57.1K
55

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 30

“دل تیرے سنگ جوڑ لیا”
از
حوریہ ملک
Episode#30;
اس عجیب سے دل کو دھڑکا دینے والے سناٹے سے گھبراتے ہوئے ضرغام نے نظریں اٹھا کے باپ کی جانب دیکھا جو سپاٹ چہرہ لیے بنا کسی تاثر کے اسی کی جانب متوجہ تھے۔

“ڈیڈ!” ان کی خاموشی جب سماعتوں کو چبھنے لگی تو اُس نے بے اختیار انہیں پکارا جو آنکھوں میں لگے گلاسز اتار رہے تھے۔

“میرے خیال میں آپ ایک دفعہ خود اپنے بچکانہ ارادے پہ نظرثانی کر لیتے تو مجھ سے جواب مانگنے کی نوبت ہی نہ آتی۔” انہوں نے اس کے بلانے پہ سنجیدگی سے بولنا شروع کیا تو ضر نے ٹھٹھک کے اُن کی جانب دیکھا جن کے انداز سے اسے کوئی خوش کن تاثر نہیں مل رہا تھا۔

“میں آپ کی بات نہیں سمجھا؟” اب کی بار اس نے بھی بنا کسی لگی لپٹی کے ڈائریکٹ استفسار کیا۔

“جو فضول بات آپ نے کہی ہے اس سے قبل آپ کو شہرے سے اپنا رشتہ اور اپنے اور اس کے درمیان عمر کے فرق کو ذہن میں رکھنا چاہیے تھا۔” وہ بھی اب کی بار کھل کے بولے تو اس نے کرنٹ کھاتے اچنبھے سے ان کی طرف دیکھا۔

“عمر کا اتنا فرق معنی نہیں رکھتا ڈیڈ اور رشتہ کوئی ایسا بھی محرم اور سگا نہیں ہے کہ ایسے میں ایسی خواہش رکھنا گناہ تصور کیا جائے۔” اپنی جگہ سے کھڑا ہوتا وہ دل میں بے انتہا بے چینی محسوس کرتا سنجیدگی سے گویا ہوا۔
اسے اس پل جانے کیوں اردگرد کی فضا مکمل طور پہ خود کی مخالفت کرتی محسوس ہو رہی تھی۔

“لیکن ہمارے لیے یہ ایک گناہ ہی ہے اس لیے بہتر ہو گا کہ ایسی فضول خواہش کو دل و دماغ سے نکال کے اپنی پڑھائی پہ فوکس کرو۔” اپنی جگہ سے کھڑے ہوتے وہ اس کی جانب سے مکمل رخ موڑے بنا کسی لگی لپٹی کے انہوں نے سفاکی سے بیٹے کی رگوں پہ پاوں رکھا تھا۔

“میں ایسا کچھ بھی نہیں کرنے والا ڈیڈ اس لیے پلیز میری بات سمجھنے کی کوشش کریں۔یہ کوئی کم عمری کا وقتی احساس نہیں ہے۔” اس نے لہجے میں لچک لاتے ہوئے اُن سے التجا کی تھی۔

“یہ کم عمری کا وقتی احساس ہو یا دیرپا، شرم آنی چاہیے آپ کو اپنی بھتیجی اور خود سے کم عمر لڑکی کے متعلق ایسا گھٹیا خیال ذہن میں لاتے ہوئے۔” اس کی جانب مڑتے ہوئے وہ اب کی بار کھردرے لہجے میں گرجے تو اس نے بے یقینی سے باپ کی جانب دیکھا جن کے چہرے کا اجنبی پن جانے کیوں سانسیں مدہم کر رہا تھا۔

“ی۔۔یہ گھٹیا خیال نہیں ہے ڈیڈ۔” اپنے خالص جذبات کی ایسی بے حرمتی پہ اس کے حواس بگاڑ کا شکار ہونے لگے تھے۔

“ضرغام، وہ اس دنیا میں آپ کے لیے اتاری ہی نہیں گئی ہے اس لیے بہتر ہے کہ خیال گھٹیا تھا یا اچھا اسے ذہن سے نکال دو۔” اس کے چہرے کے تاثرات اس قدر شکوہ کناں تھے کہ وہ لہجے میں قدرے لچک پیدا کرتے ہوئے بولے لیکن ان کے بار بار یہی الفاظ دہرانے پہ وہ مارے اذیت کے ہتھے سے اکھڑ گیا۔

“نہیں نکال سکتا میں اس کے متعلق کوئی بھی خیال ذہن میں کیونکہ وہ اس دنیا میں میرے لیے ہی اتاری گئی ہے۔” دونوں ہاتھ زور سے میز پہ مارتا وہ بلند آواز میں دھاڑا تو اسد صاحب کی پیشانی فوراً شکن آلود ہوئی تھی۔

“آواز نیچی رکھ کے بات کرو، یوں بدتمیزی و بدمعاشی دکھانے سے آپ کو ہماری بچی مل نہیں جائے گی۔” ان کے ناگوار لہجے پہ اس کی پیشانی کی مخصوص رگ مارے اشتعال کے پھڑکنے لگی۔

“آپ میرے ساتھ یوں زیادتی نہیں کر سکتے ڈیڈ، بے بنیاد باتوں کو وجہ بنا کے آپ مجھ سے میری زندگی کی اہم خوشی نہیں چھین سکتے۔” اپنے اشتعال پہ قابو پاتے ہوئے وہ ڈیڈ کے سامنے کھڑا ہوتا دکھ سے بولا لیکن ان کے انداز و تاثرات میں ہرگز کوئی تغیر برپا نہ ہوا۔

“بے بنیاد وجوہات نہیں ہیں، میں ہرگز اُس کم سن بچی کو تم سے منسوب نہیں کروں گا جس کو ہمیشہ وہ کسی اور رشتے سے دیکھتی آئی ہے۔” ان کے بے لچک سرد مہر لہجے پہ اس کے اندر جیسے آگ دہکنے لگی تھی جو اس وقت ہر شے سب کچھ جلا کے بھسم کر دینے کے درپے تھی۔

“اگر آپ ایسا کریں گے تو میں خود احسن بھائی اور آمنہ پھپھو سے اس کے متعلق بات کر لوں گا۔” اس نے ان کی بات سن کے اکھڑ لہجے میں انہیں وارن کیا۔

“ڈونٹ ڈیئر ٹو ڈو ڈیٹ ضرغام ملک۔” اسد ملک نے اس کی دھمکی سن کے درشتگی سے اسے وارن کیا۔
“میں ایسا ضرور کروں گا کیونکہ میں ہرگز بھی بزدلوں کی مانند اُس سے دستبردار نہیں ہوں گا۔” ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے وہ مضبوط لہجے میں بولتا انہیں بہت کچھ باور کروا گیا۔

“اپنی چاہت سے دستبردار نہیں ہو سکتے تو اپنے ارادوں پہ عمل پیرا ہونے سے قبل اپنی ماں کو ساتھ ضرور لے جانا۔” ان کے برفیلے لہجے میں کہے الفاظ پہ اس کے پیروں تلے سے زمین سرکی۔

“ڈیڈ!” اس نے بے یقین، شکوہ کناں نگاہوں سے اس دکھ بھرے انداز میں دیکھا کہ اسد صاحب کے دل میں شگاف سے پڑنے لگے۔

“ضرغام ملک!اگر تم نے شہرے کو اپنانے کے لیے میری مرضی کے بغیر کوئی بھی قدم اٹھایا یا شہرے سے اس متعلق کوئی بھی بات کرنے کی کوشش کی تو اس کوشش کے بدلے تمہیں اپنی ماں کے ماتھے پہ ایک طوق سجانا پڑے گا۔” ان کے کاٹ دار الفاظ اس کے وجود کو برچھی کی طرح کاٹ رہے تھے جب کہ رنگ اس قدر سفید ہوا گویا کسی مردے کا سا گمان ٹھہرا ہو۔
اس کی یہ حالت، بے رنگ چہرہ، خالی آنکھیں، کپکپاتا ہوا وجود اس پل اس قدر اذیت میں ڈوبے لگ رہے تھے گویا بدن سے خون کا آخری قطرہ تک نچوڑ لیا گیا ہو۔
اور اس کی یہ حالت اُن کے اندر کو کھوکھلا کر گئی۔

“اگر شہرے کو اپنانے کے لیے اپنی ماں کے لیے طلاق کا ٹیگ لگوانے کا شوق اور حوصلہ ہے تو میری طرف سے تم آزاد ہو اپنی مرضی کرنے میں۔” اس کی طرف سے رخ پھیر کے واپس اپنی جگہ پہ بیٹھتے ہوئے وہ گویا تابوت میں آخری کیل ٹھوک گئے۔

اور سامنے کھڑے ضرغام کو لگا وہ کھڑے کھڑے یہیں دفن ہو جائے گا۔
وہ بلا مبالغہ شہرے کے لیے جان دینے کے لیے لمحہ بھر نا چوکتا، وہ اس کو اپنا بنانے کے لیے ہر حد سے گزرنے کو تیار تھا لیکن وہ حد اپنی ماں کو اس عمر میں ‘طلاق’ کا طوق پہنانے والی ہرگز نہ تھی۔
اسے لگا کہ اردگرد پڑی کتابیں بھی شاید اس کی بزدلی پہ ہنس رہی ہوں گی لیکن وہ اپنی ماں کا گھر اجاڑ کے اپنا گھر آباد کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتا تھا۔

“م۔۔مجھے آپ کا فیصلہ من۔۔منظور ہے بابا صاحب۔” اس کے طرزِ تخاطب اور کانپتے لہجے میں کہے گئے ان الفاظ پہ کرسی پہ بیٹھے اسد صاحب نے ایک جھٹکے سے پلٹ کے اس کی جانب دیکھا جو ان کی طرف ہرگز نہیں دیکھ رہا تھا بلکہ اس کی خالی ہوتی سپاٹ آنکھیں تو قدرے تاریک حصے میں بیٹھے داد بخش ملک پہ مرکوز تھیں جن کی موجودگی سے وہ چند لمحے قبل ہی آگاہ ہوا تھا۔

ان کے تمام بچوں میں بس وہی ان کو ‘ڈیڈ’ بولتا تھا وجہ اس کی ان کے ساتھ بانڈنگ اور آپسی بے تکلفی تھی اور وہ ہمیشہ کہتا تھا کہ آپ دوست ہیں میرے تو آپ کو سب سے الگ ہی مخاطب کروں گا نا۔ اور آج اس کے ہونٹوں سے ‘بابا صاحب’ لفظ کا نکلنا یہ ثابت کر رہا تھا کہ اب ان کے درمیان فقط ایک ہی تعلق رہ گیا ہے۔

اپنے فیصلے سے انہیں آگاہ کرنے کے بعد وہ لڑکھڑاتے قدموں کے ساتھ دروازے کی جانب بڑھا تو اس کی مخدوش حالت پہ داد بخش ملک نے بے ساختہ اسے پکارا۔

“ضرغام!” ان کی پکار میں عجیب طرح کی بے چینی تھی۔
لیکن وہ ان کی ہر پکار کو نظرانداز کیے سٹڈی روم سے باہر نکل گیا اور پھر ناصرف سٹڈی روم سے نکلا تھا بلکہ وقت کا اندازہ لگائے بغیر وہ ملک ہاوس سے بھی باہر نکل گیا کیونکہ اس لمحے وہاں کے درودیوار اسے خود پہ ہنستے محسوس ہو رہے تھے۔

مرے اللہ تری مرضی
تو جو بھی امتحاں لے لے
نہیں ہم جانتے جن کو
انھی کا ہمسفر کردے
جو اس جیون سے پیارے ہوں
انھیں ہم سے جدا کر دے
تری مرضی مرے اللہ!
تو چاہے آگ پانی ہو
تو چاہے برف جلتی ہو
تو چاہے پھول چبھتے ہوں
تو چاہے خار خوشبو دیں
جسے چاہے بتا دے تو
محبت کس کو کہتے ہیں
جسے چاہے سکھا دے تو
عبادت کس کو کہتے ہیں
جسے چاہے ملا دے تو
جسے چاہے جدا کر دے
وہ جس نے غم نہ دیکھے ہوں
اسے غم آشنا کر دے
تری مرضی تو بن مانگے
سبھی کچھ ہی عطا کر دے
تری مرضی مرے اللہ
تو چاہے سب فنا کر دے
مرے اللہ تری مرضی
تو جو بھی امتحاں لے لے
ہمیں جس حال میں رکھے
فقط اتنی گذارش ہے
تو جو بھی امتحاں لینا
ہمیں بس سرخرو کرنا

عاطف سعید
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بلیو جینز پہ وائٹ ٹی شرٹ اور بلیو شرٹ پہنے جس کے بٹن کھلے ہوئے تھے، اس کی آستینیں فولڈ کرتا وہ تیزی سے نیچے کی جانب بڑھ رہا تھا کیونکہ اسے ناشتے کے لیے دیر ہو رہی تھی جب اچانک اس کا سامنا سلیمان میر سے ہوا تو آنکھوں میں یکایک ناگواری اور غصہ ایک دم سے عود کر آیا۔

“کیسے ہو ڈیئر کزن؟” سلیمان نے اسے دیکھتے ہی تمسخرانہ انداز میں مخاطب کیا۔
وہ ہزگز بھی اس سے مخاطب ہونے کا حوصلہ نہیں کر پاتا تھا لیکن اب کہ ان کے پاس تو بہت سے لوگوں کی ‘شہہ اور طاقت’ تھی اس لیے اب وہ ببانگِ دہل ان سے الجھنے کا حوصلہ کر پا رہا تھا۔

“میں جیسا بھی ہوں لیکن تمہارے لیے بہت خطرناک ثابت ہوں گا جو اگر تم نے دوبارہ وہ حرکت کرنے کی کوشش کی جو تم کچھ دن قبل یونی میں کر چکے ہو۔” اس کے نزدیک آتا وہ انگلی اٹھا کے سرد لہجے میں اسے وارن کرنے لگا۔
نین کی اس وارننگ اور کے انداز پہ اس کے بدن میں پھریری سی دوڑ گئی لیکن اس نے اسے یہ تاثر ہرگز نہ دیا۔

“میں وہ حرکت نہیں بلکہ اس سے بدتر کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔” گھٹیا لہجے میں بولتا وہ اس کا فشارِ خون بلند کر گیا۔
اس سے قبل کہ وہ آپے سے باہر ہوتا اس کو واقعی دوبارہ بولنے کے قابل نہ چھوڑتا اسے کلثوم بیگم اپنی طرف آتی دکھائی دیں۔

“جو بکواس تم نے کی ہے اس کا انعام تمہیں جلد دوں گا۔” دبے دبے لہجے میں اسے وارن کرنے کے بعد وہ مسکراتے ہوئے ماں کی جانب بڑھ گیا جو اسے ساتھ لیے ڈائیننگ ہال کی جانب بڑھتے ہوئے گرم جوشی سے نگاہ اور اس کی منگنی کے لیے ڈریسز کے بارے میں بات کر رہی تھیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رات کے اندھیرے میں اپنی بکھری حالت اور کانوں میں گونجتے ان زہریلے الفاظ کے ساتھ بمشکل ڈرائیونگ کرتا وہ اپنے اپارٹمنٹ کیسے پہنچا تھا یہ وہی جانتا تھا۔
اپارٹمنٹ پہنچنے کے بعد وہ جو وہیں لاونج میں منہ کے بل گرا تو اس کے بعد اٹھنے کے قابل نہ رہا۔

وہ نجانے کب تک ویسے ہی بے یار و مددگار پڑا رہتا کہ رہبان جو کہ واپس گھر گیا ہوا تھا وہ صبح صادق کے وقت واپس پہنچا تو لاونج کے بیچ و بیچ بے سدھ پڑے ضرغام کو دیکھ کے تڑپ اٹھا۔

“ضر!” اپنا سامان وہیں پھینکتا وہ تیر کی سی تیزی کے ساتھ اس کی جانب لپکا اور اسے بمشکل سیدھا کرتے ہوئے اس کے چہرے پہ نظر ڈالی تو جیسے دل کو ہاتھ پڑا تھا۔

وہ جو ان کے گروپ کا ہینڈسم کِلر تھا اس کا چہرہ اس وقت اس کی ناک سے نکل کر جمے ہوئے خون سے بھرا ہوا اس کے دل کو گہری اذیت میں مبتلا کر گیا۔

“ضر!آنکھیں کھول۔۔کیا ہوا؟ضر!” بے تابی سے اسے پکارتے ہوئے اس نے اسے اپنے بازووں میں اٹھایا اور سرعت سے باہر کی جانب بڑھا۔
اسے گاڑی کی بیک سیٹ پہ ڈالنے کے بعد اس نے اُن تینوں کو کال کر کے فورا ہاسپٹل پہنچنے کو کہا اور خود بہت ہی ریش ڈرائیونگ کرتا بار بار مڑ کے اسے دیکھتا جلد از جلد ہاسپٹل پہنچنے کی کوشش میں تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج تک اُس کی تھکن سے دُکھ رہا ہے یہ بدن
اک سفر میں نے کیا تھا خواہشوں کے ساتھ ساتھ

عاطف سعید

وہ چاروں اس وقت ہاسپٹل کے سرد کوریڈور میں چپ بیٹھے ایمرجنسی روم کے بند دروازے کو اذیت سے تکتے ان صبر آزما لمحوں کے گزر جانے کے منتظر تھے۔
جب اسی لمحے نرس بھاگتی ہوئی ان کی طرف آئی۔

“آپ لوگوں میں سے ‘شہرے’ کون ہیں؟” اس کے سوال پہ ان چاروں نے بیک وقت ایک دوسرے کی جانب دیکھا۔

“خیریت؟” ذونین نے سنبھلتے ہوئے سوال کیا۔

“آپ کا پیشنٹ بے ہوشی میں مسلسل کسی شہرے اور ڈیڈ کو پکار رہا ہے اس لیے کوشش کریں کہ ان دونوں افراد میں سے کسی ایک کو بلوا کے روم میں بھجوائیں۔” پروفیشنل انداز میں بولتی وہ واپس جانے کو پلٹ رہی تھی۔

“میں چلتا ہوں آپ کے ساتھ۔” نین نے بے اختیار اسے پکارا اور اس کی تذبذب کا شکار ہوتی کیفیت کو نظرانداز کیے ایمرجنسی وارڈ کی جانب بڑھ گیا۔
وہ چاہتے تو اس کے گھر اطلاع دے سکتے تھے لیکن وہ پہلے یہ جاننا چاہتے تھے کہ اپنے ہی گھر سے آنے والا ضرغام کس اذیت کا شکار ہو کے یہاں پہنچا تھا کہ عالمِ بے ہوشی میں ان دو افراد کو پکار رہا تھا۔

اور پھر اس کی کی گئی درد ناک سرگوشیوں و خود کلامیوں نے اس کے ٹریٹمنٹ کے دوران اس کا ہاتھ مضبوطی سے تھام کے کھڑے نین پہ اس پہ گزری قیامت کا انکشاف اس بری طرح سے ہوا تھا کہ وہ اس درد کو خود پہ محسوس کرتا اس کے لیے دعاگو تھا جس کا شدید ترین نروس بریک ڈاون اس کی حالت کو تشویش ناک بنا رہا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“تم ٹھیک ہو؟” تیس گھنٹوں کے صبر آزما انتظار کے بعد اسے ہوش آنے اور اس کے مکمل طور پہ حواسوں میں لوٹنے کے بعد یہ تیسرا دن تھا جب وہ چاروں اس کے اردگرد ڈیرہ جمائے اپارٹمنٹ میں موجود تھے کیونکہ ہاسپٹل سے وہ ڈسچارج لے چکے تھے۔

“ٹھیک ہوا ہوں تو ہاسپٹل والوں نے گھر بھیجا ہے نا۔” ان کی کھوجتی نگاہوں سے نظریں چراتا وہ ہلکے پھلکے انداز میں بولا تو انہوں نے گہری نگاہوں سے اسے دیکھا گویا کہ اندر تک اترنا چاہا ہو۔

“ضر!ہم نے پوچھا کہ کیا تم ‘ٹھیک’ ہو؟” ذونین نے اپنی خوبصورت آنکھیں اس کے چہرے پہ گاڑھتے ہوئے اپنے لفظوں پہ زور دیا تو اس کے اندر تک سناٹا اتر گیا جبکہ چہرے پہ اذیت کی لہر دوڑ گئی۔

“میں۔۔میں اب ٹھیک ہوں۔آج سے تین چار دن قبل ٹھیک نہیں تھا لیکن اب ٹھیک ہوں۔” اس نے ٹھہر ٹھہر کے بولتے ہوئے اپنی کیفیت پہ قابو پانے کی کوشش کی۔

“ضر تم بے ہوشی میں شہر۔۔۔۔۔۔۔۔” اس کے الفاظ پہ رہبان نے اسے اس کی حالت کا احساس دلوانا چاہا جب اس نے اسے فوراً ٹوکا۔

“رہبان پلیز لیکن اس تذکرے کو مت چھیڑو بلکہ تم لوگ یہی سمجھو کہ میں نے آج تک تم لوگوں سے ش۔۔۔” سنجیدگی سے بولتا ہوا وہ اٹکا لیکن خود پہ قابو پاتے ہوئے اس نے ایک نظر ان چاروں پہ ڈالتے ہوئے اپنی بات کہنی جاری رکھی۔

“شہرے کے متعلق کچھ نہیں کہا۔جو تھا جیسا تھا اسے یہیں دفن کر دو۔” اس نے سنجیدگی سے کہتے ہوئے ان کے چہرے سے نظر ہٹا کے سامنے دیوار پہ جما دی کیونکہ اس پل ان کی نظروں کا سامنا بہت مشکل تھا۔

“کیا تم دفن کر سکتے ہو شہرے کی محبت؟” نگاہ نے اچانک ایسا سوال اٹھایا تھا کہ اس کا دل تڑپ اٹھا لیکن۔۔۔۔۔

“میں چار دن قبل وہاں سے جب نکلا تھا تو سب سے پہلے یہی کام کیا تھا۔” اس نے سپاٹ لہجے میں کہتے ہوئے ایک جلتی ہوئی نظر اپنی ہتھیلی کے وسط میں جگمگاتے تل پہ ڈالی۔

“اور یہ قبر کس شے کے عوض کھودی ہے؟” نین کے سنجیدگی سے کیے گئے سوال پہ اس نے گہری سانس خارج کی کہ اُن سے چھپانا اس کے ناگزیر ہوا جا رہا تھا۔

“میں اپنی چاہت کے لیے اپنی ماں کی اتنے برسوں کی چاہت، ان کی ریاضت کو اس عمر میں ان کے لیے سزا بنانے کا حوصلہ نہیں کر سکا۔” نپے تلے انداز میں کہتے ہوئے اس نے ان کو خود پہ بیتنے والی تمام تر اذیت سے آگاہ کیا تو وہ دکھ سے اسے دیکھ کے رہ گئے۔

“ڈونٹ وری، تم خود کو ٹیز کرنا بند کرو۔تم نے جس نیت کے باعث اپنے قدم پیچھے کیے ہیں اسی کے بدلے تمہارے لیے اللّٰہ پاک نے بہت اچھا سوچ رکھا ہو۔ ہم سب تمہارے ساتھ ہیں لیکن تم وعدہ کرو کہ تمہیں اپنا خیال رکھنا ہے جب قبر بنا کے آئے ہو تو پھر اس پہ کبھی کبھار پھول چڑھانے کے علاوہ اس کی جانب پلٹ کے نہ دیکھنا کیونکہ اس پلٹنے میں تمہاری جو حالت ہوتی ہے وہ ہمیں تکلیف کا شکار کرتی ہے۔” اسے سینے سے لگائے نین محبت سے بولا تو اس نے سر آہستگی سے اثبات میں ہلایا۔

ان پانچوں کو پہلے ایموشنلی کمزور کرنے کے لیے سازشیں رچائے بیٹھے ان کے حاسدین اور دشمن ضرغام ملک کے دل کی دنیا اجاڑ لینے پہ بہت شاد نظر آ رہے تھے کیونکہ ایموشنلی کمزور کرنے کے بعد ان پہ حملہ کرنا ان کے لیے زیادہ سودمند تھا۔
وہ اپنے ارادوں کو جلد از جلد پایہٴ تکمیل تک پہنچانا چاہتے تھے کہ چند مہینوں بعد رہبان گردیزی اور ذوالقرنین میر پولیس میں بھرتی ہونے کے لیے امتحان دینے والے تھے، ان کا ارادہ باقی رہ جانے والی تعلیم ساتھ ساتھ مکمل کرنے کا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دن بہت سُبک روی سے آگے بڑھ رہے تھے اور یہ آگے بڑھتے ہوئے دن نگاہ اور نین کو منگنی جیسے بندھن میں بھی باندھ گئے تھے۔
اُس رات کے بعد ضرغام نے گھر واپس جانا بے حد کم کر دیا تھا اکثر یوں ہوتا کہ ماں کی یاد آنے پہ وہ انہیں اور بہنوں کو اپنے پاس کچھ دیر کے لیے بلوا لیتا تھا لیکن پڑھائی کا بہانہ کر کے ملک ہاوس جانا بے حد کم کر دیا تھا۔
اور اگر کبھی جاتا تو کوشش یہ کرتا کہ شہرے سے ملاقات کم سے کم ہو۔اپنے دل کو سنبھالنے کی اس تگ و دو میں وہ شہرے سے ریزروڈ ہوتا چلا گیا۔ وہ جو بھنورے کی مانند اس کے اردگرد رہتا تھا وہ جس کے ساتھ بات شیئر کیے بغیر شہرے کا گزارا نہ ہوتا وہ دونوں بہت نامحسوس انداز میں ایک مدار میں سمٹ گئے تھے۔
شہرے نے تو بہت بار واشگاف انداز میں سب کے سامنے اس کے رویے کی تبدیلی کی شکایت کی تھی لیکن وہ ہمیشہ اپنی روٹین کا کہہ کے انہیں چپ کروا دیا کرتا تھا۔
ایسے ہی خاموش دنوں میں سے وہ ایک دن تھا جب یونی سے گھر جاتے نین کو ان کے آفس مینیجر کی کال ریسیو ہوئی۔

“السلام علیکم سر!” دوسری جانب سے کیے گئے سلام پہ اس نے گاڑی کی سپیڈ آہستہ کی۔
“وعلیکم السلام!جی فاروقی صاحب؟” وہ کافی حیران تھا کیونکہ بزنس میں انٹرسٹ ہونے کے باعث ذونین یونی کے بعد اکثر آفس چکر لگاتا تھا اور فائلز وغیرہ کو چیک کر کے سائن کرتا تھا۔
آفس سے متعلق کاموں سے ولید صاحب ذونین کو مکمل آگہی دے چکے تھے اس لیے اکثر ولید صاحب کی غیرموجودگی میں کوئی مسئلہ درپیش ہوتا تو آفس میں موجود عبدالرحمن میر، آفاق میر اور شازمین میر کی بجائے ولید صاحب کے مخلص اور وفادار ملازم ذونین کو کال کیا کرتے تھے۔
ایسے میں اس کے پاس آفس مینجیر کی کال آنا اسے حیران کر گیا۔

“جی ذوالقرنین صاحب!ایکچوئلی میر صاحب تین دن سے آفس نہیں آ رہے، گھر کال کی تو بیگم صاحبہ نے کہا ہے کہ وہ تو آفس کے لیے ہی نکلے تھے اب شاید کسی بزنس ٹور پہ اچانک نہ نکل پڑے ہوں۔میں نے ذوالنورین صاحب سے رابطے کی کوشش کی لیکن ان کا نمبر بند ہے۔ آپ برائے مہربانی میر صاحب سے رابطہ کر کے انہیں مجھ سے رابطہ کرنے کا کہہ دیں۔” کسی قدر تفکر کا شکار ہوتے فاروقی صاحب سنجیدگی سے بولے تو اس کا دماغ جیسے سائیں سائیں کرنے لگا۔
نگاہ کے علاوہ وہ چاروں اکثر و بیشتر ضر کے اپارٹمنٹ میں ہی اکثر ٹھہرتے تھے اس لیے وہ باپ کی تین دن کی غیرموجودگی سے آگاہ نہ تھا جبکہ مما کو شاید یہی تھا کہ وہ بزنس ڈیلنگ کے لیے کہیں شہر سے باہر گئے ہوں گے۔

“آپ فکر مت کریں فاروقی صاحب، میں پاپا سے رابطہ کر کے ان کو آپ کا میسج دیتا ہوں۔” ان کو تسلی دینے کے بعد اس نے ماں سے رابطہ کیا جنہوں نے بتایا کہ تین دن پہلے اس کے پاپا کے نمبر سے میسج آیا تھا کہ وہ آوٹ آف کنٹری جا رہے ہیں۔
یہ سب نجانے کیوں اسے عجیب سا لگ رہا تھا تبھی اس نے کچھ سوچتے ہوئے گاڑی کا رخ آفس کی جانب موڑا تھا۔
جبکہ دوسری جانب ‘میر پیلس’ میں موجود ذونین کے کمرے کے بند دروازے کے سامنے کھڑی سرشاری سے مسکراتی ہوئی سامعہ نے دستک کے لیے ہاتھ اٹھایا۔

جاری ہے۔