No Download Link
Rate this Novel
Episode 37
“دل تیرے سنگ جوڑ لیا”
از
حوریہ ملک
Episode#37;
“کیا ہے؟” اس بڑے سے لیکن خالی تاریک کمرے میں اس نے دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کے ٹانگیں آگے کو پھیلاتے اس کی جانب دیکھا جو اس کے ساتھ ہی زمین پہ بیٹھا اسے گھور رہا تھا۔
“تو اس کمینے سفیر سائیں کو جیل تڑوا کے یہاں لانے کے بعد سکون سے یہاں بیٹھنے آیا تھا؟” اس کا اطمینان اس پر گراں گزر رہا تھا۔
“تو اب کیا بھنگڑے ڈالوں؟” وہ بھی جواباً بھنا اٹھا۔
“ہاں ایک یہی کام رہ گیا تھا۔” اس نے نخوت سے کہتے ہوئے اپنا رخ موڑا۔
“دریہ اور آبگینے کو ایک ساتھ نہیں رکھا گیا۔” چند لمحوں کے بعد رہبان کی سنجیدہ آواز ابھری تو ضر نے چہرہ پھیر کے اس کی جانب دیکھا۔
“آبگینے حویلی میں ہے جبکہ دریہ حویلی کے اندر نہیں ہے۔” اس نے جو کچھ پیر سائیں کی باتوں سے اخذ کیا تھا اس کے مطابق بول رہا تھا۔
“تم آبگینے کے پاس جاو، میں دریہ کو سیکیور کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔” ضر نے اس کی پریشانی سمجھتے نرمی بھری سنجیدگی سے کہا تھا۔
“ابھی ہم یہاں سے نہیں نکل سکتے۔” رہبان کی بات پہ ضر کی پیشانی پہ بل پڑے۔
“میں سفیر شاہ کی جیب میں لگائے پین میں مِنی کیمرہ ایڈجسٹ کر چکا ہوں۔ہمیں جب تک ان دونوں کی صحیج لوکیشن نہیں پتہ چلتی ہم نہیں جا سکتے۔” اس نے تفصیل سے بتاتے اپنی کلائی پہ بندھی ڈیجیٹل واچ اس کے سامنے کی جس میں سفیر شاہ تاحال بیہوش پڑا دکھائی دے رہا تھا۔
“ویسے یہ صبح تک ہوش میں تو نہیں آئے گا نا؟” اچانک یاد آنے پہ رہبان نے بغور اسے دیکھا جو اس نیم تاریک کمرے میں اس سے کچھ فاصلے پہ بیٹھا بیزاری سے ادھر ادھر دیکھ رہا تھا۔
“جتنی ڈوز تم نے کہی تھی اس سے ڈبل دے کر لایا ہوں۔صبح تو کیا رات تک بھی ہوش میں نہیں آئے گا۔” ضر کے لہجے میں سفیر شاہ کے لیے نفرت ابل رہی تھی۔
جبکہ رہبان اب خاموشی سے اپنی کلائی پہ بندھی گھڑی پہ نظریں جمائے منتظر بیٹھا تھا۔
۔۔۔۔،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح اس کی آنکھ اپنے معمول کے مطابق فجر کے وقت کھل گئی تھی۔
سب سے پہلے اس نے گردن گھما کے بیڈ پہ دیکھا تو اماں بہت پرسکون نیند لے رہی تھیں۔ان کی جانب سے مطمئن ہو کر وہ واشروم کی جانب بڑھ گئی۔
واشروم سے وضو کر کے آئی اور نماز ادا کرنے لگی،اس نے جب آخری رکعت کے بعد سلام پھیرا تو دیکھا اماں جاگ چکی تھی۔
“یہ۔۔۔وہ کہاں ہے؟” اسے سمجھ نہ آئی کہ آیا یہ استفسار ذوالنورین کے لیے تھا یا اس ملازمہ کے لیے جو انہیں قید میں رکھتی اور ان کی نگرانی کرتی تھی۔
“السلام علیکم!کیسی ہیں آپ؟” ان کا سوال نظرانداز کر کے وہ دعا بعد میں مانگنے کا سوچ کے جائے نماز سے اٹھ کھڑی ہوئی اور چلتی ہوئی ان کے نزدیک آئی جو اب اٹھ کے بیٹھ چکی تھیں۔مگر اجنبی نظروں سے کمرے کے درودیوار کو دیکھ رہی تھیں۔
“وعلیکم السلام!تم۔۔تم بہو ہو نا؟” اس کے کھِلتے ہوئے چہرے کو دیکھتے ان کی نظریں اس کے رخسار پہ مدہم ہوتے سٹچز کے نشانات پہ گئیں۔
“جی!کل آپ ملی تھیں نا اپنے بیٹے سے؟” ان کے پاس بیٹھنے کی بجائے وہ ان سے باتیں کرتی ان کے بال سلجھانے لگی تھی۔
“ہاں، تم اس کی دلہن ہو نا؟” ان کے سوال پہ اس کے ہاتھ بالوں کو سلجھاتے ہوئے ہلکا سا کپکپا اٹھے تھے جبکہ ایک میٹھی سی لہر دل میں دوڑ گئی۔
“جی!” مختصر جواب دیتے بالوں کو بل دینے لگی۔
“مجھے۔۔مجھے واپس جانا ہے، وہ مارتی ہے۔” وہ ابھی تک کمرے سے مانوس نہیں ہو پا رہی تھیں۔تبھی ذہنی رو بھٹکتی ہوئی واپس اسی پوائنٹ پہ سٹک ہو گئی۔
“اب بالکل نہیں مارے گی۔آپ اپنے بیٹے سے کل ملی تھیں نا؟وہ آپ کو کچھ نہیں ہونے دے گا۔” اس نے ان کے بال اچھے سے سمیٹ کے نرمی سے انہیں تسلی دی تو وہ خالی خالی مگر خوف کی پرچھائیوں سے مزین نظروں سے اسے دیکھنے لگیں۔
“تم میرے پاس رہو گی نا؟” ان کے کمزور لہجے میں اک امید، آس اور یقین تھا۔
“میں آپ کے ساتھ ہی ہوں پر وقت اماں۔آپ کو انشاءاللّٰہ کچھ نہیں ہو گا۔” شازمین میر کی اس سنگدلی پہ وہ اندر تک اذیت کا شکار ہوئی تھی کہ ایسی کیا دشمنی تھی اس کی کلثوم میر سے جو ان کے ساتھ اس حد تک ظلم اور بربریت کا مظاہرہ کر رہی تھی۔
“تم نے چوڑیاں اتار دیں۔” وہ ان کے ہاتھ تھامے سہلا رہی تھی جب ان کی نظر اس کی سونی کلائیوں پہ پڑی تو بول اٹھیں۔
“و۔۔وہ رات میں بازو نیچے آنے سے ٹوٹ جاتی ہیں نا۔ابھی پہن لوں گی۔” اس نے فورا سنبھلتے ہوئے انہیں تشفی کروائی اور پھر بمشکل انہیں تھام کے واشروم تک لے کے گئی اور ان کا ہاتھ منہ دھلوا کے ان کو چینج کروایا۔
“آپ یہاں بیٹھیں۔میں آپ کے لیے ناشتہ بھی لاتی ہوں اور چوڑیاں بھی پہن کے آتی ہوں۔ٹھیک ہے نا؟” ان کو اچھے سے تیار کر کے ان کو بیڈ کراون کے ساتھ ٹیک لگوا کے بٹھایا اور کمفرٹر ان کی ٹانگوں پہ پھیلا کر خود کمرے کا ملحقہ دروازہ کھول کر اس کمرے میں داخل ہوئی جہاں وہ گزشتہ کچھ مہینوں سے رہ رہی تھی۔
دروازہ ہولے سے وا کر کے اس نے کمرے میں قدم رکھا تو کمرہ تاحال نیم تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا کیونکہ ابھی سات بجے تھے اور کمرے کا مکین سو رہا تھا۔
کھڑکیوں پہ بھاری پردے موجود تھے تبھی صبح کے آثار تاحال کمرے میں نمودار نہ ہوئے تھے۔
بڑے محتاط قدم اٹھاتی وہ اسی ملگجی سے روشنی میں ڈریسنگ مرر کی جانب بڑھی تھی۔
اس نے ابھی ہاتھ پہلی دراز پہ رکھا ہی تھا جب ایک دم سے ساکت ہوئی تھی۔
“مس ابراہیم!” نیند کے خمار میں ڈوبی بھاری مگر دلکش آواز اس پہ ایسا اندازِ تخاطب، اسے لگا اس کا دل اچھل کے حلق میں آن اٹکا ہو جیسے۔
اس نے بغیر مڑے گردن گھما کے بیڈ کی جانب دیکھا جہاں وہ ہنوز کمبل میں منہ سر لپیٹے پڑا ہوا تھا۔
چند لمحے اسے یونہی تکنے کے بعد اسے محسوس ہوا کہ شاید وہ پکار اس کا وہم ہو تبھی سر جھٹکتی وہ دھڑکتے دل کے ساتھ واپس دراز کی جانب متوجہ ہوئی مگر چوڑیوں کو ہاتھ لگاتے اس کے ہاتھ اسی زاویے پہ تھم گئے۔
“مس ابراہیم!” اب کی بار آواز کی خماری بہت واضح تھی۔اسی پل اس کے لائٹ جلانے سے کمرہ ایک دم سے جگمگا اٹھا تھا۔
اس نے یونہی گردن گھمائے بیڈ کی جانب دیکھا تو وہ یونہی بیڈ کمبل سے چہرہ نکالے دلکش سنہری آنکھوں میں نیند کا خمار لیے ہلکی سی سرخ ہوتی آنکھوں سے اسے دیکھ رہا تھا۔
اس کی آنکھوں کی دلکشی میں ڈوبی وہ لاشعوری طور پہ ساکت سی اس کی آنکھوں کو دیکھے جا رہی تھی جب اس کی گھمبیر آواز پہ ہوش میں آئی۔
“یہاں آئیں۔” وہ جو ٹکٹکی باندھے اسے تک رہی تھی اس کے غیرمتوقع پکار پہ دم بخود رہ گئی۔
اس کے دوبارہ بلاوے پہ وہ مرے مرے قدم اٹھاتی بیڈ کے نزدیک جا کھڑی ہوئی۔
“مما کیسی ہیں؟” ایک بھرپور نظر لائٹ براون کلر کے سوٹ میں ملبوس زحلے میں ڈالتے وہ سیدھا ہوا سرہانے کے ساتھ ٹیک لگا کے بیٹھا۔
“ٹھیک ہیں۔جاگ رہی ہیں۔” اس نے فوری طور پہ ساتھ ہی آگاہ کر دیا تاکہ وہ لیٹ ہرگز نہ کرے جبکہ اس کے جواب پہ اس کی دلکش آنکھیں پل بھر کے لیے جگمگا سی گئیں۔
“مما کو خوش کرنے کی مکمل کوشش کر رہی ہیں آپ لیکن وہ اچھے سے تبھی خوش ہوں گی جب آپ ان کے بیٹے کو خوش رکھیں گی۔” وہ جو پوری رات اس کی غیرموجودگی کے باعث کروٹ پہ کروٹ بدلتا بے چین رہا تھا اسے یوں آنکھ کھولتے ہی سامنے پا کے جان بوجھ کے بات کو طول دینا لگا۔
“آپ کی خوشی کس میں ہے؟” اس کی بات پہ اس نے پل بھر کے لیے پلکیں اٹھا کے اس کی جانب دیکھا لیکن آنکھوں کے گہرے ارتکاز نے دوبارہ پلکیں جھکانے پہ مجبور کر دیا۔
“یہاں بیٹھیں۔” اس کے گھمبیر لہجے میں دیے گئے جواب پہ اس کی جھکی پلکیں بے یقینی سے اوپر اٹھتیں اس کی جانب گئیں۔
جو اپنے بے حد نزدیک بیڈ کی جانب اشارہ کرتا اسے بیٹھنے کو کہہ رہا تھا۔
“آں۔۔وہ نہیں۔میرا مطلب ہے کہ مجھے اماں کے لیے ناشتہ تیار کرنا ہے۔” اس نے فوراً بوکھلاتے ہوئے انکار کیا اور لاشعوری طور پر ایک قدم پیچھے ہٹی۔
“اور جہاں تک آپ کی خوشی کی بات ہے، آپ کی اماں آپ کو مل گئی ہیں۔دو ہفتے بعد آپ کے ایگزامز ہیں۔پھر میں یہاں سے چلی جاوں گی تو آپ کو مکمل خوشی مل جائے گی۔آپ بس مزید دو ہفتے انتظار کر لیں۔” تیز تیز بولتی وہ واپس پلٹنے لگی جب ایک جھٹکے سے اس کے کلائی تھامنے پہ رکی۔
تھم تھم کے چلتے دل کے ساتھ اسے اپنی ساری جان کلائی میں سمٹتی محسوس ہوئی۔اس میں اس پل اپنا ہاتھ چھڑانے کی ہمت مفقود ہو رہی تھی۔
“میرا برتھڈے ہے آج، اماں کی طرح پیار سے وش کر کے مجھے خوش کریں۔” اس کی ساری باتوں کو بڑی سہولت سے نظرانداز کرتے اس نے اپنی کلائی کو جھٹکا دیا تو وہ لچکیلی ڈال کی مانند اس کے اوپر جا گری۔
“یااللّٰہ!” بہت زوردار طریقے سے اس کے کشادہ سینے سے ٹکرانے پہ اس کے ہونٹوں سے بے ساختہ نکلا تو اس کے اس انداز پہ اسے اپنا دل اپنے اختیار سے باہر ہوتا محسوس ہوا۔
جبکہ اس کے سینے پہ لگی زحلے کو لگا جیسے وہ چند پل یونہی اس پر پڑی رہی تو دم نکل جائے گا تبھی فوراً منتشر ہوتی دھڑکنوں کو تھامتی مزاحمت پہ آمادہ ہوئی۔
“یہ کک۔۔کیا طریقہ ہے؟ اماں ناشتے ک۔۔۔۔۔” اس کے سینے پہ دونوں ہاتھ جماتے اس نے اٹھنے کی کوشش کی لیکن اس نے دایاں بازو اس کی کمر کے گرد ڈالتے ہلکا سا دباو ڈالا تو اس کے لمس کی اس جسارت پہ وہ دم سادھ گئی۔
“اپنی اماں کے بیٹے کو اماں کے انداز میں ہی پیار سے وش کریں۔” اس کے چہرے کے ملائم نقوش کو نظروں سے چھوتے ہوئے وہ بھاری لہجے میں گویا ہوا تو اسے اپنا دل کنپٹی میں دھڑکتا محسوس ہوا۔
“سالگ۔۔۔۔۔۔” بہت سارے الفاظ، ڈھیر ساری ہمت و حوصلہ یکجا کرتے اس نے لب کشائی کرنی چاہی جب اس نے بائیں ہاتھ کی انگلی اس کے گلابی ہونٹوں پہ جمائی۔
“میں نے کہا اماں کی طرح پیار سے وش کریں۔” اس کے گھمبیر لہجے میں عجیب سی حدت چھلک دکھلا رہی تھی جو اسے پگھلائے جانے کو تھی۔
وہ جو پہلی ہی گلابی ڈوروں سے سجی ان دلکش سنہری آنکھوں میں بار بار کھو رہی تھی۔اس کے اصرار پہ نجانے کس بے اختیاری کے ہاتھوں بہکتے ہوئے اس نے ہولے سے اپنا سر اٹھا کے سرپٹ بھاگتے دل کے ساتھ اس کی بائیں آنکھ کے کنارے پہ ہولے سے کپکپاتے ہوئے لب رکھے۔
“سالگرہ مبارک ہو، خداوند تعالیٰ ہر نیک تمنا اور مقصد پورا کرے آمین۔” بہت مختصر اور سادہ آواز میں کہتی وہ پیچھے ہٹنے کو تھی جب اس کی اس جسارت پہ ہق دق لیٹے ذوالنورین نے اس کی کمر کے گرد گرفت مضبوط کرتے اسے اپنی طرف کھینچا تو وہ ایک جھٹکے سے اس کے مضبوط سینے سے ٹکرائی تھی۔
اس انتہاوں کو چھونے والی قربت اور اپنی کی گئی گستاخی پہ زحلے کو لگا کہ اس کی سانس تھمنے لگا ہو جیسے۔
اس سے قبل کے وہ کچھ کر پاتی یا کہہ پاتی اس نے کروٹ بدلتے ہوئے اسے بیڈ پہ لٹاتے خود اس پہ سایہ فگن ہوتا اس کے کپکپاتے گلابی ہونٹوں کو ان کی ایسی دلفریب جسارت پر انعام دینے لگا۔
جبکہ زحلے جو اپنی بے اختیاری پہ شرم سے ڈوب مرنے کو تھی اس کے ایسے منہ زور اور پرشدت لمس پر اس کی سانسیں منتشر ہوئیں جبکہ جسم میں خون کی گردن یکلخت تیز ہو گئی۔
لمحہ بہ لمحہ اس کے ہونٹوں کی بڑھتی شدت سے گھبراتے اس نے بے اختیار اپنے بازو اس کی گردن کے گرد لپیٹے تو ذوالنورین کی گرفت مزید بڑھی تھی جس کے سبب اس کی سانسیں اکھڑنے لگیں۔
وہ جو بے خود ہوا اس کی سانسوں کا جام خود میں انڈیلتے ہوئے اپنے سلگتے دل کو تسکین پہنچا رہا تھا اس کی مدہم ہوتی سانسوں کی وجہ سے پیچھے ہوا تو وہ آنکھیں موندے گہری سانسیں لیتی اپنی تنفس بحال کرنے کی کوشش کرنے لگی۔
اس کے کپکپاتے نم ہونٹوں سے ہوتی اس کی سرخ ڈوروں سے سجی خمار آلود آنکھیں صراحی دار گردن اور پھر اس پہ سجے نیلے موتی تک گئیں تو آنکھوں میں چھائی خماری مزید بڑھ گئی۔
ایک نظر اسے دیکھ کر وہ جھکا اور اب کی بار نشانہ اس کی گردن کو بنایا تو وہ کپکپا اٹھی اور تیزی سے اپنے ناخن اس کی گردن میں کھبوتے خود کو ایک نامحسوس سا سہارا دینے کی کوشش کی جبکہ اس کی حرکت سے بے نیاز بنا اور دیوانہ وار اس کی گردن کو اپنے لمس سے دہکاتا جیسے ہر حد پار کر دینے کو تھا۔
“ذ۔۔زوالن۔۔۔اللّٰہ!” دونوں ہاتھ اس کی گردن میں ڈالے اس نے اس کی شدتوں سے گھبراتے اسے متوجہ کرنے کی کوشش کی جب اس کو اپنی شہہ رگ پہ سلگتے ہوئے لبوں کا پرشدت لمس سجاتے محسوس کر کے چکرا سی گئی۔
“پ۔۔پیچھے ہٹو پلیز۔۔ام۔۔اماں آ ج۔۔جائیں گی۔” وہ کچھ ہی دیر میں اسے اس حد تک بکھیر چکا تھا کہ نا بولنے کی ہمت رہی تھی نہ مزاحمت کرنے کی سکت باقی رہی تھی۔
“میں نے اماں کے بیٹے کو خوش کرنے کے لیے بولا تھا لیکن اتنا خوش کرنے کے لیے نہیں۔آج کے بعد جوابی کاروائی برداشت کرنے کی ہمت نہ ہوئی تو اس طرح سے سالگرہ وِش نہ کیجیے گا۔میں ہر بار مہلت نہیں دیا کرتا۔” اس کے کپکپاتے نازک سراپے پہ ایک بے باک مگر بھرپور نگاہ ڈالتے وہ اس کے اپنی ہی لمس کی شدت سے سرخ نشانات سے سجی گردن اور چہرے کو مخمور نگاہوں سے دیکھتا بھاری لہجے میں بولا تو زحلے کی کانوں سے گویا دھواں نکلنے لگا تھا اور چہرہ گویا لہو چھلکانے لگا ہو۔
اس کے خوبصورت چہرے پہ چھائی شرم کی سرخی اس قدر دلکش لگ رہی تھی کہ وہ ایک بار پھر بے خودی سے اس کے چہرے پہ جھکتا اس کے چھکے چھڑا گیا۔
“پ۔۔پلیز۔۔۔۔۔۔۔” اس نے بے ساختہ اسے پکارا جو نجانے آج اپنا تنفر چھپائے کیونکر صبح ہی صبح اس کے ہوش ٹھکانے لگا رہا تھا۔
“وہ۔۔۔وہ نہیں آئی ابھی۔” وہ جو عالمِ مدہوشی میں ڈوبا اس کے چہرے پہ پھول کھلا رہا تھا۔اماں کی آواز پہ جیسے ایک جھٹکے سے ہوش میں آیا۔
وہ اس کے اور اپنے کمرے کے ملحقہ دروازے میں کھڑی اس سے اُس کے بابت دریافت کرنے لگیں جو اس کے چوڑے وجود کے حصار میں مقید بیڈ میں پڑی اس زاویے سے ان کی نظروں سے اس پل اوجھل تھی۔
جبکہ اماں کی آواز پہ زحلے کا رنگ فق ہو گیا۔
اس نے اپنے ہاتھ اس کی گردن کے گرد سے کھینچتے ہوئے اپنی پوری ہمت مجتمع کرتے اسے سائیڈ پہ کیا اور خود سیدھی ہوتی سرعت سے بیڈ سے اٹھنے لگی لیکن ٹانگیں اس پل یوں کپکپا رہی تھیں کہ وہ بیڈ سے اٹھ نہ سکی۔
“وہ۔۔۔وہ می۔میں میرا مطلب کہ مجھے ن۔۔نیند آ گئی ت۔۔تھی۔میں ابھی آپ کے لیے ن۔۔ناشتہ لے کے آتی ہوں۔” اپنے دوپٹے کا ایک پلو کندھے پہ جمائے وہ بکھرے بالوں، کپکپاتے نم ہونٹوں، شرم اور سبکی سے جھکی آنکھوں اور سلگتی گردن کے ساتھ بمشکل لفظوں کو ادا کر پائی تھی۔
جبکہ وہ چپ چاپ نیم دراز ان ساس بہو کو دیکھ رہا تھا۔
“اِس نے مارا ہے تمہیں؟” اس کی حالت کو دیکھتے اماں نے جس انداز میں پوچھا زحلے کا دل چاہا وہ کہیں شرم سے ڈوب مرے جبکہ ذوالنورین کے ہونٹوں پہ بڑی جاندار سی مسکان پھیلی تھی۔
اس نے اپنے نیچے دبے اس کے آدھے دوپٹے کو نکال کے اس کے سر پہ پھیلایا اور پھر یونہی لیٹے لیٹے اس کا ہاتھ تھام کے اسے سہارا دیا تو وہ ان دونوں سے نظریں ملائے بغیر اس کے اوپر سے ہوتی بیڈ سے نیچے اتر گئی۔
“مم۔۔میں آتی ہوں۔” اماں سے کہتی وہ تیزی سے واشروم کی جانب بڑھ گئی۔
“اماں!سالگرہ ہے آج میری، مجھے وِش کر کے دعا نہیں دو گی؟” اپنی حالت سے مجبور اس نے وہیں نیم دراز ہوئے ماں کو پکارا جو اس کی آواز پہ چونکی تھیں اور پھر کچھ سوچتے بول اٹھیں۔
“اُس نے سالگرہ وِش کی تمہیں؟” اماں کے اس سوال پہ اس کا بلند قہقہہ کمرے کی فضا کو مہکا گیا۔
“اس نے بڑے جرات مندانہ انداز میں وش کی ہے اور اسے انعام بھی دیا ہے اماں۔آپ آئیں اور میرا ماتھا چومیں۔” بلند آواز میں کہتا وہ واشروم کے بند دروازے کے ساتھ کھڑی زحلے کا دل ایک دفعہ پھر سے دھڑکا گیا۔
جبکہ اس کے اصرار پہ اماں اب اس کے بیڈ کی جانب بڑھ رہی تھی اور اندر وہ بار بار اپنا منہ دھوتی اس کے اس نئے روپ سے خائف ہوئی جا رہی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنا سیاہ رومال چہرے پہ باندھے وہ دونوں بہت خاموشی اور احتیاط سے آگے بڑھ رہے تھے جب ایک دم سے کتے بھونکنے کی آواز پہ ضرغام بھنا اٹھا۔
“اب تمہارے اس ‘سسرالی’ کو کیا موت پڑ گئی ہے؟” اس کے جلتے بھنتے انداز پہ رہبان نے کھا جانے والی نگاہوں سے اسے دیکھا۔
“تمہاری خوبصورتی کی تعریف کر رہا ہے۔” اس نے بھی جواباً اینٹ کا جواب پتھر سے دیا اور قدم آگے بڑھائے۔
“میں اندر جا رہا ہوں۔تم اس طرف جاو۔” اس نے آہستگی سے اسے ہدایت دی اور خود قدم حویلی کے داخلی دروازے کی جانب بڑھائے۔
وہ جانتا تھا کہ آج بخت خان پہنچنے والا ہے اس لیے سب مرد مردان خانے پہنچ چکے تھے اور یہی وقت تھا ان کے پاس آر یا پار کرنے کے لیے۔
وہ ہاتھ میں پسٹل لیے آگے بڑھ رہا تھا جب سامنے سے آتی زارا نے جب کسی اجنبی کو حویلی میں یوں دیکھا تو اس کے ہونٹوں سے بڑی واشگاف سی چیخ نکلی۔
لیکن رہبان نے سرعت سے رومال نیچے کھینچا تو اس کے چہرے کو دیکھ کر اس کا منہ فوراً بند ہوا۔
“رہبان گردیزی؟آپ یہاں کیسے؟ اور وہ بھی اس طرح؟” وہ آبگینے کی شادی کی سب سے بڑی حمایتی تھی تبھی رہبان کو دیکھ کر فوراً سنبھلتی ہوئی گویا ہوئی تھی۔
“اس طرح آمد کے لیے معذرت خواہ ہوں لیکن آپ کے پیر سائیں آبگینے اور میری بہن کو کڈنیپ کر لائے ہیں تو بس ان کی آزادی کے لیے آیا ہوں۔” بنا لگی لپٹی کیے اس نے وجہ بیان کی تو اسے جیسے دھچکا سا لگا۔
“آبی حویلی میں ہے؟” اس کے لہجے کی بے یقینی پہ رہبان نے تاسف سے سر ہلاتے قدم دائیں جانب بڑھائے اور ششدر کھڑی زارا کو نظرانداز کرتا اپنی مسز کی تلاش میں بڑھ گیا۔
“آبی کی مدر کا کمرہ کس طرف ہے؟” کسی خیال کے تحت اس نے پلٹ کے کسی بت کی مانند ایستادہ زارا سے پوچھا تو اس نے بنا بولے ہاتھ سے اشارے کیا۔
اس کی نشاندہی پہ وہ وقت ضائع کیے بغیر آگے بڑھا اور کمرے کا دروازہ کھول دیا۔
دروازہ کھولتے ہی پہلی نظر اس پہ پڑی جو بیڈ پہ لیٹی گویا صدیوں کی بیمار لگ رہی تھی۔اس کو دیکھ کر وہ تڑپ کے آگے بڑھا اور کمرے کے ایک کونے میں جائے نماز پہ بیٹھی اپنی ساس کو فراموش کیے، اس کے نازک وجود کو اپنی بانہوں میں سمیٹتا دیوانہ وار اس کا چہرہ چومنے لگا۔
“آئی مسڈ یو سو مچ میری جان، آئی مسڈ یو آلاٹ۔” اس کے چہرے کے ایک ایک نقش کو چومتے ہوئے وہ گلوگیر آواز میں بولتا وہ اس کے آنسووں کو تیز تر کر گیا۔
“م۔۔میں ڈر گئی تھی۔مجھے۔۔مجھے لگا اب میں آپ کو نہیں دیکھ سکوں گی۔” اس کی شرٹ کو زور سے مٹھیوں میں دبوچے وہ سسکیاں بھرتی ہوئی اپنے جذبات و احساسات کا واضح اظہار کر رہی تھی۔
“شش،میں یہاں ہوں آپ کے پاس ہمیشہ کے لیے۔” اس کے سسکتے وجود کو اپنے بازووں میں سمیٹتا وہ بھاری لہجے میں بولا۔
“چ۔۔چلیں یہاں سے پلیز۔مجھے۔۔مجھے واپس جانا ہے گھر۔” وہ ان سب کی باتوں سے بے حد خوفزد ہو چکی تھی اسے بس اپنے ہونے والے بچے کی فکر تھی۔
جس کو وہ اپنے خون سے سینچ رہی تھی۔جس کی دھڑکن اس کے سنگ چلتی تھی۔
“اٹھو اور اب رونا بالکل نہیں۔” اس کے آنسو لبوں سے چنتے ہوئے اس نے اسے سہارا دیا جس کا چہرہ اس کے چند لمحوں کی قربت پہ گلابی مائل ہو رہا تھا۔
اسے کھڑا کرتے اس کی نظر اماں پر پڑی تو لحظہ بھر کے لیے گڑبڑا سا گیا لیکن پھر سنبھلتے ہوئے انہیں سلام کیا۔
“تم یہاں کیا کر رہے ہو؟” وہ ابھی اماں سے مزید کچھ کہنا چاہتا ہی تھا کہ عقب سے آتی برودت بھری آواز نے کمرے کے سبھی مکینوں کو منجمند کر دیا۔
جاری ہے۔
