57.1K
55

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 19

“دل تیرے سنگ جوڑ لیا”
از
حوریہ ملک

وہ اس کی جانب دیکھتی اس دنیا سے ماورا کوئی چیز لگ رہی تھی۔

“جی۔” اس نے مختصر سا جواب دیا جبکہ اس کا رنگ تو مزید فق پڑنے لگا تھا۔
“پہلے کیسے جاتے تھے؟” ہڑبڑاہٹ میں اس نے بڑا عجیب سا سوال پوچھا تبھی اس نے رخ موڑتے ہوئے کڑی نگاہوں سے اسے گھورا۔

“ہوائی جہاز پہ۔” سرد لہجے میں ملے جواب پہ وہ گہری سانس لے کے آگے بڑھی تھی۔
وہ جان چکی تھی کہ یہ سب اس سے بدلہ لینے کی کوشش کی پہلی کڑی تھی۔
وہ یہ بات نکاح کے فوراً بعد ہی سمجھ چکی تھی کہ وہ اسے اس حد تک زچ کرنا چاہتا تھا کہ اس کا بدلہ بھی پورا ہو جاتا اور وہ اس کی زندگی سے بھی نکل جاتی۔

اس نے آگے بڑھ کے وہیل چیئر پہلے اس کے بیڈ کے نزدیک کی اور پھر چہرے پہ سپاٹ تاثرات سجائے اس نے ایک بازو اس کی گردن کے گرد حائل کیا اور دوسرا بازو سامنے سے کمر کے گرد حائل کر کے اسے سہارا دینے کی کوشش کی مگر وہ اسے ٹس سے مس بھی نہ کر سکی کیونکہ پہلے وہ اس کی مدد کے لیے باڈی کو موو کرتا تھا لیکن اس وقت وہ سٹل بیٹھا اس کی ہمت جج کر رہا تھا۔

وہ گہری سانس بھرتی ایک انچ مزید اس کے نزدیک کھسکی اور اپنی پوری جان لگا کے اسے وہیل چیئر پہ بٹھانے میں کامیاب ہو گئی تھی۔
یہ اور بات تھی کہ اتنی سی کوشش میں اس کا سانس بری طرح سے پھول چکا تھا کیونکہ اس جیسے توانا مرد کو اس کی رضا کے بغیر حرکت کروانا اس کے لیے مشکل تھا۔

چیئر گھسیٹتے ہوئے وہ اسے واشروم لے کے گئی اور بہت ہی نامحسوس انداز میں اس کی وہیل چیئر پہ لگی بیل کا بٹن آہستگی سے دبا دیا۔
یہ بٹن اس کے لیے متعین ملازم کو نیچے سے بلانے کے لیے اس کی چیئر پہ لگوایا گیا تھا اور آج شومئی قسمت اس کے کام آ گیا تھا۔
اگلے چند سیکنڈز میں ہی اس کا ملازم دروازے میں کھڑا اجازت مانگ رہا تھا۔

“جی آ جائیں آپ ثمر، آپ ذوالنورین کو فریش ہونے میں مدد دیں میں تب تک اس کے لیے ناشتہ لے آتی ہوں۔” اس سے پہلے کہ وہ یا ثمر کچھ کہتے وہ تیز تیز بولتی بنا ہاتھ منہ دھوئے کمرے سے باہر نکل گئی جبکہ اس کی اس قدر چالاکی پہ وہ محظوظ ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔

کمرے سے نکلتے ہی اس نے بند دروازے کے ساتھ ٹیک لگاتے اپنی منتشر سانسوں کو قابو کرنے کی کوشش کی۔
بظاہر اس نے خود پہ بے تاثر پن کا خول چڑھایا ہوا تھا لیکن اس کی اس قدر قربت اسے ہراساں کر رہی تھی اس پہ مستزاد اسے فریش کروانا۔
گہری سانس بھر کے بمشکل خود کو کمپوز کرتی وہ آگے بڑھی اور متوزان چال چلتی سیڑھیوں کی جانب بڑھی۔
وہ ابھی آخری سیڑھی سے دو تین سٹیپ اوپر ہی تھی جب اسے دائیں جانب سے شازمین میر آتی دکھائی دیں۔
وہ بھی اسے دیکھ چکی تھیں تبھی ہونٹوں پہ تمسخرانہ مسکان سجائے اسے کے نزدیک آئیں۔

“کیا ہوا؟معذور شوہر کی خاطر داری میں شاید رات بھر زیادہ مصروف رہی ہو جو حالت ایسی بنا رکھی ہے۔” اس کی بکھری حالت پہ گھٹیا انداز میں چوٹ کرتے ہوئے وہ تمسخرانہ انداز میں ہنسی تو اس کے چہرے کی رنگت مارے غصے اور احساسِ توہین دہکنے لگی۔

“کیوں کیا آپ نے ایسا؟” ان کی بات پہ کوئی ردعملِ دیے بغیر وہ خالی سے لہجے میں سوال گو ہوئی تو اگلے ہی پل وہ ہنس دی۔

“میری جان تمہیں پیسے میں نے ذوالنورین میر کو اپنے جال میں پھنسانے کے لیے دیے تھے کہ وہ تمہارے پیار میں اتنا پاگل ہو جائے کہ یہ گھر چھوڑ دے لیکن شاید تم اسے غلط لے گئی تم اسے پیار میں الجھا کے اس پیلس کے گڑھے مردے اکھاڑنے چلی تھی سو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔” چبھتے ہوئے انداز میں بولتے ہوئے اس نے ڈرامائی سا وقفہ لیا۔

“سو میں نے تمہاری اس چالباز محبت کو ہی گڑھے میں دفنا دیا اور تمہارے سٹوڈینٹ کو بس اتنا بتایا کہ تمہاری ٹیچر تمہارے پیار کا سودا کر چکی ہے۔” چہرے پہ فاتحانہ چمک، آنکھوں میں شیطانی سی مسکان، ہونٹوں میں تمسخرانہ تبسم لیے وہ شاندار سے لباس میں ملبوس عورت اسے اس وقت عورت نہیں بلکہ شیطانی فتنہ دِکھ رہی تھی۔
جو کسی کی عزتِ نفس اور کردار کا سرِ بازار تماشا لگانے کے بعد مسرت سے سرشار تھی۔
وہ بے تاثر نگاہوں سے اسے تکتی چلی گئی اور پھر رسانیت ست کہنے لگی۔

“میں نہیں جانتی کہ آپ کا ذوالنورین سے کیا مسئلہ ہے یا آپ ان ‘گڑھے مردوں کو اکھاڑے’ جانے سے اس قدر خائف کیوں ہیں؟میں بس اتنا کہوں گی کہ میں نے خود کے ساتھ کیے گئے آپ کے تمام فعل اللّٰہ کی عدالت میں جمع کروا دیے ہیں اور بیشک وہ بہترین بدلہ لینے والا ہے۔” رسانیت سے اپنی بات مکمل کر کے وہ اس کا سبکی و اہانت سے سیاہ پڑتا چہرہ دیکھے بغیر پلٹی اور کچن کی جانب چل دی۔

پہلے وہ جا کے سنک کی جانب بڑھی وہاں اپنے ہاتھ اچھے سے واش کرنے کے بعد وہ ایک سائیڈ پہ کھڑی ہو کے چند لمحے کچھ سوچتی رہی اور پھر ملازمہ سے ناشتے کا بولنے ہی لگی تھی کہ زخمی شازمین ایک دفعہ پھر سے منظر پہ نمودار ہوئی۔

“نا تم اس پیلس کی مالک ہو نا وہ تمہارا معذور شوہر و شاگرد اس لیے یہاں اگر ‘میرے’ گھر میں رہنا ہے تو میرے نوکروں کو حکم دینے کی ضرورت ہرگز کوشش نہ کرنا بلکہ اپنے اور اپنے شوہر کے کام خود کرو۔” زخمی ناگن بنی شازمین اب کھل کے اپنے روپ میں آتی اسے آخری حد تک ڈی گریڈ کرنے کی کوششوں میں لگ گئی۔
بلند آواز میں بولتی شازمین میر کی آواز سن کے اپنے کمروں میں سوئے بہت سے افراد اٹھ کے باہر نکل آئے۔

“کیا ہوا شازمین، کیوں اس قدر شور مچا رہی ہو؟” عبدالرحمن میر آنکھوں میں ناگواری لیے وہاں آتے ہوئے بولے تو اس نے بے ساختہ رخ بدلتے ہوئے خود کو ان سب کی نفرت انگیز نگاہوں سے بچانے کی موہوم سی سعی کی۔

“ہونا کیا ہے، تمہارے اس مصیبت بھتیجے کو اس گھر سے نکال پھینکنا چاہتی تھی وہ الٹا اس مخمل میں لگے پیوند کی طرح اسے بھی ہمارے سروں پہ بٹھا گیا۔” انتہائی سفاک اور بے رحم انداز میں بولتے ہوئے وہ کل کی طرح اب بھی اس کی ذات کے پرخچے اڑا گئی تھی جبکہ سلیب پہ دونوں ہاتھ سختی سے جمائے وہ ضبط کی آخری حدوں پہ تھی۔

“ڈونٹ وری آنٹی!کچھ دن مزید برداشت کر لیں کیونکہ زیادہ دن اس ‘مونسٹر’ کے ساتھ ٹک نہیں سکے گی یہ۔” رانیہ نے شازمین میر کو ریلیکس کرتے ہوئے کہا تو اس تماشے سے بیزار ہوتے عبدالرحمن میر نے نخوت سے سر جھٹکا۔

“بھاڑ میں جھونکو انہیں اور ناشتہ لگواو۔جو لوگ اپنے پیروں پہ کھڑا نہیں ہو سکتے ان کے لیے اپنے گھر کا سکون تباہ کرنے کی بالکل ضرورت نہیں شازمین بیگم کیونکہ ایسے لوگوں کو جڑ سے کیسے اور کب اتاڑ پھینکنا ہے میں اچھے سے جانتا ہوں۔” ایک کاٹ دار نگاہ زحلے کے وجود کے آر پار ڈال کے وہ ناگواری سے کہتے ہوئے پلٹ گئے تو باقی سب تماشائی بھی آہستہ آہستہ چھٹنے لگے۔
ان سب کے جانے کے بعد وہ بھی اپنی ذات کے بکھرے ہوئے ٹکڑوں کو سمیٹتی ہوئی فریج کی جانب بڑھی اور پھر اپنی دکھتی کلائی اور رخسار میں اٹھتی درد کی ٹیسوں کو نظرانداز کیے وہ اس کے لیے ناشتہ بنانے لگی جو شاید یہاں موجود باقی مکینوں سے بھی زیادہ اس سے ‘نفرت’ کرتا تھا۔
شاید۔۔۔!!
یا شاید یہ نفرت آگے جا کے کوئی نئے پنے کھولنے والی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ تیز تیز قدموں سے چلتی ہوئی اپنے اردگرد بھاگتی دوڑتی رنگین دنیا سے بے نیاز کلرک آفس کی جانب بڑھ رہی تھی۔

“مجھے سمجھ نہیں آتا کہ میں ہمیشہ ہر کام میں دیر کیوں کر دیتی ہوں؟” خود سے بڑبڑاتے ہوئے وہ دائیں کندھے پہ لٹکائے بیگ سے والٹ نکالنے کی کوشش کرتی تیز تیز چل رہی تھی۔

“اب یہ والٹ میرے بیگ کے کس خفیہ کونے میں چلا گیا ہے؟” کوفت سے بڑبڑاتے ہوئے اس نے بیگ کندھے سے اتارا اور اسے کھنکھالنے لگی۔

“ہائے میرا والٹ؟” پورا بیگ کھنکھالنے کے بعد بھی جب والٹ اسے نہ ملا تو اس کا دماغ بھک سے اڑا تھا۔

“یہ والٹ کہاں گیا؟صبح تو ڈیڈ سے فیس کے لیے کارڈ لے کے اس میں رکھ کے والٹ بیگ میں رکھا تھا۔” وہ ذہن میں دہراتی خود سے گفتگو کرتی اب واپس اسی راستے کی جانب بھاگتی ہوئی والٹ تلاش کر رہی تھی لیکن جب اسے کہیں بھی والٹ نہ ملا تو اب کی بار وہ صحیح معنوں میں پریشان ہوئی تھی۔

“اب میں فیس کیسے پے کروں گی؟” چونکہ وہ پہلے ہی اتنے دنوں کی چھٹیوں کے بعد کل ہی یونی آئی تھی اور آج سمسٹر فیس کی لاسٹ ڈیٹ تھی ایسے میں کارڈ سمیت والٹ کا کھو جانا اسے روہانسا کر گیا۔

“کیا ضروری تھا کہ میں آج کالج اکیلی آتی؟” دلگرفتگی سے سوچتی وہ وہیں گھاس پہ بیٹھتی بے ساختہ رو دی تبھی اس کے مائنڈ میں کلک ہوا۔
وہ بائیں ہاتھ کی پشت سے آنسووں سے تر رخسار صاف کرتی اپنی جیکٹ کی پاکٹ سے موبائل نکال کے نمبر ملانے لگی لیکن بند موبائل دیکھ کے اس کے سامنے گویا زمین و آسمان گھوم گئے تھے۔

“یا اللّٰہ!” ہرطرف سے ناامید ہونے کے بعد وہ کسی طور بھی خود پہ جبر نہ رکھ سکی اور پھوٹ پھوٹ کے رو دی۔

“ایکسکیوزمی مس!” وہ دونوں ہاتھوں میں چہرہ چھپائے زارو قطار رو رہی تھی جب اس کو بالکل اپنے نزدیک ایک نامانوس سی آواز سنائی دی لیکن وہ اس وقت اپنے دکھ میں اس قدر ڈوبی ہوئی تھی کہ اس نے توجہ دینے کی زخمت نہ کی کہ آیا نووارد مخاطب کس سے تھا۔

“ایکسکیوزمی مس!آپ رو کیوں رہی ہیں؟” اب کی بار وہی لہجہ سوالیہ انداز میں دوبارہ اس کی سماعتوں سے ٹکرایا تو اس کے رونے میں مزید تیزی آ گئی۔
یونہی روتے روتے اس نے چہرے کے سامنے سے ہاتھ ہٹا کے اپنی آنسووں سے لبریز نسواری آنکھیں اٹھا کے نووارد کی جانب دیکھا تو نسواری آنکھیں سرمئی آنکھوں سے الجھ کے رہ گئیں۔

جبکہ روتی ہوئی دریہ بدر کے سامنے قدرے جھک کے کھڑا طلال جعفر پل بھر کے لیے ان آنسووں سے بھرے نسواری کٹوروں میں ڈوب کے ابھرا تھا۔

“آپ۔۔آپ رو کیوں رہی ہیں؟” اس لمحاتی گرفت سے خود کو نکالتے ہوئے اس نے سر جھٹکتے ہوئے اپنا سوال دہرایا تو دریہ کی آنکھیں ایک دفعہ پھر سے بھر آئیں۔

“میرا۔۔۔میرا والٹ کھو گیا ہے اور مجھے آج اپنی فیس۔۔۔جمع کروانی ہے۔میرا مو۔۔بائل بھی بند پڑا جبکہ میری کوئی یہاں ایسی دوست بھی نہیں ہے کیونکہ ہم س۔۔سب کزنز ہی دوست ہیں اور وہ آج سارے چھٹی پہ ہیں۔” اس وقت وہ اس قدر پریشانی کا شکار تھی کہ بنا سوچے سمجھے یونیورسٹی لان میں گھاس پہ بیٹھی وہ روتی ہوئی اپنے سامنے قدرے جھک کے کھڑے اس شاندار سے مگر اجنبی سے مرد کو اپنی پریشانی کا موجب بتاتی چلی گئی۔

“آپ آئیے میرے ساتھ۔” اس کی ساری کتھا سننے کے بعد سامنے والے نے جب فقط اتنا ہی کہا تو اس نے کرنٹ کھا کے اس کی جانب دیکھا۔

“کہاں اور کیوں جاوں میں آپ کے ساتھ؟” پریشانی ایک طرف لیکن اس کا دماغ اتنا تو ضرور کام کر رہا تھا کہ وہ کسی کے بھی کہنے پہ کہیں بھی نہیں چل سکتی تھی۔

“فیس جمع کروانی ہے کہ نہیں؟” اس کے دوٹوک سنجیدہ لہجے پہ وہ گڑبڑا سی گئی اور خاصے ہونق پن سے اسے دیکھنے لگی گویا اس کی بات سمجھنے کی کوشش میں تھی۔

“مس اگر آپ نے فیس جمع کروانی ہے تو مہربانی کر کے اٹھ جائیں۔” اسے ہنوز بیٹھے دیکھ کے اس نے بمشکل خود پہ ضبط کرتے ہوئے سرد لہجے میں اسے پکارا تو وہ ہڑبڑاتی ہوئی اٹھ کھڑی ہوئی۔

“مجھے فیس جمع کروانی ہے لیکن میرے پا۔۔۔۔۔۔۔” وہ اسے کہنا چاہتی تھی کہ اس کے پاس پیسے نہیں ہیں وہ کسی طرح سے اس کے بھائی سے اس کا رابطہ کروا دے کیونکہ ‘رہبان گردیزی’ کو تو سبھی جانتے تھے اس لیے اس کا نمبر کہیں سے بھی مل سکتا تھا۔
لیکن سامنے والے نے اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی اس کی بات بہت آرام سے قطع کیا۔

“مجھے طلال جعفر کہتے ہیں اور آپ مجھے کل یہیں فیس واپس کر سکتی ہیں اس لیے ابھی آ جائیں۔” سنجیدگی سے کہہ کے اس نے ایک جانچتی ہوئی نگاہ اس کے روئے روئے سے چہرے پہ ڈال کے قدم آگے بڑھائے تو وہ بھی کچھ سوچتی ہوئی اس کے پیچھے چل دی کیونکہ اس وقت ٹائم ضائع کرنے سے بہتر تھا کہ وہ اس کی مدد لے لیتی ویسے بھی وہ واپس کرنے کا بھی تو کہہ چکا تھا۔

جبکہ اس سے دو قدم آگے چلتا طلال اپنے اندازے پہ مسرور ہو رہا تھا کہ اس کے خیال کے تحت
رہبان گردیزی کے گھر والوں کی جانے بلا طلال جعفر کون تھا یا اویس جعفر کون تھا؟
ایسی آگہی وہاں رکھی جاتی جہاں رشتے ہمیشہ کے لیے جوڑنے ہوں جبکہ اس رشتے کی بنیاد تو رکھی ہی ایک کھوکھلے بیان پہ گئی تھی اس لیے اس کا خیال بالکل ٹھیک ٹھہرا تھا۔

یہ اور بات تھی اس کھوکھلے رشتے کی بنیاد سے اب ایک نیا رشتہ جنم لینے کو بے قرار ہوا تھا۔
انتقام کا رشتہ یا جنون کا رشتہ؟؟
یہ تو آنے والا وقت ہی بہتر ثابت کر سکتا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شہرے کو کالج سے گھر چھوڑنے کے بعد وہ آفس گیا تو وہاں سے اسے کسی ایمرجنسی کی وجہ سے فوری طور پہ بنا کسی سے ملے دوبئی جانا پڑا تھا۔

اور آج تقریباً دس دن کے بعد وہ خاصے تھکے ہوئے انداز میں ڈرائیونگ کرتا ہوا گھر کی جانب بڑھ رہا تھا۔
اس کے ساتھ اسد صاحب بیشک گارڈز یا ڈرائیور متعین کر دیں لیکن اس کی یہی کوشش ہوتی تھی کہ وہ گاڑی خود ڈرائیو کیا کرے۔ گارڈز کے معاملے میں تو اس نے اکتا کے خاموش ٹھان لی تھی لیکن ڈرائیور کو وہ سہولت سے منع کر کے خود ہی ڈرائیونگ کیا کرتا تھا۔

صدر دروازے کو کھولتے ہوئے اس نے لاونج میں قدم رکھا وہ اندر سے آتی باتوں اور قہقہوں کی آواز پہ اسے اندازہ ہوا کہ حسبِ معمول اس وقت سب اپنی بیٹھک لگائے گپ شپ لگا رہے ہوں گے۔

“السلام علیکم!” اسی جانب قدم بڑھاتے ہوئے اس نے بلند آواز میں سلام کرتے سب کو اپنی جانب متوجہ کیا تو سب اسے اتنے دنوں بعد بالکل غیرمتوقع طور پہ کھِل سے گئے۔

بڑوں سے پیار لینے کے بعد وہ ایک نرم سے مسکان سب کے درمیان پرسکون سی بیٹھی نگاہ پہ ڈالتے ہوئے وہ سنگل صوفے پہ براجمان ہو گیا۔

“نوشے میاں!یہ کہاں تم اپنی دونوں بیویوں کو تن تنہا چھوڑنے کے بعد بے تھنے بیل کی مانند ادھر ادھر گھوم پھر رہے تھے؟” عیسیٰ جو کہ اس کا ہی ہم عمر تھا اسے دیکھتے ہوئے شرارت سے گویا ہوا تو اس نے آنکھیں سکیڑتے ہوئے اس کی جانب دیکھا۔

“تم میرے پی اے کب سے اپائنٹ ہوئے ہو؟” اس کے سنجیدگی سے کیے گئے استفسار پہ نگاہ سمیت سبھی ہنس دیے۔

“خاتون!آپ کی فیور میں بول رہا تھا لیکن صد افسوس۔۔۔۔۔۔” اسے ہنستے ہوئے دیکھ کے عیسیٰ نے مصنوعی تاسف کا مظاہر کیا تو اس کی ہنسی مزید گہری ہوئی۔
اسی لمحے وہ صدر دروازہ کھول کے ہال میں داخل ہوئی تو سبھی کا دھیان ایک ساتھ اس کی جانب مبذول ہوا۔

“آ ہاہ شہرے آئی ہے، چلو شہری یہ بتاو کہ تم میری سائیڈ پہ ہو گی یا میری انسلٹ پہ ہنسو گی؟” بنا اسے بولنے کا موقع دیے عیسیٰ نے بلند آواز میں کہتے ہوئے اسے اپنی طرف متوجہ کیا تو وہ مسکرائی۔

“آف کورس آپ کی سائیڈ لوں گی چاچو اور ویسے بھی اتنی ہمت کس کی جو میرے سویٹ چاچو کی انسلٹ کرے؟” چونکہ وہ ضرغام کے آوٹ آف کنٹری ہونے سے واقف تھی اس لیے اپنے مخصوص بے فکر اور خوش کن سے انداز میں گویا ہوئی کہ اس نے ابھی تک اسے نہیں دیکھا تھا۔

“یہ تمہارے ضرغام ‘چاچو’ نے۔” عیسیٰ کے معصومیت سے دیے گئے جواب پہ اس نے کرنٹ کھا کے ایک جھٹکے سے اپنی گردن گھمائی تو نظر سیدھی اس سے ٹکرائی جو نیوی بلیو پینٹ کے ساتھ وائٹ پلین شرٹ پہنے اس کی آستینیں کہنیوں تک فولڈ کیے سیاہ شوز پہنے ٹانگیں قدرے آگے کو ریلیکس انداز میں پھیلائے، بائیں کلائی پہ رسٹ واچ پہنے اپنے شاندار اور سحر انگیز سراپے کے ساتھ سنگل صوفے پہ براجمان اسے اپنی بھوری آنکھوں کی گرفت میں لیے بیٹھا عجیب ناقابلِ فہم تاثرات سے دوچار کر گیا۔

زوہان کے رونے کی آواز پہ اس نے گڑبڑاتے ہوئے اپنی نظروں کا زاویہ فوری طور پہ بدلا اور پھر خفگی بھری نگاہ عیسیٰ پہ ڈالتی وہ قندیل کے ساتھ ہی جڑ کے بیٹھ گئی۔

“ہائے شہری ابھی تو یار تم نے میری سائیڈ لینے کا حلف اٹھایا تھا۔” اس کی اس قدر بے نیاز حرکت پہ وہ تڑپ ہی تو اٹھا تھا۔

“تو آپ بھی تو میری سائیڈ پہ رہیں نا۔” اس نے ٹکڑا توڑ جواب دیا تو اس برجستگی پہ وہ اپنی گدی کھجا کے رہ گیا۔

“پس ثابت ہوا کہ عیسیٰ ملک آپ بیشک جو مرضی کرتے پھریں لیکن آپ کو ضرغام ملک کی دونوں بیویوں سے کوئی فیور نہیں ملنے والی۔” جازم نے عیسی کی شکل دیکھتے ہوئے اعلانیہ انداز میں کہا تو اس کے انداز پہ ناچاہتے ہوئے بھی ضرغام مسکرا دیا۔
اور اس کی مسکراہٹ دیکھ کے شہرے فورا سے پہلے عیسی کی جانب مڑی۔

“اب میں نے ایسا بھی نہیں کہا، چاچو ہیں یہ تو فیور تو بہرحال ان کی کروں گی نا۔” بنا اس کی جانب دیکھے اس نے اپنے بیان میں ردوبدل کیا تو اس کے اس عمل کا پسِ منظر جان کے بہت سوں کے ہونٹوں پہ بے ساختہ مسکان ابھری تھی۔

“نگاہ خاتون آپ بھی اپنے الفاظ پہ نظر ثانی کر لیں۔” عیسی نے رخ نگاہ کی جانب موڑا تو وہ کھلکھلائی۔

“نہیں عیسیٰ بھائی اب ایک آپ کی فیور کر رہی تو دوسری کو تو ان کی فیور کرنے دیں۔” اس نے مسکراتے ہوئے انکار کیا تو ایک فرمائشی قہقہہ ابل پڑا۔
مزید کچھ دیر کی گپ شپ کے بعد وہ اپنی جگہ سے اٹھا تو اس سے قصداً رخ موڑے بیٹھی شہرے نے تشکر بھرا سانس لیا۔

“ماما!چائے کمرے میں بھجوا دیں میں چینج کر لوں۔” ثمرین بیگم کو کہہ کے وہ سیڑھیوں کی جانب بڑھا تو نگاہ ثمرین بیگم کے اشارہ کرنے پہ اپنی جگہ سے اٹھی اور کچن کی جانب چل دی۔

“شہرے چائے بنانی آتی ہے تمہیں؟” کچھ سوچتے ہوئے ارسم نے اچانک اسے مخاطب کیا حالانکہ وہ اس کا جواب جانتا تھا۔

“نو اور پلیز مجھے ڈیڈ کی طرح چائے بنانے پہ لیکچر ہرگز نہ دیجیے گا کیونکہ مجھے بالکل بھی چائے نہیں پسند۔” وہ فوراً دونوں ہاتھ بلند کرتی ہوئی بولی تو وہ نجانے کیوں زور سے ہنس دیا۔

“اب آپ کو کیا ہوا؟” اس نے ہنسنے پہ اس نے بھنویں سکیڑ کے اس کی جانب دیکھا۔

“کچھ نہیں بس میں امیجن کر رہا ہوں کہ آنے والے وقت میں شہرے ملک نا صرف چائے بنانا سیکھ بھی لیں گی بلکہ پینا بھی شروع کر دیں گی۔” آنکھوں میں شرارت لیے وہ گویا ہوا تو سب اس کی بات کا مطلب سمجھتے مسکراہٹ دبانے لگے جبکہ اس نے ناک پر سے مکھی اڑانے کے سے انداز میں اس کی بات آئی گئی کی اور پھر سے قندیل کی جانب گھسی جو کورین ڈرامے کی سٹوری بتا رہی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“کیسا گزرا ٹائم آپ کا میرے بغیر یہاں؟” چائے کا کپ اس کے ہاتھ سے لیتے ہوئے اس نے نظر بھر کے پنک کامدار سوٹ میں ملبوس نگاہ کو دیکھا۔

“بہت اچھا۔” شرارتی انداز میں کہتے ہوئے وہ اس کے مقابل براجمان ہو گئی۔

“وہ تو نظر آ رہا ہے کہ اچھا خاصا دل لگ گیا آپ کا یہاں۔” اس کے کھلے کھلے چہرے کو دیکھتے ہوئے اس نے نرمی سے کہا تو وہ کھل کے مسکرائی۔

“بالکل،آپ بتائیں کیسا رہا ٹور؟کام ہو گیا آپ کا؟” اس نے مسکراتے ہوئے استفسار کیا تو اس نے چائے کا ادھ پیا کپ میز پہ رکھتے ہوئے اس کا دایاں ہاتھ اپنے ہاتھوں کی گرفت میں لیتے ہوئے توجہ سے اسے دیکھا۔

“بہت اچھا رہا اور اللّٰہ کا شکر ہے کہ جس کام کے لیے گیا تھا وہ بھی ہو گیا۔” نرمی سے کہتے ہوئے اس نے اس کے ہاتھ کو ہولے سے دبایا تو نگاہ کے چہرے کی رنگت بدلنے لگی۔

“آپ فریش ہو جائیں پہلے،میں آپ کے کپڑے نکالتی ہوں۔” وہ کترائے سے انداز میں بولتی اس کی گرفت سے اپنا ہاتھ آزاد کروانے لگی لیکن اس نے ہاتھ آزاد کرنے کی بجائے بائیں ہاتھ کی گرفت میں لیا جبکہ دایاں ہاتھ پینٹ کی پاکٹ میں ڈال کے ایک چھوٹا سا کیس نکال کے اس میں سے بیش قیمت نازک سی ڈائمنڈ رنگ نکالی۔

“یہ مجھے آپ کے لیے اچھی لگی تو میں لے آیا۔” جذب سے کہتے ہوئے اس نے رنگ اس کے ہاتھ کی زینت بنائی تو ہاتھ گویا جگمگا اٹھا۔
ایک نظر نگاہ کے گلابی پڑتے چہرے پہ ڈالتے ہوئے وہ ہولے سے جھکا اور اس کے ہاتھ کی پشت پہ اپنے استحقاق کی پہلی مہر ثبت کی۔
اس کی اس جسارت پہ نگاہ گویا ہل سی گئی اس نے کسمساتے ہوئے ہاتھ اس کی گرفت سے آزاد کروانا چاہا۔

“کیا بات ہے؟آپ کچھ بے چین لگ رہی ہیں؟” اس کے چہرے کو بغور دیکھتے ہوئے اس نے سنجیدگی سے سوال کیا تو وہ جو تذبذب سی کیفیت کا شکار تھا ایک دم سے کسی نتیجے پہ پہنچتی ہوئی آہستگی سے بولی۔

“آپ کو یاد ہے نا کہ ہماری شادی کی اگلی صبح شہرے مجھے ملنے آئی تھی؟” ایک محتاط نظر اس کے وجیہہ چہرے پہ ڈالتے ہوئے اس نے سوال کیا تو اس کے ہاتھ پہ اس کی گرفت لاشعوری پہ ڈھیلی پڑی تو نگاہ نے فورا ہاتھ آزاد کروا کے اپنی گود میں رکھا۔
کیونکہ پشت ابھی تک اس لمس کی حدت سے دہک رہی تھی۔

“ہمم،کیا ہوا؟” اس نے ہنکارا بھرتے ہوئے اسے آگے بولنے کا اشارہ کیا تو وہ الفاظ کو ترتیب دینے لگی۔

“وہ مجھے یہ کہنے آئی تھی کہ۔۔۔۔۔۔۔۔” آہستگی سے کہتے ہوئے اس نے شہرے کا کیا گیا انکشاف اس کے گوش گزارا تو اس کے چہرے کے تاثرات فوری طور پہ بدلے جبکہ خوبصورت چہرے کی گھمبیرتا مزید بڑھتی اسے چٹانی تاثرات کا روپ سونپ گئی تھی۔

کیونکہ کانوں میں گونجتے اُن لفظوں کی دھمک دل کے کواڑ خانوں میں بہت کچھ کچلتی جا رہی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سیاہ کار بہت سُبک روی کے ساتھ سیاہ تارکول سے بنی سڑک پہ بھاگتی اپنی منزل کی جانب رواں دواں تھی جبکہ گاڑی میں براجمان نفوس اپنی اپنی سوچوں میں گم آنے والے وقت کے لیے لائحہ عمل تیار کر رہے تھے۔

“تمہارے پاس پولیس کی گاڑی نہیں ہے؟” اچانک ہی گاڑی کی خاموش فضا میں قدرے گھبرائی ہوئی نسوانی آواز گونجی تو ڈرائیونگ سیٹ پہ براجمان رہبان گردیزی بڑی فرصت میں اس کی جانب مڑا۔

“کیوں،آپ کو یہ خطرہ لاحق ہو گیا ہے کیا کہ کہیں اس گاڑی میں مجھے کھلے عام آپ کو لے لے گھومتے دیکھ کے آپ کے پیر سائیں آپ کو ‘بیوہ’ نہ کر دیں؟” اس کی آواز سن کے حسبِ معمول وہ اپنی ترنگ میں آ چکا تھا۔
جبکہ اس کی بات بیزاری سے سنتی آبگینے اس کے آخری الفاظ پہ تھرا سی گئی۔
خوف اور دکھ کی شدت سے سفید پڑتے چہرے کے ساتھ اس نے شکایتی انداز میں اس کی جانب دیکھا تو اس کی نم آنکھوں کو دیکھ کے وہ ہر شے فراموش کرتا اس پل انہی میں کھوتا گہری ندامت میں مبتلا ہوا تھا۔

“آئم سوری!میرا وہ مطلب نہ۔۔۔۔۔۔۔۔” اس کی فق پڑتی رنگت اور آنکھوں میں ٹھہرے آنسو دیکھ کے وہ اس کی جانب جھکتے ہوئے محبت سے کہتا اس کی پلکوں پہ اٹکے آنسو چن رہا تھا جب گولیوں کی خوفناک گونج کے ساتھ ان کی گاڑی ہچکولے کھاتی ان محبت بھرے لمحات کو نگلنے کے لیے بے تاب ہوئی تھی۔

“رہبان!” گولیوں کی گونج کے ساتھ جو آخری احساس اسے چھو کے گزرا تھا وہ اپنے سینے سے لگی آبگینے کی تڑپتی ہوئی پکار تھی۔

جاری ہے۔