57.1K
55

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 7

“دل تیرے سنگ جوڑ لیا”
از
حوریہ ملک

اس کی درشت آواز پہ اس کے ہاتھوں میں پکڑی ٹرے لرزی اور اسی کپکپاہٹ پہ قابو پانے کے لیے اس نے ٹرے میز پہ رکھی۔

“السلام علیکم!” اس نے خود کو کمپوزڈ کرتے ہوئے سلام کیا تو اس کی کشادہ پیشانی پہ بل پڑے۔

“بتول کہاں ہے؟” بھنچے ہوئے لہجے میں بمشکل ضبط کرتے ہوئے اس نے اپنا سوال دہرایا تو زحلے کا حوصلہ گرنے لگا۔

“اُس۔۔اس کے بیٹے کی طبیعت خراب ہے تو وہ آج آ نہیں سکی۔” اس نے بروقت شازمین بیگم کا بتایا ہوا بہانہ اس کے سامنے پیش کیا اور قدرے سائیڈ پہ کھڑی نامحسوس انداز میں انگلیاں چٹخانے لگی۔

“تو آپ کو کیا ضرورت تھی یہ سب کرنے کی؟یہاں اور بھی میڈز موجود ہیں۔” اس کی پیشانی کے بل ہنوز قائم و دائم تھے جبکہ لہجے کی کرختگی واضح کر رہی تھی کہ اسے اس کا اپنے لیے ناشتہ لانا کس قدر سخت ناگوار گزرا ہے۔
اور زحلے جو اذیت کی آخری حدوں کو چھوتی اس گھٹیا کام کے لیے آمادہ ہوئی تھی اس شخص کی ناپسندیدگی دیکھ کے پہلے ہی مرحلے پہ جیسے ہمت ہار گئی تھی۔
مگر پھر تلخ حقیقت کا ادراک ہوتے ہی اس نے خود کو سنبھالا دیا۔

“م۔۔مجھے پیسوں کی ضرورت ہے تو میں نے آپ کی آنٹی سے کہا ہے کہ بتول کے بیٹے کی طبیعت سٹیبل ہونے تک مجھے اس کے حصے کا کام دے دیں کیونکہ میں لیکچر دینے کے بعد زیادہ تر فارغ ہی ہوتی ہوں۔” نظریں جھکائے وہ اپنی عزتِ نفس پہ زور سے پیر رکھے سپاٹ لہجے میں بولتی چلی گئی جبکہ اس کے لفظوں کے ساتھ ساتھ سامنے بیٹھے ذوالنورین کی آنکھوں کے کناروں کی سرخی بڑھنے لگی تھی۔

“آپ کو پیسوں کی ضرورت ہے تو آپ کو وہ مل جائیں گے لیکن آج کے بعد میرے کام کرنے کی ضرورت نہیں ہے مس ابراہیم!” سختی سے اسے وارن کرنے کے بعد اس نے ہاتھ بڑھا کے میز سے ٹرے کھینچ کے اپنے نزدیک کرنی چاہی تو زحلے فورا آگے بڑھی۔

“ایک منٹ۔” وہ فورا اسے ٹوکتی ہوئی اس کے نزدیک میز گھسیٹ کے ناشتہ اس کے سامنے سرو کرنے لگی تو ذوالنورین کے چہرے پہ چھائی ناپسندیدگی بڑھنے لگی۔

“ہٹیں یہاں سے۔” درشتگی سے اس کے ہاتھ پرے جھٹکتے ہوئے وہ ایک جھٹکے سے کھانے کی ٹرے الٹتا میز کے کانچ کو بھی ہاتھ کی زوردار ضرب سے مختلف حصوں میں تقسیم کرتا اس کے جھٹکے سے چند قدم دور کھڑی زحلے کے دل و دماغ کو گہری وحشت و خوف سے بھر گیا۔

یہ جفائے غم کا چارہ ، وُہ نجات دِل کا عالم
تِرا حُسن دستِ عیسٰی ، تِری یاد رُوئے مریم

دِل و جاں فدائے راہے کبھی آ کے دیکھ ہمدم
سرِ کُوئے دِل فِگاراں ـــــــــ شبِ آرزو کا عالم

تِری دِید سے سوا ہے تِرے شوق میں بہاراں
وُہ چَمن جہاں گِری ہے تِری گیسُوؤں کی شبنم

یہ عجب قیامتیں ہیں ، تِری رہگُزر میں گزراں
نہ ہُوا کہ مَر مِٹیں ہم ، نہ ہُوا کہ جی اُٹھیں ہم

لو سُنی گئی ہماری ، یُوں پِھرے ہیں دِن کہ پِھر سے
وہی گوشۂ قفس ہے ـــــ وہی فصلِ گُل کا ماتم

فیض احمد فیضؔ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کال پک کرتے ہی اس نے دھڑکتے دل کے ساتھ موبائل کان سے لگاتے ہوئے ایک نظر کمرے کے بند دروازے کو دیکھا جبکہ دوسری جانب اس کی گھبرائی ہوئی سانسوں کی آواز محسوس کر کے وہ بے ساختہ مسکرایا تھا۔

“السلام علیکم!رہبان گردیزی اسپیکنگ!” گھمبیر مگر خوبصورت سا لہجہ سپیکر میں گونجتا اس کی تیز رفتار دھڑکنوں کو پل بھر کے لیے تھما سا گیا تھا۔

“کیا یہ وہی ‘رہبان’ ہے؟” اس کے دل میں یکدم پھر سے وہی سوال سر اٹھانے لگا جس نے اسے یہ فون کال اٹھانے پہ مجبور کیا تھا۔

“کون ‘رہبان گردیزی’؟” ایک چور نگاہ بند دروازے پہ ڈالتے ہوئے اس نے بنا سلام کا جواب دیے اپنے اندر اٹھتے سوال کا جواب تلاشنے کی کوشش کی تو دوسری جانب اس کوشش پہ وہ نچلے لب کا کونا دانتوں میں دبائے بھاری لہجے میں بولا۔

“جس کے نام کی مہندی اپنے ہاتھوں میں سجائے بیٹھی ہیں۔” اس کے جذب سے کہنے پہ بے اختیار اس کی مہندی سے سجی ہتھیلیوں سے پسینہ پھوٹ نکلا اور دل کی دھڑکن جیسے کسی تیز گام ٹرین کی مانند دوڑنے لگی۔

اور اپنی اسی کیفیت و حالت سے گھبراتے ہوئے اس نے فورا سے پیشتر کال بند کرتے ہوئے موبائل دور بیڈ پہ اچھال دیا۔

“یہ۔۔یہ اگر وہی ہیں تو حویلی میں کال کیوں کر رہے ہیں؟” کال بند کرنے کے بعد بھی یہ سوال اس کے اندر سر اٹھانے لگا لیکن اس سوال کا جواب وہ اس شخص سے نہیں لے سکتی تھی۔

“جس جی داری سے تم نے اس حویلی میں کال کرنے کی جرات کی ہے کاش اتنی جی داری سے تم اس گھٹیا رسم کے خاتمے کی کوشش کرتے تو تمہارا نام سن کے دل کو سکون ملتا۔” اس کے کال کرنے کی وجہ کو تلاشتی وہ اپنی ہتھیلیوں کو تکتے ہوئے افسردگی سے سوچتی اسی لباس و حلیے میں تکیے پہ سر رکھتی وہیں ڈھیر ہو گئی۔

جبکہ دوسری جانب ‘پیر حویلی’ سے دور ‘گردیزی پیلس’ کے ماسٹر بیڈروم میں موجود رہبان گردیزی اپنے موبائل پہ سینڈ کی گئی ‘آبگینے جعفر’ کی تصاویر دیکھ کے ساکت ہو چکا تھا۔

میں نے رنگوں سے مزیّن کیے بے رنگ نقوش
میں نے خوشبو بھرے احساس کو تصویر کیا…
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مضبوط قدم اٹھاتے ہوئے وہ سیاہ شرٹ کی آستینیں فولڈ کیے ٹائی قدرے ڈھیلی کیے وہ بھاری دل کے ساتھ ان سب کے ساتھ شاپ میں داخل ہوا تو مینیجر فورا الرٹ ہوا۔

“السلام علیکم!ملک صاحب کیسے ہیں آپ؟” وہ ان کے نزدیک آتا انہیں بیٹھنے کو کہتا اس کی جانب متوجہ ہوا۔

“وعلیکم السلام!” مختصر سے انداز میں جواب دیتے ہوئے اس نے نگاہ اور شہرے کو بیٹھنے کا اشارہ کیا۔

“کہیے کیا خدمت کی جائے آپ کی ملک صاحب؟” مینیجر پیشہ ورانہ انداز میں بولا تو ضرغام نے گہری سانس بھرتے ہوئے اسے برائیڈل ڈریسز کے ڈیزائن دکھانے کو کہا۔

“ضرغام!آپ بھی کوئی مشورہ دیں نا۔” ثمرین بیگم نے ایک سائیڈ پہ لاتعلق سے کھڑے ضرغام کو مخاطب کیا تو وہ چونکا۔

“یہ آپ خواتین کا ڈیپارٹمنٹ ہے،آپ لوگ آپس میں ڈسکس کر لیں۔” سنجیدگی سے انہیں منع کرتے ہوئے اس نے موبائل نکال کے اس پہ نگاہیں مرکوز کر لیں۔

“نگاہ چچی!یہ دیکھیں کتنا زبردست اور فریش کلر لگ رہا ہے؟” اس کی لاتعلقی اور بے نیازی کو اس کی فریش اور کھنکھناتی آواز نے اس بری طرح سے متاثر کیا کہ وہ اپنی گردن موڑ کے اس کی جانب دیکھنے سے خود کو روک نہ سکا۔

میرون بھاری زرتار آنچل جس کے کناروں پہ گولڈن کام ہوا تھا وہ اپنے ہاتھوں میں تھامے وہ اشتیاق سے نگاہ کی جانب دیکھتے ہوئے بولی تو قندیل نے ہنستے ہوئے آنچل کا پلو اس کے ہاتھ سے تھاما۔

“نگاہ کا ارادہ تو میرون یا ریڈ کی بجائے کوئی ڈفرینٹ کلر لینے کا ہے لیکن تمہیں یہ پسند آ رہا ہے تو تم اسے لے کے ایڈوانس میں اپنے لیے رکھ لو۔” شوخی سے کہتے ہوئے قندیل نے اسی آنچل کا پلو اس کے سر پہ ٹکایا تو جیسے وقت تھم سا گیا۔

میرون ڈوپٹے کے ہالے میں مقید اس کا سرخ و سفید خوبصورت چہرہ اور اس پہ پڑتا زرتاری آنچل کا عکس اور قندیل کی شرارت بھری باتوں سے اترتا شرمیلا گلال اس کے چہرے کو جلا بخش گیا۔
اس کے چہرے کو وارفتگی سے دیکھتا ضرغام جیسے اس لمحے وہاں موجود ہر فرد، ہر شے کو فراموش کر چکا تھا حتی کہ اپنی جانب دیکھتی نگاہ کی نظروں کو بھی۔

“بس کریں قندیل چچی!” اگلے ہی لمحے وہ جھینپتے ہوئے فورا پلو اپنے سر سے ہٹاتی فورا اس آنچل کو وہیں رکھتی نئے ڈیزائن کی جانب متوجہ ہو گئی تو جیسے اس لمحے کے سحر میں جھکڑے ضرغام کو ہوش آیا تھا وہ سر جھٹکتے ہوئے واپس موبائل کی جانب متوجہ ہونے ہی لگا تھا کہ اک عجیب سے احساس کے تحت اس نے گردن اٹھا کے سامنے دیکھا تو نظر نگاہ سے ٹکرائی جو بہت سنجیدگی سے اسی کی جانب دیکھ رہی تھی۔

“کون سا کلر لوں میں اپنے لیے؟” اسے اپنی جانب متوجہ دیکھ کے نگاہ نے چہرے پہ مسکراہٹ سجائے اسے مخاطب کیا تو وہ گہری سانس بھرتے ہوئے دو قدم آگے ہوا۔

“جو آپ کو پسند ہے وہ سلیکٹ کریں، مجھے وہی پسند آ جائے گا۔” نرمی سے کہتے ہوئے وہ اس کے پہلو میں جا کھڑا ہوا۔

“یہ کلر کیسا رہے گا؟” اس نے اس کے سامنے گولڈن اور شاکنگ امتزاج سے مزین خوبصورت اور دیدہ زیب ڈریس کی جانب اشارہ کرتے ہوئے استفسار کیا تو وہ مسکرا دیا۔

“بہت پیارا ہے اور آپ پہ اس سے بھی زیادہ پیارا لگے گا۔” مکمل طور پہ کچھ فاصلے پہ کھڑی شہرے سے بے نیازی برتنے کی کوشش کرتا وہ اپنے مخصوص انداز میں گویا ہوا۔
کیونکہ جو بھی تھا وہ اس کے نکاح میں تھی اس سے وابستہ تھی اور وہ کبھی بھی اسے دانستاً تکلیف دینے کی کوشش نہیں کر سکتا تھا۔

“پھر یہ فائنل کر دیں نا؟” ثمرین بیگم نے دونوں کی پسندیدگی کا اندازہ لگاتے ہوئے استفسار کیا تو ضرغام نے نگاہ کی جانب دیکھا تو اس نے سر اثبات میں ہلا دیا۔

“یہ شہرے کے لیے بھی لے لیں، انہوں نے اس کا آنچل سر پہ رکھا تھا اس لیے بہتر ہے کہ آپ یہ انہیں اپنی طرف سے دے دیں۔” جب ثمرین بیگم ڈریس فائنل کرنے لگیں تو وہ سپاٹ لہجے میں بولتا جیب سے کریڈٹ کارڈ نکالنے لگا جبکہ اس کی بات سن کے ثمرین بیگم ٹھٹھکیں لیکن پھر ہولے سے مسکرا دیں۔

“اوکے۔” اور پھر نگاہ کی شادی کا جوڑا خریدتے ہوئے ثمرین بیگم نے شہرے کے لیے بھی ڈریس خرید لیا لیکن اسے دیا نہیں کیونکہ انہیں سب کے سامنے یوں برائیڈل ڈریس گفٹ کرنا مناسب نہ لگا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گردیزی پیلس میں اس وقت ہنگامے اپنے عروج پہ تھے کیونکہ آج گردیزی خاندان کے لاڈلے اور اتھرے سپوت کے نکاح کا فنکشن تھا اور اپنی ہٹ دھرمیوں کے باعث رہبان گردیزی اس سادگی بھرے فنکشن کو سادگی سے ہٹا کے مختلف رسومات کو اس فنکشن کا حصہ بنانے پہ تلا ہوا تھا۔

“رہبان!یہ اتنے مہمانوں کو کیوں بلایا ہے آپ نے؟” رضا گردیزی کو جب خبر ہوئی تھی کہ بارات پہ جانے کے لیے مہمان پیلس آنا شروع ہو چکے ہیں تو وہ ان کی آمد پہ حیران ہوتے اس سے استفسار کرنے لگے جو سیاہ شلوار قمیض میں ملبوس بہت شان سے صوفے پہ براجمان موبائل پہ مصروف تھا۔

“شادی کر رہا ہوں تو کیا دوستوں کو نہ بلاوں؟” اس کی بے نیازی قابلِ دید تھی جسے ملاحظہ کرتے ہوئے رضا صاحب نے حماد صاحب کی جانب دیکھا تو وہ بے بسی سے کندھے اچکا کے رہ گئے۔

“تو جب نکاح کے بعد بنا بیوی کے وہاں سے رخصت ہو گے تو ان دوستوں کو کیا جواب دو گے؟” انہوں نے سنجیدگی سے اسے لاجواب کرنا چاہا لیکن یہ کام کرنے کے لیے انہوں نے غلط بندے کا انتخاب کیا تھا کیونکہ لاجواب ہونا رہبان گردیزی کو نہیں آتا تھا۔

“وہ جواب آپ کو موقع پہ دوں گا ابھی مزہ نہیں آئے گا آپ کو سن کے اس لیے ان خواتین کو جلدی سے کمروں سے نکالیں کیونکہ وقت کافی ہو چکا ہے۔” پرسکون لہجے میں انہیں جواب دے کے وہ اپنی جگہ سے اٹھا اور بی جان کے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔

“بھائی صاحب!مجھے آپ کے صاحبزادے کے ارادے ٹھیک نہیں لگ رہے؟” حماد صاحب کی جانب دیکھ کے رضا صاحب الجھے ہوئے لہجے میں بولے تو اس طرف آتی مائرہ گردیزی نے ایک نظر حماد گردیزی کی جانب دیکھا۔

“آپ پرائیویٹ ڈیٹیکٹو بننے کی کوشش کیوں کر رہے ہیں، جب وہ آپ سب کی بات مان کے سکون سے اس رسم کے لیے راضی ہو چکا ہے تو پھر کیونکر آپ سب اس سے فضول سوالات کر رہے ہیں؟” وہ تیوری چڑھا کے بولیں تو انہوں نے بے بسی سے بیوی کی جانب دیکھا اور ہارے ہوئے انداز میں ڈھیلے سے پڑ گئے۔

“معاف کر دیں بیگم، ہماری کیا مجال ہے جو آپ کے لاڈلے کو کچھ کہہ سکیں۔” اس کے ہتھیار ڈالنے والے انداز پہ مسکراہٹ دباتیں وہ پلٹیں اور سائرہ بیگم کو بلانے چل دیں تاکہ سب بچیوں کو لے کے سب پیر حویلی کی اور نکلیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک نظر بیڈ پہ بے سدھ لیٹے ذوالنورین میر پہ ڈالتے ہوئے اس نے کپکپاتے ہاتھوں کے ساتھ کمرے میں پھیلی تباہی کے اثرات کم کرنے کی کوشش کی تو نگاہوں میں بار بار وہی منظر لہرانے لگا جب ناشتے کی ٹرے اور میز کا کانچ توڑنے کے بعد بھی اس کے اندر ابلتا غبار کم نہ ہوا تو وہ وہیل چیئر کی مدد سے ادھر سے ادھر ہوتا کمرے میں موجود چیزوں کو پوری قوت سے توڑنے پھوڑنے لگا۔
ایسی ہی تباہی اس نے اس دن بھی کی تھی جب اس نے پہلے دن اسے ناشتہ سرو کیا تھا لیکن اس دن تباہی صرف ناشتے کی ٹرے اور میز تک ہی محدود رہی تھی مگر آج تو شاید وہ ہر حد توڑ دینا چاہتا تھا۔
اس ساری تباہی میں اسے نجانے کتنی چوٹیں آئی تھیں لیکن وہ ان چوٹوں کی تکلیف سے بے نیاز بس اندر لگی آگ کو اس تباہی سے کم کرنے کی کوشش کرتا دیوار کے لگی تھر تھر کانپتی زحلے کو فراموش کر چکا تھا جو اس کے اس قدر وحشی روپ پہ خوف و بے بسی سے ادھ موئی ہوئی جا رہی تھی۔
اور اس سے قبل کے اس کا یہ روپ اس کے حواس چھین لینا توڑ پھوڑ سے ہونے والی بلند آوازیں سن کے شاید ملازمین نے ڈاکٹر مرتضیٰ کو اطلاع دی تھی اور وہ اگلے چند لمحوں میں وہاں آ کے بمشکل اسے قابو کرتے ہوئے زبردستی پرسکون نیند کا انجیکشن دے کے اس کی مدد سے اسے بیڈ پہ لٹا کے زحلے کو اس کے حوالے سے کچھ ہدایات دے کے نیچے جا چکے تھے جبکہ اپنی مجبوریوں کے باعث وہاں موجود زحلے اس کی تباہی کے تاثرات مٹاتی پھوٹ پھوٹ کے رونے لگی کیونکہ وہ جانتی تھی کہ اس کی موجودگی میں وہاں اس کی مدد کے لیے کوئی ملازمہ نہیں آنے والی تھی۔

“میں نہیں جانتی کہ آپ کے ساتھ اس گھر کے افراد کو کیا مسئلہ ہے لیکن آپ لوگوں کے مسئلے اور آپ کی معذوری میری مجبوریوں کو کیش کروا گئی ہے۔” شیشے کے بکھرے ٹکڑوں کو ہتھیلی میں سمیٹتی وہ اس پہ ایک بھیگی ہوئی نظر ڈالتی دکھ سے سوچنے لگی اور پھر زخمی ہوئی ہتھیلیوں کو صاف کرنے کے لیے واشروم کی جانب بڑھی۔

واشروم سے باہر نکلتے ہوئے اسے ایک عجیب سا احساس ہوا تو وہ چند قدم چلتی ہوئی اس کے بیڈ کے نزدیک پہنچی تو اسے بے چین پایا کیونکہ وہ کسمساتے ہوئے بہت بے چینی سے اپنا سر دائیں بائیں پٹختا ہوا دونوں ہاتھوں کی مٹھیاں زور سے بھینچے ہوئے تھا۔

“ماما!” اس کے بے چین اور بھنچے ہوئے ہونٹوں سے یہ لفظ ایک سسکی کی مانند نکلا تو اس کے بیڈ سے چند فرلانگ دور کھڑی زحلے کے وجود کو جیسے کسی گہرے دکھ سے آن سمیٹا تھا۔
اسے اس لمحے ذوالنورین میر پہ ایک بچے کا سا گمان ہوا تھا اور شاید اسی وجہ سے اس کے دکھ کو محسوس کرتی وہ آگے بڑھی۔

“زوالنورین!” اس نے نرمی سے اس کے نزدیک کھڑے ہوتے ہوئے اسے پکارا، وجہ یہی تھی کہ وہ اسے اس سمے ہونے والی تکلیف سے بچانا چاہ رہی تھی۔

“ماما!” وہ ایک دفعہ پھر سے سسکا تو اس نے نرمی سے اپنی پوری ہمت مجتمع کرتے ہوئے اس کے کندھے پہ ہولے سے ہاتھ رکھا ہی تھا کہ اگلا لمحہ اس پہ جیسے کسی قیامت کی مانند آن پڑا تھا۔

کیونکہ اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھتے ہی ذوالنورین میر ایک دفعہ پھر سے ‘ماما’ لفظ کی گردان کرتا اس کے ہاتھ کو سختی سے اپنے ہاتھوں کی گرفت میں لیتا اسے اپنی جانب کھینچ چکا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“ہائے اللّٰہ!آبی تم کس قدر حسین لگ رہی ہو۔اگر میں تمہارے ہونے والے شوہر کی جگہ پہ ہوتی تو اس روپ میں تمہیں دیکھ کے ہر طرح کی رسموں کو ٹھوکر مار کے اس ظالم سماج سے لڑ کے تمہیں اپنے ساتھ لے جاتی۔” بلڈ سرخ رنگ کے قیمتی و دیدہ زیب بھاری لہنگے چولی میں ملبوس، میچنگ بھاری جیولری اور نفاست سے کیے گئے میک اپ سے سجی آبگینے کو دل و جان سے سنوارنے سجانے کے بعد جب زاہرہ اس کے سامنے سے ہٹی تو اس کا نوخیز کلیوں کی مانند مہکتا ہوا وجود اور سجا سنورا سراپا دیکھ کے مریم پرشوق انداز میں بولتی چلی گئی۔
جبکہ اس کی بات سن کے نجانے کیوں آبگینے کے کانوں میں ایک خوبصورت سا مردانہ لب و لہجہ گونجا تو دھڑکنوں نے فوراً لے بدلی۔

“کاش ایسی جی داری اس کے ہونے والے شوہر میں بھی ہوتی لیکن وہ شاید ساری جی داری آبی کی شاپنگ اور شادی کی ہر طرح کی رسمیں کروانے میں دکھا چکا ہے۔” اس کے پھولوں کی خوبصورتی کو بھی مات دیتے خوبصورت چہرے کو نیٹ کے ڈوپٹے تلے چھپاتی زاہرہ زہر خند لہجے میں گویا ہوئی تو آبی کے وجود میں وحشت سی بھرنے لگی۔

“یااللّٰہ!مجھ پہ اگر یہ آزمائش ڈالی ہے تو مجھے صبر عطا کرنا۔” آنکھیں میچتی وہ اللّٰہ سے دعاگو ہوتی ان سب کے ساتھ باہر کی جانب بڑھنے لگی تو دھڑکنیں جیسے رک رک کے چلنے لگیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ اپنی توجہ سامنے کھلے لیپ ٹاپ پہ مکمل طور پہ مرکوز کیے اپنا کام کر رہا تھا جب موبائل کی رنگ ٹیون پہ اس نے ناگواری سے سکرین کی جانب دیکھا لیکن وہاں جگمگاتے نام کو دیکھ کے اس کے وجیہہ چہرے پہ مسکان پھیل گئی۔

“کہاں ہو؟” بنا سوال و جواب دوسری جانب سے استفسار کیا گیا تو اس نے مسکراہٹ دباتے ہوئے ایک پرتاسف نگاہ لیپ ٹاپ پہ ڈالتے ہوئے اسے شٹ ڈاون کیا اور خود اپنی جگہ سے کھڑا ہوا۔

“آفس سے نکلنے لگا ہوں۔” گاڑی کی چابی پینٹ کی جیب میں اڑستے ہوئے وہ سٹینڈ سے کوٹ لیتا دروازے کی جانب تیزی سے بڑھنے لگا۔

“دل تو کر رہا ہے تمہیں تمہاری اس مصروفیت کے باعث کوئی سخت سی سزا دوں لیکن پھر یہ سوچ کے چپ کر گیا ہوں کہ تمہارے لیے یہی سزا کافی ہے کہ تم کچھ دنوں میں اُس کے سامنے کسی اور کے ہونے والے ہو۔” دوسری جانب سے کہے الفاظ پہ دروازہ کھولتے ضرغام ملک کے ہاتھ لحظہ بھر کو ٹھٹھکے لیکن اگلے ہی لمحے وہ خود کو سنبھالتے ہوئے باہر نکلا۔

“ایسا کچھ سال قبل ہو چکا ہے، ابھی تم مجھے یہ بتاو کہ مجھے کال کیوں کی ہے؟” اس کا سپاٹ لہجہ گونجا۔

“اس لیے کہ جو تم کچھ سال قبل کر چکے ہو وہ میں آج کرنے جا رہا ہوں اور اس میں مجھے تمہارے ساتھ کی ضرورت ہے۔” نپے تلے انداز میں اسے بہت کچھ باور کروا کے وہ دوسری جانب سے کال بند کر چکا تھا جبکہ اگلے چند گھنٹوں کا لائحہ ء عمل تیار کرنے کے بعد ضرغام گارڈز کے ساتھ اپنی منزل کی جانب رواں دواں ہو چکا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اپنی کزنز اور بھائیوں کے ہالے میں جب نیٹ کے دوپٹے میں چہرہ چھپائے آبگینے کو خوبصورتی سے سجے لان میں لایا گیا تو سیدھا اسے زنان خانے کے لیے سجے حصے کی طرف لایا گیا تھا۔
کیونکہ لان کو درمیان میں پھولوں کی گھنی سی لڑیوں کے ساتھ دو حصوں میں تقسیم کر کے مردانہ و زنانہ حصے الگ الگ کر دیے تھے تاکہ جدید دور کے مطابق شادی کا فنکشن بھی ہو جائے اور ان لوگوں کی روایات و اقدار بھی برقرار رہیں۔
اسی لیے سٹیج پہ بیٹھا رہبان گردیزی چاہ کے بھی آبگینے کی ایک بھی جھلک دیکھنے سے محروم رہا تھا اور پھر آبگینے کے زنان حصے میں سجے سٹیج پہ بیٹھتے ہی نکاح کی رسم کی گئی اور چند ہی لمحوں میں پچاس لاکھ حق مہر کے عوض رہبان گردیزی آبگینے گردیزی کو اپنے نام کر چکا تھا۔

نکاح ہوتے ہی کھانا کھول دیا گیا تھا کیونکہ وہاں اس وقت صرف رہبان کے دوست احباب نہیں تھے بلکہ پیر سائیں نے بھی بہت سے مہمان بلائے تھے اس لیے اس نام نہاد نکاح کی رسم پہ بھی وہاں لوگوں کا ایک طوفان سا امڈ آیا تھا کیونکہ نکاح کی تقریب سب کے سامنے ہونی تھی اور اس کے بعد کی کاروائی وہ مہمانوں کے رخصت ہونے کے بعد کرنے کا ارادہ رکھتے تھے لیکن جو ارادہ بنا کے رہبان وہاں آیا تھا اس سے شاید وہ سبھی بے خبر تھے۔
تبھی اس نے انہیں اپنے ارادوں سے باخبر کرنے کے لیے دھیرے سے اپنے لب کھولتے ہوئے اپنی خوبصورت آواز میں انہیں اپنی جانب متوجہ کیا۔

“پیر سائیں!اب رخصتی کی اجازت دیجیے۔” سٹیج پہ موجود اپنی باتوں میں مگن افراد پہ رہبان گردیزی کی آواز کسی ناگہانی آفت کی مانند اتری تھی۔
سب نے ہی ایک جھٹکے سے اس کی جانب دیکھا جو بہت پرسکون انداز میں پیر سائیں کی مانند متوجہ تھا جن کا چہرہ اس کی بات سن کے مارے طیش و ضبط کے سرخ پڑنے لگا تھا۔

“کیا بکواس کر رہے ہو تم لڑکے؟” ایک چور نگاہ سٹیج سے پرے باتوں میں مصروف مہمانوں پہ ڈالتے ہوئے وہ اپنے اندر اٹھتے ابال کو بمشکل دباتے ہوئے قدرے دبے دبے لہجے میں بولے تو بی جان ہولتی ہوئیں آگے بڑھیں۔

“رہبان یہ کیا پاگل پن ہے بچے؟” انہوں نے رہبان کے کندھے پہ ہاتھ رکھتے ہوئے اپنی طرف متوجہ کرنا چاہا۔

“نکاح کے بعد سبھی اپنی بیویوں کو اپنے ساتھ رخصت کروا کے لے جاتے ہیں بی جان، اس میں پاگل پن کیا ہے؟” دوسری جانب لاپرواہی و بے نیازی عروج پہ تھی جو پیر حویلی کے افراد پہ کسی بجلی کی مانند اتر رہی تھی۔

“اپنا تماشہ بند کرو اور لوگوں کے رخصت ہونے تک اپنی بکواس بھی بند رکھنا ورنہ جان سے جاو گے۔” اس کی ہٹ دھرمی دیکھتے ہوئے جعفر سائیں آگے بڑھے اور لوگوں کو متوجہ ہوتے دیکھ کے چہرے پہ بمشکل نارمل تاثرات سجائے وہ دبے دبے لہجے میں غرائے تو اس نے بایاں ابرو ہولے سے اچکاتے ہوئے سسر کے تیور و دھمکیاں ملاحظہ کیں۔
جبکہ گردیزی پیلس کے افراد ان کی دھمکی سن کے دہل سے گئے اور رضا گردیزی بے ساختہ رہبان کی جانب بڑھے۔

“ایسہ دھمکیاں دینے سے بہتر ہے کہ آپ میری بیوی کو میری ساتھ رخصت کر دیں۔” اس نے سنجیدگی سے ایک اچٹتی نگاہ نیٹ کے پردے کے اس پار بنے سٹیج کے دوسرے حصے پہ ڈالی جہاں اس وقت اس کی ‘بیوی’ براجمان تھی۔
وہ نہیں جانتا تھا کہ وہ یہاں ہونے والی گفتگو سے واقف ہو رہی تھی یا نہیں لیکن وہ یہ ضرور جانتا تھا کہ جب وہ اس گفتگو کا ماخذ جانے گی تب وہ مر مٹنے پہ تُل جائے گی۔

“رہبان فضول کی ضد نہیں کرو،جب ایک بات طے تھی تو اس پہ اتنا فضول ردعمل کیوں دے رہے ہو؟” رضا گردیزی نے اس کے نزدیک ہوتے ہوئے اسے ڈپٹا کیونکہ اب لوگ سٹیج کی طرف متوجہ ہوتے چہ مگوئیاں کرنے لگے تھے اور یہ بات معاملے کو سنگینی بخش رہی تھی۔

“یہ فضول ضد نہیں ہے نہ یہ فضول ردعمل ہے، یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ کچھ دیر قبل میرا ان کی بیٹی سے نکاح ہوا ہے اور میں ایسا بے غیرت ہرگز نہیں بنوں گا کہ اسے لاوارثوں کی طرح ایک رسم کی بھینٹ چڑھانے کو یہیں کہیں چھوڑ جاوں وہ بھی اس صورت میں جب میرا نام اس کے ساتھ جڑا رہے گا۔” بنا کسی خوف و خطر وہ مضبوط و بلند لہجے میں بولا تو سٹیج کے پار موجود خواتین کے نرغے میں سر جھکائے بیٹھی ‘آبگینے’ کا وجود ہوا میں معلق ہوا۔
جبکہ اس کی باتیں سنتی بی جان سمیت گردیزی پیلس کے افراد کے چہروں پہ گھبراہٹ, شرمندگی و خوف کے تاثرات نمایاں ہونے لگے تھے کیونکہ
اپنے اصول و روایات کے متعلق اس کی ایسی ہتک آمیز باتیں سن کے پیر جویلی کے سبھی افراد کے ضبط کا پارہ ان کے ہاتھوں سے چھوٹ گیا اور سفیر سائیں اپنی جیب میں اٹکی پسٹل نکال کے اس کے سینے پہ تان گئے۔

“رہبان!” ایک دم سے بہت سے لوگوں کی چیخ و پکار کے ساتھ گولی کی گونج پہ اس کے لفظوں کے حصار میں ساکت بیٹھی آبگینے حواس کھوتی چلی گئی۔

جاری ہے۔۔