No Download Link
Rate this Novel
Episode 34
“دل تیرے سنگ جوڑ لیا”
از
حوریہ ملک
Episode#34;
اس نے پھٹی پھٹی نگاہوں سے اسے دیکھا جو بیڈ کے نزدیک جھکا ہوا تھا۔
“ت۔۔آپ۔۔میرا مطلب تم ٹھیک ہو؟” اس کی حیران و بے یقین آواز جیسے گہری کھائی سے آتی محسوس ہوئی۔
وہ بے یقینی سے اسے دیکھ رہی تھی جو ایک ہاتھ سائیڈ ٹیبل پہ رکھے جھکنے کے سے انداز میں کھڑا تھا۔
” کیا وہ اپنے پیروں پہ کھڑا ہو سکتا تھا؟” سائیں سائیں کرتے ذہن کے ساتھ اس نے سوچا۔
مگر اگلے ہی پل وہ لڑکھڑاتے ہوئے زمین پہ آ گرا تو دروازے کے پاس ششدر کھڑی زحلے کا دماغ جیسے مزید آندھیوں کی زد میں آ گیا۔
“واشروم جانا ہے مجھے۔” وہ حیرتوں کے سمندر میں غوطہ زن وہیں ساکت کھڑی تھی جب اس کی درد سے چور آواز پہ ہوش میں آئی۔
اس نے نظریں گھما کے اسے دیکھا جو بیڈ کے نزدیک اوندھے منہ گرا بہت تکلیف سے سیدھے ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔
اس کے چہرے پہ چھائے تکلیف دہ تاثرات دیکھ کے اس کے دل میں چھانے والے مشکوک خیالات بھک سے اڑے اور وہ تیزی سے اس کی جانب لپکی۔
“میرے آنے کا ویٹ کر لیتے تم، خود کو اتنی تکلیف کیوں دی تم نے؟” اس کے مضبوط و توانا وجود کو اپنی نازک بانہوں میں سمیٹنے کی کوشش کرتی وہ متفکر لہجے میں بولی تو اس نے توجہ سے اس کی جانب دیکھا جو اپنی جان توڑ کوشش سے اسے سیدھا کرنے میں لگی تھی۔
“ٹھیک ہوں میں.” اس کے چہرے پہ چھائے شرمندگی اور تکلیف کے رنگ دیکھ کر اس نے بے ساختہ کہا لیکن وہ اس کی طرف متوجہ نہیں تھی بلکہ وہ اس کی کمر میں دونوں بازو حائل کیے اسے اٹھانے کی کوشش میں اپنے سر سے سرکتے دوپٹے سے بے خبر تھی۔
“لیکن اب شاید ٹھیک نہ رہوں۔” اسے دیکھتے ہوئے اچانک وہ جس انداز میں بڑبڑایا تھا، زحلے نے چونک کے اسے دیکھا لیکن اس کی خوبصورت آنکھوں کا مرکز۔۔۔۔۔
اففف!اس کی خوبصورت آنکھوں کا مرکز اس کی صراحی دار گردن میں پہنا وہ نیلا موتی تھا۔ اور اس تمام عرصے میں بہت لاشعوری طور پر وہ اتنا تو جان ہی چکی تھی کہ اِس موتی کو دیکھ کہ یہ شخص بے لگام ہو جاتا تھا۔
“تم ج۔۔جلدی سے فریش ہو جاو پھر تم اپنی ماما سے مل سکتے ہو۔” اس کی توجہ بھٹکانے کو اس نے جلدی سے اپنے بازووں کو حرکت دیتے ہوئے اسے اٹھانے کی کوشش کی لیکن اس جیسے جوان مرد کو اُس کے لیے زمین سے مکمل اپنے سہارے پہ اٹھانا اتنا آسان بھی نہیں تھا۔
“ماما ٹھیک ہیں؟” نگاہیں ہنوز گردن میں ڈولتے موتی پہ جمائے وہ گہری سنجیدگی سے بولا تو زحلے نے آہستگی سے سر اثبات میں ہلایا تو اس کی حرکت کے ساتھ سفید گردن میں نیلے موتی کی دلفریبی پہ ضبط کھوتا وہ اس کی جانب جھکتے ہوئے لب اس موتی کی خوبصورتی کو محسوس کرنے کے لیے جما گیا۔
وہ جو گھٹنوں کے بل بیٹھی اسے بمشکل تھوڑا سیدھا کر کے بٹھانے پر کامیاب ہوئی تھی اس سچویشن میں ایسی حرکت پہ بوکھلاتی ہوئی بمشکل خود کو لڑکھڑانے سے بچاتی اپنے سست پڑتی دھڑکنوں کے ساتھ اس کے بدن میں اپنے ناخن گھسیڑ گئی۔
“بس کرو۔” چند لمحوں بعد اس نے بھاری آواز کے ساتھ اسے پکارا تھا۔
اس کی پکار پہ وہ سنبھلتے ہوئے پیچھا ہٹا تو وہ سرخ مگر سپاٹ چہرہ لیے بڑی محنت سے اس کے وجود کو سہارا دیتی بالآخر بیڈ پہ بٹھانے میں کامیاب ہو گئی تھی۔
اسے بیڈ پہ بٹھانے کے بعد اس نے وہیل چیئر نزدیک کی اور اسے اس پہ بٹھا کر واشروم کی جانب لے گئی۔
اسے واشروم بھیج کر وہ تھکے تھکے قدموں سے چلتی واپس بیڈ کی طرف آئی اور وہیں بیڈ گئی۔
“تمہارا دیا گیا ٹارگٹ پورا کر چکی ہوں اب شاید مجھے میرے ناکردہ گناہ کے اس ازالے سے آزاد کر دیا جائے تو ایسے میں تمہاری ایسی جسارتیں میری راہ کھوٹی کر دیں گی۔” وہ جانتی تھی کہ اس شخص نے نکاح اپنی ماں کے لیے ہی اس سے کیا ہو گا تو اب جب اس کی ماں اس سے ملنے والی تھی اور وعدے کے مطابق اپنی ڈگری مکمل کر لے گا ایسے میں ان دونوں کا رشتہ جو ایک الزام سے شروع ہوا تھا اس کا تو وجود مٹ جائے گا۔
“لیکن کیا اس رشتے کے ختم ہونے کے بعد شازمین میر مجھے آزادی سے جینے دیں گی؟کیا وہ میرے بابا پہ لگائے گئے پیسوں کے لیے مجھے ذلیل نہیں کریں گی؟” بہت سارے سوال ایک ساتھ اس کے ذہن پہ حملہ آور ہوئے تو وہ اضطرابی کیفیت میں اٹھ کے ادھر سے اُدھر چکرانے لگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آبگینے اور رہبان نے جیسے ہی ایک ساتھ گردیزی ہاوس میں قدم رکھا تو ان پر پھولوں کی برسات ہونے لگی کیونکہ رہبان میسج پہ سائرہ بیگم کو بتا چکا تھا۔
“بہت بہت مبارک ہو بچے، اللّٰہ پاک خیر سے وقت لائے اور ہمیں دیکھنا نصیب فرمائے۔” بی جان نے محبت سے آبگینے کا سر چومتے ہوئے دعائیں دی تو وہ سرخ چہرے کے ساتھ کھل کے مسکراتی دل میں آمین کا ورد کرنے لگی۔
“مجھے یقین نہیں آتا کہ یہ وہی رہبان ہے جس نے کچھ ماہ قبل گھر میں جنگ کا طبل بجایا ہوا تھا کہ مجھے شادی نہیں کرنی۔اب یہ وہی رہبان ہے جو چار ماہ بعد ہمیں باپ بننے کی نوید سنا رہا ہے۔” داود نے مسکراتے لہجے میں رہبان کو چھیڑا جس کے چمکتے چہرے سے اس کی خوشی چھلک رہی تھی۔
جبکہ داود کی شرارت پہ سبھی کھلکھلا دیے تھے۔
“واقعی!تب تو یوں لگ رہا تھا جیسے لالہ سے گن پوائنٹ پہ شادی کے لیے رضامندی مانگ رہے لیکن شادی کے بعد لالہ بیوی لے کر فرار ہو گئے۔” دریہ نے بھی داود کی شرارت میں حصہ ڈالا۔
“میں ایسے ہی اٙن پریڈکٹیبل کام کرتا ہوں۔” بے شرمی سے کہتے ہوئے اس نے آبگینے کو دیکھا لیکن اس کا چہرہ اس وقت نجانے کیوں گہری سنجیدگی کی لپیٹ میں تھا۔
“بھابھی!بچے کا نام میں رکھوں گی۔” زمل نے اشتیاق سے کہا تو اس کا سنجیدہ چہرہ ہلکا سا گلابی ہوا مگر آنکھوں کے تاثرات دیکھ کر وہ الجھا تھا۔
“الہٰی خیر!مجرموں کے حلق سے ناکردہ گناہ تک اگلوا لیتا ہوں لیکن بیوی کا خوشگوار موڈ برقرار رکھنے سے قاصر ہوں۔” وہ دل ہی دل میں کراہا۔
بی جان نے فوراً صدقے کے کالے بکرے منگوائے اور ان کا ہاتھ لگوا کر صدقہ دیا۔
کافی دیر ان لوگوں کے پاس بیٹھنے کے بعد جب سائرہ بیگم نے آبگینے کو کمرے میں بھیجا تو تھوڑی دیر بعد وہ بھی اس کے پیچھے گیا تھا۔
دروازہ آہستگی سے کھولتے ہوئے اس نے اندر قدم رکھا تو وہ بیڈ کے کنارے پیر لٹکا کے بیٹھی نظر آئی۔
“کیا بات ہے؟طبیعت ٹھیک ہے نا؟” اس کے نزدیک بیٹھتے ہوئے اس نے نرمی سے استفسار کیا تو آبگینے نے اس کی آواز پہ سلگتی نظر اٹھا کے اُس کی جانب دیکھا۔
“مجھے ابھی تھانے جانا ہے لیکن اگر تم ایسی نظروں سے مجھے دیکھو گی تو واللّٰہ میں لیٹ ہو جاوں گا۔” اس کی خود کی جانب اٹھتی نظر کو محسوس کرتا وہ بے باکی سے بولا تو وہ جی جان سے گڑبڑائی۔
“میرے ساتھ بدتمیزی نہ کیا کریں۔” اپنے چہرے سے چھلکتی شرم کی سرخی کو اس نے غصے کی دبیز تہہ تلے دبانا چاہا۔
“میرا ارادہ تو مزید بدتمیزی دکھانے کا ہے، دیکھا نہیں آپ نے کہ ان بدتمیزیوں کا کیسا انمول نتیجہ مل رہا ہے۔” شرارت سے کہتا وہ اس کی جانب جھکا تو آبگینے نے فوراً اس کے ہونٹوں پہ اپنی ہتھیلی جمائی۔
“آپ نے مجھ سے شادی کرنے سے انکار کیا تھا؟” وہ جو اس کی ہتھیلی چوم رہا تھا اس کے غیرمتوقع سوال پہ چونکا۔
“نہیں، کیوں؟” حیرت سے استفسار کرتے ہوئے اس نے اس کی کلائی پہ لب رکھنے چاہے جب اس تجاہل عارفانہ پہ بگڑتی ہوئی آبگینے نے اپنی کلائی کھینچی۔
“جھوٹ نہیں بولیں، آپ کے کزنز کہہ رہے ہیں کہ آپ نے شادی سے انکار کیا تھا۔” وہ نہیں جانتی تھی کہ اسے کیا چیز بری لگی تھی لیکن اس وقت اسے اس پر بہت غصہ آ رہا تھا۔
“ہاں شادی سے انکار کیا تھا لیکن تم سے شادی پر نہیں۔” وہ اس کی اس بے موقع گفتگو سے الجھتا نپے تلے جوابات دیتا اس گفتگو کے پسِ منظر کو جاننا چاہ رہا تھا۔
“لیکن مطلب؟آپ کی شادی کسی اور سے بھی ہو رہی تھی؟” اس کے جواب پہ جلتی آبگینے کی آواز صدمے اور غصے کی شدت سے گویا پھٹنے والی ہو گئی۔
“اوہ مائی گاڈ!کیا ہو گیا ہے مسز؟ میری صرف ایک عدد ہی شادی ہوئی ہے اور بھی صرف تم سے۔” اس نے فوراً سے پہلے اس کی تصحیح کی۔
“پھر آپ نے مجھ سے شادی کرنے سے انکار کرنے کی جرات کیسے کی؟اور ایسے انکار کے بعد یوں رومینس جھاڑ رہے ہوتے جیسے میری محبت میں گوڈے گوڈے غرق ہو چکے ہیں۔” اس کے اندر کا غبار کھل کے باہر آیا تو اس کی بات سمجھتے رہبان کے ہونٹوں پر بڑی دلفریب سی مسکان پھیلی تھی۔
“آبگینے ڈارلنگ!شادی سے انکار اس لیے کیا تھا کہ مجھے کسی فضول رسم کو پروان نہیں چڑھانا تھا لیکن پھر میں نے سوچا کہ رسم کو پروان چڑھانے کی بجائے اگر پیر سائیں کی پوتی کو لے کر فرار ہونے پر عشق لڑا لیا جائے تو زیادہ بہتر رہے گا۔” اس کے دونوں ہاتھ زبردستی تھام کر اسے اپنے نزدیک کرتا وہ گھمبیر لہجے میں بولتا اس کی جانب جھکا تو وہ گڑبڑائی۔
“مجھے اندازہ نہیں تھا کہ میرے عشق سے چڑتے ہوئے آپ اِس عشق کی عادی ہو جائیں گی اور میرا انکار اس قدر ناگوار گزرے گا آپ پر۔” آنکھوں میں شرارت لیے وہ اس کی ناک پہ لب جماتا اسے سر تاپا حیا آمیز خجالت میں مبتلا کر گیا۔
“ایسا کچھ نہیں ہے۔” حجاب آمیز انداز میں اس نے اس کی تردید کرنی چاہی لیکن اس کے ہاتھوں تو جیسے قارون کا خزانہ لگ گیا تھا۔
فوراً سے ہنستے ہوئے اسے بے حد نزدیک کرتا اس کے رخسار پہ جھکا۔
“ایسا بہت کچھ ہے اس لیے مسز اب میری بنائی گئی چائے کی پیالی کو منہ سے لگا لیجیے گا تاکہ ہمارا بیٹا عاشق مزاج ہو۔” دلنوازی سے کہتا وہ اس کے چہرے پہ اپنے استحقاق کے پھول کھِلاتا ہوا اس کے پاس سے اٹھا تو وہ اس کی قربت و لمس سے دہکتا چہرہ لیے اس کی جسارتوں کو یاد کرتی سمٹ رہی تھی جو آفس کے لیے نکل چکا تھا۔
وہ اپنے تمتماتے چہرے کو تھپتھپاتی لیٹنے کے لیے سیدھی ہوئی ہی تھی کہ اس کے موبائل پہ آتی کال نے اسے ساکت کر دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“کیسا لگ رہا ہوں میں باپ بن کر؟” اشتیاق سے پوچھتے ہوئے اس نے ایک نظر اُن چاروں کو دیکھا۔
“ابھی باپ بنے نہیں ہو۔” ذونین نے تنک کے اسے باور کروایا اس نے گویا ناک پر سے مکھی اڑائی۔
“اوکے کیسا لگ رہا ہوں میں باپ بننے کی خبر پا کر؟” فوراً ہی سوال میں ردو بدل کیا گیا۔
“سات سینگ لگ گئے ہیں تمہیں۔” نین نے سنجیدگی سے جواب دیا تو وہ تپ اٹھا۔
“بہت کمینے ہو تم سب۔ایک تو اس گڈنیوز کی وجہ سے تم لوگ اکٹھے ہوئے ہو اس پر میری بے عزتی کیے جا رہے ہو۔” اس نے انہیں شرم دلانی چاہی جب تپا ہوا بیٹھا ذونین بھڑک اٹھا۔
“یہ اکٹھا کرنے کا کون سا طریقہ ہے؟کسی شریف انسان کو اس کے کمرے سے ایسے کون اٹھا کے لاتا ہے؟” اسے رہ رہ کے ان لوگوں پر تاو آ رہا تھا۔
“شریف انسان کو نہیں لایا جا سکتا لیکن تم چونکہ شریف نہیں ہو اس لیے تمہیں لے آئے ہم۔” اس کے اشتعال کے برعکس ضرغام کا پرسکون انداز قابلِ دید تھا۔
“میری ٹیچر سے پوچھو کتنا شریف ہوں میں۔” اس نے ناک چڑھاتے ہوئے کہا تو سب نے سر جھٹک کے اس کی بات ہوا میں اڑائی۔
“اور اس ٹیچر پہ کیا گزرے گی جب وہ اپنے شریف شوہر کو جو کہ معذور بھی ہے، کمرے سے غیر حاضر پائے گی۔” نگاہ نے آنکھیں پٹپٹاتے ہوئے بظاہر بڑی ہمدردی سے استفسار کیا تھا لیکن زونین کا چہرہ دیکھ کے اس کی ہنسی چھوٹ گئی۔
“ہاں تم لوگ ہنس لو، وہ پہلے ہی میری طرف سے بہت سے حملوں کی زد میں رہتی ہیں ایسے میں مجھے غیر حاضر پا کر وہ نجانے کیا سمجھیں گی۔” اس نے بے چینی سے اپنے گھنیرے بالوں میں انگلیاں پھیریں۔
“ڈونٹ وری، یہ وقت ان کا خالصتاً اپنی ساس کے نام ہوتا ہے۔اس وقت وہ تمہیں اتنا سا بھی یاد نہیں کرتیں۔” رہبان نے ایک دفعہ پھر سے اس کا دل جلانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی تھی تبھی اس نے بے دریغ ایک مکہ اس کے شانے پر رسید کیا۔
“تم کب نکل رہے ہو کراچی کے لیے؟” رہبان کی خاطر مدارت کے بعد اس نے نین سے پوچھا جو نگاہ کے نزدیک ہی صوفے پر براجمان تھا۔
“ابھی یہاں سے سیدھا کراچی کے لیے ہی نکلوں گا۔” نین کے جواب پر اس نے ہولے سے سر اثبات میں ہلایا۔
“اپنا خیال رکھنا اور ہمارے لیے یا ماما کے لیے پریشان نہیں ہونا۔ جس طرح اللّٰہ تعالی نے پہلے ہماری مدد کی ہے، وہ اب بھی ہماری حفاظت و مدد کرے گا۔” وہ نرمی سے اسے دیکھتے ہوئے بولا تو اس نے مسکرا کے اسے دیکھا۔
“تم گھر میں کب اپنی ڈائیورس کی بات کرو گے؟” رہبان نے مونگ پھلی کے دانے منہ میں ڈالتے ہوئے ضر کی جانب رخ کیا۔
“آج ہی کوشش کروں گا تاکہ نین کے کراچی سے آنے تک بظاہر نگاہ اپنی عدت مکمل کر لے۔” اس کے سنجیدگی سے کہنے پر فضا ایک دم سے بوجھل ہو گئی۔
یہ ایسا موضوع تھا جس پر بات ہمیشہ انہیں شرمندگی و اذیت کا شکار کر دیتی تھی۔
اس رشتے کی خوبصورتی و پاکیزگی کو اپنے مطلب کے لیے استعمال کرنے کا گلٹ انہیں جھکڑ لیتا تھا۔
“ہممم!میں نکلتا ہوں اب کیونکہ مجھے ان چالباز میر برادرز کے خفیہ ٹھکانوں پر ریڈ مارنی ہے۔” اپنے گھٹنوں پہ ہاتھ جماتا وہ اچانک در آئی خاموشی کو توڑتے ہوئے اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا تھا۔
“محترم ذوالنورین میر!کیا آپ میرے بازووں میں اٹھنا پسند کریں گے تاکہ جلد از جلد مس ابراہیم کے پاس پہنچ جائیں؟” اس کے پاس ٹھہرتا وہ ڈھٹائی اور بے شرمی کے ریکارڈ توڑتے ہوئے بولا تو ذونین نے فورا کشن اس کے منہ پہ پھینکا۔
“انتہائی کوئی بے شرم اور کمینہ انسان ہے تو۔” اس نے اس لمحے پر بے شمار دفعہ خود کو ملامت کی جب اس نے رہبان کے سامنے زحلے کو ‘مس ابراہیم’ کہہ کے مخاطب کیا تھا۔
تب کا دن تھا اور آج کا دن تھا وہ اسے اس نام پر بہت چھیڑتا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“یار ایک بات تو بتاو؟” دریہ آج پھر سے گردیزی ہاوس میں ہی قیام پذیر ان لوگوں کے ساتھ مووی دیکھ رہی تھی جب اچانک کچھ یاد آنے پر بول اٹھی۔
“ہممم؟” نظریں سکرین پر ہی جمائے مشعل نے ہنکارہ بھرا۔
“کوئی بندہ اگر کسی ایسی جگہ بار بار جائے جہاں اس کا کوئی کام نہ ہو تو اس کا کیا مطلب ہوا؟” اپنے اندر ہوتی کھدبد کو اس نے لفظوں کا روپ دینے کی کوشش کی۔
“سیدھی سی بات ہے، بندہ کوئی بہت ہی ویلی سی قسم کا ہے۔” سکرین پہ ہی نظریں جمائے مشعل نے پوری سنجیدگی سے جواب دیا تو وہ سخت بدمزہ ہوئی۔
“اونہوں، یار دیکھو اگر کوئی بندہ یونی بار بار آئے حالانکہ کوئی کام بھی نہ ہو تو پھر؟” اس کے اب کے سوال ذرا وضاحت سے پیش کرنے کی کوشش کی تھی۔
“پھر تو اس بندے کے ساتھ کوئی دماغی خلل ہو گا کیونکہ یونی کوئی بندہ کام ہوتے ہوئے نہ جائے کجا کے بغیر کام کے جانے۔” بنا کسی دیری کے مشعل نے پٹخ سے جواب دیا تو دریہ کا دل چاہا اپنا ماتھا پیٹ لے یا واقعی اس بات کو سچ تسلیم کر لے کہ اس شخص کے ساتھ کوئی دماغی خلل ہے۔
“اوہ میری ماں، بندہ کسی جگہ بغیر مقصد کے نہیں جاتا۔ اگر کام نہ ہونے پہ بھی آپ کہیں جاتے ہو تو مطلب یہ ہے کہ آپ وہاں کی کسی شے سے انسیت رکھتے ہو۔” اس کا منہ دیکھ کے زمل نے اب کے مووی سے نظریں ہٹا کے اسے جواب دیا تو وہ سوچ میں پڑ گئی۔
“ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ اس بندے کو یونی کی کوئی لڑکی پسند ہو گی۔” ختمی نتیجہ نکال کے وہ پرسکون ہوتی مووی کی جانب متوجہ ہو گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب رہبان گردیزی نے آفاق میر اور عبدالرحمن میر کے بنائے گئے خفیہ ٹھکانوں پر ریڈ ماری اس لمحے
ذوالقرنین میر سفیر سائیں کے نام سے بننے والی فیکٹری(جو کہ اس وقت بند پڑی تھی) کو آتشِ نذر کر چکا تھا۔
اور ذوالنورین میر صوفے پہ بیٹھا دھڑکتے ہوئے دل کے ساتھ اپنی ماں کا منتظر تھا جبکہ ضرغام ملک اور نگاہ واحدی گویا ایک کٹہرے میں کھڑے آنے والے وقت کے لیے خود کو تیار کر رہے تھے۔
“میں نگاہ کو ڈائیورس کرنا چاہتا ہوں۔” اس کے ہونٹوں سے نکلنے والے الفاظ اس پل وہاں موجود افراد کی سماعتوں پہ بم کی طرح پھٹے تھے۔
اور ایسا ہی بم ‘ملک منزل’ میں موجود اپنے پیپرز کی سماعتوں میں بھی پھٹا تھا جب عائلہ نے فوراً فون کال کر کے اسے اطلاع دی۔
“شہری!ضر لالہ نگاہ کو ڈائیورس دے رہے ہیں۔” عائلہ کے بوکھلائے ہوئے لہجے میں دی گئی اطلاع پر شہرے ملک کا پورا وجود ہِل کے رہ گیا۔
جاری ہے۔
ق
