57.1K
55

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 47

“دل تیرے سنگ جوڑ لیا”
از
حوریہ ملک
Episode#47;

اس کے لہجے میں نجانے کیا تھا کہ پل بھر کے لیے اس نے بوجھل پلکیں اٹھا کے اس کی سمت دیکھا تو نظروں کے اس ٹکراو پہ جانے کیا کچھ یاد آیا تھا۔

“آپ کے اتنے روپ دیکھ چکی ہوں کہ اب سب کچھ برداشت کر سکتی ہوں۔” اگر تکلیف میں ضرغام تھا تو کم اذیت میں وہ بھی نہ تھی۔
بلکہ اس کی اذیت اس سے قدرے زیادہ تھی کہ ‘ان چاہے’ ہونے کے احساس کے بعد ‘من چاہا’ ہونے کا احساس اس قدر واشگاف انداز میں ہوا تھا کہ سب کچھ توڑ پھوڑ کے رکھ گیا۔

اس کے چہرے سے اس کے اٹل ارادوں کا اندازہ لگاتا وہ گہری سانس بھرتا ہوا آہستگی سے بولنے لگا۔

اور پھر جیسے جیسے وہ بولتا چلا گیا ویسے ویسے بہت سے رازوں سے اٹھتے پردے شہرے کی رنگت فق کیے جا رہے تھے۔
نگاہوں میں بیک وقت بہت سے منظر جھلملا رہے تھے جو سانسوں میں گھٹن کا باعث بن رہے تھے.

“ج۔۔جھوٹ بول رہے ہیں نا آپ سب؟” لرزتے ہونٹوں کے ساتھ کانپتے ہوئے الفاظ نکلے تو ضرغام نے سرخ ہوتی آنکھوں کے ساتھ اس کی جانب دیکھنے لگا جو بہت قابلِ ترحم لگ رہی تھی۔

“جو گزرا ہے وہ ایک بھیانک جھوٹ تھا۔اب جو ہے وہی اٹل حقیقت ہے شہرے۔” اس کے ہاتھ اپنے ہاتھوں کی گرفت میں لیتا وہ گہرے لہجے میں بولا تو وہ جیسے پھٹ پڑی۔

“وہ بھیانک جھوٹ نہیں تھا بلکہ بھیانک جھوٹ اب آپ مجھے سنا رہے ہیں۔کیسی محبت تھی یہ آپ کی جس نے بھرے مجمعے میں آپ کو مجھ سے انحراف کرنے پہ مجبور کر دیا۔” اس کے ہاتھ بری طرح سے جھٹکتی وہ بلند آواز میں چلائی تھی۔
“اور نگاہ کے ساتھ نکاح میں گزارے وہ ماہ و سال، اسے کیسے آپ جھوٹ اور فریب کا نام دے سکتے ہیں؟” اس کے اندر اس وقت جیسے آتش فشاں بھڑک رہا تھا جو سب تہس نہس کرنے کو بے تاب تھا۔
اور اسی آتش فشاں کو اسے بڑے تحمل سے ٹھنڈا کرنا تھا۔

“شہرے میں خود کو اس سب سے مکمل طور پہ بری الذمہ نہیں قرار دے رہا لیکن ہر ایک عمل کے پیچھے کی وجہ آپ کو بتا چکا ہوں۔ بعض دفعہ جو چیزیں رگِ جان سے بھی زیادہ عزیز تر ہوتی ہیں ان کی حفاظت کے لیے انہیں رگوں سے دور کرنا پڑتا ہے۔ بس یہی میری محبت کا خلاصہ رہا ہے گزرے ماہ و سال میں۔” ایک بار پھر سے اس کے نزدیک ہوتا وہ پرتاسف سے انداز میں بولا تھا۔

“یہ کیسی محبت تھی آپ کی، جس کا مجھے کبھی احساس نہ ہوا اور وہ کوئی خوشی دینے کی بجائے اذیت کا شکار کرتی رہی۔ میں نے زندگی میں سب سے زیادہ آپ کو ایڈمائر کیا تھا اور آپ کی اس محبت اور قربانی نے اس رشتے کو اتنا زنگ آلود کر دیا تھا کہ میں آپ سے ہی نفرت کرنے لگے تھی۔” زارو قطار روتے ہوئے وہ بولتی اس سے فاصلہ بڑھانے کی کوشش میں تھی۔

“آپ کی زندگی اور عزت کی حفاظت اس قدر عزیز تھی کہ آپ کی نفرت بھی قبول تھی مجھے۔” گھمبیر لہجے میں کہتے ہوئے وہ اس کے نازک وجود کو اس کی تمام تر بدگمانیوں اور مزاحمت سمیت اپنے بازووں میں سمیٹتا چلا گیا۔

“بے اثر ہے آپ کی یہ ساری لفاظی۔چھوڑیں مجھے۔” بری طرح چٹختے ہوئے وہ چلائی تھی جبکہ بلند آواز میں آنسووں کی تاثیر بہت زیادہ تھی۔
مگر دوسری جانب وہ اب ساری باتیں اس کے سامنے مکمل طور پہ کھول کر رکھنے کے بعد اب اپنے لفظوں کی بجائے اپنے جذبات کا سہارا لینا چاہتا تھا تبھی گرفت ہرگز ڈھیلی نہ کی۔

“میری آنکھوں کی زبان بھی آپ کبھی نہ سمجھ سکی، میرے لفظ بھی بے اثر لگ رہے ہیں تو اب میرے جذبات کی شدت کو سمجھنے کی کوشش ضرور کریں۔” جذبات کی شدت سے بوجھل ہوتے لہجے میں کہتے ہوئے اس نے اپنے بازووں کا دباو بڑھاتے ہوئے اپنے اور اس کے درمیان آزار بنتے اس فاصلے کو فوراً ختم کیا۔
اور پھر اس کے کسی بھی بچاو اور تدبیر سے قبل اس کے آنسووں سے تر چہرے پہ جھکا اور تشنگی سے بھرپور لب اس کے رخساروں پہ جماتے ہوئے ان نمکین پانیوں کا ذائقہ چننے لگا۔
جبکہ دوسری جانب اس کا وجود گویا اس پرتپش لمس کی شدت و حدت سے دہکنے لگا۔وہ اس مقام پر ایسی سچویشن میں اس کی جانب سے ایسے کسی بے باک مظاہرے کی توقع نہ رکھتی تھی۔
تبھی جب اس کے رخسار کو چھوتے لب ٹھوڑی سے ہوتے ہوئے صراحی دار گردن کی حدود کو چھونے لگے تو وہ تھراہ اٹھی۔

“پ۔۔پیچھے ہٹیں۔خدا کے لیے۔” گردن پہ سرکتے وہ بے لگام لب اس کی دھڑکنوں کی ترتیب کو منتشر کر رہے تھے۔
“اسی خدا نے مجھے آپ کے اس قدر قریب ہونے کا حق دیا ہے۔” ایک مخمور نظر اس کے سرخ چہرے اور گردن پہ ڈالتے ہوئے وہ جھکا اور اس کی گردن کے بائیں جانب اپنی شدتوں کے نشان چھوڑنے لگا۔

“اُس۔۔اس نے آپ کو یہ ح۔۔حق نہیں دیا کہ آپ اتنی اذیت دینے کے بعد م۔۔مجھے یوں ہراس کریں۔” اس کا یہ روپ اسے ہراساں کر رہا تھا تبھی لفظ ٹوٹ ٹوٹ کے لبوں سے نکلے تھے۔

“میری محبت کو ایسے الفاظ سے شرمندہ نہیں کریں شہرے۔ میں نے بہت سال آپ کے ہجر میں کاٹے ہیں۔ پھر جب میں آپ کو پانے کی مکمل امید چھوڑ چکا تھا تو آپ مجھے میری دعاوں کا ثمر بن کے ملی ہو لیکن کچھ وعدوں کی ڈوریں پاوں سے یوں بندھی ہوئی تھیں کہ چاہ کے بھی اس محبت کو محسوس نہ کروا پایا۔” اس کے لفظوں نے دل کو یوں کچوکے لگائے تھے اس کی آواز دکھ کی شدت سے بھاری ہونے لگی تھی۔

“اب آپ کو کیا لگتا ہے کہ آپ کے یوں سب کچھ کہہ دینے سے سب کچھ ٹھیک ہو گیا ہے یا ہو جائے گا؟” انجانے میں ہی دونوں ہاتھ اس کے سینے پہ رکھے وہ آرزدہ سے لہجے میں گویا ہوئی تو ضرغام نے اس کی آنکھوں میں جھانکا۔

“سب کچھ اُسی دن ٹھیک ہو گیا تھا شہرے جب آپ کے دل پہ میری محبت نے قدم جمایا تھا۔” اس کے ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہے گئے الفاظ نے جیسے اس کی بانہوں میں مقید شہرے کے پیروں تلے سے زمین کھینچ نکالی تھی۔

“م۔محبت؟ کیسی محبت؟دور ہٹیں مجھ سے؟اور خبردار ایسی کوئی بات کی آپ نے۔نفرت ہے مجھے آپ کے ہر روپ سے۔” اس کی بات کی سختی سے مخالفت کرتی وہ شدت سے منافی ہوئی تھی۔

“اور مجھے اس نفرت میں چھپی محبت سے عشق ہے۔” محبت و دل نوازی سے چور لہجے میں بولتے ہوئے اس نے جھک کے اس کی ٹھوڑی پہ عقیدت بھرے انداز میں بوسہ دیا تو اس کے لبوں سے بے ساختہ ایک سسکی سی نمودار ہوئی تھی۔
جبکہ اس کے ایسے دلپزیر الفاظ دل پہ جیسے ٹھنڈی پھوار سی برسانے لگے تھے مگر ابھی دل میں چھپی کسک ختم نہ ہوئی تھی۔

“پ۔۔پلیز نہیں کریں۔آپ کیوں بار بار بھول جاتے ہیں کہ آپ ضر چاچو تھے۔یوں قریب مت آیا کریں۔” اس کی اس قدر قربت اس کے حواسوں پہ ہمیشہ کی طرح بھاری پڑی تھی۔
اس پہ مستزاد ‘نگاہ’ نامی خلش اس قربت کو مزید بھاری کر رہی تھی۔

“آپ کیوں بار بار بھول جاتی ہو کہ میرا آپ سے ایک اٹوٹ رشتہ بندھ چکا ہے۔” دائیں ہاتھ کے انگوٹھے سے اس کے نچلے لب کو سہلاتے ہوئے وہ گھمبیر لہجے میں بولا تو اس نے فوراً چہرے کا رخ موڑتے ہوئے اس کی حرکت میں خلل ڈالا۔

“اٹوٹ رشتہ تو نگاہ کے ساتھ بھی بندھا تھا۔” سینے میں اٹکی پھانس نے بالآخر اپنا آپ دکھایا تھا۔
“اس رشتے کی حقیقت آپ کو بتا چکا ہوں۔” سنجیدگی سے کہتے ہوئے اس نے اپنی دائیں ہاتھ کی مضبوط انگلیاں اس کے چہرے پہ ٹریس کرنے کے لیے آزادانہ چھوڑ دیں تو وہ اس شخص کی سرکشی پہ الجھنے لگی تھی۔

“لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ وہ اتنے سال آپ کے ساتھ نکاح میں رہی ہے اور ‘مسز ضرغام ملک’ کے نام سے پہچانی جاتی رہی ہے۔” اس نے وہ سب کہا جو اس سے رشتہ بندھتے ہی اس کے اندر تباہی مچائے ہوئے تھا۔

“اسے جس کے نام سے پہچانے جانے کی چاہ تھی اس تک پہنچنے کے لیے اسے میرے نام کے وقتی سہارے کی ضرورت تھی۔” اس کو نگاہوں کی زد میں رکھے وہ ہنوز اسی انداز میں گویا ہوا تو اس کے ایسے انداز پہ اس کے اندر غضب کی سرکشی جاگنے لگی تھی۔

“تو اس سارے کھیل میں میرا کیا؟ پہلے بڑے دادا پھر آپ سب نے عزت اور زندگی کی حفاظت کے نام پہ اپنے اپنے داو کھیلے مگر اس کے باوجود آپ کی زندگی میں تب شامل ہوئی جب عزت کے لالے پڑے ہوئے تھے۔” اس کی گرفت سے ایک جھٹکے کے ساتھ خود کو چھڑواتی وہ فاصلے پہ ہوتی گویا ہوئی تو اس نے لپک کے اس کا بازو پکڑ کے اپنی طرف کھینچا تو وہ لچکیلی ڈال کی مانند اس کی آغوش میں آن گری۔

“جو برا تھا اس کو یاد رکھے ہوئے ہیں، جو اچھا اور خوش آئند ہے اسے کیوں فراموش کر بیٹھی ہیں؟ میں اپنے کسی عمل کو جسٹیفائی نہیں کر رہا نہ میں یہ کہتا کہ جو ہوا اس میں میری کوئی غلطی نہیں تھی۔ میں بندہ بشر ہوں اور غلطی کرنا میری خصلت میں شامل ہے لیکن آپ سے محبت بھی میری دھڑکنوں کا تقاضا ہے۔ جب ڈیڈ نے آپ سے شادی کرنے سے انکار کیا تھا تب میری دل پہ لگنے والی وہ پہلی چوٹ اس قدر گہری تھی کہ مجھے اس محبت کو سلانے میں خود کی ذات کو فراموش کرنا پڑا تھا لیکن میں اس بات پہ اپنی ذات پہ کوئی کمپرومائز نہ کر پایا تھا جب آپ کی ایک جھلک مجھے دنیا کی ہر شے سے بیگانہ کر دیا کرتی تھی۔” اسے بانہوں میں سمیٹے وہ نرم لہجے میں بیتے دنوں کی کسک لیے بول رہا تھا۔
اور وہ ان ان موقعوں کو یاد کرنے لگی جب جب اسے لگتا تھا کہ وہ اسے دیکھ کے منہ پھیر لیتا ہے لیکن اصل حقیقت اسے اب معلوم ہو رہی تھی۔

اس حقیقت سے نظریں چرائے اس نے بنا کہے اس کی آغوش سے نکلنا چاہا تھا تو اس نے گھیرا مزید تنگ کرتے ہوئے چہرہ اس کے بالوں میں چھپاتے ہوئے گہری سانس بھری تو وہ کانپ کے رہ گئی۔

“مجھے وہ شہرے لوٹا دیں جو کبھی میری دیوانی ہوا کرتی تھی۔” اس کے بالوں کو لبوں سے چھوتا وہ اپنی سانسوں کو معطر کرتے ہوئے التجائیہ انداز میں بولا تو اس کا وجود جیسے دہک اٹھا تھا۔
اسے اس لمحے گزشتہ کچھ عرصے کی اذیت بھاپ بن کے اڑتی محسوس ہوئی تھی۔کیونکہ جو کچھ اسے ان سب کی زبانی معلوم ہوا تھا اسے اس سے معلوم ہو چکا تھا کہ ان پانچوں نے جتنی تکالیف برداشت کی ہیں ایسے میں اسے اپنی ازیت ہیچ لگنے لگی تھی۔

“وہ دیوانگی آپ کے لیے نہیں بلکہ ضرغام چاچ۔۔۔۔” اپنی سوچوں کو جھٹکتے ہوئے اس نے سنجیدگی سے کہنا چاہا جب اس کے بالوں سے کھیلتے ضرغام نے بایاں ہاتھ اس کے بالوں میں پھنساتے ہوئے اس کا چہرہ اوپر کو اٹھائے اس پہ جھکتے ہوئے اس کے گلابی ہونٹوں سے نکلتے الفاظ کو کچھ اس جارحانہ انداز میں خود میں سمیٹا تھا کہ وہ اس کی شرٹ کو مٹھیوں میں دبوچتی رہ گئی۔
اس کے بے تاب لمس کی شدتوں سے بے حال ہوتی شہرے کے اعصاب معطل ہونے لگے تھے۔

اسے واقعی احساس ہوا تھا کہ وہ اپنے الفاظ کی بجائے اب اپنے جذبات کے ایسے اظہار سے اسے ہر بات ہر شے باور کروانا چاہتا تھا۔
لمس کی شدت اور قربت اس قدر جان لیوا تھی کہ اس کی آنکھیں بھیگنے لگی تھیں جبکہ وجود جیسے بے جان ہونے کو تھا۔بمشکل اپنے بکھرتے اعصاب کو یکجا کرتے ہوئے اس نے اس کی شرٹ کو زور سے کھینچتے ہوئے اس کی بے خودی پہ بندھ باندھنا چاہا تھا۔
اور وہ شاید اس بے خودی کے سمندر میں ڈوبتا اس کی سانسیں مدہم کر جاتا جب اپنے چہرے پہ محسوس ہوتی نمی کو دیکھ کر وہ اس کے ہونٹوں کو آزادی بخشتا ہوا سیدھا ہوا تو وہ بھیگے کپکپاتے ہونٹ لیے گہری سانس بھرتی سر اس کے سینے پر ٹکا گئی تھی۔

اس کے اس انداز پہ زیرِ لب مسکراتے ہوئے اس نے ٹھوڑی اس کے اپنے سینے پہ ٹکے سر پہ جمائی اور ہولے سے بڑبڑایا۔

“آئم سوری شہرے، آئم ریئلی سوری جانم!” اس کی بڑبڑاہٹ اس کے سینے سے لگی شہرے کی دھڑکنیں سست کر گئی اور اس لمحے ہر شے کو مکمل طور پہ فراموش کرتی شہرے کو اس بلا کی قیامت خیز قربت اور کمرے کی تنہائی کا احساس ہوا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بجتے ہوئے الارم کو بند کرنے کے بعد اس نے کسلمندی کے ساتھ اپنے پہلو میں نگاہ ڈالی تو حسبِ معمول کلثوم میر نماز کے لیے اٹھ چکی تھیں۔
وہ بھی خود پہ چھائی بیزاری کو چھپائے اٹھی اور واشروم کی جانب بڑھ گئی۔
فجر کی نماز ادا کرنے اور تلاوتِ قرآن پاک کے بعد چند منٹ کلثوم میر کی تلاوت سننے کے بعد وہ حسبِ سابق ان کے لیے چائے بنانے کے لیے اس ملحقہ دروازے کی جانب بڑھی تو جانے کیوں دل کی دھڑکن بڑھ گئی تھی۔

اس دن کی تلخ کلامی کے بعد وہ جتنا ہو سکتا تھا اس کا اکیلے سامنا کرنے سے گریز کرتی تھی۔اس کے کھانے وغیرہ کے ٹائم وہ کلثوم میر کو بھی بلا لیتی اور جلدی جلدی اس کے وہ کام جو اس کی ذمہ داری تھے وہ ان کی موجودگی میں پورے کرنے کے بعد وہ غائب ہو جاتی تھی۔
اور دوسری جانب وہ بھی شاید اس دفعہ غصے کا شکار تھا جو بنا کچھ کہے اس کی خدمات مارے باندھے لینے کے بعد بنا اسے کچھ کہنے کا موقع دیے ڈرائیور کے ساتھ جاتا اور اپنے سارے پیپرز مکمل کر چکا تھا۔
اس لاتعلقی کے باوجود جب بھی اس کے سامنے کی نوبت آتی یا اس کے کمرے میں قدم رکھنا پڑتا تھا اسے جانے کیوں موت آنے لگتی تھی۔

ہولے سے بنا آواز کے دروازہ کھولنے کے بعد وہ اس کے کمرے میں داخل ہوئی تو مدہم سی زرکاری روشنی نے اس کا استقبال کیا تھا۔
اس زرکاری روشنی میں اس کی نگاہ بیڈ کے دائیں کنارے کمبل میں ملفوف وجود پہ گئی اور پھر وہی نظر بیڈ کے نزدیک پڑی وہیل چیئر پہ گئی تو آنکھوں میں تکلیف دہ تاثر پھیل گیا۔
جسے بمشکل چھپاتی وہ دروازے کی جانب بڑھی اور چائے بنانے چل دی۔
آج کل جانے کیوں شازمین میر اور باقی سب کی طرف سے راوی چین ہی چین لکھا ہوا تھا۔ کوئی نہ جانتا تھا کہ یہ چین ان کے لیے کیسی مشکلات کھڑی کرنے والا تھا لیکن اس وقت وہ مکمل آزادی کے ساتھ کلثوم میر اور اپنے لیے ہلکا پھلکا سا ناشتہ تیار کرنے کے بعد اس نے چائے بنائی اور ٹرے سجانے لگی۔
اس وقت یہ ناشتہ کرنے اور چائے لینے کے بعد وہ نو دس بجے ذوالنورین کے ساتھ ناشتہ ضرور کیا کرتی تھیں۔

ٹرے ہاتھوں میں لیے وہ اس کے کمرے سے ہوتی اپنے کمرے میں پہنچی اور کلثوم میر کے ساتھ باتوں کے دوران اس نے چائے پی۔

“اماں!میں شاور لے لوں۔آپ تب تک کچھ دیر کے لیے لیٹ جائیں پھر جب ذوالنورین جاگے گا تو آپ کو بتا دیتی ہوں۔” ناشتے وغیرہ سے فارغ ہونے کے بعد وہ گویا ہوئی تو کلثوم میر نے تائیداً سر اثبات میں ہلایا۔

“ٹھیک ہے دلہن۔” اسے دلہن کہنے کی عادت اس قدر پختہ ہو چکی تھی کہ وہ اب بھی یہی کہتی تھیں۔

“اور ہاں۔۔۔۔۔” وہ جانے کے لیے پلٹی تھی جب کلثوم میر کی پکار پہ رکی۔

“میں اب ٹھیک ہوں بالکل اس لیے اب تم اپنے کمرے میں اپنے شوہر کے پاس سویا کرو۔” انہوں نے کچھ دنوں سے ان کے درمیان کشیدگی محسوس کی تھی اس لیے وہ بات جو اتنے دنوں سے کہنا چاہتی تھیں وہ اب موقع دیکھ کے فوراً کہہ دی۔
جبکہ ان کا ایسا حکم سن کے وہ جیسے مرنے والی ہو گئی تھی۔

“ل۔۔لیکن اماں!ابھی آپ کی طبیعت مکمل ٹھیک نہیں ہوئی تو م۔۔۔۔” اس نے بھوندے سے انداز میں توجیہہ پیش کرنی چاہی جب انہوں نے اس کی بات قطع کی۔

“میری طبیعت بالکل ٹھیک ہے اور اب تو ولید بھی آنے والے ہیں اس لیے اب تم شاباش اپنے شوہر پہ دھیان دو۔ ڈاکٹر مرتضیٰ بتا رہے تھے کہ وہ ایکسرسائز اور مالش صحیح سے نہیں کرواتا تو تم اس پہ توجہ دو میری بیٹی۔” بڑے نرم لہجے میں انہوں نے اسے اس کے فرائض کی جانب متوجہ کرنا چاہا۔
جو اڑی ہوئی رنگت کے ساتھ ان کی بات سن کے پھیکے سے انداز میں مسکراتی ہوئی کمرے سے نکل گئی۔

مرے مرے قدموں سے الماری کی جانب بڑھتے ہوئے اس نے پیچ کلر کی لانگ شرٹ کے ساتھ سیاہ پاجامہ سوٹ نکالا اور شاور لینے کے لیے واشروم میں گھس گئی تھی۔

کچھ دیر بعد شاور لے کے جیسے ہی وہ واشروم سے باہر نکلی تو موبائل فون کی رنگ ٹیون پہ چونک اٹھی۔
اس نے دیکھا اس کا موبائل وہاں کمرے میں ہی صوفے پہ اوندھا پڑا ہوا تھا۔
وہ یونہی بال ٹاول میں لپیٹے جلدی سے موبائل کی جانب بڑھی کہ کہیں اس کی رنگ ٹیون کی وجہ سے اس کی نیند ڈسٹرب نہ ہو جائے۔
فون ہاتھ میں پکڑتے ہوئے اس نے سکرین پہ نظر ڈالی تو ابراہیم صاحب کالنگ دیکھ کے دل جیسے سرشار ہو گیا۔

“السلام علیکم بابا!کیسے ہیں آپ؟” اس کی دلکش آواز میں اس وقت سچی خوشی کی مہک محسوس ہو رہی تھی۔
ہر شے فراموش کیے حتی کہ کمرے میں موجود سوئے ہوئے ذوالنورین کی موجودگی کو بھی فراموش کیے وہ باپ سے باتیں کرنے میں اتنی مگن ہوئی تھی کہ بال سے ٹاول کے نکل کے اس ٹیبل پہ گرنے کی بھی خبر نہ ہوئی جس ٹیبل پہ وہ بیٹھی کال سن رہی تھی۔
اسے کال پہ بات کرتے نجانے کتنی دیر گزری تھی کہ اچانک بالوں میں ہوتی سرسراہٹ اور ان بالوں کی نمی سے گیلی ہونے والی قمیض پہ مضبوط انگلیوں کا لمس اس قدر اچانک محسوس ہوا تھا کہ وہ ایک دبی دبی سے چیخ مارتی ایک جھٹکے سے مڑی ہی تھی کہ اگلے ہی لمحے ہونے والی کاروائی پہ اس کا دل چاہا کہ زمین پھٹے اور وہ اس میں سما جائے۔

ذوالنورین جو کہ نیند میں مکمل گم سویا ہوا تھا رنگ ٹیون کی بلند آواز نے اس کی نیند میں خلل ڈالا تو اس نے بیزاری سے تکیہ منہ پہ رکھ لیا۔
لیکن کچھ ہی لمحوں کے اس کی پرسکون و دلکش آواز کمرے میں گونجی تو اس کی نیند بھک سے اڑی۔
اس نے فوراً منہ سے تکیہ ہٹاتے ہوئے اسی مدہم سی روشنی میں اسے دیکھنا چاہا جو صوفے کے سامنے پڑے میز پہ بیٹھی کال پہ مصروف نظر آئی۔
یکایک اس کے بالوں میں اٹکا تولیا اس کے بالوں سے نکل کے وہیں گرا تو اس نے بدن سے چپکی پیچ رنگ کی شرٹ سے عیاں ہوتے اس کے نشیب و فراز کو دیکھتے اس کے سینے میں سانسیں تنگ پڑنے لگیں۔
اس نے ہاتھ بڑھا کے وہیل چیئر اپنے نزدیک گھسیٹی اور پھر چند ہی لمحوں میں وہ اس کے نزدیک ٹھہرتا ایک ہاتھ اس نے بالوں میں الجھاتا دوسرے ہاتھ سے اس کی شرٹ کی نمی کو محسوس کرنے لگا۔
اور یہی وہ لمحہ تھا جب اس کے لمس کی حدت محسوس کرتی زحلے مارے خوف کے چیخ مارتی ایک جھٹکے سے مڑی تو لب اپنے بالکل مقابل وہیل چیئر پہ براجمان ذوالنورین میر کے ہونٹوں سے کچھ اس انداز میں ٹکرائے کہ مونچھوں کی چبھن فوراً ہونٹ لال کر گئی۔
یہ دلفریب حادثہ اس قدر اچانک ہوا تھا دونوں لحظہ بھر کے لیے بھونچکا رہ گئے جبکہ دوسری جانب ابراہیم صاحب زحلے کی چیخ کے بعد ایسی خاموشی کو محسوس کر کے خاموشی سے کال کاٹ گئے تھے۔

اس حسین حادثے نے جب شعور کی منزلیں طے کر کے آگہی حاصل کی تو وہ سرعت سے پیچھے ہٹتی کپکپاتے اپنا رخ موڑتے ہوئے جلتے ہونٹوں پہ اپنی ہتھیلی جما گئی۔
اور وہ جو نادانستاً اتنے دنوں سے اس سے لاپرواہی برتے ہوئے اس لمحے اس کے انداز جذبات کا الاو بھڑک اٹھا تھا۔
اور پھر شاید انہی جذبات کی شدت سے دوچار ہوتے اس نے جھکتے ہوئے اس کے بالوں کی نمی سے گیلے ہوتے قمیض کے پہلو پہ لب رکھے تو وہ سر تا پا لرز اٹھی۔

“ذوالنورین!” اور یہ پہلی دفعہ تھا جب ان کے درمیان در آنے والے لمحاتی قربت میں اس کے لبوں سے اس کا نام ایک نغمے کی مانند ادا ہوا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ کروٹ بدلے سونے کی مکمل کوشش کر رہی تھی لیکن نین کے گستاخانہ ارادے اس کی نیند میں خلل ڈال رہے تھے۔

“میں تمہیں بہت شریف سمجھتی تھی نین!لیکن تم انتہائی برے انسان ہو۔اب اگر تم نے میری نیند خراب کرنے کی کوشش کی تو میں آنٹی کے پاس شفٹ ہو جاوں گی۔” اپنے بازو پہ گردش کرتے اس کے دائیں ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں مضبوطی سے جھکڑتے ہوئے اس نے نیند سے گلابی ہوتی آنکھوں میں خفگی سموئے اس سے کہا تو اس نے اسے ہنستے ہوئے بازووں میں پوری شدت کے ساتھ بھینچا تو نگاہ کی دھڑکنیں اتھل پتھل ہونے لگیں۔

“جب تم شریف سمجھتی تھی تب میں تمہارا دوست تھا۔اب میں تمہارا شوہر ہو نین تارا،اب مجھے شریف سمجھنے کی غلطی کرنا ناقابلِ معافی ہو گا۔” شرارت سے کہتے ہوئے اس نے اس کی کان کی لو ہولے سے دانتوں میں دبائی تو اس نے سسکی لیتے ہوئے بے اختیار دونوں بازو اس کے گرد لپیٹے۔

“اور ویسے بھی تم لوگوں نے مما کو کیا سیف زون سمجھا ہوا ہے۔پہلے ایک بھائی کی بیوی اپنا کو اپنا پروٹیکشن زون سمجھتے ان کے پاس ڈیرہ جما کے بیٹھی ہے اور شوہر اس کا وہیل چیئر پہ بیٹھا ٹھنڈی آہیں بھر رہا ہے اور اب تم بھی یہی پلان بنا رہی ہو۔” شرارتی انداز میں کہتا وہ ساتھ ساتھ اس کے چہرے کے نقوش پہ اپنے پیار کی مہریں ثبت کیے جا رہا تھا۔

“ایسا تو میں مر کے بھی یقین نہ کروں کہ وہ وہیل چیئر پہ بیٹھا ٹھنڈی آہیں بھرتا ہو گا بلکہ مجھے تو پکا یقین ہے کہ وہ وہیل چیئر پہ بیٹھا بھی اپنی بیوی کی سانسیں خشک کر دیتا ہو گا۔” نگاہ نے بات کچھ اس انداز اور وثوق سے کی تھی وہ بلند آواز میں قہقہہ لگا کے ہنسنے لگا۔
اسی لمحے موبائل کی رنگ ٹیون بجنے پہ اس نے یونہی لیٹے لیٹے موبائل کی سکرین پہ نظر ڈالی جہاں رہبان کا نمبر جگمگا رہا تھا۔

جاری ہے۔