57.1K
55

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 11

“دل تیرے سنگ جوڑ لیا”
از
حوریہ ملک

اس کا بایاں ہاتھ آگے بڑھا لیکن اس سے قبل کہ وہ اس کی کلائی کو چھوتا، اس نے سرعت سے اپنی انگلیاں اندر کو موڑیں اور زور سے مٹھی کرتا اپنا ہاتھ واپس کھینچ گیا۔

“مجھے ریسٹ کرنی ہے اب۔” سپاٹ اور قدرے بیگانہ سے انداز میں کہتے ہوئے اس نے اپنی وہیل چیئر کا رخ بیڈ کی جانب موڑا تو وہ دبی دبی سی سانس اندر کو کھینچتی انٹرکام کی جانب بڑھی تاکہ نیچے سے کسی ملازم کو بلا سکے جو آ کے ذوالنورین کو بیڈ پہ لیٹنے میں مدد دے سکے۔
لیکن نیچے سے جو اطلاع اسے ملی تھی وہ سن کے وہ سن سی ہو گئی تھی۔

آج میر پیلس میں کوئی بھی میل ملازم نہیں تھا جو اس کی مدد کر سکے۔
یہ اطلاع سن کے اسے ایک لمحے میں سمجھ آ گئی تھی کہ یہ جان بوجھ کے کیا گیا تھا کیونکہ ایسا ممکن ہی نہیں تھا اس وقت پورے پیلس میں ایک بھی مرد ملازم موجود نہ ہو۔
وہ شازمین میر کی اس حرکت کے پیچھے چھپے گھٹیا مقصد کو سمجھتی ہوئی اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی اور مرے مرے قدم اٹھاتی بیڈ کی جانب بڑھی جہاں وہ وہیل چیئر پہ بیٹھا ملازم کے آنے کا منتظر تھا۔

تیز تیز دھڑکتے دل پہ بمشکل قابو پاتے ہوئے اس نے کپکپاتا ہوا ہاتھ ذوالنورین کے کندھے پہ رکھا تو اس نرم و نازک ہاتھ کا لمس محسوس کر کے وہ بری طرح سے چونکا اور پھر ہوش میں آتے ہی سرعت سے اس کا ہاتھ اپنے کندھے سے جھٹکا تو زحلے کی عزتِ نفس ایک دفعہ پھر سے چکنا چور ہوئی تھی۔

“ملازم نہیں ہے نیچے۔” بے تاثر لہجے میں کہتے ہوئے اس نے ہاتھ پھر سے اس کی جانب بڑھایا تو اس نے تیوری چڑھا کے اس کی جانب دیکھا۔

“تو؟” اس کے اس قدر اکھڑ اور بے لحاظ انداز پہ زحلے نے ڈھیر سارے آنسو حلق میں اتارے۔

“آپ کب سے میری پرسنل میڈ کے طور پہ مجھے اسسٹ کرنے لگی ہیں؟” اس نے ترکش سے مزید تیر چلائے تو مارے اہانت و سبکی کے اس کا دل چاہا وہ زمین میں دھنستی چلی جائے۔

“مجھے یہاں تمہارے لیے ہی ہائیر کیا گیا ہے اور اس دورانیے میں مجھے صرف تمہیں ٹیوشن نہیں دینی ہوتی بلکہ بوقت ضرورت تمہارے ملازمین کے میسر نہ ہونے پہ تمہاری دیکھ بھال بھی کرنی ہوتی ہے۔” اس نے پہلی دفعہ اس کے لیے ‘تم’ کا لفظ استعمال کیا تھا اور یہ شاید خود کو باور کروانے کے لیے تھا کہ وہ اس کے لیے صرف اس کا سٹوڈینٹ ہے۔
اور دوسری جانب اس نے بہت صفائی کے ساتھ اسے اپنے وہاں ہونے کا مقصد بھی باور کروانا چاہا۔

اس لیے وہ اس کی مزید کچھ سنے آگے بڑھی اور اپنا ایک نازک بازو اس کے کندھوں کے گرد حائل کیا اور ایک ہاتھ سے اس کا بازو تھاما تو اپنی ہی دھڑکنوں میں طوفان سا مچ گیا تھا۔

یہ اس کی زندگی کا پہلا لمحہ تھا جب ایک مرد اس کے نزدیک یوں آیا تھا اور مرد بھی وہ جس کے ساتھ اس کا کوئی رشتہ نہ تھا لیکن تکلیف دہ بات یہی تھی کہ رشتہ کوئی نہ تھا مگر قربت بلا کی تھی۔

اور اس قربت کا اثر دوسری جانب بھی بڑی بے ساختگی میں ہوا تھا کیونکہ اس کے نزدیک آنے پہ ذوالنورین کی خوبصورت آنکھوں میں چھایا جمود ایک لحظے کے لیے تنزلی کا شکار ہوا تھا لیکن اس سے پہلے اس کیفیت سے گھبراتے ہوئے وہ اس کے بازو اپنے گرد سے ہٹاتا وہ سپاٹ لہجے میں بول اٹھی۔

“میری ڈیوٹی مجھے کرنے دو کیونکہ ڈیوٹی نہ کرنے کی صورت میں مجھے یہاں سے نکال دیا جائے گا اور ایسے میں میں تمہیں تمہاری ماما سے نہیں ملوا سکوں گی۔” اس نے بہت سبھاو کے ساتھ اس کی کمزوری پہ وار کرنے کی کوشش کی۔
اور یہ کوشش اس کی کامیاب ٹھہری تھی کیونکہ اس کا مزاحمت کے لیے اٹھا ہاتھ واپس اپنی گود پہ جا ٹکا تھا۔

اس کے انداز میں واضح ہوتی شکست کو محسوس کر کے وہ ایک انچ مزید بڑھی اور اسے سہارا دے کے وہیل چیئر سے کھڑا کیا مگر اتنی سی جدوجہد میں ہی اسے دانتوں تلے پسینہ آ گیا تھا۔
انتیس سالہ جوان مرد کو اس جیسی نرم و نازک لڑکی کا سہارا گویا ڈوبتے کو تنکے کا سہارا کے مترادف تھا لیکن اس نے ہمت نہ ہاری اور اسے یوں بازووں میں سمیٹے وہ اسے بیڈ پہ بٹھانے کے لیے جھکی تو اس ساری ریاضت میں اس کے سر سے سرکا دوپٹہ اس کے کندھوں سے سرکتا ہوا بیڈ پہ نیم دراز ہوتے ذوالنورین میر کے چہرے پہ جا گرا۔

یہ اس قدر اچانک ہوا تھا کہ بیڈ پہ نیم دراز ہوتا ذوالنورین اور اس پہ جھکی زحلے لحظے بھر کے بھونچکا رہ گئے تھے۔

“آئم سوری۔” دھک دھک کرتے دل کے ساتھ اس نے ہاتھ اس کے چہرے پہ گرے ڈوپٹے کی جانب بڑھایا ہی تھا کہ اس کے مضبوط ہاتھ سے ٹکرا گیا۔
کیونکہ دوسری جانب اس کا دایاں ہاتھ آنکھوں سے ڈوپٹہ سرکاتا اسے چہرے سے ہٹانے ہی والا تھا کہ اس کا نازک ہاتھ اس کے ہاتھ سے آن ٹکرایا تھا۔

اب صورتحال کچھ یوں تھی کہ اس پہ جھکی زحلے اس کے ہاتھ پہ ہاتھ دھرے سانس روکے اس کی ڈوپٹے سے عیاں ہوتی خوبصورت آنکھوں میں بہت ہی خوفزدہ انداز میں دیکھ رہی تھی جب موبائل بپ کی آواز سے اس لمحے کا سحر ٹوٹ گیا۔

“آپ کا کام میری ڈگری مکمل کروانا تھا جس کا میں آپ سے وعدہ کر چکا ہوں اور جہاں تک بات ہے میری مدد کرنے کی تو میری ایک بات آج اپنے دماغ میں فیڈ کر لیں۔۔۔۔۔” اس کا دوپٹہ اس کے ہاتھ میں تھماتا وہ اچانک آتش زدہ لہجے میں بولتا ہوا رکا تو اس کے اس انداز پہ زحلے نے اس کی جانب دیکھا۔

“آج کے بعد میرے نزدیک مت آئیے گا، آپ کو اپنی سیلری چاہیے نا تو آپ بس وہ کام کریں جو آپ کو کہا ہے لیکن آج کے بعد نزدیک مت آئیے گا کیونکہ بھیڑیا زخمی ہو کے بھی بھیڑیا ہی رہتا ہے اور اس پیلس نے برسوں پہلے ‘ذوالنورین میر’ کو بھیڑیا کہہ دیا ہے اور بھیڑیے یہ نہیں دیکھتے کہ سامنے موجود انسان کون ہے؟” اس کے آتش زدہ انداز میں کہے گئے میں اس قدر برودت تھی کہ وہ خوف سے لرزتی ہوئی بے ساختہ چند قدم دور ہوتی ششدر نگاہوں سے اسے دیکھنے لگی جو اسے ایک بند پراسرار قلعے کی مانند لگ رہا تھا جس کے کواڑ کھولنے کے لیے ہاتھ زخمی کرنے پڑتے تھے۔

“کون ہے یہ شخص آخر؟”
“اس پیلس میں یہ اس قدر لاچار و بے بس کیوں پڑا ہے؟”
اس کی پراسرار شخصیت کو دیکھ کے ایک دفعہ پھر سے ایک خوف وجود میں سرائیت کر گیا تھا اور ساتھ ہی ان گنت سوالات اس کے دماغ میں اودھم مچا چکے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دھک دھک کرتے دل کے ساتھ وہ آنکھوں میں بے یقینی و خوف کے گہرے رنگ لیے اس کی جانب دیکھ رہی تھی جو چہرے پہ گہرا اطمینان لیے ہاتھ اس کے گلوبند کی جانب بڑھا رہا تھا۔

“ن۔۔نہیں۔” ہاتھ جیسے ہی اس کے گلوبند سے ٹکرایا وہ تڑپ کے فاصلے پہ ہوئی۔

“پیچھے کیوں ہٹ گئیں؟کیا آج جیولری سمیت سونے کا ارادہ ہے؟” اس کے لہجے کی لاپرواہی پہ آبگینے نے حیرت سے اسے دیکھا جو بہت سہولت سے اس کا ہاتھ کے اپنے نزدیک کرتا مزید بولا۔

“آپ کا اگر ارادہ ہے بھی تو اسے آج میرے لیے اتار لیں کیونکہ میں بے حد ڈسٹرب ہوں گا عالمِ وصل کے دوران۔” اس کی گھمبیر آواز میں چھلکتی ذومعنویت آبگینے کے چھکے چھڑوا گئی۔
اسے اندازہ ہوا تھا کہ رسم سے چھٹکارا پانے کے چکر میں وہ کس قدر بے لگام و بے باک بلا سے چمٹ گئی تھی۔

“دیکھیں، میری بات سنیں۔” اس کے ہاتھوں کو بہت بے ساختگی میں روکنے کے لیے وہ اپنے ہاتھوں میں جھکڑتی ہوئی بولی تو اس کی اس قدر بے ساختہ و معصوم حرکت پہ اس کا دل ڈول سا گیا۔

وہ خود پہ ضبط کھوتا ہوا جھکا اور دوبارہ سے اس تل پہ لب جماتا وہ اس کے پورے وجود کو تھرا سا گیا۔

“میں عمر بھر آپ کو سننے اور دیکھنے کے لیے تیار ہوں میری جان لیکن ابھی جو آپ چاہتی ہیں وہ نہیں ہو سکتا۔” اس کے تل کو چھوتے ہوئے وہ اپنے مخصوص دلکش لب و لہجے میں بولتا بہت سہولت سے اپنے ہاتھ اس کی گرفت سے آزاد کروانے کے بعد ہاتھ کی گردن کے پیچھے حائل کرتا اس کی سانسوں کو منتشر کر گیا۔

“آپ میرے ساتھ یوں زبردستی نہیں کر سکتے۔” اس کی مضبوط انگلیوں کا لمس گردن پہ محسوس کر کے وہ مارے بے بسی و شرم کے چٹخ اٹھی۔

“ایسا میں بھی نہیں کرنا چاہتا لیکن ارادے آپ کے بھی نیک ہرگز نہیں ہیں اور مارجن بھی آپ کو نہیں دے سکتا کہ ارادے میرے سسرالیوں کے بھی آپ سے زیادہ خطرناک ہیں۔” لہجے میں سنجیدگی، آنکھوں میں شوخ چمک دل میں خماری لیے وہ بڑے استحقاق سے اس کی جیولری اس کے وجود سے الگ کرتا ہوا بول رہا تھا جب اس کے نتھ کو چھونے پہ آبگینے کو ہوش آیا۔

“خدا کے لیے آپ کیوں یہ بات نہیں سمجھ رہے کہ اگر آپ مجھے لے کے یوں روپوش رہے یا مجھ سے کوئی تعلق قائم کرتے ہو تو پیر سائیں آپ کے خاندان کی کسی لڑکی کو اس رسم کے لیے چُن لیں گے۔” اس کے سینے پہ دونوں ہاتھ جما کے اسے خود سے دور کرنے کی کوشش کرتی وہ بلند آواز میں چلائی تو اس کے خوبرو چہرے پہ یکایک چٹانوں کی سی سختی پھیل گئی۔

“آپ کے سمجھانے کا بہت شکریہ لیکن مجھ میں خود سے وابستہ ہر عورت کو اللّٰہ کی مدد سے پروٹیکٹ کرنے کی ہمت موجود ہے اس لیے آپ یہ فضول کی مزاحمت چھوڑ دیں کیونکہ آج کی رات یہ آپ کے کسی کام نہیں آئے گی۔” گہری سنجیدگی سے اسے بہت کچھ باور کرواتے ہوئے وہ اب کی بار اس کی جانب بڑھا تو اس بار گرفت میں موجود شدت اور لمس میں موجود لپک اس کے وجود کو دہکا کے رکھ گئی۔

اس کی نتھ اس کے ناک سے الگ کرتے ہوئے اس نے سلگتے ہوئے لب ناک پہ رکھے تو روتی ہوئی آبگینے نے بے ساختہ دونوں ہاتھ اس کے گریبان پہ جما لیے۔

“یہ(نتھ) مجھے آپ کے گھر والوں سے بھی بڑی رقیب لگ رہی تھی۔” معنی خیز لہجے میں کہتے ہوئے اس نے اب کی بار تسلط اس کی سانسوں پہ جمایا تو روتی ہوئی آبگینے کے آنسو اس قدر شدت پہ جیسے ٹھٹھر سے گئے اور اس کے گریبان پہ گرفت لمحہ بہ لمحہ سخت سے سخت تر ہوتی چلی گئی۔

“آج کی رات میری قربت میں نفرت و ناپسندیدگی سے بہائے جانے والے آنسووں پہ آپ آنے والے وقت میں ضرور نالاں ہوں گی۔” اس کے دوپٹہ اس کے وجود سے الگ کرتے ہوئے اس نے اس کو تکیہ پہ لٹاتے ہوئے بھاری لہجے میں کہا تو اس کی سسکیاں بلند ہو گئیں جنہیں بہت سرعت کے ساتھ وہ اپنے مضبوط سینے میں مدغم کرتا ہوا اس کے وجود پہ گرفت مضبوط کر گیا۔

اور پھر کمرے کی روشنی گل کیے وہ اس کے نازک وجود پہ اپنے استحقاق کا تسلط جمائے اپنی شدتیں لٹاتا اس کی سسکیوں کو اپنے مضبوط سینے میں دبائے اسے خود میں بھینچتا اس کی نم شکووں پہ مسکراتا ہوا اسے خود میں بھینچ گیا۔
جبکہ اس کی بے باک شدتوں اور شرارتوں پہ شرماتا ہوا چاند گہرے بادلوں میں چھپ گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نیلی جینز پہ سفید رنگ کی ڈھیلی ڈھالی سی جرسی نما شرٹ پہنے وہ سر پہ نیلے رنگ کے حجاب میں لپیٹے، سفید جاگرز پہنے ٹرپ پہ جانے کے لیے ہر طرح سے تیار ہاتھوں میں ایک گفٹ لیے ‘ملک ہاوس’ میں داخل ہوئی تھی۔

“یہ گفٹ کس کے لیے ہے؟” قندیل نے اس کے ہاتھوں میں پکڑا ہوا گفٹ پیک دیکھتے ہوئے استفسار کیا تو وہ مسکرائی۔

“کل ضرغام چاچو کی برتھڈے ہے اور میں چونکہ کل گھر نہیں ہوں اس لیے ایڈوانس گفٹ دے رہی۔” اور یہ ملک ہاوس کی روایت سی بنی ہوئی تھی کہ بچے سے لے لے بڑے بوڑھے تک ہر فرد سالگرہ پہ ایک دوسرے کو گفٹ ضرور دیتے تھے اس لیے اس کی بات پہ سب مسکرا دیے جبکہ وہ ثمرین بیگم کی غیرموجودگی محسوس کر کے گفٹ یونہی ہاتھ میں لیے ان کے کمرے کی جانب بڑھ گئی۔

کمرے میں داخل ہوتے ہی اس کی نگاہ بیڈ پہ پڑے برائیڈل ڈریس پہ پڑی تو آنکھوں میں ستائش سی آ گئی۔

“یہ تو وہی جوڑا ہے۔” اشتیاق سے کہتی ہوئی وہ آگے بڑھی اسی لمحے ثمرین بیگم ڈریسنگ روم سے نکل آئیں۔

“ارے شہری!” خوشی سے کہتی ہوئیں وہ آگے بڑھیں اور اس کی پیشانی چومی۔

“بڑی ماما!یہ کس کے لیے ہے ڈریس؟” اس نے ان سے استفسار کیا تو وہ لحظہ بھر کے لیے چپ سی ہو گئ تھیں۔

“یہ کسی کے لیے ایک سرپرائز گفٹ پاس پڑا ہے میرے جو مجھے اس کے نکاح پہ دینا ہے۔” انہوں نے نپے تلے انداز میں اسے سچ بتایا تو اس کے چہرے پہ اشتیاق بھری الجھن جھلکی۔

“کس نے کسے گفٹ کیا ہے؟” اس کے سوال پہ انہیں اس پل بیٹے کا لہجہ یاد آیا تو انہوں نے بغور شہرے کا چہرہ دیکھا اور پھر سر جھٹک گئیں۔

“یہ سرپرائز ہے۔ابھی آپ مجھے یہ بتائیں کہ آپ کے ہاتھ میں کس کا گفٹ ہے؟” انہوں نے اس کی توجہ بھٹکانی چاہی۔

“اوہ یہ ضرغام چاچو کا گفٹ ہے۔ابھی آپ مجھے جلدی سے مل لیں، میں ٹرپ کے لیے نکلنے والی ہوں۔” وہ ان کے یاد دلانے پہ ان کے گلے لگتی ان سے پیار لینے کے بعد کمرے سے نکلی تو رخ ضرغام کے کمرے کی جانب تھا۔
وہ جانتی تھی کہ ضرغام کسی کا اپنے روم میں جانا پسند نہیں کرتا تھا لیکن چونکہ ضرغام نے اسے ٹرپ کی اجازت دلوائی تھی اس لیے وہ گفٹ کے ساتھ اس کا شکریہ ادا کرنے کے لیے اس کے کمرے میں جا رہی تھی۔

کمرے کے سامنے پہنچ کے اس نے ہاتھ ڈور ناب پہ رکھا ہی تھا کہ مینا کی آواز نے اچانک ہی سماعتوں پہ دستک دے ڈالی۔

“وہ تمہیں پسند کرتے ہیں۔” اس شور سے گھبراتے ہوئے اس نے دروازہ ایک جھٹکے سے کھولتے ہوئے اندر قدم رکھا تو گرے و وائٹ امتزاج سے سجے ماسٹر روم کو دیکھ کے وہ سحرزدہ سی رہ گئی۔

وہ شاید اب تک اس کے کمرے میں دوسری دفعہ آئی تھی اور اس کے شاہانہ بیڈروم اور اس کی سجاوٹ کو دیکھ کے دنگ رہ گئی تھی۔

“ضرغام چاچو خود کیا شاندار ہیں، کمرہ اس سے بڑھ کے شاندار ہے۔” کلوزٹ کے سامنے کھڑی ہوتی وہ بڑبڑائی اور ہاتھ اس کی کلاتھ کلوزٹ پہ جمایا تو دونوں پٹ اچانک ہی کھلتے چلے گئے۔

“اوپسسسس!” اس کے کپڑوں، ٹائیوں، بیلٹس، کف لنکس اور بہت ساری دوسری چیزوں کا سٹاک دیکھ کے اس کی آنکھوں میں ستائشی رنگ بڑی سرعت سے لہرایا۔

“اففف شہری!کتنی غلط بات ہے۔” کچھ ہی لمحوں بعد اسے یاد آیا کہ وہ کسی کے کمرے میں کسی کو چیزوں کو چھیڑ رہی ہے تو وہ جلدی سے کلوزٹ بند کرتی ہوئی مڑنے لگی تھی جب اس کی نظر اچانک ٹھہر سی گئی۔
اس نے پلٹ کے کلوزٹ کو واپس کھولا اور ایک سائیڈ پہ لٹکتی شرٹ کی جانب ہاتھ بڑھایا تو اگلا لمحہ اس کے سر پہ کسی آسمان کی مانند ٹوٹ پڑا تھا۔

“شہری!تمہارا سرخ سٹالر کہاں ہے؟”
“یہ جوڑا کسی کے نکاح کے لیے سرپرائز گفٹ ہے۔”
“وہ تمہیں بے حد پسند کرتے ہیں۔”
“اپنی آنکھوں پہ اس قدر ظلم مت کیا کریں۔”
“پاگل ہو گئے تھے کیا تم جو انہیں یوں اکیلا چھوڑ دیا۔”

بہت سے جملے، بہت سی یادیں، بہت سے منظر ایک دم ہی اس پہ حملہ آور ہوئے تو اس کی آنکھیں جھلملا گئیں جبکہ ہاتھوں میں پکڑا ہوا گفٹ ان میں ہونے والی کپکپاہٹ کے زیرِ اثر چھوٹ کے نیچے جا گرا۔

“وہ تمہیں پسند کرتے ہیں۔”
“وہ تمہیں پسند کرتے ہیں۔”
“ضرغام چاچو اور بڑے دادا کی بہت شدید لڑائی ہو رہی تھی شادی سے پہلے۔”

لڑکھڑاتے ہوئے قدموں سے کمرے کی دہلیز پار کرتی وہ نجانے کتنی بار ڈگمگائی تھی لیکن اس میں اس کمرے میں رکنے یا پلٹ کے دیکھنے کی ہمت اس لمحے ہرگز نہیں تھی۔

“ضرغام لالہ نے خود نگاہ سے شادی کے لیے کہا ہے۔” سیڑھیوں سے اترتے ہوئے اس کے قدم بری طرح سے لڑکھڑائے تھے لیکن اس سے پہلے کہ وہ نیچے جا گرتی دو مضبوط ہاتھوں نے بہت سرعت سے اسے تھامتے ہوئے اسے سہارا دیا تو وہ اس وجود کا حصہ بنتی چلی گئی۔
اس اچانک افتاد پہ اس نے اپنی نم پلکیں اٹھائیں تو آنکھیں بھوری آنکھوں سے جا ٹکرائیں۔

“وہ جس طرح تمہیں دیکھتے ہیں وہ انداز سب سے الگ ہے۔” ایک بار پھر سے سماعت پہ حملہ ہوا تو اس نے فورا فاصلہ بڑھایا اور اپنے لڑکھڑاتے قدموں کی پرواہ کیے وہ تیزی سے سیڑھیاں پھلانگتی اپنے پیچھے بلند ہوتی ملک ہاوس کے مکینوں کی آوازوں کو نظرانداز کرتی ہوئی صدر دروازے کو پار کر گئی۔
اور دوسری جانب سیڑھیوں کے وسط میں کھڑا ضرغام ملک یہ جان ہی نہ سکا کہ گزرے ہوئے چند لمحے شہرے ملک کے وجود اور اعتماد کے پرخچے کس بری طرح سے اڑا گئے تھے۔

مشکوک عادتوں سے مرا جی نہ کر اُداس
جی بھر کے مجھ کو لوٹ مگر اعتبار سے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بازووں میں تکیہ لیے وہ بے سدھ پڑا بہت گہری نیند میں تھا جب اٹخ پٹخ کی آواز سے اس کی نیند میں خلل پڑا تھا۔

باووں میں تھاما ہوا تکیہ کانوں پہ رکھتے ہوئے اس ناگوار شور سے جان چھڑانے کی کوشش کرنی چاہی جب شور مزید بلند ہوا تو چارو ناچار تکیے کی دیوار آنکھوں کے سامنے سے ہٹاتے ہوئے اس نے اپنی مخمور مگر نیند سے بوجھل ہوتی آنکھیں کھول کے سامنے دیکھنے کی کوشش کی تو کانوں میں ایک دفعہ پھر سے چھوٹے سے دھماکے کی آواز سنائی دی تو اس نے یونہی لیٹے لیٹے رخ بدل کے دیکھا تو اعصاب کو جیسے جھٹکا لگا تھا۔

کیونکہ سامنے ہی وہ اس کے سیاہ ٹراوزر کے ساتھ سیاہ ٹی شرٹ پہنے(کہ رخصتی کوئی باضابطہ طریقے سے تو ہوئی نہ تھی کہ اس کے کپڑے لینے کا وقت ملتا مگر وہ چونکہ یہاں آتا اور قیام کرتا تھا اس لیے اس کے دو چار کیجول ڈریسز الماری میں موجود تھے تو وہ انہیں ہی مجبوراً زیب تن کر چکی تھی) کندھوں پہ زرتاری آنچل پھیلائے ڈریسنگ پہ پڑی اس کی چند استعمال کی چیزوں کو زمین بوس کرنے کے بعد اب ہیئر برش ڈریسنگ مرر پہ زور سے مارنے کے بعد شیشہ چکنا چور کیے خون آلود نگاہوں سے اسے گھور رہی تھی۔

“جب سے میری شادی کی باتیں گھر میں شروع ہوئی ہیں تب سے اندازہ ہو گیا تھا میری شادی کوئی نارمل شادی ہر گز نہ ہو گی لیکن مجھے یہ اندازہ ہرگز نہ تھا کہ میری شادی کے بعد پہلی صبح بھی نارمل طریقے سے نا ہو گی۔” اس کے سنجیدہ لہجے میں اسے طنز کی رمق تو نہ محسوس ہوئی تھی لیکن آنکھوں کی چمک اسے خائف ضرور کر گئی تھی۔

جاری ہے۔