57.1K
55

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 39


“دل تیرے سنگ جوڑ لیا”
از
حوریہ ملک
Episode#39;

دروازے کے بیچ و بیچ کھڑی شازمین میر کو دیکھ کر جہاں کلثوم میر اور زحلے کا رنگ فق ہوا تھا وہیں ذوالنورین کی کشادہ پیشانی پہ بے شمار بل پڑے تھے۔

“یہ یہاں کیا کر رہی ہے؟” کمرے کے وسط میں آتی وہ بلند آواز میں دھاڑی تو کلثوم میر نے تھر تھر کانپتے ہوئے بے ساختہ ساتھ بیٹھے بیٹے کا بازو جھکڑا۔

“میں پوچھ سکتا ہوں کہ کس کی اجازت سے آپ میرے کمرے میں آ کے میری ہی ماں پہ چلا رہی ہیں؟” اس کی سرد آواز میں عجیب سی تپش تھی جو شازمین میر کو ٹھٹھکا گئی۔

“یہ گھر میرے نام ہے, اس کے ہر کونے میں میں جب چاہوں جا سکتی ہوں۔” اس نے اپنی اکڑ برقرار رکھنی چاہی۔
“یہ گھر جس کے نام ہے اسی پہ چلانے کی جرات کر رہی ہیں، داد دینی پڑے گی آپ کو۔” لہجے کی سردمہری گہری سے گہری تر ہونے لگی تھی۔
جس پہ زحلے کی موجودگی میں شازمین میر کے اندر کا چور طیش میں بدلنے لگا تھا۔
وہ اس وقت بیک وقت تینوں پہ حاوی نہیں ہو سکتی تھی اس لیے اس نے زحلے کو دبانے کا سوچا تھا۔

“تم۔۔تم یہاں میں اس کو پڑھانے کے لیے لے کے آئی تھی اور تم م۔۔۔۔۔”
“میری بیوی سے اس لہجے میں بات مت کریں۔” ذوالنورین کی بلند درشت آواز گونجی تو زحلے نے میکانکی انداز میں گردن گھما کے حیرت سے اسے دیکھا۔

اسے ‘مس ابراہیم’ کہہ کے پکارنے والے کے منہ سے ‘میری بیوی’ سن کے اس کے احساسات ناقابلِ فہم سے ہو رہے تھے۔

“یہ۔۔یہ مارے گی۔” اس کی بلند آواز پہ کلثوم میر نے مزید زور سے اس کا بازو دبوچتے کہا تو اس کی آنکھوں کے گوشے سرخ ہونے لگے۔

“میری ماں اور میری بیوی کی طرف بری نگاہ سے دیکھنے کی اب سے کوشش مت کیجیے گا وگرنہ میں وہ کروں گا جو آپ یقیناً برداشت نہیں کر سکیں گی۔” خود پہ بمشکل قابو پاتے وہ زہر خند لہجے میں گویا ہوا تو اس کے تن بدن میں آگ لگ گئی۔

“کیا کر لو گے تم؟ہو کون تم؟ایک اپاہج انسان جو اپنے پیروں پہ تو کھڑا ہو نہیں سکتا اور لگا ہے مجھے دھمکیاں دینے۔” وہ جو ہمیشہ ذوالنورین کے سامنے بڑی کمپوذڈ رہا کرتی تھی آج ضبط ہار بیٹھی۔کیونکہ کلثوم میر کی اپنے بیٹے کے کمرے میں آمد اس کی ہار کی پیشین گوئی تھی۔

جبکہ اس کے اس قدر زہریلے الفاظ پہ زحلے نے تڑپ کے اس کے چہرے کو دیکھا جو اس وقت شدتِ ضبط کے باعث سرخ ہو رہا تھا۔
جبکہ بھنچی ہوئی مٹھیاں اور کنپٹی کی ابھرتی رگ اس کے اندر اٹھتے طوفان کا پتہ دے رہی تھی۔

“آپ خدا کے لیے ذاتیات پہ حملہ مت کریں۔جو ان کے پاس نہیں ہے اور جو آپ کے پاس ہے وہ سب اللّٰہ کی دین اور تقسیم ہے اس پہ اس طرح طنز مت کریں۔” ذوالنورین پہ کیے گئے اس حملے پہ وہ چپ نہ رہ سکی اور فوراً ناگواری سے شازمین میر کو ٹوکا۔

اس کی اس اچانک حرکت پہ ذوالنورین نے چونک کے اسے دیکھا جو یقیناً اس کے لیے ایسے الفاظ سن کے ہرٹ ہوئی تھی۔

“تم بکواس بند رکھو اپنی اور تم،۔۔۔۔” اس نے نفرت سے اس اشارہ ذوالنورین کی جانب کیا۔

“تم وہیل چیئر پہ بیٹھ کے سوچو کہ تم میرا کیا بگاڑ سکتے ہو؟” زہر آلود لہجے میں بولتے ہوئے وہ پلٹی تھی۔

“جو کچھ سالوں پہلے آپ کر چکی ہیں اس کا بدلہ کیسے لینے ہے اس کے متعلق سوچ چکا ہوں اور جب اس پہ عمل کیا تو اس کے بعد آپ کچھ مزید کرنے کے قابل نہ رہیں گی چچی بیگم۔” طنزیہ مگر بہت کچھ باور کرواتی آواز شازمین میر کے وجود کے پرخچے اڑا گئی۔

“کیا مطلب ہوا اس بات کا؟ کیا یہ ساری سچائی جانتا ہے؟ کیا یہ کلثوم میر کی اس حالت کی وجہ جان چکا ہے؟” بہت سارے سوالات بیک وقت اس کے دماغ میں اودھم مچانے لگے تھے۔

“میں سب کچھ فراموش کر سکتا ہوں لیکن اپنی ماں کی اس حالت کی وجہ کو معاف نہیں کر سکتا کیونکہ آپ کے کھیل کی بساط پلٹ چکی ہے۔” اس نے مزید بولتے ہوئے اسے جتایا کہ وہ اسے بے خبر ہرگز نہ سمجھے جبکہ شازمین میر اب گویا خود میں پیر ہلانے کی سکت بھی نہ کر پا رہی تھی۔

اس نے اتنے سالوں ذوالنورین کو یہی کہا کہ اس کی ماں کی حالت کے پیچھے اس کی سامعہ کے ساتھ کی گئی غلیظ حرکت ہے اور اس کی بات سن کے اپنے کمرے میں وہیل چیئر پہ بیٹھا ذوالنورین چپ کر جایا کرتا تھا اور اسے وہ اپنی کامیابی سمجھتی تھی۔
مگر پہلے زحلے اور اب کلثوم میر کی وجہ سے وہ اتنی ہائپر اور جذباتی ہو گئی تھی کہ خود ہی پیروں پہ کلہاڑی مار بیٹھی تھی۔

“بساط پلٹنے کی فکر مت کرو۔ ابھی بس تم یہ سوچو کہ اس معذوری کے ساتھ تم اپنی ماں اور اس سوکالڈ بیوی کو اس جگہ پہ کیسے رکھ سکتے ہو؟” اپنی پوری ہمت مجتمع کرتی وہ ایک دفعہ پھر سے زہر اگلتی ٹک ٹک کرتی وہاں سے چلی گئی۔

“یہ تمہیں مارے گی؟” کلثوم میر کے چہرے پہ ہنوز خوف چھایا ہوا تھا۔
جبکہ زحلے یک ٹک اس کا خوبرو چہرہ تکے جا رہی تھی جو شاید اپنے کہے الفاظ سے ہی بے خبر تھا۔

“وہ کچھ نہیں کر سکتی اب ماسوائے باتیں کرنے کے۔” اس نے سرد لہجے میں بولتے ماں کے ہاتھ محبت سے چومتے ہوئے اس کی جانب دیکھا جو اردگرد سے بیگانہ اس کے چہرے پہ نظریں جمائے متحیر بیٹھی تھی۔

“ایک ہی دل تھا مادام جو آپ کی گردن پہ لپٹے نیلے موتی سے الجھ پڑا ہے، اب میرے حال پہ رحم کھائیں۔” ہاتھوں میں ماں کے ہاتھ تھامے، نظریں بظاہر ماں کے چہرے پہ مرکوز کیے وہ معنی خیز لہجے میں قدرے بلند آواز میں بولا تو وہ ایک دم سے گڑبڑائی۔
اور جیسے ہی اس کے کہے الفاظ اس کے شعور تک پہنچے، اس کا پورا چہرہ سرعت سے سرخ ہوا تھا۔
اس نے فوراً پلکیں جھپکاتے ہوئے چہرے کا رخ موڑا اور برتن ٹرے میں رکھنے لگی۔

“نیچے نہیں جائیے گا۔ملازمہ آ کے برتن لے جائے گی۔آپ مجھے ایگزامز ڈیٹ شیٹ چیک کروا دیں۔” اس کو دانستاً نیچے جانے سے روکتا وہ بہانہ گھڑ گیا۔
اسے پتہ تھا کہ شازمین میر کی چوٹ ابھی نئی تھی اس لیے وہ زحلے کو سامنے دیکھ کہ ضرور کوئی رذیل حرکت کرے گی اس لیے وہ اسے روک چکا تھا۔
جبکہ اس کے حکم پہ نئے سرے سے پریشان زحلے اپنا موبائل لینے چل دی۔
جو اسے ٹیچر اور بیوی کے چکر میں بری طرح الجھا چکا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک نئی صبح بہت سے نئے راز اور انکشاف لیے ‘ملک ہاوس’ کی اونچی عمارت پہ اپنی کرنیں بکھیر رہی تھی۔
جدید طرز کے بنے بڑے سے کچن اور ڈائیننگ ہال میں ہوتی ہلچل اس وقت سب کے متحرک ہونے اور ناشتے کے لیے تیار ہونے کی چغلی دے رہی تھی۔

“ضرغام رات کو واپس آ گیا؟” آغا جان نے چائے کا سپ لیتے ہوئے اسد صاحب کی جانب دیکھا۔
“ابھی گھر نہیں پہنچا۔” انہوں نے مختصر جواب دیتے توجہ ناشتے کی جانب مبذول کی۔

“ماما!ضر چاچو کی شادی شہرے آپی سے کب ہو گی؟” زوہان نے قندیل کو مخاطب کیا تو ایک دم سے ڈائیننگ ٹیبل پہ خاموشی سی چھا گئی۔
کیونکہ جب سے ضرغام اور نگاہ کی ڈائیورس کی بات چھڑی تھی تب سے ایک نامحسوس سی خاموشی پورے گھر پہ چھائی ہوئی تھی۔

“بہت جلد۔” اب کی بار بھی جواب بہت غیر متوقع طور پر اسد صاحب کی جانب آیا تھا۔
تبھی ڈائیننگ ہال کے دروازے پہ بہت دنوں کے بعد ایک نسوانی مگر قدرے آسودہ سی آواز گونجی۔

“السلام علیکم!گڈ مارننگ۔” معمول کی مانند کہتی ہوئی وہ آغا جان کی طرف بڑھی اور پھر فرداً فرداً سب سے ملنے لگی تو نگاہ پہ نظر پڑتے ٹھٹھکی تھی۔
مگر اس رات کی مانند اس وقت اس کے چہرے کے تاثرات میں سرد مہری نہیں تھی بلکہ وہ بڑی توجہ سے اسے دیکھ رہی تھی۔
تبھی وہ بھی مسکراتی ہوئی اس کی جانب بڑھی تھی۔

“ارے شہرے آئی ہے۔” اسی لمحے ثمرین بیگم ہال میں داخل ہوئیں تو اسے دیکھ کر کھِل سی اٹھیں۔
پیاری وہ انہیں پہلے ہی تھی لیکن بیٹے سے منسلک ہونے کے بعد تو وہ اور زیادہ عزیز ہو چکی تھی۔

“کیسی ہیں بڑی دادو؟” گرمجوشی سے ان کے سینے لگتی وہ محبت سے گویا ہوئی تو جاذب کی زبان میں کھجلی ہوئی۔

“ساس کو بڑی مما کہنے والی خاتون پہلی دفعہ دیکھی ہے۔” اس کے لہجے میں مصنوعی افسوس جھلکا تو ماحول گزشتہ شب و روز کے بوجھل پن سے آزاد ہوتا خوشگواریت سمیٹ لایا۔

“آپ ساس کی بات کر رہے ہیں، میں نے تو اللّٰہ معاف کرے شوہر کو چاچو کہنے والی خاتون بھی دیکھ رکھی ہے۔” راسم کے چٹکلے پہ شہرے نے کھا جانے والی نگاہوں سے اسے دیکھا۔

“خاتون نہیں ہوں میں۔” سب سے زیادہ اسے یہی بات قابلِ اعتراض لگی تھی۔

“بھئی تم جتنا مرضی اب اجتناب برت لو اس لفظ سے،جس حساب سے تمہارے شوہر کی عمر ہے تم اس کے ساتھ خاتون ہی کہلواو گی۔” عمارہ نے بھی ان کی شرارت میں حصہ لیا تو اس کے چہرے پہ شاکی پن سا لہرایا۔
جہاں لفظ ‘شوہر’ دل میں عجیب سی گدگدی پیدا کر رہا تھا وہیں اس کا خیال ایک کسک بھی دے رہا تھا۔

“بڑی مما!ان سب کو سمجھا لیں، مجھے تنگ مت کریں۔چھوٹی ہوں میں ان سب سے۔” اسد صاحب کی باتوں کا اثر تھا یا حالات سے ڈٹ کے مقابلہ کرنے کا فیصلہ۔جو بھی تھا وہ رات سے خود کو اسی پرانی ‘شہرے’ کے روپ میں ڈھال چکی تھی۔
اور اس کا یہ روپ نگاہ سمیت سبھی انجوائے کر رہے تھے۔

“بیشک آپ ان سے چھوٹی ہیں خاتون لیکن رشتے میں چونکہ بڑی ہیں اس لیے اب بیگم، بھابھی، چاچی، مامی حتی کہ مما سب کچھ بننے کے لیے تیار رہیں۔” ماہ وش بیگم نے اس کی جانب دیکھتے ہوئے شوخی سے کہا تو مرد حضرات کی موجودگی کے باعث وہ بری طرح سے سرخ پڑتی جھینپ اٹھی۔

“چلو، اب بس کرو سب لوگ۔میری بیٹی کو تنگ مت کرو آپ لوگ۔” ثمرین بیگم نے اس کے بالوں کو چومتے ہوئے محبت سے کہا تو راسم کی زبان میں وہاں ابھی ہی اینٹر ہونے والے ضرغام کو دیکھ کر خارش ہوئی۔

“بالکل آپ کا بیٹا آ چکا ہے، آپ کی بیٹی کو تنگ کرنے کا پرمٹ اس کے پاس ہے۔” اس کی دبی دبی آواز اتنی بلند ضرور تھی کہ سبھی کی سماعتوں کی نذر ہوئی تھی جبکہ ہال میں اینٹر ہوتے ہی راسم کے جملے پہ چونکتے ہوئے اس کی نظر جب ماں کے بازو کے ہالے میں موجود اس کے نازک وجود پہ پڑی تو اک سرور و سکون کی لہر وجود میں دوڑ گئی۔

“السلام علیکم!” اس کی گھمبیر آواز گونجی تو شہرے نے پلٹ کے اس کی جانب دیکھا جو آغاجان کی جانب بڑھ رہا تھا۔
اس کی دوسری نظر بڑی بے ساختگی میں نگاہ کی جانب اٹھی جو مسکاتی نگاہوں سے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔

“ان دونوں میں اتنا پیار ہے تو یہ ڈائیورس کیوں لے رہے ہیں؟” اس کی ذہنی رو پھر سے بھٹک گئی۔
اور انہی سوچوں میں الجھے ہوئے وہ یہ بھی نہ محسوس کر سکی کہ وہ آہستہ سے چلتا اب اس کے بالکل نزدیک کھڑا ثمرین بیگم سے ملنے لگا تھا۔

“ایک منٹ۔” ارسم کی اچانک آواز پہ وہ بھی اپنے خیالات کی یورش سے نکلی تھی۔

“پہلے ہمیں یہ بتاو کہ شہرے سے ملنے لگے ہو یا ماما سے؟” اس کی شرارتی آواز پہ ناچاہتے ہوئے اس کا چہرہ گلابی ہوا جبکہ ضرغام کی خوبصورت آنکھوں میں استحقاق کے رنگ جھلملانے لگے۔
وہ بڑی گہری نگاہوں سے اس کے دلکش سراپے کو دیکھتا آگے بڑھا اور اس سے پہلے کہ شہرے ثمرین بیگم کے پاس سے ہٹتی۔
اس نے دونوں بازو پھیلا کر ماں اور بیوی دونوں کو خود میں سمیٹ لیا۔

اس کی اس دلفریب حرکت پہ ینگ پارٹی کی ببانگِ دہل سیٹیوں کی آواز سے ہال گونج اٹھا جبکہ آغاجان اور اسد صاحب چونکہ ناشتہ ختم کر چکے تھے اس لیے باہر نکل گئے۔
دوسری جانب اس اچانک افتاد پہ اس کے سینے سے لگی شہرے دنگ رہ گئی۔
ان کی آخری ملاقات جس انداز میں ہوئی تھی، اُس تلخ کلامی کے بعد اسے ہرگز امید نہ تھی کہ وہ ایسی جرات مندانہ جسارت کرے گا۔مگر وہ ہمیشہ کی مانند اس کی توقعات کے برعکس فعل سرانجام دیتا اس کی ٹھہری دھڑکنوں کو منتشر کر گیا تھا۔

“یہ پہلی دفعہ تھا کہ ماں کو اتنا لمبا ہٙگ کیا گیا ہے۔اسے میں ماں کی محبت سمجھوں یا۔۔۔۔۔۔۔؟” ماہ وش بیگم کی شریر آواز پہ شہرے گڑبڑاتی ہوئی فوراً اس کے بازو کا حصار توڑتی فاصلے پہ ہوئی تھی۔

“میں۔۔میں ناشتے کے لیے آئی تھی۔آپ سب بس باتوں پہ ٹرخا رہے ہیں۔” آکورڈ سی سچویشن کو ہینڈل کرنے کے لیے وہ تیز تیز بولتی لاشعوری طور پر دایاں ہاتھ چہرے پہ پھیر کے چہرے سے پھوٹتی پرحدت تپش کو کم کرنے کی سعی کرنے لگی۔

“ادھر آ جاو شہری۔” آئلہ نے اسے اپنے پاس بلایا جہاں اس کے ایک طرف نگاہ بیٹھی ہوئی تھی۔

“یہ آدھی رات کو غائب ہونے کا شوق دن بدن گہرا نہیں ہوتا جا رہا تمہارا؟” جازم نے اسے دیکھا جو ماں کے ساتھ ہی کرسی پہ بیٹھ کے پانی کا گلاس تھام چکا تھا۔

“اور میں تمہیں جیسے جواب دے ہی دوں گا۔” اپنے مخصوص انداز میں اسے لاجواب کرتا وہ پانی پینے لگ گیا۔
جبکہ وہ نگاہ کے پاس بیٹھی ایک دفعہ پھر سے اس سوچ میں کھو چکی تھی کہ کیسے وہ اس ڈائیورس کو روک سکے۔

یہ جانے بغیر کہ جس ڈائیورس کو روکنے کے لیے وہ وہاں بیٹھی ہزاروں پلان بنا چکی تھی۔اس ڈائیورس پیپر پہ آج وہ دونوں سائن کرنے والے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس وقت گردیزی پیلس کے سارے مکین خوبصورت لاونج میں آبگینے اور دریہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔
بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ آبگینے کی دلجوئی کر رہے تھے جو وہاں سے آنے کے بعد مسلسل زارو قطار روئے جا رہی تھی کہ اس کی وجہ سے آج دریہ پہ بھی یہ مصیبت آن پڑی تھی۔

“آپ اب اس خاندان کا حصہ ہو۔آپ اور دریہ میں ہمارے لیے کوئی فرق نہیں ہے۔جو ہوا اس میں خود کو بلیم کرنا بند کریں کیونکہ ہم فیملی ہیں۔” رضا گردیزی نے اس کو تسلی دیتے ہوئے اپنے مخصوص نرم اور رسان بھرے لہجے میں کہا تو اس کے آنسو ان سب کی محبت پہ مزید تیز ہوئے تھے۔

“اپنے آنسو پونچھ لو لڑکی، ورنہ جس طرح تمہارا شوہر تمہیں گھور رہا ہے مجھے ڈر ہے کہ اگلے چند ہی منٹوں میں وہ سب کا لحاظ بھلا کر تمہارے آنسو نہ صاف کرنے لگ جائے۔” عقیدت پھپھو نے ماحول کی رنجیدگی کم کرنے کے لیے اس کے کان میں جھکتے ہوئے سرگوشی کی تو وہ گڑبڑا سی گئی۔
اور ایک خفیف سی نظر اس پہ ڈالی جو اسی کی جانب متوجہ گہری نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا۔

“آئم سوری دریہ۔” آنسو صاف کرتی وہ واپس سے دریہ کی جانب مڑی جو قدرے کمپوزڈ نظر آ رہی تھی۔

“خدا کا خوف کرو بھابھی، اب اگر آپ روئی یا مجھے سوری کہا تو میں ناراض ہو جاوں گی؟ اب لالہ کی جاب ایسی ہے ہزاروں دشمن بنا رکھے ہیں انہوں سے، کوئی بھی ایسی حرکت کر سکتا ہے اس لیے ریلیکس رہیں۔” اس نے بیٹھی ہوئی آواز کے ساتھ اسے ریلیکس کرنا چاہا۔

“اٹھو تم اور بھابھی کو کمرے میں چھوڑ کر آو۔طبیعت بگڑ جائے گی ورنہ۔” بی جان نے آیت کی جانب دیکھتے ہوئے اسے حکم دیا تو وہ فوراً اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔

“مجھے سمجھ یہ نہیں آتی کہ تم ہمیشہ اپنے سسرالیوں کے پاس اکیلے منہ اٹھا کے کیوں چلے جاتے ہو؟” آبگینے کے وہاں سے جانے کے بعد داود نے لگے ہاتھ اسے رگیدنا چاہا۔

“اب سسرال میں ہر دفعہ سو لوگوں کی بارات لے کے جایا کروں؟” اس نے تیوری چڑھا کے اسے دیکھا تھا۔

“بالکل، جو حالات تمہارے اور اُن کے ہیں، تمہیں سو سپاہیوں کی بارات لازمی لے کے جانی چاہیے۔” اس نے سکون سے جواب دیا۔
باقی سب چپ بیٹھے ان کی گفتگو سے محظوظ ہو رہے تھے۔

“سو سپاہی لے کر تو میں وانٹڈ کرمنلز کے پاس بھی نہ جاوں۔یہ تو پھر سسرالی ہیں۔” اس کے انگ انگ میں اس وقت پیر حویلی والوں کو ان کے ہی ٹھکانے میں گھس کر شکست دینے کی مستی چھائی ہوئی تھی۔

“ان کی طرف سے کوئی ردِعمل نہیں آیا ابھی تک؟تم واپس سفیر شاہ کو جیل میں لے گئے ہو۔” احمد صاحب نے سنجیدگی سے سوال بلند کیا تو سب کی نگاہیں اس پہ مرکوز ہو گئیں۔

“ابھی تو سارے بخت خان کی آمد کو انجوائے کرتے ہمارے خاتمے کے پلانز بنا رہے ہوں گے۔” ان کے ردِعمل کا جی جان سے منتظر وہ پراسرار سی مسکراہٹ ہونٹوں پہ سجائے آسودگی سے بولا تھا۔

وہ لوگ بیک وقت انہیں بہت سے نقصانات سے دوچار کر کے انہیں دھچکا چکے تھے تاکہ وہ بوکھلا کے جذباتی قدم اٹھائیں۔
بخت خان کی غیرموجودگی کے باعث برسوں سے ان کا مہرہ بنے ولید میر کی رہائی۔
کلثوم میر کا ذوالنورین تک پہنچ جانا، ذوالنورین کا ایگزامز کے لیے سنجیدہ ہونا
سفیر شاہ کی دوبارہ سے جیل میں واپسی۔
ان کے انتقام کا مہرہ بنی آبگینے اور دریہ کی ناک تلے سے رہائی

بہت سارے اچانک حملے مل کے ان کے دشمنوں پہ بم کی طرح پھٹنے تھے۔
اور اس دھماکے بعد ہونے والے ان کے ردِعمل کے لیے وہ ذہنی طور پر تیار بیٹھے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جہازی سائز بیڈ پہ کروٹ کے بل لیٹی وہ اپنا دایاں ہاتھ تکیے پہ جمائے اس پہ چہرہ رکھے غیرمرئی نقطے پہ اپنی نگاہیں مرکوز کیے ہوئے تھی۔
جب دروازہ کھلنے اور بند ہونے کی آواز سن کر اس کی سماعتیں چونک اٹھیں۔
اور پھر اس کا رواں رواں سماعت بن اٹھا جب دروازے کے پاس سے ہٹتے وجود کے مضبوط قدم اس کی جانب بڑھنے لگے تھے۔

“کیسی ہو؟” بیڈ کے نزدیک آ کے ٹھہرتا وہ بھاری آواز میں بولا تو اس نے سرعت سے آنکھیں میچتے ہوئے سر اثبات میں ہلایا لیکن اس وقت اس کی دھڑکن تھم سی گئی جب وہ اس کے پاس ٹکتے ہوئے اس کی جانب جھکا اور بہت نرمی اور آہستگی سے اپنے لب اس کے پہلو پہ جمائے۔

“میرا چیمپ کیسا ہے؟” اس کے لمس کی حدت اور لفظوں کی گھمبیرتا اس کے وجود کو گویا پل بھر کے لیے ساکت کر گئی۔
اس نے بے ساختہ اپنی قمیض مٹھی میں جھکڑتے ہوئے زور سے اپنی آنکھیں میچیں کیونکہ لب سرکتے ہوئے پہلو سے پیٹ کی جانب سرائیت کرتے اس کی ٹھہری دھڑکنوں کو پاگل کر گئے تھے۔

جاری ہے۔

ساتھ کا احساس ضرور دلائیں اور دعاوں میں خصوصی یاد رکھیں۔(پلیز شارٹ قسط کا نعرہ کوئی نہ لگائے، میں کوشش کر رہی ہوں کہ آپ کے شکوے صحت بحالی کے ساتھ ساتھ دور کر سکوں) شکریہ