No Download Link
Rate this Novel
Episode 40
“دل تیرے سنگ جوڑ لیا”
از
حوریہ ملک
Episode#40;
اس کے وجود کو اپنے ہونٹوں کے لمس سے دہکاتا ہوا اس کے وجود میں پنپتے وجود کی دھڑکنیں محسوس کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
اپنی اس کوشش میں وہ اس کے کانپتے وجود اور گہری ہوتی سانسوں کو منتشر کر رہا تھا۔
اس کا سرکتا ہوا ہاتھ جب پیٹ سے سرکتا ہوا اوپر کی جانب بڑھا تو اس نے بے ساختہ اس کے گستاخی پہ مائل ہاتھ کو فورا اپنے کپکپاتے ہاتھ کی گرفت میں لیا۔
“رہبان پلیز!” اس بے ساختہ پکار میں اک جھجھک، اک حیا آمیز مزاحمت پنہاں تھی۔
“مجھے اس طرح سے روکو گی تو میں برا مان جاوں گا۔” بھاری آواز میں کہے گئے الفاظ پہ اس نے لرزتی ہوئی بند پلکوں کو فوراً کھولتے ہوئے حیرانگی سے اسے دیکھا۔
اسے اس وقت ایسی سچویشن میں کم از کم اس سے ایسے رویے، ایسے الفاظ کی توقع ہرگز نہیں تھی تبھی وہ اس وقت حیرانگی و بے یقینی کی زد میں آ گئی تھی۔
“اچھا لگ رہا ہوں نا؟” اس کی مسلسل خود کو تکتی آنکھوں میں اپنی آنکھیں گاڑھتے ہوئے اس نے شوخی سے استفسار کیا تو وہ گڑبڑائی۔
اور پھر یکلخت ہی اس کی خوبصورت آنکھیں آنسووں سے لبریز ہوئیں اور وہ اپنا صبر کھوتی خود پہ جھکے رہبان کی شرٹ دونوں مٹھیوں میں دبوچتی اس کے سینے سے لگتی ہچکیوں سے رونے لگی۔
اس کے سسکتے وجود کو خود میں سمیٹتے ہوئے وہ اس کی کمر تھپتھپاتا اس کو اندر کا غبار نکالنے کے لیے موقع دیتے ہوئے اس کے چپ ہونے کا انتظار کرنے لگا۔
وہ جانتا تھا کہ اس وقت یہ آنسو فقط آنسو نہیں تھے بلکہ یہ آنسو اپنے میکے والوں کے دلبرداشتہ رویوں پہ امڈنے والا سمندر تھا۔
ایک شادی شدہ عورت کے لیے میکے کا مان کس قدر ضروری تھی وہ یہ سمجھتا تھا اور اس کا مان اگرچہ بلاواسطہ وجہ وہی بنا تھا لیکن وہ مان آج مکمل طور پر بکھر چکا تھا۔
اس پہ مستزاد ان لوگوں کا دریہ کو کڈنیپ کرنے کا کریہہ فعل اسے اپنی ہی نظروں میں گرا چکا تھا۔
جب کافی دیر گزرنے کے بعد بھی وہ چپ نہ ہوئی تو اس نے ہولے سے اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے اس کے کانوں میں مدہم سی سرگوشی کی۔
“بس کریں مسز!یہ آنسو مجھے دشمن کے حملوں سے زیادہ تکلیف دے رہے ہیں۔” اس کے بال سہلاتا وہ رسانیت سے گویا ہوا تو اس کے لہجے کی نرمی پہ وہ مزید بکھری تھی۔
“و۔۔وہ ایسا کیسے کر سکتے ہیں؟مم۔۔میں ان کی بیٹی ہوں ا۔۔اور وہ میری ا۔۔اولاد۔۔۔۔” دکھ اور کرب کی انتہا تھی کہ لفظ اس کے ہونٹوں سے ٹوٹ ٹوٹ کر بکھر رہے تھے۔
“ششش!ریلیکس، کچھ بھی نہیں ہوا۔خود کو ہلکان مت کرو۔سب ٹھیک ہو جائے گا۔ تم خود کو الزام دینا بند کرو۔میری فیلڈ ہی ایسی ہے کہ ایسے حادثات کبھی بھی درپیش آ جاتے ہیں۔” لہجے میں رسان بھری سنجیدگی سموئے وہ اس کو تسلی دینے کی بھرپور سعی کر رہا تھا۔
“لیکن م۔۔۔” اس کی ہچکیاں بندھنے لگیں۔
“شش!رونا بند کریں۔طبیعت بگڑ جائے گی۔جو گزر چکا ہے اس پہ افسوس کرنے کی بجائے جو آنے والا وقت ہے اس کے لیے دعا کرو انشاءاللّٰہ سب سازگار ہو گا۔” اس کا آنسووں سے تر چہرہ دونوں ہاتھوں میں بھرتے اس نے انگوٹھوں سے اس کے گیلے گال اور نم پلکیں پونچھیں تو اس نے ڈبڈبائی آنکھوں سے اس شخص کو دیکھا۔
جو اک برے خواب کی مانند اس کی زندگی میں شامل ہوا تھا مگر وہ اس وقت ایک حسین حقیقت کا روپ دھارے اس کی بے رنگ و بے مقصد زندگی کو خوشنما رنگوں سے سجا کے اسے اس زندگی کی سب سے انمول خوشی دینے کا سبب بنا تھا۔
“محبت ہو رہی ہے؟” اس کی نم آنکھوں کا ارتکار خود پہ محسوس کرتا وہ ایک بار پھر سے گھمبیر لہجے میں بولتا شرارت پر آمادہ ہوا تو وہ گڑبڑائی۔
“ن۔۔نہیں۔میرا دماغ خراب نہیں ہے۔” اس کی بانہوں کے مضبوط حصار کو توڑنے کی کوشش کرتی وہ کترائے ہوئے لہجے میں بولی تھی۔
لہجہ اس وقت کچھ دیر قبل کی سوگواریت سے کسی حد تک آزاد تھا۔
“محبت کرنے کے لیے دماغ نہیں دل خراب کرنا پڑتا ہے۔” آنکھوں کو دلفریب انداز میں حرکت دیتا وہ اپنی سحر انگیز آواز کا جادو بکھیرنے لگا تو اس کا دل زوروں سے دھڑک اٹھا۔
“میرا دل ابھی اتنا بے لگام نہیں ہوا۔” اپنی پوری قوت مجتمع کرتی وہ اس کی بانہوں کے گھیرے سے نکلتی سرعت سے چند انچ کا فاصلہ بڑھا گئی۔
“میرا دل جو بے نتھے بیل کی مانند بے لگام ہو چکا ہے پہلے اس کو لگام ڈالنے کی کرتے ہیں۔اسی کوشش میں آپ کا دل بھی بے لگام ہو جائے گا اور میری چائے کی پیالی ضائع ہونے سے بچ جائے گی۔” فوراً سے پیشتر اس کی جانب پیش قدمی کرتے ہوئے اس نے ذومعنی انداز میں کہا تو وہ جی جان سے سٹپٹائی۔
“م۔۔مجھے۔۔میرا مطلب ہے کہ آ۔۔آپ کے بچے کو بھوک لگی ہے۔” اس کے بڑھتے ہاتھ دیکھ کے بروقت اسے بہانہ سوجھ گیا۔
جبکہ اس کی ایسی غیرمتوقع بات سن کر اس نے بھنویں سکیڑتے ہوئے بغور اس کا چہرہ دیکھا جس پہ کچھ پل قبل کی بنسبت اس وقت قوس و قزح کے رنگ بکھرے ہوئے تھے اور انہی رنگوں کو دیکھ کر وہ اندر تک پرسکون ہو گیا تھا۔
“ناٹ فیئر مسز!یہ جونیئر تو آنے سے پہلے میرے اور آپ کے رومینٹک مومینٹس کو خراب کرنے کی کوشش میں ہے۔آنے کے بعد بھی اس کی یہی حرکتیں رہیں تو میرا اور اس کا ایک ساتھ گزارا ناممکن ہے۔” دہائی دینے والے انداز میں کہتے ہوئے وہ اپنی جگہ سے اٹھا تو آبگینے نے ہونٹوں پر امڈنے والی مسکراہٹ کو فوراً لب بھینچتے ہوئے چھپانے کی سعی کی۔
“میں تم لوگوں کے کھانے کے لیے کچھ لے کے آتا ہوں۔پہلے تم اس کی بھوک کا انتظام کرو۔ پھر میری پیاس بجھانے کی کوشش کرو۔” بائیں آنکھ ونک کرتے ہوئے وہ ذومعنویت سے کہتا ہوا دروازے کی جانب بڑھا تو وہ حجاب آمیز انداز میں مسکراتی ہوئی اُن تکلیف دہ یادوں سے چھٹکارہ پانے کو سر جھٹک کے رہ گئی جو اسے اپنوں سے ہی متنفر کر گئی تھیں۔
لیکن اس وقت وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ انہی اپنوں کا ایک اور روپ بھی وہ جلد دیکھنے والی تھی۔
اور وہ روپ ناصرف اس کو بلکہ وہ ‘رہبان گردیزی’ کی پوری ہستی کو ہلا دینے والا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اس وقت پیپر دینے کے لیے مکمل تیار ‘ملک ہاوس’ کے لیونگ روم میں موجود تھی۔
“ارسم چاچو!ڈیٹس ناٹ فیئر، میرا پیپر ہے آج اور آپ کی تیاریاں ہی ختم نہیں ہو رہیں؟” ریلیکسڈ انداز میں یہاں سے وہاں ہوتے ارسم کو دیکھتی وہ بے چینی و شاکی پن سے گویا ہوئی تو وہ ایک جھٹکے سے اس کی جانب مڑا۔
“کیا مطلب؟میں تمہیں یونی چھوڑنے جا رہا ہوں؟” اس کے قدرے بلند لہجے میں اتنی حیرت و بے یقینی تھی کہ وہ بگڑ گئی۔
“نہیں، اُبامہ نے اپنا پرسنل سیکرٹری بھیجا ہے میرے لیے۔” اس کے جھلستے لہجے پر آئلہ کے ہونٹوں سے ہنسی پھسل گئی۔
“اُبامہ کے پرسنل سیکرٹری کی ایسی کی تیسی۔تم ادھر آو میرے ساتھ۔” ارسم نے فوراً اس کا ہاتھ پکڑتے ہوئے سیڑھیوں کا رخ کیا تو وہ سٹپٹائی۔
“کہاں لے کے جا رہے ہیں ارسم چاچو؟مجھے پیپر سے دیر ہو رہی ہے۔” وہ بے ساختہ چیخی تھی لیکن اس کی پکار کو نظرانداز کیے وہ تیز تیز چلتا راہداری کے دائیں جانب موجود کمرے کے دروازے کے سامنے جا کھڑا ہوا۔
اس دروازے کو دیکھ کر اس کی پل میں بیٹ مِس ہوئی لیکن قبل اس کے کہ وہ کچھ کہہ پاتی، ارسم نے ایک جھٹکے سے دروازہ کھولا۔
دروازہ اس دھماکے سے کھلنے پر اس نے گھبراتے ہوئے جب نظر اٹھائی تو گویا جسم کا جیسے سارا خون چہرے پہ آن سمٹا ہو۔
“یہ تمہارے بڑے دادا نے تمہارے لیے جو ہینڈسم پرسنل سیکرٹری متعین کیا ہے اس کے ساتھ کا فائدہ اٹھاو۔” شرٹ کے بغیر کھڑے ضرغام ملک کو نجانے ارسم نے دیکھا تھا یا دیکھ کے ان دیکھا سا کر دیا تھا۔
جو بھی تھا مگر اپنی بات تیز تیز لہجے میں مکمل کرنے کے بعد وہ دروازے کے نزدیک پہنچ آنے والے ضرغام کی جانب ہونق کھڑی شہرے کو ہولے سے دھکیلتا یہ جا وہ جا۔
جبکہ ضرغام جو آفس جانے کے لیے تیار ہو رہا تھا، بنا اجازت کے دروازہ کھلنے اس پہ مستزاد ارسم کی گفتگو سن کر دروازے کی جانب بڑھا تو نظر ارسم کے ساتھ کھڑی دشمنِ جان سے جا ٹکرائی مگر قبل اس کے کہ وہ اس نظر کو طویل کرتا وہ ایک خوشبودار جھونکے کی مانند اس کے کشادہ سینے سے آن لگی۔
یہ غیر متوقع افتاد دونوں کے لیے گڑبڑا دینے والی تھی اور وہ بھی گھر میں چھائی عجیب سی صورتحال میں۔
اس کے وجود سے اٹھتی دلفریب کلون کی مہک اس کی حِس جامہ سے ٹکرائی تو وہ اپنی منتشر ہوتی دھڑکنوں کو سنبھالتی ہوئی اس کے سینے پہ بایاں ہاتھ رکھتی فاصلہ بڑھانے کو تھی۔
جب اس سے گریزاں نظر اس کے سیاہ بالوں سے ڈھکے مضبوط سینے سے ٹکرائی تو اسے ایکدم سے جیسے ٹوٹ کے حیا آئی تھی۔
وہ دوبارہ سے اپنی پلکیں زور سے میچتی اس کے سینے پہ سر ٹکا گئی۔
“شرٹ پہنیں پلیز۔” اسی کے سینے پہ سر اور ہاتھ رکھے وہ اسے حکم صادر کر گئی تو اس کے لمس کی نرمی کو محسوس کرتا وہ اپنے مخمور جذبات کو بمشکل لگام ڈالتے ہوئے ہولے سے مسکرایا اور بیڈ پہ پڑی اپنی شرٹ کو ایک نظر دیکھا۔
“ویسے یہ ستم ظریفی کی انتہا ہو گی کہ میں آپ کو خود سے دور کرنے کے لیے شرٹ کا استعمال کروں۔ایسے زیادہ بہتر ہے۔اتنے عرصے کا ہجر زائل ہو رہا ہے۔” بھاری میں خوبصورت جذبات کی مہک لیے وہ بولتا اس کے اعصاب کو سُن کر رہا تھا۔
وہ جو اُس کی دیوانی تھی وہ کتنی دیر اس سے نفرت کا راگ الاپتی رہتی وہ بھی تب جب وہ اپنے جذبات سے رفتہ رفتہ اس کے دل کو اپنے مرضی کی راہ پہ ڈالنے کے لیے کوشاں ہو۔
اس وقت وہ ہر تکلیف دہ بات، نگاہ اور ضرغام کا تعلق، اُن کا پرپیچ تعلق سب کچھ فراموش کیے اس غیر متوقع اور آکورڈ سی سچویشن سے نکلنے کا سوچ رہی تھی۔
لیکن دوسری جانب تو جیسے دلی مراد بر آئی تھی۔
“ن۔۔نہیں پلیز۔میرا پیپر ہے آج۔” اس نے بے ساختہ و بلا ارادہ اس کے سینے کے بال اپنی کپکپاتی انگلیوں میں جھکڑتے اپنا احتجاج بند آنکھوں سے بلند کیا تو اس کی اس حرکت پہ اس کے جذبات جیسے بہکنے لگے تھے۔
اس نے ایک گہری نظر سینے سے لگی شہرے کے پونی ٹیل میں بندھے سنہری بالوں والے سر پہ ڈالی اور پھر اس کی مخروطی انگلیوں کی گستاخی کو دیکھا۔
“پیپر آپ کا ہے لیکن امتحان میں مجھے ڈال چکی ہیں آپ۔” جذبات کی حدت سے دہکتے ہوئے گھمبیر لہجے میں بولتا وہ اپنا مضبوط بازو اس کی کمر کے گرد حائل کرتے اسے لیے بیڈ کی جانب بڑھا تو شہرے جو اس کے لفظوں پہ اپنی سانسیں تک روک چکی تھی۔
اس کے حرکت کرنے پہ نجانے کیوں اسے دل کی دھڑکنیں منتشر ہوتی محسوس ہوئیں۔
اسے یونہی ساتھ لگائے اس نے بیڈ پہ پڑی سکائی بلیو رنگ کی شرٹ اٹھائی اور پہننے لگا۔
بازو پہننے کے بعد اس نے نرمی سے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں جھکڑتے ہوئے چوما اور اسے خود سے الگ کیا اور شرٹ کے بٹن بند کرنے لگا، اس ساری کاروائی کے دوران وہ کسی کمسن بچے کی مانند اپنی آنکھیں زور سے میچیں کھڑی رہی تھی۔
“آپ اپنی آنکھیں کھول سکتی ہیں۔” شرٹ بند کرنے کے بعد اس نے سنجیدگی سے اسے کہا جو اس کی آواز سن کے پٹ سے اپنی آنکھیں کھول گئی۔
ڈارک بلیو جینز کے ساتھ سکائی کلر کی شرٹ پہنے وہ بکھرے بالوں کے ساتھ آنکھوں میں ایک نرم سی چمک لیے گہری نگاہوں سے اسے دیکھتا عجیب سے احساسات سے دوچار کر گیا۔
وہ خود کو سنبھالتی ہوئی تیزی سے مڑی تھی جب اس نے سرعت سے اسے پکارا۔
“شہرے!” اس کی پکار اس قدر بے ساختہ تھی کہ اس کا اٹھا ہوا قدم وہیں تھم گیا۔
“رک جائیں، میں تیار ہو لوں پھر یونی لے جاتا ہوں۔” رسانیت سے کہتے وہ ڈریسنگ مرر کی جانب مڑا تو شہرے نے پلٹ کے اس کی جانب دیکھا۔
وہ اسے منع کرنا چاہتی تھی لیکن جانتی تھی کہ اتنی دیر اس کے کمرے میں رپنے کے بعد جب وہ نیچے جا کے کسی اور کو ڈراپ کرنے کے لیے کہے گی تو سب کے سوالوں کے جواب وہ نہیں دے پائے گی اس لیے گہری سانس بھرتی وہ وہیں موجود کاوچ پہ بیٹھ گئی۔
“میری تیاری میں ہیلپ کریں گی؟” ڈریسنگ مرر سے اسے دیکھتے ہوئے اس نے پھر سے اسے اپنی طرف متوجہ کیا جو بڑے انہماک سے اس کے دیوار پر لگے پورٹریٹ کو دیکھ رہی تھی۔
“کیسی ہیلپ؟” وہ اس کے مخاطب کرنے پہ متعجب انداز میں گویا ہوئی۔
“یہاں آئیں پھر ب۔۔۔۔۔” دروازے پہ ہونے والی دستک سن کر اس کی بات ادھوری رہ گئی۔
“کم اِن!” اس نے سنجیدگی سے نووارد کو اجازت دی تو دروازہ ہولے سے وا کرتی نگاہ کمرے میں داخل ہوئی۔
جہاں نگاہ کو دیکھ کر شہرے کے نرم جذبات پہ برف پڑی وہیں نگاہ ان دونوں کو دیکھ کر معنی خیزی سے مسکرا دی۔
“کیا ہم یہ مان لیں کہ مسٹر ضرغام ملک کے صبح صبح لیٹ ہونے کی وجہ واقعی اتنی ہی دلکش و حسین ہے؟” شہرے کی جانب اشارہ کرتی وہ چہکتے ہوئے لہجے میں بولی تو اس کے ہونٹوں پہ مسکان مچلنے لگی جبکہ شہرے کرنٹ کھاتی اس کی جانب دیکھنے لگی۔
“یااللّٰہ یہ کیا ہو رہا ہے؟یہ دونوں کیا کر رہے ہیں؟” وہ نگاہ کے رویے پہ خاصی متعجب ہو رہی تھی۔
“میں یونی جانے کے لیے آئی تھی۔” اس کے رویے پہ حیران ہونے کے باوجود اس نے اس کی تصحیح کرنی ضروری سمجھی تھی۔
“آئی نو!بیسٹ آف لک فار یور ایگزامز۔” خوشدلی سے مسکراتی وہ اسے وش کرنے لگی تو وہ بھی جواباً ہولے سے ہونٹ پھیلا گئی۔
“ضر!نین سے کانٹیکٹ ہوا؟” اچانک اپنے آنے کا مقصد یاد کرتی نگاہ نے بال بناتے ضرغام کو مخاطب کیا۔
“رات کو ہوا تھا۔انکل کو لے کے پہنچ چکا ہے۔” اس نے برش میز پہ رکھنے کے بعد اپنے کف لنکس تلاشے۔
“اس کا نمبر کیوں بند ہے؟کل سے میرا کانٹیکٹ نہیں ہوا۔” وہ بے کلی سے گویا ہوئی جبکہ ان کی اس گفتگو سے بیزار ہوتی شہرے واپس اس کے پورٹریٹ کو دیکھنے میں محو ہو چکی تھی۔
“ڈونٹ وری!انکل کی کنڈیشن سٹیبل نہیں ہے۔ان کو لے کے ایمرجنسی میں ہی ہاسپٹل آنا پڑا ہے۔کچھ دیر میں رابطہ کر لے گا۔” نرمی سے اس کی تشفی کرواتا وہ اپنی تیاری مکمل کر چکا تھا۔
“شام کو مجھے لے چلو گے ہاسپٹل؟” اپنی کی چین اور والٹ اٹھاتا وہ اس کے سوال پہ چونکا اور پھر گردن گھما کے اس کی جانب دیکھا۔
“محترمہ نگاہ واحدی!آپ اب یوں کچھ عرصہ نا تو میرے ساتھ دھڑلے سے گھوم سکتی ہیں نا میرے کمرے میں آ سکتی ہیں اس لیے پیشگی معذرت۔ویسے بھی آپ کے نین تارے نے کسی کو بھی ہاسپٹل آنے سے منع کر رکھا ہے۔” لہجہ سپاٹ، الفاظ سنجیدہ جبکہ بھوری آنکھوں میں ہلکی سی چمک لیے سکون سے گویا ہوتا وہ ایک دفعہ پھر سے شہرے کے دل و دماغ کو ہلا گیا تھا۔
“یو آر سو مین مسٹر ضرغام ملک۔” ایک تپتی نگاہ اس پہ ڈالتی وہ واپس پلٹ گئی جبکہ وہ اس کے سامنے جا کھڑا ہوا جو اس سچویشن میں خود کو عجیب ہونق سا محسوس کر رہی تھی۔
“چلیں؟” اس کے سامنے ٹھہرتے ہوئے اس نے اپنی مضبوط ہتھیلی اس کے سامنے پھیلائی تو ہتھیلی کے وسط میں جگمگاتے تِلوں کو دیکھ کے اس کا دل عجیب سے انداز میں اس کی جانب کھنچا تھا۔
مگر دل کی حالت کے برعکس وہ زور سے دونوں ہاتھوں کی مٹھیاں بھنچے اپنی جگہ سے اٹھی تھی۔
“جو ہاتھ تاعمر کے لیے تھام چکا ہوں، اسے چند لمحوں کے لیے مجھ سے چھپانے کا کوئی فائدہ نہیں شہرے۔” اس سے ایک قدم پیچھے چلتا وہ آہستگی سے گویا ہوا۔
“اور یہی ہاتھ تھامنے سے قبل آپ بھرے مجمعے میں اس ہاتھ کو تھامنے سے انکاری بھی تھے۔” اس نے اسے کبھی نہیں جتایا تھا لیکن آج ناجانے کیونکر وہ ایسا بول گئی تھی۔
وجہ شاید یہی تھی کہ اُس نے اسے ضرغام چاچو سے ضرغام بنا کے دیکھنا ہی اب شروع کیا تھا اور ایسے میں یہ چیز زیادہ کچوکے لگا رہی تھی۔
“بعض اوقات ہمارے بہت سے اعمال کا سبب اور وجہ وقت ہی بیان کر پاتا ہے ہم نہیں اس لیے اس ٹاپک کو بند کرتے ہیں۔فریش فریش ہو کے پیپر کے لیے نکلیں۔” سیڑھیاں اترتے وہ طبیعت کے برخلاف خاصی نرمی سے گویا ہوا تو وہ بنا کچھ کہے ہال میں پڑے صوفے پہ موجود اپنی چیزیں جلدی سے سمیٹتی باہر کی جانب بڑھی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پیر حویلی کے مردان خانے میں اس وقت گویا غصے اور انتقام کا جیسے طوفان امڈ آیا تھا۔
اپنی فتح کے احساس میں چور جب وہ بخت خان کے پرجوش استقبال کے بعد اس ویران اور تاریک کمرے میں پہنچے جہاں وہ دونوں قید تھے۔
مگر خالی کمرہ ان کا منہ چڑا رہا تھا۔
“یہ دونوں کہاں گئے؟” پیر سائیں نے سائیں سائیں کرتے دماغ کے ساتھ جعفر شاہ کی جانب دیکھتے ہوئے استفسار کیا جو خود اس صورتحال پہ بھونچکا تھے۔
“یہیں چھوڑ کے گئے تھے اور ایسا ممکن ہی نہیں تھا کہ وہ لوگ اس کمرے سے نکل پاتے۔” انہوں نے خود کو سنبھالتے ہوئے باپ کو جواب دیا۔
تب تک صورتحال کی بابت اطلاع ملتے ہی طلال شاہ بھی وہاں آ چکا تھا لیکن کچھ بھی اظہارِ رائے کیے بغیر چپ چاپ کھڑا تھا۔
“زنان خانے میں پتہ کریں پیر سائیں کہ آپ کی بیٹی موجود ہے؟” بخت خان نے اپنی کھوجتی نگاہیں ادھر ادھر گھماتے ہوئے استفسار کیا تو جعفر سائیں جلدی سے زنان خانے کی طرف گئے جبکہ پیر سائیں بخت خان کے ساتھ اس کمرے میں گئے جہاں سفیر سائیں کو رکھا گیا تھا۔
لیکن زنان خانے سے آبگینے کی غیر حاضری اور پیر سائیں کے حجرے سے سفیر سائیں کی غیر موجودگی نے سب کو غیض و غضب سے آگ بگولہ کر دیا۔
“بھنگ پی کے سو رہی تھی کہ کیا تمہاری بیوی جعفر سائیں کہ اسے بیٹی کے غائب ہونے کی ہی خبر نہ ہو سکی؟” یہ بات ان کی انا اور ان کے مرتبے پر کوڑے کی مانند برس رہی تھی کہ وہ اندر زنان خانے تک پہنچ گیا تھا اور تو اور سفیر سائیں ان کے ہاتھ آنے کے بعد ایک دفعہ پھر سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے پہنچ چکا تھا۔
“و۔۔وہ دوسری لڑکی، اُس ایس پی کی بہن؟” اچانک خیال آنے پر پیر سائیں بولے تو کب سے خاموش تماشائی بن کے کھڑے طلال شاہ کے چہرے کا رنگ بڑی سرعت سے تبدیل ہوا۔
مگر اگلے ہی پل وہ خود پہ قابو پاتا باپ کے ساتھ اس کمرے کی طرف گیا جہاں کچھ گھنٹے قبل دریہ گردیزی مقید تھی۔
لیکن ایک دفعہ پھر سے ناکامی کا سامنا ان سب کو پاگل کر گیا۔
“پیر سائیں!آپ کی حویلی میں موجود افراد کی مدد کے بغیر وہ دونوں کمینے یہاں سے اتنی آسانی کے ساتھ تین لوگوں کو لے کر نہیں جا سکتے تھے۔اپنی حویلی میں چھپے غداروں کو تلاش کیجیے۔” بخت خان جو اپنی چالاکی اور ہوشیاری و سفاکی کے باعث آج تک پولیس کے ہاتھ نہ آ سکا تھا اس نے پرسوچ لہجے میں اظہارِ خیال پیش کیا تو طلال شاہ کی کشادہ پیشانی پہ بل پڑے تھے۔
“یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ ان کے ان جرات مندانہ اقدامات کے پیچھے تمہاری آمدِ خیر ہی ہو کیونکہ تمہارے آنے سے قبل وہ یہیں مقید تھے حتیٰ کہ آبی اور اُس ایس پی کی بہن بھی یہیں محصور تھیں لیکن جب تم اور تمہارے آدمی آئے اس کے بعد یہ سب کچھ ہوا۔” طلال شاہ کی سپاٹ آواز پہ جہاں پیر سائیں اور جعفر سائیں ششدر رہ گئے وہیں بخت خان کے چہرے پر غصہ عود کر آیا۔
“پیر سائیں!پوتے کو سمجھائیے۔یوں منہ اٹھا کہ بخت خان پر الزام تراشی اسے مہنگی پڑ سکتی ہے۔” بخت خان بخوبی جانتا تھا کہ ان لمحوں میں پیر حویلی والوں کو اس کی کس قدر ضرورت ہے تبھی تو یوں دھڑلے سے ان کے سامنے کھڑے اُن کے سپوت کو دھمکی دے رہا تھا۔
“تمہاری دھمکی کا مجھ پر ضرور اثر ہوتا جو میں طلال شاہ نہ ہوتا۔” پرسکون انداز میں بنا کسی اور کے بولنے سے قبل اسے جواب دیتا وہ پلٹا۔
“اور ہاں اپنی آمد کے مقصد کو چھپانے کے لیے ہماری حویلی کی بنیادیں کھوکھلی کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔” وہ جانتا تھا کہ بخت خان کی پخ کی وجہ سے حویلی کے ملازمین اور عورتوں پہ بلاوجہ تشدد ہو گا اس لیے اس نے گفتگو کو اس نہج پہ لے جانا چاہا جہاں پیر سائیں بخت خان کی سوچ پر عمل پیرا نہ ہو سکیں۔
“طلال سائیں بس کرو۔اور تم بخت خان اس بات کو یہیں ختم کرو۔اب یہ سوچو کہ آگے کیا کرنا ہے۔پیر حویلی کا سپوت اس کمینے کی کسٹڈی میں ہے۔” پیر سائیں اس وقت سخت طیش میں مبتلا گویا ہوئے۔
“بیفکر رہیے پیر سائیں۔اُن لڑکوں نے اپنی عمر اور ہمت سے بڑے دشمن پال رکھے ہیں۔اور جب سارے دشمن مل کر ان پر حملہ آور ہوں گے تو وہ ہِل بھی نہیں سکیں گے۔” بخت خان اب بہت ہوشیاری اور سفاکی کے ساتھ ان لوگوں کو میر خاندان کے متعلق آگاہ کر رہا تھا۔
جن سے ہاتھ ملا کر وہ کچھ سال پہلے کی طرح ان پانچوں سے اپنا انتقام پورا کر سکتے تھے۔
جبکہ ان سے کچھ فاصلے پہ کھڑا طلال شاہ آنکھوں میں نفرت انگیز چبھن لیے بخت خان کو گھور رہا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
‘میر پیلس’ میں اس وقت خاموشی چھائی ہوئی تھی۔صبح کے آٹھ بجنے کے باوجود مکین اپنے کمروں میں محوِ خواب تھے ایسے میں پنک شرٹ کے ساتھ سفید ٹراوزر پہنے سر پہ ہمرنگ دوپٹہ اوڑھے وہ چہرے پہ نرم سے تاثرات سجائے سوٹ کے ہمرنگ کانچ کی چوڑیاں کلائیوں کی زینت بنائے ناشتہ تیار کر رہی تھی۔
ذوالنورین اور شازمین میر کی اس دن کی تلخ کلامی کے بعد حیرت انگیز طور پر کسی نے بھی کوئی ردِعمل نہ دیا تھا بلکہ ان دو چار دنوں میں پیلس کے باقی نفوس یہ تک فراموش کر گئے تھے کہ وہ تین بھی اسی پیلس میں مکین تھے۔
جہاں ان سب کی بے خبری دل کو پرسکون کر رہی تھی وہیں شازمین میر جیسی فطرت کی مائل عورت کی ایسی خاموش کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ تھی۔
شازمین میر کے الجھے ہوئے پراسرار رویے کے بارے میں سوچتے اس نے ناشتے کی ٹرے تیار کی اور ایک ناقدانہ نگاہ ٹرے پہ ڈالتی وہ کچن سے باہر نکلی۔
وہ ابھی سیڑھیوں تک پہنچی ہی تھی کہ اچانک ایک سائیڈ سے سامعہ آتی اس کے سامنے آن رکی۔
“تم کیوں ایک معذور شخص اور اس کی ابنارمل ماں کی چاکری کرتے ہوئے اپنی زندگی کو تباہ کر رہی ہو؟” جتنی اچانک اس کی آمد تھی، اتنا ہی اچانک اور تکلیف دہ اس کا سوال تھا۔
جسے بمشکل برداشت کرتے ہوئے اس نے وہ جواب دینے کی کوشش کی جو اس وقت اس سچویشن میں اسے دینا چاہیے تھا۔
“وہ معذور شخص میرا۔۔۔۔” پل بھر کے لیے وہ جھجھکی لیکن پھر یہ سوچ کے کہ وہ کون سا سامنے موجود تھا۔
“وہ شخص میرا شوہر ہے اور اس کی ابنارمل ماں میری ساس یعنی ماں ہے۔ ایسے میں ان کے کام کرنا یا ان کی ضروریات کا خیال رکھنے سے میری زندگی اگر تباہ ہو رہی ہے تو اسے ہو جانے دیں۔” ایک مصنوعی مسکراہٹ چہرے پہ سجائے وہ نرم لہجے مگر سنجیدہ الفاظ کا سہارا لیے بولی تو سامعہ کا چہرہ مارے سبکی کے سرخ پڑنے لگا۔
“معذور شخص کی خدمت بہت آسان ہے لیکن کیا تم اس شخص کی بھی خدمت کرنا پسند کرو گی جس کا کردار اس قدر پست ہو کہ وہ انسانیت کے درجے سے ہی گر کے گھر کی عزت پہ ہاتھ ڈال دے؟” اپنی سبکی کے احساس کو کم کرنے کے لیے وہ نفرت سے پھنکاری تو ٹرے زحلے کے ہاتھوں میں لرز گئی۔
جبکہ کان گویا سائیں سائیں کرنے لگے۔اس نے پھٹی پھٹی نگاہوں سے سامعہ کے چہرے کو دیکھا جو ان کہی داستان سنائے جا رہا تھا۔
جو سامعہ کہہ رہی تھی اس پہ دل و دماغ دونوں انکاری تھے لیکن۔۔۔۔
لیکن ایک لڑکی ایسا جھوٹ کیونکر بولے گی؟
ذہنی پراگندی اتنی بڑھ گئی کہ اس کے ہاتھوں میں موجود ٹرے اسے بھاری بوجھ محسوس ہونے لگی تھی۔
“کچھ سال پہلے تمہاری ماں تمہارے دل و دماغ حتیٰ کہ عزت کے ساتھ کھیل گئی تھی لیکن اب تم چند لمحوں کی جذباتی لغزش سے یہ سب کرتے ہوئے خود کو اپنی نظروں میں مت گراو سامعہ میر۔” ڈاکٹر مرتضیٰ جو کہ اس وقت کلثوم میر کے چیک اپ کے لیے آئے تھے۔
ذوالنورین کے کمرے سے نکل کے واپس جانے کے لیے نیچے آئے تو ان دونوں کی گفتگو سماعتوں کی نذر ہوئی۔
تبھی زحلے کے چہرے کو دیکھتے انہوں نے فوراً مداخلت کی تھی۔
ان کی غیرمتوقع آواز سن کر جہاں سامعہ کا رنگ فق پڑا تھا وہیں زحلے فوراً سنبھلی۔
“جاو بیٹا اور سنبھل کر۔یہاں ہر قدم پر تمہیں ورغلانے کے لیے ہر طرح کے ہتھکنڈے استعمال ہوں گے۔کوشش کرنا کہ جو رشتہ اللّٰہ پاک کے حکم سے جڑ چکا ہے اسے کسی کی سازشوں کی نذر مت کرنا کیونکہ وہ جو اوپر کمرے میں بیٹھا ہے نا وہ معذور بھی ہو سکتا ہے, تلخ بھی اور بدلحاظ بھی لیکن وہ بدکردار نہیں ہے۔” سامعہ کے وہاں سے ہٹنے کے بعد ڈاکٹر مرتضیٰ نے اس کو دیکھتے نرمی سے کہا تو خفت زدہ انداز میں سر ہلاتی اوپر کی جانب بڑھ گئی۔
ادھ کھلے دروازے سے جب وہ ٹرے لیے اندر داخل ہوئی تو نظر حسبِ معمول صوفے پہ براجمان ان دونوں ماں بیٹے پہ پڑی جو ایک دوسرے کی سمت متوجہ تھی۔
مکمل طور پر تو نہ سہی لیکن کسی حد تک کلثوم میر اُس سے اٹیچ ہو چکی تھیں۔اس میں ان دونوں کے وقت اور ساتھ کا بہت بڑا ہاتھ تھا۔
دوسرا شازمین میر کی سفاکیت سے بچاو کی وجہ سے وہ خاصا بہتری کی جانب گامزن ہو چکی تھیں۔
“آج تم خوش ہو؟” وہ بات جو اس نے کمرے میں داخل ہوتے ہی محسوس کی تھی وہی بات کلثوم میر نے دہرائی تو ٹرے میز پہ رکھتی زحلے نے لحظہ بھر کے لیے آنکھ اٹھا کے ان کی جانب دیکھا۔
“میں آج واقعی بہت خوش ہوں کیونکہ اللّٰہ کے حکم سے جو آپ سے کھو چکا ہے نا وہ انشاءاللّٰہ جلد آپ کو مل جائے گا۔” ان کے ہاتھ شدتِ جذبات سے چومتے ہوئے وہ محبت سے گویا ہوا تھا۔
“کون؟” ان کا سوال بڑا بے ساختہ تھا۔
“نین۔” وہ ولید میر کا ذکر نہیں کر سکتا تھا اس لیے بہت مختصر سا جواب دیا تھا۔
“نین کون ہے؟” زحلے جو اس ‘نین’ کے چکر میں بہت بری طرح سے الجھی تھی اس نے کلثوم میر سے پہلے استفسار کیا۔
“آپ کی ساس کا بیٹا۔” اس کے برجستہ جواب پہ وہ گڑبڑائی۔
“وہ تو تم ہو۔” اس کا جواب بھی بڑا بے ساختہ تھا۔
“ماما!آپ کی بہو پڑھی لکھی ہونے کے باوجود یہ نہیں جانتی کہ شوہر کو ‘تم’ نہیں ‘آپ’ کہتے ہیں۔انہیں سمجھائیں۔” سوال گندم جواب چنا کے مصداق وہ قطعی غیر متوقع بات کرنے لگا تو ہونق سی ہو گئی۔
“دلہن پیارا پیارا بولتے ہیں۔” صحت بحالی مکمل نہ ہونے کی وجہ سے وہ بات کو مکمل طور پر نہ تو صحیح سے سمجھتی تھیں نا زیادہ لمبا فقرہ بولتی تھیں۔
مگر اس وقت ان کا مختصر سا جملہ بھی اسے خفت زدہ کر گیا۔
“سوری اماں لیکن یہ میرا سٹوڈنٹ بھی ہے۔” اس نے فوراً توجیہہ پیش کرنی چاہی تو ذوالنورین نے فوراً جگر جگر کرتی نگاہوں سے اس کا بھرپور جائزہ لیا جو خفت زدہ سی میز کے نزدیک پڑی کرسی پہ بیٹھی تھی۔
“نین کون ہے؟” کلثوم میر کو جواب دینے کے فوری بعد وہ اس کی جانب متوجہ ہوئی اور اپنا سوال دہرایا۔
جاری ہے۔
