57.1K
55

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 38

“دل تیرے سنگ جوڑ لیا”
از
حوریہ ملک
Episode#38;

رہبان سمیت آبگینے اور ساجدہ بیگم نے پلٹ کے دروازے کی جانب دیکھا جہاں کھڑی نسرین بیگم کاٹ دار نگاہوں سے رہبان اور آبی کو دیکھ رہی تھیں۔

“مجھے نہیں پتہ تھا کہ یہاں بھابھی بیگم گھر کے دشمنوں سے ایسا پیار رکھتی ہے کہ انہیں رات کے اندھیرے میں کمرے تک بلا لیتی ہے۔” زہر خند لہجے میں بولتیں وہ ساجدہ بیگم کا رنگ فق کر گئیں جبکہ رہبان نے آبگینے کو سنبھالتے پیشانی پہ بل لیے انہیں دیکھا۔

“دیکھیے خاتون، ان میں اماں کا کوئی قصور نہیں ہے اس لیے ان کو ٹیز کرنے سے پہلے مجھ سے بات کر لیں۔” لہجہ بہت ٹھہرا ہوا تھا لیکن دل ہی دل میں جھنجھلاتے اس نے ٹائم دیکھا تھا۔

“تم سے کیا بات کروں؟دشمن ہو تم ہمارے اور یوں دھڑلے سے ہمارے زنان خانے میں آ کھڑے ہوئے ہو؟” وہ چٹخ اٹھی تھیں۔

“معذرت کے ساتھ لیکن میں خواتین سے دشمنی نہیں رکھتا اور اس طرف اس لیے آیا ہوں کہ آپ کی حویلی کے مرد میری بیوی اور ہونے والے بچے کو زبردستی لے کے آئے ہیں جنہیں مجھے لے کے جانا ہے۔” بایاں بازو آبگینے کے گرد لپیٹے وہ اسے اپنے حصار میں لیے ہوئے تھا جبکہ نگاہوں کا مرکز نسرین بیگم تھیں۔

“یہ ہماری بیٹی ہے اور اسے ہم اس شخص کے حوالے کبھی نہیں کریں گے جو میرے شوہر کو جیل میں ڈالے بیٹھا ہے۔” انہوں نے متنفر لہجے میں کہا تو رہبان نے زور سے دائیں ہاتھ کی مٹھی زور سے بھینچی۔

“آبگینے کو لے جانے سے مجھے کوئی نہیں روک سکتا اس لیے ایسی کوشش مت کیجیے گا اور جہاں تک بات ہے آپ کے شوہر کی تو ان کے جرائم اور مظالم کی فہرست اتنی لمبی ہو چکی ہے کہ جیل کیا پھانسی تک لے کے جاوں گا۔” ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے مضبوط لہجے میں بولتا وہ ان تینوں خواتین کی سانسیں روک گیا۔

“یہ کیا بکواس کر رہے ہو تم؟” کچھ دیر بعد سنبھلتے ہوئے وہ غرا اٹھی تھیں۔

“اس کی تفصیل آپ مجھ سے لے لیجیے گا اماں سائیں، ابھی اِس کو یہاں سے جانے دیں۔اس کی بہن دادا سائیں کے قبضے میں ہے اور اس کی عزت خطرے میں ہے۔” زارا کی سنجیدہ آواز پہ سب نے پلٹ کے دیکھا تو وہ دروازے کی چوکھٹ پہ کھڑی نم آنکھوں سے سب کو دیکھ رہی تھی۔

“بہن؟” دریہ سے متعلق ساجدہ بیگم اور نسرین بیگم دونوں بے خبر تھیں اس لیے ٹھٹھکیں اور شاید اسی لیے نسرین بیگم مزید کچھ بول نہ سکیں۔
کہ ایسی کریٹیکل سچویشن میں بھی وہ شخص بڑے تحمل کے ساتھ کھڑا ان کی باتیں سن رہا تھا۔
لیکن یہ نہ جانتی تھیں اس شخص کے اس تحمل کے پیچھے جان سے پیارے دوست کا ساتھ اور یقین تھا۔

“ہمیں اجازت دیں۔اور آپ لوگوں سے پیشگی معذرت ہے کہ آپ لوگوں کو ناقابلِ تلافی دھچکے ملنے والے ہیں۔مگر بہت سے گھروں کی عزت اور جان بچانے کے کبھی کبھار ایک آدھ کی قربانی دینا مناسب رہتا ہے۔” نپے تلے انداز میں انہیں بہت کچھ باور کروا کے وہ روتی ہوئی آبگینے کو بازو میں سمیٹے ان کے قریب سے ہوتا دروازے کی دہلیز پار کر گیا۔
جبکہ پیچھے کھڑی ساجدہ بیگم، نسرین بیگم اور زارا سائیں سائیں کرتے دل و دماغ کے ساتھ وہیں کھڑی رہ گئیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسے بخت خان کے کراچی سے جانے کی اطلاع ملی تو اس نے فوراً اپنے پلان کو ترتیب دی اور ولید میر تک پہنچنے کے عمل کو پایہٴ تکمیل تک پہنچانا چاہا۔

جس رات اسے ان لوگوں کی سچائی پتہ چلی تھی اسی دن اسے اندازہ ہو گیا تھا کہ ولید میر ان کے قبضے میں ہی ہے اور جس دن وہ اپنے پیروں پہ مکمل طور پہ کھڑا ہو گیا تب اسے یقین ہونے لگا کہ انہوں نے اپاہج ذوالنورین اور ذہنی توازن کھوئی کلثوم میر کو ولید میر کے لیے ایک مہرے کے لیے اور ولید میر کو ان دونوں کے لیے ایک مہرے کی صورت میں زندہ رکھا تھا۔

اس سب کے متعلق جاننے پر اس نے اپنی کچھ عرصے کی سروس کے دوران بنائے گئے پراعتماد دو چار ساتھیوں کو ساتھ ملایا اور باپ کی تلاش تیز تر کر دی۔

“سر!آپ کو یقین ہے کہ آپ کے ڈیڈ کو یہاں ہی رکھا گیا ہے؟” کراچی کے ڈیفینس ایریے میں بنے نسبتاً درمیانے سائز کے فلیٹ کی جانب بڑھتے اس کے ایک ساتھی نے دریافت کیا۔

“زاہد!بخت خان سفیر سائیں کا دیا گیا حرام کھا رہا ہے اس لیے وہ ایسی ہی لگژری زندگی کا عادی ہو چکا ہے۔ایسے میں مجھے یقین ہے کہ ڈیڈ کو اُس نے اپنے فلیٹ میں ہی رکھا ہو گا۔” اس کے مضبوط لہجے میں ایک یقین پنہاں تھا جس پہ بھروسہ کیے اس کے ساتھی بہت محتاط قدموں سے آگے بڑھ رہے تھے۔

بخت خان کو کم از کم کراچی کے اس ایریے میں اپنے کسی دشمن کا خطرہ تو اپنے تئیں تھا نہیں اس لیے فلیٹ کے اردگرد کوئی مشکوک آدمی چوکیداری کرتا نظر نہ آیا۔
ایسے میں بہت چالاکی اور احتیاط سے فلیٹ کا دروازہ مختلف حربے آزما کے کھولنے کے بعد جب وہ فلیٹ میں داخل ہوئے تو ہال میں دو لوگ نیوز دیکھتے نظر آئے۔
ان کے دیکھنے سے قبل اس کے ایک ساتھی نے سرعت سے آگے بڑھ کے ان کے ناک پہ کلوروفام سے بھیگا رومال رکھا تو وہ ہوش و خرد سے بیگانہ ہو کے لڑھک گئے۔

اگلے پانچ منٹوں میں فلیٹ کا کونہ کونہ چھان لینے کے بعد جب ذوالقرنین میر کا حوصلہ اور امید ٹوٹنے لگی تھی اسی لمحے باہر جانے والے دروازے کے پاس انہیں غیرمعمولی سا محسوس ہوا تو اس نے اس دروازے کو مزید بائیں جانب دھکیلا تو یہ دیکھ کے حیران رہ گیا کہ اس دروازے کے مخالف سائیڈ پہ کھلنے پہ ایک سٹور نما کمرہ سامنے آیا تھا۔

ملگجے اندھیرے میں ڈوبے اس کمرے کو دیکھ کے اس کا دل تیزی سے دھڑک اٹھا۔وہ تیزی سے آگے بڑھا تو زاہد نے لائیٹ جلائی۔
روشنی میں انہیں کرسی پہ کمزور اور قدرے حواس الباختہ ہوئے ولید میر دکھائی دیے تو آنکھوں میں بجتے دیے پھر سے جل اٹھے۔

“ڈ۔۔ڈیڈ!” نین کے ہونٹوں سے سرگوشی نما آواز میں نکلا اور پھر اس نے بھاگنے کے سے انداز میں آگے بڑھ کے انہیں سنبھالا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آنکھوں میں ناقابلِ فہم تپش لیے وہ بھاری دل کے ساتھ اس تاریک کمرے کا دروازہ کھول کے اندر داخل ہوا۔
جہاں اس کی آنکھوں پہ کالی پٹی باندھے اسے کرسی پہ بٹھا کے دونوں ہاتھ پشت پہ لے جا کر باندھے ہوئے تھے۔

“یہ نفرت اور انتقام میں رچائے گئے کھیل کتنے اذیت ناک ہوتے ہیں۔” فیروزی سوٹ میں ملبوس دریہ جس کی پونی ٹیل سے لٹیں بکھری ہوئی تھیں جبکہ دوپٹہ کندھے پہ بکھرا پڑا تھا اور چہرے پہ آنسووں کے مٹے ہوئے نشانات۔

اسے اس حال میں دیکھ کے جانے کیوں دل کو تکلیف ہونے لگی تھی۔
حالانکہ وہ اسے اس سے بھی زیادہ تکلیف سے دوچار کرنا چاہتا تھا کہ رہبان گردیزی تڑپ اٹھے۔
مگر یہ کمبخت دل کو کیونکر تکلیف ہونے لگی تھی؟؟
دل و دماغ سے جنگ لڑتے اس کے قدم بہت آہستگی سے اس کی جانب بڑھنے لگے تھے جو اس کے اور اس کے باپ کی گفتگو سن کر سو بار جی تھی اور سو بار مری تھی۔

جینے کا سبب یہ تھا کہ وہ شخص کم از کم اس کے اغوا کا سبب نہ تھا جسے پہلی دفعہ دیکھ کر اسے وہ اپنا ‘مددگار’ سمجھی تھی۔
اور مرنے کے لیے یہی بات کافی تھی وہ شخص اس تک کس مقصد کے لیے آیا تھا۔اور آج اگر اس کے گھر والے جلدی نہ کرتے تو شاید اس کمرے میں وہ اسے اپنے جال میں پھنسا کے لے آتا۔

بوجھل قدموں سے چلتے ہوئے وہ اس کے بے حد نزدیک جس کے رکا تو بے سدھ پڑی دریہ کے حواسوں سے اس کے کلون کی مہک ٹکرائی تو وہ چونکی۔
وہ اس کلون کو پہچانتی تھی۔
وہ کلونز کی دیوانی تھی اور جو شخص ایک دفعہ بھی اس کے نزدیک آتا وہ اس کے کلون کو پہچان لیتی تھی۔ جبکہ طلال شاہ بدقسمتی سے بہت بار اس کے نزدیک آ چکا تھا اس لیے وہ بنا کسی تردد کے اس کے کلون کی خوشبو پہچان چکی تھی۔

یہ پہچان ہوتے ہی اس کا دل زوروں سے یہ سوچ کے دھڑک اٹھا کہ آیا اب وہ انتقام میں کسی حد کو پار کرنے والا تھا؟؟
مگر وہ یہ محسوس کر کے ٹھٹھک گئی تھی کہ اس کے گرم لمس سے مزین ہاتھ اس کی آنکھوں پہ بندھی کالی پٹی کو کھولنے میں مصروف تھے۔

اس کی آنکھوں سے اس پٹی کے ایک دم ہٹنے پر اس کی آنکھیں چند ثانیوں کے لیے چندھیا سی گئیں۔
مگر اس کی سانس اس لمحے رک سی گئی جب طلال کا مضبوط ہاتھ آگے بڑھا اور اس نے بہت دھیرے سے اس کی آنکھوں کو سہلایا۔
جبکہ وہ بھی اپنی جگہ اپنی اس بے اختیارانہ حرکت پہ دم بخود رہ گیا تھا مگر وہ ان آنکھوں کو اس لمحے بہت شدت سے دیکھنا چاہتا تھا جنہوں نے پہلی ہی ملاقات میں اسے سحر میں جھکڑ لیا تھا۔
وہ اس لمحے پھر سے انہیں دیکھ کے اس سحر کو ختم کرنا چاہتا تھا اور انتقام کی راہ پہ نکلنے کو بے قرار تھا مگر شاید قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔

“م۔۔میرے ہاتھ۔۔۔۔” نجانے کب تک اس کے ہاتھ کا لمس اسے جھلسائے رکھتا کہ وہ اچانک بیٹھی ہوئی آواز کے ساتھ بولی تو وہ چونکا۔
ایک نظر اس کے ستے ہوئے سوجے چہرے پہ ڈالتے ہوئے اس کی نظر اس کی سوجی ہوئی آنکھوں پہ پڑی تو دل پہ اس کی حالت دیکھ کے جیسے گھونسہ سا پڑا تھا۔

“آپ کو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا؟” وہ رہبان گردیزی کو تڑپانے کے لیے اس کی بہن کو استعمال کرنے کا سوچنے والا مرد رہبان گردیزی کی بہن کی نم آنکھوں کو دیکھ کے اپنے ہی باپ سے شکوہ کناں ہوا تھا۔

قدرے اس کی جانب جھکتے ہوئے اس نے ہاتھ پیچھے کی جانب لے جاتے ہاتھوں پہ بندھی رسی کھولنی چاہی جب اچانک منہ پہ پڑنے والے زوردار مکے پہ جہاں وہ لڑکھڑا کے دریہ سے دور ہٹا تھا وہیں دریہ کے ہونٹوں سے ایک دبی دبی سی چیخ نکلی تھی۔

“تمہاری ہمت کیسے ہوئی اس کے نزدیک آنے کی کمینے انسان۔” بھسم کر دینے والی نگاہوں سے طلال شاہ کو دیکھتا ضرغام غرایا تو طلال کی آنکھوں میں خون اتر آیا۔

“اور یہ پوچھنے والے تم کون ہوتے ہو؟” فوراً سنبھلتے ہوئے وہ اس کی جانب لپکا اور اس کے منہ کا نشانہ لینا چاہا جب دریہ کی کانپتی ہوئی آواز ابھری۔

“پ۔۔پلیز، لالہ مم۔مجھے یہاں سے نکالیں۔” بیک وقت دونوں کو تھم جانے کا کہتی وہ ضرغام کی جانب دیکھتی رو دی تو طلال کا غصہ مدہم ہوا جبکہ دل میں ابلتے غبار میں بھی لفظ ‘لالہ’ سن کے ٹھہراو آیا تھا۔

“ریلیکس دریہ، ہم ابھی نکلنے لگے ہیں۔” اپنے طیش پہ قابو پاتے اس نے دریہ کو تسلی دی اور اس کی جانب بڑھنے سے پہلے پھر سے طلال کی جانب بڑھا تھا۔

“بدلہ لینے کے لیے مرد کی طرح مرد سے مقابلہ کرو بزدل شخص۔عورت کو مہرہ بنانے کی جو جرات تم نے کی ہے اس کا۔۔۔۔۔۔۔” اس کی آنکھوں میں اپنی بھوری آنکھیں گاڑھتا وہ سرد لہجے میں بول رہا تھا جب طلال نے درشتگی سے اس کی بات قطع کی۔

“میں نے ان دونوں کو کڈنیپ نہیں کیا اس لیے کوئی دھمکی مجھے مت دینا۔” اس کے لہجے کی سردمہری بھی قابلِ دید تھی۔

“اپنی بزدلی کو ڈھٹائی کے پردے میں مت چھپ۔۔۔۔۔۔” اس کی بات سن کے ضرغام کا غصہ عود کر آیا۔

“یہ۔۔یہ سچ کہہ رہے ہیں لالہ۔مجھے کڈنیپ انہوں نے نہیں ک۔کیا ہے۔” بے تحاشا رونے اور چیخنے کے باعث اس کی آواز اب بیٹھ چکی تھی۔
مگر اس سمے اس کی آواز طلال کی سماعتوں پہ ہتھوڑے کی مانند برسی تھی۔اس نے یہ بالکل نہ سوچا تھا کہ وہ اس مقام پہ بھی اسے یوں بچائے گی۔
جبکہ دریہ اپنی جگہ یہ سوچے بیٹھے تھی کہ جو جرم اس نے کیا نہیں وہ اس کے کھاتے میں ڈالنے کی ضرورت ہی کیا ہے۔
دریہ کی بات سن کے ضرغام نے ایک چبھتی ہوئی نگاہ طلال پہ ڈالی اور آگے بڑھ کے دریہ کے ہاتھ کھولنے لگا۔

“ضر!” دریہ کے ہاتھوں کو سہلاتے اس کے ہاتھ رہبان کی آواز سن کے تھم گئے۔
جبکہ طلال یہاں اس وقت رہبان اور آبگینے کو دیکھ کے آپے سے باہر ہونے لگا۔

“تم یہاں کیا کر رہے ہو کمینے انسان؟تمہاری ہمت کیسے ہوئی اس حویلی میں دوبارہ قدم رکھنے اور آبی کو ساتھ لے جانے کی۔” وہ بپھرے ہوئے انداز میں کہتا تیزی سے ان کی جانب بڑھا تھا۔
اس سے قبل کے وہ دونوں آپس میں گتھم گتھا ہوتے، رہبان کے پہلو میں کھڑی آبگینے ایک دم سے رہبان کے سامنے آئی تھی۔

“طلال!تم ما۔۔ماموں بننے والے ہو۔” اس کے قدرے خشک ہوتے ہونٹوں سے نکلنے والے ان الفاظ پہ اس کمرے میں ایک دم سے سناٹا چھا گیا۔
دوسری جانب طلال کے بپھرتے وجود پہ گویا کس نے برفیلا پانی انڈیل دیا ہو جیسے۔
وہ ایک دم سے ساکت کھڑا پتھریلی نگاہوں سے بہن کو دیکھ رہا تھا جو التجائیہ نگاہوں سے اس کی جانب دیکھتی اس سے اپنے شوہر کی نہیں بلکہ اپنے ہونے والے بچے کے باپ کی عزت کم نہ کرنے کی درخواست کر رہی تھی۔
وہ نہیں چاہتی تھی کہ اس کا ماں جایا اور اس کا شوہر یوں آمنے سامنے آئیں اس لیے وہ بیچ میں آ کھڑی ہوئی تھی۔
جو جنگ بڑوں کی تھی وہ بڑوں کی ہی رہنی چاہیے وہ اسے بڑھاوا نہیں دینا چاہتی تھی۔وہ جانتی تھی کہ طلال بچوں کا کس قدر دیوانہ ہے اس لیے اسے یقین تھا کہ وہ اس کی بات سن کے تھم جائے گا۔
اور ایسا ہی ہوا، کچھ لمحوں کے بعد اس کا رہبان کو مارنے کے لیے اٹھایا جانے والا ہاتھ کٹی ہوئی پتنگ کی مانند پہلو میں جا گرا۔

“خوش رہو۔” بمشکل ہونٹوں کو ہلاتے اس نے اسے دعا دی اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا اپنی حویلی میں آئے ‘دشمنوں’ کو زندہ اور صحیح سلامت چھوڑتا وہاں سے نکل گیا۔
جبکہ اس کے ایسے ردعمل پہ وہ سب کچھ ثانیوں کے لیے ششدر سے رہ گئے۔

“آج سے سالے صاحب کے کیے گئے ہر ظلم کو خندہ پیشانی کو معاف کرتے ہوئے ہم اسے ہمیشہ کے لیے دل کی گہرائیوں میں جگہ دینے کے لیے تیار ہو گئے ہیں۔” آبی کو روتے دیکھ کے اس نے نرمی سے اس کی کنپٹی کو چوما اور پھر دریہ کو گلے لگاتے اسے تسلی دی اور ان دونوں کو ساتھ لیے وہ وہاں سے نکلے تھے۔

“تم ان دونوں کو لے کے گاڑی کی طرف چلو۔میں اپنے مجرم کو لے کے آتا ہوں۔” دریہ اور آبی کو ضر کے حوالے کرتا وہ سنجیدگی سے بولا تو آبگینے نے ٹھٹھک کے اس کی جانب دیکھا۔

“آپ چچا سائیں کو معاف نہیں کر سکتے؟” اس کے اچانک سوال پہ وہ ٹھٹھکا اور پھر یکایک اس کے چہرے پہ سردمہری سی چھا گئی۔

“نہیں۔” اس کے دوٹوک جواب پہ آبگینے کے چہرے کا رنگ متغیر ہوا تھا۔
لیکن وہ سرعت سے اس کے چہرے سے نظریں چراتا ہوا واپس پلٹ گیا کیونکہ وہ اس محبت کے لیے کمزور پڑ کے بظاہر پانچ لوگوں لیکن درحقیقت سینکڑوں کی زندگانیوں سے کھیلنے والے کو کوئی رعایت نہیں دینا چاہتا تھا۔

اگلے کچھ ہی منٹوں میں بنا کوئی فساد برپا کیے وہ اپنی عورتوں کو بحفاظت پیر حویلی سے نکال لے گئے تھے کیونکہ
اس رات آبگینے سے خلع کے پیپرز پہ سائن لینے کا سوچنے والے آبگینے کے ہونے والے بیٹے کے ماموں نے اُس کی آمد کے صدقے ان کی مدد کی تھی۔
اور دریہ اس انوکھے صیاد اور منتقم کی شخصیت پہ حیران و متعجب سی ہوتی تاریک سڑکوں کو گھورے جا رہی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سیاہ ٹراوزر کے ساتھ براون شرٹ پہنے وہ بالوں کی ڈھیلی سی پونی بنائے کندھوں پہ سیاہ سٹالر پھیلائے سوجی ہوئی نم آنکھوں کے ساتھ ‘اسد ملک’ کے کمرے میں موجود تھی۔

“بڑے دادا!آپ نگاہ اور ضرغام چاچو کی ڈائیورس کروا رہے ہیں؟” ضرغام کے ساتھ چاچو نہ لگانے کا صیغہ ضرغام کی موجودگی میں ہی کبھی کبھار عمل میں آیا تھا وگرنہ جو وہ ابھی بھی روانی میں بولتی تو عادتاً ضرغام چاچو ہی بول جاتی۔

“ناٹ فیئر شہرے، آپ اپنے فادر اِن لاء کے سامنے اپنے شوہر کو ‘چاچو’ کہہ رہی ہیں۔” اس کی بکھری ہوئی بے چین حالت کو گہری نگاہوں سے دیکھتے انہوں نے ماحول کی گھمبیرتا کم کرنی چاہی۔
مگر اُن کی بات سن کے اس کی آنکھوں سے آنسو نکل پڑے۔

“آپ۔۔آپ سب نے میرے ساتھ بہت غلط کیا۔میری عزت بچانے کے لیے میری شادی کی لیکن میری عزت نفس تو ختم ہو گئی نا جب آپ لوگوں نے اس شخص سے میرا نکاح کیا جسے میں ناصرف چاچو سمجھتی تھی بلکہ وہ پہلے سے ہی نکاح فائیڈ تھے۔ تب نکاح کا سن کے اتنے ہارش انداز میں سب کے سامنے منع کرنے کے بعد وہ میری سیلف ریسپیکٹ کو ختم کرنے کے بعد مجھے کہتے ہیں کہ میں تم سے محبت کرتا ہوں۔” اس کے اندر اس قدر غبار اکٹھا ہو چکا تھا کہ وہ بولنا شروع ہوئی تو پھر روتی ہوئی بولتی چلی گئی جبکہ اسد صاحب سنجیدگی سے اسے سن رہے تھے۔

“اب اچانک وہ لوگ یوں ڈائیورس فائنل کر رہے ہیں جیسے یہ نکاح ان کے لیے کبھی کچھ تھا ہی نہیں۔کیا میں نہیں جانتی کہ نگاہ کتنے پیار سے خود کو ‘مسز ضرغام ملک’ کہا کرتی تھیں۔” اس کے لہجے کی کسک پہ اسد ملک کو اپنے برسوں قبل کیے فیصلے پہ افسوس ہوا تھا۔
مگر بعض فیصلے خاندان کی عزت کے لیے کرنے پڑتے تھے اور قیمت بھی بڑی چکانی پڑتی تھی۔

“وہ ایسا صرف ضرغام کو چڑانے کے لیے کرتی تھی۔ ضرغام نے آپ سے سچ کہا ہے کہ وہ آپ سے محبت کرتا ہے۔کیوں کرتا ہے؟کب سے کرتا ہے؟اس کا جواب وہی دے گا۔ ضرغام کے اس دن کے ہارش ریجیکشن کے پیچھے کی وجہ میں ہوں مگر یہ بات سچ ہے کہ ضر اور نگاہ کی ڈائیورس اول روز سے طے تھی۔” بہت کچھ چھپاتے ہوئے انہوں نے بہت کچھ اس کے سامنے عیاں کیا تھا۔

“ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟وہ دونوں ایک دوسرے سے پیار کرتے ہیں۔” اس کی آنکھوں کے سامنے ان دونوں کے ایک ساتھ بتائے گئے کچھ منظر لہرائے تھے۔

“وہ اب بھی ایک دوسرے سے پیار کرتے ہیں۔وہ دونوں جان سے عزیز دوست رہے ہیں شہرے، ان کی بے تکلفی تب بھی ایسی تھی جیسی اب ہے۔ اور جہاں تک بات ہے نگاہ کی تو اس کی کسی دن میڈیکل فائل چیک کر لیجیے گا آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ ضر کا اسے وقت دینا اور سب سے زیادہ ترجیح دینا کیونکر ضروری تھا۔” ان کے لہجے میں بات کے اختتام میں ایک عجیب سا دکھ جھلکا تھا لیکن شہرے کے چہرے اور دل و دماغ میں چھائی الجھن جوں کی توں برقرار تھی۔

“مگر بڑے دادا، جو بھی تھا شادی تو اب ہو چکی ہے نا اس لیے اب یہ ڈائیورس کیوں لے رہے ہیں؟” اس کے سوال پہ اسد صاحب گہری سانس بھر کے اسے دیکھتے رہ گئے جو اِن کے بگڑے لاڈلے کی اولین چاہت تھی۔

“آپ شاید دنیا کی پہلی خاتون ہیں شہرے جو اپنے شوہر کی پہلی بیوی سے اس قدر لگاو رکھتی ہیں کہ ان کی ڈائیورس روکنے کے لیے جان توڑ کوشش کر رہی ہیں۔” ان کے لہجے کی سنجیدگی پہ اس کی آنکھیں ایک دفعہ پھر سے بھیگی تھیں۔

“آپ لوگ مجھے نہیں سمجھ رہے ہیں بڑے دادا۔” اب کی بار رونا اس قدر شدید آیا تھا کہ ہچکیاں بندھنے لگی تھیں۔
اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ ضر اور نگاہ کے ساتھ بتائے وقت کو سچ سمجھے؟
وہ نگاہ کی ٹوٹتی منگنی کی وجہ کو حقیقت جانے؟
یا
پھر اس کی کلوزٹ میں رکھے اس سرخ رومال کو سچائی کے پیمانے پر رکھے؟

بیک وقت بہت ساری سوچیں اسے پاگل کر دینے کو بیقرار تھیں۔

“میری بات سنیں شہرے۔” اسے روتے دیکھ کے وہ اپنی جگہ سے اٹھے اور اس کے پاس براجمان ہوتے اسے بازو کے حلقے میں لے گئے۔

“جو ہو رہا ہے اسے چھوڑ دیں۔اللّٰہ پہ توکل رکھیں جو ہو گا آپ کے لیے بہترین ہو گا۔ مجھ سے وعدہ کریں کہ اب آپ اس کے متعلق کچھ نہیں سوچیں گی۔ جس نے یہ سارا میس پھیلایا ہے وہ اسے ختم کرے گا۔” اس کی حالت اس قدر بگڑ چکی تھی کہ وہ بے حد پریشان ہو اٹھے تھے۔

“میرا بچہ، اللّٰہ کے ہر کام میں مصلحت ہوتی ہے۔ میں نگاہ اور ضر کے نکاح اور پھر ایسے ڈائیورس پہ ہرگز خوش نہیں ہوں کیونکہ اسلام ہمیں ایسے مقدس رشتے کو یوں خراب کرنے کی اجازت نہیں دیتا مگر کچھ مجبوریوں کے باعث ایسا کرنا پڑا مگر مجھ سے وعدہ کریں شہرے، آپ کچھ دن کے لیے بھول جائیں کہ آپ کی زندگی میں کوئی ضر یا کوئی نگاہ ہے۔” اس کے آنسو صاف کرتے وہ نرم خوئی سے گویا ہوئے تو اس نے بھاری دل کے ساتھ سر اثبات میں ہلایا تھا۔

“میں امید رکھوں گا کہ آپ اس وعدے کو پورا کریں گی اور پھر سے وہی شہرے بن کے مجھے صبح ناشتے کی میز پہ ملیں گی۔” اس کا سر تھپتھپاتے انہوں نے کہا تو وہ بہت کچھ دل میں دباتی سر ہولے سے اثبات میں ہلا گئی۔

“جو ہوا کیوں ہوا؟جو ہو رہا ہے کیوں ہو رہا ہے؟ان سوالوں کے جوابات آپ کو چاہیے مگر ان جوابات کے پیچھے مت بھاگیں۔جوابات خود آپ کے پاس آئیں گے۔” رسانیت سے کہتے انہوں نے اسے ساتھ لیا اور دروازے کی جانب بڑھے تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اپنے دوپٹے کو اچھی طرح اپنے اردگرد لپیٹے وہ اپنی گردن کو مکمل طور پہ چھپائے، کلائیوں میں کانچ کی چوڑیاں پہنے ذوالنورین کے بیڈ پہ تکیے کے ساتھ ٹیک لگا کے بیٹھی کلثوم میر کو ناشتہ کروا رہی تھی۔
کلثوم میر کو ناشتہ کرواتی وہ ان کے بے لگام بیٹے کو نظرانداز کرنے کی پوری کوشش میں تھی جو اپنی بے لگام آنکھیں اس پہ گاڑھے اسے نروس کرنے کی تگ و دو میں تھا۔

“تم اسے کیوں دیکھتے رہتے ہو؟” ناشتے کرتی کلثوم میر جو باری باری ان دونوں کو دیکھ رہی تھیں۔
اس کو یوں ٹکٹکی باندھ کے زحلے کی جانب دیکھتے پا کر ایک دم سے سادگی کے ساتھ بول اٹھیں تو زحلے کو جیسے اچھو سا لگ گیا۔
جبکہ اسے گھورتا ذوالنورین بھی اس اچانک حملے پہ گڑبڑا سا گیا۔

“میری ٹیچر ہے نا یہ ماما اور ٹیچرز کو توجہ سے دیکھیں اور سنیں تو تبھی بات سمجھ میں آتی ہے۔” فوراً خود کو سنبھالتے ہوئے اس نے سکون سے جواب دیا تو زحلے کو اس پہ تپ چڑھی۔
اس نے بے ساختہ خونخوار نگاہوں سے اس کی جانب دیکھا جو دورانِ لیکچر اس کی جانب یا نوٹس کی جانب نظر اٹھا کے بھی نہ دیکھتا تھا۔

اس کی نظروں سے چھلکتے غصے کو محسوس کرتے اس نے سرعت سے ہونٹوں کی تراش میں پھوٹنے والی مسکان کو ضبط کیا تھا۔

“لیکن کل تو تم کہہ رہے تھے کہ یہ تمہاری دلہن ہے؟” ان دونوں کی خاموش جنگ سے بے خبر کلثوم میر نے اس کی بات سن کے الجھے ہوئے لہجے میں دریافت کیا تو زحلے کے چہرے کا رنگ بڑی سرعت سے گلابی پڑا تھا۔
جبکہ ذوالنورین کے ہونٹوں پہ بڑی جاندار سی مسکان پھیلی تھی۔

“دلہن بھی ہیں تبھی تو صبح سالگرہ وش کروائی تھی۔” متبسم معنی خیز لہجہ اس کے گلابی پڑتے چہرے کو دہکنے پہ مجبور کر گیا۔
اس پہ مستزاد آنکھوں کی بے باک لپک۔

“ہاں وہ تو ت۔۔۔۔۔۔” کلثوم میر بول رہی تھی جب کمرے کا دروازہ ایک دھاڑ سے کھلا تھا۔

جاری ہے۔