی ہو۔” بہت مشکلوں سے اپنی دگرگوں ہوتی حالت کو سنبھالتی وہ اس کی نفی کرتی ہوئی بولی تو زحلے نے پلٹ کے آنچ مدہم کی اور کیبنٹ سے مگ نکالنے لگی۔
“ٹھیک کہہ رہی ہو گی تم۔ ویسے بھی اگر تمہیں ذوالنورین چاہیے تو اپنی ماما سے رابطہ کرو کیونکہ میرے اس کے نکاح میں ہونے سے لے کر نکاح ختم ہونے تک تمام زنجیریں انہی کے ہاتھ میں ہیں۔ایک واسطہ تم بھی ڈال لو کیا پتہ ایک زنجیر تمہارے لیے ہلا کے تمہیں بھی تمہاری چاہت دلا دیں۔” چائے مگ میں چھانتے ہوئے وہ تلخی سے بولتی ہوئی اپنی چائے لے کر وہاں سے چل دی۔
اپنی تلخی اور تکلیف میں وہ کچن سے کچھ فاصلے پہ وہیل چیئر پہ موجود ذوالنورین اور اس کے ساتھ کھڑی کلثوم میر کی آمد سے قطعی بے خبر تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“عجیب ڈگر پہ زندگی آ ٹھہری ہے۔جاب کے لیے نکلی تھی تو اپنی عزتِ نفس کا سودا کر کے جاب ملی۔اس جاب نے شخصیت و کردار کو تار تار کر کے ایک ان چاہے رشتے میں باندھ دیا۔اور اب جب میرے ذمہ لگے سارے کام مکمل ہونے والے ہیں، اس رشتے کو ختم کرنے کا وقت نزدیک آتا جا رہا ہے تو یہ ان چاہا رشتہ میرے احساسات کیوں بدل رہا ہے؟” چائے کا مگ ہاتھ میں پکڑے وہ صوفے پہ اکڑوں بیٹھی دکھتے سر کے ساتھ مسلسل سوچے جا رہی تھی۔
“کیوں میرا دل اس رشتہ کو لے کر بدل رہا ہے جبکہ میں جانتی ہوں کہ اس رشتے کی کوئی منزل نہیں ہے نا اُس شخص کے دل میں میری کوئی اہمیت ہے۔” پراگندہ سوچیں تھیں کہ ذہن کو الجھائے و تھکائے جا رہی تھیں۔
اس پہ مستزاد اس نگاہ سے نکاح کا تذکرہ اور اب سامعہ کا کھل کے اس کے متعلق اپنے جذبات و احساسات کا اظہار۔
اس کا اندر باہر جیسے سلگنے لگا تھا۔
“میری طرف سے بھاڑ میں جائے وہ شخص اور اس کی چاہنے والیاں۔دو پیپرز رہ گئے ہیں بس اس کے۔اور اماں بھی اب ٹھیک ہو چکی ہیں۔میں اسی ہفتے کے اندر اندر واپس بابا کے پاس چلی جاوں گی۔” جب سوچوں کی یلغار بڑھنے لگی تو وہ اکتا کے قدرے بلند آواز میں بڑبڑا کے کہتی ٹھنڈی ہوئی چائے کے گھونٹ بھرنے لگی۔
اسی لمحے ادھ کھلے دروازے پہ مدہم سی دستک کے ساتھ کلثوم میر بیٹے کی وہیل چیئر گھسیٹتی ہوئیں اندر داخل ہوئی تھیں۔
“السلام علیکم!” ان دونوں کو دیکھ کر وہ بے ساختہ اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی تو کلثوم بیگم نے توجہ سے اسے دیکھا جو براون کلر کی لانگ شرٹ کے ساتھ سیاہ پاجامہ پہنے، ہمرنگ دوپٹہ عادتاً اچھے سے اوڑھے اپنی لمبے گھنیرے بالوں کی چٹیا چھپائے ہوئے تھی۔
نازک کلائیاں ان کی پسند کے مدِ نظر سوٹ کے ہمرنگ چوڑیوں سے سجی تھیں جبکہ سفید پیر سیاہ رنگ کی دو پٹی چپل میں مقید بہار دکھلا رہے تھے۔
“آپ ٹھیک ہیں اماں؟چیک اپ کروایا ہے تو سب ٹھیک ہے نا؟” ان کی نظروں سے گھبراتی ہوئی وہ بولی تو انہوں نے مسکراتے ہوئے آگے بڑھ کے اسے اپنے ساتھ لگایا۔
“تم بہت اچھی اور بہت پیاری ہو۔میرے نین کی دلہن ہو، اس کے دل کا سکون ہو۔” محبت سے کہتے ہوئے انہوں نے اس کی پیشانی چومی۔
تو ذوالنورین میر کے سامنے محبت کے اس والہانہ اظہار پہ اس کی پیشانی عرق آلود ہوئی تھی جبکہ انہیں جب سے پتہ چلا تھا کہ ان سب کو بلا واسطہ بچانے والی زحلے تھی تب سے اس کی قدر و اہمیت ان کی نظر میں مزید بڑھ گئی تھی۔
“آپ خود بہت اچھی اماں ہیں اس لیے آپ کو میں اچھی لگ رہی ہوں۔” ان کی محبت کے جواب میں سادگی سے مسکراتے ہوئے اس نے عقیدت سے ان کے دونوں ہاتھ چومے اور انہیں صوفے پہ بٹھایا۔
“آپ کا پیپر کیسا ہوا؟” اماں کے سامنے وہ پوری کوشش کرتی تھی کہ ‘آپ’ کہہ کے ہی مخاطب کیا جائے۔
“جتنی محبت و والہانہ پن کے ساتھ اپنی اماں سے ان کے متعلق استفسار کیا ہے۔اتنی ہی محبت و چاہت کے ساتھ مجھ سے سوال کیا ہوتا تو میں اماں سے زیادہ محبت کے ساتھ جواب دیتا۔” وہ جو اتنے دنوں بعد یوں اسے سامنے پا کے پرسکون ہو چکا تھا۔
اس کے مخاطب کرنے پر اپنے مخصوص انداز میں بولتا اسے لمحوں میں گڑبڑانے پر مجبور کر گیا تھا۔
“ہیں؟” اماں کی موجودگی میں ایسی لفظی بے شرمی کے مظاہرے ہر وہ ہونق ہوئی تھی۔
جبکہ کلثوم میر بیٹے کی شرارت اور بہو کی بوکھلاہٹ دیکھتی زیرِ لب مسکرا رہی تھیں۔
“اتنی فضول اور بے وجہ باتوں کی بجائے اگر دو لفظوں میں پیپر کے متعلق بتا دیتے تو زیادہ بہتر تھا۔” کلثوم میر کی مسکراہٹ پہ خجل ہوتی وہ فوراً اپنی گڑبڑاہٹ پہ سپاٹ تاثرات سجائے خشک لہجے میں گویا ہوئی تھی۔
اب چونکہ یہاں سے اور اس شخص سے دست برداری کا فیصلہ کر لیا تھا تو پھر خود کو اس شخص کے چارم سے بچانا بہت ضروری تھی۔
اس لیے اس نے فوراً تلخی و سرد مہری کا لبادہ اوڑھا تھا۔
“میری معذوری کو کیش مت کریں میڈم۔بہتر ہو گا کہ یہ فاصلہ کم کر کے اپنے سوال کا جواب پا لیں۔” اس کے گلے میں لٹکتے موتی کو لبوں سے چھونے کی طلب اس قدر زیادہ ہو رہی تھی کہ اس نے دوبارہ اپنا مطالبہ دہرایا تو اتنی فضول ضد پہ اسے اب غصہ آنے لگا تھا۔
“میں کپڑے تبدیل کر لوں۔” بیٹے کے سرکش تاثرات دیکھتی کلثوم میر نے انہیں پرائیویسی دینے کے لیے قدم ساتھ والے کمرے کے دروازے کی جانب بڑھائے۔
تو ان کے ایک دم سے اٹھنے پر وہ بھی گڑبڑاتی ہوئی اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔
مگر اس سے قبل کے کہ وہ بھی ان کے پیچھے لپکتی تب تک اپنی وہیل چیئر اس کے نزدیک کرتا وہ اس کی کلائی اپنی گرفت میں لیتا رکنے پہ مجبور کر گیا۔
اپنی کلائی پہ پرتپش سی گرفت محسوس کرتی زحلے نے حیرانگی سے پلٹ کر اس کی جانب دیکھا تو اس نے ہولے سے اس کے بازو کو جھٹکا دیا تو وہ لڑکھڑاتی ہوئی اس کی گود میں آن گری۔
“یہ کیا بدتمیزی ہے؟” اس کے کندھے پہ دایاں ہاتھ رکھے جبکہ بایاں ہاتھ اس کے سینے پہ جمائے وہ اس کی اس اچانک حرکت پہ جھٹپٹائی تھی۔
مگر اس کی بات کو مکمل نظرانداز کیے اس نے ایک بازو اس کی کمر کے گرد حائل کیے دوسرا ہاتھ اس کی گردن کے گرد لپٹے دوپٹے کی جانب بڑھایا تو اس سے خائف زحلے کا دل اس کی حرکت کے ماخذ کو جان کر زوروں سے دھڑک اٹھا۔
“ذوالنورین پلیز!کوئی بدتمیزی مت کرنا۔” اس کا لمس دوپٹے پہ محسوس کرتے اس نے ڈوبتے لہجے میں اسے روکنا چاہا مگر اس وقت وہ گویا ہر شے سے بے نیاز ہو چکا تھا۔
اس لمحے اس کا سینے کی چار دیواری میں دھڑکتا دل فقط اس نیلے موتی کا اسیر ہوا پڑا تھا۔
دوپٹے کا ہالہ ختم ہوتے ہی نظر جب اپنے مطلوبہ شکار سے ٹکرائی تو نگاہ میں سرشاری، سکون، راحت و مدہوشی ایک ساتھ اتری تھی۔
اور انہی کیفیات سے بہرہ ور ہوتے اس نے چہرہ جھکاتے ہوئے لب اس موتی پہ رکھے تو زحلے کا رواں رواں کانپ اٹھا۔
اسے اس پل اس کا یہ لمس اس موتی پہ نہیں بلکہ اپنے دل کے نہاں خانوں میں اترتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔
اور اپنے اس نقصان پہ ششدر ہوتی وہ ایک جھٹکے سے اس کا حصار توڑتی لرزتے قدموں کے ساتھ اس کی گرفت سے نکلی تھی۔
“بب۔۔بس!خبردار تم ایسا کچھ نہیں کر سکتے اب۔میرا تمیارا یہ رشتہ تمہارے ایگزامز اور اماں کے ٹھیک ہونے تک ہی مشروط تھا۔” اس کی پہنچ سے کچھ فرلانگ کے فاصلے پہ کھڑی وہ کپکپاتے ہوئے لہجے میں بولتی ایک ہاتھ سینے پہ رکھے دوسرے ہاتھ سے اپنی قمیض کو مضبوطی سے جھکڑے بولے جا رہی تھی۔
“تمہارے پیپرز بھی ہو چکے ہیں اور اماں بھی ٹھیک ہیں اب اس لیے اب ہمارا کوئی و۔۔واسطہ نہیں ہے۔ تم اپنی مرضی اور چاہت سے نگاہ سے واسطہ بناو یا سامعہ سے۔” بمشکل اپنی بات مکمل کرتی وہ بھاگتے ہوئے ڈریسنگ روم میں جا گھسی۔
جبکہ کچھ ہی لمحوں کے بعد اسے کمرے میں ایک دھماکے کی آواز آئی جو کہ یقیناً اس مگ کے ٹوٹنے کی آواز تھی جو وہ ان کے آنے پہ میز پہ رکھ کے اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔
اور مگ کی ٹوٹی ہوئی کرچیوں کو سرخ ہوتی آنکھوں سے دیکھتے ذوالنورین نے پلٹ کے ڈریسنگ روم کے بند دروازے کو دیکھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔.۔۔۔۔۔
“آخر مجھے کوئی بتائے گا کہ میری بنائی گئی چائے کی قسمت اس قدر خراب کیوں ہے؟” اپنے کمرے کے وسط میں کھڑے رہبان نے کڑی نگاہوں سے واشروم سے بھیگا ہوا چہرہ لے کر نکلتی آبگینے سے استفسار کیا تو اس کی ہنسی چھوٹ گئی۔
جسے بمشکل دباتے ہوئے وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی آ کے بیڈروم چیئر پہ بیٹھ گئی۔
“اب اس میں میرا تو کوئی قصور نہیں ہے۔” کرسی پہ بیٹھنے کے بعد اس نے سکون سے اپنی توجہ اس کی جانب مبذول کی جو ہنوز خفگی بھری نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا۔
“قصور؟بیگم جان، سب سے زیادہ قصور آپ کا ہی ہے۔ پہلے تو اتنے مہینے تم میری محبت سے انحراف کرتی اس چائے کو پینے پہ آمادہ نہ ہوئی۔اب جب تمہیں مجھ سے محبت ہو۔۔۔۔۔۔۔۔” اس سے فاصلے پہ کھڑا وہ تپے ہوئے لہجے میں بولے جا رہا تھا جب اس نے تیزی سے اس کی بات قطع کی۔
“میں تم سے محبت نہیں کرتی ہوں۔” اس نے حسبِ معمول محبت سے بے نیازی برتتے انکار کیا تو وہ جل اٹھا۔
“بالکل تم مجھ سے بالکل محبت نہیں کرتی لیکن میرے بغیر نیند نہیں آتی بس تمہیں۔” اس کے جلتے بھنتے انداز پہ اس نے جھینپتے ہوئے ناک پر سے مکھی اڑاتے اس کی بات کو حسبِ سابق اگنور کیا تھا۔
“اوکے تو میں کہہ رہا تھا کہ اب جب تمہیں مجھ سے محبت نہیں ہوئی ہے لیکن تمہیں میرے بغیر نیند نہیں آتی اور اسی محبت نہ ہونے کی وجہ سے تم نے میری بنائی چائے کو شرفِ قبولیت بخشنا چاہا تو میری بدتمیز اولاد ظالم سماج بن گئی ہے۔” پریگنینسی پریڈ میں بہت سی چیزوں کے ساتھ اسے چائے سے بھی اپنی طبیعت خراب محسوس ہوتی تھی۔
تبھی جب اس نے رہبان کی بنائی چائے پینی چاہی تو طبیعت بگڑنے پر رہبان کی صدمے سے جو حالت ہوئی تھی وہ ابھی تک نارمل نہ ہوئی تھی۔
“ویسے اس چائے میں ہے کیا جو تم اسے پلوانے کے لیے اتنے اتاولے ہوئے ہو؟” محبت ہوئی تھی یا نہیں لیکن ان دونوں کا رشتہ بہت ہی خوبصورت رنگوں اور احساسات سے بھر چکا تھا۔
ان کی آپسی نوک جھونک اور باتیں اس رشتے میں انوکھے رنگ بھر رہی تھیں اور یہ رہبان کی کوشش اور محبت کا ثمر تھا۔
“اس میں میں نے تعویز ڈالے ہیں کہ تم میری محبت میں سر تا پا ڈوب جاو۔ جب میں تم سے پیار کروں تو تم میری شدتوں کا جواب دوگنا دو مجھے۔” شرارت سے بولتے ہوئے اس کی آنکھیں چمکنے لگیں تو آبگینے کا چہرہ ان آنکھوں کی حدت سے دہکنے لگا۔
“تم اتنے بے ش۔۔۔۔۔۔۔” شرمگیں لہجے میں اسے ٹوکنا چاہا جب دروازے پہ ہونے والی دستک کے ساتھ داود کے دیے گئے پیغام پہ وہ ششدر سی ہو گئی تھی۔
“بھابھی آپ کے بھائی آئے ہیں نیچے۔ماما آپ کو بلا رہی ہیں۔”
“طلال؟” اس نے سرگوشی کے سے انداز میں کہتے ہوئے رہبان کی سمت دیکھا جو خود خاصا حیران نظر آ رہا تھا۔
“ریلیکس!آو نیچے چلتے ہیں۔” اسے تسلی دیتے وہ اسے اپنے ساتھ نیچے لایا تو طلال رضا اور حماد گردیزی کے علاوہ بی جان سمیت لاونج میں موجود پرسکون ماحول میں بات چیت کر رہا تھا۔
جبکہ قریبی میز پہ پڑے شاپنگ بیگز بتا رہے تھے کہ انہیں طلال شاہ اچھے مہمان کی مانند اپنے ساتھ لایا تھا۔
“السلام علیکم!” رہبان نے بآواز سلام کرتے ہوئے لاونج میں قدم رکھا تو طلال کے چہرے کے تاثرات فوراً تبدیل ہوئے لیکن سر جھٹکتے ہوئے وہ اپنی جگہ سے کھڑا ہوا اور رہبان کے بڑھائے ہوئے ہاتھ کو تھام لیا۔
اور پھر اس کے پہلو میں کھڑی آبگینے کی جانب بڑھا جو ہنوز قدرے خوفزدہ سی نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔
“ٹھیک ہو تم؟” اس کو ساتھ لگاتے اس نے نرمی بھری سنجیدگی سے استفسار کیا تو بھائے کے اس التفات پہ اس کی پلکیں بھیگ گئیں۔
“میں ٹھیک ہوں۔اماں سائیں اور بابا سائیں کیسے ہیں؟” اس کے ساتھ ہی صوفے پہ براجمان ہوتے وہ مدہم لہجے میں بولی تھی۔
مگر اس سے پہلے کہ وہ کوئی جواب دیتا حسبِ معمول وہ سارے اونچی آوازوں میں بولتے ہوئے لاونج میں داخل ہوئے تھے۔
“میں بتا رہی ہوں کہ آج کے بعد میں اس قدر گرمی میں تم لوگوں کا انتظار نہیں کروں گی۔” زور سے بولتی وہ آگے بڑھی جب صوفے پہ آبگینے کے ساتھ بیٹھے شخص کو دیکھ کر اس کی آنکھوں کے سامنے تارے ناچنے لگے۔
“آپ کو مجھ سے جو بھی بات کرنی ہے وہ میرے گھر آ کے کریں۔آپ کی بہن کا گھر ہے وہ۔لیکن آپ کو شاید لڑکیوں کو بیچ راستے روک کر باتیں بگھارنا زیادہ پسند ہے اور پھر اپنے والد کی مرضی کے مطابق ان لڑکیوں کے ذریعے اپنے انتقام لینے کا بھی۔” اپنے ہی کہے گئے الفاظ اس کی سماعتوں میں گونجتے اس کا منہ چڑا رہے تھے۔
“رک کیوں گئی؟آگے آو یہ تمہاری بھابھی کا بھائی ہے، طلال۔” بی جان نے اسے رکتے دیکھا تو وہیں سے پکارا۔
جبکہ بی جان کی پکار پہ اس نے نظر گھما کے اس کی جانب دیکھا۔
تو دونوں کی نگاہیں بڑی سرعت کے ساتھ ایک دوسرے سے جا ٹکرائیں۔
جاری ہے۔
