No Download Link
Rate this Novel
Episode 44
“دل تیرے سنگ جوڑ لیا”
از
حوریہ ملک
Episode#44;
“اب اتنی ثقیل اردو میں کہی گئی بات کا میں مطلب نہیں سمجھا رہا۔” ضرغام کے مطلب پوچھنے پہ اس نے جس بے نیازی سے ہاتھ ہلا کے انکار کیا تھا، وہ دانت کچکچا کے رہ گیا۔
“تو کچھ بھی سمجھا نہیں سکتا بس دماغ خراب کر سکتا ہے۔” ضرغام نے جل کے جواب دیا تو وہ ڈھٹائی سے ہنس دیا۔
“ویسے یہ دماغ خراب کرنے کا کام مجھ سے بہتر یہ کر رہا ہے۔کیونکہ اسے اپنی میڈم کا دماغ خراب کر کر کے تجربہ ہو چکا ہے۔” کچھ پل کے بعد اس نے ایک طرف چپ کر کے بیٹھے ذوالنورین کی جانب اشارہ کیا۔
جو بیڈ پہ نیم دراز ولید میر اور ان کے نزدیکی کرسی پہ براجمان کلثوم میر کو دیکھ رہا تھا۔
لیکن رہبان کی چھوڑی گئی پخ پہ جب سب نے ایک ساتھ میکانیکی انداز میں گردنیں گھما کے اس کی جانب دیکھا تو وہ جھِلا اٹھا۔
“میری میڈم کا نام لینے کی ضرورت نہیں۔” اس نے فوراً چڑتے ہوئے اسے ٹوکا کیونکہ وہ پہلے ہی اس وقت اچھا خاصا تپا ہوا تھا۔
کہ اس دن کی بے اختیاری کے بعد وہ اس کے سامنے ہی نہیں آ رہی تھی۔
“لو میری کیا مجال، اُن کا نام آج تک تم نہیں زبان پہ لا سکے تو میں یہ جرات کیسے کر سکتا ہوں؟” اس پریشان کن فیز میں نگاہ اور نین کے نکاح کی خوشی ان کے موڈ کی چونچالی عروج پہ لے گئی تھی۔
“بھئی اس کی تو وہ ٹیچر ہیں نا تو اس کی ایسی جرات بے ادبی کے زمرے میں آئے گی۔” اب کی بار نگاہ کے پہلو میں بیٹھے نین نے لب کشائی کی تو بلا مبالغہ ذونین کا دل چاہا وہ ان دونوں کے دانت توڑ دے۔
لیکن فی الحال وہ مجبور تھا۔
“ماما!یہ آپ کی بہو کے متعلق فضول باتیں کر رہے ہیں۔” اس نے اپنی مجبوری کو کیش کروانا چاہا تو کلثوم میر زحلے کی بابت بات سن کے تڑپ اٹھیں۔
“دلہن کے متعلق بات نہیں کرو۔وہ بہت اچھی اور بہت پیاری ہے۔” ان کے فوراً ٹوکنے اور محبت سے بولنے پہ ذوالنورین کے ہونٹوں پہ بڑی پیاری سی مسکان مچلنے لگی۔
“وہ واقعی بہت اچھی ہیں آنٹی اور ابھی یقیناً آپ کا انتظار بھی کر رہی ہوں گی اس لیے ابھی گھر چلتے ہیں۔” ضرغام نے وقت کی نزاکت کا احساس کرتے ہوئے اس گفتگو کو سمیٹنا چاہا تو سب الرٹ ہو گئے۔
“تو کیا تمہارے انکل نہیں جائیں گے؟” انہوں نے فوراً بے چینی سے ان کی جانب دیکھا۔
“ابھی نہیں لیکن آپ پریشان نہیں ہوں جلد ہی آپ سب ایک ساتھ ہوں گے۔” اس کے نرم لہجے پہ ان کو تھوڑا حوصلہ ہوا۔
اگر چہ وہ ساری سچائی انہیں بتا چکے تھے لیکن پھر بھی ذہنی ابتری کی وجہ سے وہ سب صحیح سے سمجھ کے بھی سمجھ نہ پا رہی تھیں۔
“تم گھر جاو گے؟” ذوالنورین اور کلثوم میر کے ڈرائیور کے ساتھ نکل جانے کے بعد رہبان ضرغام کی سمت متوجہ ہوا جو بظاہر تو ان کے ساتھ موجود تھا لیکن اس کی دلکش آنکھوں کی بجھی ہوئی سرد جوت باور کروا رہی تھی کہ وہ ذہنی طور پہ غیر حاضر ہے۔
اور اس ذہنی غیر حاضری کی وجہ سے وہ بخوبی واقف تھا۔
“نہیں۔تم نین اور نگاہ کو لے کر اپارٹمنٹ جاو۔میں آج یہاں انکل کے پاس ہی رکوں گا۔” دل میں تباہی مچاتی بے سکونی و بے چینی سے اجتناب برتتا وہ اپنے مخصوص انداز میں بولا تو اس کے لہجے کی قطعیت پہ رہبان اسے دیکھ کے رہ گیا۔
“چلیے نوشے میاں، آپ کو آپ کی منزل تک چھوڑ کے آوں۔” ضرغام کی ہدایت کے مطابق وہ نین کی سمت متوجہ ہوا جو خود ضرغام کے رویے پہ خاصا ڈسٹرب نظر آ رہا تھا۔
“کچھ ہوا ہے کیا؟” اس نے کھوجتی نگاہوں سے رہبان اور ضرغام کے چہرے کو جانچا۔
“ہاں بالکل، تمہارا نکاح۔” رہبان کے برجستہ جواب پہ ضرغام اور نگاہ دونوں کے ہونٹوں پہ بے ساختہ سی مسکان پھیل گئی۔
“بہت کمینہ انسان ہے تو۔” ایک نظر ولید صاحب کو دیکھ کے وہ دانت کچکچاتے ہوئے بولا تو رہبان نے اسے آگے بڑھنے کا اشارہ کیا۔
اور پھر سالوں کی ایک کڑی مسافت کے بعد وہ دونوں ایک اٹوٹ بندھن میں بندھ کے ایک نئی منزل کی جانب گامزن ہو گئے۔
جبکہ ہاسپٹل کے اس وی آئی پی روم میں ولید صاحب کے سونے کے بعد ضرغام ملک وہیں صوفے کی پشت سے ٹیک لگائے جلتی آنکھوں کو موندے دکھتے سر کے ساتھ ان لمحات کو سوچ رہا تھا۔
جب وہ نین اور نگاہ کے نکاح کی پلیننگ کر کے سٹڈی روم سے باہر نکلا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسد صاحب کے سٹڈی روم کا دروازہ کھول کے جب وہ تینوں ایک ساتھ باہر نکلے تو سٹڈی روم کے دروازے کے پاس بیٹھی شہرے کو دیکھ کر ان تینوں کے قدم وہیں گڑھ سے گئے۔
“شہرے!” سب سے پہلے اپنے حواسوں کو یکجا کر کے اسد صاحب اس کی جانب بڑھے تو ان کی پکار پہ اس کے بکھرے ہوئے اعصاب و حواس بھی متوجہ ہوئے۔
دل میں ہوتے دباو اور گھٹن سے بے چین ہوتے اس نے بے تابی سے قدم اس کی جانب بڑھائے جو ہوش و حواس سے بیگانہ ہو کے اسد صاحب کے بازووں میں بکھر گئی تھی۔
اس کی ایسی مخدوش حالت اور چہرے پہ بکھرے آنسووں کے نشانات یہ چیخ چیخ کے بیان کر رہے تھے کہ جس حقیقت کو وہ بہت سبھاو کے ساتھ اس کے سامنے لانا چاہتے تھے اس حقیقت کے کچھ پنّے بڑے بھیانک انداز میں اس کے سامنے کھل چکے ہیں۔
“ضرغام!اپنی ماں کو بلائیں۔” شہرے کو اپنے بازووں میں سمیٹے اسد صاحب نے اسے فوری ہدایت دی تو ان کے لہجے کی سنجیدگی کو جانچتا وہ ثمرین بیگم کو بلانے کے لیے آگے بڑھ گیا۔
جبکہ اسد صاحب اس کو سنبھالے رہبان کو ساتھ آنے کا اشارہ کیے واپس سٹڈی روم میں چلے گئے۔
“ثمرین!ہم لوگ نگاہ کو لے کے جا رہے ہیں۔آپ شہرے کو ہمارے آنے تک سنبھالیں کیونکہ یہ بہت کچھ جان چکی ہیں۔کوشش کریں کہ کسی سے ملے نہیں لیکن آپ اس کے پاس رہیے گا۔” لمبی چوڑی تمہید باندھے بغیر انہوں نے ثمرین بیگم کے آنے پر انہیں کہا تو وہ شہرے کی حالت دیکھ کر تڑپ اٹھیں۔
“لیکن اس وقت ضر کو شہرے کے پاس ہونا چاہیے کیونکہ اس کے ہوش میں آنے کے بعد اس کو اس کی زیادہ ضرورت ہے۔” انہوں نے ایک نظر بیٹے کو دیکھا جس کا چہرہ شدتِ ضبط سے سرخ ہو رہا تھا جبکہ آنکھیں گویا اندرونی وحشت کے باعث دہکتی ہوئیں اس کے بے سدھ سراپے پر مرکوز تھیں۔
“ہمارا جانا اس وقت بہت ضروری ہے اور بہتر یہی ہے کہ اس کے ہوش میں آنے پر آپ اس کو کچھ ریلیکس کریں تاکہ آپ کے بیٹے کی پیشی میں کمی ہو جائے۔” لمحوں کی کثافت کو مٹانے کی ایک چھوٹی سی کوشش کرتے انہوں نے کہا تو ضرغام نے گہری سانس بھرتے اپنا رخ موڑا اور سٹڈی روم سے باہر نکل گیا۔
اس کے یوں ایک دم سے باہر چلے جانے پر سٹڈی روم میں ایک نامحسوس سی خاموشی چھا گئی جو شہرے کے ہوش میں آنے تک یونہی برقرار رہی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پھولے ہوئے چہرے کے ساتھ گاڑی کی پچھلی سیٹ پر زمل اور آئلہ کے ساتھ بیٹھی ان کے سوالات کو مکمل طور پر نظرانداز کر رہی تھی۔
لیکن جب گاڑی ‘گردیزی پیلس’ کے پورٹیکو میں جا کے رکی تو ان دونوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔
“کیا ہوا ہے دریہ؟اس قدر منہ کیوں سجایا ہوا ہے؟کسی نے یونی میں کچھ کہا ہے کیا؟” زمل نے تابڑ توڑ بے چینی سے سوالات کیے تھے۔
“تم تھوڑی دیر چپ ہو جاو پلیز۔پہلے ہی ایک لیچڑ انسان نے دماغ خراب کر دیا ہے۔” چونکہ آج اس کا سامنا ایک دفعہ پھر سے طلال شاہ سے ہوا تھا۔جس کی مستقل مزاجی اب اسے جھنجھلاہٹ میں مبتلا کر رہی تھی۔
“کس لیچڑ نے؟” وہ پل میں ہونق ہوئی تھی۔
“آبی بھابھی کے بھائی ہیں۔اللّٰہ کی قسم اگر بھابھی بھی اس قدر لیچڑ ہوتی تو ہم نے پاگل ہو جانا تھا۔” تپے ہوئے انداز میں کہتے اس نے قدم اندر کی جانب بڑھائے۔
جبکہ ان دونوں کو تو غش کے مزید دورے پڑنے لگے۔
“بھابھی کے بھائی سے تم کیوں اور کہاں ملی؟اور وہ کیوں تمہارے ساتھ لیچڑ ہو رہا تھا؟” دریہ کی آدھی ادھوری باتوں نے تجسس کی آگ بھڑکا دی تھی۔
“یونی میں میری پیسوں سے مدد کرنے والا بھابھی کا بھائی ہی تھا اور یہ بات مجھے کچھ دن پہلے ہی پتہ چلی ہے۔اور لیچڑ کیوں ہو رہا ہے اس بات کا جواب میرے پاس بھی نہیں ہے۔” اب کی بار قدرے مفصل انداز میں جواب دینے کے بعد وہ اب قدرے پرسکون سی ہوتی صدر دروازے کے پاس پہنچی۔
جبکہ اس کے انکشافات سے حیرت زدہ زمل اور آئلہ وہیں کھڑی اس کے الفاظ کو ڈی کوڈ کرتی رہیں۔
اور پھر یکایک زمل کے روشن چہرے پہ جوش سا پھیلا۔
“دریہ!کہیں بھابھی کے بھائی تم سے پیار تو نہیں کرنے لگے جو اس قدر لیچ۔۔۔۔۔۔۔” اس کی پرجوش آواز کو دریہ کی دھاڑتی آواز نے بریک لگائی۔
“بکواس بند کرو۔” ایک جھٹکے سے اس کی جانب پلٹتی وہ شیرنی کی سی مانند دھاڑی جبکہ دل اس پل گویا ہمک ہمک کے دھڑکتا بڑے نامحسوس انداز میں زمل کے کہے الفاظ کی ترجمانی کرنے کی سعی کر رہا تھا۔
مگر وہ فی الحال سمجھنے سے قاصر تھی۔
زمل کو چپ کروانے کے بعد وہ تیزی سے اندر کی جانب بڑھ گئی جبکہ وہ دونوں بھی معنی خیزی سے مسکراتی ہوئیں اس کے پیچھے لپکیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“کیا بکواس ہے یہ؟” پے در پے ہونے والے انکشافات نے ان سب کو گویا پاگل سا کر دیا تھا۔
اس پہ مستزاد ولید میر کی بڑے مشکوک انداز میں بخت خان کے پنجوں تلے سے بازیابی ان کے لیے ایک بلبلاتی ہوئی شکست تھی جس کی بدولت وہ سبھی ایک دوسرے کو کاٹ کھانے کو دوڑ رہے تھے۔
“اپنی ناکام منصوبہ بندیوں کی بجائے کوئی خاطر خواہ پیش رفت کرو بخت خان۔ہمیں ہمارا بیٹا چاہیے اس ایس پی کی قید سے۔” اس وقت بخت خان، آفاق میر اور عبدالرحمن میر سمیت شازمین میر بھی پیر حویلی کے مردان خانے میں موجود پیر سائیں کے حجرے میں موجود تھی جہاں وہ آج اپنے بڑے بیٹے جعفر سائیں کی غیر موجودگی میں ان سے محوِ گفتگو تھے۔
ان کو ان کی باقی باتوں یا انتقام سے سروکار نہ تھا انہیں اس وقت بس سفیر سائیں کی رہائی اور رہبان و ضرغام سے اپنی بے عزتی کا بدلہ چاہیے تھا۔
ان کے لیے آبگینے اس وقت مر گئی جبکہ وہ اس کے امید سے ہونے کی خبر سے آگاہ ہوئے تھے۔
اب اگر انہیں آبگینے چاہیے بھی تو فقط ایک مہرے کے طور پر جسے وہ رہبان کے خلاف استعمال کرتے۔
“ہماری خراب منصوبہ بندیوں کی ابتدا آپ کی حویلی سے ہی ہوئی تھی کیونکہ پہلی شکست یہاں سے ہی ملی ہے۔اور مجھے پورا یقین ہے کہ اس سب کے پیچھے آپ کے اُس جذباتی پوتے کا ہاتھ ہے۔” پیر سائیں کی بارعب آواز پہ شکست سے بلبلاتا بخت خان ناگواری سے بولا تو ان کے باریش چہرے پہ غیض امڈنے لگا۔
“اپنی بدلحاظی اور بلند لہجے کو لگام دو بخت خان۔بھولو مت کہ کس کے سامنے اور کہاں کھڑے ہو۔میرے پوتے پہ بنا ثبوت کے الزام لگانے پہ میں تمہیں کیا سزا دے سکتا ہوں یہ تمہاری سوچ ہے۔” غیض و غضب سے بلند ہوتی ان کی آواز پر وہ فوراً ڈھیلا پڑا تھا۔
کیونکہ وہ سفیر سائیں کا لاڈلا ہو سکتا تھا لیکن پیر حویلی کے باقی افراد کے وہ یوں سر چڑھ کے نہیں ناچ سکتا تھا۔
“آپسی اختلاف کو یہیں دفن کریں آپ سب بلکہ اس سب کا حل تلاش کریں۔” شازمین میر نے اپنی شاطرانہ زبان کھولی تو پیر سائیں نے آنکھیں سکیڑ کے اُس عورت کو دیکھا جس کی آنکھوں سے اس کا لالچ اور فریب صاف جھلک رہا تھا۔
“کل یا پرسوں میری ساس اور اس کی وہ کاغذی بہو میر پیلس سے ہاسپٹل جائیں گی کلثوم میر کے چیک اپ کے لیے۔ان کو ہاسپٹل سے کیسے غائب کروانا ہے اور اپنا ٹارگٹ حاصل کرنا ہے یہ سب بخت خان تم دیکھ لینا۔” اس نے سب کو دیکھتے ہوئے اپنی بات مکمل کی۔
“وہ دوست ایک دوسرے کی ہلکی سی تکلیف پہ تڑپ اٹھتے ہیں۔ان میں سے ایک کی رٙگ پہ پاوں رکھو گے تو سارے پھڑپھڑا اٹھیں گے اس لیے ان دونوں عورتوں کے ذریعے ہم سب حاصل کر سکتے ہیں۔” اس کی کہی گئی بات پہ پیر سائیں اور بخت خان دونوں کے اعصاب تھوڑے ڈھیلے پڑے تھے۔
“اور تو اور ہم یہ بھی جان لیں گے کہ ذوالقرنین زندہ ہے یا نہیں کیونکہ جو کچھ ہماری ناک تلے ہو رہا ہے یہ سب نجانے کیوں کھٹکنے لگا ہے۔” اسے رہ رہ کے ذوالنورین کا سرد انداز اور زحلے کے ساتھ اس کا رویہ عجیب سے احساسات سے دوچار کر رہا تھا۔
اس پہ مستزاد جس طرح سے وہ کلثوم میر کو اوپر لے کے گئے تھے یہ سب اس کے لیے خطرے کی گھنٹی تھا اس لیے اب وہ جلد از جلد ایکشن لینا چاہتی تھی۔
“یہ آخری چانس ہے تم سب کے لیے۔اس کے بعد اگر تم لوگ کچھ نہ کر سکے تو اپنے راستے ناپ لینا کیونکہ پھر میں خود کچھ کروں گا۔” بات کو سمیٹتے ہوئے پیر سائیں نے نخوت سے کہا تو وہ سب انہیں دیکھ کے رہ گئے لیکن کہا کچھ نہیں۔
کیونکہ انہیں ان کے ساتھ کی نا چاہتے ہوئے بھی ضرورت تھی۔
اپنے نام، مقام و مرتبے کی بدولت ان کی ایسے بہت سے افراد سے علیک سلیک تھی جن کی ان سب کو اپنے کالے دھندوں اور غیر قانونی کاموں میں مدد کی ضرورت پڑتی تھی۔
اس لیے سب اس وقت اپنے اپنے مفاد کی بدولت چپ بیٹھے فضا کو مزید بوجھل کر گئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پھوڑے کی مانند دکھتے سر کے ساتھ اس نے بوجھل ہوتی پلکوں کو آہستگی سے وا کرتے ہوئے شعور کی راہ پہ پیر رکھنے چاہے۔
لیکن سوجے ہوئے پپوٹے اور دکھتا ہوا سر اسے آنکھیں کھولنے نہیں دے رہا تھا۔
“شہرے!” اس کے چہرے پہ چھائی بے چینی اور تکلیف دیکھتے ہوئے اس کے پاس بیٹھی ثمرین بیگم نے فوراً اس کے گال کو نرمی سے تھپتھپاتے ہوئے اسے پکارا تھا۔
“شہرے!میری جان،آنکھیں کھولیں۔” محبت و فکر سے بھرپور لہجہ، رخسار پہ محسوس ہوتے نرم لمس پہ اس نے پوری ہمت مجتمع کرتے ہوئے اپنی پلکیں وا کیں تو کمرے میں چھائی روشنی کی بدولت اس کی آنکھیں چندھیا سی گئیں۔
تیزی سے واپس پلکیں موندتے ہوئے اس نے اس روشنی سے بچنے کی فوری کوشش کی تھی۔
“شہرے!” ایک دفعہ پھر سے وہی نرم لہجہ گونجا تو اس نے گہری سانس بھرتے آہستگی سے آنکھیں کھولیں تو نظریں سیدھی ثمرین بیگم کے متفکر چہرے سے جا ٹکرائیں۔
ان کے چہرے سے ہوتی اس کی نظریں دائیں سے بائیں جانب پھسلیں تو یکایک بیتے لمحات اس کی آنکھوں کے سامنے لہرانے لگے۔
وہ ایک دم سے اٹھ بیٹھی اور بے چینی سے اس سٹڈی کو دائیں بائیں دیکھا۔پھر یکایک اس کی خوبصورت آنکھیں آنسووں سے بھر گئیں۔
“ب۔۔بڑی دادو!ضر۔۔۔۔نگاہ۔۔۔دھوکہ۔۔۔۔۔” دھچکہ اس قدر شدید تھا کہ وہ بات بھی نہ کر پا رہی تھی بلکہ لفظ ٹوٹ کے اسی طرح ہونٹوں سے نکل رہے تھے جیسے وہ ٹوٹ کے روتی ہوئی ثمرین بیگم کے سینے سے جا لگی تھی۔
“شش!ابھی کچھ مت سوچو میری جان!آپ ابھی کچھ نہیں جانتی ہو اس لیے پریشان مت ہو۔” اس کے بال سہلاتے ہوئے انہوں نے اسے تسلی دینی چاہی لیکن اس کا دل سنبھلنے میں ہی نہ آ رہا تھا۔
اسے یہ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ اپنے کس کس نقصان پہ روئے؟
ضرغام کی محبت ہونے کے باوجود اس کی زندگی میں سیکنڈ چوائس کے طور پر شامل ہونے پر؟
ضرغام اور نگاہ کے اس تعلق کے بننے پر یا ٹوٹنے پر؟
یا پھر
ان ساری باتوں کو اس سے چھپانے پر؟
اس پر ثمرین بیگم کہہ رہی تھی کہ وہ ساری سچائی سے واقف نہ تھی۔اب مزید کیا جاننے والا تھا جو اس کی ذات کے پرخچے اڑا دینے والا تھا۔
اسے آج ایک دفعہ پھر سے کلوزٹ اور اس میں رکھی چیزیں یاد آئیں تو دل چاہا سب تہس نہس کر دے۔
اور اس سے بھی پہلے ان لوگوں کی ہستی فنا کرے جنہوں نے اس کی زندگی کو مذاق بنایا تھا۔
جتنا سنا تھا یا جتنا سمجھا تھا اسی کو حقیقت مانتی وہ اس وقت خود اذیتی و درد کی انتہا پر تھی۔
“جہاں اتنا صبر کیا ہے وہیں آج کی رات مزید صبر کر لو میری جان۔یہ رونا بند کرو اور ضرغام کے آنے تک خود کو سنبھالو پلیز۔” اس کے آنسو پونچھتے ہوئے انہوں نے کہا تو ضرغام کے نام پر دل میں جیسے شرارے بھڑکنے لگے تھے۔
لیکن بمشکل خود کو سنبھالتی وہ منہ ہاتھ دھونے کے بعد ‘ملک منزل’ چلی گئی تھی۔
کہ اس وقت ‘ملک ہاوس’ اپنی فریب کاریوں کے باعث کاٹ کھانے کو دوڑ رہا تھا۔
اور شاید نکاح کے اتنے لمبے دورانیے کے بعد پہلی دفعہ وہ دل سے ‘ضرغام ملک’ کی منتظر تھی۔
کہ اب سودوزیاں کے حساب کا وقت تھا۔
اور وہ اپنے تئیں اس کے لیے مکمل تیار تھی۔
بنا حقیقت جانے
بنا حقیقت سمجھے۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پرفسوں رات کی تاریکی اور گلاب کے پھولوں کی دلفریب مہک اور دو دلوں کی رومان پرور دھڑکنوں کی گونج سے اس وقت اپارٹمنٹ کا وہ کمرہ معطر تھا جہاں کچھ دیر قبل رہبان انہیں چھوڑ کے گیا تھا۔
ناصرف اپارٹمنٹ چھوڑ کے گیا تھا بلکہ انہیں زبردستی ان کے لیے ہلکے پھلکے انداز میں سجائے گئے بیڈ روم میں بھی پہنچا کے آیا تھا۔
جہاں اس وقت تھری سیٹر صوفے پہ بیٹھی نگاہ بیڈ پہ بیٹھے نین کی گہری نگاہوں کے ارتکاز سے بے چین ہوتی اپنی ہتھیلیاں رگڑ رہی تھی۔
پیچ کلر کے دیدہ زیب سوٹ کے ساتھ سرخ دوپٹے کندھوں پہ رکھے، وہ سلکی بالوں کو کیچر میں جھکڑے، سلور سینڈل پہنے، جیولری کے نام پر کانوں میں حسبِ معمول ٹاپس جبکہ ہاتھ میں انگوٹھی پہنے قدرے نروس سی بیٹھی وہ کہیں سے بھی چند گھنٹوں کی دلہن نہ لگ رہی تھی۔
وہ کبھی بھی اتنی دبو یا شرمیلی نہیں رہی تھی لیکن نئے نئے رشتے کی قربت و احساس اس پر نین کے ساتھ کمرے کی تنہائی اور اس کی گہری بے باک نگاہوں کا ارتکاز اسے صحیح معنوں میں بوکھلا رہا تھا۔
اس کی بوکھلاہٹ اس وقت دوچند ہو گئی جب وہ بیڈ سے کھڑا ہوتا مضبوط قدم اٹھاتا اس کی جانب بڑھا اور پھر بڑے اطمینان کے ساتھ اس کے ساتھ آ کے صوفے پہ یوں براجمان ہو گیا کہ اس کا مضبوط کندھا اس کے دائیں کندھے کو چھوتا اس کی دھڑکنیں منتشر کر گیا۔
جاری ہے۔
اگلی قسط انشاءاللّٰہ جلد ہی۔دعاوں میں بے تحاشا یاد رکھیں۔شکریہ
