No Download Link
Rate this Novel
Episode 1
“دل تیرے سنگ جوڑ لیا”
از
حوریہ ملک
وہ عہدِ غم کی کاہش ہائے بےحاصل کو کیا سمجھے
جو ان کی مختصر روداد بھی صبر آزما سمجھے
یہاں وابستگی واں برہمی کیا جانیے کیوں ہے ؟
نہ ہم اپنی نظر سمجھے نہ ہم اُنکی ادا سمجھے
فریبِ آرزو کی سہل انگاری نہیں جاتی
ہم اپنے دل کی دھڑکن کو تری آوازِ پا سمجھے
تمہاری ہر نظر سے منسلک ہے رشتۂ ہستی
مگر یہ دور کی باتیں کوئی نادان کیا سمجھے
نہ پوچھو عہدِالفت کی بس اک خوابِ پریشاں تھا
نہ دل کو راہ پر لائے ، نہ دل کا مدعا سمجھے
فیض احمد فیضؔ
جولائی کی تمتماتی سی صبح وہ معمول کی مانند سادہ سے شلوار قمیض میں ملبوس براون چادر اپنے گرد اوڑھے سڑک کنارے چلتی جا رہی تھی۔
گرے لیدر بیگ جو شاید کثرتِ استعمال سے اپنی رنگت کھونے کو تھا اس کی سٹریپ دائیں کندھے پہ لٹکائے وہ بائیں ہاتھ سے ماتھے پہ آیا پسینہ چادر کے پلو سے پونچھتی ہوئی سیاہ دو پٹی سادہ سی چپل میں مقید پاوں گھسیٹتی ہوئی اپنی لاحاصل منزل کی طرف بڑھ رہی تھی۔
گرمی کی شدت جب مزید بڑھی تو اس نے دائیں ہاتھ سے سینے کے ساتھ لگی فائل کو ماتھے پہ چھجا سا بنا کے چند منٹوں کے لیے اپنا سانس بحال کرنے کی کوشش کی اور بے بسی سے ادھر ادھر نگاہ دوڑائی کہ شاید کہیں سے پانی مل جائے لیکن بے سود ٹھہری۔
گہری سانس بھرتے ہوئے اس نے بیگ سے ایک کارڈ نکالا اور اس پہ لکھے پتے کو ازسرِ نو ازبر کرتی وہ اپنی منزل کی طرف بڑھی۔
“میر سنز اینڈ انٹرنیشنل کمپنی” کی جانب بڑھتی زحلے ابراہیم یہ جانتی تھی کہ چمکتے شیشوں سے مزین یہ انٹرنیشنل کمپنی اس جیسی لڑکی کو کبھی بھی جاب پہ نہیں رکھیں گے لیکن اس کے اٹھتے قدموں کے ساتھ اس قدر ‘ضروریات’ جڑی ہوئی تھیں کہ اسے ناکامی کا اندازہ ہونے کے باوجود بھی ہر بار نئی کوشش کرنی پڑتی ہی تھی۔
گیٹ پہ موجود چوکیدار نے جس انداز میں اس کے حلیے کو سر تا پا دیکھتے ہوئے اندر جانے کو کہا اسے یہی لگا کہ اسے شاید انٹرویو سے قبل ہی واپس بھیج دیا جائے گا۔
نک سک سی تیار ریسیپشنسٹ توقع کے برخلاف بہت نرمی سے اسے ویٹنگ روم میں بیٹھنے کا کہہ کے اپنے کام کی طرف متوجہ ہو گئی۔
ویٹنگ روم میں موجود خوبصورت و ماڈرن لڑکیوں کو دیکھ کے اس کے اندر ریسیپشنسٹ کے اخلاق کو دیکھ کے جو ڈھارس بندھی تھی وہ بھی ٹوٹنے لگی لیکن پھر بھی ایک موہوم سی امید کے تحت وہ وہیں اپنی فائل تھامے بیٹھی رہی۔
اسے وہاں انتظار میں بیٹھے تقریباً ایک گھنٹہ سے زیادہ وقت بیت چکا تھا جب اس کی سماعتوں میں رسیپشنسٹ کی نرم آواز ٹکرائی۔
“زحلے ابراہیم!” اپنے نام کی پکار پہ وہ ایک گھٹی گھٹی سا سانس اندر کو کھینچتی اپنی جگہ سے اٹھی اور پرتعیش آفس کی جانب بڑھی۔
۔۔۔۔۔۔،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
‘ملک ہاوس’ میں اس وقت معمول کے مطابق ڈرائننگ روم میں گہماگہمی جاری و ساری تھی کیونکہ اس وقت گھر کے سبھی بڑے افراد ناشتے کے لیے ڈائننگ ٹیبل پہ جمع تھے جبکہ بچے سکول و کالجز کی جانب روانہ ہو چکے تھے۔
سربراہی کرسی پہ بیٹھے دادبخش ملک اپنے خوشحال گھرانے کو دیکھتے ہوئے مسکراتے چہرے کے ساتھ ناشتہ کرنے میں مصروف تھے۔
“اسد سیمینار سے واپس کب آئے گا؟” انہوں نے چائے کا سپ لیتے ہوئے اپنے منجھلے بیٹے احمد ملک سے اپنے بڑے بیٹے اسد ملک کی بابت دریافت کیا جو ملک کے بہت جانے مانے اور قابل بیرسٹر تھے۔
“بابا جان شاید پرسوں تک واپس آئیں گے بھائی۔” احمد صاحب نے جواب دیتے ہوئے میز پہ رکھے جوس کا گلاس تھاما۔
اس وقت ڈائننگ ہال میں باتوں کی ہلکی سی بھنبھناہٹ اور برتن ٹکرانے کی آوازیں آ رہی تھیں جب ہمیشہ کی طرح ایک چہکتی ہوئی آواز ‘ملک ہاوس’ کے وسیع و عریض اور دیدہ زیب ڈائننگ ہال میں گونجی تو ناشتے میں مشغول ‘ضرغام ملک’ کا چہرہ آن واحد میں پتھریلے تاثرات سے سج گیا۔
“السلام علیکم ایوی ون!” شہرے ملک کی خوبصورت، کھنکتی و مترنم آواز گونجی تو سب نے ہی بہت پرجوش انداز میں اسے جواب دیا۔
“آئیں شہرے!ناشتہ کریں۔” ثمرین بیگم(مسز اسد ملک) نے مسکراتے لہجے میں اسے دعوت دی تو ضرغام کی گردن میں اک گلٹی سی ابھر کے معدوم ہوئی۔
“نہیں بڑی ماما!مجھے کالج سے دیر ہو رہی ہے آپ پلیز ضرغام چاچو سے کہیں مجھے ڈراپ کر دیں۔” اس نے ایک نظر سفید شرٹ میں ملبوس اس کی مضبوط پشت پہ ڈالتے ہوئے ٹھنکتے ہوئے فرمائش کی تو ضرغام نے ایک جلتی ہوئی نظر خود کو دیکھتے دادبخش ملک کی جانب دیکھا تو وہ نگاہیں چرا کے رہ گئے۔
“آئم سوری شہرے لیکن مجھے آج کہیں ارجنٹ جانا ہے اور میرا روٹ آپ کے کالج روٹ سے چینج ہے۔” بنا اس کی جانب دیکھے وہ نیپکن سے چہرہ تھپتھپاتا اپنی جگہ سے اٹھا اور سب کو خداحافظ کہتا وہ ڈائننگ روم سے باہر نکلتا چلا گیا۔
“شہرے آپ پریشان نہیں ہوں،یہاں بیٹھ کے ناشتہ کرو،آپ کو آپ کے منجھلے دادا جان چھوڑ آئیں گے۔” ثمرین بیگم نے بیٹے کی بداخلاقی چھپانے کو احمد صاحب کی جانب اشارہ کرتے ہوئے اسی کے دیے گئے نام کی جانب اشارہ کیا تو وہ کھلکھلا اٹھی۔
“مطلب کہ میں آج فل سیکیورٹی اور پروٹوکول کے ساتھ اپنے ینگ سے دادا جان بلکہ منجھلے دادا جان کے ساتھ کالج جاوں گی۔” وہ شرارتی انداز میں مسکراتی ہوئی ضرغام کی چھوڑی گئی کرسی پہ بیٹھتی جوس کا گلاس ہونٹوں سے لگا گئی۔
“یہ زیادتی ہے شہرے بچے، ہم دادا جان اور ہماری بیگم آپ کے لیے ماما جان؟” دادبخش ملک کے سب سے چھوٹے صاحبزادے احد ملک نے اس کی جانب دیکھتے ہوئے مصنوعی رنجیدگی سے کہا تو وہ مسکراہٹ ہونٹوں میں دباتی ہوئی تھوڑا آگے کو جھکی۔
“دیکھیں نا چھوٹے دادو، چھوٹی ماما جانی کو دیکھیں یہ کس اینگل سے میرے جیسی بیس سالہ حسین دوشیزہ کی دادی لگتی ہیں؟” اس نے شرارت سے مسز احد (مہوش بیگم) کی جانب اشارہ کرتے ہوئے جوابی سوال کیا تو ڈائننگ روم کھلکھلاہٹوں سے گونج اٹھا۔
اور ملک ہاوس کے ڈائننگ ہال میں مسکراہٹیں بکھیرتی اور سمیٹتی شہرے ملک اس بات سے قطعی انجان تھی کہ اس کی ہر صبح ملک ہاوس میں چند لمحے کی ملاقات کسی کے لیے کس قدر بھاری ثابت ہوتی تھی کہ وہ نا چاہتے ہوئے بھی اس ملاقات کے زیرِ اثر چند گھنٹوں کے لیے ساری دنیا سے رابطے منقطع کر لیتا تھا۔
اپنی
‘منکوحہ’ سے بھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہت دنوں کے بعد پھر سے آج ‘میر پیلس’ کے سیکنڈ فلور کے بالکل آخری سرے پہ بنے اس کمرے سے توڑ پھوڑ کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔
اگر چہ کمرہ ساونڈ پروف تھا لیکن چونکہ ہانپتی کانپتی ملازمہ چند لمحے قبل ہی وہاں سے آئی تھی اور وہی دروازہ بند کرنا بھول بیٹھی تھی اور اب اسی ادھ کھلے دروازے سے آتی یہ آوازیں وہاں کے مکینوں کو خاصی ناگوار گزر رہی تھیں۔
“نجانے کب تک یہ تماشا برداشت کرنا ہو گا؟” سامعہ نے نہایت بیزاری کے ساتھ سیڑھیوں کی جانب دیکھتے ہوئے حقارت سے استفسار کیا اور دھپ سے صوفے پہ بیٹھ گئی۔
“جب تک ہمارے ہاتھ اس ‘تماشے’ کے ساتھ بندھے ہوئے ہیں۔” اجیہ بیگم نے بیٹی کے نخوت زدہ چہرے کو دیکھتے ہوئے جواب دیا جبکہ وہاں موجود باقی نفوس کے تاثرات بھی ویسے ہی تھے۔
نخوت، نفرت، ناپسندیدگی اور بیزاری سے بھرے پڑے۔
“ڈونٹ وری ڈیئر!مما بتا رہی تھیں کہ آج اس تماشے کو ختم کرنے کے لیے پہلی سیڑھی پہ قدم رکھنے والی ہیں وہ۔” طوبیٰ اپنے گھنگھریالے بالوں کی لٹ اپنی انگلی پہ لپیٹتے ہوئے ذومعنی انداز میں بولی تو سب نے چونک کے اسے دیکھا۔
“کیا مطلب؟” سامعہ نے چونک کے اس کی جانب دیکھا جبکہ باقی سب نے سوالیہ نگاہیں اس کی جانب موڑیں۔
“مطلب ایک دو دن تک آنکھوں سے دیکھ لینا۔” نپا تلا سا جواب دیتی وہ اپنی جگہ سے اٹھی اور اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئی جبکہ باقی سب نے نخوت سے اس کی جانب دیکھا جو بہت موڈی تھی لیکن یہ بات وہ اس کے لیے اس کے سامنے نہیں کہہ سکتے تھے کہ یہاں اس پیلس میں موجود نفوس سب کی خامیوں کو چارو ناچار نگل لیتے تھے۔
ان سب نفوس کے لیے فی الحال ایک دوسرے سے دشمنیاں نہیں نبھانی تھیں کیونکہ اس وقت ان سب کا ایک ہی سانجھا دشمن تھا جو اس وقت سیکنڈ فلور کے کونے پہ بنے ماسٹربیڈروم میں وہیل چیئر پہ بیٹھا سرخ ہوتی آنکھوں کے ساتھ بدترین حالت کا شکار ہوئے کمرے کو دیکھ رہا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ بہت کوفت و بیزاری کے ساتھ سامنے شیشے کی میز کے دوسری جانب بیٹھی ایک خوبصورت اور طرحدار سی خاتون کی ایکسرے کرتی نگاہوں کو بمشکل برداشت کرتی وہ ان کے مزید بولنے کا انتظار کرنے لگی جو اس کی سی وی پہ ایک نظر ڈالنے کے بعد فارمل انٹرویو کی بجائے اس کی فیملی کے متعلق سوال و جواب کرنے کے بعد نجانے کن سوچوں میں مشغول ہو چکی تھیں۔
“مس زحلے ابراہیم! آپ کی سی وی میں نے چیک کی ہے آپ کا اکیڈمک ریکارڈ بہت زبردست ہے لیکن آپ کے پاس تجربہ نہیں ہے۔” بالآخر انہوں نے اپنی خاموشی توڑی تو زحلے کے چہرے پہ مایوسی پھیل گئی لیکن وہ چہرے پہ مصنوعی مسکراہٹ بکھیرے اپنی فائل لیے کرسی سے اٹھی۔
“اٹس اوکے میم،تھینک یو۔” مروتاً ان کا شکریہ ادا کرنے کے بعد وہ وہاں سے اٹھنے کو تھی جب پاور سیٹ پہ بیٹھی ‘مسز شازمین میر’ نے اسے فورا روکا۔
“بیٹھی رہیے مس ابراہیم!اگر چہ آپ کے پاس اس طرح کی کمپنیز میں جاب کرنے کا ایکسپیرینس نہیں ہے لیکن جیسا کہ میں نے کہا کہ آپ کا اکیڈمک ریکارڈ بہت زبردست ہے اس لیے میرے پاس آپ کے لیے ایک جاب ہے۔” ان کی بات بے توجہی سے سنتی زحلے جو کرسی پہ بے دلی سے ٹکی ہوئی تھی ان کے کہے آخری جملے پہ جی جان سے چونکی۔
“جاب؟” اس کی متعجب و بے یقین خوبصورت نگاہیں ان کے میک اپ سے سجے خوبصورت چہرے پہ مرکوز تھیں۔
“بالکل۔” انہوں نے ہولے سے سر خم کرتے ہوئے اس کی حیرانگی دور کرنی چاہی۔
“کیسی جاب؟” اس کی آنکھیں یکایک امید کے تمتماتے دیوں سے چمکنے لگیں تو شازمین میر کے چہرے پہ سکون پھیلتا چلا گیا۔
“میرے شوہر کے بھتیجے کو ہوم ٹیوشن دینا ہو گی، اس کے لیے آپ کو پک اینڈ ڈراپ کی سہولت دی جائیگی اور مکمل سیلری پیکج بھی دیا جائے گا جو یہاں موجود ورکرز کو دیا جاتا ہے کیونکہ آپ کے بھی ہوم ٹیوشن کی ٹائمنگ صبح نو سے شام ساڑھے پانچ بجے تک ہو گی۔” ان کی تفصیل میں کی گئی اس بات پہ اس کے چہرے پہ تعجب کے رنگ مزید گہرے ہوئے کہ اتنی لمبی ٹیوشن وہ کیسے دے سکے گی لیکن پھر سوچا کہ کوئی اور جاب کرتی تب بھی اتنا وقت تو دینا ہی تھا اس لیے وہ اپنے ساتھ جڑی بہت سی امیدوں کو سوچتی انہیں اپنی رضامندی دے گئی۔
اس کے رضامند ہونے پہ شازمین میر نے اس کے سامنے کانٹریکٹ پیپر رکھے جن کے مطابق وہ ان کے شوہر کے بھتیجے کا کورس مکمل ہونے سے پہلے اس جاب کو نہیں چھوڑ سکتی تھی۔
اس کانٹریکٹ پہ شاید وہ کوئی سوال اٹھاتی لیکن اس معمولی سی جاب کے عوض جو مراعات اور ستر ہزار ماہانہ تنخواہ مل رہی تھی اس نے اس کی زبان پہ تالے لگا دیے تھے۔
اور شاید ایسے ہی تالے یہاں موجود ہر دوسرے فرد کے منہ پہ لگ جاتے ہیں جب انہیں اپنے سے زیادہ خود سے وابستہ رشتوں کی خوشی، سلامتی اور سکون کے لیے ایسی مراعات درکار ہوں۔
“مس ابراہیم جاتے ہوئے ریسیپشنسٹ سے اپنا اپائٹمنٹ لیٹر لیتی جائیے گا۔” وہ اپنی سوچوں میں گم شازمین میر کا شکریہ ادا کرتی آفس سے نکلنے والی تھی جب عقب سے آتی ان کی آواز پہ وہ گہری سانس بھرتی سر اثبات میں ہلا کے دروازہ پار کر گئی۔
جبکہ اندر لگژری آفس روم کی پاور سیٹ پہ بیٹھی شازمین میر پہلی ‘سیڑھی’ پہ قدم جمائے بہت سرشاری کے ساتھ مسکراتی ہوئی باقی انٹرویو کینسل کرنے کا آرڈر دے رہی تھیں۔
کیونکہ انہیں اپنا کوہِ نور مل چکا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“ڈیڈ!پلیز آپ کیوں بی بی جان کو سمجھاتے نہیں ہیں کہ جو حکم مجھے یہ دے رہی ہیں میں اسے پورا نہیں کر سکتا۔” وہ آج تقریباً پندرہ دن کے بعد حویلی لوٹا تھا لیکن آتے ہی جب وہ حسبِ عادت بی بی جان سے ملنے کے لیے ان کے کمرے میں گیا تو ان کی پرانی فرمائش سن کے وہ حقیقتاً جھنجھلا اٹھا۔
“تو کیا مجھے مرتے ہوئے دیکھ سکتے ہو تم؟” بی بی جان نے پھپھکتے ہوئے استفسار کیا تو وہ ان کی ایسی بات پہ اس نے بے یقینی سے انہیں دیکھا جو زارو قطار روتے ہوئے اس سے خاصی نالاں نظر آ رہی تھیں۔
“بی بی جان!آپ کیسے کسی دوسرے کے لیے اپنے پوتے کو ایسے تکلیف پہنچا سکتی ہیں؟کیا آپ نہیں جانتیں کہ آپ کے یہ الفاظ میرے لیے کس قدر تکلیف کا باعث ہیں؟” وہ آہستگی سے چلتا ہوا ان کے نزدیک پہنچا اور پھر اس کے قدموں میں پنجوں کے بل بیٹھتا وہ اپنی سیاہ گھور خوبصورت آنکھوں سے ان کے پرنور چہرے کو دیکھتا پرتاسف لہجے میں بولا تو ان کے چہرے پہ ملال جاگ اٹھا۔
“وہ کوئی دوسرے نہیں ہیں، تم جانتے ہو کہ ہمارے جدی پشتی وہ پیر چلے آئے ہیں اور آج تم اپنی اکڑ اور بے جا ضد کی وجہ سے مجھے میرے پیر کے سامنے شرم سے ڈوب مرنے پہ مجبور کر رہے ہو۔” وہ مزید تیزی سے رونے لگیں تو سائرہ بیگم نے فہمائشی نگاہ بیٹے پہ ڈالتے ہوئے ساس کے کندھے پہ ہاتھ رکھتے ہوئے گویا خاموش تسلی دی۔
“آپ کس دور میں جی رہی ہیں بی بی جان اور معاف کیجیے گا پیر سائیں نے ایسی فضول رس۔۔۔۔۔” وہ سخت ناگواری سے بول رہا تھا جب گردیزی صاحب نے اسے فورا ٹوکا۔
“رہبان!” ان کی تنبیہی آواز پہ وہ سنبھلا اور پھر گہری سانس بھرتا کھڑا ہوا۔
“اوکے سوری لیکن بہت معذرت بی بی جان لیکن میں ایسی کوئی رسم نہیں مانتا کہ پہلے کسی جیتے جاگتے وجود کو اپنا نام سونپوں اور پھر اس وجود کو بنا دیکھے ان دیکھی قید کی نذر کر دوں۔” اس کی بھاری بے لچک اور قطعیت سے بھرپور آواز کمرے کی بوجھل فضا کو مزید بوجھل کر گئی جبکہ بی بی جان کی مزید بڑھتی سسکیوں پہ سائرہ گردیزی، حماد گردیزی اور رضا گردیزی نے بے بسی سے ایک دوسرے کو دیکھتے ہوئے سر جھکا لیا۔
اور دوسری جانب اپنے کمرے کے وسط میں ٹہلتا رہبان بہت بے چینی سے اپنے گھنیرے بالوں میں ہاتھ پھیرتا اپنے موبائل کو دیکھ رہا تھا جہاں اس کی کولیگ اور دوست اس سے شادی کرنے کی خواہش کا اظہار کر رہی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے اپنی نازک کلائی میں بندھی گھڑی پہ ایک نظر ڈالتے ہوئے سامنے موجود اس وسیع رقبے پہ پھیلی کشادہ عمارت کو دیکھا جس پہ جعلی حروف میں جگمگاتا ‘میر پیلس’ نظروں کو خیرہ کر رہا تھا۔
گاڑی اسے اسے بتائے گئے وقت سے تقریباً بیس منٹ پہلے ہی اس کی منزل پہ لے آئی تھی اور چونکہ آج اس کا پہلا دن تھا اس لیے وہ بھی صبح جلد ہی اپنے کام ختم کرنے اور ابراہیم صاحب کو ناشتہ دینے کے بعد جلدی ہی تیار ہو چکی تھی اس لیے گاڑی کے وقت سے پہلے پہنچنے پہ وہ کسی ہڑبڑاہٹ کا شکار نہ ہوئی تھی۔
چوکیدار کو شاید اس کے آنے کی خبر تھی تبھی بنا کسی روک ٹوک کے اسے اندر جانے دیا گیا تھا اور چونکہ اس وقت وہ اپنی ہی ذہنی خلفشار میں مگن تھی اس لیے وہ بنا اردگرد دھیان دیے سیدھی چلتی جا رہی تھی جہاں سامنے اسے ایک ملازمہ نظر آئی جو بنا کچھ کہے اسے اندرونی حصے میں لے گئی۔
ہال میں داخل ہوتے ہی ایک پل کے لیے اس کی آنکھیں چندھیا سی گئیں لیکن اس سے قبل کے وہ ہال کی زیبائش و آرائش پہ غور کرتی ملازمہ کی روبوٹک سی آواز گونجی۔
“آئیے میں آپ کو چھوٹے صاحب کے کمرے تک چھوڑ آوں۔” اس کی پکار پہ وہ سر ہلاتی ایک متعجب سی نگاہ خالی گھر جہاں صرف ملازمین دکھائی دے رہے تھے پہ ڈالتی سیڑھیوں کی جانب بڑھی۔
“کیا گھر میں اور کوئی نہیں ہے؟” اس نے دل میں پنپنتے ان دیکھے خوف کا شکار ہوتے ہوئے اس نے ملازمہ سے استفسار کیا۔
“سب سو رہے ہیں۔” ملازمہ نے نپا تلا سا جواب دیتے ہوئے اسے سیکنڈ فلور کے آخری سرے پہ موجود کمرے تک رہنمائی کی۔
“یہ چھوٹے صاحب کا کمرہ ہے۔” وہ بند دروازے کی جانب اشارہ کرتی ہوئی وہاں سے پلٹ گئی جبکہ وہ گہری سانس بھرتی ہوئی اس کی پشت دیکھتی رہ گئی کہ اس کا دل چاہا کہ وہ اسے کہے کہ اس بچے کو ڈرائنگ روم میں لے آئے وہ نیچے ہی پڑھا دے گی لیکن پھر سوچا کہ بڑے گھروں کے بچوں کے نخرے بھی بڑے ہوتے ہیں اس لیے شاید وہ اپنے کمرے میں پڑھنا پسند کرے اس لیے وہ چپ سادھ گئی۔
خود کو ایک نئے محاز کے لیے ذہنی طور پہ تیار کرتی وہ اللّٰہ کا نام لے کے دروازے پہ ہولے سے دستک دیتی اندر داخل ہوئی تو پہلی نگاہ ہی جیسی پتھر کی ہو گئی تھی۔
کمرے کے وسط میں پڑی وہیل چیئر پہ بیٹھا وہ شخص کم از کم وہ ‘بچہ’ نہیں تھا جسے وہ ٹیوشن دینے آئی تھی۔
بلکہ کمرے میں موجود شخص کی عمر اٹھائیس انتیس سال سے کم نہ ہو گی۔
وہ اس عجیب سی افتاد پہ چکراتے ہوئے سر کے ساتھ اس سچویشن کو سمجھنے کی سعی کر رہی تھی جب اس کی کھردری اور وحشت زدہ سی آواز کمرے میں گونجی۔
“کون ہو تم؟”
جاری ہے۔
