57.1K
55

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 36

“دل تیرے سنگ جوڑ لیا”
از
حوریہ ملک
Episode#36;

موبائل مٹھی میں دبوچتا وہ ایک جھٹکے کے ساتھ اپنی جگہ سے اٹھا اور لمبے لمبے ڈگ بھرتے ہوئے باہر کی جانب بڑھنے لگا۔

“سفیر سائیں کو لے پیر سیداں پہنچو۔” موبائل کان سے لگائے اس نے مختصراً مگر سرد مہری سے حکم جاری کیا اور خود اپنی گاڑی کی جانب بڑھ گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“نگاہ!تم جاو یہاں سے۔” ضرغام نے ایک دفعہ پھر سے نگاہ کو سردمہری سے جانے کو کہا تو شہرے بے ساختہ بول اٹھی۔

“آپ ڈائیورس لینا چاہتی ہیں؟” اس کی بے یقین نگاہیں نگاہ کے سپاٹ چہرے کو تک رہی تھیں۔

“جی۔” ایک نظر ضر پہ ڈال کر وہ شہرے کی جانب متوجہ ہوئی جو اس کے جواب پہ شاکڈ رہ گئی۔
“نگاہ کین یو لیو پلیز؟” شہرے کے چہرے پہ چھائی کیفیت کو دیکھتے ہوئے ضر نے شدتِ ضبط سے بھاری ہوتی آواز میں نگاہ کو مخاطب کیا تو وہ ضر کا اشارہ سمجھتی سر ہلا کے وہاں سے چل دی۔

“یہ چل کیا رہا ہے؟کوئی سا ڈرامہ رچا رہے ہیں آپ دونوں؟” نگاہ کے یوں بات بیچ راستے ادھوری چھوڑ کے چلے جانے پر وہ بہت بری طرح سے چٹخی تھی۔

“آپ ریلیکس رہیں، کوئی ڈرامہ نہیں رچا رہا کوئی بھی۔آپ پرسکون ہو کے اپنے ایگزامز کی تیاری کریں۔” بمشکل اندر اٹھتے ابال کو دبائے وہ کمپوذڈ لہجے میں گویا ہوا لیکن مقابل تو کوئی بات سننے پہ ہی آمادہ نہ تھی۔

“کیا مطلب ہے آپ کا؟ میں پرسکون رہوں میں؟” وہ دو قدم آگے بڑھی اور اپنے آپے سے باہر ہوتی وہ ایک دم سے اس کی شرٹ کو دونوں مٹھیوں میں زور سے جنجھوڑتی روتے ہوئے بولی۔

“کیوں کیا مجھ سے نگاہ کی رخصتی والے دن نکاح؟رہنے دیتے مر جانے دیتے مجھے لیکن یوں نہ کرتے۔” اس لمحے اس کے نجانے کون کون سے دکھ ہرے ہو چکے تھے جو وہ شدتوں سے روتی ہوئی اس کی شرٹ کو جھنجھوڑے جا رہی تھی۔

“شہرے!” اس کو روتے دیکھنا اس پہ مستزاد اس کے الفاظ، ضرغام کو لگا سینے کے اندر گھٹن بڑھنے لگی ہے۔
“اگر نکاح کر ہی لیا تھا تو اب کیوں؟اب کیوں میرے لیے یہ اذیت تیار کر رہے ہیں؟ہر بندہ مجھے آوازیں لگائے گا کہ میری۔۔۔میری وجہ سے ایسا ہوا ہے۔” ہچکیوں کے ساتھ روتی وہ اس کی شرٹ دبوچے اس کے نزدیک کھڑی اس کے ضبط کا امتحان لے رہی تھی۔

“شہرے!پلیز، آئم سوری، آئم سوری فار ایوری تھنگ۔” خود پہ ضبط کھوتے اس نے اپنے بازو پھیلاتے ہوئے اس کے سسکتے وجود کو خود میں سمیٹنا چاہا لیکن وہ مچل اٹھی۔
اس کی مزاحمت کو نظرانداز کیے اس نے اس کے گرد بازو لپیٹتے ہوئے اسے زور سے سینے کے ساتھ لگایا تو وہ یونہی اس کی شرٹ مٹھیوں میں دبوچے سسکیاں بھرتی اس کے سینے پہ سر ٹکا گئی۔

“میں کبھی آپ کو معاف نہیں کروں گی، مجھ سے۔۔۔۔ میرے دوست(ضرغام) کو چھینا ہے، مجھ سے می۔۔۔میری ذات کا غرور کا چھینا ہے۔ بے۔۔۔بے عزت ہو رہی تھی تو یونہی چھوڑ د۔۔دیتے سب لیکن ان۔۔ان چاہے احساس کے ساتھ ک۔۔کسی کے ساتھ رشتے میں تو باندھتے۔” اس کے سینے سے لگی وہ اسی کے شکایات گنواتی ہچکیاں لیتی سسک رہی تھی۔

“آپ اٙن چاہی نہیں ہیں شہرے پلیز، خود کو ہلکان نہیں کریں۔میری زندگی ہیں آپ۔” اس وقت اسے شدتوں سے احساس ہو رہا تھا کہ انہیں نکاح کے بعد شہرے کو کم از کم حقیقت سے کسی حد تک روشناس ضرور کروا دینا چاہیے تھا تاکہ وہ مینٹلی طور پر تیار رہتی لیکن اس وقت محسوس ہو رہا تھا کہ وہ گزشتہ کئی مہینوں سے ایک ذہنی ٹارچر کا شکار تھی۔

“جھوٹ بول رہے ہیں آپ۔” اس کے لفظوں پہ وہ ایک دم سے چلا اٹھی تھی۔

“آپ کسی سے محبت نہیں کرتے۔آپ صرف خ۔۔خود سے محبت کرتے ہیں۔صرف خود سے۔” اس کے سینے پر زور زور سے ہاتھ مارتی وہ نجانے کب کا رکا غبار نکال رہی تھی۔
جبکہ اس کے الفاظ پہ ضرغام کی نگاہوں میں بستر پہ لیٹا ذوالقرنین جھلملایا اور پھر سسکتی ہوئی نگاہ جو نکاح نامے پہ سائن کر رہی تھی۔

“شاید آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں۔آپ غلط نہیں ہو سکتیں لیکن آپ خود کو ہلکان مت کریں۔مجھ پر غصہ ہے تو مجھے ماریں، مجھے سزا دیں لیکن خود کو اذیت نہیں دیں۔” اس کی آنسووں سے تر آنکھوں کو دائیں ہاتھ سے چھوتا وہ اذیت بھری بے بسی سے گویا ہوا تو لحظے بھر کے لیے شہرے اس کے الفاظ، اس کی خوبصورت آنکھوں سے چھلکتے جذبات اور انگلیوں کے لمس پر ساکت ہوئی۔
مگر اگلے ہی پل اس کی گرفت میں جھٹپٹائی۔

“غصہ نہیں ہے آپ پہ بلکہ شدید نفرت محسوس ہو رہی ہے۔ وعدہ کریں مجھ سے کہ آپ نگاہ کو ڈائیورس نہیں دیں گے۔” سفاک لہجے میں بولتی وہ اس کے تاثرات کو پل میں متغیر کر گئی۔

“ایسا وعدہ نہیں کر سکتا میں۔” اس کے لہجے میں نامحسوس سی سردمہری در آئی۔
جو شہرے کو سلگا گئی اور تبھی وہ بے خوف انداز میں بول اٹھی۔

“تو پھر مجھے ڈائیورس کر دیں۔” اس کے الفاظ اس کو حصار میں لیے کھڑے ضرغام کو پورے قد کے ساتھ زمین بوس ہونے پر مجبور کر گئے۔
اس کا چہرہ لمحوں میں رنگ بدلتا اس قدر سرد تاثرات میں ڈھلا کہ اسے دیکھتی شہرے کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسنی سی بھر گئی۔

“سسی!” اس کے گرد حائل بازووں کی گرفت نادانستاً اس کی کمر کے گرد مزید مضبوط ہوئی تو اس کے ہونٹوں سے سسکاری سی نکلی۔

“میں آپ کو یہ اجازت دے سکتا ہوں کہ آپ میرے سینے پہ گولی داغ سکتی ہیں لیکن۔۔۔۔۔” اس کی سسکاری سن کر گرفت بلا ساختہ نرم ہوئی لیکن یہ نرمی آنکھوں اور لہجے سے غارت تھی۔

“لیکن ایسے لفظوں سے مجھے بن موت مت ماریں۔میں نے ایک دفعہ قسمت سے ہار مان کے آپ کو چھوڑنے کا وعدہ کر لیا تھا مگر اب جب قسمت ہی آپ کو مجھ سے ملا گئی ہے تو یہ سوچ دل و دماغ سے نکال دیں کہ میں آپ کو چھوڑوں گا۔” اس نے اسے اپنے جذبات سے آگاہ نہیں کیا تھا لیکن اس کے جذبات اکثر اوقات اس کے رویے، اس کے لفظوں، اس کی آنکھوں سے چھلک پڑتے تھے۔

“آ۔۔۔آپ۔۔۔۔؟؟” اس کے لفظوں کے جال میں الجھتی شہرے نے ششدر نگاہوں سے اسے دیکھا۔

“کیا مطلب ہے آپ کا؟” اس کی آواز گہری کھائی سے آتی محسوس ہوئی۔
“انہوں نے ایسا کیوں کہا کہ وہ پہلے مجھے قسمت سے ہار مان کے چھوڑ چکے ہیں؟” اس کے دل و دماغ میں پکڑ دھکڑ سی چلنے لگی۔
جبکہ نظروں کے سامنے بار بار سرخ رومال جھلملانے لگا تھا۔

“مطلب بہت واضح ہے، جو ہو رہا ہے اسے ذہن پہ سوار مت کریں۔نگاہ کی قسمت کا ستارہ میں نہیں ہوں، وہ یہ بات جانتی ہے۔آپ بھی تسلیم کر لیں۔” اس کی بے یقین آنکھوں سے چھلکتے تاثرات پر وہ خود کو سنبھالتا بمشکل سنبھلا تھا۔
وہ اس کے شاکڈ وجود کو مزید شاک نہیں دینا چاہتا تھا اس لیے اپنے جذبات کو سینے میں دباتا واپس سے اپنے خول میں سمٹا تھا۔

“آپ کے لیے کہنا آسان ہو گا لیکن میرے لیے یہ ناممکن ہے۔ میں جانتی ہوں کہ جب آپ نگاہ کو اس کی منگنی کے باوجود زبردستی خود کے ساتھ نکاح پر مجبور کر سکتے ہیں تو دل بھر جانے پر انہیں طلاق لینے پر بھی مجبور کریں گے۔” اپنی پوری قوت لگا کے وہ اس کی قدرے نرم ہوئی گرفت سے نکلی اور اس سے فاصلے پر ہوتی اسے کٹیلی نگاہوں سے دیکھنے لگی جس کی سرخ ڈوروں سے سجی دلکش آنکھیں اسی پہ جمی ہوئی تھیں۔

“مگر آپ کی یہ بھول ہے کہ میں ایسا ہونے دوں گی۔میں بڑے دادا کو ساری بات بتا دوں گی اور ان سے کہہ دوں گی مجھے نگاہ سے کوئی مسئلہ نہیں ہے اس لیے وہ آپ کو اس کریہہ عمل سے روکیں۔” اس نے لہجے میں تلخی، غصہ اور تنفر سموئے اسے اپنے ارادے سے آگاہ کیا۔

“آپ کے کنسرن کا شکریہ لیکن چونکہ آپ کے بڑے دادا لائیر ہیں اس لیے بتاتا چلوں کہ میری اور نگاہ کی ڈائیورس کے پیپرز وہی تیار کروا رہے ہیں۔” کمپوزڈ انداز میں اسے اطلاع دیتے ہوئے وہ اس کے سامنے سے ہٹا کہ ایسے مرد مار حلیے میں اس کے سامنے کھڑی وہ اس کے جذبات ابھار رہی تھی اور وہ ان جذبات کا اظہار نہیں کر سکتا تھا کہ گنجے ہونے کا خدشہ بدرجہ اتم موجود تھا۔

“کیا؟” اس کے کیے دھماکے سے اس کے کانوں میں سائیں سائیں ہونے لگی۔

“بڑے دادا؟” اس نے یقین دہانی چاہی تھی۔
لیکن اس پہلے کہ وہ اسے کوئی جواب دیتا اس کا موبائل بج اٹھا۔

“السلام علیکم!ض۔۔۔” رہبان کا نمبر دیکھ کر اس نے فوراً کال پک کی۔

“سفیر شاہ کو لے کر آو، میں پیر سیداں جا رہا ہوں۔” اس کا سلام بھی سنے بغیر وہ جلدی سے بولا تو وہ ٹھٹھکا۔

“دماغ خراب ہے تمہارا؟تم مجھے کہہ رہے ہو کہ میں تمہاری جیل توڑ کے تمہارا قیدی لے کے بھاگوں؟” شہرے کی موجودگی کے باعث وہ دبی دبی آواز میں غرایا لیکن تب تک وہ کال بند کر کے اسے دو میسجز فاروڈ کر چکا تھا۔
جنہیں دیکھتے ہی اس کے چہرے کا رنگ فوری طور پر بدلا۔

سرعت سے آگے بڑھ کے بیڈ پہ پڑی اپنی جیکٹ اٹھائی اور اسے ہاتھ میں دبوچے وہ دروازے کی جانب بڑھا۔

“آئم سوری گفتگو بیچ میں چھوڑ کے جا رہا ہوں۔دعا کریں کہ خیریت سے واپس آوں تو آپ کو یہ یقین دلا سکوں گا کہ آپ ان چاہی یا سیکنڈ چوائس ہرگز نہیں ہیں۔” اس کے پاس ٹھہرتے ہوئے اس نے اسے بائیں بازو کے حلقے میں لیتے لمحے بھر کے لیے محسوس کرنے کے بعد اس کی کنپٹی کو ہونٹوں سے چھوا اور پھر بنا اسے دیکھے وہاں سے باہر نکل گیا۔

جبکہ وہ پے در پے ہونے والے دھچکوں سے نڈھال ہوتی وہیں اس کے کمرے میں دروازے کے پاس ہی دبیز قالین سے ڈھکے فرش پہ دوزانو سی ہوتی ڈھے گئی اور اپنا کپکپاتا ہوا ہاتھ اپنی کنپٹی پہ رکھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ بے یقینی سے سامنے کرسی پہ بندھے وجود کو تک رہا تھا۔

“یہ….؟” اس کے لب بے یقینی کی زد میں کچھ بھی کہنے سے قاصر نظر آئے۔

“آبی کے ساتھ اسے۔۔اسے بھی کڈنیپ کروایا آپ نے؟” اس نے ساری ہمت مجتمع کرتے لفظوں کو ترتیب دی تھی جبکہ آنکھیں ہنوز کرسی پہ بندھے نازک وجود پہ مرکوز تھیں۔

“آبی کو کال کی تھی لیکن اس نے بات سنے بغیر فون بند کر دیا کہ وہ اپنے شوہر کے خلاف نہیں جانا چاہتی تھی مگر آج خوش قسمتی سے آبی اس لڑکی کے ساتھ تھی یونیورسٹی جاتے ہوئے تو بس ہم نے موقع سے فائدہ اٹھا لیا۔” جعفر سائیں جو طلال شاہ کو لے کر اس کمرے میں آئے وہ تفصیلاً گویا ہوئے تھے۔

“ویسے بھی تم اسی لڑکی کو ٹارگٹ کر رہے تھے نا؟” انہیں اچانک یاد آیا تھا۔

“جی بابا لیکن میں نے ایسا کچھ نہیں سوچا تھا بابا۔ ایس پی رہبان سے بدلہ لینے کے لیے اس لڑکی کو اور بھی بہت سے طریقوں سے استعمال کیا جا سکتا ہے۔آپ نے اسے کڈنیپ کیوں کروایا؟” اس کے لہجے میں چھپا اضطراب اور دبا دبا سا غصہ جعفر سائیں کو مشتعل کر رہا تھا۔

“کیا مطلب ہے تمہارا؟ اب دشمنوں پر وار بھی ہم بزدلوں کی طرح کریں گے؟” ان کی آنکھیں مارے غصے کے دہکنے لگی تھیں جبکہ اس کی کرسی کی ہتھیوں پہ بندھے ہاتھوں کو دیکھتی آنکھوں کے کنارے ہلکے ہلکے سرخ ہونے لگے تھے۔

“آبی کو اندر اسی حجرے میں پہنچا دیا ہے۔کل تک اس سے خلع کے کاغذات سائن کرواو کہ اس سے ہمارا اب کوئی واسطہ نہیں ہے۔وہ اسی حجرے کے لیے چنی گئی تھی۔وہاں تک پہنچا دی گئی ہے۔” بے رحمی سے اگلے حکم۔جاری کیے تو اس کے دل میں گھٹن سی بڑھنے لگی۔

“اوکے میں کل تک خلع کے پیپرز سائن کروا لوں گا لیکن آپ اس لڑکی کو واپس بھجوائیں۔آبی کی ایسی واپسی اس کے لیے بہترین سزا ہو گی اس کے علاوہ اس لڑکی کو ہم بعد م۔۔۔۔۔۔” اس نے بہت ٹھہرے ہوئے انداز میں باپ سے کہنا چاہا۔

“طلال شاہ!تمہیں اس لڑکی تک اپنے خاندان کی بے عزتی کا بدلہ لینے اور اپنے چچا کی رہائی کے عوض استعمال کرنے کے لیے بھیجا گیا تھا۔یوں دشمنوں کے ساتھ دل لگانے کی اجازت نہیں دی تھی۔” اس کی طرفداری پہ وہ ایک دم سے ضبط کھوتے بھڑکے تو اس کا چہرہ اہانت کے احساس سے سرخ پڑا۔

“ایسا کچھ نہیں ہے بابا سائیں۔” اس نے سرد لہجے میں باپ کی نفی کی تھی جبکہ آنکھیں ہنوز رسیوں کی گرفت سے سرخ ہوتے ہاتھوں پہ مرکوز تھیں کیونکہ چہرے تک پہنچنے والی نظر عجیب ملامت کا احساس دلا رہی تھی۔

“ایسا کچھ ہونا بھی نہیں چاہیے، اس ایس پی کو اطلاع دے دی ہے۔امید ہے عقل ٹھکانے لگ چکی ہو گی اور آ رہا ہو گا تمہارے چچا سائیں کو لے کر۔” انہوں نے بے لچک لہجے میں کہتے اسے اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کرتے باہر کی جانب قدم بڑھائے۔

“سفیر چچا کی رہائی کے بعد آپ اس لڑکی کو چھوڑ دیں گے؟” اس نے ایک آخری نظر اس پہ ڈالتے ہوئے ان کے تعاقب میں قدم بڑھائے۔

“نہیں۔کم از کم اتنا عرصہ مکمل ہونے تک تو بالکل نہیں جتنا عرصہ آبی ان کے پاس رہی۔” ان کے جواب پر اس کے دل میں ہونے والی پکڑ دھکڑ شدید سے شدید تر ہونے لگی مگر وہ چپ چاپ آگے بڑھتا چلا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“تم نے واقعی شہری سے اس طرح بات کی؟” نین کی بے یقین آواز پہ وہ ہلکی سی جھنجھلائی۔

“اب کیا لکھ کے دے دوں؟غصہ آ گیا تھا تو بس پتہ نہیں کیسے لیکن کر دی۔” وہ اسی جھنجھلاہٹ کے زیرِ اثر گویا ہوئی تھی۔

“جس دن شہرے کو چھوڑ دینے کی وجہ سے ضر کو نروس بریک ڈاون ہوا تھا اس کے بعد سے میں بہت ڈر گئی تھی نین۔شہرے اگرچہ اپنی جگہ بالکل ٹھیک ہے اس کے لیے یہ سب سمجھنا اسے فیس کرنا اور اسے ایکسیپٹ کرنا پاسیبل نہیں ہے لیکن اس کی باتوں پر ضر کے چہرے کے تاثرات مجھے خوفزدہ کر گئے تھے مجھے لگا ہم ایک دفعہ پھر سے اسے کھونے والے ہیں تو بس۔۔۔۔۔۔۔۔” گزرے لمحوں کی اذیت یاد کرتے وہ آہستہ آواز میں گویا ہوئی تو نین چپ سا ہو گیا۔
وہ پانچوں واقعی ایک دوسرے کے لیے اتنے ہی پوزیسیسو تھے کہ انہیں تکلیف دینے والا برا لگنے لگتا تھا۔

“اوکے بٹ وہ کم عمر اور اس سارے سے بے خبر ہے اس لیے صبح معذرت کر لینا آفٹر آل ہمارے ہینڈسم کی من چاہی و محبوب منکوحہ ہے۔” نین نے لمحوں کی کثافت دور کرنے کے لیے نرم لہجے میں کہا تو وہ ہولے سے مسکرا دی۔

“وہ تو میں ضرور کہوں گی لیکن ایک بات ہے کہ یہ کم عمر اور من چاہی محبوب منکوحہ اس پانچ فٹ گیارہ انچ کے ہینڈسم مرد کو تگنی کا ناچ نچانے والی ہے۔” اس نے شہرے کا غصیلا لہجہ اور ضر کا اسے ریلیکس کرتا مصالحتی لہجہ یاد کرتے محظوظ کن انداز میں کہا تو وہ دونوں ایک ساتھ ہنس دیے۔

“تم بتاو ٹھیک ہو نا؟انکل کا کچھ پتہ چلا؟” کچھ ثانیوں بعد وہ فکرمندی سے گویا ہوئی۔

“میں ٹھیک ہوں۔رہبان کا شک بالکل ٹھیک ہے۔بخت خان یہیں کراچی میں ہی بزنس کر رہا ہے اس لیے یہ تو کنفرم ہو چکا ہے کہ پاپا کو کراچی میں ہی رکھا گیا ہے۔اور سب سے اچھی بات یہ ہے کہ بخت خان ایک گھنٹہ قبل کراچی سے نکل چکا ہے۔اب پاپا کو ڈھونڈنا زیادہ آسان ہو جائے گا۔” وہ اپنے مخصوص نرم انداز میں تفصیل سے گویا ہوا تو نین کے چہرے پر بھی سکون پھیلا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس کی تیز رفتار گاڑی جب پیر سیداں کی حدود میں داخل ہوئی تو چپے چپے پہ کھڑے پیر حویلی کے کارندے الرٹ ہوئے تھے کیونکہ اس کی گاڑی کے پیچھے آتی سیاہ ویگو میں فرنٹ سیٹ پہ سفیر سائیں موجود تھا۔

“اسے جیل سے نکلوانے کی کیا ضرورت تھی؟” ضر نے کان میں لگے ایئر بڈ کے ذریعے اسے مخاطب کیا جو اس سے اگلی گاڑی میں موجود گاڑی گویا بھگا رہا تھا جیسے اڑا رہا ہو۔

“یہ ہمارا پیر سیداں میں اینٹر ہونے کے لیے ایک باضابطہ ٹکٹ ہے۔” اس کی آواز میں اس کی ازلی شرارت مفقود تھی۔

جبکہ اس کے جواب پر ضر نے ڈرائیو کرتے نفرت سے اسے دیکھا جو اس کی شہرے کو تکلیف دینے کا سبب تھا اور اسی کی وجہ سے جیل میں تھا۔
مگر آج وہی جیل توڑ کے اسے لے کے آیا تھا۔

“ابھی سب سے پہلے کہاں جانے کا ارادہ ہے؟” اس نے اس کے ارادے جاننے چاہے۔

“پیر سائیں کی خدمت میں سلام پیش کریں گے جو امید واثق ہے کہ ہمیں اپنا مہمان بنائیں گے تو بس پھر۔۔۔۔۔۔۔” اس نے سنجیدگی سے کہتے کہتے بات ادھوری چھوڑی تھی لیکن اس ادھوری بات کا مطلب وہ بہت اچھے سے سمجھ چکا تھا۔

“قابلِ احترام و ایماندار ایس پی رہبان گردیزی اور ان کے مشہور و معروف بزنس مین دوست ضرغام ملک ایک مجرم کو جیل سے چھڑوا کے یہاں ہماری حویلی میں تشریف لائے ہیں، بتائیں کیا سواگت کیا جائے؟” جیسے ہی وہ پیر حویلی پہنچے آٹھ ملازمین کے گھیرے میں وہ بیہوش سفیر سائیں کو لیے جب صفدر سائیں اور جعفر سائیں کی خدمت میں پہنچے تو صفدر سائیں استہزائیہ انداز میں گویا ہوئے۔

“آپ جو چاہتے تھے وہ آپ کو مل چکا ہے۔میری بیوی اور بہن کو میرے حوالے کریں پیر سائیں۔” ان کی فضول باتوں کو نظرانداز کیے رہبان سنجیدگی سے بولا جبکہ بلیک جینز پر سیاہ ہاف سلیوز ٹی شرٹ جو کہ سیاہ بیلٹ کی مدد سے جینز میں اڑسی ہوئی تھی اس پر سیاہ لیدر جیکٹ پہنے ضرغام بیزاری کے ساتھ وہیں ڈیرے پہ پڑی چارپائی پہ لٹائے گئے سفیر سائیں کو دیکھ رہا تھا جسے ہوش میں لانے کی کوششیں کی جا رہی تھیں۔

“اتنی جلدی کیا ہے ایس پی صاحب!کل تک کا انتظار کریں کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ جب کل کا سورج یہ خبر ہر جگہ پھیلائے کہ ایس پی رہبان دوستوں کی مدد سے مجرموں کو جیل تڑوانے میں مدد دیتا ہے تو تمہارے چہرے کے تاثرات میں اپنی آنکھوں سے دیکھوں۔” پیر سائیں اس وقت اپنے مرتبے، عہدے اور مقام کو فراموش کیے انتقام کی جنگ لڑ رہے تھے کہ صدیوں سے آتی رسم کو اس نے توڑنے کی سنگین غلطی کی تھی۔
اس پر مستزاد ان کے بیٹوں کے کام دھندوں میں بھی اپنی ٹانگ اڑانے کی مسلسل کوشش جاری تھی۔

“جو کام ہونا ناممکنات میں سے ہے اس کا انتظار آپ کو گراں گزرے گا۔” کب سے چپ کھڑے ضر سے ان کا متکبر لہجہ برداشت نہ ہوا تو وہ سردمہری سے بول اٹھا۔
جبکہ اس کی بات سن کے رہبان نے ‘افففف’ کے سے انداز میں آنکھیں میچ کے غصے سے اسے دیکھا۔

“خدارا!منہ بند رکھو اپنا۔” اس نے آنکھوں سے ہی اسے تنبیہہ دی تو وہ نخوت سے چہرہ موڑ گیا۔

“یہ بھی کر کے دیکھ لیجیے گا لیکن ابھی مجھے آبگینے اور دریہ سے ملنے دیں۔” اس کے لیے فی الحال ان دونوں تک پہنچنا ضروری تھا۔

“جتنا عرصہ تم ہماری لڑکی کو لے کر ہماری عزت مٹی میں رولتے رہے اتنے عرصے تک اپنی بہن کی واپسی بھول جاو۔” ان کا لجہ یک لخت ہی بے لچک اور سفاک ہوا تھا جبکہ پیر سائیں کی موجودگی میں جعفر سائیں بس خاموش تماشائی بنے ہوئے تھے۔

“وہ میری بیوی ہے پیر سائیں جس کی عزت میرے لیے مقدم ہے اس کے لیے ایسے الفاظ ادا مت کریں۔عزتیں رولی نہیں جاتیں انہیں سر پہ سجایا جاتا ہے۔” ان کے تلخ اور گھٹیا الفاظ پہ ضبط کھوتا وہ بری طرح سے چلایا تھا۔

“جسے اتنے مہینے پاس رکھا تھا وہ میری بیوی ہے اور اسے پاس رکھنے کی پاداش میں آپ دریہ کو اپنے پاس رکھنے کی غلطی نہیں کر سکتے۔” اس کے لہجے سے چھلکتی برودت اس کے ضبط کھونے کی واضح نشانی تھی۔

“تم اس پوزیشن میں نہیں ہو کہ ہمیں دھمکا سکو۔ کل کا سورج تم دونوں سے تم لوگوں کی عزت، شہرت سب کچھ چھین لے گا اور تمہاری بیوی کا تم سے ہر طرح سے رشتہ بھی ختم کر کے جو اس کی منزل تھی وہاں اس کو پہنچا دیا جائے گا۔جہاں تک بات ہے تمہاری بہن کی تو چار ماہ سے پہلے اسے ڈھونڈ سکتے ہو تو ڈھونڈو کھلی چھوٹ دیتے ہیں تمہیں۔” لہجے میں تکبر، آنکھوں میں سفاکی اور الفاظ میں سرد مہری لیے وہ بولتے چلے گئے تو ان دونوں کی پیشانی شکن آلود ہوئی۔

“آپ کی پلانز شیئرنگ اور مجھے اتنا کنسرن دکھانے کا شکریہ لیکن بہت معذرت میری بیوی کو اس زندان خانے تک پہنچانے کا خواب ذہن سے نکال دیں کیونکہ خیر سے پرنانا بننے والے ہیں آپ۔” کنپٹی کی پھڑکتی رگ اور بھنچی ہوئی مٹھیوں کے برعکس وہ پرسکون لہجے میں بولتا ان کے پلانز اور ان کی خوشیوں بھرے پرمسرت لمحوں کے پرخچے اڑا گیا۔

“اور چونکہ بہن کو ڈھونڈنے کی کھلی چھوٹ آپ دے ہی چکے ہیں تو اس کا فائدہ ہم ضرور اٹھائیں گے۔” وہ جذباتی ہو کے کوئی قدم نہیں اٹھانا چاہتا تھا اس لیے انہیں اپنے اطمینان کے جال سے الجھا رہا تھا۔

“لے کے دفع ہو جاو ان دونوں کو یہاں سے اور تم نکلواو اپنی بدبخت لڑکی کو اس حجرے سے۔ وہ اپنے گندے وجود کو وہاں نہیں لے کے جا سکتی۔” اس کے کیے گئے دھماکے کے زیرِ اثر پیر سائیں مشتعل ہوتے کفِ مغلظات بکنے لگے۔
دو ملازمین نے انہیں پکڑ کے اس سائیڈ پہ بنے کمرے میں بند کیا جبکہ جعفر سائیں باپ کے اشتعال پر تیز قدموں سے بڑھتے ہوئے اس حجرے کی جانب بڑھے جہاں دو گھنٹے قبل ہی اسے بھیجا گیا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“سنبھالو اسے۔” جعفر سائیں نے بائیں ہاتھ میں آبگینے کے بازو کو دبوچے اسے ساجدہ بیگم کی جانب دھکیلا تو انہوں نے لپک کے اسے تھاما جس کا چہرہ خطرناک حد تک پیلا ہو چکا تھا۔

“آبی!کیا ہوا؟تم ٹھیک ہو؟” ایک نظر آگ بگولہ ہو کے باہر جاتے شوہر کو دیکھ کر انہوں نے بے حال پڑی بیٹی کے گال تھپتھپائے۔
اس کی حالت دیکھ کر نسرین بیگم بھی فکرمند ہوئیں۔
ساجدہ بیگم نے نسرین بیگم کا تھمایا گیا پانی کا گلاس اس کے ہونٹوں سے لگایا تو دو تین گھونٹ لینے سے اس کے حواس کسی قدر بحال ہوئے تو اس کے چہرے کے زاویے بگڑے۔

“ام۔۔اں۔۔۔۔” تکلیف دہ انداز میں کہتی وہ بمشکل اپنی جگہ سے اٹھی اور لڑکھڑاتے قدموں سے واشروم کے دروازے تک پہنچی ہی تھی کہ وہیں جھک کے قے کرنے لگی۔

اس کی حالت کو دیکھتیں وہ دونوں شاک کی کیفیت میں دونوں ہاتھ ہونٹوں پہ رکھ چکی تھیں۔

“یا خدا!” ساجدہ بیگم کو سمجھ نہ آئی کہ وہ خوش ہوں یا اس آزمائش پہ دھاڑیں مار مار کے روئیں۔
وہ جانتی تھیں کہ اسے واپس کس لیے لایا گیا تھا ایسے میں اس کی یہ حالت؟

اپنا معدہ ایک دفعہ خالی کرنے کے بعد وہ نڈھال سی سیدھی ہوئی لیکن پھر اسی طرح سے جھک گئی تو ساجدہ بیگم اس کی جانب لپکیں۔

“آبی!” انہوں نے اسے کی پشت رب کرتے اسے سنبھالا۔

“ام۔۔ماں۔۔ر۔۔رہبان۔” ماں کا لمس پا کے وہ شدتوں سے رو دی۔
ان چند گھنٹوں نے ہی اس کو نچوڑ کے رکھ دیا تھا۔وہ جسے گزشتہ چند مہینوں سے وہ شخص اور اس سے وابستہ لوگ شہزادیوں کی طرح رکھ رہے تھے وہ ان گھنٹوں میں مرجھا چکی تھی۔

“ماں صدقے جائے۔رہبان آ جائے گا۔تم اٹھو منہ دھو۔” انہوں نے اسے سہارا دے کر اس کا ہاتھ منہ دھلوایا۔
تب تک نسرین بیگم اس کی حالت دیکھ کر اس کے لیے پھل اور جوس لے کر آ گئیں تو ساجدہ بیگم اسے کھلانے لگیں۔

“شوہر واقف ہے نا تمہارا اس حالت سے؟” اماں نے اس کے سراپے کو دیکھتے سنجیدگی سے سوال کیا تو اس کی آنکھیں اس کی خوشی اور اس خبر پہ اس کا ری ایکشن یاد کر کے جھلملا گئیں۔

“پھر صابر رہ، وہ تمہیں لینے کے لیے ضرور آئے گا۔جی دار مرد ہے، بیوی اور ہونے والے بچے کو کسی کے در پہ نہیں چھوڑے گا۔” اس کے اثبات میں سر ہلانے پر وہ پر تیقین لہجے میں بولیں تو وہ آنسو ضبط کرتی ہوئی لیٹ گئی۔
آج نجانے کیوں اس کے ہاتھ کی بنی چائے یاد آ رہی تھی جسے اس نے کبھی چکھا تک نہ تھا۔
اس یاد پر بہت سے آنسو اس کی آنکھوں سے نکلتے تکیے میں جذب ہوتے چلے گئے۔

جاری ہے۔