57.1K
55

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 41

“دل تیرے سنگ جوڑ لیا”
از
حوریہ ملک
Episode#41;

“نین آپ کی ساس کا بہت پیارا سا بیٹا ہے۔” مرغی کی وہی ایک ٹانگ کے مصداق اس کے وہی جواب سن کے زحلے کے خوبصورت چہرے پہ خفگی کے رنگ پھیل گئے۔

“لیکن آپ کو اماں نین نہیں بلاتی ہیں۔” اس کے لہجے کے شاکی پن پر ذوالنورین نے بڑے محظوظ کن انداز میں اس کی جانب دیکھا۔
جبکہ کلثوم میر بہت دلچسپی کے ساتھ انہیں بولتے ہوئے سن اور دیکھ رہی تھیں۔

“تو وہ بلا بھی کیسے سکتی ہیں؟” اس کے جواباً سادگی سے کہنے پہ زحلے کا دماغ گھوم سا گیا۔
اس کا دل چاہا وہ سامنے پڑا چائے کا مگ اٹھا کے اس بددماغ شخص کے سر پہ انڈیل دے لیکن وہ ایسا نہ کر سکی۔
تبھی سختی سے لب بھینچتی وہ کلثوم میر کے لیے ناشتہ پلیٹ میں نکالنے لگی۔

“یہ چپ کیوں ہو گئی ہے؟” اسے چپ ہوئے چند لمحے گزرے ہوں گے جب کلثوم میر کی بے چین آواز گونجی۔

“مما!کہتی ہیں کہ آپ کے سامنے مجھ سے زیادہ بات چیت کرنا انہیں پسند نہیں۔” سنجیدگی سے دیے گئے اس جواب پہ اس کے سر پہ لگی اور تلووں پہ جا بجھی۔

“فضول گوئی کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ میرا اور آپ کا کاغذی رشتہ آپ کو ایسی کسی چھیڑ کی اجازت نہیں دیتا ہے۔بہتر یہی ہو گا کہ ناشتہ کر کے اپنے پیپر کی تیاری کر لو کل پیپر ہے تمہارا۔” دبے دبے مگر خاصے سرد لہجے میں وہ جو بولی تو پھر بولتی چلی گئی۔
جبکہ اس کی تمام باتوں کو ازبر کرتے ذوالنورین کی خوبصورت آنکھوں میں سرد تاثر گہرا ہوتا چلا گیا۔

“میرا اور آپ کا رشتہ مجھے کس چیز کی اجازت دیتا ہے اس کے بارے میں اِن ایگزامز کے بعد تفصیلاً بات ہو گی۔تب تک آپ اپنے دلائل تیار کریں۔” سرد لہجے میں کہتے ہوئے وہ بگڑے ہوئے تاثرات کے ساتھ ناشتے کی جانب متوجہ ہو گیا۔
جبکہ وہ جو اس کے لیے ‘آپ’ اور ‘تم’ والے گنجل میں الجھی ہوئی تھی۔
اس کے اس انداز پر خائف ہوتے اس کی ریڑھ کی ہڈی تک سنسنا اٹھی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جیل کا وہ تنگ سا کمرہ اس وقت بلب کی ملگجی سی روشنی میں ایک گھٹن سی پیدا کر رہا تھا۔
اور اس کمرے میں یہاں سے وہاں ٹہلتا ہوا ‘سفیر سائیں’ غصے اور بے بسی کے مارے پاگل ہوا جا رہا تھا۔

“رشتے کو دیکھا جائے تو ہے تو بڑی کمینی سی بات لیکن ان بند سلاخوں کے پیچھے آپ کو یوں لاچار دیکھ کر دل کو بہت سکون مل رہا ہے۔” اس غصے اور بے بسی کو بڑھاوا دیتی اس پرسکون سی آواز پہ اس کا دل چاہا وہ اس شخص کو زمین میں زندہ دفنا دے جسے ‘پیر سائیں’ ایک رسم کو زندہ رکھنے کے لیے ان کے سروں پہ بٹھا گئے تھے۔

“یہ مت سمجھو کہ یہ سلاخیں مجھے ہمیشہ کے لیے اس تاریک کمرے میں قید کر کے رکھیں گی۔یاد رکھو ایک دن میں یہاں سے ضرور نکلوں گا اور نکلنے کے بعد سب سے پہلا قتل تمہارا کروں گا۔وہ بھی اپنے ہاتھوں سے۔” بپھرے لہجے میں اژدھے کی سی پھنکار تھی۔

“واللّٰہ چچا سسر محترم!آپ دو دن پہلے ان جیل کی سلاخوں سے باہر گئے تھے تب ہی ان ارادوں پہ عمل کیوں نہیں کیا؟” اس کے دلکش لہجے میں چھائی مصنوعی معصومیت پہ وہ بل کھا کے رہ گئے۔

“میں اس ارادے پہ عمل کرنے پر سیکنڈ کی بھی مہلت نہ دیتا جو اگر تم بزدلانہ حرکت نہ کرتے۔” اسے یہی بات پاگل کر دینے کو تھی کہ وہ ان کا پلان ان کے منہ پہ مار چکے تھے۔
وہ اسے ان کی حویلی میں سب کی ناک تلے سے نکال کے واپس اس کال کوٹھڑی میں بند کر گیا تھا۔

“جو کچھ تم اور تمہارا کمینہ آدمی بخت خان کر چکے ہو اس کے بعد تم جو اگر یہ سوچے بیٹھے ہوئے ہو کہ خدا کے انصاف اور قانون سے بچ سکو گے کہ یہ تم لوگوں کی بھول ہے۔ اب تمہارے سامنے کالج میں پڑھتے وہ ٹین ایجرز نہیں ہیں بلکہ اب تمہارے سامنے تمہارا انتقام عبرت بن کے کھڑا ہے۔” یکایک اس کا پرسکون لہجہ ایک خشونت و وحشت سموئے گونجا تو سفیر سائیں نے چونک کے اس کی جانب دیکھا۔

وہ تو یہ سمجھا تھا کہ یہ سب ‘شہرے ملک’ کو کڈنیپ کرنے اور آبگینے کی وجہ سے ہے تو وہ غلط تھا بلکہ یہ سب تو برسوں پرانے شروع کیے گئے کھیل کا سرا تھا۔

اس بات کا احساس ہوتے ہی اس کی رگ رگ میں عجیب سی بے چینی دوڑ گئی تھی۔
“کیا بکواس کر رہے ہو تم؟” اپنی دگرگوں ہوتی حالت کو بمشکل سنبھالتے اس نے ناگواری سے کہا۔

“یہ وہی بکواس ہے جسے سالوں پہلے تم نے لکھا اور اس پر عمل کیا تھا۔مگر اب قسمت پلٹا کھا چکی ہے۔ جس ولید میر کو تم لوگوں نے دنیا کی نظروں میں مار دیا تھا وہ ولید میر تمہارے دستِ راست کے شکنجے سے دو دن قبل آزاد ہو چکا ہے۔” رہبان گردیزی کی دی گئی اس آخری اطلاع پہ مضبوط اعصاب کے مالک سفیر سائیں کے چہرے کی رنگت فوراً بدلی تھی جو اس کی ذہین آنکھوں سے مخفی نہ رہی۔
اس کی آنکھوں میں آنکھیں گاڑھتے ہوئے وہ سرد لہجے میں مزید گویا ہوا۔
“اس لیے اب سفیر سائیں تم اور تمہارے اس گھناونے کھیل میں شریک سارے افراد اپنے بچاو کی تدابیر تیز تر کر دو کہ اب الٹی گنتی کا چکر شروع ہو چکا ہے۔”

تنفر سے بھرپور نظر اس کے متغیر چہرے پہ ڈالتے ہوئے وہ جیب میں موجود موبائل کے وائبریٹ کرنے پہ وہاں سے چلا گیا۔
جبکہ اس تاریک کمرے میں موجود سفیر سائیں کو پہلی مرتبہ صحیح معنوں میں ‘ڈر’ کا احساس ہوا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس وحشت زدہ سے دن کو گزرے تقریباً ہفتہ ہونے کو آیا تھا اور آج وہ خود کو مکمل کمپوزڈ کیے یونی جانے کے لیے تیار ہو گئی تھی۔

“داود!دیکھو آج میں اتنے دنوں بعد تم لوگوں کے ساتھ یونی جا رہی ہوں اس لیے اب یہ تم دونوں پہ ‘فرض’ ہے کہ ہمیں آج باہر لنچ کرواو۔” گاڑی میں بیٹھتے ہی وہ بیک وقت داود اور حمدان سے گویا ہوئی تو زمل نے فوراً تائیداً سر ہلایا۔

“تم یونی سے پکی پکی چھٹی لے لو کیونکہ ہم یہ فرض ‘قضاء’ کرنا چاہتے ہیں۔” حمدان کے بے مروتی سے کہنے پر اس کے منہ کے زاویے فوراً بگڑے۔

“بھئی آج تو یہ فرض ہر حال میں پورا کرنا ہے ورنہ رہبان لالہ کو تم لوگوں کی کمبائن سٹڈی کی ایسی من گھڑٹ داستان سناوں گی کہ آج کے بعد کمبائن سٹڈی کا نام بھول جاو گے۔” اس کے منتقمانہ انداز پہ ڈرائیونگ سیٹ اور فرنٹ سیٹ پہ بیٹھے حمدان اور داود نے پلٹ کر شرم دلانے والی نگاہوں سے اسے دیکھا۔
جو پچھلی سیٹ پر آیت اور زمل کے بیچ گھسی ہوئی تھی۔

“توبہ توبہ!سمجھ نہیں آتی کہ عقیدت پھپھو جیسی ڈیسنٹ بندی کے ہاں تم جیسی بلیک میلر کیسے پیدا ہو گئی؟” اس کے پرتاسف لہجے پہ وہ بنا کچھ کہے فخریہ انداز میں مسکرا دی کیونکہ ان کی نیم رضامندی ظاہر ہو چکی تھی۔
اسی خوشی اور سرمستی میں ایک اچھا دن یونیورسٹی میں گزارنے کے بعد وہ اپنے مگن انداز میں گیٹ کی جانب بڑھ رہی تھی۔
چونکہ زمل اور آیت کا لاسٹ پریڈ فری تھا اس لیے وہ پہلے ہی باہر گاڑی میں پہنچ چکی تھیں اس لیے وہ اس وقت تنہا ہی متوازن چال چلتی گیٹ کی طرف بڑھ رہی تھی جب اچانک اپنے پیروں کے سامنے اچانک سیاہ شوز میں مقید پیر آن رکے تو اس نے بمشکل خود کو سنبھالتے ہوئے چونک کے نوارد کی جانب دیکھنا چاہا۔
مگر یوں اچانک سامنے آن رکنے والے اس شخص کو دیکھ کر اس کے آنکھیں حیرت و بے یقینی کی زیادتی سے یکلخت پھیلیں۔
اور پھر یکایک ان خوبصورت آنکھوں میں ناگواری اور اجنبی پن اتنی سرعت سے لہرایا کہ سامنے کھڑے طلال شاہ کو اپنے سینے میں گھٹن کا احساس ہونے لگا۔

“ایکسکیوزمی!” قطعی پرتکلف اور سپاٹ لہجے میں بولتی وہ اس کے پہلو سے گزرنے لگی جب کمال جرات کا مظاہرہ کرتے طلال شاہ نے ہاتھ بڑھا کے اس کا بایاں بازو اپنی نرم گرفت میں جھکڑا تو بے یقینی کی انتہاوں کو چھوتی وہ ایک جھٹکے سے اس کی جانب پلٹی۔

“ایسی بے تکلفی کی اجازت میں اجنبیوں کو ہرگز نہیں دیتی۔اس لیے آج کے بعد ایسی بدتمیزی میرے ساتھ کرنے کی کوشش بھی مت کیجیے گا۔” ایک جھٹکے سے بازو اس کی گرفت سے آزاد کرواتی وہ پھنکاری تھی۔
اسے وہ پل بھلائے نہیں بھولتے تھے جب اس شخص کی وجہ سے اسے ذہنی و دلی اذیت سے دوچار کیا تھا۔
اگر چہ اس کی اس کے ساتھ کوئی دلی وابستگی نہیں تھی لیکن یہ بات اس کے دل میں گڑھ گئی تھی کہ وہ شخص ایک بے معنی انتقام کے پیچھے اسے ‘استعمال’ کرنا چاہتا تھا۔

“دریہ میری بات سنو۔” اس سے قبل کہ وہ وہاں سے جاتی طلال نے سرعت سے اسے پکارا لیکن وہ ان سنی کرتی آگے بڑھتی رہی۔
اردگرد آتے جاتے سٹوڈینٹس اس منظر کو سرسری سا دیکھتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے کیونکہ یہ تو یونیورسٹی کا روز کا ہی معمول تھا۔

“دریہ!میں یہاں کوئی تماشہ نہیں بنانا چاہتا اس لیے چند منٹ یہاں رک کر میری بات سن لو اور پھر اپنے مفروضے قائم کر لینا۔” منتیں کرنا اس کی سرشت میں شامل نہیں تھا لیکن نجانے کیوں اس لڑکی کی بدگمانی اسے ٹیز کر رہی تھی۔

“مزید کون سا تماشہ لگانا چاہتے ہیں آپ؟شرم نہیں آتی آپ کو کہ ایک بے مقصد انتقام کے لیے آپ سامنے سے ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی بجائے مجھے اپنے گھناونے کھیل میں استعمال کرنا چاہ رہے تھے اور اپنی اس قدر ڈھٹائی سے دوبارہ میرے سامنے آن کھڑے ہو گئے۔” اس کی آواز میں اس وقت ناگواری، غصہ، بیگانگی، تاسف اور دکھ سبھی کچھ جھلک رہا تھا۔
اور یہی سب اسے بے چین کر رہا تھا۔

“فار گاڈ سیک دریہ!ایسا کچھ نہیں تھا، بابا سائیں غلط فہمی کا شکار ہو گئے تھے۔” وہ جھنجھلائے ہوئے انداز میں اس کے مقابل آتے ہوئے بولا تھا۔
اور یہ سچ تھا کہ وہ اگر چہ اسی ارادے سے یونیورسٹی آیا تھا لیکن پہلے ہی دن اس کی معصومیت سے بھرپور آنکھیں اسے اپنے ارادوں سمیت متزلزل کر گئی تھیں۔

“اوکے جو بھی تھا لیکن آپ کا رہبان لالہ سے بیشک کوئی رشتہ ہو سکتا ہے لیکن میرے لیے آپ ایک اجنبی سے بڑھ کے کچھ بھی نہیں ہیں اس لیے آج کے بعد میرے راستے میں تو ہرگز نہیں آئیے گا۔” بے مروت و بے لچک لہجے میں بولتی وہ آگے بڑھی تو اس کے اندر فطری ابال سر اٹھانے لگا تھا۔
اسے خود پہ بھی غصہ آ رہا تھا کہ وہ کیونکر اس لڑکی کی پرواہ کر رہا تھا۔

“میں راستے میں تب نہیں آوں گا جب تم ایک دفعہ میری بات نہیں سن لیتی۔ اب تم یہ سوچ لو کہ بات میری کب سننی ہے؟” اس کے عقب میں ابھرتی اس کی مضبوط آواز دریہ کے قدموں کی رفتار کو لحظہ بھر کے لیے سست کر گئی لیکن اگلے ہی پل وہ سر جھٹکتی گیٹ سے باہر نکل گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہاسپٹل کے اس بڑے سے کمرے میں وہ ولید میر کے بیڈ کے ساتھ رکھی کرسی پہ بیٹھا ان کے ساتھ محوِ گفتگو تھا۔
گزشتہ ایک ہفتہ سے وہ ان کے ساتھ ہاسپٹل ہی موجود تھا چونکہ اتنے برس وہ سب سے دور ایک بند کمرے میں مقید تھے تو انہیں نارمل ہوتے چار سے پانچ دن لگے تھے اور ان دنوں میں نین نے ایک اچھے، سلجھے اور صابر بیٹے کا کردار کرتے ہر لمحہ انہیں اپنے ساتھ کا احساس دلایا تھا۔

“تمہاری مما نہیں آئیں مجھ سے ملنے کے لیے؟” مکمل حواسوں میں لوٹنے کے بعد یہ ان کا سب سے زیادہ پوچھت جانے والا سوال تھا۔
جو نین کو بے حد تکلیف دے رہا تھا۔وہ ان کی اس کریٹیکل حالت میں انہیں مزید کوئی ٹینشن نہیں دینا چاہتا تھا اس لیے گھر کے متعلق کوئی بات نہیں کی تھی۔

“ڈیڈ!آپ مکمل طور پر صحتیاب ہو جائیں پھر مما سے ملنے چلیں گے کیونکہ آپ کے بھائیوں نے صرف آپ کی حد تک ہمیں نقصان پہنچانے کی کوشش نہیں کی بلکہ وہ ہر حد پار کر بیٹھے ہیں۔” بہت نپے تلے انداز میں بولتا وہ انہیں ڈھکے چھپے الفاظ میں بہت کچھ کہہ گیا تھا۔

“کیا مطلب؟کلثوم ٹھیک ہے نا؟” اس کی آدھی ادھوری بات سن کر ہی وہ تڑپ اٹھے تھے جبکہ ان کی تڑپ نین کی آنکھوں کے کنارے لال کر گئی۔

“وہ اس قدر ٹھیک ہیں کہ ان کی سوچ ان گزرے سالوں میں آفس گئے ولید میر اور نگاہ کے لیے انگوٹھی اور چوڑیاں لے کر آنے والے نین سے آگے بڑھ ہی نہ سکی تھی۔اور نہ ہی کبھی وہ یہ جان سکی تھیں کہ جس گھر میں وہ رہتی ہیں وہیں ان کا ایک بیٹا ٹانگوں سے معذور ہو کر بیٹھا ہے بلکہ وہ تو اسے پہنچاننے سے بھی انکاری ہیں۔” ہزار کوشش کے بعد بھی وہ خود پہ قابو نہ رکھ سکا تو گلوگیر مگر آتش زدہ سے لہجے میں بولتا وہ ولید میر کے وجود کو جھٹکوں کی زد میں لے گیا۔

“نہیں۔” اس کی باتوں کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہوئے ان کے کان سائیں سائیں کرنے لگے تھے جبکہ دل اس وقت اپنے بیوی بچوں کی تکلیف کا سوچ کے گویا پھٹنے والا ہو گیا تھا۔

“خدا غارت کرے تم لوگوں کو، پیسے کے لالچ میں میرے ہنستے بستے گھرانے کو کن تکالیف کی نذر کر ڈالا ہے۔” ان کے لب اور ان کا دل بے اختیار اپنے بھائیوں اور ان کی بیویوں کے لیے بددعا گو ہوا تھا۔

“مجھے اپنی مما اور ذونین کے پاس لے چلو میرا بچہ پلیز۔” نم آنکھوں سے اسے دیکھتے انہوں نے ریکویسٹ کی تھی کیونکہ بلکتا ہوا دل اس لمحے صرف اپنی بیوی اور بچوں کو دیکھنا چاہتا تھا۔

“ڈیڈ!ریلیکس، ہم بہت جلد ان سے ملیں گے لیکن پلیز ابھی نہیں کیونکہ جو اس سب کے ذمہ دار ہیں ان کی الٹی گنتی شروع ہو چکی ہے۔اس لیے ابھی نہ آپ نہ میں، ہم میں سے کوئی بھی منظر پر نہیں آ سکتا ہے۔” اس نے رسانیت سے انہیں سمجھایا۔

“لیکن میں تمہاری مما کو دیکھنا چاہتا ہوں۔” انہوں نے بے چینی سے کہا تو وہ بے بس ہونے لگا تھا لیکن پھر کچھ سوچتے ہوئے بول اٹھا۔

“اوکے میں نین کو کہوں گا کہ بھابھی کے ساتھ مام کو چیک اپ کے لیے اسی ہاسپٹل کسی طرح سے بھجوائے۔” اس نے اب کی بار ٹھہرے ہوئے انداز میں بات مکمل کی تو وہ چونک اٹھے۔

“بھابھی؟” ان کی سوالیہ نظریں اس کی جانب اٹھیں۔
“جی، ذونین کی بیوی۔” اس نے ان کی جانب دیکھتے جواب دیا لیکن ان کی آنکھوں میں چھائی الجھن کو دیکھتے وہ دھیرے دھیرے انہیں زحلے اور ذونین کے تعلق اور ان کے نکاح کے متعلق بتاتا چلا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

‘ملک ہاوس’ کے وسیع و عریض لان میں کرسیاں بچھائے اس وقت سب شام کی چائے اور سنیکس سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔
جب ارسم کھلے گیٹ سے رف ٹف سے حلیے میں موجود سوئی جاگی سی شہرے کا بازو دبوچے اندر داخل ہوا اور سیدھا لان کی جانب چلا آیا۔

“لیں سنبھالیں اپنی آلکسی سے بھرپور بہو کو بڑی مما حضور۔” بلیو جینز کے ساتھ وائٹ جرسی پہنے بالوں کو عجیب میسی سا جوڑا بنائے، گلے میں وائٹ سٹالر ڈالے وہ پیروں میں نازک سی چپل پہنے شہرے کو ثمرین بیگم کی جانب دھکیلتا ہوا بولا تو اس نے آنکھوں کو زور سے مسلتے ہوئے گھور کے اسے دیکھا۔

“چاچو لگتے ہیں آپ میرے اس لیے یہ فضول قسم کی چھیڑ چھاڑ آپ لوگوں پہ سوٹ نہیں کرتی۔” وہ اس کے لفظ ‘بہو’ کی پکڑائی کرتی شاکی لہجے میں بولی اور وہیں سب سے ملتی ثمرین بیگم کے پاس ہی بیٹھ گئی۔

“کبھی ایسی حد بندی ضرغام پہ لگائی ہے کیونکہ وہ بھی تو چاچو ہی تھا نا؟” عمارہ بھابھی سے شرارت سے ٹکڑا لگایا تو پہلے وہ چونکی مگر پھر پوری جی جان سے سرخ پڑتی بڑی بے ساختگی میں جھینپ اٹھی۔

“میرے ایگزامز ہو رہے ہیں اس لیے پلیز مجھے کوئی اس طرح سے تنگ نہیں کرے گا۔” اس نے فوراً سے پیشتر حد بندی لگانی چاہی کیونکہ عمارہ کی شرارت کے بعد سب الرٹ ہوتے نظر آ رہے تھے۔

“بھئی ہماری چھیڑ چھاڑ یا ہمارا تنگ کرنا تو بڑے معصوم لیول کا ہے۔ہم تو ‘بڑی بھابھی’ ہونے اور اس کے ایگزامز کا لحاظ کر ہی لیں گے۔ لیکن ہم تمہارے شوہر کی گارنٹی نہیں لے سکتے کیونکہ اس کا تنگ کرنا ہرگز معصوم لیول کا نہیں ہو گا۔” انیلا بھابھی نے اس قدر شوخ اور بے باک انداز میں سرگوشی کی تھی کہ اس کے رگ و پے میں اک عجیب سا احساس دوڑنے لگا جبکہ چہرہ گویا ان دیکھی قربت کی حدت سے دہکنے لگا تھا۔

“بڑی دادو!یہ سب بہت بے شرم ہیں۔” اسے اور کچھ نہ سوجھا تو فوراً ثمرین بیگم کی جانب رخ موڑتے تپتے ہوئے چہرے کے ساتھ شکایت لگائی تھی۔
جبکہ وہ سب جو ان کی نوک جھوک انجوائے کر رہی تھیں اس کی شکایت پہ کھل کے ہنس دیں۔

“بھئی ضر اچھی طرح سے سوچ لو ورنہ کل کو شہرے کی شکایتیں تمہیں تمہاری ماں کے سامنے شرمندہ کروا دیں گی۔” ماہ وش بیگم جو اپنی خوش مزاج فطرت کے باعث سب بچوں کے ساتھ بہت فرینک تھیں انہوں نے ابھی سو کے اٹھنے والے ضر کو اس طرف آتے ہوئے دیکھا تو شوخی سے ہانک لگائی تھی۔
شہرے جو اس کی گھر موجودگی کے بارے میں قطعی بے خبر تھی، چونکتے ہوئے پیچھے کی طرف مڑی جو اتفاقاً اس وقت بلیو جینز کے ساتھ سفید ٹی شرٹ پہنے بکھرے بالوں کے ساتھ نیند کا خمار لیے دلکش آنکھوں کے ساتھ اسے دیکھتا اسی جانب آ رہا تھا۔
وہ اس کی نظروں سے گڑبڑاتی فوراً سیدھی ہوئی اور ثمرین بیگم کی جانب مزید کھسکی۔

“کیسی شکایتیں؟” چونکہ وہ بات کے مکمل پسِ منظر سے ناواقف تھا اس لیے کرسی سنبھالتے ہوئے اس نے گھمبیر لہجے میں استفسار کیا تو وہ چوکس سی ہو گئی۔

“یہی کہ بڑی دادو دیکھیں ضر مجھے تنگ کر رہے ہیں۔ضر مجھے سونے نہیں دے رہے۔ضر مجھے پڑھنے نہیں دے رہے۔ ضر مجھ۔۔۔۔۔۔۔” ان کی آواز اس قدر بلند نہ تھی کہ لڑکوں کے کانوں میں پڑتی بلکہ وہ اس قدر مدہم آواز میں گویا ہوئیں کہ ان کی آواز ان خواتین کی سماعتوں تک ہی محدود رہی تھی۔

“وہ۔۔وہ میں نگاہ سے مل آوں۔” اسے اس شرارت کو روکنے کا کوئی اور بہانہ نہ ملا تو وہ گلال ہوتے چہرے کے ساتھ فوراً گڑبڑاتی ہوئی اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی تھی۔
جبکہ اس کی شرم و حیا سے مغلوب اس کیفیت کو دیکھتے سبھی مسکرا دیے تھے کیونکہ ان کا نکاح جس سچویشن میں ہوا تھا۔ایسے میں شہرے کے رویے میں تبدیلی ایک خوش آئند بات تھی۔

“نگاہ سو رہی ہے۔آپ ایسا کریں کہ ضر کے کپڑے سیٹ کرنے والے ہیں اس کی الماری سیٹ کر دیں۔” ثمرین بیگم نے اس کی جانب دیکھتے پیار سے کہا تو وہ ہونقانہ انداز میں انہیں دیکھنے لگی۔

“میں؟” اس کی ‘میں’ پہ سب نے بے ساختہ اپنی مسکراہٹ چھپانے کی کوشش کی تھی۔
کیونکہ وہ گھر کے کاموں میں جس قدر اناڑی تھی اس کا ‘میں’ بہت فطری تھا۔

“ہاں بالکل تم بلکہ ایسا کرو ضر تم بھی ساتھ جاو شہرے کو گائیڈ کر دینا۔” ثمرین بیگم کی بجائے ارسم نے دانت نکوستے جواب دیا تو سب نے فوراً تائید میں سر ہلایا۔
“ن۔۔نہیں، میرا مطلب ہے کہ میں خود ہی کر لوں گی۔” قبل اس کے کہ وہ واقعی اٹھ کھڑا ہوتا وہ جلدی سے بولتی اندر کی جانب بڑھی تھی۔

چند ہی منٹوں کے بعد اس کے خوبصورت ماسٹر بیڈ روم کے وسط میں کھڑی وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے بیڈروم کی حالت دیکھ رہی تھی۔
جہاں بکھری ہوئی بیڈ شیٹ اور صوفے پہ پڑے کپڑے اس کا منہ چڑا رہے تھے۔

“اتنے بڑے ہو گئے ہیں لیکن سونے کا طریقہ نہیں آتا۔ ایسے کون سوتا ہے بھلا؟” بڑبڑاتے ہوئے وہ پہلے بیڈ کی جانب بڑھی اور سرہانے کی جانب ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ دروازہ لاک ہونے کی آواز پہ جھٹکے سے گردن گھما کے دیکھا تو سانس گویا سینے میں اٹک گئی تھی۔

“آ۔۔آپ؟؟”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“ارے بیٹا رو کیوں رہی ہو آپ؟” سائرہ گردیزی زارو قطار روتی ہوئی آبگینے کی پشت سہلاتے ہوئے محبت سے گویا ہوئیں جبکہ ان کے پاس بیٹھی بی جان مسلسل کچھ نہ کچھ پڑھتی اس پہ پھونک رہی تھیں جس کی حالت صبح سے جاری الٹیوں نے بے حال کر رکھی تھی۔

“مجھے بھوک لگی ہے لیکن۔۔۔۔۔” صبح سے ہونے والی وومٹ کی وجہ سے اس کی پسلیوں میں اب درد ہونے لگا تھا۔
لیکن ساتھ ہی بھوک کے احساس نے اسے اور بوکھلا دیا تھا۔

“پریشان نہیں ہو۔ابھی ٹیبلٹ لی ہے نا تو کچھ دیر تک طبیعت سنبھل جائے گی۔” انہوں نے نرمی سے تسلی دی تھی لیکن اس کے آنسو تھمنے کی بجائے مسلسل بہے جا رہے تھے۔
اور اس کی وجہ اس طبیعت خرابی سے زیادہ رہبان کا مسلسل دو دن سے گھر نہ آنا تھا۔چونکہ بخت خان ولید میر کے غائب ہونے کی خبر پانے کے بعد زخمی شیر بنا ہوا تھا اس لیے وہ اس کے خلاف پھندہ کسنے میں اس قدر مصروف تھا کہ گھر آنے کی بھی فرصت نہ ملی تھی۔
ایسے میں وہ جو اس کی خطرناک حد تک عادی ہو چکی تھی رو رو کے اس نے اپنی طبیعت خراب کر لی تھی۔

“بی جان!رہبان کو کال کر دی ہے۔وہ آ رہا ہے آپ پریشان نہیں ہوں۔میں نے ڈاکٹر سے اپائٹمنٹ لے لی ہے۔رہبان کے آتے ہی نکل پڑیں گے۔” مائرہ گردیزی نے کمرے میں آتے اطلاع دی تو دشمنِ جان کا نام سنتے اس کے آنسو جس رفتار سے بہے تھے وہاں موجود تینوں خواتین اس طبیعت خرابی کی وجہ جان کے ہولے سے مسکرا دی تھیں۔

“السلام علیکم!کیا ہو گیا دشمنِ جاناں و دلِ جاناں کو؟” چند منٹ گزرنے کے بعد وہ خوشبو کے دلکش ریلے کی مانند اچانک نمودار ہوتا اس کے بے چین دل کو گہرے سکون سے ہمکنار کر گیا۔
اس نے بے ساختہ اپنی آنسووں سے تر پلکیں اٹھا کہ اس کی جانب دیکھا جو ان آنسووں کو دیکھ کر یکلخت ٹھٹھکا تھا۔

جاری ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔