57.1K
55

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 8

“دل تیرے سنگ جوڑ لیا”
از
حوریہ ملک

آبگینے کے حواس کھوتے وجود کو سنبھالتی خواتین ٹھٹھک سی گئیں کیونکہ وہاں صرف ایک گولی کی گونج نہیں سنائی دی تھی بلکہ اس کے بعد یکے بعد دیگرے بہت سی گولیوں کی گونج سنائی دینے لگی یوں محسوس ہوتا تھا کہ جیسے ہوائی فائرنگ کی جا رہی ہو۔

سفیر سائیں جو اس کے سینے پہ پسٹل رکھے ٹریگر دبانے ہی والے تھے کہ پہلی گولی کی گونج پہ چونک کے آواز کے تعاقب میں دیکھا جو ایک شخص ہاتھ میں چمکتا ہوا سیاہ پسٹل لیے بہت سکون سے ان دونوں کی طرف ہی دیکھ رہا تھا جبکہ اس کے پسٹل کی نال سے نکلتا دھواں بتا رہا تھا کہ ابھی گولی چلانے والا وہی تھا۔
اور پھر اسی پہ اکتفا نہ ہوا تھا اُن سب کے سنبھلنے اور سمجھنے سے قبل رہبان گردیزی کے بلائے گئے ‘مہمان دوست’ بھی اپنے کھلونے نکال کے اس کے نکاح کا جشن منانے لگے۔

تبھی ان سب کے متغیر چہرے دیکھتے ہوئے اس کے خوبرو چہرے پہ بڑی محظوظ کن مسکراہٹ سی پھیلی اور وہ سفیر سائیں کے پسٹل کی نوک اپنے سینے سے ہٹاتے ہوئے بڑے اطمینان سے گویا ہوا۔

“بہت معذرت چچا سائیں لیکن پولیس والا ہوں بنا ہتھیاروں کے کہیں نہیں جاتا۔” ان سے کہتے ہوئے اس نے بائیں آنکھ دباتے ہوئے پیچھے کھڑے شخص کو دیکھا اور واپس اپنے سسرالیوں کی طرف متوجہ ہو گیا جو اس کی اس حرکت پہ آگ بگولہ ہو چکے تھے۔

“نصرت بی!کیا تم نے اپنے پوتے کو اس رسم کے متعلق آگاہ نہیں کیا تھا یا تم بھی اس بدبخت کے ساتھ مل کے ہماری توہین کرنے کا ارادہ بنا کے آئی تھی؟” پیر سائیں بی جان کی طرف دیکھتے ہوئے پرجلال لہجے میں گویا ہوئے تو بی جان زارو قطار روتے ہوئے نفی میں سر ہلانے لگیں۔

“ن۔۔نہیں پیر س۔۔۔۔۔۔” وہ اپنے مرشد کو ناراض نہیں کرنا چاہتی تھیں جن کی دعاوں سے ان کی نسل چلی تھی لیکن رہبان کو کم از کم بی جان کا یوں رونا قطعی برداشت نہ ہوا۔

“یہاں موجود میرے خاندان کا کوئی بھی شخص میرے ارادوں سے باخبر نہیں تھا اور اب باخبر ہونے کے بعد اِن سمیت آپ سب میں سے کسی کی بھی جرات نہیں جو مجھے میری بیوی لے جانے سے روک سکے۔” وہ اپنی بلند اور پرعزم آواز میں قدرے ناگواری سےبولتا ہوا سٹیج سے نیچے اترا تو اس کی بلند آواز پہ چہ مگوئیاں کرتے مہمان مزید اس ہنگامے کی جانب متوجہ ہو گئے۔

“اور برائے مہربانی اپنے کارندوں سے کہہ دیں کہ اپنے کھلونے نیچے پھینک دیں کیونکہ ان کا استعمال مجھے بہت اچھے سے آتا ہے اور میرا ان کو استعمال کرنا نا صرف یہاں تباہی مچائے گا بلکہ آپ کے نام و شہرت کے لیے بھی خطرے کا باعث ہے۔” زنان خانے کی جانب بڑھتے ہوئے جب راستے میں اسے پیر سائیں کے کارندوں نے روکنے کی کوشش کی تو وہ ان کی جانب مڑتا ان سب کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے بے لچک و سرد انداز میں بہت گہری دھمکی دیتا ہوا مضبوط قدموں کے ساتھ زنان خانے کی جانب بڑھا تو ایک نظر دور کھڑے پسٹل تھامے اُس وجیہہ شخص کو دیکھتے ہوئے پیر حویلی کے افراد نے مارے ضبط کے زور سے مٹھیاں بھینچیں اور قہرآلود نگاہوں سے اس کی جانب دیکھنے لگے جو آج ان کی عزت، ان کی رسم و رواج کو مٹی تلے روندنے پہ تُلا ہوا تھا۔

اسے پھولوں کی لڑیاں ہٹا کے اس طرف آتے دیکھ کے لڑکیوں سمیت بڑی خواتین کی بھی آنکھیں مارے ستائش کے چمکنے لگیں اور بے ساختہ آبگینے کی قسمت پہ رشک آنے لگا جس نے اتنا خوبصورت و جی دار مرد اس کے نصیب میں لکھا تھا۔

“السلام علیکم!” بنا کسی خاتون کی جانب نظر اٹھا کے دیکھے وہ اپنی خوبصورت آواز میں انہیں سلام کرتا سٹیج کی جانب بڑھا جہاں صوفے پہ اس کی منکوحہ بنا ہوش و حواس ایک سائیڈ کو لڑھکی پڑی تھی۔

“آپی آبی کے شوہر کی شکل کیا آواز ہی اتنی پیاری ہے کہ آبی ان کی آواز سنتے ہی تمام ناراضگی بھول جایا کرے گی۔” مریم رہبان کو اشتیاق سے دیکھتے ہوئے زاہرہ کے کان میں گھسی تو اس نے اسے ٹہوکا مارتے ہوئے چپ رہنے کا اشارہ کیا کیونکہ ماحول اس وقت انتہائی ناساز محسوس ہو رہا تھا۔

“مجھے ان کی کوئی شال یا بڑی چادر دے دیں۔” اس کے وجود کو ہاتھ لگانے سے قبل اس نے ہلکی سی گردن موڑتے ہوئے بنا کسی کو مخاطب کیے اپنی بات کہی تو ساجدہ بیگم اپنی شال لیے آگے بڑھیں۔

“اگر ہمت کر کے اسے اس آزمائش سے نکالنے کی جرات کی ہے تو آئندہ زندگی میں بھی اس کا ساتھ دیتے رہنا بیٹا اور اس کی غلطیوں کو اس کے گلے کا پھندہ ہرگز نہ بنائیے گا کیونکہ یہ بات آپ بھی جانتے ہو کہ اس کے لیے واپسی کا ہر روزن بند ہونے والا ہے۔” اپنی شال اس کے ہاتھوں میں تھماتے ہوئے وہ مدہم مگر پرملال لہجے میں گویا ہوئیں تو اسے معلوم ہو گیا کہ یہ آبگینے کی ماں ہیں تبھی اس کے سنجیدہ چہرے پہ ہلکی سی مسکان پھیلی۔

“آپ ہم دونوں کے لیے دعا کیجیے گا۔” نرمی سے کہتے ہوئے اس نے سر جھکا کے ان سے پیار لیا اور پھر چادر پھیلا کے آبگینے کے وجود پہ ڈالنے ہی تھا کہ عقب سے طلال جعفر زور سے پھنکارا۔

“رہبان گردیزی!میری بہن سے اپنے ہاتھ دور رکھنا ورنہ تمہاری آنے والی نسلیں تک اس کا خمیازہ بھگتیں گی۔” اس کی اس قدر فضول دھمکی پہ رہبان کی کشادہ پیشانی پہ بل پڑے جبکہ چہرے پہ فورا ناگواری پھیلی۔

“میں آج ایک نئے سفر کے آغاز میں تمہاری بہن کو اس کے میکے کی طرف سے کوئی ناقابلِ تلافی دکھ نہیں پہنچانا چاہتا ورنہ تمہارے قد سے بڑی اس گیڈر بھبھکی کا سبق تمہیں ضرور دیتا۔” چبھتے ہوئے طنزیہ لہجے میں کہتے ہوئے وہ مڑا اور آبگینے پہ چادر پھیلا کے بڑے استحقاق سے اس کے نازک وجود کو اپنی بانہوں میں اٹھایا تو اس نرم و نازک وجود کے لمس سے شاید پہلی دفعہ سینے میں مقید دل نے دھڑکنوں کی لے بدلی تھی۔

“جو آج تم کر رہے ہو نا اس پہ تم تاعمر رونے والے ہو رہبان گردیزی۔” آبگینے کو خود میں سمیٹے جب وہ ششدر سے کھڑے اپنے گھر والوں اور غیض و غضب کا شکار ہوتے آبگینے کے گھر والوں کے درمیان میں سے گزرنے لگا تو پیر سائیں نے چبھتے ہوئے لہجے میں اسے وارن کیا تو اس نے گردن گھما کے اس کی جانب دیکھا۔

“آپ کی دھمکیوں میں کوئی دم خم ہوتا تو میں اب تک یہاں زندہ سلامت کھڑا نہ ہوتا۔” ایک گہرا اور کاٹ دار وار اپنے طنزیہ لفظوں سے کرتا ہوا وہ بڑے اطمینان سے اپنی ‘بیوی’ کی عظیم و شان رخصتی کروا کے وہاں سے چلتا بنا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ بے حرکت و ساکت اس کے مضبوط مگر بے یارو مددگار وجود پہ پڑی پھٹی پھٹی نگاہوں سے اس کا چہرہ تک رہی تھی جو بے چینی سے سر ادھر اُدھر پٹختا دھیرے دھیرے اس کی کلائی پہ گرفت سخت سے سخت تر کرتا جا رہا تھا۔

“ماما!ماما!” اس کی سرگوشی نما پراذیت سسکیاں بڑھتی جا رہی تھیں اور ان سسکیوں کے ساتھ اس کی خود پہ پڑی زحلے کی کلائی پہ گرفت بھی سخت سے سخت تر ہوتی چلی جا رہی تھی جس کے باعث اس کی کلائی درد سے سن ہونے لگی۔

“ذو۔۔ذوالنورین!چھوڑو مجھے پلیز۔” اپنی پوری ہمت مجتمع کرتے ہوئے اس نے پوری قوت لگا کے اس کی گرفت سے اپنی کلائی آزاد کروانے کی کوشش کرتے ہوئے اس سے فاصلہ قائم کیا۔
لیکن اس شخص کے وجدان کو نجانے کون سا خوف لاحق ہو چکا تھا یا وہ کس خواب و احساس کے شکنجے میں تھا کہ وہ گرفت ڈھیلی کرنے کی بجائے مزید سخت کرتا اس کے اور اپنے درمیان فاصلے کو بتدریج پھر سے کم کرتا زحلے کے وجود کو دہکتی انگیٹھی کی نذر کر چکا تھا۔
بے سدھ پڑے ذوالنورین کے مضبوط وجود کا لمس، مردانہ کلون کی دلفریب مہک، اس کی بوجھل ہوتی سانسوں کی پرتپش لپک اور اس کی مخدوش حالت اسے گہرے خوف میں مبتلا کر رہی تھیں تبھی اس کی مزاحمت میں تیزی آنے لگی مگر جب اس کی گرفت سے آزادی نہ مل سکی تو بے بسی، کم مائیگی اور غصے کی ملی جلی کیفیات کے زیرِ اثر اس کا دوسرا ہاتھ اٹھا اور پوری قوت کے ساتھ بے چینی سے بڑبڑاتے ہوئے ذوالنورین کے منہ پہ جا پڑا اور اس غیرمتوقع تھپڑ کی گونج اور اثر اس قدر گہرا ضرور تھا کہ نیم بیہوشی کی طرف مائل ذوالنورین میر کا دماغ ایک جھٹکے سے جیسے کسی گہرے خواب سے جاگا تھا اور وہ پٹ سے اپنی آنکھیں کھولتے ہوئے اسے دیکھنے لگا جو اس کے بے تحاشا نزدیک جھکی روتے ہوئے چہرے اور آنکھوں میں مختلف تاثرات سجائے اسے ہی تکتی مسلسل کلائی چھڑوانے کی کوشش کر رہی تھی۔

“میرا ہاتھ چھوڑو۔” اس نے اسے ہوش میں آتے دیکھ کے اس کی گرفت میں مقید کلائی کو حرکت دیتے ہوئے چھڑوانے کی کوشش کی۔

“مجھے تھپڑ کیوں مارا؟” اس کی حرکت کو نظرانداز کرتے ہوئے وہ اس کے نم چہرے کو اپنی سرخ ہوتی آنکھوں سے دیکھتا ہوا وحشت زدہ لہجے میں بولا تو وہ چٹخ ہوتی۔

“یہ تھپڑ اس لیے مارا کہ آپ شاید ہوش و حواس میں آ جائیں اور جان سکیں کہ آپ کس قدر اخلاقی گراوٹ کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی ٹیچر کے ساتھ زبردستی کر رہے ہیں۔” وہ اپنی پوری قوت لگا کے اپنی کلائی اس کی گرفت سے آزاد کرواتی قدرے بلند آواز میں بولی تو وہ ایک جھٹکے سے اٹھ بیٹھا۔

“گیٹ آٹ، آئی سیڈ گیٹ آوٹ۔” اس کی طرف انگلی سے اشارہ کرتا وہ بلند آواز میں دھاڑا لیکن وہ اپنی جگہ سے ہلی نہیں۔

“میں آپ کو پڑھانے کی ایڈوانس فیس لے چکی ہوں اس لیے مجھ پہ چلانے کی بجائے خدارا اپنے حواسوں کو قابو میں رکھیں اور مجھے میرا کام ختم کرنے دیں۔” وہ جانتی تھی وہ آج اس کی اس قدر نفرت پہ وہاں سے چلی بھی جائے تو کل پھر سے اسے واپس یہیں آنا تھا اس لیے وہ بہت سپاٹ انداز میں اپنی عزتِ نفس کو روندتے ہوئے بے تاثر لہجے میں گویا ہوئی اور اس کے ضبط سے سرخ پڑتے چہرے کو ایک نظر دیکھ کے دروازے کی جانب بڑھ گئی کیونکہ یہ وقت اس کے لنچ کا تھا اور اسے اس کے لیے لنچ لے کے آنا تھا۔

اپنی اپنی جنگ میں مصروف وہ دونوں ہی یہ بات نہ جان سکے تھے کہ نیچے اپنے سٹڈی روم میں بیٹھی شازمین میر بہت محظوظ کن مسکان ہونٹوں پہ سجائے اپنے موبائل کو تک رہی تھی جہاں اُس لمحے کی تصاویر جگمگا رہی تھیں جب زحلے ابراہیم ذوالنورین میر کے چوڑے وجود کا حصہ بنی اس پہ پڑی تھی۔

اور یہیں سے ان دونوں کی زندگی کا ایک عجیب سا دور شروع ہونے والا تھا جس کی منزل سے وہ دونوں ہی لاعلم تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“تاریخ میں رقم کیا جانا چاہیے کہ ایک ایسا مرد بھی تھا جو اپنی ہی بیوی جسے اس نے دیکھا تک نہ تھا اس کی رخصتی اس کی بیہوشی میں اسی کے میکے والوں کی بندوقوں تلے کروا کے لایا تھا۔” گاڑی کا سٹیئرنگ دائیں ہاتھ میں تھامے وہ بہت ریش ڈرائیونگ کرتا اپنی منزل کی طرف گامزن تھا جب موبائل پہ آنے والے وائس نوٹ کو سن کے اس کے ہونٹوں پہ بڑی جاندار سی مسکان پھیلی تھی۔
اس نے فورا کال ملا کے کان میں بلیو ٹوتھ ایڈجسٹ کیا۔

“ہو گا کیا مجھ سے بڑھ کے بھی کوئی عاشق مزاج زن مرید؟” اس کی بات کو انجوائے کرتے ہوئے اس نے ایک گہری نگاہ بیک سیٹ پہ پڑے بیہوش سراپے پہ ڈالی تو دوسری جانب اس نے زیرِ لب اسے بہت مہذب سی گالی سے نوازا۔

“ابھی کہاں جا رہے ہو تم؟” اس نے استفسار کیا۔

“فی الحال تو اپنی بیوی کو کڈنیپ کر کے لے جا رہا ہوں کیونکہ بیوی کے سسرالی اور میکے والے دونوں ہی دشمن بنے ہوئے ہیں۔” مصنوعی بیچارگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس نے گیئر بدلا تو دوسری جانب کال پہ موجود وہ مسکرا دیا۔

“اوکے گڈ لک، اپنا اور بھابھی کا بہت سارا دھیان رکھنا اور فکر نہیں کرنا کیونکہ ادھر میں سب سنبھال لوں گا۔” محبت سے اسے تسلی دیتے ہوئے اس نے الوداعی کلمات کہتے ہوئے کال بند کی تو گاڑی ڈرائیو کرتے ہوئے رہبان نے اب کی بار ایک پرتپش سی نگاہ اس کے سجے سنورے مگر بے سدھ سراپے پہ ڈالی۔

“اب آپ سے باضابطہ ملاقات کا وقت ہوا چاہتا ہے مس آبگینے جعفر،اونہوں بلکہ۔۔۔۔” دل ہی دل میں اسے محوِ کلام ہوتے ہوئے اس نے ہولے سے سر جھٹکا اور ایک قاتل سی مسکان ہونٹوں پہ سجاتا پرشوق انداز میں سرگوشی نما آواز میں بولا۔

“مسز آبگینے رہبان!”
۔،،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ؐلاونج میں پڑے صوفے کی پشت سے ٹیک لگاتے ہوئے اس نے وہیں فلور کشن پہ بیٹھی آیت کو اپنے لیے چائے لانے کا کہہ کے آنکھیں موند لیں کیونکہ اس وقت وہ انتہائی تھکاوٹ محسوس کر رہا تھا۔

“ضرغام آپ کب آفس سے چھٹیاں لے رہے ہو کیونکہ شادی میں تو بس کچھ ہی دن باقی ہیں۔” مہوش بیگم لاونج میں آئیں تو اسے وہاں براجمان دیکھ کے انہیں بروقت یاد آیا تو پوچھ بیٹھیں۔
جبکہ ان کے سوال پہ اس نے آنکھیں کھولتے ہوئے انہیں دیکھا اور پھر قدرے خفگی سے سر جھٹکا۔

“فار گاڈ سیک چچی!اب میں شادی کے لیے لڑکیوں کی طرح کام کاج چھوڑ کے گھر بیٹھنے سے تو رہا۔شادی کا فنکشن تین دن کا ہوتا ہے تب نہیں جاوں گا آفس۔” وہ سنجیدگی سے کہتے ہوئے واپس پلکیں موند گیا۔

اب ان کو کیا بتاتا کہ وہ جو پل گھر میں گزارتا تھا وہ بھی اس کے لیے کسی قیامت سے کم نہ ہوتے تھے۔

“بھئی چاچو آپ آفس سے چھٹیاں لیں یا نا لیں لیکن آج سے آپ رات ساڑھے نو سے ساڑھے بارہ بجے تک ٹائم ضرور دیں گے۔آخر کو آپ کی شادی ہے کوئی ڈھولک نام کی بھی شے ہوتی ہے۔” شاہ زیب ملک (شہرے کا بھائی) شہرے کے ساتھ لاونج میں داخل ہوتا اس کی بات سن کے جواباً بولا تو اس نے بڑے سرد انداز میں ان دونوں کو گھورا۔

“شاہ زیب اگر تم آج اس اتھڑے گھوڑے کو اس بات پہ منوا لو تو میری طرف سے تمہارے لیے گفٹ ہو گا۔” ضرغام جو اپنی ریزروڈ فطرت کے باعث گھر میں کسی کو بھی بہت فرینکلی میسر نہ ہوتا تھا اسے شاہ زیب کی گرفت میں آتا دیکھ کے جازم شرارت سے بولا تو ضرغام نے بے دریغ اسے گھورا۔

“مجھے کوئی بھی شخص کسی بھی بات کسی بھی رسم کے لیے فورس نہ کرے ورنہ میں ہر طرح کی رسم ختم کر کے سادگی سے شادی کر لوں گا۔” اس بے مروتی سے کہتا ہوا اپنی جگہ سے اٹھا تو ساری نوجوان پارٹی اس سنگ دلی کے مظاہرے پہ جیسے تڑپ اٹھی تھی۔

“نگاہ چچی کے کہنے پہ بھی بات نہیں مانیں گے کیا؟” اسے وہاں سے جاتے دیکھ کے شہرے نے اپنے تئیں بہت زبردست لالچ دینے کی کوشش کی جبکہ ہمیشہ کی طرح اُس کے منہ سے نگاہ کا نام سن کے اس کا وجود جھلس سا گیا۔

اور وہ بنا اسے کوئی جواب دیے لمبے لمبے ڈگ بھرتا ہوا وہاں سے نکلتا چلا گیا۔

“اتنے کھڑوس تو کوئی بھی نہیں ہیں جتنے یہ حضرت ہیں، اگر یہ مجھے پیارے نہ لگتے ہوں تو جتنی یہ بے مروتی دکھاتے ہیں میں کبھی مر کے بھی انہیں مخاطب نہ کرتی۔” شہرے کو اس کا بنا جواب دیے جانا اتنا کھِلا کہ وہ سب کی طرف گول گول آنکھیں گھما کے دیکھتی نروٹھے لہجے میں بولتی چلی گئی جبکہ اس کی باتیں سنتے ہوئے وہ سب مسکرا رہے تھے۔

یہ جانے بغیر کہ جب جب شہرے ملک اس گھر میں قدم رکھتی تھی اور ضرغام ملک یا نگاہ واحدی سے ہمکلام ہوتی تھی تو اس لمبے چوڑے مرد کا دل ریزہ ریزہ ہو جایا کرتا تھا۔

کیونکہ محبوب کی بے خبری دنیا میں سب سے زیادہ اذیت ناک ہوتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“اچھا بابا میں اب چلتی ہوں۔” ابراہیم صاحب کی کنپٹی اپنے ہونٹوں سے چھوتے ہوئے اس نے ان سے اجازت طلب کی جب وہ اپنی نقاہت زدہ آواز میں بولے۔

“آج چھٹی کر لو میری بیٹی، تمہیں رات سے تیز بخار ہے اور ابھی تک وہی حالت ہے۔اگر آرام نہ کیا تو طبیعت زیادہ بگڑ جائے گی۔” وہ متفکر لہجے میں بولے، چہرے پہ پریشانی اور بے بسی نمایاں تھی۔

“بابا میں ٹھیک ہوں، واپسی میں اپنے لیے میڈیسن بھی لیتی آوں گی اگر طبیعت زیادہ خراب محسوس ہوئی۔” وہ ان کے ہاتھ چومتے ہوئے تسلی آمیز لہجے میں بولتی انہیں خدا حافظ اور ان کے میل اٹینڈینٹ کو ان کے متعلق ہدایات دے کے گھر سے نکل پڑی۔

اپنے مقررہ وقت پہ جب وہ ‘میر پیلس’ پہنچی تو بہت غیر متوقع طور پہ پہلا سامنا لاونج میں موجود شازمین میر سے ہوا جو اسے دیکھتے ہی اپنے ساتھ آنے کا اشارہ کرتیں ایک روم کی جانب بڑھیں تو اسے چارو ناچار اس کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اس کے پیچھے اس کمرے میں داخل ہونا پڑا۔

“یہ لگاو اپنے چہرے اور ہونٹوں پہ اور اپنے بال کھول کے انہیں اس کیچر میں سمیٹو۔” کمرے میں داخل ہوتے ہی بنا کسی تمہید کے انہوں نے ڈریسنگ ٹیبل پہ پڑی لپ اسٹک، کریم اور کیچر کی جانب اشارہ کیا تو اس نے ایک جھٹکے سے ان کی جانب دیکھا لیکن ان کے چہرے پہ چھائے ناقابلِ فہم تاثرات کو دیکھ کے اس کے اندر جنم لیتے الفاظ وہیں دم توڑ گئے۔
اور وہ خاموشی سے کریم اپنے چہرے پہ لگانے کے بعد پنک لپ اسٹک اپنے خوبصورت کٹاو دار ہونٹوں پہ سجانے لگی۔
اس سے فارغ ہونے کے بعد اس نے بڑے روبوٹک انداز میں ہاتھ اپنے سر کی جانب بڑھاتے ہوئے چادر سر سے سرکائی اور چٹیا پکڑ کے اس کے بل کھولنے کے بعد انہیں کیچر لگا کے باقی کھلا چھوڑ دیا۔

“ٹھیک ہے۔” سپاٹ انداز میں کہتی وہ ان کی جانب مڑی اور ان کے مسکرانے پہ چادر واپس سر پہ ٹکائی لیکن اس بار چادر گردن تک کسی نہ تھی بلکہ اتنی ڈھیلی ضرور رکھی تھی کہ شازمین میر کی محنت نظر آ سکے۔

“اب جاو تم اور جو کام تمہیں کہا تھا اس میں تیزی لاو۔” حکمیہ انداز میں کہتے ہوئے انہوں نے اسے جانے کا اشارہ کیا تو وہ کچن کی جانب بڑھی اور وہاں سے ناشتے کی ٹرے لے کے ذوالنورین کے کمرے کی جانب چل دی۔

حسبِ معمول کمرے کا دروازہ ادھ کھلا تھا اس لیے وہ بازو کے دباو سے دروازہ پورا کھولتی ہوئی ناشتے کی ٹرے لیے اندر داخل ہوئی اور ٹرے لے جا کے اُس کے سامنے پڑی میز پہ رکھ دی۔

“ناشتہ کر لو اپنا۔” معمول کی مانند اپنا جملہ دہراتی وہ ایک سائیڈ پہ پڑی کرسی پہ براجمان ہو گئی۔

“واشروم جائیں اور اپنا منہ دھو کے بال سمیٹ کے آئیں۔” کرسی پہ بیٹھنے کے بعد وہ جو عادتاً ہاتھوں کی لکیریں کھوجنے لگی تھی اس کی غیرمتوقع سی بھاری آواز سن کے اس نے ایک جھٹکے سے سر اٹھا کے اسے دیکھا جو اس کی جانب دیکھے بغیر ناشتہ کرنے میں مصروف تھا۔

“میں نے کہا واشروم جا کے اپنا منہ دھو کے آئیں۔” اسے ہنوز وہیں کسی سنگی مجسمے کی مانند ایستادہ دیکھ کے اس نے اپنے الفاظ واپس دہرائے تو وہ مزید الجھی۔

“اس فضول بات کا کیا مقصد ہوا؟” اس نے بھنویں اچکاتے ہوئے سنجیدگی سے استفسار کیا تو وہ تلخی سے ہنس دیا۔

“اگر جو میں اس معذوری میں مبتلا نہ ہوتا تو کیا تب بھی آپ یوں میرے کمرے میں بیٹھی مجھ سے ایسا بیوقوفانہ سوال کر رہی ہوتیں مس ابراہیم؟” اس کی خوبصورت پلکوں سے سجی خوابیدہ آنکھوں میں نجانے اس وقت کیسا تاثر تھا کہ اس کی ریڑھ کی ہڈی تک سنسنا اٹھی تھی۔
اور شاید اسی تاثر سے گھبراتے ہوئے وہ اٹھی اور بھاگنے کے سے انداز میں واشروم کی جانب بڑھ گئی۔
جبکہ اس کی گھبراہٹ سے بے نیاز وہ معمول کی مانند اپنی ٹانگوں پہ سیاہ چادر پھیلائے واپس ناشتے کی جانب مشغول ہو چکا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“ایک بات پوچھوں آپ سے؟” حسبِ معمول وہ اپنا کام ختم کرنے کے بعد نگاہ سے کال پہ بات کر رہا تھا جب اس نے قدرے سنجیدگی سے تمہید باندھی تو وہ ہلکا سا چونکا کیونکہ وہ بات کوئی بھی ہو کرنے یا پوچھنے سے قبل ایسی کوئی بھی تمہید نہ باندھتی تھی۔

“پوچھیں۔” یک لفظی جواب دیتے ہوئے وہ اس کے مزید بولنے کا منتظر تھا۔
جب اس نے لب کھولتے ہوئے اس کے سر پہ گویا دھماکہ کیا تھا۔

“آپ شہرے کو پسند کرتے ہیں؟”

جاری ہے