No Download Link
Rate this Novel
Episode 50
“دل تیرے سنگ جوڑ لیا”
از
حوریہ ملک
Episode#50(3rd last Episode part 1);
زحلے اور کلثوم میر کی گاڑی نکلنے کے بعد شاطرانہ مسکان ہونٹوں پہ سجائے اپنے کمرے کی گلاس وال سے یہ منظر دیکھتی شازمین میر کے دل میں جیسے پھوار سی پڑی تھی۔
خود کو کئی مہینوں کے بعد پہلے کی طرح ہلکا پھلکا سا محسوس کرتی وہ نک سک سی تیار آج خلافِ معمول بہت جلد نیچے آ گئی تھی۔
جہاں اس وقت ذوالنورین میر کے علاوہ باقی سب موجود تھے اور تقریباً سبھی اس کی اس گھٹیا منصوبہ بندی سے آگاہ تھے۔
“بہت خوش لگ رہی ہو؟” عبدالرحمن میر نے اس کے کھلتے ہوئے چہرے کو دیکھتے ہوئے استفسار کیا تو وہ معنی خیز انداز میں مسکرا دی۔
“آج بالآخر ہمیں وہ سب مل جائے گا جس کے لیے اتنے سال پاپڑ بیلے ہیں۔تمہارے بھائی کو کڈنیپ کروایا۔تمہارے بھتیجوں پہ حملہ کروایا لیکن پاور آف اٹارنی مکمل طور پر پھر بھی نہ مل سکی۔ لیکن آج تمہارا وہ معذور بھتیجا جب ماں اور بیوی کو بخت خان جیسے شخص کے چنگل میں پائے گا تو اسے سب کچھ ہمیں دینا ہو گا۔” فریش جوس کے سپ لیتی وہ ڈائیننگ ٹیبل پہ بیٹھے افراد کو خوشخبری سنا رہی تھی۔
ایسے میں فقط سامعہ تھی جسے یہ خبر سن کے نجانے کیوں دل میں ایک ملال سا جاگنے لگا تھا جسے وہ کوئی نام نہ دے سکی تھی۔
“بخت خان کو فون کریں کہ جتنی جلدی ہو سکے یہ کام کرے۔یہ نہ ہو کہ۔۔۔۔۔۔” آفاق میر نے بھاوج کو دیکھتے ہوئے کہا مگر اچانک صدر دروازہ کھلنے پر سب کی توجہ ڈائیننگ ہال سے نظر آتے صدر دروازے کی جانب اٹھی۔
جہاں سے داخل ہوتے افراد کو دیکھ کر وہاں موجود سبھی نفوس کے چہروں پہ مردنی سی چھا گئی اور پیروں تلے سے گویا زمین کھسک گئی ہو۔
“ب۔۔بھائی صاحب آپ؟” اپنے سامنے کھڑے ولید میر اور نین کو دیکھ کر ان کے چہرے یوں ہو گئے جیسے کسی ماورائی شے کو دیکھ لیا ہو۔
ایسے میں عبدالرحمن میر کے لب ہولے سے سرسرائے تھے۔
“مجھے دیکھ کے اتنا شاکڈ کیوں ہو گئے ہو سب؟کیا مجھے کڈنیپ کرنے والے سے میری موت کا سودا بھی کر لیا تھا؟” ان کی سنجیدگی سے بھرپور آواز میں زمانے بھر کی تلخی اور کاٹ تھی۔
جو انہیں لمحوں میں کاٹ گئی لیکن شازمین میر اتنی جلدی کھیل کا پانسا نہیں پلٹنے دینا چاہتی تھی اس لیے فوراً آگے بڑھی۔
کیونکہ اس کے پاس فی الحال بہت مضبوط مہرے موجود تھے۔
“کیسی باتیں کر رہے ہیں آپ بھائی صاحب؟کون کڈنیپ ہوا تھا؟آپ اور نین کی گمشدگی کے خلاف اتنی ایف آئی آر درج کروائی تھیں لیکن پولیس اور ہمیں ہمیشہ مایوسی ہی ہوئی مگر اب آپ کو سامنے دیکھ کر یقین نہیں آ رہا۔” وہ اپنے تئیں یہی سمجھ کے بیٹھی تھی کہ وہ ان سب کے ناپاک عزائم اور اعمال سے تاحال بے خبر تھے۔
تبھی اپنی مکاری کے رنگ بکھیرنے کو نین کے نزدیک ہوئی جس نے ایک جھٹکے سے اس کا اپنی جانب بڑھتا ہوا ہاتھ پرے دھکیلا تو وہ لڑکھڑا کے رہ گئی۔
“اپنے خون میں رنگے ہوئے ہاتھ دور رکھو ہم سے۔” اس کے بلند لہجے میں شیر کی سی دھاڑ تھی۔
جس نے انہیں بہت کچھ غلط ہو جانے کا سگنل دیا تھا۔
“یہ کیا طریقہ ہے اپنے سے بڑوں کے ساتھ بات کرنے کا؟اتنے سالوں کے بعد کہاں غائب رہ کے ہمارا تماشہ دیکھنے کے بعد اچانک آ گئے ہو۔” عبدالرحمن صاحب نے نین کے یہ تیور دیکھے تو غصے سے پھنکارے تھے۔
کہ مروت اور منہ دکھاوے کی شاید اب ضرورت نہیں رہی۔
“اتنی جلدی کس بات کی ہے؟اپنا ناشتہ مکمل کر لو تم لوگ پہلے۔کیا پتہ یہ زندگی کا آخری ناشتہ ہو۔” ولید صاحب نے سنجیدگی کا لبادہ اوڑھے سرد لہجے میں کہا تو وہ سب انہیں دیکھ کے رہ گئے۔
جو نین کی معیت میں لاونج میں پڑے صوفوں کی جانب بڑھ گئے تھے۔
اسی لمحے ایک دفعہ پھر سے صدر دروازہ کھلا اور ڈرائیور ہاتھوں میں دو سوٹ کیس گھسیٹتے ہوئے بلیو گولڈن کنٹراسٹ کے دیدہ زیب سوٹ پہنے نگاہ کے ساتھ اندر داخل ہوا تو سب پہ ایک دفعہ پھر سے حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے۔
“ی۔۔یہ لڑکی؟” یہ پہلی دفعہ تھا جب شازمین میر کا چہرہ سیاہ پڑا تھا کیونکہ اس لڑکی کو تو بخت خان نے ایسڈ کے ذریعے جلا دیا تھا۔
اس کے بعد وہ ضرغام ملک کے نگاہ میں تھی مگر اب اس کا اس طرح سجا سنورے روپ کے ساتھ یہاں آنا واضح کر رہا تھا کہ ان کے پلانز کسی حد تک ان کی نظروں میں آ چکے تھے۔
“جی یہ لڑکی نگاہ ذوالقرنین۔ میری بیوی میری محبت۔” ہاتھ تھام کے نگاہ کو اپنے مقابل کھڑا کرتے نین نے مضبوط لہجے میں تعارف کروایا تو نگاہ کو یک ٹک گھورتی شازمین میر کا دل چاہا وہ سب کچھ تہس نہس کر دے۔
اس وقت اس کی ساری امید زحلے اور کلثوم میر پہ مبنی ہو چکی تھی اور صرف اس کی ہی نہیں بلکہ بخت خان اور پیر سائیں کی بھی۔
“فائز!ذوالنورین اور مما کو جا کے اطلاع دو۔” نین نے سوٹ کیس رکھ کے جاتے ڈرائیور کو مخاطب کیا تو وہ مودب انداز میں سر ہلاتے ہوئے سیڑھیوں کی جانب بڑھا تھا۔
جبکہ نیچے ہال میں اتنے نفوس کے موجود ہونے کے باوجود ایک جامد سی خاموشی چھائی ہوئی تھی۔
میں تو اس واسطے چپ تھا کہ تماشہ نہ ہو
اور تو سمجھتا ہے کہ مجھے تجھ سے شکایت نہیں کوئی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گلال ونڈو کے سامنے حسبِ معمول وہیل چیئر پہ بیٹھا ذوالنورین ماتھے پر پرسوچ بل لیے زحلے کے اندازو اطوار پہ غور و فکر کر رہا تھا۔
جب دروازے پہ ہلکی سی دستک کے ساتھ دروازہ کھلنے کی آواز آئی تو اس نے ناگواری سے دروازے کی جانب دیکھا۔
“واٹ دا ہی۔۔۔تم؟” ناگواری سے بولتے ہوئے وہ فائز کو سامنے دیکھ کر ٹھٹھکا تھا۔
“تم یہاں کیا کر رہے ہو؟مما لوگ آ چکے ہیں کیا ہاسپٹل سے؟” ماتھے پہ تیوریاں چڑھائے وہ تیکھے انداز میں گویا ہوا تو فائز الجھ گیا۔
“سر!میں تو میڈم کو لے کر آج کہیں گیا ہی نہیں۔میں تو بڑے صاحب اور نین سر کو لینے گیا ہوا تھا۔انہوں نے رات کو کال کی تھی۔” اس کے سادگی سے جواب دینے پر ذوالنورین کے سر پہ جیسے دھماکے ہونے لگے تھے۔
“کیا بکواس کر رہے ہو یہ؟اگر تم ان کے ساتھ نہیں گئے تو وہ پھر کس کے ساتھ گئی ہیں؟دو گھنٹے ہو چکے ہیں انہیں گھر سے نکلے ہوئے۔” اس کا لہجہ خوفناک اندیشوں کی مہک سے لرز اٹھا تھا۔
اسے ان نگاہوں کا خود کو نکلتے سمے دیکھنا یاد آیا تو وجود میں جیسے شعلے بھڑک اٹھے تھے۔
“سر!میں کچھ نہیں جانتا ہوں کہ وہ لوگ کب نکلے۔” اس کی حالت دیکھ کر فائز پریشان ہو چکا تھا۔
اس نے دیکھا کہ وہ اب اپنا موبائل نکال کے مختلف نمبر ملا رہا تھا مگر مما اور زحلے کے نمبر بند ہونے پر جب اس نے ہاسپٹل کال کی تو وہاں ان دونوں کی غیرموجودگی کی اطلاع سن کر اس کا وجود گویا منوں مٹی تلے دھنستا چلا گیا۔
اس نے ہاتھ میں پکڑا موبائل دیوار پہ مارنے کے بعد دایاں ہاتھ وہیل چیئر کے بازو پر زور سے مارتے ہوئے خود پہ ضبط کرنے کی کوشش کی مگر جب ناکام ہوا تو زور سے ایک مکا گلاس ونڈو پر رسید کیا تو گلاس ایک چھناکے کی صورت میں ٹوٹ کر کرچی کرچی ہوا تھا۔
اور پھر صرف گلاس ونڈو نہیں بلکہ اس نے پاس پڑی میز پہ پڑی اشیاء اٹھا کے زور سے دیوار پہ دے مارتے ہوئے خونخوار نگاہوں سے خوفزدہ کھڑے فائز کو دیکھا تھا۔
“مجھے ابھی کے ابھی پتہ کر کے بتاو کہ کون لے کر نکلا ہے مما اور میم کو؟سی سی ٹی وی فوٹیج چیک کرو فوراً۔” وہ بلند آواز میں ایک دفعہ پھر سے گرجا جب کمرے سے بلند ہوتے شور شرابے کو سن کے حواس باختہ سے نین اور نگاہ آگے پیچھے بھاگتے ہوئے کمرے میں داخل ہوئے۔
“کیا ہوا ذونین؟تم ٹھیک۔۔۔یہ سب کیا ہے؟” نین نے متفکر انداز میں اسے دیکھا مگر پھر کمرے کی حالت دیکھ کر پریشانی دیدنی ہو چکی تھی۔
“مما اور میڈم ہاسپٹل کے لیے نکلی تھیں لیکن وہ ہاسپٹل نہیں گئیں بلکہ وہ۔۔۔۔۔۔” شدتِ ضبط کے باعث اس کی کنپٹی کی رگیں پھولنے لگی تھیں جبکہ وہیل چیئر کے پائیدان پہ جمے پیروں میں جیسے کانٹے سے اگنے لگے تھے۔
“بلکہ وہ مما کے ہائیر کے لیے ڈرائیور کے ہمراہ کسی بخت خان کے اڈے پہ پہنچائی جا چکی ہیں۔” ذوالنورین کی شدتِ غیض و غضب سے غراتی آواز کو سامعہ میر کی سپاٹ مگر نم آواز نے توڑا تو سب نے کرنٹ کھا کے اس کی جانب دیکھا۔
جو کمرے کی چوکھٹ سے چند قدم آگے کھڑی آنکھوں میں حسرت و ملال اور بے پناہ پچھتاووں کے رنگ سمیٹے ذوالنورین کو دیکھ رہی تھی۔
جس کی آنکھوں میں اس وقت اپنی ماں اور بیوی کو کچھ ہو جانے کے احساس کا دکھ اس شدت سے ہلکورے لے رہا تھا کہ وہ پچھتاووں کے گہرے بھنور میں اترنے لگی تھی۔
وہ نگاہ کے آنے پر سب کی توجہ ان پر مرکوز پا کے ڈائیننگ ہال سے ہٹ چکی تھی اور اب سودو زیاں کے حساب کتاب کے بعد وہ دل پہ پڑے بوجھ کو کم کرنے کے لیے یہاں آ گئی تھی۔
جبکہ اس کے کہے گئے الفاظ پہ جہاں نگاہ کا چہرہ مارے خوف کے سفید پڑا تھا وہیں ان دونوں بھائیوں کے چہرے نفرت و غضب کی شدت سے لہو چھلکانے لگے تھے۔
“آج یہ عورت اس رذیل انسان سے بھی پہلے میرے ہاتھوں جہنم واصل ہو گی۔” وہیل چیئر پہ ہاتھ مارتے ہوئے وہ بھوکے شیر کی مانند غراتے ہوئے آگے بڑھا جب سامعہ کی کانپتی آواز پہ ٹھٹھکا۔
“میں نے برسوں پہلے جو الزام تمہاری ذات پہ لگایا تھا۔یہ میری طرف سے اس کے لیے ایک چھوٹا سا مداوا ہے۔” اس نے دل پہ پڑے بوجھ کو ہلکا کرنا چاہا تھا۔
“دعا کرنا سامعہ، مما اور میڈم کو کچھ نہ ہو۔مجھے وہ صحیح سلامت مل گئیں تو تمہارے سارے گناہ میری جانب سے معاف ہوں گے۔” سپاٹ لہجے میں کہتے ہوئے وہ نین کی معیت میں جب نیچے پہنچا تو نین کے یا نگاہ کے روکنے سے قبل وہ بھوکے چیتے کی مانند شازمین میر کی جانب لپکا اور اس کی نازک گردن اپنے اسی زخمی ہاتھ میں دبوچ لی جس سے اس نے شیشہ توڑا تھا اور نگاہ نے رومال باندھ دیا تھا۔
“تمہارے جیسی ناگن کا سر اسی دن کچل دینا چاہیے تھا جب تم نے پہلا وار کیا تھا مگر رشتوں کا لحاظ مار گیا تھا۔مگر اب کسی بھول میں مت رہنا کیونکہ اب تم سب کو میں خود اتنی ہی اذیت ناک موت دوں گا جس سے تم لوگوں نے ہمیں ہمکنار کیا تھا۔” اس کی گردن پہ دباو بڑھاتا وہ اپنے حواسوں میں نہیں لگ رہا تھا۔
تبھی اس اچانک حملے پہ ششدر رہ جانے والے اس کے دونوں چچا اور کزنز آگے بڑھے اور ایک جھٹکے سے اس کی چیئر کو پرے دھکیلا۔
“ہو ک۔۔کیا چیز تم جو مجھے یعنی شازمین میر کو دھمکانے چل نکلے ہو۔” بمشکل بولنے کی کوشش کرتی شازمین میر پھٹی پھٹی آواز میں بولی تو اس نے لہو رنگ آنکھوں سے اسے دیکھا۔
تبھی ایک دم سے مختلف بوٹوں کی آواز پہ سب نے پلٹ کے دیکھا تو بہت سارے سپاہی ہاتھوں میں ہتھیار لیے نین کو دیکھ کر سلیوٹ مارنے لگے۔
“السلام علیکم سر!” ان کے یک زبان کیے گئے سلام پہ برف کے مجسمے بن کے کھڑے میر پیلس کے مکینوں پر ‘نین میر’ کا پولیس میں ہونے کا سن کر جیسے دماغ ہل گیا تھا۔
“یہ پانچ چھ سال گیم ہماری مرضی سے چلتی رہی ہے یا یہ پانچوں دوست چلاتے رہے ہیں؟” بے ساختہ یہ سوچ بہت سوں کے ذہن میں آئی مگر غورو فکر کا موقع دیے بغیر سپاہی آگے بڑھے اور ان سب کو اپنی کسٹڈی میں لینے لگے جبکہ لیڈی کانسٹیبلز ان دونوں خواتین کی جانب بڑھ گئیں۔
“ہمارے آنے تک انہیں جیل میں بھیجنے کی بجائے سپیشل روم میں رکھو۔کچھ ہی دیر میں جب ہم آتے ہیں تو ان کا فیصلہ ‘فائیو سٹار’ گروپ خود کرے گا کیونکہ ان سب کے لیے جج،جلاد، جیوری سب کچھ فائیو سٹار خود ہیں۔” مزاحمت کرتے چچاوں اور ان کی بیگمات کو نفرت سے دیکھتے نین نے اپنے ماتحتوں کو اشارہ کیا تو وہ زبردستی انہیں لے کر جانے لگے۔
“سر!ڈرائیور کی شکل واضح نہیں ہو رہی لیکن گاڑی کا نمبر مل گیا ہے۔” فائز کے پرجوش آواز میں بولنے پر ذوالنورین نے بنا موبائل سکرین کو دیکھتے اسے آگے بڑھنے کا اشارہ کیا تھا۔
کیونکہ پل پل گزرتا لمحہ اس پر بے حد بھاری پڑ رہا تھا کہ بھیگی ہوئی نگاہیں لمحہ بہ لمحہ دل کی زمین سے لپٹتی دل کی دھڑکنیں مدہم کیے جا رہی تھیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
‘گردیزی ہاوس’ میں اس وقت معمول سے بڑھ کے ہلچل مچی ہوئی تھی کیونکہ طلال شاہ اپنی مختصر سی چار لوگوں پر مشتمل بارات کے ساتھ ‘گردیزی ہاوس’ پہنچ چکا تھا اور کچھ ہی منٹوں تک ان کا نکاح متوقع تھا۔
“دریہ!یار اب تو سچی سچی بتا دو کہ طلال بھائی سے پہلی ملاقات میں پیسے مانگتے ہوئے کیا ان سے دل مانگنے کی بھی ریکویسٹ کی تھی۔” خوبصورت سے سی گرین کلر کے فراک میں ملبوس زمل اور مشعل آف وہائیٹ شرارے سوٹ میں حوروں کو مات دیتے روپ کو اپنائے گھبرائی سی بیٹھی دریہ کو مسلسل زچ کیے جا رہی تھیں۔
جو آف وائیٹ دوپٹے کے ساتھ سر پہ طلال کے نام کا سرخ دوپٹہ سجائے بے چینی سے اپنے مہندی لگے ہاتھ مسل رہی تھی۔
“بھابھی!پلیز ان لوگوں کو تھوڑی دیر کے لیے چپ کروائیں۔بار بار آپ کے بھائی کا نام لیتی ہیں تو دل میں پتہ نہیں کیا ہونے لگتا ہے۔” ان کی شرارتوں سے خائف ہوتے اس نے خفگی سے اندر آتی آبگینے کو مخاطب کرتے معصومیت سے کہا تو ان کی ہنسی چھوٹ گئی۔
“ہمارے فقط نام لینے سے یہ حال ہے۔زرا اپنی بھابھی سے پوچھو کہ جب سامنا ہوتا ہے تو دل کی کیا حالت ہوتی ہے؟” انہوں نے اب کی بار بیک وقت دونوں نند بھاوج کو چھیڑا تو دونوں ہی جھینپ سی گئیں۔
“تم لوگوں کا بھائی تو ٹاپ کلاس قسم کا ایک رومینٹک اور بے شرم بندہ ہے اس لیے میرا تجربہ زرا ہٹ کے ہے لیکن چونکہ میرا بھائی اس معاملے میں ابھی کورا ہے اس لیے دریہ کی فیلنگز کو ہم نکاح کے بعد کی ملاقات کے بعد پوچھیں گے۔” خوشی کا موقع ایسا تھا کہ آبگینے نے پہلی دفعہ یوں کھل کے ان کی کسی شرارت کا جواب ایسی ہی شرارت سے دیا تو زمل مشعل سمیت دریہ بھی اس کی پہلی کہی گئی بات پہ آنکھیں گھما کے رہ گئی۔
“میرے دل نے مجھے اطلاع دی ہے کہ میری زوجہ محترمہ نے مجھے بے حد حسین الفاظ میں یاد فرمایا ہے۔” بوتل کے جن کی مانند دروازے کے بیچ و بیچ نمودار ہوتے رہبان کے چھا جانے والے سراپے کو دیکھ کر آبگینے کا چہرہ زیب تن کیے گئے گلابی کپڑوں جیسا ہو گیا۔
“جتنے حسین الفاظ میں مجھے یاد کر رہی تھی باخدا یہاں میری بہنیں موجود نہ ہوتیں تو ایک عدد عملی ثبوت تو ضرور دے کے جاتا میں۔” اس کے نزدیک آتے ہوئے اس کے کان کی جانب جھکتا وہ سرگوشی نما انداز میں بولتا ہوا اس کے چھکے چھڑوا گیا۔
اس نے بے ساختہ اپنا رخ موڑتے ہوئے کپکپاتے ہاتھوں میں زور سے فراک کو بھینچتے ہوئے اس شرم کے ریلے پہ قابو پانے کی کوشش کی۔
جبکہ وہ اب بڑے سکون کے ساتھ دریہ کے ساتھ بیٹھا اس کو بازو کے گھیرے میں لیے لاڈ کرنے میں مگن ہو چکا تھا۔
کچھ ہی منٹوں بعد حماد گردیزی نکاح خواں کے ساتھ اندر داخل ہوئے تو رہبان کے گھیرے میں بیٹھی دریہ کو دل کی بلند ہوتی دھڑکنیں کانوں میں گونجتی محسوس ہوئی تھیں۔
اور پھر دل کی ابھرتی ڈوبتی کیفیت کے بیچ ڈولتے اس نے خدا اور اپنے والدین کے فیصلے کو اپنے حق میں بہتر جانتے ہوئے خود کو اس شخص کے نام کر دیا جس کی نگاہوں کے تصادم نے اسے انجانے سے احساس سے دوچار کر دیا تھا۔
جس لمحے طلال شاہ نے نکاح نامے پہ سائن کیے تھے اسی لمحے رہبان شاہ کے پرسنل نمبر پہ نمودار ہونے والے نین کے پیغام کو دیکھ کر وہ طلال اور باقی سب کو مبارک دینے کے بعد بے حد معذرت کرتا اپنی ڈیوٹی کا بہانہ بنا کر گھر سے نکل گیا۔
یہ جانے بغیر کہ جب وہ گھر میں واپس آئے گا تو بہت کچھ پہلے جیسا نہ ہو گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ضرغام کا کیا گیا دھماکہ اس قدر بھیانک تھا اس کے لیے کہ وہ ساری رات سو نہ سکی اور پھر صبح صادق کی نشانیاں نمودار ہوتے ہی وہ ‘ملک منزل’ سے ‘ملک ہاوس’ جانے کے لیے بیتاب ہونے لگ گئی۔
لیکن اسے اطلاع ملی تھی کہ اسد صاحب گھر موجود نہ تھے تبھی وہ خود پہ ضبط کیے ان کے آنے کی منتظر تھی۔
اور پھر جب اسے اسد صاحب کے آنے کی اطلاع ملی تھی اس وقت اس کی ملازمہ نے اسے بتایا تھا کہ نیچے ملک ہاوس کے لوگ ڈھیروں مٹھائیوں اور سامان کے ساتھ اس کی رخصتی کی تاریخ فائنل کرنے آئے تھے۔
اسے بہت سارے واسطے دے کر وہ کمرے کی بیک سائیڈ پہ بنی سیڑھیوں کو استعمال کر کے ‘ملک ہاوس’ کی طرف بڑھ گئی کہ اس کے لیے یہ بہتر موقع تھا کہ سب کی غیر موجودگی میں اسد صاحب سے بات کر لی جائے۔
گھر میں داخل ہوتے ہی بنا کہیں رکے وہ بہت محتاط انداز میں قدم آگے بڑھاتی اسد صاحب کے سٹڈی روم میں داخل ہوئی تھی۔
“السلام علیکم!بڑے دادا کیسے ہیں آپ؟” بمشکل لبوں پہ کھینچ کھانچ کے مسکان بکھیرتی وہ مدہم لہجے میں گویا ہوئی تو ایک کیس کی فائل سٹڈی کرتے اسد صاحب غیر متوقع طور پر اس کی آواز اس وقت سن کے چونکے تھے۔
“وعلیکم السلام!شہرے بیٹا، بڑے دادا تو بڑے ڈیشنگ ہیں۔آپ سناو کیسی ہو؟ اتنی ڈل کیوں لگ رہی ہو؟” شگفتگی سے کہتے ہوئے انہوں نے بغور اس کا ستا ہوا چہرہ دیکھا تو اس کی آنکھیں ڈبڈبانے لگیں۔
“بڑے دادا!میں بہت پریشان ہوں اور میری پریشانی آپ ہی ختم کر سکتے ہیں۔” بات کرتے کرتے بائیں آنکھ سے آنسو ٹوٹ کے رخسار پہ آن گرا تو اسد صاحب فورا پریشانی سے اپنی جگہ پر سے اٹھے اور اس کے نزدیک آئے۔
“کیسی پریشانی؟کیا بات ہے؟ کسی نے کچھ کہا ہے؟” اسے بازو کے گھیرے میں لیے وہ آگے بڑھ کے صوفے پہ بیٹھے اور ساتھ ہی اسے بٹھایا تھا۔
“بڑے دادا!مجھے۔۔۔مجھے رخصتی نہیں کروانی ہے ابھی۔میرے لیے بہت مشکل ہے یوں اچانک ہونے والے انکشافات کو فیس کرنا اور یہ سب برداشت کرنا۔” اس نے نم لہجے میں اپنی پریشانی ان کے سامنے پیش کی تو وہ چپ سے ہو گئے۔
انہیں بے ساختہ ضرغام یاد آیا تھا جو سالوں بعد ان کے ساتھ نارمل ہوا تھا۔
ورنہ شہرے کے ساتھ شادی سے انکار، نگاہ سے نکاح اور پھر رخصتی تک ان کا تعلق بے حد تلخی کا شکار رہا تھا۔کیونکہ جب اس نے نگاہ سے نکاح کیا تھا تو یہی باور کروایا کہ محبت کی شادی ہے تبھی انہوں نے اسے کہا تھا کہ شہرے اور اس کی بچگانہ محبت کی مدت بس اتنی ہی تھی۔
تب سے اب تک ان کا تعلق بے پناہ کشیدگی لیے ہوئے تھا اور نگاہ سے رخصتی ہونے تک وہ یہی باور کرواتا رہا تھا مگر کچھ مہینوں پہلے جب سچائی سامنے آنے لگی تو ان کا تعلق نارمل ٹرمز پہ آیا تھا۔
اور انہی ٹرمز کی وجہ سے چاہے طنزیہ مگر اس نے انہیں کہا تھا کہ اِس رخصتی کے لیے شہرے کو اسد صاحب منائیں گے۔
ایسے میں شہرے کا اُسی رخصتی کو ڈیلے کرنے کا فیصلہ وہ بھی ان کی مدد کے ساتھ انہیں پریشان کر گیا تھا۔
“لیکن بیٹا بہتر نہیں ہے کہ آپ رخصتی کے بعد جو بھی آپ لوگوں کے کلیشز وغیرہ ہیں انہیں اچھے سے سلجھا لو گے؟” انہوں نے نرمی سے اسے سمجھانے کی کوشش کی اور ساتھ ہی ایک چور نگاہ سٹڈی روم سے اٹیچڈ واشروم کے ادھ کھلے دروازے پہ ڈالی۔
جہاں کچھ دیر قبل کوئی ہاتھ دھونے گیا تھا۔
“نہیں بڑے دادا، مجھے تھوڑا وقت چاہیے۔میں ابھی یہ سب نہیں چاہتی۔” وہ انہیں کھل کے نہیں بتا سکتی تھی کہ وہ ضرغام ملک کو مکمل شوہر کے روپ میں دیکھنے کی ہمت نہیں کر پا رہی تھی۔
ورنہ ان کی آغاجان کی موجودگی میں ہوئی نگاہ کے متعلق تمام گفتگو جازم ملک اسے بتا چکا تھا جس سے بہت کچھ مزید کلیئر ہو چکا تھا مگر رخصتی کے نام پر دل جانے کیوں آمادہ نہ تھا۔
“آں۔۔۔اوکے بیٹا میں کچھ کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔آپ پریشان نہیں ہوں۔” وہ اتنے مان سے ان کے پاس آئی تھی۔اسلیے وہ دوٹوک انداز میں اسے انکار نہیں کر سکتے تھے۔
“تھینک یو بڑے دادا لیکن بڑی دادو تو سب کے ساتھ ڈیٹ فائنل کرنے گئی ہیں۔” خوشی کے ساتھ یکلخت ہی اسے یاد آیا تو لہجے میں بے چینی سی امڈ آئی۔
“ڈونٹ وری۔سب اچھا ہو گا۔آپ ٹینشن نہیں لو۔” دانستاً ہر شے سے بے نیازی برتتے انہوں نے امید کے ٹمٹماتے دیے اس کے ہاتھ میں سونپے تو اس کا چہرہ جیسے کھِل اٹھا تھا۔
“تھینک یو بڑے دادو، یو آر بیسٹ۔” خوشی سے انہیں پیار کرتی وہ اپنی جگہ سے اٹھی اور انہیں خدا حافظ کرتی باہر نکل گئی کہ اب پرسکون ہوتے دل کے ساتھ وہ ‘ملک منزل’ میں موجود اپنے پیاروں کو ملنا چاہتی تھی۔
جبکہ دوسری جانب سٹڈی روم میں موجود اسد صاحب اپنے سامنے ضرغام کی شرر باز سوالیہ نگاہوں سے نظریں چراتے فائل کھول رہے تھے۔
جب ان کی جانب سے مکمل خاموشی پا کے وہ خود پہ ڈھیروں ضبط کرتا ہوا لمبے لمبے ڈگ بھرتا ہوا روم سے باہر نکلتا زور سے دروازہ مارتا ہوا چلا گیا۔
“بیوی آنکھوں میں آنسو بھر کے حملہ کرتی ہے اور شوہر آنکھوں کے خوفناک تیر چلاتا ہے۔خدا ہی خیر کرے ان دونوں کی۔” زیرِ لب کہتے ہوئے انہوں نے اکتا کے فائل بند کی اور اس مسئلے کا حل سوچنے لگے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نارمل سی روشنی چھلکاتے اس کمرے میں موجود زحلے ابراہیم کی توجہ کا سارا مرکز کلثوم میر کی ذات تھی جو اس سے فاصلے پہ موجود کرسی پہ باندھی ہوئی تھیں۔
اب سے تین گھنٹے قبل جب وہ گاڑی میں بیٹھیں تو کوئی توجہ نہ دی مگر جب آدھ گھنٹے تک بھی گاڑی نہ رکی تو وہ چونکی کہ ہاسپٹل کو تو اب تک آ جانا چاہیے تھے۔
یہ خیال آتے ہی اس نے ڈرائیور کو مخاطب کرنا چاہا تو یکایک اسے حواس سلب ہوتے محسوس ہوئے اور وہ ہوش حواس کھوتی کلثوم میر کی جانب لڑھک گئی جو اس سے پہلے دائیں جانب لڑھک چکی تھیں۔
اس کے بعد جب انہیں ہوش آیا تو وہ اس کمرے میں الگ الگ کرسیوں پہ بندھیں نو دس آدمیوں کے بیچ موجود تھیں۔
اس ساری حقیقت کا ادراک ہوتے ہی اس کے پیروں تلے سے زمین کھسک گئی تھی۔
اسے فوراً کلثوم میر کا خیال آیا جو پہلے ہی قید جیسے ٹراما سے گزر چکی تھیں ایسے میں پھر سے ہاتھ پاوں باندھ کے انہیں رکھنا ان کے دماغ کے لیے اچھا نہ ہو گا۔
“تم جو بھی ہو لیکن پلیز اماں کے ہاتھ پاوں کھول دو۔” اس نے وہاں موجود آدمیوں سے کہا لیکن کسی کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی۔
“اور حسین بلبل، تمہارا شوہر ایک پیپر پہ سائن کر دے اور اس کا دوست میرے پارٹنر کو رہا کر دے تو خدا کی قسم منٹ سے پہلے تم لوگ گھر چلی جاو گی لیکن۔۔۔۔۔” سیاہ کپڑوں میں ملبوس سیاہ سے رومال ٹائپ سکارف گلے میں لپیٹے بخت خان نے نظریں زحلے کے وجود پہ گاڑھیں تو اسے اپنے بدن پر چیونٹیاں سی رینگتی محسوس ہوئیں۔
“لیکن اگر وہ لوگ میرے مطالبات پورے نہیں کرتے تو پہلے تمہاری اس ساس کے ٹکڑے کروں گا اور پھر تمہارے ٹکڑے کرنے سے قبل اپنے آدمیوں کو تمہارے ساتھ کھل کے کھیلنے کی دعوت دوں گا۔تم دونوں کی یہ حالت دیکھ کر تمہارا وہ معذور شوہر خود ہی مرمرا جائے گا تو سارا تماشہ ہی ختم۔” سفاک اور گھٹیا لہجے میں کہتے ہوئے وہ اس کے بدن سے جیسے جان نکال کے لے گیا تھا۔
“بکواس بند کرو اپنی زلیل انسان۔” خوف و غصے کی شدت سے وہ دبا دبا سا چلائی تو اس کے سامنے گھٹنوں کے بل جھکے بخت خان نے پوری قوت سے ایک زناٹے دار تھپڑ اس کے رخسار پہ رسید کیا تو اسے اپنے حلق میں خون کا ذائقہ گھلتا محسوس ہوا۔
“زوالنورین!” پھٹے ہوئے ہونٹوں سے اک سسکاری سی نکلی جبکہ دوسری جانب اس کی حالت دیکھ کر کلثوم میر ایک دم سے چیخ اٹھیں۔
“دلہن!دلہن! دلہن کو مت مارو۔” ان کے زور زور سے چلانے پر بخت خان بدمزہ ہوتا ہوا ان کی جانب مڑا لیکن اس سے قبل کے وہ انہیں ہاتھ لگا پاتا۔
عجیب سی آواز پہ سب نے چونک کے اس ہال نما کمرے کی بنی عمارت کے مین ایریے کی جانب دیکھا۔جہاں کوئی دروازہ نہ تھا لیکن یہ علاقہ ایسا تھا اور یہ جگہ ایسی تھی کہ کوئی گمان بھی نہ کر سکتا تھا کہ یہاں کوئی موجود ہو گا۔
کہ وہ گاڑیاں وغیرہ روڈ پہ چھوڑ کے آتے تھے۔ایسے میں کسی آمد نے انہیں چوکنا کر دیا تھا۔
سبھی نے ہتھیار سنبھالتے ہوئے ٹارگٹ سیٹ کیا۔تبھی وہ اپنی وہیل چیئر کو حرکت دیتا ہوا سامنے آیا تو زحلے پہ جیسے حیرتوں کا پہاڑ ٹوٹ پڑا تھا۔
وہ حیرانگی و بے یقینی سے اسے دیکھ رہی تھی جو یہاں اپنی حالت کی پرواہ کیے بغیر انہیں یہاں بچانے آیا تھا یا اپنی معذوری کے باعث خود ان کے ہاتھوں موت کا نشانہ بننے آیا تھا۔
یہ خیال آتے ہی اس کا دل جیسے سینے کی دیواریں توڑ کے باہر آنے کو مچلنے لگا تھا۔
جبکہ بخت خان جو اسے یہاں دیکھ کر پہلے پریشان ہوا تھا مگر جب نظر اس کی وہیل چیئر اور زخمی ہاتھ پہ پڑی تو ایک دم سے پاگلوں کی طرح ہنسنے لگا۔
“مطلب کہ تم۔۔تم مجھ سے یعنی بخت خان سے اپنی ماں اور بیوی کو اس وہیل چیئر پہ بیٹھ کر بچانے آئے ہو ہاہاہاہا۔۔۔۔۔” بری طرح سے قہقہے لگا کے ہنستا ہوا وہ زحلے اور کلثوم میر کے دل پر چھریاں چلا گیا۔
جبکہ اس کی ہنسی، اس کی باتوں سے بے نیاز ذوالنورین کی سرخ آنکھیں زحلے کے ہونٹوں کے کنارے جمے خون اور رخسار پہ بنے انگلیوں کے نشانات پہ مرکوز تھیں۔
“تم تو تب بھی میرا کچھ نہیں بگاڑ سکے تھے جب تم اپنے پیروں پہ کھڑے تھے اب کیا اکھاڑ پاو گے میرا؟ہوں؟” ہنستے ہنستے وہ آنکھوں میں سفاکیت کے رنگ پھیلائے ہاتھ میں پسٹل لیے اس کی جانب بڑھا تو زحلے کا دل جیسے کنپٹیوں میں سلگنے لگا تھا۔
وہ اس کی بات کا پسِ منظر نہیں جانتی تھی لیکن اس لمحے اس کا دل جیسے ڈوبنے کو تھا اور سانسیں گویا آخری دموں پہ تھیں۔
“اچھا یہ چھوڑو۔مجھے یہ بتاو کہ تمہیں یہاں کا پتہ کس نے دیا اور تم کس کے ساتھ۔۔۔۔۔۔” بات کرتے کرتے اس نے ہاتھ میں تھامی پسٹل کی نال اس کے زخمی ہاتھ کی پشت پہ رکھنی چاہی جب وہ ایک دم سے چیخ اٹھی۔
“نہیں۔۔اسے کچھ مت کہو پلیز۔تمہارے جو بھی مطالبات ہیں وہ پورے ہو جائیں گے لیکن اسے کچھ مت کہنا۔” وہ کم از کم اس شخص کو یوں بیٹھے اس شخص کی بربریت کا نشانہ بنتے نہیں دیکھ سکتی تھی جو پہلے ہی قدرت کی مار کھائے ہوئے تھا۔
جبکہ اس کی بے اختیاری پہ جہاں بخت خان چونکا تھا وہیں ذوالنورین میر کے سینے میں موجود دل نے اچانک پلٹا کھایا تھا۔
اپنے سامنے کھڑے بخت خان کو نظرانداز کیے وہ وہیل چیئر گھماتے ہوئے زحلے کی جانب بڑھا تو بخت خان دلچسپی سے اس ڈرامے کو دیکھنے لگا تھا۔
ویسے بھی وہ دشمن کو تڑپا کے مارنے کا قائل تھا اور ابھی وہ ان کی تڑپ کا مزہ لینا چاہتا تھا۔
وہیل چیئر کو حرکت دیتے ہوئے پہلے وہ ماں کے سامنے رکا ان کے ہاتھ چومنے کے بعد وہ زحلے کی جانب مڑا اور اس کے بالکل سامنے جا کے رکا۔
دایاں ہاتھ آگے بڑھاتے ہوئے اس نے اس کے ہونٹوں کے نزدیک زخم کے نشان کو چھوا تو اس کے ہونٹوں سے سسکی سی نکلی جو اس کے اندر لگی آگ کو مزید جلا دے گئی۔
“آئی ایم سوری میم فار آل دس۔” انگوٹھے سے اس کے زخم کو رب کرتے ہوئے اس کے ہاتھ کی انگلیاں اس کی گردن کو چھونے لگیں تو زحلے نے حیرانگی سے اسے دیکھا۔
جس نے اس کی گردن پہ رکھی انگلیوں کو مخصوص انداز میں دبایا تو وہ ہوش و حواس کھوتی ایک جانب کو لڑھکی جب اس نے فورا اس کو سہارا دیتے ہوئے اس کا سر کرسی کی پشت سے ٹکایا۔
اس کی اس اچانک حرکت پہ الجھتے بخت خان نے زحلے کے بیہوش وجود سے نظریں ہٹا کے اچنبھے سے اس کی جانب دیکھا تو آنکھیں مارے حیرت کے گویا پھٹنے کو ہو گئیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دل و دماغ پہ چھائے تفکر کو جب شام میں سکون ملا تو وہ ہر طرح سے شاد و مطمئن ہوتی خود کو ہلکا پھلکا محسوس کرنے لگی۔
کافی دنوں کے بعد اس نے بہت فریش انداز میں سب کے ساتھ مل کر کھانا کھایا اور باتیں کیں۔
ٹینشن کم ہوئی تو اتنے دنوں کی بے خوابی کا شکار آنکھوں میں نیند چھانے لگی تو وہ بنا وقت ضائع کیے سونے کے لیے لیٹ گئی۔
نجانے رات کا کون سا پہر تھا جب گہری نیند میں سوتے اسے خود پر بھاری پن کا احساس ہوا۔
جسے دماغ سے جھٹکتے ہوئے اس نے خود کو واپس نیند کی وادیوں میں الجھانا چاہا جب گردن یکلخت پرتپش سے احساس کی حدت سے جلنے لگی.
گردن پہ ہاتھ مارتے ہوئے اس نے کروٹ بدلنی چاہی لیکن خود کو حرکت کرنے سے قاصر پایا اس پہ مستزاد ایک سرسراتا ہوا سلگتا ہوا لمس جب گردن سے سرائیت کرتا ہوا جب گردن کی حدود پار کرنے لگا تو اس کی نیند بھک سے اڑی تھی۔
ایک دم سے آنکھیں کھولتے ہوئے اس نے اس سرسراہٹ کا ماخذ جاننا چاہا جب اسے انگارہ سا اپنی گردن کے عین وسط میں دہکتا ہوا محسوس ہوا۔
“ض۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
جاری ہے۔
