No Download Link
Rate this Novel
Episode 35
“دل تیرے سنگ جوڑ لیا”
از
حوریہ ملک
Episode#35;
پھٹی پھٹی نگاہوں سے سکرین کو دیکھتی شہرے کے کانوں میں گویا دھماکے ہو رہے تھے۔
“ضر لالہ نگاہ کو ڈائیورس دے رہے ہیں۔” بار بار اس جملے کی تکرار اس کی سماعتوں میں ڈنک مار رہی تھی۔
بہت سارے جان گسل لمحوں کے بعد وہ خود کو حرکت دینے کی کوشش کرتی سیدھی ہوئی اور کپکپاتی ہوئی ٹانگوں کے ساتھ اپنے سپید پیروں میں سلیپرز ڈالنے لگی۔
“ضر لالہ!نگاہ سے شادی کے لیے آغا جان سے جھگڑا کر رہے ہیں۔” اس کی ڈبڈبائی آنکھوں نے اس کے کانپتے پیروں کو دیکھا تو سماعتوں میں ایک دفعہ پھر سے جیسے ڈنک مارا گیا تھا۔
“نگاہ کی ضر سے رخصتی اور شہرے کا نکاح ایک ہی دن ہو گا۔” بمشکل اٹھنے کی کوشش کرتی وہ وحشت ناک سی سرگوشیوں کی بازگشت سے جیسے پاگل ہو رہی تھی۔
“میں ضرور تم سے ناراض ہوتی جو اگر وہ ضرغام اور تم شہرے نہ ہوتی۔” دروازے کی جانب بڑھتے اس کے قدم بازگشت کرتی سرگوشیوں کے باعث بار بار لڑکھڑا رہے تھے۔
دروازہ کھول کے باہر کی جانب بڑھتی شہرے کی آنکھوں میں فرنٹ سیٹ پہ شہرے ملک اور بیک سیٹ پہ نگاہ واحدی کو بٹھاتے ضرغام ملک کی شبیہہ لہرائی تو نفرت کی ایک زوردار لہر اس کے پورے وجود میں دوڑ گئی۔
“جس لمحے کبھی جو میں نے آپ کی نظروں کے ارتکاز کے باعث آپ کے لیے نرم گوشہ محسوس کیا ہو، اس لمحے پہ لعنت ہو۔” گہرے تنفر اور اشتعال سے کہتی وہ اب جیسے کسی ان دیکھی قوت کے باعث تیز تیز قدم اٹھاتی ملک منزل کے صدر دروازے کی جانب بڑھ رہی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنے سامنے پڑے تمام ریکارڈ کو حیرانگی سے تکتی شازمین میر کا چہرہ مارے ضبط کے سرخ ہونے لگا تھا۔
“آئی کانٹ بلیو، ایسا کیسے پاسیبل ہے؟نا کوئی ریکارڈ نا فوٹیج؟” وہ حیرانگی کے ہنڈولے میں ڈولتی ہوئی خودکلامی کے سے انداز میں بڑبڑائی تھی۔
جبکہ ایسا ہی کچھ حال ان دونوں بھائیوں کا بھی تھا جو اس کے سامنے بیٹھے تھے۔
“آفاق!پتہ کرواو کہ آیا ذوالقرنین واقعی کچھ سال پہلے مر گیا تھا نا؟” نجانے اُس کے دماغ میں کیا سمائی کہ وہ اچانک آفاق میر سے مخاطب ہوئی تھی کو اُس کی بات سن کے چونک گئے۔
“بھابھی!اُس کے زندہ ہوتے ہوئے ضرغام ملک اور نگاہ واحدی کا نکاح ممکن نہیں تھا۔” اُس نے گویا باور کروانے کی کوشش کی کہ نگاہ کا کسی اور سے نکاح ہو جانا یہ ثابت کر رہا تھا کہ نین مر چکا ہے۔
“پھر کون ہے ایسا جو ہمارے ناک تلے سے ہمارے خواب چرانے کی جرات کر رہا ہے؟” وہ بھڑک اٹھی تھی۔
جس پیسے کے لیے وہ انسانیت کے نچلے درجے سے بھی گر چکی تھی، اُس پیسہ کا کھو جانا اسے پاگل کیے دے رہا تھا۔
“اپنی جذباتیت پہ قابو رکھو شازمین میر، ہمیں بہت چالاکی سے دیکھنا ہو گا کہ کون ہے جو ہمارے درمیان رہ کے ہمیں ڈاج دے رہا ہے۔” عبدالرحمن میر نے اسے شانت رہنے کی تلقین کی کیونکہ جذباتیت کام بگاڑ سکتی تھی۔
“وہ جو ک۔۔۔۔۔۔۔” شوہر کی بات سن کے اُس نے بمشکل خود پہ ضبط پاتے کمپوزڈ لہجے میں کہنا شروع کیا تھا جب عبدالرحمن میر کا موبائل گنگنا اٹھا۔
“ہیل۔۔۔۔۔” اس نے بولنا چاہا ہی تھا کہ دوسری جانب سے ملنے والی خبر پہ اس کا رنگ سیاہ پڑا تھا۔
“کمانڈ کون کر رہا ہے؟” چند لمحوں کے بعد اس نے ڈوبتی آواز کے ساتھ پوچھا تو جواباً سننے والے نام نے گویا سر تا پا سلگتی بھٹی کی نذر کر دیا ہو۔
“کیا ہوا بھائی صاحب؟” اس کی سیاہ پڑتی رنگت دیکھ کر آفاق میر نے استفسار کیا تو وہ چونکا اور پھر لمحہ بہ لمحہ اس کے چہرے پہ غیض و غضب چھانے لگا۔
“اُس کمینے ایس پی نے ہمارے ٹھکانوں پر ریڈ مار دی ہے اور ہمارا کروڑوں کا مال ضبط کر گیا ہے وہ۔” غصے اور صدمے کی شدت سے اس کی آواز جیسے پھٹ رہی تھی جبکہ اس کی دی گئی خبر پہ وہ دونوں بھی جیسے ہِل سے گئے تھے۔
“یہ ہو کیا رہا ہے؟ ہمارے اکاونٹس کا خالی ہو جانا، سفیر سائیں کی فیکٹری کا جل جانا اور اب ہمارے ٹھکانوں پر اچانک ریڈ۔یہ سب اتفاق نہیں ہے، ہم یقیناً کسی سازش کا شکار ہو رہے ہیں۔” کڑیوں سے کڑیاں ملاتی شازمین میر بلند آواز میں دھاڑی تو آفاق میر نے سنجیدگی سے اُس کا چہرہ دیکھا۔
“میرے خیال سے ایک دفعہ پھر بخت خان کو بلانے کا وقت آ چکا ہے۔” اس کی سرد آواز پہ دونوں چونکے اور پھر تائیداً سر ہلایا۔
“ٹھیک کہہ رہے ہو تم لیکن اس سے قبل سفیر سائیں کے آدمیوں سے کہو کہ اُس ایس پی کو جلدی سے ٹھکانے لگواو۔” شازمین میر نے نفرت انگیز لہجے میں کہا تو وہ سر اثبات میں ہلا گیا۔
جبکہ آفس کی گرے دیواریں پرتاسف انداز میں انہیں تکتی رہ گئیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پرجوش اور کسی خوفزدہ دل کے ساتھ وہ چپ چپ سی کلثوم میر کا ہاتھ پکڑے انہیں ذوالنورین کے کمرے کی طرف لے کے جا رہی تھی۔
آج گھر کے سبھی افراد شازمین میر کے بھانجے کی منگنی پہ گئے تھے ایسے میں اِسے موقع مل گیا تھا کلثوم میر کو اُس سے ملانے کا۔
“آپ خوش ہیں، اپنے بیٹے سے ملنے کے لیے؟” اُس نے ان کے خاموش چہرے کو دیکھتے ہوئے استفسار کیا تو وہ چونکیں۔
“ہاں، وہ چوڑیاں لے کے آیا ہے؟” انہوں نے چونکتے ہوئے جواباً سوال کیا تو اس نے سر اثبات میں ہلایا۔
“چوڑیاں کس کے لیے منگوانی ہے؟” وہ چھوٹے چھوٹے سوال کر رہی تھی تاکہ وہ ذوالنورین کو دیکھ کر ہائپر نہ ہوں۔
“وہ۔۔وہ اُس کے لیے۔” وہ جیسے کچھ یاد کرنے میں ناکام ہوئی تھیں۔
“اچھا، آپ کو نین زیادہ یاد آتا ہے؟” اس نے اگلا سوال کیا اور آخری سیڑھی پہ قدم رکھا۔
“نہیں, نین بھی آتا ہے یاد۔وہ اُسے سب ڈانٹ رہے تھے نا۔” انہوں نے جیسے اسے شکایت سی لگائی تھی جبکہ وہ اُن کے جواب پہ الجھ سی گئی۔
“یہ ‘نین بھی’ سے کیا مطلب ہوا بھلا؟” اس کے ذہن میں بے ساختہ سوال ابھرا تھا لیکن تب تک وہ راہداری کے آخری سرے تک پہنچ گئے تھے۔
آخری سرے پہ بنے اُس کمرے کے بند دروازے کے سامنے پل بھر کے لیے ٹھہرتی وہ بالآخر آر یا پار سوچتی دروازہ کھول گئی۔
دروازہ کھول کے اماں(کلثوم میر سے انسیت ہونے کے بعد وہ انہیں اماں کہنے لگی کہ وہ اپنی ماں کو بھی یہی کہا کرتی تھی) کا ہاتھ تھامے وہ اندر داخل ہوئی تو نظر اُس پہ گئی جو حسبِ معمول صوفے پہ بیٹھا شال میں چھپی ٹانگوں پہ نظر جمائے بیٹھا تھا۔
“آئیں اماں، اس سے ملیں، یہ آپ کا بیٹا ہے۔” مسکراتے ہوئے لہجے میں ذوالنورین کی جانب اشارہ کرتے ہوئے وہ بولی تو کلثوم میر توجہ سے اس جانب دیکھنے لگیں۔
جبکہ ذوالنورین میر کی آنکھیں اس پل اپنے آنسو ضبط کرنے کی کوشش میں سرخ ہو رہی تھیں اور چہرہ بھی تپنے لگا۔
“یہ میرا بیٹا ہے؟” انہوں نے زحلے کی جانب دیکھتے جس انداز میں استفسار کیا، ذوالنورین کا دل چاہا وہ پھوٹ پھوٹ کے رو دے اور اُن لوگوں کا حشر کر دے جن لوگوں کی وجہ سے آج وہ لوگ اس حال میں تھے۔
“جی اماں، یہ آپ کا نین ہے نا۔” اس نے اپنے لفظوں پہ زور دیتے ہوئے کہا تو ان کے خوبصورت چہرے پہ الجھن سی پھیلی۔
“مما!” اس نے بھیگے لہجے میں ماں کو پکارا تھا۔ بس نہ چل رہا تھا کہ کسی طرح اٹھ کے اُن سے لپٹ جائے لیکن۔۔۔۔۔۔
“مما!” اس نے پھر سے انہیں پکارا تو اس کی بھیگی آواز اور نم پلکیں اسے نجانے کیوں رنج میں مبتلا کر گئیں، تبھی وہ اُن کا ہاتھ تھام کے اس کے نزدیک لے گئیں۔ ان کے پاس بیٹھتے ہی ذوالنورین میر نے لپک کے انہیں اپنے مضبوط بازووں میں سمیٹتے ہوئے اپنے سینے سے لگایا اور پھر نجانے کس کس دکھ کو یاد کرتا وہ شدتوں سے رو دیا۔
اسے اس بات سے غرض نہ تھی کہ دنیا کہتی ہے مرد روتے نہیں ہیں جبکہ اِس پل اس کا دل اپنی ماں کی آنکھوں میں اپنے لیے اجنبیت دیکھ کے اتنا زور سے رونے کو چاہ رہا تھا کہ اس لمحے کی اذیت دھل جائے۔
“بس کرو پلیز، اماں پریشان ہوں گی۔” اسے اس طرح دیکھ کر ان کے نزدیک کھڑی زحلے کے چہرے پہ بھی آنسو بے آواز بہنے لگے تھے لیکن پھر کلثوم میر کا خیال کر کے اس نے روتے ہوئے ذوالنورین کے کندھے پہ ہاتھ رکھا تو وہ ہوش میں آیا۔
“آپ ٹھیک ہیں نا؟” خود کو سنبھالتے ہوئے وہ تھوڑا پیچھے ہوتے ان کا چہرہ اپنے ہاتھوں کے پیالوں میں لیتا محبت و فکرمندی سے گویا ہوا تھا۔
“چوڑیاں لائے ہو؟” اس کے سوال کو نظرانداز کر کے انہوں نے سوال کیا۔
اُن کا ذہن بس دو پوائنٹس پہ سٹٙک ہو چکا تھا کہ جس دن اُن کے ساتھ یہ حادثہ پیش آیا تب انہوں نے نین کو نگاہ کے لیے چوڑیاں لانے کو کہا تھا کہ اُس کے سوٹ کے ساتھ دینے جانا ہے اور سب کے الزامات کی زد میں کھڑا ذوالنورین میر۔
“چوڑیاں نین لے کے آئے گا، میں آپ کے لیے بہو لایا ہوں نا۔” ان کے ہاتھ چومتے ہوئے وہ نسبتاً ہلکے پھلکے انداز میں گویا ہوا تو اس کے نزدیک کھڑی زحلے کو جیسے جھٹکا لگا تھا۔
“یا وحشت!یہ نین کون اور کتنے ہیں؟” اس کے ذہن میں بے ساختہ سوال ابھرا تھا۔
“یہ بہو ہے؟” اس کی بات پہ انہوں نے اشتیاق سے زحلے کی جانب اشارہ کیا تو ان کے سامنے ببانگِ دہل اس بات کا اعتراف کرنے والی زحلے ذوالنورین کے سامنے اس سوال پہ جزبز سی ہو گئی۔
“جی، یہ ‘بہو’ ہے آپ کی۔” ایک گہری نگاہ اس کے فیروزی سمپل سے فراک اور پاجامے کے ساتھ ہمرنگ دوپٹے میں ملبوس زحلے پہ ڈالتے ہوئے اس نے ‘بہو’ پہ زور دیا تو وہ نامحسوس انداز میں اپنا دوپٹہ ہاتھوں میں بھینچ گئی۔
“یہ بہت پیاری ہے۔” اگلے ہی لمحے زوالنورین کی گرفت سے اپنا ہاتھ چھڑوا کے انہوں نے اس کے ہاتھ کو تھام کر کلائی میں پہنی کانچ کی چوڑیوں کو چھوا تو اس کا خوبصورت چہرہ گلابی پڑنے لگا۔
“جی بہت۔” مختصر مگر گہرے لہجے میں دیا گیا جواب اس پہ مستزاد بہت سے رنگ لیے آنکھوں کی لپک اس کے گلابی چہرے کو مزید رنگوں سے بھرنے لگی تو اس نے جلدی سے ان کی گرفت سے اپنا ہاتھ چھڑوانا چاہا۔
“اماں!آپ اپنے بیٹے سے باتیں کریں، میں آپ کے لیے کچھ کھانے کو لاتی ہوں۔” اُس نے وہاں سے کھسکنا چاہا لیکن انہوں نے بجائے ہاتھ چھوڑنے کے اسے نزدیک کھینچا تو وہ چارو ناچار صوفے کے سامنے پڑے میز پہ بالکل ان کے مقابل بیٹھ گئی۔
“آپ میرے ساتھ رہیں گی نا اب؟” ذونین نے ماں کا دھیان اپنی جانب مبذول کروانا چاہا کیونکہ وہ دیکھ رہا تھا کہ زحلے پزل ہو رہی ہے۔
“آ۔۔۔نہیں۔۔نہیں، وہ پھر پیر باندھ دیتی ہے۔” وہ ایک دم سے خوفزدہ ہوتی اس کے سینے میں چھپنے لگیں تو اس کی آنکھیں مارے اشتعال کے دہکنے لگیں۔
“وہ ایسا کچھ نہیں کرے گی،آپ پلیز اب یہاں میرے ساتھ والے کمرے میں رہیں نا۔آپ کا بیٹا ہوں تو اتنی بات نہیں مانیں گی؟” وہ انہیں ان کے ہی انداز میں ڈیل کرنے لگا تھا۔
اتنے سالوں سے وہ ماں کی آنکھوں میں اجنبیت دیکھ رہا تھا آج زحلے کی کوششوں سے یہ اجنبیت کم تھی اس لیے اس نے اپنی کوشش دہرائی تھی۔
“وہ مارے گی تو نہیں؟” انہوں نے ڈرتے ڈرتے پھر سے پوچھا۔
“کوئی بھی آپ کو نہیں مارے گا۔میں آپ کے پاس ہوا کروں گی اور پھر آپ یہاں ہمارے پاس رہیں گی تو نین بھی جلدی سے چوڑیاں لے کر آ جائے گا۔” اب کے زحلے نے ان کی حالت دیکھ کر نرم لہجے میں کہنا شروع کیا تو ان کے تاثرات نارمل ہوئے۔
“تم میرے پاس رہو گی؟” انہوں نے اس کی چوڑیوں کو چھوتے ہوئے سوال کیا تو اس نے فوراً سر اثبات میں ہلایا اور اس کا اثبات میں ہلتا ہوا سر دیکھ کر اُس کا بے لگام سٹوڈینٹ اسے گھور کے رہ گیا۔
پھر شازمین میر کے آنے سے پہلے پہلے زحلے نے ذوالنورین کے کہنے پر اپنے روم کے ساتھ والا کمرہ کلثوم میر کے لیے تیار کروا کے انہیں وہاں لٹا دیا۔
“تھینک یو۔” ساری تگ و دو کے بعد ابھرتی رات کے وقت جب وہ کمرے میں آئی تو گھمبیر لہجے میں کہے گئے ان الفاظ پہ چونک گئی تھی۔
وہ کم از کم اس سے اِن الفاظ کی توقع نہ رکھتی تھی تبھی اسے عجیب سا لگا۔
“یہ تمہارے لیے نہیں تھا نہ تمہاری کسی ڈیل کے لیے تھا۔یہ فقط ایک ماں اور اس کے بیٹوں کے لیے تھا۔ میں جانتی ہوں والدین اولاد کے لیے کتنی اہمیت رکھتے ہیں اور جس سچویشن میں اماں ہیں وہ سچویشن اولاد کے لیے کس قدر تکلیف دہ ہوتی ہے میں سمجھ سکتی ہوں۔ میں نے بس اس تکلیف کے احساس کو کم کرنے کی کوشش کی ہے۔” نرم و سنجیدہ لہجے میں بولتے بولتے نجانے کیوں اس کا لہجہ رندھنے لگا۔
اسے بہت شدتوں سے اپنی مری ہوئی ماں اور بیمار باپ کا خیال آیا تھا جس کے باعث آنسو بے لگام ہونے لگے تھے۔
ذوالنورین جو ماں سے مل کے بھی خود کو ادھورا محسوس کر رہا تھا کہ آج ماں نے میرا بیٹا کہہ کر ماتھا نہیں چوما تھا۔وہ زحلے کو روتے دیکھ کر سیدھا ہوا۔
“یوں روئیں گی تو مرنے والوں کو تکلیف ہو گی اور جو زندہ ہیں ان کے دلوں کو بھی اذیت ہو گی۔” وہ بظاہر اس کے والدین کا حوالہ دیتا اسے یہ نہ کہہ سکا کہ اسے اس کے آنسو تکلیف دے رہے ہیں۔
مگر اس کی بات سن کر وہ آنسو پونچھتی ہوئی اپنا کمبل اٹھانے لگی کہ اسے آج رات اپنی ‘ساس’ کے پاس سونا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
‘ملک ہاوس’ کا صدر دروازہ زور سے کھولتی وہ ہال میں داخل ہوئی تو خلافِ معمول وہاں آج سناٹے کا راج تھا اور یہ شاید ضر کے کیے گئے دھماکے کے باعث تھا۔اس کے اندر امڈتا اشتعال مزید گہرا ہونے لگا تو وہ بنا رکے تیز تیز قدموں سے چلتی سیڑھیوں کی جانب بڑھی تھی۔
تیز قدموں سے سیڑھیاں چڑھنے کے بعد وہ اُس کمرے کے سامنے آن رکی جہاں اس نے بچپن کے خوشگوار پل گزارے تھے مگر اس وقت یہی کمرہ اسے انتہائی برا لگ رہا تھا اسی لیے بنا کوئی لحاظ و مروت رکھے اس نے ایک دھاڑ سے دروازہ چوپٹ کھولتے ہوئے اندر قدم رکھا۔
ضرغام جو کچھ دیر قبل ہی نیچے والوں کے ساتھ گویا ایک محاذ پہ لڑ کے اپنے کمرے میں آ کے صوفے پہ ڈھیر ہوا تھا۔ وہ اس اچانک افتاد پہ آنکھیں کھول کے ناگواری سے دروازے کی جانب دیکھنے لگا مگر کھلے دروازے کے بالکل وسط میں بگڑے تیوروں کے ساتھ کھڑی شہرے کو دیکھ کر اس کی آنکھوں میں چھائی ناگواری پل میں اڑنچھو ہوئی تھی۔
اسے دیکھ کر وہ بے ساختہ اپنی جگہ سے کھڑا ہوتا اس کی جانب بڑھنے لگا۔
“کبھی مجھے لگتا تھا کہ ‘ملک ہاوس’ میں سب سے کیئرنگ اور لونگ ضرغام چاچو ہیں لیکن آج مجھے احساس ہوا کہ ‘ملک ہاوس’ میں سب سے زیادہ ‘بے غیرت اور گھٹیا ترین’ انسان ضرغام ملک ہے۔” نفرت انگیز لہجے میں لفظ چبا چبا کر بولتی وہ گویا لفظوں کا بیلچہ اس کے منہ پہ مار گئی جس کی ضرب سے اُس کا خوبرو چہرہ پل میں سیاہ پڑا تھا۔
“آپ اتنے گھٹیا انسان ہوں گے میں نے کبھی سوچا نہیں تھا۔ آپ کو شرم نہیں آتی ایک لڑکی کی زندگی تباہ کرتے ہوئے؟پہلے تماشہ بنا کر اُن سے شادی کی پھر اُن سے دل بھرا تو ایک منصوبے کے تحت خود سے کم عمر لڑکی سے شادی رچا لی اور اب انہیں ڈائیورس کر رہے ہیں آپ۔” وہ بلند آواز میں دھاڑی تو ضر کے کمرے سے ملحقہ کمرہ میں مکین نگاہ اس کی بلند آواز سن کے دوڑی دوڑی وہاں آئی تھی مگر چوکھٹ پہ کھڑی شہرے کو دیکھ کر وہ وہیں تھم گئی تھی۔
“اپنے لفظوں کے چناو پہ غور کریں شہرے۔” اس کے لفظوں کے طمانچوں سے سرخ ہوتا چہرہ لیے ضرغام نے شدتِ ضبط سے سرد لہجے میں فقط اتنا ہی کہا تو وہ مزید سلگی۔
“آپ اپنی انسانیت سوز حرکتوں پر غور کریں مسٹر ضرغام ملک، اگر آپ یہ سمجھ رہے ہیں کہ ایسی اوچھی اور گھٹیا حرکت کرنے کے بعد آپ میرے ساتھ ہنسی خوشی زندگی بسر کر لیں گے تو اس خوش فہمی سے نکل آئیں کیونکہ میں آپ جیسے خود غرض اور خود پرست شخص پہ تھوکنا بھی گوارا نہیں کرتی۔” نفرت اور لحاظ کی ہر حد کو پار کرتی وہ متنفر لہجے میں بولتی گویا اس کی سماعتوں میں پگھلا ہوا سیسہ انڈیل گئی جبکہ لفظوں کی کاٹ اس قدر گہری تھی کہ اسے وہ خود کو برچھیوں سے کٹتا ہوا محسوس کرتا بلند آواز میں دھاڑا تھا۔
“شہرے!” دونوں ہاتھوں کی مٹھیاں زور سے بھینچتے ہوئے وہ سرخ ہوتی آنکھوں سے اسے گھورتا دو قدم آگے بڑھا تو شہرے کو یکلخت اس سے خوف محسوس ہوا۔
“جائیں یہاں سے فوراً۔” وہ ایک بار پھر سے گرجا تھا۔ اس کے گردن اور کنپٹی کھِنچی ہوئی رگیں اس کے اشتعال کا واضح اعلان کر رہی تھیں۔
“آپ یوں مجھے ہراس نہیں کر سکتے۔میں تب تک یہاں سے نہیں جاوں گی جب تک آپ نگاہ کو ڈائیورس دینے سے انکار نہہ۔۔۔۔۔۔۔۔” اس کی آنکھوں سے نکلتے شرارے، بھنچی ہوئی مٹھیاں، بلند آواز، گہری سانسیں، سرخ چہرہ اسے شدید خوفزدہ کر گئے تھے لیکن وہ اس سمے کمزور نہیں پڑنا چاہتی تھی۔
تبھی خود کو ہمت دلاتی سپاٹ لہجے میں بول رہی تھی جب عقب سے آتی نسوانی آواز پہ اس کے لفظوں کو بریک لگی تھی۔
“وہ نہیں بلکہ میں ڈائیورس لے رہی ہوں اُس سے۔ مجھے کچھ کہنا چاہتی ہو تم؟” بنا مڑے ہی وہ محسوس کر سکتی تھی کہ نگاہ کے لہجے میں اُس کے لیے اس وقت کتنی ناگواری اور غصہ تھا۔
مگر اُسے اس ناگواری اور غصے نے حیران نہیں کیا تھا بلکہ اسے حیران کر دینے والے نگاہ کے الفاظ تھے۔
اس پہ مستزاد ضر کا سرد مہری سے نگاہ کو وہاں سے ہٹنے کا کہنا۔
“نگاہ!جاو تم یہاں سے۔” اس کے انداز پہ مزید متعجب ہوتی وہ ایک جھٹکے سے پلٹی تو نظر سیدھی اپنے سامنے کھڑی نگاہ سے ٹکرائی جو ناگواری سے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔
“آپ۔۔۔۔۔”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
‘میر برادرز’ کے خفیہ ٹھکانوں پر کامیاب ریڈ مارنے کے بعد وہ خوشی سے سرشار ہوتا اپنے آفس میں بیٹھا نین کی کال کا منتظر تھا۔
جو کراچی پہنچ چکا تھا اور اب اسے اس شخص تک پہنچنا تھا جو انہیں ‘ولید میر’ کے متعلق انفارمیشن دے سکتا تھا۔
اس لیے وہ ہاتھ میں موبائل تھامے نین کی کال کا ہی ویٹ کر رہا تھا جب اس کے کال پہ ان ناون نمبر سے میسجز ریسیو ہوئے تھے۔
چونکہ وہ اس وقت فارغ تھا اس لیے فوراً میسجز اوپن کیے تھے لیکن میسجز پہ نظر پڑتے ہی اس کا وجود گویا پتھر کا ہو گیا۔
“دشمنوں پہ حملہ کرتے ہوئے اتنا بھی مصروف نہیں ہونا چاہیے کہ گھر سے نکل جانے والی بیوی اور بہن کے متعلق خبر نہ ہو سکے۔” یہ الفاظ نہیں بلکہ رہبان گردیزی کے لیے بم تھا جو اس کے پورے وجود کے پرخچے اڑا گیا تھا۔
“ایک ہماری امانت تھی جو ہم لے کے جا رہے ہیں اور دوسری ہمارا بدلہ ہے جسے چکانے کے بعد واپس لٹا دیں گے۔” آبگینے اور دریہ کی تصاویروں کے نیچے لکھے گئے ان الفاظ کو پڑھ کے وہ سر تا پا زلزلوں کی زد میں محسوس کرتا ششدر رہ گیا۔
جاری ہے۔
