No Download Link
Rate this Novel
Episode 23
“دل تیرے سنگ جوڑ لیا”
از
حوریہ ملک
“آپ آغا جان سے کیسے بات کر رہے ہیں؟” اس کی ٹون پہ فوراً برا مناتی وہ خفگی سے بولی تو اس نے گردن اس کی جانب گھماتے بہت توجہ سے اسے دیکھا جو اس کی گرفت سے کلائی آزاد کروانے کی کوشش کرتی شدید خفا نظر آ رہی تھی۔
“آپ کو اس بات پہ فکر کرنے کی بجائے اس بات کے متعلق سوچ بچار کرنی چاہیے کہ میں آپ سے کیسے بات کرتا ہوں؟” کھلے دروازے سے باہر نکلتے ہوئے اس نے گھمبیر آواز میں سرگوشی کی تو اس کے اس انداز پہ ناچاہتے ہوئے بھی اسے گھبراہٹ ہوئی۔
“ہاتھ چھوڑیں میرا۔” اس نے ایک دفعہ پھر سے اپنی کلائی کھینچنی چاہی مگر وہ گرفت مضبوط رکھے دائیں جانب مڑ چکا تھا۔
“میں شور مچا دوں گی،میرا ہاتھ چھوڑیں ضرغام چ۔۔۔۔۔۔” عادتاً اس کے ہونٹوں سے دوبارہ وہی لفظ پھسلا تو اگلے ہی لمحے اس کے ہونٹوں سے واشگاف سی چیخ بلند ہوئی۔
“آہہہہ!”
کیونکہ وہ جو اس کی کلائی تھامے ہوئے تھا اسی کو بہت سرعت سے گھما کے اس کی پشت سے لگاتے اپنے اور اس کے ہاتھ کے دباو سے اپنی طرف کھینچا تو وہ لچکیلی ڈھال کی مانند اس کے سینے سے جا لگی۔
“شہرے ملک!میرے اندر جو مرد سویا ہے اسے مت جگایا کریں کیونکہ اس کے جاگنے سے دس سال کے پنہاں جذبات کی شوریدگی آپ برداشت نہیں کر سکیں گی۔” اسے اپنے بے حد نزدیک کیے وہ اس پہ جھکا پرتپش لہجے میں بولا تو اس کے الفاظ اس پہ مستزاد سانسوں کی بے لگام لپک پہ وہ سانسیں تک روک گئی۔
“اس لیے آپ کے لیے بہتر یہی ہو گا کہ ‘چاچو’ کا دم چھلہ ہٹا کے مجھے میرے نام سے پکاریں کیونکہ جب میں نے آپ کو باور کروایا کہ میں آپ کا چاچو نہیں شوہر ہوں تو میں اب کی بار الفاظ کا سہارا ہرگز نہیں لوں گا۔” گھمبیر لہجے میں بولتا وہ اس کے فق پڑتے چہرے پہ مزید جھکا تو اس کے انداز کی شدت پہ خوفزدہ ہوتی شہرے نے بے ساختہ پلکیں موندیں۔
ضرغام جو اس کے چہرے پہ جھکا اسی پہ اپنی نظریں جمائے ہوئے تھا۔
اس کی اس بے ساختہ حرکت پہ اس کا دل زور سے دھڑک اٹھا۔اس کی قربت کے خوف سے سپید پڑتی رنگت، تھرتھراتے سرخ لب، بھرے بھرے رخساروں پہ سایہ فگن کانپتی ہوئی پلکیں اور لرزتا ہوا نازک اور مدہوش سراپا۔
اسے دیکھتے اس کے جذبات میں منہ زور لہر سے دوڑ گئی جسے بمشکل دباتے ہوئے اس نے ہولے سے سر جھٹکا۔
“آپ آنکھیں کھول سکتی ہیں لیکن اگر آپ نے نگاہ کے متعلق کسی سے کوئی بات کی تو جو کچھ سوچ کے آپ نے ابھی پلکیں موندیں ہیں وہ کرنے میں ایک منٹ نہیں لگاوں گا۔” جذبات کی شدت سے بوجھل ہوتے لہجے میں کہتا وہ اس کی ریڑھ کی ہڈی تک کو سنسنا گیا۔
ایک جھٹکے سے آنکھیں کھولتے ہوئے اس نے اس کی جانب دیکھا جو اسے آغا جان کے کمرے کی دائیں جانب لیے قدرے سنسان کونے میں کھڑا تھا جہاں کوئی نہ آتا تھا۔
“آپ سے اور توقع بھی کیا کی جا سکتی ہے۔نگاہ سے زبردستی نکاح کر لیا اور میرے سے نکاح کرنے سے قبل انکار کرتے رہے اور نکاح ہوتے ہی آپ کے اندر شوہرانہ ہڑک جاگ اٹھی ہے۔” پوری قوت لگا کے اس کی گرفت سے خود کو آزاد کرواتی وہ تلخ لہجے میں بولتی اس سے دور ہٹی۔
جبکہ اس کی بات پہ اس کے دل میں چبھن سی ہوئی۔
اس پل احساس ہوا تھا کہ سب کچھ ایک ساتھ ٹھیک رکھنے کے لیے اپنا آپ، اپنا کردار، سب کچھ مسخ کرنا پڑتا ہے۔
“آپ شکر کریں کہ اس ہڑک کا ہلکا سا اثر بھی آپ پہ نہیں پڑا وگرنہ جو آگ اِس دل میں لگی ہے وہ آپ کے دل کو جلا سکتی ہے۔” گہری نگاہوں سے اسے دیکھتے ہوئے اس نے بھاری لہجے میں کہا تو وہ ایک شاکی نگاہ اس پہ ڈالتی بنا کچھ کہے پلٹی تو ہلکی سی آواز پہ ضرغام نے نظر جھکائی تو خوبصورت چمکتی آنکھوں کی چمک دوبالا ہو گئی۔
ایک نظر تیز تیز قدموں سے ثمرین بیگم کے کمرے کی طرف جاتی شہرے کی پشت پہ ڈالی اور پھر دوسری نظر اس کے کیچر پہ ڈالی جو حسبِ معمول وہ بے نیازی سے ایک دفعہ پھر سے گرا چکی تھی۔
اور یہ بات وہاں کھڑے ضرغام ملک کے علاوہ کوئی نہ جانتا تھا کہ شہرے ملک کے کیچرز جنہیں وہ بالوں پہ لگا کے انہیں ہاف کھلا چھوڑتی تھی۔ان سے پھسل کے ضرغام کے خفیہ لاکر کی زینت بنے ہوئے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“تم؟تم یہاں کیا کر رہے ہو؟” رہبان کی بھنائی ہوئی آواز نے ہاسپٹل کے اِس روم میں چھائی ہوئی آکورڈ سی خاموشی کو توڑا تو آبگینے ہڑبڑاتی ہوئی اس کی گرفت سے نکل کے اٹھنے کی کوشش کرنے لگی۔
“آیا تو میں تمہاری عیادت کے لیے تھا لیکن تمہاری بیہودہ حرکتیں دیکھ کے اندازہ ہو گیا کہ اب تم بالکل ‘ٹھیک’ ہو چکے ہو۔” آبگینے جو اس کے پاس سے اٹھنے کے چکروں میں تھی، نووارد کے رہبان کو سنائے گئے طنزیہ جواب پہ اس کے کانوں سے گویا دھواں نکلنے لگا جبکہ ٹانگیں بوجھ سہارنے کے قابل نہ رہیں تبھی وہ وہیں چپکی رہ گئی۔
“دیکھ چکے ہو نا کہ میں بالکل ٹھیک ہوں تو پھر یہاں سے دفعان ہو جاو۔ایڈیٹ تمہیں کسی نے بتایا نہیں کہ میاں بیوی کی پرائیویسی میں نہیں گھستے۔” رہبان جیسے بے باک اور بلنٹ شخص کے لیے ایسے عین موقع پہ اس کی انٹری ہرگز ہضم نہیں ہو رہی تھی تبھی وہ ہنوز تپے ہوئے لہجے میں گویا ہوا تو اس کے نزدیک بیٹھی آبگینے کا دل چاہا وہ شرم سے کہیں جا ڈوب مرے۔
“نہیں کیونکہ مجھے آئیڈیا نہیں تھا کہ تمہیں ہاسپٹل روم اور بیڈروم میں فرق کا نہیں پتہ۔” وہ اگر سیر تھا تو مقابل سوا سیر تھا۔
اور ان دو ڈھیٹوں اور بے شرموں کے بیچ جو پِس رہی تھی وہ بیچاری سر جھکائے اپنی ہتھیلیاں رگڑتے ہوئے وہاں سے غائب ہونے کے لیے دعائیں مانگ رہی تھی۔
“اب تمہارے جیسے شخص کو ایسے فرق کا پتہ ہو گا جس کی دنیا ہی بیڈروم تک محدود ہے۔” تپانے والے انداز میں کہتے ہوئے اس نے اطمینان نے دایاں ہاتھ سر کے نیچے رکھا تو آبگینے اس کا اطمینان اور مقابل کھڑے شخص کا ضبط دیکھ کے رہ گئی۔
“کیسی ہو آبگینے آپ؟” اس کی فضول گوئی کو وہ اس وقت آبگینے کے سامنے طول نہیں دینا چاہتا تھا اس لیے اس پہ بے نیازی کی لعنت نچھاور کرتے ہوئے اس نے رخ اس کی جانب موڑا جو پزل ہوتی بہت پیاری لگ رہی تھی۔
“الحمداللّٰہ۔” اس نے مدہم سے لہجے میں مختصر سا جواب دیا۔
“میری بیوی کا نام مت لو بلکہ بھابھی کہہ کے بلاو۔” اسے جب اس کی بے نیازی برداشت نہ ہوئی تو تنک کے بولتا ان کی گفتگو میں مخل ہوا۔
“جب میں تمہیں بھائی ہی نہیں سمجھتا تو آبگینے کو کس خوشی میں بھابھی کہوں؟” ابرو اچکاتے ہوئے اس نے تیکھے چتونوں سے استفسار کیا تو اب کی بار ناچاہتے ہوئے بھی ایک مدہم مگر دلکش سی مسکان آبگینے کے ہونٹوں پہ چھب دکھلا کے غائب ہوئی۔
“جی اور مورخ لکھے گا کہ ایسا شخص بھی گزرا ہے جو اپنی بیوی کو اس کے نام سے مخاطب کرنے سے ہچکچاتا ہے اور دوسروں کی بیویوں کے دھڑلے سے نام لیتا ہے۔” اس کی بات پہ وہ تپے ہوئے لہجے میں بولا تو اس نے بے ساختہ خجل ہوتے ہوئے ایک گھونسہ اسے منہ پہ مارا تو وہ چیخ اٹھا۔
“تم ٹھیک ہو؟” اس کی چیخ سن کے وہ جو اس سے فاصلہ بنا کے بیٹھی ہوئی تھی، تڑپ کے اس کے قریب آئی۔
“نین!یار ایک عدد اور مکا مارنا۔” اس کے قریب آئے وجود کو گہری نگاہوں سے دیکھتے ہوئے شرارت سے گویا ہوا تو اس کا وجود شرم سے پل میں دہک اٹھا۔
“یہ کیا ہوا؟” وہ جو اس کے نزدیک اب آیا تھا اس کی سرمئی رنگ کی شرٹ کو کندھے سے نم پایا تو بے ساختہ ہاتھ لگا کے پوچھنے لگا لیکن جب ہاتھ پہ خون کی نمی دیکھی تو آنکھوں میں تشویش کے رنگ چھا گئے۔
“مورخ شاید یہ بھی کہ ایک بدتمیز اور بے باک شخص بھی گزرا ہے جو رومینس کرتے ہوئے اپنے زخموں سے رستے خون سے بھی بے نیازی برت لیا کرتا تھا۔” لہجے میں فکرمندی سموئے وہ بظاہر تنک کے بولتا اس کی شرٹ کندھے سے ہٹانے لگا تو آبگینے کی آنکھیں نم ہونے لگیں۔
“نہیں، مورخ ایسی بکواس نہیں لکھتا ہے۔” اس کی بات کو چٹکیوں میں اڑاتے ہوئے اس نے آنکھ کے اشارے سے اسے آبگینے کی طرف متوجہ کیا اور اس کے سامنے اس کے زخموں کو دیکھنے دکھانے سے منع کیا۔
“آبگینے! آپ واپس بھی حماد انکل کے ساتھ جائیں گی؟” اس کے اشارے کو سمجھتے ہوئے اس کی شرٹ کا بٹن واپس سے بند کیا اور کرسی پہ بیٹھتے ہوئے آبگینے کی طرف متوجہ ہوا جو آنکھوں میں نمی اور تشویش لیے رہبان کو ہی دیکھ رہی تھی۔
“جی لیکن مج۔۔۔۔۔۔۔” وہ ابھی کچھ بول ہی رہی تھی کہ بند دروازے پہ ہولے سے دستک دے کے رہبان کا ایک کانسٹیبل اندر داخل ہوا۔
“سر!پولیس آپ کا بیان لینے آئی ہے۔” اس کے اطلاع بہم پہنچانے پہ آبگینے کا چہرہ فق پڑا۔
بے ساختہ آنکھوں کے سامنے باپ دادا، بھائیوں کزنوں کے چہرے گھومے تو دل بے چین ہو اٹھا۔
“اب پولیس والے سے یہ پولیس والے بیان لیں گے ایڈیٹ۔” بڑبڑاتے ہوئے وہ سٹنگ پوزیشن میں سیٹ کیے ہوئے بیڈ پہ تکیہ سے ٹیک لگا کے نیم دراز ہوا۔
“آبگینے کو لے کے سائیڈ پہ ہو جاو۔” اس نے آبگینے کی طرف اشارہ کیا تو وہ مرے مرے قدم اٹھاتی اس(جو اسے اس رات سڑک سے گردیزی ہاوس چھوڑ کے آیا تھا) کے ساتھ اس روم کے دوسرے روم کے ساتھ ملحقہ دروازے کے پیچھے جا کھڑی ہوئی۔
“آئم سوری لیکن اندھیرے کے پاس میں حملہ آوروں کو دیکھ نہیں سکا اس لیے کسی پہ کوئی پختہ الزام نہیں لگا سکتا۔” وہ جو دروازے کے پار کھڑی اس کی سپاہیوں کے ساتھ ہوئی گفتگو کو بے چینی سے سن رہی تھی۔
اس کے اس جواب پہ وہ بری طرح سے چونکی کیونکہ یہ بات تو وہ بھی جانتی تھی کہ اس پہ حملہ کرنے والے کون تھے تو پھر اس نے جھوٹ کیوں بولا؟
جبکہ اس کی سوچوں سے بے نیاز وہ سپاہیوں کو واپس تکیے پہ سر ٹکاتے ہوئے اب اپنے سسرالیوں کو اپنا جوابی تحفہ دینے کے لیے بے قرار تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ کچن میں کھڑی ذوالنورین کے لیے لنچ تیار کر رہی تھی جب اس نے ہال میں اچانک بہت سارے لوگوں کی کی آوازیں سنیں۔
اس نے اندازہ لگایا کہ شاید باہر مہمان آئے ہیں تبھی وہ تیزی سے ہاتھ چلاتے ہوئے اپنا کام مکمل کرنے لگی۔
“تسنیم!لنچ جلدی سے تیار کرو، مہمان آئے ہیں۔” وہ ٹرے میں لنچ سجا رہی تھی جب سامعہ تیزی سے کچن میں آتی بولی لیکن سامنے اسے دیکھ کے ناگواری سے لب بھینچ گئی۔
اسے نجانے کیوں زحلے ابراہیم سے اس قدر چڑ تھی کہ اس کا دل چاہتا وہ اس چادر میں چھپی عام سی لڑکی کو ذوالنورین میر کے کمرے سے نکال کے دور کہیں سمندروں کی تہہ میں دفنا آئے۔
“ذوالنورین میر!یہ ٹیپیکل بیویوں والی اداوں سے متاثر نہیں ہوتا۔” اس کے ٹرے میں لنچ سجانے پہ طنز کرتی وہ اسے کینہ توز نگاہوں سے گھورنے لگی تو زحلے نے اس بے موقع طنز پہ نظر اٹھا کے حیرت سے اسے دیکھا۔
“تو میں اسے متاثر کروں گی بھی کیوں؟متاثر کرنے کے حربے تو غیروں کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں جبکہ اس کی میں بیوی ہوں مجھے ایسا تردد کرنے کی کیا ضرورت ہے۔” وہ کندھے اچکاتی بے نیازی بھری سنجیدگی سے گویا ہوئی تو اس کا چہرہ سبکی کے احساس سے دہک اٹھا۔
ان دونوں کے علاوہ وہاں کھڑی دونوں میڈز کان لپیٹے یوں اپنے کام میں مصروف تھیں گویا کہ وہاں موجود ہی نہ ہوں۔
“اور جیسے تمہیں تو پتہ ہی نہیں ہے کہ سب سے زیادہ بیوی ہی شوہر کو متاثر کرنے کے لیے نت نئے حربے استعمال کرتی ہے۔” اس نے اندر بھڑکتی آگ پہ بمشکل ضبط کرتے ہوئے کاٹ دار لہجے میں پھر سے وار کیا تو زحلے نے بدقت اپنے چہرے کے تاثرات کو کمپوزڈ رکھا۔
“بالکل لیکن ایسی کوششیں کمرے کے اندر ہی فقط شوہر کے سامنے کی جاتی ہیں خیر پلیز راستہ دیں۔” وہ اس بے معنی بحث کو ختم کرتی ٹرے اٹھا کے دروازے کی جانب بڑھی تو اس کے انداز پہ سامعہ کے اندر لگی آگ مزید بھڑک اٹھی۔
“اور وہ دن دور نہیں جب یہی شوہر تمہیں کمرے سے باہر نکال پھینکے گا اور تم در در کی ٹھوکریں کھاتی پھروں گی۔” پھنکارتے ہوئے لہجے میں وہ اس کے عقب میں بولی تو کچن سے نکلتی زحلے کے ہاتھوں میں ٹرے ایک پل کو لرز اٹھی۔
لیکن اگلے ہی پل وہ خود کو سنبھالتی ہوئی سیڑھیوں کی جانب بڑھ گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹیرس کی جانب کھلنے والی کھڑکی کے سامنے وہیل چیئر پہ براجمان وہ اپنی سرد نگاہیں باہر جمائے اپنی خود ساختہ سوچوں میں مگن تھا جب دروازہ کھلنے کی آواز پہ اس نے گردن گھمائی۔
لائٹ گرین اور سکن کلر کے امتزاج سے سجے خوبصورت شارٹ فراک اور پاجامے میں ملبوس وہ بالوں کی چٹیا بنائے حسبِ معمول خود کو سوٹ کے ہمرنگ دوپٹے کی بجائے اس وقت چادر میں ملفوف ہاتھوں میں کھانے کی ٹرے لیے اسی کی جانب بڑھ رہی تھی۔
ایک طائرانہ نگاہ اس کے حلیے پہ ڈالنے کے بعد اس نے سرسری سی نگاہ اس کے چہرے پہ ڈالنی چاہی لیکن وہ سرسری نگاہ اس کے بائیں رخسار پہ لگے ٹانکوں کے نشانات سے الجھتی کب گہری ہوئی اسے خود خبر نہ ہوئی۔
سپاٹ تاثرات سے سجا قدرے بے رنگ مومی چہرہ جس پہ ٹانکوں کے نشانات گویا چاند پہ گرہن کی طرح جھلک دکھا رہے تھے، گلابی ہونٹوں کو قدرے اندر کی جانب بھینچے وہ جھکی پلکوں کے ساتھ اس کے سامنے پڑی میز پہ ٹرے رکھ رہی تھی۔
چہرے سے چادر میں چھپی گردن، گردن سے بازو اور پھر بازووں سے ہوتی نظر میز پہ ٹرے رکھتی ہتھیلیوں پہ گئی تو بائیں کلائی پہ بھی موجود زخم کے مندمل ہوتے نشان نے توجہ کے دھاگے اپنی جانب کھینچے۔
اس کے سامنے ٹرے رکھنے کے بعد وہ اسے بنا کچھ کہے مڑی اور سنگار میز کی جانب چل دی۔
سنگار میز ہنوز اس کے سازو سامان سے خالی تھا وہاں اس وقت بھی صرف ذوالنورین کے کچھ پرفیومز, باڈی سپریز، لوشنز، برشز وغیرہ پڑے تھے جبکہ اس کا استعمال کا اکلوتا ہیئر برش دراز میں چوڑیوں کے اس ڈبے کے ساتھ پڑا تھا جو اس نے پرسوں زوالنورین کی عیادت کے لیے آئے ڈاکٹر ارتضی سے کہہ کے ان کی نواسی سے منگوایا تھا۔
اور اب وہ دراز کھولے اس ڈبے سے سوٹ کے ہمرنگ چوڑیاں نکال کے کلائیوں میں پہننے لگی تھی۔
“ماما کے پاس جا رہی ہیں؟” اچانک گونجتی اس بھاری آواز پہ اس نے بے ساختہ نظر اٹھا کے شیشے میں سے اسے دیکھا جو بڑی دلجمعی سے لنچ کرنے میں مصروف تھا۔
“جی۔” نظر واپس چوڑیوں پہ مرکوز کرتے ہوئے اس نے یک لفظی جواب دیا۔
“کھانا کھا لیا ہے؟” اب کی بار سنائی دینے والے الفاظ بہت غیرمتوقع تھے تبھی اس دفعہ صرف نظر نہیں اٹھی تھی بلکہ گردن بہت بے ساختگی سے اس کی جانب مڑی جو اب بھی اسی طرح سے لنچ کرنے میں مصروف تھا۔
“میں دن کو کھانا نہیں کھاتی۔” اس کی بے نیازی کو چند ثانیے جانچنے کے بعد اس نے مدہم لہجے میں جواب دینے کے بعد چوڑیاں بائیں کلائی میں چڑھانی شروع کیں۔
“کھانا تینوں ٹائم وقت پہ ضرور کھایا کریں اور ماما کو چوڑیوں کی کھنک کے علاوہ کھلے بال اور سنگار بھی اٹریکٹ کرتا ہے۔” پانی کے گھونٹ لیتے ہوئے اس نے اسے تنبیہہ کرنے کے فوراً بعد ہی اس کا اثر زائل کرنے کو بالکل اس کے الٹ بات کی تو اس کا چوڑیاں چڑھاتا ہاتھ اسی زاویے میں ساکت ہوا۔
اس نے حیرانگی سے اسے دیکھا جو پلیٹ سے کھیرے کا قتلہ اٹھا کے منہ میں رکھ رہا تھا۔
وہ چند پل تذبذب کے عالم میں اسے دیکھتی رہی اور پھر ایک دم سے واشروم میں گھس گئی۔
وہ جو اپنی بات کا ری ایکشن جاننے کا متمنی تھا اس کی اس حرکت پہ جیسے حیران ہوا تھا۔
لیکن پانچ منٹ بعد جب وہ واشروم سے نکلی تو اس کے ہونٹوں کے کناروں پہ ایک میٹھی سی مسکان بڑی سرعت سے پھیلی جسے بمشکل دباتے ہوئے اس نے اس کی جانب سے فوراً نگاہ پھیری۔
کیونکہ وہ واشروم اس لیے گئی تھی کہ اپنے بال کھول سکے اور اب وہ اپنے بال کھولے واپس سر پہ چادر لپیٹے گویا اپنی مکمل حفاظت کے ساتھ باہر نکلی تھی جبکہ وہ چادر کے نیچے سے اس کے لمبے بالوں کے سرے دیکھ کے اس کی حرکت کو جان گیا تھا۔
“میرے پاس میک اپ نہیں ہے۔” بال کھولنے اورچوڑیاں پہننے کے بعد وہ بیچارگی سے اسے دیکھتے ہوئے گویا ہوئی تو وہ اسے دیکھ کے رہ گیا۔
گویا کہ وہ اس کی ‘ماں’ کو خوش کرنے اور انہیں اس تک لانے کو مکمل تیار ہر ممکنہ کوشش کرنے کے لیے چوکنا تھی۔
اور اس کی ماں کے لیے ایسی کوشش کرتی ہوئی وہ اس کے اندر اس پل عجیب سے جذبات کو ابھار گئی جو اس سمے اس کے لیے سلانا بہت مشکل ہوا تھا۔
“ادھر آئیں میں کرتا ہوں میک اپ۔” گہری نگاہوں سے سر تا پا اس کا مکمل جائزہ لینے کے بعد وہ سنجیدگی سے اسے دیکھتے ہوئے بولا تو زحلے نے حیرانگی سے اسے دیکھا اور پھر اس کے اردگرد دیکھا کہ آیا میک اپ کہاں تھا؟
مگر جب ہنوز اسے اپنی جانب محوِ انتظار پایا تو گومگو کی حالت میں چلتی ہوئی وہ اس کے نزدیک گئی جو دو چار منٹ قبل لنچ مکمل کرنے کے بعد میز سے وہیل چیئر کو دور دھکیل چکا تھا۔
“تم مجھے میک اپ کِٹ دے دو، میں خود کر ل۔۔۔۔۔۔” اس کی وہیل چیئر سے دو قدم کے فاصلے پہ ٹھہرتی ہوئی وہ سنجیدگی سے بول رہی تھی جب اس نے لپک کے اس کی دائیں کلائی تھامی اور ایک جھٹکے سے ایک کھینچ کے اپنی آغوش میں بٹھایا تو اس اچانک افتاد پہ وہ بوکھلا اٹھی۔
“یہ تم کیا۔۔۔۔۔۔” اس کے ہونٹوں سے نکلنے والے الفاظ کو خود میں سمیٹتے ہوئے وہ اس پہ جھکا اس کی سانسیں تک روک گیا۔
وہ جو اس کی پہلی حرکت پہ ہی سنبھل نہ سکی تھی وہ اس کی اس حالت میں ایسی کی گئی بے باک گستاخی پہ زور سے مٹھیاں بھینچتی لرز رہی تھی۔چند ثانیے بعد جب سانسوں کا تسلسل ٹوٹنے لگا تو اس نے بھنچی ہوئی مٹھیاں اس کے سینے پہ رکھتے ہوئے اسے ہوش دلانے کی ایک ناکام سعی کی کیونکہ وہ پیچھے ہٹنے کی بجائے دایاں ہاتھ اس کی کمر کے گرد حائل کرتا بائیں ہاتھ سے اس کے سر پہ اٹکی چادر سرکا کے انگلیاں اس کے بالوں میں پھنساتے ہوئے مزید شدت کے ساتھ اسے خود میں جذب کرنے لگا۔
جبکہ وہ اس کی شدت پہ بے حال ہوتی اب اسے ایک مٹھی اس کے سینے پہ رکھے دوسرے ہاتھ سے اس کا کندھا دبوچے اس کے لمس کی حدت برداشت کر رہی تھی لیکن جب برداشت جواب دینے لگی تو قطار در قطار آنسو اس کی آنکھوں سے بہتے جب رخساروں پہ پھسلے تو بے لگام ہوئے جذبات کے سنگ بہکتے اس شخص کو جیسے ہوش آیا۔
وہ اس کے لرزتے نم ہونٹوں کو اپنی گرفت سے آزاد کرتا تھوڑا پیچھے ہٹا تو وہ اس رہائی پہ بمشکل گہری سانس بھرتی جیسے ٹوٹ کے اسی کے کندھے پہ سر جھکا گئی۔
“ماں کو جا کے بتانا کہ آپ ان کے بیٹے کی بیوی ہیں تو وہ مصنوعی میک اپ کے رنگوں کی بجائے آپ کے چہرے پہ پھیلنے والے ان رنگوں سے زیادہ خوش ہوں گی۔” اس کی گردن کے گرد اور بالوں میں ہنوز ہاتھ پھنسائے وہ اب بہت نرمی سے اپنے کندھے پہ سر ٹکائے زحلے کے رخساروں کو چھوتے ہوئے اپنے لمس کی حدت سے دہکاتا سرخ رنگوں میں نہا رہا تھا۔
“ذوالنورین پلیز!تم۔۔۔تم میرے پاس ایسی ح۔۔حرکتیں نہیں کر سکتے۔میں تمہاری ٹ۔۔ٹیچر ہوں۔” رخساروں کو چھوتے لب جب ٹھوڑی سے نیچے کو سرکتے گردن پہ لپٹی چین کی طرف سفر کرنے لگے تو وہ اس کے کندھے پہ دونوں ہاتھ جماتی بمشکل تھوڑا پیچھے ہٹی۔
“آپ مجھے فیل کر دینا۔” بے نیازی سے کہتے ہوئے اس نے ہولے سے اس کی ٹھوڑی کو چھوتے ہوئے اس کے گرد اپنی گرفت نرم کی تو وہ لرزتے قدموں کے ساتھ بہت سرعت سے اس کی آغوش سے نکلی۔
اس سے دور ہٹتے ہی اس کی بے ساختہ نظر ڈریسنگ مرر پہ پڑی تو اپنا حلیہ دیکھ کے اس کے کانوں سے جیسے دھواں نکلنے لگا جبکہ دل گویا ہاتھوں میں دھڑکنے لگا۔
“تم۔۔تمہیں شرم نہیں آتی، ایک طرف تو مجھے سزا دینے کے بعد گھر سے نکالنا چاہتے ہو اور دوسری طرف یوں زبردستی کر کے اپنی مردانگی دکھا رہے ہو۔” بکھرے بال، لرزتے سرخ نم ہونٹ، سرخ قندھاری رخسار، الجھا ہوا ڈوپٹہ اور بکھری سانسیں۔اپنا یہ حلیہ دیکھ کے اسے شرم و غصہ ایک ساتھ آیا تبھی وہ نم لہجے میں بولتی چلی گئی۔
“وقت ضائع نہیں کریں مس ابراہیم ورنہ یہ سرخی لگانے کے لیے مجھے دوبارہ سے زبردستی مردانگی دکھانی پڑے گی۔” اپنی تلخ باتوں کے جواب میں اس کے اس سپاٹ سے لہجے میں دیے گئے ذومعنی جواب پہ اس نے سٹپٹا کے اسے دیکھا اور پھر ایک شکایتی نگاہ اس پہ ڈالتی وہ دوپٹہ ٹھیک کرتی دروازے کی جانب بڑھ گئی۔
جبکہ وہ چمکتی آنکھوں کے ساتھ چند لمحے قبل بیتنے والے سحر انگیز پلوں کو سوچنے لگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بیگ کندھے پہ لٹکائے وہ ہاتھ میں نوٹس تھامے، موبائل کان کے ساتھ لگائے تیز تیز قدم اٹھاتی کلاس کی جانب بڑھ رہی تھی۔
کیونکہ نوٹس گاڑی میں رہ جانے کی وجہ سے وہ لیٹ ہو گئی تھی اور باقی سب کلاس میں پہنچ گئی تھیں اور اب وہ بھی تیز تیز قدم اٹھاتی کلاس میں پہنچنے کی تگ و دو میں تھی جب کال میں مصروف ہونے کی وجہ سے وہ شاید سامنے دیکھ نہ سکی اور اس اچانک تصادم کا شکار ہو گئی۔
“مما!” اس کے ہونٹوں سے چیخ بلند ہوئی جبکہ اس چیخ پہ گھبراتے ہوئے مقابل نے سرعت نے اس کی کلائی تھامتے ہوئے اسے گرنے سے بچایا۔
وہ جو گرنے کے خوف سے چیخ رہی تھی، مقابل کی اس مہربانی پہ اس نے نظر اٹھا کے سامنے دیکھا تو جیسے ٹھٹھک گئی۔
“آپ؟” وہ اس ٹکر کے باعث ماتھے میں لگنے والی چوٹ کے درد کو فراموش کرتی مقابل کو بغور دیکھ رہی تھی جس نے ہنوز اس کی موبائل والی کلائی تھامی ہوئی تھی۔
یکایک اس کے دماغ میں کلک ہوا اور آنکھوں میں بھی پہچان کے رنگ سرعت سے پھیلے۔
“آپ وہی ہیں نا جنہوں نے اس دن میری فیس دی تھی؟” اچانک یاد آ جانے پہ وہ پرجوش سی بولی تو اس کے انداز پہ وہ مدہم سا مسکرایا۔
“جی میں وہی ہوں۔” اس نے سنجیدگی سے جواب دیا۔
“میں اتنے دنوں سے آپ کا انتظار کرتی رہی ہوں لیکن آپ ہیں کہ غائب ہی ہو گئے۔اب رکیں زرا میں آپ کو آپ کے پیسے دوں۔” وہ اسی انداز میں بولتی بیگ سے پیسے نکالنے لگی تو اسے احساس ہوا کہ کلائی تو ہنوز مقابل کی گرفت میں ہے تبھی وہ خجل سی ہوتی کلائی اس کی گرفت سے آزاد کروا گئی جو اس نے فورا چھوڑ دی۔
“ویسے آپ کا نام کیا ہے؟ میں بھول گئی تھی۔میرے بھائی آپ کا شکریہ ادا کرنا چاہتے تھے۔” بیگ سے اپنا والٹ نکالتی وہ مصروف سے انداز میں بولی تو اس نے توجہ سے اسے دیکھا جو بلیو جینز کے ساتھ لائٹ پنک کلر کی ڈھیلی سی جرسی پہنے بالوں کی پونی ٹیل کیے گلے میں مفلر لپیٹے، پاوں میں سنیکرز پہنے خاصے رف ٹف سے حلیے میں ملبوس تھی۔
“مدد آپ کی کی تھی شکریہ وہ کیوں ادا کرنا چاہتے ہیں؟” اس نے جان بوجھ کے بات کو طول دینا چاہا۔
“میرے بھائی ہیں تو میری مدد کرنے کے ناطے یہ تو ان کا اخلاقی فرض ہے۔بہرحال آپ کا بہت بہت شکریہ سر۔” وہ اپنے مخصوص کھنکتے ہوئے لہجے میں بولتی اس کے لیے مختص کر کے رکھی ہوئی رقم اس کی جانب بڑھانے لگی۔
کیونکہ اس دن اس کے انتظار کے بعد حمدان نے اسے پیسے دیے تھے کہ اگر وہ اسے کہیں نظر آ گیا اور وہ پاس نہ ہوئے تو یہ اسے پیسے واپس کر دے۔
“اٹس اوکے۔” یہ اس کی خصلت نہ تھی کہ کسی کو کچھ دے کے واپس لینا لیکن فی الحال وہ اسے منع نہیں کر سکتا تھا اس لیے بہت بے دلی سے پیسے اس کے ہاتھ سے تھام لیے۔
“دریہ!یہ میرا کانٹیکٹ نمبر ہے اگر نیکسٹ بھی کبھی کسی قسم کا مسئلہ ہوا تو آپ مجھے کانٹیکٹ کر سکتی ہیں۔” وہ جو اس کے انتہائی بے تکلفی سے اسے ‘دریہ’ پکارنے پہ بھی ابھی صحیح سے حیران بھی نہ ہوئی تھی کہ اس کی اگلی کہی بات پہ چونک گئی۔
پہلے تو اس کا دل چاہا وہ دوٹوک انکار کر دے لیکن پھر یاد آیا ابھی اس نے تازہ تازہ مدد کی ہے تو نمبر لے لینے میں کیا حرج ہے؟نمبر لے لینے کا مطلب یہ تھوڑی ہے کہ کال بھی ضرور ہی کی جائے۔
یہی سوچ کے اس نے نمبر اس کے ہاتھ سے لے لیا جس نے اسے اپنا کارڈ دینے کی بجائے اسے کاغذ کے ٹکڑے پہ اپنا نمبر لکھ کے دیا تھا اور ساتھ اپنا نام ‘طلال’ بھی مینشن کیا تھا۔
“اوکے سر طلال!آپ کا بہت شکریہ، میں اب چلتی ہوں میری کلاس کا ٹائم ختم ہو رہا ہے۔” وہ اس سے اجازت لیتی اپنی کلاس کی جانب چل دی جبکہ وہ اس کی پشت پہ نگاہیں جمائے اب اس سے اگلی ملاقات کی سبیل ڈھونڈنے لگا کیونکہ اس کے پاس وقت کم تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“نگاہ!ضرغام کے کپڑے ڈرائی کلین ہو کے آ گئے ہیں، ملازمہ سے پتہ کر کے انہیں اس کی کلوزٹ میں سیٹ کر دیں۔” کافی دنوں کے بعد آج پھر سے ‘ملک ہاوس’ کے سٹنگ ایریے میں آج محفل جمی تھی کیونکہ شہرے اب دانستاً ضرغام کی موجودگی میں یہاں آنے سے گریز کیا کرتی تھی۔
اس وقت وہ سب بیٹھے گپ شپ لگا رہے تھے جب ثمرین بیگم نے وہاں آ کے قندیل سے باتوں میں مگن نگاہ کو ہدایت دی تو نگاہ کے ساتھ ساتھ شہرے بھی چونک گئی اور اگلے ہی پل اس کے دماغ کی بتی جل اٹھی۔
“بڑی ماما!کپڑے میں کلوزٹ میں سیٹ کر دوں؟” وہ نگاہ کے اٹھنے سے قبل ہی سب سے نظریں چراتی ہچکچاتے ہوئے لہجے میں بولی تو وہ مسکرا دیں جبکہ نگاہ اس کی بات کا مقصد سمجھ کے اس کو دیکھ کے رہ گئی۔
“آپ سیٹ کر دیں۔” انہوں نے ایک نظر نگاہ کے چہرے پہ ڈالی لیکن وہ حسبِ سابق بہت سکون سے بیٹھی مسکرا رہی تھی تبھی انہوں نے اسے اجازت دی تو وہ بے چیخی سے اتھل پتھل ہوتی دھڑکنوں کے ساتھ ملازمہ کے بتانے پہ اس کے کپڑوں سے سجے ہینگرز ہاتھوں میں بمشکل سنبھالے سیڑھیوں کی جانب بڑھ گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ آج خلافِ عادت و معمول دن کو کھانا کھانے کے بعد کمرے میں رہبان کی کال سننے آئی تو کال لیٹ آنے کی صورت میں وہ وہیں سو گئی اور اب دو گھنٹے کی بھرپور نیند لینے کے بعد جب نیچے آئی تو نیچے کا ماحول تو جیسے مکمل طور پہ بدل چکا تھا۔
حمدان، عالیان، زمل اور دریہ ریلنگ، دیواروں اور دروازوں پہ پھولوں کی لڑیاں لگا رہے تھے جبکہ آیت، داود، ہادی اور مشعل داخلی دروازے پہ بیلونز لگانے کے بعد اب فرش پہ اور باہر دروازے کے اوپر نجانے کیا کارنامہ سر انجام دینے میں مگن تھے۔
وہ ہال کے بیچ و بیچ کھڑی ان سب کو حیرانگی سے دیکھ رہی تھی جب دریہ کی نظر اس پہ پڑی۔
“آپ جاگ گئیں؟” وہ اسے دیکھ کے جس طرح بلند آواز میں بولی تھی اسے سمجھ نہ آئی کہ یہ سوال تھا یا دوسروں کو سنانے کے لیے کوئی اعلان لیکن بہرحال اس نے سر اثبات میں ہلا کے جواب دے ہی دیا۔
“اوکے اب ایسا ہے کہ آپ کے محترم شوہر نامدار ہاسپٹل سے ڈسچارج ہو چکے ہیں لیکن چونکہ نا تو آپ کی رخصتی نارمل طریقے سے ہوئی ہے اور ناہی آپ کی اپنے سسرال میں آمد اس لیے۔۔۔۔۔” وہ جو بولنا شروع ہوئی تو پھر نان سٹاپ بولتی جب سانس لینے کو رکی تو داود نے فوراً اگلی بات اچک لی۔
“اس لیے اب ہم آپ کی اسپیشل سی رخصتی کروائیں گے سو پلیز آپ اپنی پھپھو ساس آنسہ عقیدت بدر کے ساتھ ان کے گھر جا کے اپنے سولہ سنگھار مکمل کریں تب تک آپ کے شوہر بھی پہنچ جائیں گے اور پ۔۔۔۔۔۔” داود کی چلتی گاڑی کو آیت نے بریک لگائی۔
“اور پھر کی پھر بتائیں گے وہ سرپرائز ہے۔” اس نے ہونق بنی آبگینے کا ہاتھ تھام کے اسے عقیدت کے حوالے کیا جو ہاتھوں میں ایک بڑا سا باکس لیے اس کے ساتھ اپنے گھر چل دیں جبکہ وہ آنے والے لمحات کے متعلق سوچتی بے حد پریشانی کا شکار ہو رہی تھی کیونکہ وہ جانتی تھی کہ اُس کے عمل کا ردِ عمل کیا ہو گا؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کمرے میں داخل ہونے کے بعد اس نے ہاتھوں میں تھامے ہینگرز جلدی سے بیڈ پہ پھینکنے کے سے انداز میں رکھے اور خود تیزی سے کلوزٹ کی جانب بڑھی۔
کلوزٹ کھولنے کے بعد وہ بہت تیز تیز ہاتھ چلاتے ہوئے مطلوبہ چیزوں کو ڈھونڈنے لگی لیکن وہ وہاں ہوتی تو ملتی ناں۔
اپنی تلاش میں ناکامی کے بعد وہ کوفت زدہ سی اس کے ہینگ ہوئے تمام کپڑوں کی پاکٹس چیک کرنے لگی لیکن ندارد۔
ایک آخری حربے کے طور پہ اس نے دراز کھولنے چاہے لیکن دو لاکڈ دراز دیکھ کے اس کی پیشانی پہ بل پڑے لیکن تیسرے دراز کو ان لاکڈ دیکھ کے اسے خوشی ہوئی کہ شاید اس سے ہی کچھ نہ کچھ مل جائے لیکن دراز کھولتے ہی اس کا دل چاہا وہ اس کلوزٹ کے مالک کا سر اسی دراز میں دے مارے کیونکہ اس دراز کے اندر ایک لاکر تھا جو پاسورڈ سے کھلتا تھا۔
“اب یہ کیا مصیبت ہے؟” وہ کوفت زدہ سی بڑبڑائی اور پھر سوچتے ہوئے ضرغام کی ڈیٹ آف برتھ ٹرائی کی لیکن ناکامی نے منہ چڑھایا۔
“نگاہ کی ڈیٹ آف برتھ ہو گی۔” پرسوچ انداز میں بڑبڑاتی وہ نگاہ کی ڈیٹ آف برتھ ٹرائی کرنے لگی لیکن لاکر کو ہنوز بند دیکھ کے اس کا بیزاری اور کوفت سے برا حال ہونے لگا۔
“یہ کیا مصیبت ہے؟یہ اب کیسے کھلے گا؟” بیزاری کے عالم میں اس کی آواز بلند ہو گئی۔
“اپنی ڈیٹ آف برتھ ٹرائی کریں، کھل جائے گا۔” وہ جو مختلف نمبر ملائے جا رہی تھی عقب سے آتی غیر متوقع بھاری آواز پہ اس کا سانس تھم گیا جبکہ وجود جہاں کا تہاں رہ گیا۔
جاری ہے۔
