57.1K
55

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode Last

“دل تیرے سنگ جوڑ لیا”
از
حوریہ ملک
Episode#56(last Episode part 2);

بھاری بھر کم لہنگے کو بمشکل سنبھالے وہ کھنکتے زیورات کے ساتھ اس کی کلوزٹ کو کھولے کھڑی تھی۔
وہ بڑی حیرانگی سے اس سرخ اسکارف، ان کیچرز، اپنی تصاویروں اور اپنے ضر کو دیے گئے تحائف کو دیکھ رہی تھی جن کے ساتھ نگاہ کی وہ والی تصاویر بھی موجود تھیں۔
وہ نجانے کب تک ان چیزوں میں کھوئی رہتی جب اچانک اس نے خود کو خوشبووں بھرے مضبوط حصار میں محسوس کیا تو ہاتھ میں پکڑی اشیاء چھوٹ کے نیچے جا گری۔

“السلام علیکم!” دونوں ہاتھ اس کی کمر کے گرد لپیٹے وہ تھوڑی اس کے کندھے پہ ٹکائے بھاری آواز میں گویا ہوا تو ایک پل کو اس کی سانسیں تھم سی گئیں۔
“و۔۔وعلیکم السلام!” بمشکل سلام کا جواب دیتی وہ اپنے پیٹ پہ بندھے اس کے دونوں ہاتھوں کو دیکھنے لگی جن کا لمس اسے خود میں سمٹنے پہ مجبور کر رہا تھا۔

“میری محبت کی ان نشانیوں کو دیکھنے کی بجائے میری آنکھوں کو پڑھنے کی کوشش کریں۔” چہرہ اس کی گردن میں چھپاتے ہوئے وہ گھمبیر آواز میں بولا تو اس کی سانسوں کی پرتپش لپک پہ اس کی دھڑکنیں تیز ہونے لگیں۔

“او۔۔اوکے لیکن پہلے دور ہوں نا۔” اس نے خائف سے انداز میں کہا تو اس نے گرفت مزید مضبوط کرتے اس کی پشت اپنے سینے سے لگائی۔

“آج دوریاں بڑھانے کی بات نہ کیجیے گا، بڑی صعوبتوں کے بعد یہ وصل کی گھڑیاں نصیب میں آئی ہیں۔” اس کے حرکت کرتے لب اس کی گردن سے مس ہوتے اس کے ہوش اڑا رہے تھے۔
“آپ مجھے ڈرا رہے ہیں؟” اس کی گستاخیوں سے گھبراتے ہوئے وہ بے ساختہ بولی تو اس کا قہقہہ بڑا بے ساختہ تھا۔

“اونہوں، میں ذرا اپنے قدم مضبوط کر رہا ہوں کیونکہ آپ کا چہرہ دیکھنے کے بعد مجھے اپنے بن پیے بہکنے کا خدشہ ہے۔” معنی خیز لہجے میں کہتے اس نے اس کا رخ اپنی طرف موڑا تو مٹھیاں زور سے بھینچے اپنی پلکیں سختی سے موندے اس کے سامنے دلہناپے کا مکمل روپ لیے کھڑی اسے سحر زدہ سا کر گئی۔

میں نے اس کو اتنا دیکھا کہ جتنا دیکھا جا سکتا تھا
مگر پھر بھی دو آنکھوں سے کتنا دیکھا جا سکتا تھا۔۔۔۔۔

اس کے چہرے کے ملائم نقوش پہ نگاہیں گاڑھے وہ بہکے بہکے انداز میں گویا ہوا تو اسے اپنا حلق خشک ہوتا محسوس ہوا۔
تبھی وہ آگے بڑھا اور پوری شدت کے ساتھ اس کے ٹیکے پہ لب جماتا اپنی پلکیں موند گیا تھا۔

“You are my eternal pleasure and reason of life Shehry Zargham.”

اس کے ماتھے پہ لب ٹکائے وہ جان نثار انداز میں بڑبڑایا تو اس کے لفظ لفظ کی حدت و شدت اس نے پوری گہرائیوں سے اپنے دل کی سماعتوں میں اترتی محسوس کی تھی۔

“میں یہ بات پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ میری دلہن بنی شہرے ملک دنیا کی خوبصورت ترین دلہن ہے۔” اس کا لفظ لفظ محبت کے رنگ میں ڈوبا ہوا تھا جبکہ اس کے بے لگام ہوتے لب بڑے استحقاق سے اس کے چہرے کے نقوش کو محسوس کر رہے تھے۔
تبھی اس نے ہاتھ بڑھاتے ہوئے اس کے دوپٹے میں لگی پنز کو نکالنا چاہا تو اس نے تڑپ کے اس کا ہاتھ تھاما تھا۔

“ضرغام نہیں پلیز۔” اس کی شرم و حیا میں لپٹی مزاحمت بڑی بے ساختہ تھی۔
لیکن وہ بڑی نرمی سے اس کی آنکھوں میں جھانکتا جیسے اس کے ہر خوف کو زائل کرنے کی کوشش کرتا اس کے دوپٹے میں لگی پنز جیسے جیسے اتارنے لگا، آنے والے لمحات کو سوچتی شہرے کو اپنی سانسیں سست ہوتی محسوس ہونے لگیں۔
اس کے دوپٹے سے پنز نکالنے کے بعد جب اس نے اسی صوفے پہ جہاں اس نے اپنی شیروانی اور کلاہ اتار کے پھینکا تھا وہیں دوپٹہ اچھالا تو اس کا دل گویا اچھل کے حلق میں آن اٹکا تھا۔
فٹنگ والی شارٹ چولی میں ملبوس شہرے کے وجود کی رعنائیوں کو مخمور نگاہوں سے دیکھتے ضرغام کی آنکھیں یکلخت لو دینے لگیں تو شہرے نے بوکھلاتے ہوئے اپنا رخ بدلا۔
رخ موڑے وہ کمرے میں چھائی معنی خیز سی خاموشی میں اپنا سانس بحال کرنے کی کوشش کر رہی تھی جب بیک گہرے گلے پہ اس کے گرم ہونٹوں کا لمس اسے لڑکھڑانے پہ مجبور کر گیا۔

“یااللّٰہ!” اس کے ہونٹوں سے بے ساختہ سسکی سی نکلی اور وہ دونوں ہاتھوں میں لہنگا بھینچتی اس کا لمس خود میں اترتا محسوس کر رہی تھی جس کے ہونٹ اس کی گردن کی پشت پر جبکہ ہاتھ کانوں میں موجود جھمکے اتارنے میں مشغول تھے۔
یوں اس کو جیولری کے بوجھ سے آزاد کرتا وہ اس کی گردن و چہرے کو اپنے لمس سے سرخ کر رہا تھا۔

“میری زندگی میں آنے، مجھے میری تمام خامیوں سمیت قبول کرنے اور یہ پل میری زندگی میں لانے کا بہت شکریہ میری جان۔” محبت و احترام سے کہتے ہوئے وہ اس کے بالوں سے پنز نکالتا ہوا اس کی آنکھوں کو چوم رہا تھا۔

“ضر نہیں پلیز۔” اس کے بال کھولنے کے بعد اس نے جب ایک جھٹکے سے اسے اپنی بانہوں میں اٹھایا تو وہ بے ساختہ بول اٹھی لیکن پھر اس کے دیکھنے پہ آنکھیں میچتی اس کے سینے میں سر چھپا گئی۔
اسے بیڈ پہ لٹانے کے بعد جب اس نے اپنی قمیض کے بٹن کھولنے شروع کیے تو اسے اپنی ٹانگوں سے جان نکلتی محسوس ہوئی تھی۔
تبھی وہ آنکھوں میں جذبات کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر لیے اس کے نزدیک آتا اس پہ جھکا تو اس کا دل چاہا وہ کہیں غائب ہو جائے۔
اس کے مردانہ کولون کی مہک اسے اپنے اندر تک اترتی محسوس ہو رہی تھی وہ اس پہ چھایا ہوا اس کے اس قدر نزدیک تھا۔

“ریلیکس رہیں شہرے اور اتنے سالوں کی شدتوں اور جذبات کو برداشت کرنے کی کوشش کریں۔” بھاری گھمبیر لہجے میں بولتے ہوئے اس نے اس کی گردن میں ڈائمنڈ لاکٹ پہناتے ہوئے اپنی محبت کی مہر ثبت کی تو وہ سختی سے بیڈ شیٹ ہاتھوں میں جھکڑ گئی مگر اس نے بہت نرمی سے اس کے ہاتھ اپنے ہاتھ کی گرفت میں لیتے ہاتھ بڑھا کے لائٹ آف کی تو اس کی گرفت میں موجود شہرے کو اپنی سانس بھی رکتی محسوس ہوئی تھی۔

ایک ہاتھ میں اس کے ہاتھ جھکڑے وہ دوسرے ہاتھ اس کی شرٹ کو کندھے سے سرکاتے ہوئے اس کے کندھے پہ اپنا لمس چھوڑنے لگا تو مچلتی ہوتی شہرے اس کے ہاتھ سے اپنے ہاتھ آزاد کرواتی زور سے اس کی گردن کے گرد بازو حمائل کرتی گویا خود کو اس کے حوالے کر گئی۔
اور اندازِ سپردگی کی اس ادا پہ سرشار ہوتا وہ گزرتی رات میں اپنی جنون خیزی کے باعث اس کی سانسوں کے ڈوبنے اور ابھرنے کا باعث بنتا اس کی روح تک میں اتر گیا تھا۔
جبکہ شہرے جس نے کبھی اس شخص کے ساتھ ایسا تعلق کچھ نہ تھا وہ اس وقت اس شخص کو اپنی روح تک میں اترتا محسوس کرتی بوکھلاتی شرماتی اس کی بانہوں میں سمٹ رہی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ دونوں کچن میں سلیب کے سامنے کھڑے اپنی اچانک زور آور ہونے والی بھوک سے نپٹنے کے لیے میکرونیز بنا رہے تھے۔
یہ اور بات تھی کہ بنانے والا کام نگاہ کر رہی تھی جبکہ اس کے ساتھ کھڑا نین میکرونیز سے زیادہ رومینس پہ فوکس کر رہا تھا۔

“نین ہم کچن میں ہیں۔” اس کی شرارتوں سے خائف ہوتی نگاہ بظاہر اسے گھورتے ہوئے بولی تو وہ زور سے اس کے رخسار کو چھوتا ہوا اس کے کندھے پہ تھوڑی ٹکا گیا۔

“تو جب تم بیڈ روم کی بجائے زیادہ تر وقت ادھر ادھر گزارو گی تو مجھے کچن رومینس ہی کرنا پڑے گا نا۔” شرارت سے کہتے ہوئے اس نے اس کی گردن پہ اپنے ہونٹ مس کیے تو اس کے ہونٹوں پہ شرمگیں مسکان پھیل گئی جسے دباتے ہوئے وہ اس کی جانب مڑی۔

“یہ صبح کا تیسرا شکوہ ہے تمہاری طرف سے، خیر ہے نا؟” چونکہ وہ سبزیاں بوائل کے لیے رکھ چکی تھی اس لیے تھوڑا ریلیکس ہو کے مکمل طور پر اس کی طرف متوجہ تھی۔
“بالکل خیر نہیں ہے۔تم یہ کیوں بھول رہی ہو کہ ہماری بھی نئی نئی شادی ہوئی ہے۔” اس کے رخسار سہلاتے ہوئے وہ محبت بھرے لہجے میں گویا ہوا تو اس نے پیار سے اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے اس پہ اپنے لب دھرے۔

“اتنی مشکلوں سے ملے ہو تم۔یہ بات بھلا کیسے بھول سکتی ہوں۔” آنکھوں میں چاہت کے دیپ جلائے وہ پیار سے بولی اور ہولے سے نزدیک ہوتی وہ اس کے چہرے پہ اپنا دوسرا ہاتھ رکھتی بہت نرمی سے اس کے ہونٹوں کو چھونے کے بعد حیا آمیز مسکان لیے پیچھے ہٹی لیکن اس کے مضبوط بازو کے حصار نے اسے وہیں روک دیا۔
کہ اس کی اس بے ساختہ حرکت پہ بہکتا ہوا نین پوری شدت کے اس کے ہونٹوں پہ تسلط جماتا اسے لڑکھڑانے پہ مجبور کر گیا۔
اس نے اس کے سینے پہ ہاتھ رکھتے ہوئے اسے پرے کرنا چاہا لیکن وہ مکمل طور پر اس کے وجود کے نشے میں گم اس کے لبوں کا جام پیے جا رہا تھا۔
جبکہ وہ اس کے بازو تھامے اس جذباتیت کے مدہم ہونے کا انتظار کرنے لگی۔

“میں تمہیں بہت شریف سمجھتی تھی۔” ہونٹوں کو رہائی ملنے پر اس کے سینے پہ سر دھرتی وہ مدہم لہجے میں گویا ہوئی تو اس کے کندھے کو ہونٹوں سے چھوتا وہ زیرِ لب بڑبڑایا تھا۔
“شوہر کو شریف سمجھنا بیویوں کی سب سے بڑی غلطی ہے۔” شرارت بھری سنجیدگی سے کہتا وہ اسے بیچارگی سے سر ہلانے پر مجبور کر گیا۔
تبھی سبزیوں کے جلنے کا خیال آتے ہی وہ سرعت سے کوکنگ رینج کی طرف متوجہ ہوئی۔

“زوالنورین اب تک گھر کیوں نہیں آیا؟” پین میں آئل ڈالتے ہوئے اسے اچانک خیال آیا تھا۔
“کیونکہ وہ اپنی میم کا دماغ مزید خراب کرنا چاہتا ہے۔” نین نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا تو وہ نفی میں سر ہلاتی اس کا نمبر ملانے لگی۔
جو اس وقت رہبان کے ساتھ سڑک کنارے موجود تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مکمل سولہ سنگھار کیے وہ دلہناپے کا مکمل روپ دھارے بیڈ پہ بیٹھنے کی بجائے اس صوفے پہ بیٹھی تھی جس پہ اکثر وہ اسے پڑھانے کے لیے بیٹھا کرتی تھی۔
بے چینی سے دبیز کارپٹ کو پاوں کے انگوٹھے سے رب کرتی ہوئی وہ دیوار گیر گھڑی پہ بھی گاہے بگاہے نظر ڈال رہی تھی جہاں سوئی بارہ کے ہندسے کو چھونے کے قریب تھی۔
تبھی دروازے پہ نامانوس سی دستک ہوئی تو وہ چونکی۔اسی لمحے دروازہ کھلا اور دروازے کی چوکھٹ پہ ذوالنورین کو سہارا دیے رہبان کو دیکھ کر وہ ایک جھٹکے سے اٹھ کھڑی ہوئی۔

“السلام علیکم زحلے!” رہبان کے سنجیدگی سے مخاطب کرنے پہ وہ جو پھٹی پھٹی نگاہوں سے ذوالنورین کے ماتھے پہ لگی بینڈیج اور ایک ہاتھ میں پکڑی سٹک کو دیکھ رہی تھی، یکلخت چونکی تھی۔

“و۔۔وعلیکم السلام!یہ۔۔۔۔۔” اس نے بے ساختہ مہندی لگے ہاتھ کی انگلی سر کو رہبان کے کندھے پہ نڈھال سے انداز میں جھکائے ذوالنورین کی جانب اٹھی تھی۔

“اپنا سر اٹھا میرے کندھے سے، کسی ترسی ہوئی ہیروئین کا ڈپلیکیٹ لگ رہے ہو۔” رہبان نے اس کا چہرہ اپنے کندھے میں چھپا ہوا محسوس کیا تو بیئرڈ اور مونچھوں کی چبھن سے جھنجھلایا۔
“چہرہ اٹھا کے میم کی طرف دیکھا تو پھر کچھ یاد نہیں رہے گا۔” اس کی بڑبڑاہٹ کے جواب میں وہ بھی مدہم سا بڑبڑایا تو وہ صبر کے گھونٹ بھر کے رہ گیا۔

“یہ بس ضرغام کی طرف سے آتے اس کا ہلکا سا ایکسیڈنٹ ہوا ہے۔ دونوں ٹانگوں پہ چوٹ آئی ہے کچھ دن چلنے پھرنے میں مسئلہ ہو گا۔ یہ تو کہہ رہا تھا کہ ہاسپٹل ہی رہنے دو میم ناراض ہیں ایویں میری وجہ سے ڈسٹرب ہوں گی لیکن میں گھر لے آیا کہ میں اس کے ساتھ ہاسپٹل نہیں رک سکتا تھا۔” اتنا سنجیدہ رہبان شاید ساری زندگی نہ رہا تھا جتنی سنجیدگی کا مظاہرہ وہ اس وقت کر رہا تھا۔

جبکہ رہبان کی بات سنتی زحلے کو اپنے دماغ میں دھماکے ہوتے محسوس ہو رہے تھے کہ وہ اس کے پاس آنے کی بجائے ہاسپٹل میں رہنے کو ترجیح دے رہا تھا۔

“آہہہ!” وہ جو غم و غصے کی شدت سے پینک ہونے کو تھی اس کی درد بھری کراہ پہ ہوش میں آتی اس کی طرف لپکی تو زیورات کی چھنک پہ رہبان کے سہارے کھڑے ذوالنورین کا دل مچل اٹھا لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔

“آپ پلیز ان کو بیڈ پہ بٹھائیں، ایسے کھڑے رہنے سے تو مزید تکلیف ہو گی۔” اس نے اس کے ہاتھ سے چھری لیتے ہوئے رہبان سے کہا کیونکہ اسے اب ان سہاروں سے وحشت ہونے لگی تھی۔وہ کبھی بھی اب زندگی میں اس شخص کو ایسے کسی سہارے کا محتاج نہیں دیکھ سکتی تھی۔
تبھی اپنے غصے کو فی الوقت کے لیے پسِ پشت ڈال کے اس نے اپنے مہندی، انگوٹھیوں سے سجے نازک ہاتھ میں اس کا بازو تھاما اور رہبان کے ساتھ اسے سہارا دیتی بیڈ کی طرف لے جانے لگی۔

“اوکے میں اب چلتا ہوں۔اگر رات میں کسی سہارے کی ضرورت محسوس ہو تو نین یا مجھے کال کر لینا۔” زحلے جو نیم دراز ذوالنورین پہ جھکی اس کی کمر کے پیچھے تکیہ سیٹ کر رہی تھی۔
رہبان کے ایک دفعہ پھر سے اسی طرح کے ملتے جلتے الفاظ دہرانے پہ اس کے اندر آگ سی بھڑک اٹھی تھی۔
اس کا دل چاہا وہ اپنے وجود کو بھی آگ لگا دے اور اس شخص کو بھی جھنجھوڑ کے رکھ دے۔

“جب بیوی نہیں تھی تب تمہارا خیال رکھا، جب تم نے بدلہ لینے کے لیے نکاح کیا تب بھی تمہارا خیال رکھا لیکن آج جب تم نے یہ لباس فاخرہ مجھے دیا کہ تمہیں اپنا ولیمہ حلال کرنا ہے تو آج تمہیں یاد آ رہا ہے کہ میں تمہارا خیال نہیں رکھ سکتی۔” رہبان کے باہر نکلتے ہی وہ ایک دم سے پھٹ پڑی تو ذوالنورین جو کب سے اس کی طرف دیکھنے سے دانستاً پرہیز کر رہا تھا۔
اس کے بلند لہجے میں گھلتی نمی محسوس کر کے بے چینی سے اس کی طرف دیکھا تو نگاہ جیسے ساکت ہو گئی تھی۔
اس کے نام کا سنگھار کیے وہ بھاری لہنگے میں ملبوس گہرے سانس لیتی سرخ ہوتی آنکھوں کے ساتھ اس کی طرف متوجہ اس کو اپنے حصار میں جھکڑ رہی تھی۔

“میرا دماغ خراب تھا جو ایک دفعہ پھر سے تم پہ یقین کر کے آج تمہارا انتظار کر رہی تھی حالانکہ تم ت۔۔۔۔۔۔۔” اسی انداز میں بولتی وہ غم و غصے کا شکار لگ رہی تھی جب بیڈ پہ نیم دراز ذوالنورین نے لپک کے اس کی کلائی تھامی اور ایک جھٹکے سے اسے اپنی طرف کھینچا۔
تو وہ زیورات کی دلفریب گونج کے ساتھ اس کے چوڑے وجود کا حصہ بنی تھی۔

“آپ کچھ ولیمہ حلال کرنے کے بارے میں بات کر رہی تھیں۔اتنی دور سے واضح سنائی نہیں دے رہا تھا زرا بات دوبارہ دہرائیں۔” اپنے بے حد نزدیک اس کے حیران چہرے کے دلکش نقوش کو والہانہ نگاہوں سے تکتے ہوئے وہ گھمبیر لہجے میں گویا ہوا تو وہ ایک دم سے ہوش میں آتی اس کی گرفت میں مچلی تھی۔

“چھوڑو مجھے ذوالنورین۔” اپنی پوری قوت لگاتی وہ اس کی گرفت سے آزاد ہونے کے لیے مچل رہی تھی۔

“محبت کرتی ہیں نا مجھ سے؟” اس کی کوشش ناکام بناتے ہوئے اس نے اس کی کمر پہ ہاتھ کا دباو بڑھاتے ہوئے اسے اپنے مزید نزدیک کیا تو وہ تھم سی گئی۔
اس کی مسکارے اور آئی شیڈو سے سجی مخمور آنکھیں بڑے بے ساختہ انداز میں اس کی جانب اٹھیں جو چند لمحے قبل کی نسبت اس وقت بڑے سکون سے لیٹا ہوا اس کی طرف متوجہ تھا۔

“میم!محبت کرنے لگی ہیں نا مجھ سے؟” اس کی اٹھی ہوئی ساحر آنکھوں میں جھانکتے ہوئے وہ گہرے لہجے میں گویا ہوا تو اس کا دل سینے کی دیواروں سے ٹکرانے لگا لیکن سر بدقت نفی میں ہلا۔

“آپ کی آنکھیں آپ کے جواب کی منافی کر رہی ہیں۔” اس کے نفی میں سر ہلانے پہ زیرِ لب مسکراتا ہوا وہ بولا تو وہ جیسے کسی گہرے خواب سے جاگی تھی۔

“میری آنکھوں پہ غور کرنے کی ضرورت نہیں۔چھوڑو مج۔۔۔۔۔” وہ اب اپنے ہاتھوں کے ساتھ اپنی ٹانگوں کو ہلاتی ہوئی اس کی گرفت سے آزادی کے لیے حرکت کر رہی تھی جب اچانک ذوالنورین نے اپنی ٹانگوں سے اس کی ٹانگوں کو لاک کیا تو اس نے پھٹی پھٹی نگاہوں سے گردن گھما کے اس کی ٹانگوں کو دیکھا اور پھر ایک نظر اس کے ماتھے پہ لگی بینڈیج کو۔
پھر دھڑکتے دل کے ساتھ تیزی سے ہاتھ بڑھا کے ماتھے پہ لگی بینڈیج ایک جھٹکے سے کھینچی تو شفاف پیشانی اس کو بھڑکا کے رکھ گئی۔

“تم۔۔۔۔۔۔” ایک دم سے اس کا ہاتھ اٹھا اور اس کے رخسار پہ جا پڑا جبکہ دوسرا ہاتھ قمیض کے گریبان کو جھنجھوڑے جا رہا تھا۔
جبکہ وہ جو اس کے اچانک بینڈیج کھینچنے پہ ٹھٹھکا تھا اس کے اس قدر غیر متوقع ردعمل پہ ششدر سا رہ گیا جو دلہن کا روپ لیے اس پہ لیٹی اس کو زدو کوب کرتی جا رہی تھی۔
مگر چونکہ غلطی اس کی تھی اس لیے وہ بڑے تحمل کے ساتھ اس کے سامنے لیٹا اس کے تھپڑ برداشت کر رہا تھا۔
مگر پھر اس کی آنکھوں سے نکلتے آنکھوں اس کے صبر کو تار تار کرنے لگے۔

“نفرت کرتی ہوں میں تم سے شدید نفرت۔تمہیں اندازہ ہے کہ تمہیں ایک دفعہ پھر سے کسی کا سہارا لیے دیکھ کر میرے دل پہ کیا بیتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔” اچانک ہی وہ ایک ہاتھ سے اس کی کمر پہ دباو بڑھاتا دوسرا ہاتھ اس کے بالوں میں الجھاتا اس کے ہونٹوں کو نرمی سے چومتا اس کے الفاظ خود میں جذب کرنے کی کوشش کرنے لگا تو زحلے جو اس کی اس اچانک حرکت پہ دم بخود سی ہو گئی تھی اس کا فریب یاد آنے پہ فوراً چہرہ پرے کرتی کپکپاتے نم ہونٹوں کے ساتھ گویا ہوئی۔

“میں جو یہاں تمہارے لیے تمہارا انتظار کر رہی تھی تمہیں ایسے آتے دیکھ کر میرا کیا حال ہوا تھا۔ ہیٹ یو۔۔۔۔” ایک دفعہ پھر سے ذوالنورین کے ہونٹوں نے اس کا غصہ خود میں مدغم کرنے کی گستاخی کی اور بڑی شدت سے اس کے ہونٹوں پر بوسہ دیتے ہوئے اس کے لب آزاد کیے تو وہ گہری سانس بھرتی اسی کے سینے پہ جیسے تھک کے سر ٹکا گئی۔

“آئی۔۔۔۔جسٹ ہیٹ یو، ذوالنورین میر!” اب کی بار لہجے میں نمی نہیں مگر اس کی شدتوں کے باعث کپکپاہٹ تھی.

“But you are the woman to whom I want to spend my whole life in love.”

اس کو پوری شدت کے ساتھ اپنی بانہوں میں بھینچتے ہوئے وہ دل کی گہرائیوں کے ساتھ بولا تو اس کے سینے سے لگی زحلے کو اس کی دھڑکنیں بھی اس بات کا ورد کرتی محسوس ہوئی تھیں۔

“ایسا کیوں کیا؟” کچھ ثانیے بعد اس کے سینے سے سر اٹھاتی وہ شکوہ کناں انداز میں بولی تو ذوالنورین نے ہاتھ بڑھا کے اس کے سرکتے ہوئے جھومر پہ اپنے ہونٹ رکھے۔

“کیونکہ آپ ناراض تھیں۔” سادگی سے جواب دیتے ہوئے وہ اس کے ڈھلکے ہوئے دوپٹے کو بڑی سہولت سے اس کے وجود سے الگ کرتا بیڈ کی ایک طرف اچھالتا کانپنے پہ مجبور کر گیا۔

“ذوالنورین!” اس نے لرزتے ہوئے اسے دیکھا جو بڑی مخمور نگاہوں سے اسے دیکھتا اس کا حلق خشک کر گیا۔

“اپنا نام آپ کے ہونٹوں پہ محسوس کرنا میرے لیے سب سے بڑا نشہ ہے۔” جذبات کی شدت سے بوجھل ہوتی آواز کے ساتھ کہتا ہوا وہ اس کے رخساروں کو چھو رہا تھا جب اس کے دونوں ہاتھوں کا لمس وہ اپنی چولی کے پچھلے گلے پہ بندھی ڈوری پہ محسوس کرتی وہ اس شدت کے ساتھ اس کی قمیض مٹھیوں میں جھکڑ گئی کہ اس کے سینے کے بال تک اس کی گرفت میں آ گئے۔
اس کی اس بے اختیارانہ حرکت پہ کھل کے مسکراتے ہوئے وہ خود پہ جھکی زحلے کی کمر پہ بندھی ڈوری کو کھینچتا اسے تڑپنے پہ مجبور کر گیا۔
اس کے ڈوری کھینچنے سے ڈوری کے کھل جانے پہ وہ تڑپ کے اس کی ڈھیلی ہوئی گرفت سے نکلتی اپنا رخ موڑتی گہرے سانس بھرتے ہوئے اپنی دھڑکنوں کو اعتدال میں لانے کی سعی کرنے لگی۔

اس کے یوں اٹھ کے رخ بدلنے پہ ذوالنورین نے دائیں کہنی بیڈ پہ جماتے ہوئے اس کی طرف دیکھا جو اس کی طرف پشت کیے لرز رہی تھی۔
جبکہ گہرے گلے سے جھلکتی اس کی مومی کمر پہ نظر پڑتے ہی اس کے اندر جذبات کا طوفان امڈنے لگا جبکہ اس کے وجود کی طلب جسم و جان میں آگ بھڑکانے لگی۔

“زحلے!” مخمور آواز میں کی گئی سرگوشی اور کمر پہ سرکتے لبوں کی بے باک حرکت پہ وہ جیسے مر سی گئی تھی۔
یہ پہلی دفعہ تھا جب اس نے پوری جاذبیت و شدت کے ساتھ اسے اس کے نام سے پکارا تھا۔
اور اس سمے زحلے کو فقط اپنے نام کی گونج ہر سوں گونجتی محسوس ہو رہی تھی۔

میں نے اک عرصے سے تجھے ورد میں رکھا ہے
میرے ہونٹوں پہ تیرے نام کے چھالے ہیں بہت۔۔۔۔

گھمبیر لہجے میں بولتا ہوا وہ آگے بڑھا اور اس کی پشت پہ نگاہیں جمائے اس نے اس کے گلے میں موجود نیکلس کی ڈوری کو اپنے ہونٹوں کی زد میں لیا تو اس کی سانسیں بھاری ہونے لگیں۔
اگلے ہی لمحے اس کا نیکلس چھوٹ کے اس کی گود میں آن گرا لیکن اس کی گردن اس کے بے لگام ہونٹوں کے لمس سے سرخ ہوتی جا رہی تھی۔

“ذوالنورین پلیز!میری سانس بند ہو جائے گی۔” ایک ہاتھ سے اس کے بال اس کے بائیں کندھے پہ پھیلائے وہ ان میں چہرہ چھپائے دوسرا ہاتھ اس کی گردن کے پیچھے سے گزارتا اس کی بیوٹی بون سے الجھتا اس کی سانسوں کو مدہم کر رہا تھا۔
جب وہ دبی دبی سی آواز میں گویا ہوئی تو ذوالنورین نے ان ریشمی گھنگھر گھٹاوں کی تحویل سے چہرہ نکالتے اسے دیکھا جو شرم و حیا کی سرخی سے سجی اس کا ایمان متزلزل کر رہی تھی۔

“اور اگر آج میں آپ سے دور رہا تو میری سانس بند ہو جائے گی زحلے۔” اس کے ہونٹوں پہ سجے مہرون رنگ کو پرتپش نگاہوں سے دیکھتا وہ اس کا رخ بدلتے اس کی بیوٹی بون پہ جھکا تو زحلے نے زور سے اس کے گرد بازو حائل کرتے گویا جائے فرار چاہی تھی۔

سیدھا ہوتے ہوئے اس نے اس کی گردن کو دیکھا جو اس کی ہی شدتوں کے باعث سرخ ہوتی اس کو ترنگ بھرے احساسات سے دوچار کر گئی تھی۔
اس کی آنکھوں کی لو سے گھبراتی زحلے اپنے لب کچلتی اس کے ضبط کا شیرازہ بکھیر کے رکھ گئی تبھی وہ اس کی گردن پہ دونوں ہاتھ رکھتا پوری شدت سے اس کے مہرون رنگ سے سجے ملائم ہونٹوں پہ جھکا تو اس کی آنکھوں کی پتلیاں پھیل سی گئیں لیکن اگلے ہی پل وہ ایک ہاتھ سے اس کے کھلے گریبان سے جھلکتے سینے کے بال دبوچتی دوسرا بازو مضبوطی سے اس کی کمر کے گرد حائل کرتی سختی سے پلکیں موند گئی تھی۔
پوری شدت و جنون خیزی کے ساتھ اس کے ہونٹوں کی نرمی خود میں جذب کرتا وہ اپنے پیروں کی انگلیوں سے اس کے لہنگے سے جھانکتی سپید پنڈلیوں کو چھونے لگا تو زحلے کا دل جیسے اس کے ہاتھوں میں دھڑکنے لگا۔

“مجھے ایک نئی زندگی دینے ،اس زندگی میں رنگ بھرنے اور اس نئے سفر میں مجھے اس انداز میں شامل کرنے پر شکریہ میم۔” اس کے ہونٹوں کو رہائی بخشتا ہوا وہ اس کی سرخ ہوتی آنکھوں میں دیکھتا بات کے اختتام میں شرارت سے مسکرایا تو ایک مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پہ بھی پھیل گئی۔

“اب کیا میں صحیح سے اپنا ولیمہ حلال کر سکتا ہوں؟” اپنے ہونٹوں پہ مچلتی مسکراہٹ کو بمشکل دباتے ہوئے وہ اس کی آنکھوں میں جھانکتا ہوا بے باکی سے بولا تو اس کا رنگ دہکتے انگارے کی مانند سرخ ہوا جبکہ کانوں سے گویا دھواں نکلنے لگا تھا۔

“یا خدا!” اس کی بے باک نگاہوں سے گھبراتی وہ کچھ اور چارہ نہ پاتی اسی کے سینے میں خود کو چھپاتی ان نگاہوں کی گرمی سے بچنے کی ناکام سعی کرنے لگی۔
جبکہ اس خود سپردگی پہ گہرے نشے میں چور ہوتا وہ اس کے دونوں ہاتھ اپنی گرفت میں لیتا اوپر تکیے کے ساتھ پِن کرتے ہوئے پوری قوت و شدت کے ساتھ اس پہ جھکتا اس کی روح تک میں اترنے لگا تھا۔
جبکہ اس کی شدتوں اور جنون خیزیوں سے گھبراتی بوکھلاتی زحلے اس کا نام سرگوشی نما آواز میں پکارتی اس کی گردن میں چہرہ چھپاتی کبھی اس پہ اپنے لب جما رہی تھی تو کبھی دانت پیوست کر رہی تھی۔
اس کی ان معصومانہ حرکتوں سے مزید بہکتے ہوئے وہ اپنے ہونٹوں سے اس کے وجود کے نشیب و فراز کو محسوس کرتا اس رات کو اپنی محبت اور جنون خیزی کے رنگوں سے سجاتا بیتے دنوں کی تلخیوں کو زائل کرتے ہوئے دل و جان میں اتر رہا تھا۔
اور اس کی بانہوں میں سمٹی زحلے بھی اس کے منہ زور جذبات کی شوریدگی کے باعث اس کے سنگ بہکتی چلی گئی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رات کی تاریکی میں وہ تاروں سے چمکتے آسمان پہ نظریں جمائے ٹیرس پہ موجود فلور کشنز پہ اپنے عقب میں براجمان رہبان کے حلقے میں موجود اس کے سینے پہ سر رکھے اس کے ساتھ پشت ٹکائے بیٹھی اسی کے ہاتھ کی بنی چائے پی رہی تھی۔

“ویسے یہ میرے جیسے شخص کے ساتھ زیادتی نہیں ہے۔” اس کے بالوں کی مہک خود میں اتارتے رہبان نے سنجیدگی سے استفسار کیا تو چائے کے سِپ لیتی آبگینے نے گردن اس کی جانب موڑتے استفہامیہ انداز میں ابرو اچکائے۔

“کیسی زیادتی؟”
“یہی کہ میری بیوی اس حالت میں میری محبت کو قبول کرنے کے بعد میرے ہاتھ کی بنی چائے نوش فرما رہی ہے۔” اس کے سراپے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس نے جس انداز میں کہا آبگینے کو ایک دم سے اس سے ٹوٹ کے اتنی حیا آئی تھی کہ وہ اسے ڈھنگ سے گھور بھی نہ سکی۔

“بہت اچھا ہوا ہے اور میرا بیٹے نے جیسے آج آپ کی بے شرمی اور بے باکی سے مجھے بچا کے رکھا ہے نا ویسے ہی بعد میں بھی بچائے گا۔” اس کی بے شرمی سے جھنجھلاتی وہ خالی ہوئے مگ کو سائیڈ پہ رکھتی بولی تو رہبان کو جیسے غش پڑنے لگا۔

“خبردار!یہ تو میں ابھی اس کا لحاظ کر رہا ہوں۔جس دن اس نے اس دنیا میں آنکھیں کھولیں میں اسے اس کے دادا دادی کے حوالے کر کے اس کے دوسرے بہن بھائی کے لیے اس کی ماں کی منت کروں گا۔” جواباً وہ جس تیزی اور برجستگی کے ساتھ بولا آبگینے کا دل چاہا وہ کہیں دیوار پہ جا کے سر دے مارے۔

“آپ۔۔۔آپ ایسے کیوں ہیں؟” وہ زچ ہوتی گویا ہوئی تو رہبان نے مسکراہٹ دباتے ہوئے اسے دیکھا اور پھر اس کے رخساروں کو زور سے چومتا ہوا اسے گڑبڑا سا گیا۔

“یہ چہرہ، یہ وجود، یہ احساس، یہ رشتہ ہے میرے ایسے ہونے کی وجہ۔” کمال سادگی کا مظاہرہ کرتا وہ اسے ہی موردِ الزام ٹھہرا گیا۔

“پھر میں ایسی کیوں نہیں ہوں؟” اس کے چہرے کو دیکھتی وہ متبسم لہجے میں اسے تنگ کرنے کو گویا ہوئی۔

“تو آو نا بن جاو۔” ایک جھٹکے سے اس کی کمر کے گرد بازو حمائل کرتا وہ اسے خود پہ جھکاتا ہوا گھمبیر لہجے میں بولا تو پل بھر کے لیے گھبرائی۔
لیکن اگلے ہی پل اپنی پوری ہمت مجتمع کرتی اس کی کشادہ پیشانی پہ جھکی اور اپنے کپکپاتے لب وہاں دھرے۔
پھر اس سحر انگیز آنکھوں پہ جھکی پھر رخسار اور پھر۔۔۔۔۔
وہ اس مقام پہ آتی بے اختیار جھجھکی تھی لیکن دوسری جانب وہ اس کی اس پیش قدمی پہ بہک چکا تھا وہ بنا کسی جھجھک کے خود پہ جھکی آبگینے کے ہونٹوں کو چھونے لگا تو وہ بھی زور سے پلکیں موندتی ان لمحوں کو محسوس کرنے لگی۔
جبکہ ٹیرس پہ جھانکتا چاند اس معنی خیزی خاموشی پہ شرماتا ہوا بادلوں کی اوٹ میں چھپ گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بھاری پردوں کے باعث کمرے میں چھائی مدہم سی تاریکی ابھرتی صبح کے آثار دکھانے سے قاصر رہی تھی۔
ایسے میں ضرغام کی بانہوں میں بکھری سی شہرے گہری نیند میں گم تھی جب دروازہ ناک ہونے کی آواز سے اس کی نیند میں خلل پڑا تو اس نے کسمساتے ہوئے کروٹ بدلنے چاہی جب خود کے گرد کسی مضبوط زنجیر کی مانند لپٹے اس کے بازو کے لمس پہ اس کا ذہن مکمل طور پہ نیند کے خمار سے نکلا تو گزری رات کے مناظر اس کی آنکھوں میں جھلملانے لگے۔

اس نے بے ساختہ گردن گھما کے اپنے پہلو کی طرف دیکھا تو اپنے بے حد نزدیک اس کا خوبصورت و خوبرو چہرہ دیکھ کر اس کا دل بے ساختہ دھڑک اٹھا۔
اس نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ یہ شخص کبھی اس کے اتنے نزدیک ہو گا۔
اس نے اس کی طرف کروٹ لیتے ہوئے اس کے چہرے کو نہارتے اپنا ہاتھ بڑھا کے اس کی بند پلکوں کو چھوا تو دل میں ایک میٹھی سی لہر دوڑ گئی۔

“آج مجھے یقین ہو گیا ہے کہ مرد کو بہکانے کا باعث عورت کی خوبصورت ادائیں ہی ہیں۔” ضرغام کی گھمبیر نیند کے خمار میں ڈوبی اچانک آواز پہ اس کا دل اچھل کے حلق میں آن اٹکا۔
اس نے خائف سے انداز میں اسے دیکھا جو ہنوز پلکیں موندے اس کے بے حد قریب لیٹا ہوا تھا۔

“صبح بخیر زندگی۔” اسے یوں خائف ہو کے دیکھنے پر اس نے اس کے گرد لپٹے بازو کی مدد سے اسے اپنے سینے سے لگاتے ہوئے اس کی گردن میں چہرہ چھپایا تو وہ لب دانتوں تلے دبا کے رہ گئی۔

“ضرغام پلیز!بس۔۔بس کریں۔” گردن کو لبوں سے چھوتے جب لب بے لگام ہوئے تو اسے رات والے جنون خیز روپ میں آتے دیکھ کر اس کے حواس خطا ہونے لگے۔

“کس نے کہا تھا کہ بھڑکتی آگ کو مزید تیل دکھائیں۔” اس کی شرٹ کے بٹنز پہ معنی خیز نظریں گاڑھے وہ گہرے لہجے میں بولتا سر تا پا حیا سے جھنجھوڑ کے رکھ گیا۔

“باہر سب ویٹ کر رہے ہوں گے پلیز۔” اس کی مدہوش نگاہوں کے بے باک تقاضوں سے گھبراتی وہ مدہم آواز میں گویا ہوئی تو وہ نفی میں سر ہلاتا ایک دفعہ پھر سے اس پہ جھکا۔
جس کی طلب تھی کہ بڑھتی جا رہی تھی، پیاس تھی کہ بے حد و بے حساب ہو رہی تھی۔دل تھا کہ اس کی قربت کے لیے مچل رہا تھا۔
اس کے وجود کی نرمیوں کو محسوس کرتا وہ ایک بار پھر سے اس کی سانسوں پہ تسلط جماتا جذبات کے سمندر میں بہتا چلا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گیلے بال پشت پہ بکھیرے وہ ہلکے گلابی رنگ کے لانگ شرٹ ٹراوزر میں ملبوس، دوپٹہ شانے پہ دھرے کچن سلیب کے سامنے کھڑی جلدی جلدی ہاتھ چلاتی چائے بنا رہی تھی۔
جب اچانک اپنے گرد مضبوط بازو کا حصار محسوس کرتی وہ اچھل سی گئی۔
مگر گردن کے گرد لپٹی چین پہ محسوس ہوتے لمس اور روح تک میں اترتی خوشبو کے احساس نے فوراً جتایا کہ آنے والا کون تھا۔

“اتنی جلدی کیوں اٹھ گئیں؟” اس کی گردن، اس کے کندھے، رخسار، نم بالوں پہ جابجا اپنے ہونٹوں کا لمس چھوڑتا وہ خمار آلود لہجے میں بولا تو منتشر دھڑکنوں کے ساتھ اسی میں سمٹتی زحلے نے گہری سانس خارج کی۔

“مجھے بھوک لگ رہی تھی۔” آہستگی سے جواب دیتے ہوئے اس نے اس کے بازو کا حصار توڑنا چاہا لیکن وہ اس کے نم بالوں میں چہرہ چھپائے گہری سانس بھرتا گویا اپنی سانسوں کو معطر کر رہا تھا۔

“آج بھی نہیں بتائیں گی کہ کونسا پرفیوم یوز کرتی ہیں آپ؟” اس کی کمر سے چپکی نم شرٹ پہ اپنی انگلیاں پیانو کی طرح بجاتے ہوئے وہ ذومعنی انداز میں بولا تو زحلے کا چہرہ فوراً کپڑوں کے ہمرنگ ہوا۔
جبکہ دل گویا وہیں دھڑکنے لگا جہاں اس کا لمس اپنا جادو بکھیر رہا تھا۔

“ہم کچن میں کھڑے ہیں، یہاں کوئی بھی آ سکتا ہے۔” اس نے اس کی مدہوشی پہ گویا بندھ باندھنا چاہا جو کچن کو لو اسپاٹ بنائے بڑے استحقاق سے اس کے ساتھ مگن تھا۔

“ڈونٹ وری جو آئے گا، وہ واپس بھی چلا جائے گا۔” اس کے لاپرواہی سے کہنے پہ زحلے ایک جھٹکے سے اس کی جانب مڑی جو سیاہ ٹراوزر پہ سیاہ کلر کی لوز سی شرٹ جس کے اوپری تین بٹن کھلے تھے پہنے آنکھوں میں نیند اور اس کی قربت کا خمار لیے مکمل طور پر اس کی جانب متوجہ تھا۔
اس کی کھلے گریبان سے دکھائی دیتی اس کی گردن پہ اپنے دانتوں اور ناخنوں کے نشانات دیکھ کر اسے خجالت و شرمندگی محسوس ہوئی تو فوراً پلکیں جھپکاتی خود کو سنبھالنے لگی۔

“مجھے شروع میں لگا تھا کہ آپ بہت اچھے اور میچیورڈ سٹوڈینٹ ثابت ہو گے لیکن آپ جیسا بے شرم سٹوڈینٹ اور شوہر میں نے آج تک نہیں دیکھا۔” وہ رات سے اس کی بے شرمی کے اتنے مظاہرے دیکھ چکی تھی کہ اب وہ زچ سی ہوتی بول اٹھی۔

“چونکہ آپ مجھے جو کلاسز دے رہی تھیں ان کی ڈگری میں دو سال پہلے لے چکا تھا تو میم میں کبھی سٹوڈینٹ بن کے آپ کے سامنے بیٹھا ہی نہیں۔” اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے وہ ڈھٹائی سے گویا ہوا تو زحلے اس شخص کو دیکھ کے رہ گئی جس نے نجانے مزید کون کون سے انکشافات اس پہ کرنے تھے۔

“تم واقعی اپنی ڈگری مکمل کر چکے تھے لیکن شازمین میر کو تو علم نہیں تھا۔” وہ ایک دفعہ پھر سے آپ اور تم کے چکر میں الجھ پڑی تھی۔

“اس عورت کا ذکر نہیں کریں اور میں نے دو سال پہلے اس فیز سے نکلتے ہی اپنی ڈگری مکمل کی تھی۔آپ کے سامنے میں اتنے دن ہی سٹوڈینٹ کی شکل میں آیا جب تک مجھے آپ کی گردن میں یہ موتی نظر نہیں آیا۔اس کے بعد اگر آپ غور کرتیں تو میرا دھیان نوٹس کی بجائے اسی پہ مرکوز ہوتا تھا۔” خلافِ عادت تفصیلی جواب دیتا وہ اس کو پلکیں جھپکانے پہ مجبور کر گیا۔
اسی لمحے موبائل فون کی چنگھاڑتی آواز پہ ذوالنورین نے ٹراوزر کی جیب سے موبائل نکال کے دیکھا تو ‘رہبان کالنگ’ دیکھ کر زحلے اس کی گرفت سے نکلتی ٹھنڈی ہو چکی چائے کو افسوس سے دیکھتی فریج سے فروٹس نکالنے لگی۔

“کیسی گزری رات؟معافی آسانی سے مل گئی تھی یا پھر تھپڑوں سے گھونسوں کی برسات ہوئی تھی؟” رہبان کی چہکتی ہوئی آواز موبائل کے سپیکر سے گونجی تو جہاں ذوالنورین نے کھا جانے والی نگاہوں سے موبائل کو دیکھا تھا وہیں دانتوں میں رس بھری سٹابری لیے زحلے کی بے ساختہ ہنسی چھوٹ گئی۔
اس کی ہنسی پہ ذوالنورین نے گردن گھما کے اس کی جانب دیکھا جس کے موتیوں کی مانند چمکتے دانتوں میں سرخ سٹابری اس پہ مستزاد اس کی ایسی ہنسی، وہ فوراً کال بند کرتا اس کی طرف بڑھا اور اسے سنبھلنے کا موقع دیے بغیر ایک ہاتھ اس کی کمر کے گرد حائل کرتا وہ دوسرا ہاتھ اس کی گردن کے گرد لپیٹتا ہوا اس کے چہرے پہ اس شدت سے جھکا کے اسے سٹابری کا ذائقہ اپنے منہ میں گھلتا ہوا محسوس ہوا۔
جبکہ زحلے اس اچانک افتاد اور اس کی ایسی شدت بھری پکڑ و بے اختیاری پہ خطا ہوتے اوسان کے ساتھ سلیب کی طرف جھکی ہوئی تھی۔
نجانے کب تک وہ یونہی اسے سلیب پہ لٹانے کے سے انداز میں جھکائے اس کی ہونٹوں اور گردن کی نرماہٹ محسوس کرتا اس کی سانسیں منتشر کرتا کہ اچانک باہر سے آنے والی ولید میر اور کلثوم میر کی آواز پہ زحلے نے ہوش میں آتے اسے زوردار انداز میں پرے دھکیلا اور خود تیزی سے سنک کی جانب بڑھتی اپنے لہو چھلکاتے چہرے پہ ٹھنڈے پانی کے چھپاکے مارنے لگی تھی۔

“یااللّٰہ!” تیز تیز دھڑکتے دل کے ساتھ اس نے اپنی سرخ ہوتی گردن کو چھپانے کے لیے دوپٹہ صحیح سے اوڑھا اور یونہی گردن موڑے اس سے گویا ہوئی۔
“اپنی شرٹ کے بٹن بند کر لو پلیز۔” اس کی اس مدہم آواز پہ کچن کے دروازے کی طرف بڑھتا ذوالنورین اپنی گردن کو ہاتھ لگاتا بھرپور انداز میں مسکرا دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جنم جنم ساتھ چلنا یونہی
ہے قسم تمہیں آ کے ملنا یونہی
ایک جان ہے بھلے
دو بدن ہوں جدا
میری ہو کے ہمیشہ ہی رہنا
کبھی نہ کہنا الوداع

میری صبح ہو تمہی
اور تمہی شام ہو
تم درد ہو
تم ہی آرام ہو
میری دعاوں سے آتی ہے بس یہ دعا
میری ہو کے ہمیشہ ہی رہنا
کبھی نہ کہنا الوداع

شہر کے مہنگے اور خوبصورت بینکویٹ میں اس وقت سیاہ فور پیس ایک جیسے پینٹ کوٹ پہنے ضرغام ملک، رہبان گردیزی، ذوالنورین میر اور ذوالقرنین میر کا ولیمہ ایک جیسی سرمئی رنگ کی میکسیاں زیب تن کیے شہرے ملک، آبگینے گردیزی، زحلے ابراہیم اور نگاہ میر کے ساتھ ہو رہا تھا۔

بڑے سے ویل ڈیکوریٹڈ سٹیج پہ چار صوفے پڑے تھے جن پہ چاروں کپلز براجمان تھے یہ اور بات تھی کہ رہبان کے ساتھ بیٹھی آبگینے نے اپنے کندھے پہ موجود سیاہ فینسی شال سے خود کو کوور کیا ہوا تھا۔
اس وقت ہال میں ابراہیم صاحب، میر پیلس، پیر حویلی، گردیزی ہاوس اور ملک ہاوس کے سارے مکین خوش باش چہروں اور پرسکون دلوں کے ساتھ موجود تھے۔
لیکن فی الحال طلال اور دریہ بینکویٹ نہیں پہنچے تھے کیونکہ طلال دریہ کا پلاسٹر اتروانے کے لیے اسے ساتھ لیے ہاسپٹل گیا تھا۔

“شہرے اب بتاو ذرا ثمرین بھابھی، بڑی دادو ہی رہیں گی یا مما بن گئی ہیں؟” ماہ وش چچی نے سجی سنوری شہرے کو مخاطب کیا تو وہ جھینپ گئی۔

“پہلے یہ تو کنفرم کریں کہ ضرغام چچا سے سیاں بن گیا ناں؟” ضرغام کی ممانی نے چٹکلہ چھوڑا تو محفل جیسے زعفران سی بن گئی۔
“شادی کے بعد کیسی بے شرم باتیں سننا پڑتی ہیں۔” شہرے نے اپنے ساتھ موجود صوفے پہ بیٹھی زحلے سے مدہم آواز میں کہا جو خود کم و بیش انہی خیالات میں ڈوبی ہوئی تھی۔

اسی طرح کے ہلے گلے اور چٹکلوں کے بیچ ولیمے کی پروقار سی تقریب اپنے اختتام کی جانب بڑھ رہی تھی جب اسد صاحب اور ولید صاحب نے چاروں کپلز کی طرف ٹکٹس بڑھائے۔

“یہ تم سب کے آسٹریا میں ہنی مون ٹکٹس ہیں اور فلائٹس اب سے ٹھیک چار گھنٹے بعد ہے اس لیے جلدی سے اپنی بیویوں کو لے کر ولیمے سے دلہن بھگانے کا نیا ٹرینڈ چلاو۔” اسد صاحب کے کہنے پر سب نے ایک ساتھ ایک دوسرے کیطرف دیکھا اور پھر اپنی زندگانیوں کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے اور اٹھ کھڑے ہوئے۔

“رہبان!آبگینے کو مکمل توجہ اور دھیان سے لے کے جانا ہے، ڈاکٹرز سے بمشکل اس کے سفر کرنے کی اجازت لی ہے۔” رہبان کو آبگینے کا بازو تھامتے دیکھ کر حماد صاحب نے ہدایت کی تو سر اثبات میں خم کرتا اسے ساتھ لیے سٹیج سے اترا۔
تو بینکویٹ میں موجود افراد دوستی کی اس عظیم مثال پہ کھلے دل سے مسکراتے ہوئے ان کی سچی خوشیوں کی دعا مانگنے لگے۔
جنہوں نے خوشی ہو یا غمی ایک دوسرے کا ساتھ نہیں چھوڑا اور اپنی زندگی کے ہر لمحے کو اس دوستی کے سنگ مل کے گزارا تھا۔

اور شاید یہی وجہ تھی بے شمار صعوبتوں کے بعد بھی وہ سب آج اپنے اپنوں کے سنگ خوش تھے۔
جبکہ حاسدین، منافق اور قاتل جیل کی تنگ دیواروں اور کمروں میں اپنے کیے کا پھل پا رہے تھے۔
اور یہی شاید وقت کا کھیل ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد