Dil Tere Sang Jor Liya By Huria Malik Readelle50062 Episode 28&29
No Download Link
Rate this Novel
Episode 28&29
اس کے یوں دیکھنے پہ وہ دونوں سنبھلتے ہوئے سیدھے ہوئے۔
“ہمارا مطلب ہے کہ کیا آپ واقعی ہمارے ساتھ ہی جانا چاہتی ہیں؟” نگاہ نے ہلکا سا مسکراتے ہوئے اپنے “واقعی” کو مہذب انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی۔
“جی، مجھے فرینڈ کے ہاں جانا ہے۔آپ مجھے وہاں ڈراپ کر دیں پھر ارسم چاچو مجھے وہاں سے پک کر لیں گے۔” اس نے ضرغام کی جانب دیکھتے ہوئے کہا تو اس نے نظر بھر کے اسے دیکھا اور ہولے سے کھنکارا۔
“اچھا، آ جائیں آپ۔” اس کے آہستگی سے مان جانے پہ اُن چاروں نے گردن گھما کے گھورنے کے سے انداز میں اسے دیکھا اور پھر ذونین فوراً اس کے کان میں گھسا۔
“ہم کیا گاڑی کے باہر لٹک کے آئیں گے یا چھت پہ بیٹھ کے؟” اس نے طنزیہ انداز پہ اس نے خجل ہوتے ہوئے ایک مکہ اس کے پہلو میں رسید کرتے ہوئے شہرے کو دیکھا جو جلدی سے باہر کو بھاگی تھی تاکہ اپنا گفٹ لے سکے جو فرینڈ کو دینا تھا۔
“دس منٹ کا فاصلہ ہے تو ایڈجسٹ کرنے میں کیا پرابلم ہے؟” اس نے ان سب کی طرف دیکھتے ہوئے آہستگی سے کہا۔
وہ اس وقت سب سے ملنے کے بعد اپنی گاڑی کے ہی نزدیک کھڑے بہت مدہم آواز میں محوِ گفتگو تھے۔
“ضر!تم گاڑی ڈرائیو کرو تاکہ شہرے ریلیکس ہو کر آگے بیٹھ جائے جبکہ ہم چاروں پیچھے ایڈجسٹ کر لیتے ہیں دس منٹ کی ہی تو بات ہے۔” نین نے ضرغام کی جانب دیکھتے ہوئے کہا تو اس نے سر اثبات میں ہلاتے گیٹ سے واپس آتی شہرے کو دیکھا جس کے ہاتھوں میں گفٹ پیکٹ چمک رہا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“ہیلو ڈارلنگ۔” وہ بھاگنے کے سے انداز میں تیز تیز چلتی کلاس کے لیے بڑھ رہی تھی جب سلیمان میر اور سرفراز شاہ کے ایک دم سے سامنے آنے پہ اس نے بمشکل اپنے قدموں کو بریک لگاتے ناگواری سے ان دونوں کی شکلوں کو دیکھا۔
“آج تمہارے باڈی گارڈز کہاں ہیں؟” سلیمان میر نے طنزیہ انداز میں اس کے دائیں بائیں دیکھتے ہوئے استفسار کیا تو اس کے چہرے کی ناگواری بڑھ گئی۔
“اگر وہ میرے ساتھ ہوتے تو کیا تم یوں میرا راستہ روکنے کی ہمت کر پاتے؟” اس نے زہر خند مسکان ہونٹوں پہ سجاتے ہوئے سکون سے ان دونوں کو بے سکون کیا۔
“اپنے یاروں کے دم پہ اتنا اچھلنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ بہت جلد تمہارے اس خوبصورت وجود کو سراہ۔۔۔۔۔۔۔۔” اس کے گہرے وار سے بمشکل سنبھلتے وہ مکروہ شیطانی انداز میں کہتے ہوئے اس سے قبل کہ اپنی بات مکمل کر پاتے کہ ایک ساتھ دونوں کے چہرے پہ پڑنے والے زوردار گھونسے کے باعث لڑکھڑا سے گئے۔
اس اچانک حملے پہ نگاہ نے مسکراتے ہوئے اپنے دائیں بائیں دیکھا جہاں ایک طرف ذونین جبکہ دوسری طرف ضر بھسم کر دینے والی نگاہوں سے ان دونوں کو گھور رہے تھے۔
“آج کے بعد اگر اِس کے اردگرد پچیس فٹ کے فاصلے پہ بھی نظر آئے تو دنیا کی نظروں سے گم کروانے میں دیر نہیں کروں گا۔” انگشت شہادت اٹھا کہ ان دونوں کو برودت بھرے لہجے میں وارن کرتے ہوئے ضرغام نے شرر بار نگاہوں سے انہیں دیکھا جو ناک سے نکلتے خون کو صاف کر رہے تھے۔
“تم لوگ کیا ہمیں دنیا کی نظروں سے گم کرواو گے، عنقریب تم لوگوں کا ایسا حشر کریں گے تم لوگ پہچاننے میں ہی نہیں آو گے۔” سرفراز شاہ سائیں جسے اپنے اونچے خاندان و مقام مرتبے کا بڑا گھمنڈ تھا، وہ یوں یونی میں کھڑے ہو کے ان کے ہاتھوں پڑنے والے گھونسے کے سبب شدید ہتک کے مارے زہر زہر ہو رہا تھا۔
ابھی یہ بھی ان کے لیے بہتر تھا کہ مارننگ ٹائم تھا اور سٹوڈینٹس اپنی فرسٹ کلاس لینے میں مصروف تھے۔
“جب ایسا کر پانے کی ہمت ہو گئی تو ہمارے سامنے آنا لیکن۔۔۔۔۔” ضرغام نے سپاٹ لہجے میں کہتے ہوئے ایک نظر مشتعل کھڑے ذونین اور اس کے ساتھ پرسکون کھڑی نگاہ پہ ڈالی۔
“لیکن اِس(نگاہ) کے سامنے آنے کی جرات مت کرنا۔” ایک دفعہ پھر سے ان دونوں کو وارن کرنے کے بعد وہ قہر بھری نگاہیں ان پہ ڈالتے ہوئے واپس پلٹ گئے جبکہ اپنے اندر حسد، انتقام، ہتک اور سبکی کی آگ لیے وہ دونوں وہیں کھڑے رہ گئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“تم نے بتایا کیوں نہیں کہ وہ کمینے تمہیں ٹیز کرتے ہیں؟” نین کو جیسے ہی خبر ملی تھی وہ تب سے ہی بھڑک رہا تھا جبکہ یہی حال رہبان کا تھا۔
“ان کی اتنی ہمت نہیں کہ تم لوگوں کے ہوتے ہوئے نگاہ واحدی کو ٹیز کر سکیں، یہ تو آج نجانے کس نشے میں دھت انہوں نے ایسا کرنے کی جرات کر لی۔” وہ بڑے مزے سے گردن اکڑاتی ہوئی بولی کیونکہ یہ سچ تھا کہ وہ کبھی کبھار اسے آتے جاتے کمنٹس ضرور پاس کرتے تھے لیکن وہ جواباً ایسے گہرے وار کرتی تھی کہ بلبلا سے جاتے۔
یہ شاید آج اکیلے ہونے کے باعث شیر ہو گئے تھے جو گفتگو میں اس قدر گراوٹ کا مظاہرہ کر گئے مگر اُن کی بدقسمتی تھی کہ اس کے دوستوں کے ہتھے چڑھ گئے تھے۔
“جو بھی ہو، تمہیں کوئی ذرا سا بھی پریشان کرنے کی کوشش کرے تم ہمیں ضرور بتاو گی۔ یہ بات ذہن سے نکال دو کہ تم صرف نین کے لیے اہم ہو۔تم ہماری دوست ہو، ہماری بہن ہو اور ہم سبھی کو بہت عزیز ہو اس لیے آج کے بعد بات چھوٹی ہو بڑی ہو، اہم ہو یا غیر اہم تم ہمیں اس کے بارے میں ضرور آگاہ کرو گی۔” رہبان نے آگے بڑھ کہ اس کے سر پہ ہولے سے ہاتھ رکھتے ہوئے سنجیدگی سے کہا تو فرطِ جذبات سے اس کی آنکھیں نم ہونے لگیں لیکن اس نے خود پہ ضبط کرتے ہوئے آنسو واپس دھکیلے اور مسکرا کے اس کی جانب دیکھا۔
“جو آپ کا حکم، ایس پی صاحب۔” وہ پانچوں بیشک بہترین دوست تھے لیکن سب کے سبجیکٹس تقریباً مختلف تھے۔
رہبان اور نین پولیس فورس میں جانا چاہتے تھے اس لیے وہ اس کی تیاری کر رہے تھے۔
ضرغام اور ذونین بزنس پڑھ رہا تھا۔
جبکہ وہ خود سائیکالوجی پڑھ رہی تھی۔
“میں ایس پی ہوں تو یہ کون ہے؟” رہبان نے اس کے طرزِ تخاطب پہ مسکراتے ہوئے نین کی جانب اشارہ کیا۔
“یہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔” اس نے سوچنے کی اداکاری کی۔
“یہ دل کی سلطنت پہ لگے کمشنر۔” اس کے سوچنے پہ ذونین نے فوراً ٹکڑا لگایا تو سبھی ایک ساتھ کھل کے ہنس دیے۔
اس بات سے دور کہ ان پانچوں کے اردگرد کیسی فصیلیں کھڑی کرنے کی سازشیں کی جا رہی تھیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“آپ کو نہیں لگتا مسز میر کہ اب بات اس ایمپائر سے آگے بڑھ چکی ہے؟” سرفراز شاہ کے والد سفیر شاہ جو کہ عبدالرحمن میر کے جگری دوست اور اُن کے ہر سیاہ و سفید کے رازداں تھے وہ اپنے بیٹے کی یونی میں ہونے والی بے عزتی سے تاحال جھلس رہے تھے۔
“آپ جتنا چاہیں اس بات کو آگے بڑھا سکتے ہیں کہ جب جنگ کو نکل ہی پڑے ہیں تو وجوہات جتنی زیادہ ہوں گی جنگ لڑنے میں اتنا ہی مزہ آئے گا۔” شاطرانہ انداز میں مسکراتی ہوئی وہ انسانیت کے گھٹیا ترین درجے پہ تھی۔
“جیسا کہ آپ سبھی کو علم ہے کہ ہم سب یہاں اپنے اپنے فائدے کے لیے ہی اکٹھے ہوئے ہیں، ہمیں اُن دونوں بھائیوں سے پاور آف اٹارنی چاہیے، تمہیں نگاہ واحدی چاہیے۔۔۔۔۔” انہوں نے اپنے دائیں جانب رکھے صوفے پہ بیٹھے خوش شکل مرد تبریز واحدی جو کہ نگاہ کا چچا زاد تھا، اس کی جانب اشارہ کیا۔
“جبکہ شاہ سائیں آپ کو اپنے بیٹے کا بدلہ لینے کے لیے ضرغام ملک چا۔۔۔۔۔۔” وہ سپاٹ انداز میں بول رہی تھی جب سفیر سائیں نے اس کی بات منقطع کی۔
“مجھے ضرغام ملک اور رہبان گردیزی دونوں چاہیے کیونکہ ضرغام ملک کے بعد وہ کمینہ میرے بیٹے کو اس کے فلیٹ میں جا کے پیٹ کے آیا ہے۔” وہ ایک دم سے مشتعل ہوتے پھنکارے تو اس نے سمجھتے ہوئے ہنکارہ بھرا۔
“اوہ، اس کا مطلب ہے کہ بدقسمتی سے یہ فائیو سٹار گروپ اب ہمارے نشانے پہ ہے۔ اپنے ہر پلان پہ عمل کرنے سے قبل یہ یاد رکھنا کہ ہمیں پاور آف اٹارنی چاہیے، اس کے بعد تم لوگ چاہو تو بیشک ان کو مار دینا۔” سفاکی سے کہتی ہوئی وہ سفیر سائیں کی طرف دیکھتی گویا ان کی تائید کی منتظر تھی۔
ان سے چند قدم دور صوفے پہ بیٹھے عبدالرحمن میر اور آفاق میر اس عورت کے سامنے کٹھ پتلی بنے پانچ افراد کی زندگی کے بھیانگ فیصلے ہوتے دیکھ رہے تھے۔
“اوکے ڈن۔” سفیر سائیں نے فورا اس کی بات سے اتفاق کیا کیونکہ بات صرف ان لڑکوں کی حد تک تو تھی نہیں یہ تو خاندانی رقابت تھی جسے نکالنے کا موقع اب جا کے ملا تھا۔
اور اسی رقابت کے ہاتھوں اُس نے سب سے پہلا وار ضرغام ملک کے دل پہ کیا تھا۔
کیونکہ اُن پانچوں کے علاوہ اُس کی خاموش محبت کے گواہ ‘اسد ملک’ سے بدلہ لینے کا موقع اسے برسوں بعد ملا تھا۔
اور وہ اسد ملک جو اپنے سارے کیریئر میں کسی بھی کیس کے دوران کسی بھی طرح سے بلیک میل نہ ہوئے تھے وہ زندگی میں پہلی دفعہ دو افراد کی جان و عزت کے لیے اپنے ہی بیٹے کے جذبات سے کھیلنے کے لیے مجبور ہو گئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“ذونین!میں اچھی لگ رہی ہوں نا؟” فرنٹ سیٹ پہ بیٹھی نگاہ نے بلا مبالغہ آرائی کوئی دسویں بار تھی جو اُن سب سے باری باری یہ سوال پوچھا تھا۔
وجہ بہت واضح تھی وہ آج نین کے ساتھ ‘میر پیلس’ جا رہی تھی۔
مسز کلثوم میر، اس سے ویسے تو واقف تھیں، اکثر موبائل پہ بھی اس سے بات چیت کرتی تھیں لیکن کبھی باضابطہ ملاقات کی نوبت نہ آئی تھی۔
ویسے بھی وہ خود جا کے نگاہ سے ملنے کا ارادہ رکھتی تھیں مگر اچانک ہی اُن کی طبیعت بگڑنے کی وجہ سے آج وہ خود ہی اُن چاروں کے ساتھ ان کی عیادت کے لیے جا رہی تھی۔
“یہ تم اب بتا ہی دو کہ تم آنٹی کی عیادت کے لیے جا رہی ہو کہ اپنے بردکھاوے کے لیے؟” اس کے بار بار ایک ہی سوال پوچھنے پر اب کے رہبان کی زبان میں کھجلی ہوئی تھی۔
“نین۔” اس نے اس کی شرارت پہ جھینپتے ہوئے زیرِ لب مسکراتے ہوئے نین کو شکایتی انداز میں پکارا۔
“شرم کرو تم لوگ، کیوں پریشان کر رہے ہو؟” بمشکل مسکراہٹ ضبط کرتے ہوئے اس نے ان کو گھرکا لیکن ان کی بتیسی ہرگز غائب نہ ہوئی۔
“ویسے نگاہ، تم اتنی کانشیئس کیوں ہو رہی ہو؟” ضر نے اسے ریلیکس کرنے کو پوچھا۔
“یار دیکھو نا، ایک تو اِن نے گھر میں اتنی لڑکیاں ہیں جو ظاہر ہے خوبصورت بھی ہوں گی تو مجھے کیا پتہ آنٹی کو کیسی لڑکیاں پسند ہیں کیونکہ کال پہ بات کرنا تو اور بات ہے جبکہ فیس ٹو فیس مل کے دیکھنا اور بات۔” اس نے اندر کی بے چینی ظاہر کی۔
“ڈونٹ وری مما کو وہی لڑکیاں پسند ہیں جو اُن کے نین کے نینوں کا تارا ہے۔” ذونین نے شرارت سے ان دونوں کو چھیڑا تو دونوں بیک وقت جھینپ گئے۔
ایسی ہی گپ شپ کے ساتھ وہ چند منٹ بعد میر پیلس کے پورٹیکو میں پہنچ چکے تھے۔
“آو۔” اس کی جانب کا دروازہ کھولے نین نے اسے باہر آنے میں مدد دی اور اسے ساتھ لیے اندر کی جانب بڑھ گیا۔
اور پھر اس کے خدشات کے برعکس مسز کلثوم میر بہت محبت اور گرم جوشی کے ساتھ اس سے ملی تھیں۔ ان کی طبیعت میں اس قدر نرمی اور ملنساری تھی کہ وہ ان کی گرویدہ ہو گئی ناصرف وہ بلکہ ولید میر بھی بہت محبت سے اس سے ملے تو اس کے سارے اندیشے زائل ہو گئے۔
اُن دونوں میاں بیوی کے علاوہ وہ باقی افراد سے بھی سرسری سا ملی تھی لیکن ان سب کے رویے اور تاثرات اس قدر عجیب تھے کہ وہ بیزار سی ہو گئی لیکن نین کے لیے وہ مسکراتی ہوئی ان کے پاس چند منٹ بیٹھی تھی۔
وہ جو دل میں تھوڑے سے خوف و خدشات لیے آئی تھی واپسی پہ دلی خوشی سے لبریز ہو کے واپس جا رہی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“تم کب تک بات کرنے کا ارادہ رکھتے ہو گھر میں؟” فری پریڈ میں سب ایک ساتھ بیٹھے بریانی سے لطف اندوز ہو رہے تھے جب نین نے ضر کو مخاطب کیا۔
“اس ہفتے جب واپس گیا تو کوشش کروں گا کہ ڈیڈ سے بات کروں۔” کوک کا سپ لیتے ہوئے اس نے جواب دیا۔
“کوشش کی بجائے عمل کرنا کیونکہ اس بار میرے اندر شہرے کے منہ سے اپنے لیے ‘چاچو’ سننے کا حوصلہ نہیں ہے۔” رہبان نے اس کی بات کے جواب میں جس طرح برجستگی سے ٹکڑا لگایا تھا سب کا ایک فرمائشی قہقہہ گونج اٹھا تھا۔
“بس پھر دیکھ لے ہمارا جگر کس حوصلے کا مظاہرہ کرتا ہے۔” ذونین کی شرارت سے چمکتی آنکھیں بھی اس وقت ضر پہ ہی مرکوز تھیں جو ایک ہاتھ میں کوک کا ٹن پکڑے دوسرا ہاتھ کھولے اپنی ہتھیلی کے وسط میں بنے سیاہ موٹے تل کو گھور رہا تھا۔
“تِل کو گھورنا بند کر دے میرے بھائی، اس کے اندر سے ہرگز بھی شہرے نہیں نکلنے والی۔” اس کے ارتکاز کو محسوس کرتی اب کی بار نگاہ بولی تو اس نے ہاتھ کا مکہ بنا کے اس کی کنپٹی کو چھوا۔
“شہرے اور مجھے ٹارگٹ کرنے کی بجائے یہ بتاو کہ انکل کا کیا ری ایکشن ہے نین کے بارے میں جاننے کے بعد؟” ضر نے سنجیدگی سے استفسار کیا تو اس کا چمکتا ہوا چہرہ یکلخت ہی بجھ سا گیا۔
“اتنا شدید ری ایکشن تھا کہ میں گھبرا گئی۔ان کا کہنا یہ ہے کہ پہلے اپنی پڑھائی پہ فوکس کروں پھر ان چکروں میں پڑوں۔” اس کے روہانسے لہجے پہ سب کے چہرے متفکر ہوئے۔
“انکل ٹھیک کہہ رہے ہیں، ہمیں سب سے پہلے اپنی سٹڈی اپنے کیریئر پہ فوکس کرنا چاہیے لیکن یہ بات بھی اٹل یے کہ جو شے یا انسان آپ کے لیے بہت قیمتی ہے اس کے حوالے سے دل کو دھڑکا سا لگا رہتا ہے اس لیے میں پاپا مما سے بات کروں گا کہ وہ سبھاو کے ساتھ انکل سے بات کر کے ہماری انگیجمنٹ فائنل کر دیں تاکہ فضول قسم کی باتیں بند ہو جائیں۔” نین نے اسے پریشان دیکھ کے تسلی دی تو وہ ہولے سے مسکرا دی۔
“منگنی کی بات ہوئی ہے، اس پہ تھوڑا سا شرمانا بھی بنتا ہے۔” ذونین نے فوراً اس کی مسکراہٹ دیکھ کے لفظی گرفت کی تو وہ اسے گھور کے رہ گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ولید صاحب اور کلثوم بیگم اگلے ایک دو دن بعد واحدی صاحب سے ملنے گئے اور اُن سے بہت ہی طریقے سے بات کی اور بچوں کی منگنی کے لیے انہیں بمشکل رضامند کر کے ہی گھر لوٹے تھے۔
واحدی صاحب جو کہ نگاہ کی شادی اپنے بھتیجے سے کرنا چاہتے تھے وہ اتنی اچھی فیملی سے آنے والے رشتے کو ٹھکرا نہ سکے کیونکہ اس میں ناصرف ان کی بیٹی کے لیے خوشی تھی بلکہ خود ان کے لیے بہت فائدہ تھا تبھی انہوں نے ایک ہفتے بعد منگنی کی ڈیٹ دے دی تھی۔
نین اور نگاہ کی جانب سے مکمل طور پہ مطمئن ہونے کے بعد ضرغام بھی پرعزم ارادہ باندھے ‘ملک ہاوس’ جانے کو تیار ہونے لگا کیونکہ اُن سب کے بار بار کہنے پہ اس کا ارادہ اسد صاحب سے اپنی خواہش کا اظہار کرنے کا تھا تاکہ وہ بہترین سدِباب کر سکیں۔
تبھی اگلے چوبیس گھنٹوں تک وہ ملک ہاوس میں موجود تھا۔
سب سے ملنے ملانے، ریسٹ کرنے اور کھانا کھانے کے بعد بالآخر اسے رات کے ساڑھے دس بجے اسد صاحب سے بات کرنے کا موقع ملا تھا۔
“السلام علیکم ڈیڈ!” اجازت ملنے پر وہ اُن کے سٹڈی روم کا دروازہ کھولنے کے بعد اندر داخل ہوا۔
“وعلیکم السلام!” ایک بھرپور نظر اپنے نوجوان خوبصورت بیٹے پہ ڈالتے ہوئے انہوں نے اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔
“ڈیڈ مجھے آپ سے ایک ضروری بات کرنی ہے۔” ہمیشہ سے ہی اسے تمہید باندھنے سے چڑ تھی اس لیے اس کی کوشش ہوتی تھی کہ وہ ڈائریکٹ مدعے پہ آئے تبھی اس نے فارمل گفتگو کرنے کی بجائے انہیں اپنی جانب متوجہ کیا۔
“کریں۔” اپنی کتاب بند کر کے انہوں نے رخ اس کی جانب موڑا جو چہرے پہ پرعزم تاثرات لیے انہی کی جانب متوجہ تھا۔
“میں۔۔” جانے کیوں وہ لحظے بھر کے لیے جھجھکا لیکن اپنی جھجھک کو فوراً پسِ پشت ڈال کے اس نے لفظوں کو مرتب کرنے کی کوشش کرتے ہوئے اپنی ہمت مجتمع کی۔
“میں شہرے کو اپنانا چاہتا ہوں۔” اس کے اس قدر واضح الفاظ میں کیے گئے مطالبے پہ سٹڈی روم میں ایک دم وحشت زدہ سا سناٹا چھا گیا۔
جاری ہے۔
