No Download Link
Rate this Novel
Episode 17
“دل تیرے سنگ جوڑ لیا”
از
حوریہ ملک
اس کے یوں کہنے پہ اس نے سلگتی نگاہوں سے دادبخش ملک کی جانب دیکھا تو وہ جو پہلے ہی اس کی جانب متوجہ تھے اس سے نظر ملتے ہی نگاہ چرا گئے۔
“نگاہ تو شاید کمرے میں ہے، آپ بیٹھو ابھی آ جاتی ہے۔” ثمرین بیگم نے سنبھلتے ہوئے اسے ہلکے پھلکے انداز میں جواب دیا تو اس نے دونوں ہتھیلیاں مسلتے ہوئے انہیں دیکھا۔
“میں کمرے میں جا کے ہی مل لیتی ہوں۔” زبردستی لب پھیلاتے ہوئے وہ بولی اور قدم آگے کو بڑھائے لیکن چند قدم بعد ہی وہ ٹھٹھک گئی کیونکہ ڈائیننگ ہال کی اینٹرس کے پاس ہی وہ کھڑا پرتپش نگاہوں سے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
اس کو غیرمتوقع طور پہ سامنے دیکھ کے اس کے قدم لحظے بھر کے لیے من من بھر کے ہو گئے لیکن یکایک اسے گزری افتاد کا ادراک ہوا تو چہرے پہ تنفر کا سایہ بہت سرعت سے پھیلا اور یہ تنفر سامنے کھڑے شخص کی نگاہوں سے چھپ نہ سکا تبھی وہ اس کے اس تک پہنچنے سے قبل ہی وہ مضبوط قدم اٹھاتا اس کے پہلو سے گزرتا ان سب کی طرف بڑھ گیا جو خاموش تماشائی بنے ان دونوں کو ہی تک رہے تھے۔
“السلام علیکم!” ان سب کے نزدیک پہنچتا وہ بھاری آواز میں ان پہ سلامتی بھیج کر اپنی کرسی پہ براجمان ہو گیا جبکہ دوسری جانب وہ بھاری دل کے ساتھ وہاں سے نکلتی سیڑھیوں کی جانب بڑھ گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
‘گردیزی ہاوس’ میں اس وقت ناشتے کی گہماگہمی چھائی ہوئی تھی۔ڈائیننگ ٹیبل پہ بیٹھے افراد کی ہلکی پھلکی نوک جھونک کے ساتھ ساتھ چھریوں کانٹوں کے کھٹکھٹانے کی آوازیں بھی گونج رہی تھیں۔
“ویسے شادی کے بعد لڑکیوں کی رخصتی کے بارے میں سنا تھا ہمارے ہاں یہ الٹ کیونکر ہو گیا؟” پراٹھے کا نوالہ لیتے ہوئے داود(جو دو دن سے یہیں ٹھہرا تھا) نے کہا تو حماد گردیزی نے استفہامیہ نگاہوں سے اسے دیکھا۔
“یہ ہماری گمنام سی بھابھی کے ساتھ ساتھ ہمارے ایس پی صاحب بھی کہیں روپوش ہی ہو گئے ہیں۔” وہ اپنے مخصوص ہلکے پھلکے انداز میں گویا ہوا تو زمل اور مشعل ہنسنے لگیں۔
“یہ تم لوگوں کے لیے ایک عبرتناک سبق ہے کہ جان سکو کہ شادی کے بعد لوگ بدل جاتے ہیں۔” مائرہ بیگم نے شگفتگی سے جواب دیا تو ان سب کے مدہم قہقہے گونج اٹھے۔
“اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ اب ہم اپنے بقیہ لڑکوں کی شادیاں نہیں کریں گے۔” آیت نے شوخی سے کہا تو رضا صاحب نے بڑے مدبر انداز میں سر اثبات میں ہلایا جبکہ آنکھوں میں شرارت چمک رہی تھی۔
“ہرگز نہیں، خبردار جو ایسا سوچنے کی کوشش بھی کی۔” اس کی بات سن کے حمدان تڑپ اٹھا۔
اس کے یوں برجستگی سے جواب دینے پہ بی جان بھی ہولے سے مسکرا دیں۔
“اچھا بی جان، ڈیڈ میں کالج کے لیے نکل رہی ہوں۔” ناشتے سے فارغ ہو کے وہ اپنی جگہ سے اٹھی تو بی جان نے چونک کے اسے دیکھا۔
“تم کیوں کالج جا رہی ہو؟” ان کے متوحش انداز پہ حماد صاحب نے پرسکون انداز میں ان کی جانب دیکھا۔
“اماں کچھ نہیں ہوتا، اللّٰہ ہے ہم سب کی حفاظت کے لیے۔اب لوگوں کی وجہ سے ہم نہ خود گھر میں چھپ کے بیٹھ سکتے ہیں نا اپنے بچوں کو گھر بٹھا سکتے ہیں۔” ان کے متانت بھرے انداز میں کہنے پہ بی جان کے چہرے پہ تذبذب کا عالم چھا گیا لیکن وہ چپ رہیں۔
کیونکہ ان کی بات ویسے ٹھیک تھی کہ گزشتہ ڈیڑھ ہفتے سے انہوں نے بچوں بچیوں کی کہیں نکلنے نہ دیا تھا لیکن اب زندگی یوں تو تمام ہونے سے رہی اس لیے آج حماد صاحب کے کہنے پہ سب معمول کے کاموں کو سرانجام دینے کے لیے چاق و چوبند نظر آ رہے تھے۔
پھر بی جان اور ماوں سے دعائیں لے کے وہ سب آگے پیچھے اپنے یونیورسٹیز کالجز کی جانب چل دیے۔
“رہبان گھر کب آئے گا؟” بی جان نے اپنا معمول کا سوال دہراہا تو حماد صاحب نے گہری سانس بھر کے انہیں دیکھا۔
“اماں!جلد آ جائے گا۔ابھی آبگینے کے گھر والے دونوں کو پاگل کتوں کی مانند ڈھونڈ رہے ہیں اور وہ نہیں چاہتا کہ آبگینے اپنے گھر والوں کا ایسا روپ دیکھے۔” ان کے تفصیلی جواب پہ ان کے چہرے پہ دکھ اور بے بسی چھا گئی۔
اور یہی بے بسی اور تکلیف سائرہ بیگم کے دل میں بھی چھائی تھی جو کئی دنوں سے بیٹے کا چہرہ دیکھنے اور آواز سننے سے محروم تھیں۔
۔۔۔۔۔،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ کمرہ جہاں کچھ دیر قبل اونچی اونچی آوازوں کے ساتھ اس پہ بہتان لگایا جا رہا تھا وہاں اب پن ڈراپ سائلنس کے ساتھ اس کے نکاح کے مراحل طے پا رہے تھے۔
ذوالنورین کے کیے گئے دھماکے کے بعد شازمین میر نے سن ہوتے دماغ کے ساتھ عبدالرحمن میر اور آفاق میر کو طلاع دی جو یہ خبر سن کے بھاگم بھاگ پیلس پہنچے تھے۔
انہوں نے آتے ہی بنا کسی اور کی جانب دیکھے ڈائریکٹ ذوالنورین سے اس نکاح کی بابت استفسار کیا تو وہ چہرے پہ ڈھیروں سکون لیے ان کی جانب متوجہ ہوا۔
“دل کر رہا تھا میرا، یہاں پڑے پڑے بور ہو چکا تھا اس لیے میرا نکاح کے لیے مچل اٹھا۔” الفاظ اگرچہ غیر سنجیدہ تھے لیکن لہجہ اففففف۔۔۔۔
اس کے لہجے میں اس قدر سردمہری تھی کہ کمرے کی فضا بھی سرد ہونے لگی تھی۔
سن ہوتے اعصاب کے ساتھ صوفے پہ بیٹھی زحلے کے چہرے سے رستا خون اب چہرے پہ جم چکا تھا جبکہ کلائی بھی خون آلود تھی مگر وہ اس سب سے بے نیاز صوفے پہ اپنے لاچار باپ کے ہمراہ بیٹھی اپنی زندگی کے سب سے بڑے کڑے دور سے گزر رہی تھی۔
اس کا دل چاہا وہ اس سارے ڈرامے کا اختتام اپنی زبان سے کرے لیکن اس کے بولنے کا کوئی فائدہ نہ تھا۔وہ عورت اس سے فوراً ڈبل پیسوں کا مطالبہ کر دیتی یا اسے مزید بدکردار ثابت کر دیتی۔
جو تصاویریں، ویڈیوز یا باتیں وہ ایڈٹ کر کے جن انداز میں پیش کر کے اسے سرِ بازار رسوا کر چکی تھی اس کے بعد وہ سر بھی نہیں اٹھا سکتی تھی زبان کھولنا تو بہت دور کی بات تھی۔
“نکاح شروع کریں؟” ڈاکٹر ارتضیٰ جنہیں ذوالنورین نے ہی کال کر کے بلایا تھا وہ اس ایمرجنسی نکاح جس میں سارے یوں فق چہرے لیے بیٹھے تھے جیسے کسی کی موت ہوئی ہو، میں ڈھیروں تجسس لیے ان کے بظاہر پرسکون سے ابراہیم صاحب کی جانب متوجہ ہوئے جو صوفے پہ کسی لٹے ہوئے مسافر کی مانند بیٹھے تھے۔
“زحلے ابراہیم دختر ابراہیم علی آپ کا نکاح ذوالنورین میر ولد ولید میر سے سکہ رائج الوقت بعوض پچیس لاکھ نقد اور دس تولے سونے حق مہر کے کیا جاتا ہے، کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے؟” مولوی صاحب کی مدہم لیکن فصیح آواز گونجی تو اس کا وجود جیسے اندیکھی قید میں جھکڑنے لگا۔
“آپ کی اداکاری کی تو سزا دینی بنتی ہے نا؟” انتقام اور تنفر سے بھرپور یہ سلگتا ہوا لہجہ سماعتوں میں گونجا تو جیسے ہر آواز دم توڑ گئی تھی۔
مگر جب اپنے نرم ہاتھ پہ ابراہیم صاحب کی گرفت محسوس ہوئی تو وہ ہولے سے سر اثبات میں ہلا گئی۔
اس کے رضامندی دینے کے بعد ذوالنورین سے اس کی رضامندی پوچھی گئی جسے اس نے بنا کسی دقت کے پیش کرتے ہوئے اس لڑکی کو اپنے نکاح میں قبول کیا جسے وہ چند گھنٹے کے لیے اپنی ٹیوٹر کے طور پر بھی برداشت نہیں کر سکتا تھا۔
نکاح کی کاروائی ہوتے ہی سبھی افراد جھٹکے سے اٹھے اور تن فن کرتے ہوئے کمرے سے نکل گئے کیونکہ اس ڈرامے میں شریک ہونا بھی ان کے لیے بے حد مجبوری تھی۔
“کبھی یہ مت سمجھنا کہ میں آپ پہ کسی شک کی بدولت یہ نکاح ایسے کروایا ہے بس میری ٹوٹتی سانسوں کے ڈر نے مجھے احساس دلایا کہ میں آپ کو یوں نام نہاد غیرت مندوں کے بیچ لاوارثوں کی طرح نہیں چھوڑ سکتا اور جہاں تک بات ہے ذوالنورین کی تو امید رکھو وہ آپ کو نقصان نہیں پہنچائے گا کیونکہ زندگی کے ستاون سال گزارنے کے بعد اس دنیا سے اور کچھ تو نہیں حاصل کیا لیکن لوگوں کی آنکھیں اور چہرے پڑنے کا ہنر جانتا ہوں اور اس ہنر سے میں نے اتنا جانا ہے کہ ذوالنورین میر لاکھ برا ہو سکتا ہے لیکن وہ آپ کے نام نہاد بھائیوں جیسا ‘غیرت مند جانور’ نہیں ہو سکتا۔” نکاح کے بعد جب سب کمرے سے نکل گئے اور ذوالنورین ڈاکٹر ارتضیٰ سے باتوں میں مصروف ہوا تو ابراہیم صاحب بہت مدہم سے لہجے میں بمشکل اس سے کہتے چلے گئے جو دم سادھے انہیں تک رہی تھی۔
“بابا آپ کی طبیعت ٹھیک ہے؟” ان کے ماتھے پہ چمکتے پسینے کے قطرے دیکھ کے وہ اپنے غم کو پرے جھٹکتی ہوئی متفکر لہجے میں بولی تو انہوں نے ہولے سے سر اثبات میں ہلایا۔
“میں اپنی بیٹی کو کچھ دیر بننے والے رشتے کی بناء پر یہاں چھوڑ کے جا رہا ہوں۔ اسے کبھی ایسے رشتے بندھنے اور ایسے رخصت ہونے پہ کچھ تلخ مت کہنا کیونکہ میں نے ابھی کچھ دیر قبل اسے یہ امید دلائی ہے کہ ذوالنورین میر برا ہو سکتا ہے لیکن وہ ‘غیرت مند وحشی’ نہیں ہو سکتا۔” صوفے سے اٹھ کر وہ بیڈ کے نزدیک پہنچ کے رسانیت سے گویا ہوئے تو کب سے چہرے پہ سپاٹ تاثرات سجا کے لیٹے ذوالنورین کے خوبصورت پہ زلزلے کے آثار نمایاں ہوئے جبکہ تاثرات بھی تغیر کا شکار ہوئے۔
“اللّٰہ کی امان بیٹا!” شدتِ ضبط سے اسے سینے سے لگا کے وہ تھکے تھکے قدموں سے پلٹے اور کمرے کی دہلیز پار کر گئے۔
“بابا!” جیسے ہی وہ کمرے کی دہلیز پار کر گئے اسے لگا وہ اندر تک خالی ہو گئی ہے اور یہ احساس اسے اس حد تک پل میں ہی کھوکھلا کر گیا کہ وہ بے ساختگی میں دروازے کی جانب بڑھی۔
“ہماری کلاس کا وقت ہو چکا ہے مس ابراہیم، آپ کہاں جا رہی ہیں؟” اس کے آگے بڑھتے قدموں کو عقب سے آتی سرد و پرتپش ملا جلا سا تاثر لیے بھاری آواز نے روکا تو اسے یکلخت ہی بہت کچھ کے ساتھ اپنے وجود میں اٹھتا درد یاد آیا تھا۔
اور یہ یاد اس لمحے بہت سے ان دیکھے ٹانکے ادھیڑتی اس کے رگ و پے میں خوف بھر گئی تھی۔
وہ بمشکل پلٹی اور اس کی جانب دیکھا جو ناقابلِ فہم رنگ لیے اس کی جانب دیکھ رہا تھا۔
وہ اس کی آنکھوں کی وحشت دیکھ کے آگے بڑھنے کی جانب الٹے پاوں پیچھے ہٹنے لگی تو نجانے کیوں وہ بے ساختہ مسکرایا اور پھر یکلخت ہی کھل کے ہنستا چلا گیا۔
اس کے چہرے پہ چھائی اس ہنسی کے رنگ اس قدر دلفریب تھے کہ وہ ہر شے، ہر جذبے، ہر احساس، ہر دکھ درد اور تکلیف کو فراموش کیے یک ٹک اسے دیکھتی ہی چلی گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ملک ہاوس کے اس شاندار بیڈروم کے دروازے کے سامنے کھڑی وہ خود میں ہمت مجتمع کرتی اندر جانے کی سعی میں تھی۔
وہ اس کمرے میں پہلے بھی آتی تھی لیکن اس بار تو گویا قدم کمرے کی دہلیز پار کرنے سے قاصر تھے مگر۔۔۔۔
گہری سانس بھرتے ہوئے اس نے آہستگی سے دستک دیتے ہوئے دروازہ کھولا تو مدہم سی خوشگوار خوشبو نے اس کا استقبال کیا۔
کمرے میں قدم رکھتے ہی اس کی نگاہ ڈریسنگ مرر کے سامنے کھڑی نگاہ پہ گئی جو بالوں میں کیچر لگاتی اسے غیرمتوقع طور پہ یوں کمرے میں دیکھ کے حیران رہ گئی۔
“السلام علیکم!” نگاہ کو اپنی طرف متوجہ دیکھ کے اس نے آہستگی سے سلام کیا تو اس کی آواز پہ نگاہ سنبھلی اور بالوں کو سمیٹ کے اس کی جانب مڑی۔
“وعلیکم السلام!کیسی ہو شہری؟” اپنے مخصوص متبسم لہجے میں استفسار کرتی ہوئی وہ اس کی جانب بڑھی اور پہلے ہی کی طرح اسے اپنے ساتھ لگایا تو کب سے صبر کا دامن تھام کے کھڑی شہرے اس کے کندھے سے لگتے ہی سسک اٹھی۔
“آئم سوری نگاہ چچی، می۔۔میں ایسا کچھ نہیں چاہتی تھی لیکن یہ سب ہو گیا۔” روتے ہوئے وہ ہچکیوں کے بیچ بولی تو اس کی بات سن کے نگاہ کے چہرے کی رنگت بدلی لیکن فوراً ہی اپنے اعصاب پہ کنٹرول پاتے ہوئے اس نے اس کے پونی میں جھکڑے بالوں کو نرمی سے سہلایا۔
“اٹس اوکے شہری، یہ سب یونہی ہونا لکھا تھا اس لیے ہو گیا۔اس میں کسی کا نہ کوئی قصور ہے نہ کسی کا بڑا پن۔” اس کے لہجے کی رسانیت پہ شہرے کو مزید رونا آنے لگا۔
“میں آپ کی شا۔۔شادی کے لیے بہت ایکسائیٹڈ تھی لیکن میں یہ نہیں جانتی تھی کہ آپ کی شادی پہ م۔۔میں ہی ایک بھیانک ت۔۔تحفے کی مانند آپ کو مل جاوں گی۔” اس کی اذیت تھی کہ کم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔
اس کے لیے یہ بات دہری اذیت کا باعث تھی کہ ایک طرف یہ الزام کی صورت میں گلے کا طوق بنتا بندھن اور دوسری جانب نگاہ کے حق میں ڈالنا۔
اور اس جیسی بندی کے لیے دونوں ہی صورتیں بہت تکلیف دہ تھیں۔
“شہری پلیز رو مت۔” نگاہ بے بسی سے بولی، وہ اسے روکنا چاہتی تھی کیونکہ اس کی باتیں اسے واقعی اس کے دکھ کا احساس دلا رہی تھیں اور وہ اس احساس میں کھو کے اپنے کیے گئے فیصلے پہ ڈگمگا نہیں سکتی تھی۔
“آئم سوری میں نے آپ کو پریشان کر دیا مگر میں آپ سے معافی مانگنے کے ساتھ ساتھ آپ کو کچھ کہنے آئی تھی۔” نگاہ کے چپ کروانے پہ وہ سنبھلتی ہوئی اس سے دور ہٹی اور اپنا چہرہ پونچھتی وہ نم لہجے میں بولی تو نگاہ نے استفہامیہ نگاہوں سے اسے دیکھا۔
“کیسی بات؟” اس کے سوال پہ شہرے نے چند لمحے کچھ سوچا اور پھر آہستگی سے لب کھولتے ہوئے اسے جواب دیا تو اس کے جواب پہ نگاہ کو لگا کمرے کی چھت اس پہ آن گری ہو۔
اس کے کہے الفاظ کی بازگشت سے اس کے کان سائیں سائیں کرنے لگے تھے۔
“یہ۔۔یہ کیا کہہ رہی ہو تم شہری؟” اس اچانک دھماکے سے سنبھلنے میں اسے کئی لمحے لگے تھے اور سنبھلتے ہی وہ شاکڈ لہجے میں بولی مگر اس سے پہلے کہ وہ کوئی جواب دیتی دروازے پہ ایک دم سے دستک ہوئی۔
“نگاہ، شہرے آ جاو ناشتہ پہ سب انتظار کر رہے ہیں۔” انیلہ نے دروازہ کھول کے مسکراتے ہوئے انہیں پیغام دیا تو شہرے نگاہ س نظریں چراتی پلٹی اور انیلہ کے پہلو سے ہو کے باہر کی جانب نکل گئی۔
جبکہ اس کے انکشاف کی زد میں شاکڈ ہوئی نگاہ الجھے الجھے انداز میں اپنے سسرالیوں کے ساتھ اپنے پہلے ناشتے کے لیے بڑھ گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“ویسے مسز رہبان!آپ کو نہیں لگتا کہ آپ میرے کپڑوں میں زیادہ پیاری لگتی تھیں؟” آج ان کی شادی کو تقریباً ڈیڑھ ہفتہ گزر چکا تھا اور آج وہ ڈیوٹی سے واپسی پہ اس کے لیے شاپنگ کر کے لایا تھا۔
وگرنہ پہلے اس کے بار بار جتلانے پہ بھی وہ بہت ڈھٹائی سے اسے یہی جواب دیتا کہ وہ اسے اپنے کپڑوں میں دیکھ کے زیادہ اچھا محسوس کرتا ہے۔
“میرا ٹیسٹ اتنا خراب نہیں ہوا جو ایسے برے گمان ذہن میں بنا کے رکھوں گی۔” دوسری جانب سے توقع کے مطابق فوری حملہ داغا گیا تو لیپ ٹاپ گود میں لے کے صوفے پہ بیٹھے ٹانگیں میز پہ پھیلا کے رکھے رہبان نے شریر نگاہوں سے اسے دیکھا۔
جو شاکنگ پنک کلر کی بالکل سادہ پلین شیفون کی ٹخنوں کو چھوتی فراک کے ساتھ ہمرنگ پاجامہ اور دوپٹہ پہنے ڈریسنگ مرر کے سامنے کھڑی اپنے بالوں کے ساتھ کھپ رہی تھی۔
“میں مدد کروں؟” اسے بالوں کے ساتھ الجھے دیکھ کے اسے اس کی روہانسی صورت پہ ترس آیا تو اس نے خدمات پیش کرنے کی کوشش کیں لیکن دوسری جانب وہ تو گویا تڑپ اٹھی تھی۔
“ہرگز نہیں، یہ سب آپ کی ہی مہربانی ہے اور میں مزید آپ کی مہربانیاں افورڈ نہیں کر سکتی ایس پی صاحب۔” وہ تنکتے ہوئے لہجے میں بولی کیونکہ عالمِ وصل میں اس شخص پہ نجانے کیسا طلسم چھایا ہوتا تھا کہ وہ اس کے بالوں کو گرفت میں لیے انہیں اپنے لمس سے مہکاتا الجھا دیا کرتا تھا۔
اور ابھی سے ڈیڑھ گھنٹہ قبل بھی یہی ہوا تھا جب اس شخص نے اس کے بالوں کو حشر بگاڑا تھا۔
“ایسی مہربانیاں ہم بغیر فیس کے کرتے رہتے ہیں اس لیے آپ کے لیے بہتر ہو گا کہ دوپٹہ اوڑھ لیجیے مسز رہبان ورنہ آپ کے وجود پہ سجی اس فراک کی خوبصورتی دیکھ کے خراجِ تحسین پیش کرنے میں ذرا دیر لگائے بغیر ایک عدد مزید ‘مہربانی’ کر دوں گا۔” نگاہیں بظاہر لیپ ٹاپ کی سکرین پہ جمائے وہ اس کی فراک کی فٹنگ میں مقید اس کے نازک وجود کے نشیب و فراز کو بے باک نگاہوں کی زد میں رکھے وہ جس انداز میں بولا آبگینے نے لرز کے فورا سے پہلے لپک کے دوپٹہ اٹھا کے اپنے گرد لپیٹا۔
اس کی قدر پھرتی پہ وہ جو اسے ہی تک رہا تھا وہ ایک دم سے قہقہہ لگا کے ہنس دیا۔
“واللّٰہ!پل بھر میں دل و دماغ بھٹکانے کا جیتا جاگتا سامان ہو آپ۔ادھر آئیں آپ کے سسرالیوں سے آپ کی ‘بے ضابطہ’ سی ملاقات کرواوں آپ کی۔” اس کے وجود کی دلکشی کو گہری نگاہوں سے دیکھتے ہوئے اس نے اسے پاس بلایا تو اس کے انداز پہ جزبز ہوتی آبگینے وہیں کھڑی ہو کے اسے دیکھنے لگی تو رہبان نے زچ ہو کے سکرین اس کی جانب گھمائی تو تسلی ہو جانے کی صورت میں وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی اس کی جانب بڑھی تھی۔
جہاں وہ کال ملنے پہ اب بی جان سے محوِ گفتگو ہو چکا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“جازم چاچو!میں بیگ لے کے آتی ہوں، آفس جانے سے پہلے مجھے کالج چھوڑ دیجیے گا۔” ناشتہ بے حد خاموشی سے کرنے کے بعد جب سب دھیرے دھیرے اپنی منزلوں کی جانب بڑھنے لگے تو وہ کرسی سے اٹھتے جازم کو دیکھ کے جلدی سے بولی۔
کیونکہ اعجاز صاحب(دادا) نے کہا تھا کہ کالج میں اسے کوئی مسئلہ نہیں ہو گا اس لیے اپنے خول میں بند رہنے کی بجائے سب کو فیس کرو تبھی انہوں نے زبردستی اسے آج ہی کالج جانے کے لیے آمادہ کیا تھا۔
اس کی اس اچانک بات پہ چائے کے سپ لیتے ضرغام نے نظر اٹھا کے اسے دیکھا وہ ہمیشہ کی طرح اپنی مخصوص کرسی پہ بیٹھی تھی۔
سب کچھ بظاہر پہلے جیسے ہی تھا لیکن بہت کچھ بدل چکا ہو نا مٹنے کے لیے۔
“شہری جانو!میں تو آفس نہیں بلکہ ایئرپورٹ جا رہا ہوں فرینڈ کو ریسیو کرنے کے لیے۔تم ایسا کرو ضرغام کے ساتھ آ جانا۔” جازم نے اسے دیکھتے ہوئے معذرت کی اور پھر ساتھ ہی نیا مشورہ دیا تو وہ شاکی ہوئی۔
“ضرغام چاچو کا روٹ چینج ہے اور ہمیشہ وہ کالج چھوڑتے ہوئے اتنا برا منہ بناتے ہیں تو اب کیا ضروری ہے کہ میں صبح صبح ان سے اپنی ب۔۔۔۔۔۔” وہ جو تھوڑی دیر کے لیے گفتگو کرتی ہوئی جیسے ہر بات فراموش کر گئی تھی اور جس طرح جازم نے بہت نارملی گفتگو کی تھی وہ بھی بنا غور کیے پہلے ہی کے انداز میں بولتی چلی گئی جب اچانک بلند ہوتے بہت سارے قہقہوں کی آواز پہ اس کی فراٹے بھرتی زبان کو بریک لگا تھا۔
جاری ہے۔
