No Download Link
Rate this Novel
Episode 15
“دل تیرے سنگ جوڑ لیا”
از
حوریہ ملک
اسے یاد آیا تھا کہ یہ وہی جوڑا تھا جو اس نے نگاہ کے ساتھ ہوتے ہوئے پسند کیا تھا اور اب اس جوڑے کو ‘اِس’ نکاح کے لیے اپنے سامنے دیکھ کے اس کا وجود گویا دہکتے انگاروں کی مانند جلنے لگا تھا۔
“نہیں پہننا ہے مجھے یہ ڈریس۔” بے دردی سے ڈریس کو ہاتھ سے پرے دھکیلتے ہوئے وہ رونے کی شدت سے بیٹھی ہوئی آواز کے ساتھ بولی تو عمارہ بیگم نے بے بسی سے اسے دیکھا۔
“شہرے!یہ ثمرین آپی نے بھیجا ہے تمہارے لیے۔” انہوں نے نرم لہجے میں کہتے ہوئے اسے رام کرنا چاہا لیکن وہ تو گویا اس وقت ہتھے سے اکھڑ گئی تھی۔
“تختہءدار پہ یوں سجا سنوار کے کیوں چڑھا رہے ہیں؟” وہ زہرخند لہجے میں پھنکاری تو انیلہ نے فورا آگے بڑھ کے دروازہ مڈبھیڑ کیا کہ اس کی آواز باہر نہ جا سکے۔
“شہری!تم کیوں اس قدر جذباتی ہو رہی ہو؟یہ تو حالات کا تقاضا ایسا ہے کہ ض۔۔۔۔۔۔” عمارہ نے اسے سمجھانا چاہا لیکن وہ تو گویا پھٹ پڑی۔
“آپ لوگ کیوں نہیں سمجھ رہے کہ آپ لوگ ایک لڑکی کے ساتھ کس قدر غلط کر رہے ہیں؟ ادھر ان کی رخصتی کروا کے بٹھایا ہے اور اب منہ دکھائی میں سوتن دیں گے انہیں کیا؟” وہ بلند آواز میں چلائی تو اس کے الفاظ پہ سب پل بھر کے لیے لاجواب سی ہو گئیں۔
” مرنے والی تھی نا تو پھینک آتے ادھر ہی کہیں مجھے کیوں مجھے بچانے گئے اور کیوں اپنی اور میری گردن میں ان چاہا طوق بندھوانے جا رہے ہیں؟ عزت بچانی تھی نا میری اور خاندان کی تو ضروری تھا کہ ان سے ہی شادی کرتے میری کیا باقی دنیا و خاندان کے لڑکے مر گئے ہیں؟” روتی ہوئی شہرے کی اذیت و نفرت تو گویا امڈ امڈ کے آ رہی تھی۔
“ضرغام کے ساتھ تمہاری تصویریں وائرل ہوئی ہیں اس لیے یہ سب ناگزیر ہوا ہے۔” عمارہ بیگم نے سنبھلتے ہوئے اسے سمجھانا چاہا۔
اسی لمحے ثمرین بیگم دستک دے کے اندر داخل ہوئیں۔چونکہ صورتحال ایسی تھی کہ ‘ملک ولا'(شہرے کے گھر والے) بھی سبھی ملک ہاوس ہی جمع تھے اسی لیے اس وقت سارے ہی یہیں جمع تھے۔
ثمرین بیگم نے اندر داخل ہوتے ہی بیڈ کی پائنتنی والی سائیڈ پہ بکھرا پڑا ڈریس دیکھا اور پھر اسے جو سسکتی ہوئی بیڈ کے کنارے بیٹھی ہوئی بہت ترحم آمیز لگ رہی تھی۔
وہ آگے بڑھیں اور اس کے نزدیک بیٹھ کے اسے نرمی سے ساتھ لگا گئیں۔
“بیٹا ہم سب کو معاف کر دیں، یہ سب جو کچھ بھی ہو رہا ہے اس میں ہم لوگ بلکہ ضرغام قصوروار ہے۔ان لوگوں کی دشمنی ضرغام سے تھی اور وہ لوگ ضرغام کو ایموشنلی ٹارچر کرنا چاہتے تھے۔وہ نگاہ کو اٹھوانا چاہتے تھے لیکن وہ چونکہ کچھ دنوں سے گھر سے باہر نہیں نکلیں اس لیے انہوں نے آپ کو ٹارگٹ کر لیا۔ اب ہم ایسا ہرگز نہ کرتے جو ضرغام کے ساتھ آپ کی تصویروں کو اس طرح سے ایڈٹ کر کے وائرل نہ کیا گیا ہوتا اس لیے میری بیٹی موقع کی نزاکت کو سمجھیں۔ ابھی آپ بس یہ نکاح کریں آگے کا سوچ کے پریشان مت ہوں۔” انہوں نے اپنے مخصوص پرشفق لہجے میں اسے تسلی دی جو ان کے سینے سے لگی آنسو بہائے جا رہی تھی۔
“آپ کو یہ ڈریس نہیں پہننا تو مت پہنیں، کوئی اور سوٹ پہن لیں لیکن خود کو یوں ازیت دینا بند کرو شاباش۔” انہوں نے انیلہ کو ڈریس ڈبے میں رکھنے کا اشارہ کیا اور اس کے لیے مونگیا کلر کی بہت خوبصورت سی شیفون کی سمپل سی فراک منگوائی اور زبردستی اسے زیب تن کرنے پہ مجبور کیا۔
مونگیا رنگ کی سادہ پیروں کو چھوتی فراک کے ساتھ ہمرنگ دوپٹہ اس کے کندھوں پہ پھیلانے کے بعد عمارہ بیگم نے سکن بڑی سی چادر اس کے سر پہ اوڑھائی تو اس کا دل ایک بار پھر سے سسکنے لگا۔
اور پھر جب بلکتی ہوئی شہرے کو بازووں کے حصار میں لیے زونیہ بیگم اور ثمرین بیگم لاونج میں پہنچیں تو تھری سیٹر صوفے پہ رومال چہرے پہ باندھ کے بیٹھے رہبان کے ہمراہ کریم کلر کے شلوار قمیض میں سر جھکائے بیٹھے ضرغام نے شدتِ ضبط سے دونوں ہاتھوں کی مٹھیاں بھینچ لیں۔
“یہاں لے آئیں شہرے کو۔” انہیں آتے دیکھ کے اسد صاحب نے ثمرین بیگم کو اشارہ کیا اور شہرے کو ضرغام کے پہلو میں بٹھایا تو اس کا پہلو گویا جلنے لگا۔
“مولوی صاحب شروع کیجیے۔” دادبخش صاحب کے الفاظ پہ چہرہ بڑی سی چادر میں چھپا کے بیٹھی شہرے کا دل چاہا وہ یہاں سے کہیں دور بھاگ جائے لیکن ایسا کچھ نہ ہو سکا اور مولوی صاحب نے نکاح پڑھانا شروع کر دیا۔
پھر چند ہی لمحوں کے کھیل کے بعد وہ شہرے احسن ملک سے شہرے ضرغام ملک بن گئی۔
یہ یادگار لمحے کیمرہ مین بہت توجہ اور چابک دستی سے ریکارڈ کرتا جا رہا تھا کیونکہ یہ کھیل رچایا ہی اسی کام کے لیے گیا تھا۔
نکاح ہوتے ہی ثمرین بیگم آگے بڑھیں اور ایک سرخ مخملیں کیس ضرغام کی جانب بڑھایا۔
“یہ کیا ہے؟” گلابی ہوتی آنکھوں کے ساتھ اس کیس کو دیکھتے ہوئے اس نے ثمرین بیگم سے استفسار کیا تو ساتھ بیٹھا رہبان فوراً اس کے کان میں گھسا۔
“اسے عرفِ عام میں ‘منہ دکھائی’ کہتے ہیں اور تو خوش قسمت ہے جسے نکاح کے فوراً بعد ہی بیوی کو منہ دکھائی دینے کا موقع مل رہا ہے۔ایک میں ہوں جو کہنے کو تو ہنی مون منا رہا ہوں لیکن مسز ہیں کہ منہ دکھائی دینے کا بھی موقع نہیں دے رہیں۔” اس کی بڑبڑاہٹ اتنی بلند ضرور تھی کہ ضرغام کے ساتھ بیٹھی شہرے بھی اس سے مستفید ہوئی تھی۔
تبھی جب ثمرین بیگم نے کیس سے کنگن نکال کے ضرغام کو پکڑا کے اسے پہنانے کا اشارہ کیا تو ضرغام ایک تپتی نگاہ اردگرد تماشائی بن کے کھڑے افراد پہ ڈالتا ہولے سے اس کی جانب رخ موڑتا اس کی جانب ہاتھ بڑھاتا اس کی کلائی تھامنے کو تھا جب اس نے اس کے ہلکے سے لمس پہ کلائی بہت درشتگی سے اس کی پہنچ سے دور کی۔
“مجھے نہیں چاہیے۔” اس کی مدہم مگر نم آواز اس کی سماعتوں میں پڑی تو اس کا چہرہ مارے ضبط کے سرخ پڑا۔
شہرے کی سب کی موجودگی میں اس حرکت پہ وہ خود پہ ضبط کے کڑے پہرے بٹھاتا دوبارہ ہاتھ اس کی جانب بڑھا کے قدرے سختی سے اس کی کلائی تھامتا اسے ششدر کر گیا۔
اس سے قبل کے وہ اس سے اپنی کلائی چھڑوانے کی کوشش کرتی وہ بہت نرمی سے کنگن اس کی نازک کلائی کی زینت بنانے لگا۔
اس کی اس حرکت پہ شہرے جو پہلے ہی اس سے بے تحاشا متنفر ہو چکی تھی اس کے اندر ناگواری کا جوار پھٹنے لگا۔
ضرغام جیسے ہی کنگن پہنا کے فارغ ہوا تو عمارہ بیگم آگے بڑھیں اور اسے سہارا دے کے وہاں سے اٹھایا اور واپس اسی کمرے کی جانب لیے چل دیں جہاں کچھ لمحے قبل وہ ٹھہری ہوئی تھی۔
شہرے کے اٹھتے ہی کب سے ضبط کیے بیٹھا ضرغام بھی ایک جھٹکے سے اٹھا اور بنا باپ دادا سے ملے رہبان کو لیے باہر کی جانب بڑھ گیا۔
جبکہ دوسری جانب داد بخش اور اسد ملک ایک دوسرے سے نگاہیں چرا کے رہ گئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زحلے جو اسے لٹانے کے چکر میں تکلیف کی شدت سے بیلنس قائم نہ رکھ پانے کی صورت میں اس پہ گر سی گئی تھی اس اچانک افتاد پہ جب اس نے پلٹ کے دیکھا تو اس کا دل چاہا زمین پھٹے اور اس میں سما جائے۔
کیونکہ کمرے کے کھلے دروازے میں شازمین میر کے ساتھ نا صرف معیز اور معید کھڑے تھے بلکہ بہت سے نئے چہرے بھی تھے جو یقیناً میر پیلس کے ہی مکین تھے۔
“اپنی آنکھوں سے دیکھ لو اپنی بہن کی بے حیائی اور بے شرمی کے عظیم مظاہرے کیونکہ میری دکھائی گئی تصویروں پہ تو تمہارے باپ کو یقین آیا نہیں۔” وہ ابھی پہلے جھٹکے سے سنبھلی نہیں تھی کہ شازمین میر کے ہونٹوں سے نکلنے والے ان الفاظ پہ اس کا وجود جیسے جھٹکوں کی زد میں آ گیا جبکہ ان الفاظ کے سنتے ہی معیز زخمی شیر کی مانند آگے بڑھا اور یکے بعد دیگرے کئی تھپڑ اس کے نازک اور زخمی رخسار پہ اس شدت سے برسائے کہ وہ تیورا کے واپس نیم دراز ذوالنورین میر کے سینے پہ جا گری۔
“بے حیا، بے شرم، نوکری کی آڑ میں یہ بے حیائی کر کے ہمارا نام ڈبو رہی ہو تم۔” اس کے بالوں کو دوپٹے سمیت پکڑتے ہوئے اس نے اسے ذوالنورین میر کے سینے سے ہٹانا چاہا جب کب سے چپ لیٹے ذوالنورین میر نے اس کے ہاتھ پہ ہاتھ رکھتے ہوئے اس کے بال اس کی گرفت سے آزاد کروائے۔
“جو بھی میس تم لوگ کری ایٹ کرنا چاہو وہ اس کمرے کے باہر کرنا کیونکہ یہاں مجھے ان سے کچھ سوال پوچھنے ہیں۔” معیز کا ہاتھ پرے جھٹکتے ہوئے اس نے سرد لہجے میں کہا تو اس کی سینہ زوری پہ آگ بگولہ ہوتا معیز اس پہ جھپٹنے لگا۔
“اپنے ہاتھوں کو قابو میں رکھو کیونکہ میں تم جیسے افراد کے گندے ہاتھوں کو اپنے وجود پہ برداشت نہیں کیا کرتا۔” اس کی بلند آواز میں اس قدر سردمہری تھی کہ اس کے گریبان کی طرف بڑھتے معیز کے ہاتھ ٹھٹھک گئے جبکہ وہ اسے وارن کرنے کے بعد اس کی جانب متوجہ ہوا جس کے رخسار سے خون بہتا ہوا اس کی گردن کی طرف سرائیت کر رہا تھا جبکہ وہ لٹی پٹی سی حالت میں وہیں اس کے بستر کے کنارے بیٹھی صدمے و بے یقینی سے یہ سب تک رہی تھی۔
“آپ کی جاب کی اس قدر پرفیکٹ ادائیگی اور آپ کی اداکاری کی داد دینی پڑے گی مس ابراہیم لیکن یاد رہے اداکاری آپ نے اپنی مرضی سے کی ہے اب داد میری مرضی کی ملے گی۔” اس کی استہزائیہ اور طنزیہ آواز جب سن ہوتے اعصاب کے ساتھ بمشکل بیٹھی زحلے کے کانوں میں پڑے تو اس نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے پہلے اسے اور پھر مڑ کے شازمین میر کے چہرے کو دیکھا جن کا مسکراتا ہوا چہرا اسے واضح کر رہا تھا کہ یہ عورت ڈبل گیم کھیل چکی ہے۔
“لے جاو اس بے حیائی کے ڈھیر کو ہمارے گھر سے اور اگر اپنی عزت کی ذرا سی بھی پروا ہے تو آج کے بعد اس طرف کا رخ ہرگز نہ کرنا اور ہو سکے تو اس جیسی بہن کا گلہ دبا دینا۔” شازمین میر نے تابوت میں آخری کیل ڈھونکنا چاہا کیونکہ وہ گرم لوہے پہ چوٹ لگا کے اپنی راہ سے اسے ہٹوانا چاہ رہی تھی جسے بہت آسانی کے ساتھ وہ اپنے مقصد کے لیے استعمال کر چکی تھی۔
“نکلو یہاں سے۔” کب سے خاموش تماشائی بن کے کھڑا معید ان الفاظ پہ آگے بڑھا اور اس کے زخمی بازو سے اسے پکڑ کے کھڑا کرتا ساتھ گھسیٹنے لگا جب بہت ہی غیرمتوقع طور پہ کمرے میں ایک مانوس سی آواز گونجی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“رکو یار کہاں بھاگنے کی کوشش کر رہے ہو؟” تیز تیز چلتے ضرغام کے پیچھے لمبے لمبے ڈگ بھرتے رہبان نے اسے آواز دی اور پھر اس کا بازو تھام کے لان کے آخری کونے میں بنے بینچ پہ لیے بیٹھ گیا۔
“پریشان ہو؟” اپنے چہرے پہ بندھا رومال کھولتے ہوئے رہبان نے اس کی جانب دیکھا جس کی خوبصورت آنکھیں اس وقت وحشت سے پُر تھیں۔
“میں اس وقت بے تحاشا تکلیف میں ہوں۔” اس کے لفظ لفظ سے عیاں ہوتی اس کی دلی کیفیت پہ رہبان بھی چند ثانیے چپ سا ہو گیا۔
“تم میں سے کوئی بھی میری کیفیت نہیں سمجھ پا رہا، سب کو یہ نظر آ رہا ہے کہ میں شہرے کے ساتھ شادی کرنے سے انکار کر رہا ہوں لیکن کوئی یہ کیوں نہیں سمجھ رہا کہ میرے اس انکار کی وجہ کیا ہے؟” کرب زدہ لہجے میں کہتے ہوئے اس نے بینچ کی ٹھنڈی بیک سے اپنا سر ٹکایا اور بہت دھیرے سے بولنے لگا۔
“جب ڈیڈ مجھے اکیس بائیس سال قبل اپنے ساتھ ہاسپٹل لے کے گئے اور وہاں مجھے ایک روئی کی طرح نرم سی گل گوتھنی سی بچی میرے ہاتھوں میں تھمائی تو مجھے وہ بہت پیاری لگی اور شاید اس کے چہرے کی خوبصورتی ہی تھی کہ میں نے اعجاز انکل (شہرے کے دادا) کے بتائے گئے ناموں میں سے اس کے لیے شہرے نام سلیکٹ کیا۔ اس بچی کے ساتھ میری انسیت ختم ہونے کی بجائے اس قدر بڑھتی چلی گئی کہ میں اس راستے کا راہی بن گیا جس کی کوئی منزل نہ تھی۔ چھ سال قبل جب مجھے اس بات کا ادراک ہوا کہ میں خود سے سات سال چھوٹی لڑکی جو مجھے چاچو کہتی ہے اس کے عشق میں مبتلا ہو چکا ہوں تو میں نے اس کے متعلق ڈیڈ سے بات کی کہ اگر چہ وہ ابھی کم عمر تھی لیکن میں کوئی رسک نہیں لے سکتا تھا مگر ڈیڈ اور آغا جان نے میری محبت کو تسلیم کرنے کی بجائے مجھے رشتوں کی زنجیر میں الجھا دیا۔ پھر کچھ عرصے بعد میرا نگاہ سے نکاح ہوا، وہ اچھی تھی اور مجھے امید تھی کہ نکاح جیسا بندھن مجھے اس سے محبت کرنے میں مبتلا کر دے گا اور ایسا ہی ہوا اس کی سنگت نے مجھے خوش رہنا سکھایا لیکن وہ میرے اندر سے شہرے کے عشق کو نہ کھرچ سکی تھی۔
اور اب جب میں نگاہ کے ساتھ نئی زندگی شروع کرنے والا تھا اور یہ سب ہو گیا مگر تم لوگ مجھ پہ دباو ڈالنے سے قبل یہ بات کیوں فراموش کر گئے کہ شہرے میرا عشق ہے اور نگاہ سے محبت ہمارے درمیان رشتے اور اس کے خلوص کی بدولت ہے۔ مجھے جان بوجھتے سب نے اس ازیت میں مبتلا کیا ہے کہ یہ تماشا دیکھ سکیں کہ ضرغام ملک اپنے عشق اور محبت میں توازن کیسے کر رکھ پاتا ہے؟” وہ جو بے حد دوستی ہونے کے باوجود بھی اس کے سامنے اس حد تک نہیں کھلا تھا اس وقت اپنے اندر کی گھٹن کو اس کے سامنے دھیرے دھیرے بیان کرتا ہوا آخر میں زہرخند لہجے میں گویا ہوا تو رہبان نے تسلی آمیز انداز میں اس کے کندھے پہ ہاتھ دھرا۔
“تم پریشان نہیں ہو، اگر خدا نے تمہیں اس آزمائش میں ڈالا ہے تو وہ تمہیں اس سے نکالنے میں بھی مدد دے گا۔ابھی خود کو ریلیکس کرو اور اندر جاو نگاہ بھابھی انتظار کر رہی ہوں گی۔” اپنی نیچر کے برخلاف وہ سنجیدگی سے کہتا ہوا اسے ساتھ لیے اپنی جگہ سے کھڑا ہوا۔
“سفیر سائیں کے خلاف کیس بہت سٹرانگ ہے اس لیے فی الحال ان کی طرف سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ ابھی میں آبگینے کے پاس جا رہا ہوں کل صبح ہوتے ہی ان کارندوں کے پرزے کسوں گا جو خبریں پھیلا رہے ہیں۔” اسے لیے اندر کی جانب بڑھتے ہوئے اس نے جان بوجھ کے موضوع تبدیل کیا تو ضرغام کے چہرے پہ ان کے ذکر پہ غصہ پھیل گیا۔
“تم گھر کب لے کے جاو گے آبگینے کو لے کر؟” اس نے سنجیدگی سے اس کی جانب دیکھتے ہوئے استفسار کیا تو اس نے کان کی لو کھجاتے ہوئے صدر دروازے کے سامنے رکتے ہوئے اسے دیکھا۔
“جب تک آدھے سسرالی جیل میں نہیں ڈال لیتا۔” تپانے والے انداز میں کہتے ہوئے وہ اسے اندر کی جانب دھکیل کے خود دوبارہ سے رومال منہ پہ باندھ کے پورچ میں کھڑی گاڑی کی جانب بڑھ گیا۔
منہ پہ بندھا رومال، بنا نمبر پلیٹ کی گاڑی وہ اس وقت اس لیے استعمال کر رہا تھا کہ اس وقت وہ پیر حویلی والوں کی توجہ کا مرکز نہیں بننا چاہتا تھا۔
اور پھر گاڑی فل سپیڈ پہ بھگاتے ہوئے وہ جلد از جلد اپنی منزل کی جانب بڑھنے لگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صدر دروازہ کھولتے ہوئے جب اس نے قدم واپس لاونج میں رکھے تو مرد سارے تاحال لاونج میں ہی موجود تھے۔
ان سب کو نظرانداز کرتے ہوئے اس نے سیڑھیوں کی جانب بڑھنا چاہا جب احمد ملک نے اسے آواز دی تو اعجاز صاحب اور احسن صاحب کی موجودگی کے باعث وہ چارونا چار پلٹا اور ان کی جانب بڑھا۔
“اعجاز انکل کا کہنا ہے کہ شہرے کی رخصتی اس کے فائنل سمسٹر تک منسوخ کر دی جائے اس لیے وہ اسے ابھی ساتھ لے کے جانا چاہتے ہیں۔تمہارا کیا خیال ہے؟” احمد صاحب نے متانت سے بات مکمل کی تو اس کے اندر اشتعال بڑھنے لگا۔
اس کا دل چاہا کہہ دے کہ پہلے جو کچھ ہوا ہے وہ اس کی اور شہرے کی مرضی سے ہوا ہے جو اب اس کی رائے لی جا رہی تھی لیکن وہ کم از کم احسن صاحب کے سامنے ایسے کسی بھی لفظ کا استعمال کر کے انہیں یہ باور نہیں کروانا چاہتا تھا کہ ان کی بیٹی یہاں ان چاہی تھی۔
“جیسے آپ سب کو مناسب لگے۔” اپنے اشتعال پہ قابو پاتے ہوئے اس نے قدم واپس سیڑھیوں کی جانب موڑے تو احمد صاحب احسن صاحب کی جانب متوجہ ہوئے جو ضرغام کی پشت کو تک رہے تھے۔
وہ جانتے تھے کہ نگاہ کی رخصتی ہو چکی ہے اسی لیے وہ اس وقت شہرے کو لے جانا چاہتے تھے کہ نگاہ یہاں سیٹ ہو جائے پھر حالات کے دھارے کو دیکھ کے شہرے کے متعلق فیصلہ کر لیا جائے گا۔
“زونیہ!جائیں شہرے کو ساتھ لے آئیں۔” سیڑھیوں سے اترتی زونیہ بیگم کو دیکھ کے احسن صاحب نے حکم جاری کیا تو وہ چونکہ اس فیصلے کے متعلق جانتی تھیں سر ہلاتی شہرے کو لانے کے لیے واپس پلٹ گئیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنے کمرے کے دروازے کے سامنے رکتے ہوئے اس نے گہری سانس بھر کے خود کو ذہنی طور پہ ریلیکس کرتے ہوئے ڈور ناب پہ ہاتھ دھرا ہی تھا دائیں جانب بنے دوسرے کمرے کا دروازہ کھلا اور مونگیا فراک میں ملبوس کندھوں پہ وہی سکن شال اوڑھے شہرے زونیہ بیگم اور قندیل کے بازووں میں حلقے میں مقید نکلتی دکھائی دی تو اس کی آنکھیں دہکنے لگیں جبکہ گردن کی گلٹی ابھر کے معدوم ہوئی۔
یہ اس کی پرتپش نگاہوں کی لپک ہی تھی ان غیرمتوقع حالات و واقعات سے حواس باختہ شہرے نے نظر اٹھا کے سامنے دیکھا تو لحظہ بھر کے لیے نگاہوں کا بہت جاندار تصادم ہوا لیکن اگلے ہی پل شہرے کے تنفر سے نظریں پھیرنے پہ فسوں ٹوٹ گیا اور وہ جبڑے زور سے بھینچتا ہوا دروازہ کھول کے اندر داخل ہوا۔
اسے اندر جاتا دیکھ کے شہرے کو نجانے کیا کچھ یاد آیا تھا جس کے باعث اس کی آنکھیں فورا نمکین پانیوں سے بھیگ گئیں۔
مگر فورا ہی اپنی آنکھوں کو پونچھتے ہوئے اس نے سیڑھیوں کی جانب قدم بڑھائے تاکہ جلد از جلد یہاں سے نکل سکے۔
جبکہ دوسری جانب اندر داخل ہوتے ضرغام کی پہلی نظر اپنے بیڈ پہ پڑی جہاں پھیلے ہوئے کمفرٹر کو دیکھ کے اندازہ ہو رہا تھا کہ نگاہ اس وقت محوِ استراحت ہو چکی تھی۔
دروازہ لاک کرنے کے بعد اس کے قدم وارڈروب کی جانب بڑھنے کی بجائے اپنے بیڈ کی جانب بڑھے اور بیڈ کے بے حد نزدیک پہنچ کے تھم سے گئے۔
ایک نظر اس کے کمبل میں چھپے وجود پہ ڈالتے ہوئے وہ وہیں بیڈ کے کنارے ٹک گیا۔
چند ثانیے چپ چاپ اس کے بلینکٹ میں ملفوف وجود کو دیکھنے کے بعد اس نے دایاں ہاتھ آگے بڑھایا اور بہت آہستگی کے ساتھ کمبل اس کے چہرے سے سرکایا۔
جاری ہے
