No Download Link
Rate this Novel
Episode 2
“دل تیرے سنگ جوڑ لیا”
از
حوریہ ملک
“کون ہو تم؟” درشت لہجے میں کیے گئے استفسار پہ اس کی ٹانگوں سے جیسے جان نکلنے لگی۔
“وہ م۔۔۔میں۔۔۔آہہہہ!” اگلے ہی لمحے اس شخص نے سامنے پڑے میز پہ رکھا اپنا قیمتی موبائل اٹھا کے دیوار پہ زور سے مارتے ہوئے اپنا سوال دہرایا تو اس کے حلق سے ایک واشگاف سی چیخ نکلی۔
اس شخص کی سرخ آنکھوں سے چھلکتی وحشت دیکھ کے اسے لگا کہ جیسے وہ اسی وقت اپنے حواس کھو دے گی۔
اس وقت اس کی لرزتی ٹانگوں میں اتنی سکت نہ رہی تھی کہ وہ پلٹ کے اس کمرے کی دہلیز پار کر جائے اور اس زندان سے بھاگ نکلے۔
“کون ہو تم؟تمہاری ہمت کیسے ہوئی یہاں آنے کی؟” اس کی لرزتی کانپتی اور ابتر حالت کا اثر لیے بنا وہ بلند آواز میں دھاڑا تو وہ لرزی لیکن اس سے پہلے کہ وہ کوئی ردعمل دے پاتی کمرے میں ایک نرم آواز گونجی۔
“یہ آپ کی ٹیوٹر ہیں۔” نوارد کی آواز جہاں اس شخص کے لیے حیرانگی کا باعث تھی وہیں اس کی سماعتوں پہ کوڑے کی مانند برسی۔
اس نے اپنی شہد رنگ آنکھوں میں شدید حیرت و بے یقینی بھرے اس بھرپور مرد کو دیکھا جسے اسے ٹیوشن دینے کے لیے کہا جا رہا تھا جبکہ وہ تو یہاں کسی بچے کو ٹیوشن دینے کا سوچ کے آئی تھی۔
اس کا سر اس عجیب و غریب افتاد پہ چکرا اٹھا تھا۔
“مجھے کسی ٹیوٹر کی ضرورت نہیں ہے، آپ اسے یہاں سے واپس بھیج سکتے ہیں۔” حقارت سے ایک سائیڈ پہ کھڑی زحلے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے وہ بولا تو اس کی شہد رنگ آنکھیں اپنی اس قدر ذلت پہ آنسووں سے بھر گئیں جنہیں چھپانے کو وہ لرزتے قدموں کے ساتھ وہاں سے بھاگنے کی سعی کرنے لگی۔
“زوالنورین میر!آپ نے ایک ہفتہ قبل مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ آپ اپنی سٹڈی مکمل کریں گے اس لیے آپ وعدہ نہیں توڑ سکتے۔” ڈاکٹر مرتضیٰ جن کی عمر لگ بھگ پچاس سے پچپن سال کے درمیان ہو گی ان کی نرم مگر قدرے تنبیہی آواز کمرے کی چوکھٹ پار کرتی زحلے کی سماعتوں سے ٹکرائی لیکن وہ بنا مزید کچھ سنے کانپتے قدموں کے ساتھ وہاں سے نکل کھڑی ہوئی۔
جبکہ کمرے میں بیٹھا ذوالنورین میر تاحال ابھی تک اس جگہ کو نفرت سے گھور رہا تھا جس جگہ کچھ لمحے قبل وہ اپنی تمام تر خوبصورتی و معصومیت کے ساتھ کھڑی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لگژری آفس کی داہنی گلاس وال کے سامنے کھڑا وہ خوبصورت ہونٹوں کے بیچ سگریٹ دبائے اپنی بھوری آنکھوں کو نیچے سڑک پہ پھسلتی تیز رفتار گاڑیوں پہ مرکوز کیے ہوئے تھا جبکہ خیالات کی روش نجانے کس رو میں بہکی ہوئی تھی۔
“آپ کے ہاتھوں پہ موجود یہ تل مجھے بہت پسند ہیں۔” ایک کھنکتی ہوئی آواز کانوں میں گونجی تو پشت کی جانب موڑے اس کے دائیں ہاتھ کی انگلیاں بے ساختہ انداز میں اندر کی جانب بھنچ سی گئیں۔
“وہ تمہارے لیے اس دنیا میں اتاری ہی نہیں گئی ہے اس لیے اس کا خیال اپنے ذہن سے نکال دو ضرغام ملک۔” ایک اور بے لچک اور خشک آواز کانوں میں گونجی تو اس کی ٹریفک پہ مرکوز بھوری آنکھوں میں جیسے مرچیں سی چبھنے لگیں جبکہ سانسیں بھاری سے بھاری تر ہونے لگیں۔
تبھی اس نے بائیں ہاتھ کی انگلیوں میں تھاما ہوا سگریٹ دوبارہ سے ہونٹوں سے لگاتے ہوئے گہرا کش لگایا اور گلاس وال کے سامنے سے ہٹا۔
سیکرٹری کو نیکسٹ میٹنگ کے متعلق کال پہ بریفنگ دے کے اس نے کرسٹل ٹیبل پہ رکھے اپنی بیش قیمت موبائل کی جانب ہاتھ بڑھایا اور ایک نمبر ڈائل کرنے لگا۔
“السلام علیکم، ضرغام ملک اسپیکنگ!” اس کی بھاری آواز گونجی تو دوسری جانب موجود نگاہ حمدانی ناراض ہونے کے باوجود ہلکا سا مسکرا دی۔
“وعلیکم السلام اینڈ مسز ضرغام ملک اسپیکنگ!” شوخ لہجے میں جواب دیتے ہوئے وہ ضرغام کے ہونٹوں پہ ہلکی سی مسکان جبکہ آنکھوں میں چھائی وحشت بڑھا گئی۔
“کیسی ہو؟” اس نے نرمی سے استفسار کیا تو نگاہ کو یاد آیا وہ اس سے ناراض ہے تبھی وہ ٹھنکتے ہوئے بولی۔
“میں بہت اچھی ہوں لیکن آپ بہت برے ہیں۔” اس کے الفاظ پہ اب کی بار کھل کے مسکراتے ہوئے اس نے آگے ہو کے سگریٹ کو ایش ٹرے میں مسلا اور خود کرسی کی پشت سے ٹیک لگا کے پرسکون ہوا۔
“یہ تو مجھے پتہ ہے لیکن کچھ نیا ہوا ہے کیا؟” اس کی متبسم آواز پہ وہ جھنجھلا اٹھی۔
“آپ جانتے ہیں کہ میرا دل کرتا ہے صبح سب سے پہلے آپ سے بات کرنے کے لیے لیکن آپ ہیں کہ بارہ بجے تک میسر ہی نہیں ہوتے۔” اس کے شکوے پہ اس کے مسکراتے ہوئے لب جڑ گئے جبکہ نگاہوں کے سامنے بے ساختہ اس شکوے کی ‘وجہ’ لہرائی تو چہرے کی گھمبیرتا بڑھنے لگی۔
“اس وقت میں خود کو میسر نہیں ہوتا آپ کو کیسے وقت دوں نگاہ۔” بے بسی سے خودکلامی کرتا وہ آنکھوں کو زور سے مسلتا سیدھا ہوا اور ہولے سے گلا کھنکھارا۔
“آپ ناشتے سے پہلے کال کر لیا کریں۔” اس نے درمیانی راہ نکالنی چاہی۔
“ناشتے کے بعد کیا ہو جاتا ہے؟” نگاہ نے بات برائے بات سوال کیا۔
“اس وقت میں خود کا نہیں رہتا۔” سنجیدگی سے اس کی بات کا جواب دیتے ہوئے وہ اسے خداحافظ کہتا ہوا کال بند کر گیا اور بہت وحشت زدہ انداز میں اپنی جگہ سے اٹھا۔
“میری ذات، میرے جذبات و احساسات کو جس طرح سے آپ سب نے بے قدر جانا ہے اس کے لیے میں آپ سب کو کبھی معاف نہیں کروں گا۔” میز سے اپنا موبائل اٹھاتا وہ دل ہی دل میں اپنے ‘مجرموں’ سے مخاطب ہوا جبکہ کنپٹی کی پھڑکتی ہوئی رگ اس کی اندرونی کیفیت کا حال بخوبی بیان کر رہی تھی۔
اس سے پہلے کہ وہ اسی وحشت زدہ انداز میں وہاں سے نکلتا اس کا موبائل ایک دم سے گنگنا اٹھا۔
اس نے ایک سرسری سی نگاہ موبائل کی روشن سکرین پہ ڈالی جہاں کوئی نام سیو نہیں تھا لیکن اس کی ضرورت ہی نہیں تھی۔
جو بنا اجازت دل کے کواڑ خانوں میں براجمان تھی اس کا سکرین پہ جگمگاتا نمبر اس کے پورے وجود سمیت اس کے دل کو بھی لحظہ بھر کے لیے ساکت کر گیا۔
موبائل گنگناتے گنگتاتے بند ہو گیا تو اس کو جیسے ہوش آیا اس نے سر جھٹکتے ہوئے ایک نظر موبائل پہ ڈالی جو اسی لمحے دوبارہ سے گنگنانے لگا۔
اس کا دل چاہا کہ وہ وقت ضائع کیے بغیر کال کاٹ دے لیکن اس کا انگوٹھا سرخ بٹن پہ پریس کرنے کی بجائے سبز بٹن سے ٹکرایا تو اس کی کھنکھتی ہوئی آواز آفس میں گونجنے لگی۔
“السلام علیکم!ضرغام چاچو میں شہرے بات کر رہی ہوں۔” اس کی مترنم آواز اس کی سماعتوں پہ جیسے چابک کی طرح برسی تھی جبکہ لفظ ‘چاچو’ پہ چہرہ سرخ پڑ گیا۔
“وعلیکم السلام!کہیے۔” اس نے فورا اپنے ضبط کی طنابیں کھینچتے ہوئے اس سے اس اچانک کال کے متعلق استفسار کیا۔
“چاچو!میں کالج سے فری ہو گئی ہوں،آج تین لیکچرز نہیں ہوئے،آپ پلیز ڈرائیور انکل کو کہیں کہ مجھے آ کے لے جائیں۔” اس سے قبل اس نے کبھی اسے یوں کال نہ کی تھی آج اگر کی تھی تو وہ اسے لینے کے لیے ڈرائیو کو نہیں بھیج سکتا تھا۔
کیونکہ شہرے ملک کے متعلق ضرغام ملک کسی پہ اندھا اعتماد نہ کیا کرتا تھا۔
وہی شہرے ملک جس کے لیے ضرغام ملک اس کا ‘چچا’ تھا
لیکن اسی ضرغام ملک کے لیے شہرے ملک اس کا ‘سب کچھ’ تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خوبصورت مومی پاوں سیاہ چپل میں مقید کیے وہ بہت نزاکت کے ساتھ سیڑھیاں اترتی جا رہی تھی جبکہ اس کے پیروں کی حرکت کے ساتھ اس کی کمر پہ لٹکتی اس کی لمبی چٹیا بھی ہلکورے لیتی دیکھنے والی آنکھوں کو خیرہ کر رہی تھی۔
“آبگینے کی شادی کب تک کرنے کا ارادہ ہے پیر سائیں کا؟” ہال میں بیٹھی اس کی ماں (ساجدہ بیگم) کے ساتھ براجمان اس کی چچی (نسرین بیگم) نے استفسار کیا تو ساجدہ بیگم کی آنکھوں میں اذیت کے رنگ پھیل گئے۔
“پتہ نہیں۔” اپنی تکلیف دیورانی پہ ظاہر کیے بغیر انہوں نے نپا تلا سا جواب دیا تو نسرین بیگم کچھ بدمزہ سی ہو گئیں۔
“آپ نے آبگینے کو بتایا کہ وہ خاندان کی خوشحالی کے لیے وقف کی جانے والی ہے؟” انہوں نے ایک اور داو کھیلنا چاہا ویسے بھی اس وقت وہ فارغ تھیں۔
مرد سارے مردان خانے میں تھے، ملازمائیں سارا کام مکمل کر چکی تھیں جبکہ لڑکیاں اپنے اپنے کاموں میں مگن تھیں جبکہ وہاں آنے والی آبگینے بھی ماں اور تائی سے فاصلے پہ بیٹھی کزنز کے ساتھ براجمان ہو گئی۔
“بھرجائی!ابھی بچی کا ذہن خراب کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے؟جب وقت آیا تو اسے سمجھا دوں گی۔” انہوں نے دبے دبے لہجے میں انہیں جواب دے کے ایک نظر بیٹی کو دیکھا جس کی حسن نظروں کو خیرہ کرتا تھا۔
“ارے کس وقت کا انتظار کر رہی ہو آپ بھربھائی، کیا آپ کو نہیں معلوم کہ کل پیر سائیں کی وہ مرید دربار آئی تھی جس کے پوتے سے آبگینے کا نکاح کرنا ہے۔اب ایسے میں آپ آبگینے کو سمجھاتی نہیں ہیں تو اس کے لیے تو مسئلہ ہو جائے گا نا۔” انہوں نے ساجدہ بیگم کو گہرے دکھ میں مبتلا کرتے ہوئے ساتھ مشورہ بھی دیا کہ آج ہی آبگینے کو سچائی سے آگاہ کر دیں۔
“یا خدا!میری بیٹی کو اس آزمائش سے بچا لے۔” انہوں نے نسرین بیگم کو جواب دینے کی بجائے دل ہی دل میں اللّٰہ پاک سے التجا کی کہ وہ انہیں اس آزمائش سے بچائے۔
انہوں نے آبگینے کو دیکھا جس کی قلقل کرتی ہنسی ان کے دل پہ چھریاں چلا رہی تھی۔
اور وہ کیسے اپنے دل پہ پتھر رکھ کے اس ہنسی کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیں۔
“اگر آپ نہیں کر سکتی تو مجھے بتائیں میں کروں آبگینے سے بات؟” وہ شاید بہت جلدی میں اس سارے ڈرامے کا اینڈ دیکھنے کو بیتاب تھیں۔
“نہیں میں خود اسے سمجھا دوں گی۔” انہوں نے نرمی سے انہیں انکار کیا جبکہ وہاں دور کزنز میں بیٹھی آبگینے ان کی باتوں پہ متعجب ہوئی جا رہی تھی۔
“میری شادی؟کس نے بتایا تمہیں؟” اس کی شادی کی اڑتی خبریں سبھی تک تقریباً نامحسوس انداز میں پہنچ چکی تھیں اور اب کزنز اسے چھیڑ رہی تھیں۔
“ہاں تمہاری شادی اور جہاں تک میں نے سنا تھا بابا سائیں تایا سائیں کو بتا رہے تھے کہ لڑکا بہت پیارا ہے۔” دریہ کی شوخی پہ حیران بیٹھی آبگینے کے گال ایک دم سے بہت بے ساختگی میں انجانے سے احساس کے تجت سرخ ہوئے تو سب اسے دیکھ کے کھلکھلانے لگیں۔
مسکراہٹیں بکھیرتی ان لڑکیوں اور سپنے سجاتی آبگینے کو پتہ نہ تھا کہ کچھ دنوں تک ان کے سروں پہ کیسا بلاسٹ ہونے والا تھا؟؟؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بیڈ پہ اپنا بیگ رکھے وہ بہت بگڑے موڈ کے ساتھ اپنے کپڑے ٹھونسے جا رہا تھا جب کمرے کا دروازہ ہولے سے کھٹکھٹا کے مائرہ گردیزی کمرے میں داخل ہوئیں تو اس نے بمشکل اپنے بھڑکتے جذبات و تاثرات پہ قابو پاتے ہوئے ہولے سے مسکرا کے انہیں خوش آمدید کہا۔
“یہ کہاں جانے کی تیاری ہو رہی ہے؟” بہت نرم لہجے میں استفسار کرتے ہوئے وہ اس کے بیڈ پہ بکھرے کپڑوں کو ایک سائیڈ پہ کرتیں وہیں بیٹھ گئیں تو اس نے ہاتھ میں پکڑی شرٹ بیگ میں رکھی۔
“واپس جا رہا ہوں شہر۔” اس نے سنجیدگی سے جواب دیا تو انہوں نے بغور اس کا خوبرو چہرہ دیکھا۔
“حالات سے ڈر کے بھاگنے والے لگتے تو نہیں تھے آپ ایس پی رہبان گردیزی۔” انہوں نے ہلکے پھلکے انداز میں اسے جتلایا تو وہ جھنجھلا اٹھا۔
“حالات سے ڈر کے نہیں بھاگ رہا تائی جان لیکن مجھے بی جان کی ضد پریشان کر رہی ہے۔میں یہاں آیا تھا کہ ماما کو بتا سکوں کہ میں اپنی کولیگ کے ساتھ شادی کرنا چاہتا ہوں لیکن۔۔۔۔۔۔” وہ بیزاری سے بات ادھوری چھوڑتا وہیں بیڈ پہ ٹک گیا تو مائرہ گردیزی نے توجہ سے اس کی جانب دیکھا۔
“پسند کرتے ہو کولیگ کو؟” انہوں نے سوچ سمجھ کے سوال اٹھایا۔
“فار گاڈ سیک تائی جان، میں ان جھنجھٹوں میں پڑنے والا شخص نہیں ہوں لیکن میں اس میس کو ختم کرنا چاہتا تھا اس لیے یہ شادی کرنے کو کہا لیکن بی جان کا ردعمل میرے لیے پریشان کن ہے۔” اس کے چہرے پہ اس وقت بیک وقت پریشانی، جھنجھلاہٹ اور بیزارگی پھیلی ہوئی تھی جو اس کے خوبصورت چہرے کی گھمبیرتا بڑھا رہی تھی۔
“تو پھر بی جان کی بات مان لو۔” مائرہ گردیزی کی بات پہ اس کا فشار خون ایک بار پھر سے بلند ہوا تو وہ بے ساختہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا۔
“ناٹ اگین تائی جان! میں اپنی استعمال کی ہوئی بے جان چیز کسی کے لیے نہیں چھوڑتا اور آپ سب چاہتے ہیں کہ میں ایک جیتی جاگتی لڑکی کو اپنے نام کر کے لاوارثوں کی طرح وہیں چھوڑ کے خود بے غیرت بن جاوں؟” وہ ایک دم سے آتش فشاں پہاڑ کی مانند پھٹ پڑا لیکن مائرہ گردیزی نے اطمینان سے اس کے غیض و غضب کو برداشت کرنے کے بعد سکون سے اس کی جانب دیکھا۔
“آپ سے یہ کس نے کہا کہ آپ ایسا کرو؟” ان کی پرسکون مگر نرم آواز پہ غصے سے اپنے بالوں میں انگلیاں پھیرتے رہبان نے چونک کے ان کی جانب دیکھا جن کے چہرے پہ پھیلا تبسم اور آنکھوں میں چھائے ناقابلِ فہم تاثرات اسے ٹھٹھکا سے گئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ کانپتے لرزتے قدموں کے ساتھ بمشکل سیڑھیاں اترتی جب نیچے پہنچی تو سامنا فورا لاونج میں بیٹھی شازمین میر سے ہوا تو وہ تیر کی مانند ان کی جانب لپکی۔
“م۔۔میم وہ۔۔۔۔۔۔” اس نے خشک ہوتے ہونٹوں کے ساتھ کچھ کہنا چاہا جب وہ بہت شائستگی سے اس کی بات قطع کرتے ہوئے بولیں۔
“مل لیا اپنے سٹوڈینٹ سے آپ نے مس زحلے؟” ان کے سوال پہ ساتوں آسمان اس کے سر پہ ٹوٹتے چلے گئے۔
“میم وہ۔۔وہ سٹوڈینٹ۔۔۔۔” اس نے انہیں گویا باور کروانا چاہا کہ وہ بھرپور مرد اس کا سٹوڈینٹ کیسے ہو سکتا یے۔
“ہاں وہی سٹوڈینٹ جس کو پڑھانے کے لیے آپ نے کل کانٹریکٹ سائن کیا تھا۔” ان کے نرم الفاظ میں چھپی تنبیہ پہ زحلے کے حواس جیسے جاگ اٹھے۔
اس کو احساس ہوا کہ اب بہت دیر ہو چکی تھی اور یہ دیر شاید اس کی اپنی جلد بازی کی بدولت ہوئی تھی کہ جو اپنی جاب کے متعلق مکمل معلومات لینا بھول گئی تھی۔
اور اب منہ پھاڑ کے کھڑی ضروریات کے سامنے وہ اپنے کانٹریکٹ سے انکاری نہیں ہو سکتی تھی۔
“ج۔۔جی میم۔” وہ ہولے سے کہتی ہوئی واپس مڑی اور تھکے تھکے قدموں کے ساتھ واپس سیڑھیوں کی جانب چل دی۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔
