57.1K
55

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 48

“دل تیرے سنگ جوڑ لیا”
از
حوریہ ملک
Episode#48;

اس نے یونہی ایک بازو کے حلقے میں نگاہ کو سمیٹے دوسرا ہاتھ بڑھا کے گنگناتا ہوا موبائل تھاما اور کال آن کر کے موبائل کان سے لگایا۔

“السلام علیکم!”

“وعلیکم السلام!نوشے میاں اگر تمہارا رومانس ختم ہو چکا ہو تو دروازہ کھولنے کی زحمت کرو گے؟” دوسری جانب اس کی جلی کٹی آواز سن کے وہ چونک اٹھا۔

“دروازہ؟کہاں ہو تم؟” نگاہ پہ گرفت ڈھیلی کرتے ہوئے اس نے استفسار کیا تو نگاہ بھی اٹھ کر بیٹھ گئی۔

“تمہارے اپارٹمنٹ کے باہر کھڑے ہیں۔” رہبان کے جواب پہ اس نے اچنبھے سے دیوار پہ ٹنگی گھڑی کی طرف دیکھا جو صبح کے ساڑھے نو بجا رہی تھی۔

“اپارٹمنٹ کے باہر کیوں کھڑا ہے؟وہ بھی اتنی صبح صبح؟” بیڈ سے نیچے اترتے وہ حیرانگی سے بول رہا تھا جب دوسری جانب وہ تپ اٹھا تھا۔

“کمینہ انسان! تیرے نکاح کو چوبیس گھنٹے بھی نہیں گزرے اور تمہیں ہمارا آنا ناگزیر لگ رہا ہے۔” رہبان کی بلبلاتی آواز پہ اس نے گڑبڑاتے ہوئے کال بند کی اور نگاہ کی سمت دیکھا۔
جو ان کی باتیں سن کر دبا دبا سا مسکرا رہی تھی۔

“میں ایویں صبح سے خوار ہو رہی تھی۔ایک عدد فون کال رہبان کی کر دیتی تو تم سیدھے ہو جاتے۔” رہبان اور ذوالنورین کی لفظی بم باری اتنی سٹرانگ ہوتی تھی کہ وہ لوگ دامن بچانے کی کوشش کرتے تھے۔
تبھی وہ شرارت سے بول اٹھی۔

“اس بات کا جواب آج رات کو دوں گا۔فی الحال تم فریش ہو کے باہر آ جاو۔” تیزی سے شرٹ کے بٹن لگاتا وہ باہر کی جانب بڑھا جبکہ وہ اٹھ کے ڈریسنگ مرر کی جانب بڑھی۔
کہ فریش وہ کچھ دیر قبل ہو چکی تھی۔اس وقت سونے کی کوشش میں تھی جسے پہلے نین اور اب رہبان نے ملیامیٹ کر دیا تھا۔

دروازہ کھولنے پر نک سک سا تیار رہبان ہاتھوں میں کچھ پیکٹس تھامے خونخوار نگاہوں سے اسے گھور رہا تھا جبکہ رہبان کے پہلو میں کھڑی آبگینے اپنے قدرے بھاری ہوتے وجود کو مہرون رنگ کے خوبصورت سوٹ پر سکن رنگ کی بڑی سی چادر اوڑھے چھپائے ہوئے تھی۔

“اپنی گندی شکل گم کرو میرے سامنے سے۔” اسے سامنے سے پرے دھکیلتا رہبان اندر داخل ہوا اور سیدھا کچن کی جانب چل دیا۔

“اتنا بھاو کس خوشی میں دکھا رہے ہو؟خود اپنی شادی کے بعد غائب ہو گئے تھے کہ کوئی ڈسٹرب نہ کرے اور یہاں ہمیں تیور دکھا رہے ہو؟” اس کے انداز ملاحظہ کرتے اب کی بار نین نے بھی کمر کس لی۔
تو وہیں لاونج میں صوفے پہ براجمان ہوتی آبگینے اس کی بات پہ جھینپ سی گئی۔

“خبردار!مجھ پر ایسا کسی بھی قسم کا اٹیک کرنے کی کوشش مت کرنا۔میری بیوی پہلے ہی مجھ سے ناراض ہے۔” بنا نین یا آبگینے کو اندر بلائے وہ سکون سے کچن شیلف کے سامنے کھڑا اپنے ساتھ لایا ہوا ناشتہ برتنوں میں نکالتے ہوئے اپنی زبان بھی چلا رہا تھا۔
جبکہ آبگینے نے اس کی اس بے پر کی بات پہ کڑے تیوروں سے اس کی پشت کو گھورا۔
جو شاید نہیں یقیناً اس دن کا حوالہ دے رہا تھا جب طلال ان کے ہاں آیا تھا اور تب سے اب تک وہ واقعی اس سے منہ بنائے ہوئے تھی۔

“میں بھابھی کی سپورٹ میں ہوں۔تیرے جیسے انسان سے شادی کے بعد تم سے بچنے کا واحد ایک یہی راستہ ہے۔” نین نے آبگینے کی طرف دیکھتے ہوئے گویا اس کی مزید ہمت بندھائی تھی۔
اسی لمحے گلابی اور نیلے رنگ کے خوبصورت و دیدہ زیب سوٹ میں ملبوس نگاہ کمرے سے باہر نکلی تو آبگینے اس سے ملنے لگی اور مبارک باد دینے لگی۔

“راہی!تمہاری بیوی بہت پیاری ہے۔” آبگینے کے پھولے مومی رخساروں پہ پیار کرتی نگاہ نے اس بے ساختہ انداز میں اس کی تعریف کی کہ وہ بے اختیار بلش کر اٹھی۔

“وہ سب تو ٹھیک یے لیکن یہ تعریف کرنے کا وقت بالکل ٹھیک نہیں یے۔میری جوابی تائید میری بیوی تم لوگوں کی موجودگی میں اچھی محسوس نہیں کرے گی۔” بنا مڑے اس کے بھاری لہجے میں دیے گئے جواب پہ آبگینے کے کانوں سے گویا دھواں نکلنے لگا۔
اس پہ مستزاد نگاہ اور نین کی دبی دبی مسکان نے اسے مزید خجل سا کر دیا تھا۔
اس کی جھجھک اور خجالت محسوس کر کے وہ دونوں اس سے ہلکی پھلکی گفتگو کرنے لگے تاکہ وہ ریلیکس ہو جائے۔

“آ جائیں نیو ویڈ برڈز، آپ کا ناشتہ تیار ہے۔” کچھ منٹوں بعد اس نے بلند آواز میں ہانک لگائی تو آبگینے ان سے پہلے اٹھی اور اس کے ساتھ مل کر میز پہ برتن سجانے لگی تب تک وہ بھی ڈائیننگ ٹیبل پہ پہنچ گئے۔

“تھینک یو سو مچ راہی۔” کرسی پہ بیٹھنے کی بجائے نگاہ بہت ساری کیفیات سے ہمکنار ہوتی نم آنکھوں کے ساتھ رہبان کے کندھے سے لگی بولی تو رہبان نے اس کے گرد بازو پھیلاتے ہوئے محبت سے اس کا سر تھپتھپایا۔

“اب اگر تم مزید کچھ سیکنڈ یوں فارمیلیٹی نبھانے کے لیے روتی رہی تو اتنے سالوں کی دوستی بھاڑ میں جھونک دوں گا۔ڈونٹ بی ایموشنل ڈیئر، تم صرف ہماری دوست نہیں بلکہ بہت کچھ ہو۔ایسے میں کچھ الٹا سیدھا سوچنے یا فارمل ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔” حالات کے پیشِ نظر ان کا نکاح بہت رازداری سے ہوا تھا۔
ایسے میں معمول کی رسموں کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ایسے میں ضرغام نے رہبان کو کہا تھا کہ وہ نگاہ کے لیے ناشتہ لے کر ضرور جائے تاکہ وہ کسی قسم کی کمی کو محسوس نہ کر سکے۔

“اب پلیز یار مجھ سے دور ہٹ جاو۔تمہارے شوہر کی خیر ہے لیکن میری مسز سے مجھے بہت ڈر لگتا ہے۔” جب چاہنے کے باوجود بھی وہ اپنے آنسووں پہ قابو نہ رکھ پائی تو رہبان نے اب کی بار دانستاً ہلکے پھلکے الفاظ کا استعمال کیا جسے سن کے وہ تینوں بیک وقت اپنی جگہ پہ گڑبڑا اٹھے۔

“ایک نمبر کے ڈیش انسان ہو تم۔دعا ہے کہ تمہاری اولاد تم پہ ہرگز نہ جائے۔” نین نے چڑتے ہوئے ایک دھموکا اس کے کندھے پہ رسید کیا اور نگاہ کا ہاتھ تھام کے اسے اپنے ساتھ بٹھایا۔
جبکہ رہبان آبگینے کے ساتھ بیٹھ کے ناشتہ کرنے لگا۔

“میں ناشتے کے بعد کچھ دیر کے لیے ہاسپٹل جاوں گا۔تب تک تم بھی پولیس اسٹیشن پہنچو میں پھر تم سے وہیں آ کے ملوں گا۔” ناشتہ کرتے ہوئے اچانک اسے یاد آیا تو وہ رہبان سے گویا ہوا تھا۔

“آج کا دن ریلیکس کرو تم۔” رہبان نے اسے منع کرنا چاہا جبکہ دونوں خواتین خاموشی سے انہیں باتیں کرتے ہوئے دیکھ رہی تھیں۔

“اونہوں!دشمن الرٹ ہو چکا ہے اور ناصرف الرٹ ہوا ہے بلکہ متحد بھی ہوا ہے اس لیے ہم ضائع کرنے کا رسک نہیں لے سکتے ہیں۔” نین نے اس کی بات کی تردید کی تو نگاہ نے فوراً اثبات میں سر ہلایا۔

“نین ٹھیک کہہ رہا ہے۔یہ سب ختم ہو جائے تو سارے دن ہمارے ہی ہیں۔اور میرے لیے فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔میں ٹھیک ہوں اور بیفکر ہو کے رہ سکتی ہوں یہاں۔” نگاہ نے ان دونوں کو پرسکون کرنے کے لیے تو آبگینے ایک دم سے بول اٹھی۔

“آپ ہمارے ساتھ ہمارے گھر چلی آئیں۔جب تک نین بھائی واپس نہیں آتے آپ پرسکون ہو کہ وہاں رک جائیں۔” اس نے اپنے مخصوص نرم لہجے میں اسے کہا تو اس نے تذبذب کے عالم میں نین کو دیکھا جس نے مسکرا کے اسے گویا اجازت دی تھی۔

“نین!مجھے طلال شاہ کی ہر قسم کی سرگرمیوں کے متعلق انفارمیشن چاہیے۔” ناشتے سے فارغ ہونے کے بعد اپنی اپنی تیاری کے بعد سب نکلنے کی پوزیشن میں تھے جب رہبان اچانک سنجیدگی سے گویا ہوا تو وہ تینوں بیک وقت ٹھٹھکے تھے۔

“کیا مطلب؟” نین کی نگاہوں میں الجھن سی اتری۔

“وہ دریہ سے شادی کرنا چاہتا ہے۔” اس نے ایک فقرے کے ذریعے اسے بہت کچھ باور کرواتے ہوئے قدم باہر کی جانب بڑھائے تھے۔
نگاہ اور آبگینے رہبان کے ساتھ جبکہ نین اپنی الگ گاڑی میں سوار ہو چکا تھا۔

“تم کس چیز کی تسلی چاہتے ہو طلال کے متعلق؟” گاڑی میں بیٹھی نگاہ نے اچانک استفسار کیا تو آبگینے لاشعوری طور پر اس کی سمت پوری جان سے متوجہ ہوئی تھی۔

“محترمہ نگاہ ذوالقرنین صاحبہ!میں ‘پیر حویلی’ کی ایسی لڑکی کو بیاہ کے لے آیا ہوں جو ان کی رسم کی وارث تھی۔اس جرم میں وہ لوگ مجھے اور میری بیوی کو مارنے کے درپے ہیں۔ایسے میں اسی حویلی کے لختِ جگر کا ارادہ اسی ایس پی کی بہن سے شادی کرنے کا ہو جس ایس پی نے اُس کی بہن کو سب سے چرایا ہے تو تم مجھے خود بتاو کہ مجھے کیسی تسلی چاہیے ہو گی؟” بنا فرنٹ سیٹ پہ براجمان آبگینے اور بیک سیٹ پہ براجمان نگاہ کو دیکھے وہ سامنے روڈ پہ نظریں جمائے بیٹھا بہت ٹھہرے ہوئے لہجے میں بول رہا تھا۔

“تم دریہ کے لیے پریشان ہو؟” نگاہ نے اس کی ساری بات سننے کے بعد پرسوچ انداز میں کہا تو اس نے فوراً نفی میں سر ہلایا۔

“نہیں کیونکہ میں جانتا ہوں کہ دریہ سے طلال محبت کرتا ہے۔” رہبان کے اس غیر متوقع انکشاف پہ آبگینے نے کرنٹ کھا کے اس کی جانب گردن گھمائی۔
تو اس کی بے یقین نگاہوں کے ارتکاز پر وہ زیرِ لب مسکراتا ہوا اس کی جانب متوجہ ہوا۔

“دن رات آپ کی محبت کے گیت گاتا ہوں مسز، اب کیا مجھے دوسروں کی آنکھوں سے جھلکتی محبت کی شدت کا اندازہ بھی نہیں ہو گا۔” قدرے اس کی جانب جھک کر بھاری آواز میں بولتے ہوئے اس نے بے اختیار اس کی دائیں آنکھ کو ہولے سے لبوں سے چھوا تو وہ گڑبڑاتی ہوئی پیچھے کھسکتی ہوئی شیشے سے لگ گئی۔
اور بڑے اختیارانہ انداز میں نگاہ کی جانب دیکھا جو ہونٹوں میں شریر سی مسکان دبائے بظاہر شیشے کے پار دیکھنے کی اداکاری کر رہی تھی۔
ان دونوں کو زیرِ لب بہت کچھ سناتی وہ مکمل طور پر توجہ کھڑکی جانب مبذول کر چکی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“تم نے کہا تھا شازمین میر، کہ ان بھائیوں کی ماں اور اس اپاہج کی بیوی کی مدد سے ہم اپنے انتقام کی شروعات کر سکتے ہیں۔کہاں ہیں وہ دونوں عورتیں؟” بخت خان غصے سے آگ بگولہ ہوا بھڑک رہا تھا۔
جبکہ سب اس وقت اپنے اپنے مفاد کے پیشِ نظر چپ چاپ اس کے تیور برداشت کر رہے تھے۔

“اتنے اتاولے مت ہو بخت خان۔کہا نا ایک دو دن میں تمہیں تمہارا شکار مل جائے گا۔” شازمین میر کے رعونت بھرے لہجے میں ہلکی سی ناگواری جھلک رہی تھی۔

“یہ صبر میرے بس سے باہر ہوتا جا رہا ہے۔پہلی دفعہ بخت خان کو شکست کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ کیا مل گیا ہے ان سب کو کہ یکے بعد دیگرے یہ ہمارے سارے پلانز پہ پانی پھیرتے چلے گئے۔” اس کا غصہ ہنوز عروج پر تھا۔

“بے صبرے پن کا مظاہرہ کر کے سب کے کیے کرائے پر پانی ہرگز نہ پھیرنا بخت خان اور ہاں ہماری ڈیل میں فقط سفیر سائیں کی رہائی ہی ہو گی۔اپنی صاحبزادی کی اس ایس پی کے چنگل سے رہائی کے لیے ہمیں ایک موثر طریقہ مل چکا ہے۔” پیر سائیں نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے بارعب انداز میں کہا تو اس نے چونک کے شاطرانہ انداز میں ان کی جانب دیکھا۔

“کیسا طریقہ؟” اس کا لہجہ گھاگ شکاریوں کی مانند ہو چکا تھا۔

“وہ طریقہ ہم تمہیں ضرور بتائیں گے لیکن اس سے قبل سفیر سائیں کی رہائی کو یقینی بناو۔” انہوں نے بات کو گول مول کر کے اپنے مخصوص انداز میں اسے حکم جاری کیا اور پھر وہاں سے نکلتے چلے گئے۔

“ایک تو اس کمینے شخص سے مطلب نہ ہو تو سب سے پہلے اسے دن میں تارے دکھاوں۔” بخت خان جو ہمیشہ ان کی بارعب شخصیت سے خائف رہتا تھا ان کے باہر نکلتے ہی اس نے نفرت سے زمین پر تھوکا۔

“شازمین میر جلدی کرو۔میں زیادہ تحمل کا مظاہرہ نہیں کر سکتا ہوں۔” اس نے ایک دفعہ پھر سے اپنی بات دہرائی تو شازمین میر اپنے شاطر دماغ میں تانے بانے بننے لگی کہ کل کی تاریخ میں کیسے زحلے ابراہیم اور کلثوم میر کو میر پیلس کی حدود سے باہر بھیجے گی۔

اس کی پرسوچ نگاہیں اس وقت پیدل مارچ کا مظاہرہ کرتے بخت خان کے لیفٹ رائیٹ کرتے پیروں کی حرکت کے ساتھ الجھ رہی تھیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کمرے میں چھائی مدہم سی روشنی اور معنی خیز سی خاموشی میں اس وقت اس کے ہونٹوں سے نکلنے والا اس کا نام ایک دلفریب اور دل کو چھو جانے والے نغمے کی مانند محسوس ہوا تھا۔
جس نے ذوالنورین میر کے روئیں روئیں کو سرور سے بھر دیا تھا۔
اس بات کا اندازہ زحلے کو اس کی اپنی کمر کے گرد لپٹے بازو کی مضبوط گرفت اور پہلو میں پہلے سے بھی زیادہ شدت دکھاتے ہونٹوں کے لمس کی حدت سے ہوا تھا۔

وہ اپنی جگہ پہ بیٹھی اس اچانک افتاد پہ تھرتھر کانپتی ہوئی اپنے بکھرنے والے اعصاب کو یکجا کرنے کی سعی میں تھی جس پہ اس شخص کی دیوانگی بھاری پڑ رہی تھی۔
جو پہلو پر سے لب سرکاتے ہوئے جب اوپر کی جانب بڑھا تو وہ تڑپ کے اپنی جگہ سے اٹھی تھی۔

“ن۔۔نہیں پلیز۔” اس کی مزاحمت اس قدر بے ساختہ تھی کہ بے خودی کے سمندر میں ڈوبے ذونین نے لپک کے اس کی کلائی اپنی گرفت میں جھکڑ کے کھینچی تو وہ لہراتی ہوئی اس کی آغوش میں اس انداز میں جا گری کہ اس کے گیلے بال اس کے دونوں سائیڈوں پہ لہراتے دونوں کے چہروں کو چھپا گئے۔

صبح صبح اتنے دنوں کی تلخ خاموشی کے بعد ایسی توبہ شکن صورتحال نے اسے حواس باختہ کر دیا تھا اور اس لمحے وہ گویا مکمل طور پہ ہمت کھوتی اس کے سہارے اسی کی گود میں براجمان تھی۔

“میرا نام پکاریں ایک دفعہ۔” یونہی اسی پوزیشن میں اسے جھکڑے وہ دونوں ہاتھ اس کے پہلووں پہ جمائے اس کے بالوں میں چہرہ چھپائے بھاری آواز میں بولا تو اس کا دل دھک سے رہ گیا۔
اسے بے ساختہ چند لمحے قبل اپنی بے اختیاری یاد آئی تو دل کی دھڑکنیں سست ہوئی تھیں تبھی وہ بنا جواب دیے مزاحمتی انداز میں اس کی گرفت میں مچلی تھی۔

“میڈم!میرا نام پکاریں ایک دفعہ۔” بالوں کی نرماہٹ محسوس کرتے لب حرکت کرتے ہوئے جب کان لی لو کو چھونے لگے تو اس کے پورے وجود میں پھریری سی دوڑ گئی۔
جبکہ لب بے ساختہ سسکی بھرے انداز میں اسے پکار اٹھے۔

“زوالنورین!” اس کا سرگوشی نما بھاری لہجہ اس وقت مکمل طور پر اس کی قربت کی بدحواسیوں کی جانب اشارہ کر رہا تھا۔
اور یہ سب اسے پاگل کر دینے کے درپے تھا تبھی وہ بنا اسے کوئی موقع دیے یونہی ہاتھ اس کے پہلووں پہ جمائے اس کے ہونٹوں کی ایسی دلفریب حرکت پہ انہیں اپنی دیوانگی کا انعام نوازنے لگا۔
جبکہ اس کی اس اچانک حرکت پہ وہ جو پہلے ہی بے دم سی ہوئی بیٹھی تھی اس کی دھڑکنیں گویا اپنا ساز توڑنے کو تھیں۔وہ دونوں ہاتھ عادتاً اس کے سینے پہ زور سے جماتی اس کی شرٹ کالر سے دبوچے اپنے ناخن اس کی گردن میں کھبو گئی۔
لیکن اس کے باوجود اس کی تشنگیِ لب تھی کہ بڑھتی جا رہی تھی۔وہ پہلے سے بھی زیادہ شدت کا مظاہرہ کرتا اسے پاگل کر دینے کے درپے تھا۔
تبھی جب ہمت ٹوٹنے لگی اور اس کی اس مدہوشی میں خود کے ڈوب جانے کا اندیشہ سر چڑھ کے بولنے لگا تو وہ بمشکل اپنی ہمت مجتمع کرتی اس کے کندھوں پہ ہاتھ جماتی اس بپھرے ہوئے سمندر کے منہ پہ بندھ باندھ گئی۔

“پ۔۔پلیز!میرے۔۔میرے لیے جدائی کے سفر کو مشکل مت کرو۔” بھیگی آواز میں کہتی وہ اپنی جان توڑ کوشش کے عوض اس کی گرفت سے نکلتی بجلی کی سی تیزی کے ساتھ اس سے فاصلے پر ہوئی تھی۔
جبکہ وہ جو واقعی آج ہر حد پار کرنے کو تھا زحلے کے اس قدم پہ آنکھوں میں ادھورے خمار کے سرخ رنگ سمیٹے اسے گھورنے لگا جو اس سے قدرے فاصلے پہ کھڑی گہرے سانس بھر رہی تھی۔

“م۔۔میں کل اپنے گھر جا رہی ہوں۔شازمین میڈم نے جس مقصد کے لیے مجھے ہائیر کیا تھا وہ بھی پورا ہو چکا ہے۔اور۔۔۔اور تمہارا مقصد بھی مکمل ہو چکا ہے۔” وہ بدقت اپنے بکھرتے اعصاب اور کرلاتے دل کو سنبھالے اسے اپنے ارادوں سے آگاہ کرنے لگی تھی جو بہت سرد نگاہوں سے اسے گھور رہا تھا۔

“میں نے آپ سے نکاح کیا تھا، اس کا مقصد تو ابھی نامکمل ہے۔پھر آپ کیسے جا سکتی ہیں میڈم؟” اس کے سرد لہجے کے برعکس الفاظ کی ذومعنویت اس کے کانوں سے دھواں نکال گئی۔
وہ بے ساختہ ‘اففف’ کہتی تپتپاتے چہرے کے ساتھ رخ موڑ گئی تھی۔

“میرے ساتھ ایسی فضول گفتگو کرنے سے قبل یہ یاد رکھا کرو کہ نکاح ایک کاغذی کاروائی تھی اس سے پہلے میں تمہاری ٹیچر ہوں۔” اس نے اسے ہمیشہ کی طرح وہ یاد دلانے کی کوشش کی جو اس کے خیال میں موثر رہے گی۔

“ٹیچر ٹیچر کا راگ الاپنے سے حقیقت بدل جائے گی؟” اس کے سنجیدگی سے کیے سوال پہ وہ جو اب کہ دوپٹہ اوڑھ چکی تھی اس کی جانب پلٹی۔

“حقیقت بدل ہی تو سکتی نہیں اور حقیقت یہی ہے کہ میرا اور تمہارا کوئی جوڑ نہیں۔نہ عمر، نہ سٹیٹس,نہ ذہنی مطابقت کسی بھی لحاظ میں نہیں۔” اس نے اب کے اپنی بکھرتی حالت پہ قابو پاتے ہوئے سنجیدگی سے جواب دیا تھا۔

“اور نہ ہی جسمانی فٹنیس کے لحاظ سے۔کہاں آپ جیسی مکمل لڑکی اور کہاں مجھ جیسا اپاہج ادھورا لڑکا؟ہیں ناں؟” اچانک وہ آتش زدہ سے لہجے میں گویا ہوا تو زحلے نے ایک جھٹکے سے گردن اٹھا کے اس کی جانب دیکھا تو اس کی خوبصورت آنکھوں میں چھائے تکلیف دہ رنگ ذونین کی آنکھوں سے چھپے نہ رہے۔
لیکن ان تکلیف دہ رنگوں کی برعکس جب وہ بولی تو اس کا لہجہ خاصا تلخ اور برفیلا تھا۔

“بالکل۔میں تمہارے جیسے ادھورے شخص جس کے ساتھ ایک ان دیکھی سی دشمنی بھی مجھے مل رہی ہے،اس کے ساتھ زندگی نہیں گزارنا چاہتی ہوں۔” اپنی بات مکمل کر کے وہ بنا اس کی جانب دیکھے ڈریسنگ مرر کے سامنے جا رکی اور اپنی تیاری مکمل کرنے لگی۔

“مبارک ہو مسز ذوالنورین میر صاحبہ کیونکہ اس دشمنی کے ساتھ یہ ادھورا شخص آپ کے انکار کے باوجود آپ سے جڑا رہے گا کہ میں اپنی ماں کو دکھ نہیں دینا چاہتا اور نہ ہی اس لڑکی کو دکھ دینا چاہتا ہوں جس نے کبھی مجھ سمیت بہت ساروں پہ ایک احسان کیا تھا۔” اسی کے انداز و تیور کے ساتھ اسے جواب دینے کے بعد وہ وہیل چیئر گھماتا ہوا کلثوم میر کے کمرے کی جانب چل دیا جبکہ وہ ڈریسنگ مرر میں اپنا عکس دیکھتی اس کے کیے دھماکے کے زیرِ اثر زمین میں دھنستی جا رہی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ضرغام کی سلگتی قربت کا احساس ہونا ہی تھا کہ وہ بجلی کی تیزی سے اس کی گرفت سے نکلی اور اس سے چند قدموں نے فاصلے پر جا رکی۔

“آپ ابھی یہاں سے چلے جائیں۔” اس نے بنا اس کی جانب دیکھے مدہم لہجے میں کہا تو وہ اپنی جگہ سے اٹھتا اس کی جانب بڑھا تو وہ ایک قدم مزید پیچھے ہوئی تھی۔

“پلیز!جو کچھ بتا چکے ہیں اسے برداشت کرنے کے لیے مجھے وقت دیں کیونکہ کاروائی ابھی مکمل نہیں ہوئی ہے۔” وقت نے داو ایسے کھیلے تھے کہ وہ بھی اپنی نرم خوئی فراموش کیے اس کے داو پیچ میں الجھ چکی تھی۔
وہ شہرے جس کی دنیا ‘ملک ہاوس سے ملک منزل’ تک محدود تھی۔
ان گزرے چند ماہ و سال نے اسے ان تجربات سے ہمکنار کر دیا تھا کہ وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔

“اب اگلی کاروائی کا مظاہرہ میرے کمرے میں میری سیج پہ بیٹھ کے کیجیے گا کیونکہ اب گھر میں چھپے بھیدیوں کو ضرغام ملک کی اصل محبت کے متعلق آگاہ کرنے کا وقت آن پہنچا ہے۔” اس سے چند قدم کے فاصلے پہ ٹھہرتا وہ گہری نگاہوں سے اس کے بکھرے وجود اور حلیے کا جائزہ لیتا بھاری لہجے میں گویا ہوا تو اس کا وجود پل میں گویا پتھر کا ہوا تھا۔

“کک۔کیا مطلب؟” اس کی آنکھیں بے یقینی سے اس کی جانب تک رہی تھیں کہ آیا جو وہ کہہ رہا تھا وہ سچ تھا یا جھوٹ؟

“مطلب یہ کہ اگلی کاروائی دو دن بعد میرے کمرے میں کرنا تاکہ مجھے کٹہرے میں کھڑے ہونا کا اجر مل سکے۔” اپنے مخصوص دلکش لب و لہجے میں بولتا وہ اس کے بالکل سامنے ٹھہرتا اس کی کنپٹی کو ہونٹوں سے چھوتا تیزی سے واپس پلٹا تھا۔
جبکہ ساکت کھڑی شہرے کو اپنے اردگرد دھماکے سے ہوتے محسوس ہو رہے تھے جبکہ سائیں سائیں کرتے کانوں میں اس کے لفظوں کی دھمک گونج رہی تھی۔

جاری ہے۔