No Download Link
Rate this Novel
Episode 6
“دل تیرے سنگ جوڑ لیا”
از
حوریہ ملک
شازمین میر کے کہے کے مطابق اسے اگلے دس منٹوں میں پیسے پہنچا دیے گئے تھے اور پیسے ملتے ہی اس نے ڈاکٹرز کو آپریشن کا کہہ دیا۔
پچھلے ایک گھنٹے سے وہ آپریشن تھیٹر کے سامنے پڑے سنگی بینچ پہ ایک مجسمے کی مانند بیٹھی اردگرد سے بے نیاز بس اپنے باپ کی زندگی کے لیے محوِ مناجات تھی۔
“پیسوں کا بندوبست کہاں سے کیا ہے زحلے؟” اس کے بھائی نے دل میں امڈتے تجسس کی خاطر ایک نظر آپریشن تھیٹر کے بند دروازے کو دیکھ کے اسے مخاطب کیا۔
تو اس نے کاٹ دار نگاہیں اٹھا کے اس کے چہرے کی جانب دیکھا اور بے حد تلخ اور زہرخند لہجے میں گویا ہوئی۔
“خود کا سودا کیا ہے۔” اس کے اس قدر بے رحم الفاظ پہ سامنے کھڑے معیز کا چہرہ مارے ہتک و سبکی کے سرخ پڑ گیا۔
“کیا بکواس کر رہی ہو؟” وہ دبے دبے لہجے میں غرایا لیکن اب کی بار اس نے جواب دینے کی بجائے واپس توجہ گود میں دھرے ہاتھوں کی جانب مبذول کر لی۔
جبکہ اس کے اس انداز پہ پیچ و تاب کھاتا معیز واپس معید کی طرف چلا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صفدر شاہ (پیر سائیں) اپنے علاقے کی ایک بہت جانی مانی اور بہت معزز ہستی مانے جاتے ہیں کیونکہ وہ نسلوں سے چلتی اپنے بزرگوں کی روایات و اقدار کو لیے اس علاقے میں بہت سے اصلاحی کام بھی کروا رہے تھے۔
لیکن اسی گھرانے کی صدیوں سے ایک رسم چلتی آ رہی تھی کہ ہر نسل کے بڑے بیٹے کی بیٹی کو اس کے خاندان کی سلامتی و حفاظت کے لیے اس رسم کی بھینٹ چڑھایا جاتا تھا۔
اس لڑکی کا نکاح ہر نسل کے گدی نشین کے کسی بھی خاص مرید یا اس کے گھر میں کسی کے ساتھ کر دیا جاتا اور اس نکاح کے فورا بعد اسے ایک کمرے میں بند کر دیا جاتا تھا جہاں وہ اپنی بقیہ زندگی اللّٰہ کی راہ میں اپنے خاندان کی سلامتی کے لیے قربان کر دیتی تھی۔
ان کے تئیں یہ ان کے خاندان کا ایک صدقہ ہوتا تھا اور چونکہ کوئی بھی کھل کے اس رسم سے منحرف نہیں تھا اس لیے نسلوں سے یہ رسم چلی آ رہی تھی۔
برسوں پہلے صفدر شاہ کی بہن پھر ان کی بیٹی(مزدلفہ) بھی اسی رسم کی بھینٹ چڑھی تھی۔
صفدر شاہ(پیر سائیں) کے دو بیٹے جعفر شاہ جن کی شریکِ حیات ساجدہ بیگم ہیں وہ بڑے، ان سے چھوٹے سفیر شاہ جن کی شادی فاطمہ بیگم پھر مزدلفہ شاہ اور سب سے چھوٹے پرویز شاہ ہیں جن کی شادی نسرین بیگم سے ہوئی تھی۔
جعفر شاہ سائیں کی تین اولادیں ہیں آبگینے، اویس اور طلال۔
سفیر شاہ سائیں کی دو بیٹیاں ہیں زاہرہ جس کی شادی ظہیر شاہ سے ہو چکی ہے اور دوسری بیٹی عائزہ ہے۔
پرویز سائیں کی بھی تین اولادیں ہیں مریم، زینب اور ثمران۔
لیکن چونکہ جعفر سائیں سب سے بڑے ہیں اور اگلے گدی نشین بھی وہی ہوں گے اس لیے اس بار رسم کے لیے ان کی بیٹی ‘آبگینے جعفر’ کو چنا گیا تھا۔
حویلی میں موجود سبھی لڑکیاں آبگینے کے ایسے نصیب پہ افسردہ تھیں لیکن اس کے نام نہاد سسرال سے آئے اس کے شاندار سامان کو دیکھ کے ورطہء حیرت میں مبتلا بھی تھیں کہ صرف ایک کاغذی کاروائی کے لیے کون اتنا تردد کرتا ہے بھلا؟
اور ایسی ہی صورتحال باہر مردان خانے میں بھی تھی۔
“پیر سائیں!آپ کو رضا گردیزی کو منع کرنا چاہیے تھا کہ جب پتہ ہے کہ یہ سب ایک پانچ منٹوں کی کاروائی ہے تو اس کے لیے ایسا ڈھنڈورا کیوں پیٹ رہے ہیں یہ لوگ؟” جعفر سائیں جو گزشتہ چند دنوں سے بیوی اور بیٹی کی سسکیوں اور التجاوں سے بے حد تپ چکے تھے وہ اس سارے ڈرامے کو دیکھ کے مزید زچ ہو گئے تھے۔
“یہ سب اس کے بیٹے کی خواہش ہے کہ شادی بیشک جس طرح کی بھی ہو رہی ہے لیکن مکمل رسومات کا خیال رکھا جائے گا۔” پیر سائیں خاصے متحمل انداز میں گویا ہوئے کیونکہ اس وقت میں ان کی ایک جذباتی حرکت ان کے لیے مسئلہ کھڑا کر سکتی ہے اس لیے وہ اس وقت مصلحتاً چپ تھے۔
اس سے قبل کے وہ مزید کچھ کہتے یا کوئی اور اعتراض اٹھاتے اچانک حویلی کا مین گیٹ کھلا اور یکے بعد دیگرے تین گاڑیاں حویلی کے پورچ میں آن ٹھہریں۔
“گردیزی ہاوس سے بچیاں آ چکی ہیں، اندر زنان خانے میں اطلاع پہنچاو کہ آبگینے کو تیار کریں۔یہ لوگ اس کی مہندی کی رسم کرنے آئے ہیں۔” چونکہ اس وقت شام اپنے پر پھیلا چکی تھی اس لیے پیر سائیں نے رسم کے لیے پیغام بھجوا دیا کیونکہ وہ لوگ بتا چکے تھے کہ آج مہندی کی رسم کے لیے تشریف لائیں گے۔
زنان خانے میں جب پیر سائیں کا پیغام اور گردیزی ہاوس کی خواتین ایک ساتھ پہنچیں تو سب یکلخت چوکنے سے ہو گئے۔
“یہ آبی کے سسرال میں لڑکیاں اس قدر حسین ہیں تو سوچو اس کا میاں بھی تو خوبصورت ہو گا نا؟” مریم زاہرہ کے کان میں گھسی جو اس کی بات سن کے تپ اٹھی۔
“کیا فائدہ ایسی خوبصورتی کا جب اپنے حق کے لیے ہی نہ آواز اٹھائے اور یہ فضول رسم ختم کرے, بزدل مرد۔” زاہرہ کو اپنے گھر والوں کے ساتھ ساتھ اس شخص پہ بھی غصہ آ رہا تھا جو اس رسم کو نبھانے کے لیے تیار ہو گیا تھا۔
“وہ بھی مجبور ہو گا جس طرح آبی کو مجبور کیا گیا ہے۔” مریم نے افسردگی سے کہا تو زاہرہ نے نخوت سے سر جھٹکا۔
“آبی کا کیس اور ہے وہ مرد ہے وہ آواز اٹھا سکتا تھا لیکن خیر دعا ہے کہ آنے والی نسلوں میں کوئی مرد کا بچہ اس گھٹیا رسم کا خاتمہ کر دے۔” زاہرہ جو ان سب سے زیادہ اس رسم پہ اور سب کی خاموشی پہ دل برداشتہ تھی وہ زہرخند لہجے میں گویا ہوئی۔
“بھابھی کدھر ہیں؟” زمل جسے سب سے زیادہ بھابھی سے ملنے کا کریز تھا وہ سب سے ملنے کے بعد جب بیٹھی تو فورا پراشتیاق لہجے میں گویا ہوئی۔
“تیار ہو رہی ہے۔” جواب فاطمہ بیگم کی جانب سے آیا تو وہ سر ہولے سے ہلاتی واپس لڑکیوں کی باتوں کی جانب متوجہ ہو گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“ضرغام چاچو!” اس کی نم اور قدرے بھنچی ہوئی آواز اس کی سماعتوں پہ جیسے دہکتے ہوئے سیسے کی مانند اتری تھی۔
جبکہ سینے پہ موجود اس کے نازک وجود کا لمس اسے حقیقت کی تلخ دنیا میں پٹختا جیسے زندہ درگور کر گیا۔
اس نے فورا اپنی گرفت ڈھیلی کی اور سیکنڈ کے ہزارویں لمحے میں اسے خود سے دور دھکیلا جو سیاہ رنگ کے لباس میں ملبوس گرے حجاب اپنے چہرے کے گرد اوڑھے سرخ چہرے, نم آنکھوں میں بے یقینی لیے، گہری سانسیں بھرتے ہوئے نیم وا کپکپاتے سرخ ہونٹوں کے ساتھ اسے تک رہی تھی۔
“آئم سوری شہرے!” اس کی حالت دیکھتے ہوئے اس کا دل چاہا وہ خود کو فنا کر ڈالے جو اتنے سالوں کے چھپے جذبات کو آج عالمِ مدہوشی میں ‘ننگا’ کر دینے کے درپے تھا۔
“آئم ناٹ ان مائی سینسز، آئم ریئلی سوری۔” اس نے نظریں ملائے بغیر وہ مدہم سے لہجے میں گویا ہوتا اپنی جگہ سے اٹھا تو شہرے بے ساختہ ایک قدم پیچھے ہوئی اور اپنی جگہ سے کھڑا ہوتا ضرغام ملک شہرے کی اس حرکت پہ جیسے جیتے جی مر گیا تھا۔
“آپ۔۔۔آپ ڈرنکڈ ہیں؟” اس کی لرزتی ہوئی اور قدرے خوفزدہ آواز پہ اس نے سختی سے لب بھینچتے ہوئے اپنی بھوری آنکھیں اٹھا کے اس کی جانب سلگتی نگاہوں سے دیکھا جبکہ اس سوال پہ کنپٹی کی رگ جیسے پھڑک اٹھی تھی۔
“میں ڈرنکڈ نہیں تھا شہرے، میں نیند میں ڈوب رہا تھا اس لیے مجھے پتہ نہیں چلا اس کے لیے معذرت خواہ ہوں۔” وہ کسی کو صفائی نہیں دیتا تھا، وہ بزنس کے دوران بھی کسی ڈیلنگ کے دوران کسی کو قائل کرنے کے لیے بے تحاشا گفتگو نہیں کرتا تھا نا فضول کی بھڑکیں لگاتا تھا اور اب نازل ہوئی اس افتاد پہ جب روح کی مکین بے یقینی کا شکار تھی صرف اس کے لیے وہ صفائی دینے کی کوشش کر رہا تھا اور یہ چیز اسے اذیت دے رہی تھی۔
“اوکے لیکن آپ نے مجھے بہت زور سے پکڑا تھا، میرے بازووں میں ابھی تک درد ہو رہی ہے۔میری توبہ جو زندگی میں کبھی بھی سوتے ہوئے آپ کے نزدیک آئی۔” وہ جو اس کے اس سے بات نہ کرنے پہ خفگی کا شکار ہوتی تھی اس کے بار بار معذرت کرنے پہ سب فراموش کر گئی کہ نیند میں تو انسان کو بعض دفعہ پتہ نہیں چلتا اس لیے نیند میں ‘چاچو’ نے سینے سے لگا لیا ہو گا۔
لیکن اس کی معذرت قبول کرنے کے ساتھ ساتھ اس نے شکوہ کرتے ہوئے اپنے ارادوں سے بھی آگاہ کیا تو ضرغام نے ایک سرسری سی نگاہ اس کے بازووں پہ ڈال کے سرعت سے واپس کھینچ لی۔
“آپ کیا کرنے آئی تھیں یہاں؟” اس نے موضوعِ گفتگو بدلا۔
“اوہ ہاں، ہم لوگ نگاہ چچی کے ساتھ شاپنگ کے لیے نکلے ہیں اور اب بڑی ماما(ضرغام کی ماما) کا کہنا ہے کہ برائیڈل ڈریس لینا ہے اس لیے آپ بھی ہمارے ساتھ آ جائیں گاڑی نیچے کھڑی ہے۔” اس نے عادتاً تفصیل سے آگاہ کیا تو اس کی کشادہ پیشانی پہ بل پڑے۔
“وہ لوگ نیچے کھڑے ہیں؟” اس نے اب کی بار سنجیدگی اور کسی قدر ناگواری سے استفسار کیا۔
“نہیں وہ سامنے موجود مال سے کچھ چیزیں لے رہے ہیں، آپ کا نمبر بند آ رہا تھا اس لیے میں نے سوچا آپ کو بلا لیتی ہوں۔” اس نے دوبارہ تفصیل سے جواب دیا تو پیشانی کے بل مزید گہرے ہوئے۔
لیکن وہ اس وقت اپنی کیفیت پہ قابو پانا چاہتا تھا اس لیے اگلے ہی پل بنا کچھ کہے اپنی چیزیں سمیٹتا اس کے ہمراہ باہر کی جانب بڑھا جہاں اسے اپنی منکوحہ کے لیے ‘برائیڈل ڈریس’ پسند کرنے جانا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابراہیم صاحب کا آپریشن ہو چکا تھا اور تیسرے روز انہیں ڈسچارج مل چکا تھا۔
ہاسپٹل سے ڈسچارج ہوتے ہوئے زحلے نے وہاں ڈاکٹر سے بات کر کے بابا کے لیے ایک میل نرس کا ارینج کیا کیونکہ اسے دو دن بعد ‘میر پیلس’ جانا تھا اور پیچھے ابراہیم صاحب کی دیکھ بھال کے لیے کسی کا ہونا بہت ضروری تھا۔
“بابا!مجھے کل سے جاب پہ جانا کرنا ہے، میں نے آفس سے ادھار لیا ہے اس لیے کیا پتہ مجھے اوور ٹائم دینا پڑے اس لیے پریشان مت ہوئیے گا۔میں نے عاشر کو سمجھا دیا ہے وہ آپ کے پاس آپ کے ساتھ رہا کرے گا۔” اسے اگلے دن ‘میر پیلس’ جانا تھا اس لیے وہ رات کو ابراہیم صاحب کو دوا دیتی مدہم لہجے میں بول رہی تھی جبکہ اس کے تھکن زدہ چہرے کو دیکھ کے وہ بے بسی سے فقط سر اثبات میں ہلا کے رہ گئے۔
اس سے اگلے دن وہ عاشر(میل نرس) کو بابا کے حوالے سے مکمل ہدایات جاری کرتی آٹھ بجے ہی گھر سے نکل گئی کیونکہ شازمین میر کا کہنا تھا کہ وقت سے پہلے آئے تاکہ وہ اس سے بات کر سکے۔
ساڑھے آٹھ بجے جب وہ وہاں پہنچی تو ملازمہ کی معیت میں سیدھی شازمین میر کے کمرے تک پہنچی جہاں وہ سلک کا وائٹ نائٹ گاون پہنے بیڈ ٹی لے رہی تھی۔
“آج سے تمہیں فل ٹائم ذوالنورین کے ساتھ رہنا ہو گا، صبح آ کے اس کا ناشتہ بنانے سے لے کے، اس کی میڈیسن، اسے واشروم تک پہنچانا، اس کا کھانا پینا یہ سب تمہیں دیکھنا ہو گا الغرض تمہیں صبح آٹھ سے رات سات بجے تک اس کا سایہ بن کے رہنا ہو گا۔اسے اس قدر اپنا عادی بناو کہ وہ پاگل ہونے لگے۔” چہرے پہ ناقابلِ فہم تاثرات جبکہ آنکھوں میں ایک جنونی چمک لیے وہ بولتی جا رہی تھیں جبکہ ان کی باتیں سنتی زحلے جیسے صوفے پہ بیٹھی اسی کے اندر دھنستی جا رہی تھی۔
“لیکن اس سے پہلے اپنا حلیہ بہتر کرو، خود کو سنوارو،خود کو نکھارو تاکہ وہ جلد تمہاری جانب متوجہ ہو۔ٹھیک ہے نا؟” اسے حکم جاری کرتے ہوئے انہوں نے اس کی جانب دیکھا جس پہ کسی بے جان مورت کا سا گمان گزر رہا تھا۔
اس کے پوچھنے پہ زحلے نے ہولے سے سر اثبات میں ہلایا۔
“اوکے اب تم جا سکتی ہو۔ملازمہ تمہیں کچن میں پہنچا دے گی اور ذوالنورین کا ٹائم ٹیبل بھی سمجھا دیتی ہے۔” اسے حکم دیتی وہ کپ سائیڈ ٹیبل پہ پٹخ کے اٹھی اور خود ڈریسنگ روم میں گھس گئی جبکہ وہ بے جان ہوتے قدموں کے ساتھ ملازمہ کی معیت میں کچن کی جانب چل دی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اورنج کلر کے شرارے کے ساتھ اولیو گرین شرٹ پہنے، لمبے بالوں کی چٹیا بنا کے بائیں کندھے پہ ڈالے، وہ سر پہ بلیو آرگنزہ کا دوپٹہ جس کے کناروں پہ پیلے اور گلابی رنگ کی خوبصورت سی باونڈری ہوئی تھی سجائے، بنا میک اپ کیے فریش پھولوں کی جیولری پہنے جب زاہرہ، مریم اور عائرہ کے ہمراہ دھیرے دھیرے چلتی ہال میں پہنچی تو وہاں آئی گردیزی ہاوس کی تمام خواتین اس کا اتنا مکمل، پرنور اور معصومیت سے بھرپور حسن دیکھ کے دنگ رہ گئیں۔
اور دل سے بے ساختہ ہوک سی نکلی کہ یہ حسن، یہ خوبصورت وجود ان کا ہو کے بھی ان کا نہیں ہو گا۔
آبگینے ماں کے اشارے پہ بی جان کی جانب بڑھی تو انہوں نے محبت سے اسے سینے سے لگایا اور پھر اپنے پاس ہی بٹھا لیا۔
اس کے بیٹھنے پہ سائرہ گردیزی آگے بڑھیں اور وفورِ جذبات سے اسے اپنے سینے میں سمیٹتے ہوئے اس کی پیشانی کا بوسہ لیا۔
“یہ تمہاری ساس ہیں آبگینے۔” نسرین چچی نے سائرہ بیگم سے اس کا تعارف کروایا تو وہ جو ان کے التفات پہ جزبز سی ہو رہی تھی اس تعارف پہ جیسے سن ہو کے رہ گئی۔
پھر رفتہ رفتہ سب آگے بڑھیں اور اس سے بہت محبت سے ملیں اور اپنا تعارف کروانے لگیں۔
جبکہ ان سب کی محبتوں کے مظاہروں اور تعارف پہ آبگینے کے اندر زہر بھرنے لگا کہ وہ کون سا ان کے ساتھ کوئی ایسا رشتہ جوڑنے والی تھی جو سب یوں بیہیو کر رہے تھے۔
پھر بی جان کے اشارے پہ اس کے کندھوں پہ ایک سجا ہوا دوپٹہ پھیلایا گیا تو زاہرہ اور زینب نے مل کے جلدی سے میز پہ چیزیں سجائیں اور پھر مہندی کی رسم شروع کی گئی۔
“بھابھی کے ہاتھوں پہ مہندی نہیں لگائی گئی؟” جب بی جان اس کے ہاتھ پہ نوٹ رکھنے کے بعد مہندی اس نوٹ پہ رکھنے لگیں تو اس کی بے داغ ہتھیلیوں کو دیکھ کے وہ دریہ بے ساختہ بول اٹھی۔
اس کے اس اچانک سوال پہ سب ایک دوسرے کا چہرہ دیکھنے لگیں تو بی جان نے گلا کھنکھارتے ہوئے نواسی کو تنبیہہ کرنی چاہی۔
“دراصل بیٹا، آبی کے ہاتھوں پہ مہندی نہیں لگائی جا سکتی۔پیر سائیں نے منع کیا ہے۔” فاطمہ بیگم نے لہجے میں بشاشت سموتے ہوئے اسے اس کے سوال کا جواب دیا تو اس کا چہرہ جیسے لٹک گیا۔
“لیکن رہبان لالہ نے تو کہا کہ میری دلہن کے ہاتھوں پہ لازمی مہندی لگانی ہے۔” اس نے اپنے مخصوص بلنٹ انداز میں اپنے بے باک لالہ کا پیغام باآواز بلند دیا تو سبھی کو گویا سانپ سونگھ گیا۔
“آپ لگانا چاہتی ہیں تو لگا لیں۔” زاہرہ نے نجانے کیا سوچ کے اسے کہا تو ایک ہی لمحے اسے ماں، تائی اور چچی سبھی کی خشمگیں نگاہوں کا سامنا کرنا پڑا لیکن دریہ کو تو جیسے ایسے ہی کسی اجازت نامے کی تلاش تھی۔
وہ مہندی کی کون پکڑ کے فورا آبگینے کے نزدیک ہوئی اور اس کی ہتھیلی کے درمیان گول سی ٹکی جلدی سے بنانے لگی کہ کوئی منع نہ کر دے اور پھر ایک سائیڈ پہ دریہ بیٹھی آبگینے کے ہاتھوں کو مہندی سے رنگنے لگی جبکہ دوسری طرف باری باری سب بیٹھ کے رسم کر رہے تھے۔
پیر حویلی کی خواتین کی توجہ رسم سے زیادہ آبگینے کے مہندی والے ہاتھوں پہ مبذول تھی کیونکہ اگر کسی کو پتہ چل جاتا تو مردوں نے انہیں بہت سخت سست سنانی تھیں۔
اگلے ایک گھنٹے میں وہ اس کے خوبصورت ہاتھوں کو مہندی سے سجا چکی تھی۔
رسم کے دوران مائرہ گردیزی مسلسل اپنے موبائل پہ ان کی تصاویر بنا رہی تھیں اور یہ کام وہ مکمل اجازت نامے سے کر رہی تھیں جبکہ ساجدہ بیگم بیٹی کے سسرال والوں کی اس محبت و توجہ پہ خوش بھی نہ ہو پا رہی تھیں کہ یہ سب بیٹی کا نصیب نہیں تھا۔
اپنے شگن مکمل کرنے کے بعد کھانا وغیرہ کھا کے جب وہ لوگ نکلے تو زاہرہ نے پہلی فرصت میں تھکی ہوئی آبگینے کو اس کے کمرے تک پہنچایا۔
“آپی پلیز یہ جیولری اتار دیں، مجھے وحشت ہو رہی ہے۔” اس نے کمرے میں آتے ہی نم لہجے میں زاہرہ سے کہا جو سر اثبات میں ہلاتی اس کے بالوں اور کانوں سے پھولوں کے زیورات نکالنے لگی۔
“ہاتھ سیدھے رکھو یہ نا ہو کہ گجرے اتارتے ہوئے مہندی خراب ہو جائے۔” جب زاہرہ اس کی کلائیوں میں پہنے گجرے اتارنے لگی تو اسے ٹوکتی ہوئی بولی۔
“اچھا ہے خراب ہی ہو جائے، میرا ویسے بھی ان رنگوں سے اب کیا واسطہ؟” خود اذیتی سے کہتی ہوئی وہ اپنی ہتھیلوں کو سیدھا کرتی بے تاثر نگاہوں سے مہندی پہ نظر مارنے لگی تو جیسے نگاہ و وجود لمحوں میں منمجند ہوا تھا۔
اس کی ہتھیلی کے سائیڈ پہ جگمگاتے ‘رہبان’ نام کو دیکھ کے اس کے وجود کو جیسے حیرت و بے یقینی کے جھٹکے لگے تھے جبکہ سماعتوں میں ایک خوبصورت بھاری لہجہ گونجا تھا۔
“خاکسار کو رہبان گردیزی کہتے ہیں۔”
“رہبان گردیزی۔۔۔۔۔۔”
باہر تو وہ جیسے سنگی مجسمے کی مانند ساکت اور ہر شے سے بے نیاز بیٹھی تھی کہ اگر کسی نے اس کا نام لیا بھی تھا تو اس نے سنا نہ تھا اور نہ مہندی لگواتے ہوئے اس نے ایک نظر بھی اپنے ہاتھوں پہ ڈالی تھی۔
لیکن اس لمحے ہونے والے انکشاف پہ اس کا وجود بے یقینی کی زد میں تھا۔
اس کی حیرت و کیفیت سے بے خبر زاہرہ اس کی جیولری اتار کے اسے ریسٹ کرنے کا کہہ کے کمرے سے نکل چکی تھی۔
“اگر یہ وہی رہبان ہیں تو حویلی میں کال کیوں کی تھی؟” بار بار یہ سوال اس کے دماغ میں اودھم مچا رہا تھا۔
لیکن اس کی بے لگام سوچوں کو بریک ایک عجیب سی آواز نے لگایا تو اس نے گردن گھما کے ادھر ادھر دیکھا تو نگاہ سائیڈ ٹیبل پہ پڑے موبائل پہ پڑی جو وائبریشن پہ لگا اس وقت تھرتھرا رہا تھا۔
وہ اپنی جگہ سے اٹھتی اس طرف بڑھی اور جھک کے موبائل سکرین کی جانب دیکھا جہاں موجود ان ناون نمبر دیکھ کے اس کی دھڑکن بے ساختہ منتشر ہوئی تھی۔
دل و دماغ میں ہونے والی کھدبد کو ختم کرنے کے لیے کہ یہ وہی ہے یا کوئی اور کچھ سوچتے ہوئے اس نے گرین بٹن کو پریس کیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دونوں ہاتھوں میں ناشتے کی ٹرے پکڑے وہ بائیں کندھے پہ اپنا بیگ لٹکائے اس کے کمرے کی جانب بڑھی۔
ٹرے کی مدد سے ہی ہلکی سی دروازے پہ ٹھک ٹھک کرتی وہ کمرے میں داخل ہوئی تو نگاہ سیدھی اس سے جا ٹکرائی جو آج وہیل چیئر پہ بیٹھا بالکونی کی جانب کھلتی کھڑکی کے سامنے موجود تھا۔
اتنے دنوں بعد اسے سامنے دیکھ کے اس پہ مستزاد اس کے ہاتھوں میں ناشتے کی ٹرے دیکھ کے اس کی آنکھوں میں چھائے سرد تاثرات مزید گہرے ہوئے۔
“السل۔۔۔۔۔۔۔” اس نے ٹرے میز پہ رکھتے ہوئے اسے سلام کرنا چاہا جب اس نے درشتگی سے اس کی بات قطع کی۔
“بتول(میڈ)کہاں ہے؟”
جاری ہے۔
