57.1K
55

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 42

“دل تیرے سنگ جوڑ لیا”
از
حوریہ ملک
Episode#42;
اس کی نمکین پانیوں سے لبریز خوبصورت آنکھیں اس کے دل کو بے چین کر گئیں۔
اپنے دل کی بے چینی پہ قابو پاتا وہ پہلے بی جان اور ماما تائی کی جانب بڑھا۔ان سے ملنے کے بعد وہ فوراً اس کی طرف بڑھا جو اس طرح روتے ہوئے اس کی جان نکالنے کے درپے تھی۔

“کیا ہوا؟ایسے کیوں رو رہی ہو؟” اس کے نزدیک بیٹھتے ہوئے اس نے نرمی سے اس کے دونوں ہاتھ تھامتے استفسار کیا تو لہجے کی نرمی اور فکر نے سسکتی ہوئی آبگینے کے دل پہ یوں گہرا وار کیا کہ وہ ٹوٹی شاخ کی مانند اس کے کشادہ سینے سے لگتی بلک اٹھی۔
اس کے یوں ٹوٹ کے رونے پہ وہ سبھی پریشان ہو گئے تبھی بی جان آگے بڑھیں۔

“صبر اور ہمت سے کام لو میری بیٹی۔طبیعت کی یہ اونچ نیچ تو چلتی رہتی ہے۔اس طرح رو کر اپنے سمیت اپنے اندر سانس لیتی جان کو بھی خوار کر رہی ہو۔” اس کے سسکتے وجود کو دیکھتے اس کے کندھے پہ ہاتھ دھرے انہوں نے نرمی سے کہا۔

“اِس۔۔اِس کی وجہ سے ہوا یہ سب۔” یونہی روتے روتے وہ آنسووں سے رندھی آواز میں بولتی پھر سے سسکنے لگی تو جہاں ایک بے ساختہ سی مسکان اُن تینوں خواتین کے چہروں پہ پھیلی تھی۔
وہیں اس نے ہونق انداز میں اس کے اپنے سینے سے لگے نازک وجود کو دیکھا تھا۔

“ہیں؟” اس کی اِس بے ساختہ سی ‘ہیں’ پہ مائرہ بیگم کی ہنسی نکل گئی۔
“میرے خیال میں ڈاکٹر کی اپائٹمنٹ کی اب ضرورت نہیں ہے، رہبان اپنے مریض کو سنبھالو۔” انہوں نے ان دونوں کو اشارہ کرتے ہوئے اُسے کہا تو وہ جھینپ سا گیا۔
لیکن ان لوگوں کے باہر نکلتے ہی وہ مکمل طور پہ اس کی جانب متوجہ ہوا جو ہنوز ‘سوں’ ‘سوں’ کر رہی تھی۔

“دلِ جاناں!ذرا رخِ روشن سامنے کر کے مجھے تفصیل سے سمجھائیے گا کہ اِس سب کی وجہ ‘میں’ کیسے ہو گیا؟” اس کے مخملیں وجود کے گرد اپنی مضبوط بانہوں کا حصار باندھتے ہوئے وہ گھمبیر لہجے میں گویا ہوا۔

“آبگینے!” اس کے کوئی جواب نہ دینے پر اس نے آہستگی سے اسے فاصلے پہ کرتے ہوئے اس کا شدتِ گریہ و زاری سے سرخ پڑتے چہرے کو اپنے ہاتھوں کے پیالے میں لیا۔
“کیوں اس قدر رو کر ہلکان ہو رہی ہو؟کوئی پریشانی ہے؟” اب کی بار لہجے میں اضطراب ہلکورے لے رہا تھا جو اس سے مخفی نہ رہ سکا۔

“نہیں۔” اس کے لب سرگوشی کے سے انداز میں سرسرائے۔
“پھر؟” اس کا یک لفظی سوال فوراً آیا تھا۔

“وہ۔۔وہ تم دو دن سے گھر نہیں آئے تو میں۔۔۔۔۔۔” بات کرتے کرتے وہ شرمندگی سے چپ کر گئی جبکہ وہ ہنوز اس کا چہرہ ہاتھوں میں تھامے اس کے آگے بولنے کا منتظر تھا۔

“میں تمہیں یا۔۔” وہ ایک دفعہ پھر سے اٹکی تھی۔
“یاد کرتی رہی ہوں تو میری طبیعت خراب ہو گئی تھی۔” بالآخر بات تیزی سے مکمل کرتے وہ خجالت کے احساس سے فوراً پلکیں زور سے میچ گئی تھی۔
شرمندگی و بے بسی کے شدید ترین ریلے کے باعث ایک دفعہ پھر سے آنکھیں آنسووں سے تر ہونے لگی تھیں۔

“مطلب کہ میری بیوی میرے گھر نہ آنے پر رو رو کر اپنی طبیعت خراب کرنے کے بعد شرمندگی کا شکار ہو رہی ہے؟ ریئلی آبی؟” دوسری جانب اس کی بات کو مکمل طور پر سننے اور سمجھنے کے بعد وہ قدرے بلند آواز میں بولا تو اس کے چہرے پہ چھائی خجالت مزید بڑھ گئی۔

“کوئی مجھ غریب شوہر کو سمجھائے گا کہ مجھے میری بیوی کے مجھے یاد کرنے پر خوش ہونا ہے یا اس کے اس یاد پر شرمندہ ہونے پر چُلو بھر پانی میں ڈوب مرنا ہے؟اوہ گاڈ!” اس کی مزید فضول گوئی پہ وہ جو آنکھیں موندے اس کے کسی ردعمل کی منتظر تھی۔
اس بات پہ پٹ سے آنکھیں کھولتی، اس کے دونوں ہاتھ جھٹکتی فاصلے پہ ہوئی۔

“جائیں یہاں سے۔” اس کے لہجے اور نگاہوں میں شاکی پن لہرایا۔

“ایسے ہی چلا جاوں؟پہلے زرا دشمنِ جاناں کو ہیوی ڈوز تو دے لوں۔میری یاد میں نیر بہا بہا کر اپنی انرجی ڈاون کیے بیٹھی ہیں۔” پھرتی سے اسے بازو سے جھکڑ کر واپس اپنی جانب گھسیٹتے ہوئے وہ یکایک اس کے چہرے کے ملائم نقوش کو اپنے ہونٹوں سے چھوتا گڑبڑانے پر مجبور کر گیا۔

“رہبان پلیز!کیا کر رہے ہیں؟” اس کی اس بے ساختگی پہ وہ گڑبڑائی تھی۔

“میری جاب سے سمجھوتہ کرنا پڑے گا ورنہ میرے لیے بہت مشکل ہو جائے گی۔میرے لیے تمہاری محبت، فکر، احساس قابلِ احترام و محبت ہے لیکن اس کے بدلے اگر تم خود کو تکلیف پہنچاو گی تو مجھے تکلیف پہنچے گی۔” اس کی پلکوں پہ اٹکے آنسووں کو لبوں سے چنتے ہوئے وہ رسانیت بھرے لہجے میں گویا ہوا تو وہ کسمسائی۔

“میں آپ سے محبت نہیں کرتی۔” اس کے سینے پہ ہاتھ رکھے، اس کے لمس سے خود کو سکون پہنچاتی، وہ اسی کی قربت کے رنگوں سے نہائی، اس کے لمس سے منتشر ہوتی دھڑکنوں کے ساتھ فورا اس کے ساتھ ‘محبت’ سے انکاری ہوئی تھی۔

“بالکل!اور مجھے محبت کی ضرورت بھی نہیں ہے۔مجھے بس تمہاری طرف سے ہر روز ایسے ہی پرجوش استقبال بنا آنسووں کے چاہیے۔محبت کا اچار ڈالنا ہے کیا۔” اس کے اُس وقت ایک دم سے سینے لگنے والے عمل کی جانب اشارہ کرتے وہ شوخ لہجے میں بولا تو وہ اِسے گھور کے رہ گئی۔

“محبت کا اچار ڈالنا ہے اسی لیے روز صبح چائے کی پیالی میرے لیے بناتے رہے ہیں؟” اس کے انداز پہ وہ بھی طنزیہ گویا ہوئی تھی۔

“ہاں اور دیکھو بنا چائے پیے ایسا اثر ہے جو اگر تم کبھی چائے کی پیالی کو منہ لگا لیتی تو پھر۔۔۔۔۔۔” اس کے سراپے کو معنی خیز نگاہوں سے تکتے اس نے بات ادھوری چھوڑ دی۔
جبکہ اس کے الفاظ و انداز پہ وہ بری طرح سے جھینپ سی گئی۔

“ایس پی صاحب!آپ کی والدہ ماجدہ پوچھ رہی ہیں کہ مریض کی طبیعت بہتر ہوئی ہے تو ناشتے کے لیے لے آئیں۔دو دن سے یہ مریض آنسو پی رہی ہیں اور آپ کی یاد کھا رہی ہیں۔” اچانک دروازے پہ دستک کے ساتھ ریحان کی بلند آواز آئی تو دونوں بیک وقت چونکے۔

“تو آنسووں اور یاد کی دوا دے کر لے آتا ہوں ناشتے کے لیے۔” اس نے جواباً ہانک لگاتے ہوئے اسے بازو کے گھیرے میں لیتے ہوئے اپنی جانب جھکاتے ہوئے دوسرا ہاتھ بڑھا کے لائٹس کو مدہم کر دیا۔

“یہ کیا کر رہے ہیں؟یہ ناشتے کا وقت ہے اور میری۔۔میری طبیعت بھی ٹھیک نہیں ہے۔” وہ بے ساختہ بدکی تھی۔
یہ سچ تھا کہ وہ اس کی عادی ہو چکی تھی اور عادتیں چاہتوں سے بھی زیادہ مہلک ہوا کرتی ہیں۔
مگر وہ اس کی شدتوں سے روزِ اول کی مانند گھبرا دیا کرتی تھی۔

“مجھے دو گھنٹے بعد پھر سے نکلنا ہے اس لیے چند لمحے مجھے خود کو محسوس کرنے دو۔” بھاری لہجے میں بولتے ہوئے اس نے چہرہ اس کی گردن میں چھپایا تو وہ بے ساختہ اُس میں سمٹی تھی۔
“کیوں؟ابھی تو آئے ہو؟” اس کے جانے کا خیال جسم و جان کو بے چین کر گیا۔
“ایک بہت اہم کیس پہ کام کر رہا ہوں، دعا کرنا میرے لیے کہ اُس میں کامیابی مل جائے۔” نرمی سے کہتے ہوئے اس نے اب کی بار اس کے بولنے کے لیے کھلنے والے لبوں کو اپنی گرفت کا نشانہ بناتے ہوئے ان لمحوں کو سمیٹنا شروع کر دیا۔
جبکہ وہ پاگل ہوتی دھڑکنوں کے ساتھ اس کے سلگتے بے باک ہونٹوں کا لمس اپنے چہرے پہ گردش کرتا محسوس کر کے اس کے گرد اپنی گرفت مضبوط تر کر گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“کیا بکواس کر رہے ہو تم؟” شیشے کی دیواروں سے سجے اس آفس روم میں بڑے عرصے کے بعد سب ایک دفعہ پھر سے جمع ہوئے گفتگو کر رہے تھے جب ولید میر کی بازیابی کی خبر سن کر شازمین میر چلا اٹھی تھی۔

“بکواس نہیں حقیقت ہے یہ کہ کل کوئی میرے اپارٹمنٹ میں گھس کر اس بڈھے کو بازیاب کروا چکا ہے۔” شکست کا بدترین احساس بخت خان کو بھی پاگل کر رہا تھا۔
“کس نے کی ہے ایسی جرات مندانہ حرکت؟کون جانتا تھا اس کے بارے میں؟اس کے بیٹوں تک کو اس کی خبر نہیں ہے۔” وہ غیض و غضب کی شدت سے ایک دفعہ پھر چلائی تھی۔

“اور ویسے بھی ذوالنورین معذور ہے اور دوسرے کی کوئی خبر نہیں ہے ایسے میں اُس تک کون پہنچ گیا؟” عبدالرحمن میر نے لب کشائی کی تھی۔
“اس ایس پی یا اسد ملک کے بیٹے کا ہاتھ تو نہیں اس میں؟” آفاق میر نے اظہارِ خیال پیش کیا تھا کیونکہ یہ صورتحال سب کے لیے تفکر کا باعث تھی۔
کیونکہ سفیر سائیں بھی اس وقت جیل میں قید تھا۔

“وہ دونوں تو اس وقت پیر حویلی میں تھے جب یہ سب ہوا۔” بخت خان نے فوراً یہ خیال ٹھکرایا کیونکہ یہ سچ تھا کہ جب اس کے اپارٹمنٹ میں نین گھسا تھا تب بخت خان سمیت ضر اور رہبان بھی پیر حویلی میں تھے۔

“اس وقت اپنے مفروضے گھڑنے اور پیشین گوئیاں دینے کی بجائے حقیقت تک پہنچو ورنہ بہت جلد موت کے منہ تک پہنچ جاو گے۔” شازمین میر نے فوراً اگلی راہ دکھائی کیونکہ وہ آخری سیڑھی پہ پہنچ کے ناکام نہیں ہونا چاہتی تھی۔

“تمہارے بھتیجے کی بیوی اور اس کی ماں کو مجھ تک پہنچاو عبدالرحمان صاحب، ساری گرہیں بڑی آسانی سے کھل جائیں گی کیونکہ سب کچھ ویسا نہیں ہے جو ہمیں نظر آ رہا ہے۔” بخت خان نے شاطرانہ انداز میں کہا تو شازمین میر کی آنکھیں سفاکی سے چمکنے لگیں۔

“ان دونوں کو تم تک پہنچانا میرا کام ہے، اسی ہفتے کے اندر اندر یہ کام ہو جائے گا۔” اس نے فوراً بخت خان سے کہا تو سب کے چہروں پہ ہلکا سا سکون ثبت ہونے لگا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آپ؟” دروازے کے ساتھ ٹیک لگا کے پاوں کو قینچی کی صورت جھکڑے وہ بڑے پرسکون انداز میں اسی کی جانب متوجہ تھا جس کے چہرے کی رنگت بدل چکی تھی۔

“کیسی ہیں آپ؟” نرم مگر بھاری آواز میں پوچھنے والے سوال پہ اس نے فوراً سر اثبات میں ہلایا تھا۔

“میں ٹھیک ہوں۔آپ باہر چلے جائیں۔میں کپڑے سیٹ کر کے آپ کو بلا لوں گی۔” اپنی گھبراہٹ پہ قابو پاتے ہوئے اس نے سنجیدگی سے کہا تو ضرغام نے بغور اسے دیکھا۔
جو پہلے کی طرح اکھڑی ہوئی میلوں کے فاصلے پہ کھڑی محسوس تو نہ ہوئی لیکن ایک بدگمانی سی ہنوز ان کے بیچ فصیل بنائے ہوئے تھی۔

“اونہوں، مل کے کام کرنے سے محبت بڑھتی ہے۔” آنکھوں میں پرشوق چمک لیے وہ سنجیدگی سے گویا ہوا تو وہ الجھی۔

“لیکن محبت تو آپ نگاہ سے کرتے ہیں۔” اس نے فوراً سے پیشتر اسے یاد دلانے کی کوشش کی تو وہ جیسے کراہ اٹھا۔
“زندگی کے ماہ و سال اس محبت کو نمو دینے میں گزر گئے اور آپ ہیں کہ تجاہل عارفانہ برت رہی ہیں۔” مضبوط قدم اٹھاتا وہ اس کی جانب بڑھتے ہوئے دلنواز لہجے میں گویا ہوا تو اس کا الجھا ہوا ذہن مزید الجھنے لگا تھا۔
نظروں کے سامنے ایک دفعہ پھر سے سرخ کپڑا لہرایا تو بے اختیار ایک بیٹ مِس ہوئی تھی۔
سوچوں اور مختلف خیالات میں گم ذہن کے ساتھ وہ کلوزٹ کی جانب بڑھی اور اسے کھولا۔

“یہاں ان کپڑوں کے ساتھ میں آپ کے کپڑوں کو دیکھنا چاہتا ہوں، میں اس کمرے میں آپ کے خوشبو محسوس کرنا چاہتا ہوں۔” اس کے عقب میں اس کے بے حد نزدیک آ کے ٹھہرتا وہ اس کے دائیں کندھے کی جانب جھکتا اس پر اپنے ٹھوڑی ٹکاتے ہوئے بھاری لہجے میں گویا ہوا تو اس کی ہتھیلیوں سے پسینہ پھوٹنے لگا تھا۔

“پیچھے ہٹیں۔مجھے کام کرنے دیں۔” جلدی سے فاصلہ بڑھاتی وہ اپنی منتشر دھڑکنوں کو سنبھالنے کی سعی کرتی بمشکل لہجے کو کمپوز کر پائی تھی۔

“آپ کو نہیں لگتا کہ اس الماری سے زیادہ میری بکھری ہوئی ذات کو آپ کے سمیٹنے کی ضرورت ہے؟” اس کے گرد اپنا داہنا بازو حائل کرتے ہوئے اس نے واپس اسے اپنی طرف کھینچتے ہوئے ان کے بیچ ازار بنتے اس فاصلے کو یوں پھرتی سے ختم کیا کہ اس کے مضبوط سینے سے اپنی پشت ٹکائے شہرے اس بلا کی قربت پہ کپکپا اٹھی۔

“میرے ساتھ ایسی باتیں مت کریں۔” اندر ہوتی کھدبد کے برعکس وہ لہجے میں رکھائی سموئے اس کی گرفت سے نکلنے کو مچلی لیکن دوسری جانب گرفت جان لیوا تھی۔

“میرے معاملے میں اس قدر ظالم ثابت مت ہوں شہرے۔” جذبات سے چور بوجھل آواز میں کہتے ہوئے اس نے اس کی گردن میں منہ چھپایا تو سلگتے ہونٹوں کے لمس پر اس کے وجود میں پھریری سی دوڑ گئی۔

“یہ کک۔کیا کر رہے ہیں آپ؟مجھے کام کرنا ہے۔” وہ ایک دفعہ پھر سے اس کی گرفت میں پھڑپھڑائی تھی مگر اس کے وجود کی خوشبو کے نشے میں مدہوش ہوا ضرغام اس کی مزاحمت کو نظرانداز کیے اس کی گردن کو اپنے لمس کی حدت سے مہکائے جا رہا تھا۔
جبکہ اس کے اس قدر گستاخانہ انداز پر اس نے لڑکھڑاتے قدموں کو سہارا دینے کے لیے بے ساختہ کھلے کلوزٹ کی جانب ہاتھ بڑھایا تو بہت سارے کپڑے نیچے لڑھکتے چلے گئے۔

“میرے لیے بہت انمول، بہت خاص ہو آپ۔اور شاید اسی وجہ سے میں آپ کو تکلیف دینے کا موجب بھی ٹھہرا ہوں مگر اس کے بدلے آپ کی بے رخی، دوری اور بدگمانی مجھے اذیت میں مبتلا کر رہی ہے شہرے۔” اس کے بالوں میں لگی پن کو آہستگی سے نکالتے ہوئے وہ نازک کمر پر بکھرنے والے بالوں میں چہرہ چھپاتا بھاری آواز میں بولا تو شہرے کے دل میں عجب سا احساس نمو پانے لگا تھا۔

“میں انمول اور خاص ہوتی تو میں کسی دوسرے کی جگہ پہ نہ آئی ہوتی نا بھرے مجمعے میں آپ میرے وجود سے انکاری ہوتے۔” ماضی نے حملہ کیا تو لہجے میں تلخی اور آواز میں نمی خود بخود چھلک پڑی تھی۔
“آپ ہی اول، آپ ہی آخری ہیں۔ نہ آپ سے پہلے کوئی آیا ہے نہ میری زندگی میں آپ کے بعد کسی کے آنے کی گنجائش ہے اور جہاں تک آپ کے وجود سے انکاری ہونے کا تعلق ہے تو ان باتوں کو ایگزامز کے ختم ہونے تک ملتوی کر دیں کیونکہ ان کے جوابات اعصاب پہ بہت بھاری پڑیں گے۔” بائیں ہاتھ کی انگلیاں اس کے بازو پہ ٹریس کرتے ہوئے وہ اسی انداز میں بولا تو وہ جیسے چڑ سی گئی۔

“تو برائے مہربانی آپ اپنے اِس رومانس پہ بھی ایگزامز ہونے تک بند باندھیں۔” بمشکل اس کی جانب مڑتے ہوئے اس نے اس سے فاصلہ بڑھانے کی سعی کی تھی مگر کمال جرات کا مظاہرہ کرتے ضرغام نے اس کے گلے میں لپٹے سٹالر میں بائیں ہاتھ کی انگلیاں پھنساتے ہوئے اسے نکال کے صوفے کی جانب اچھالا۔

“اونہوں، مجھے تب تک ان دھڑکنوں کو اپنا تابع کرنے دو تاکہ بعد میں میرا کیس آسان ہو سکے۔” مخمور انداز میں کہتے اس نے اس کے بالوں میں انگلیاں پھنساتے ہوئے ہولے سے اس کا سر اوپر کی جانب اٹھایا تو اس کے لب ضرغام کے ہونٹوں کو بے حد نزدیک پا کے تھرتھرانے لگے تھے۔

“آ۔۔آپ نے کوئی بدتمیزی کی تو میں شور مچا دوں۔۔۔آہہہہ۔” اس کے خطرناک ارادوں سے خائف ہوتی وہ بول رہی تھی جب وہ اس کے پہلو پہ گرفت مضبوط کرتا اس کی دھڑکنوں کو اپنے لمس سے دہکاتا اس کے پیروں تک کو کپکپانے پہ مجبور کر گیا۔
اس نے بے ساختہ اس کے خود پہ جھکے سر پہ سجے گھنیرے بالوں کو دونوں ہاتھوں میں جھکڑا۔
اس کی اس بے ساختہ حرکت پہ اس کا دل بڑی ترنگ اور سرشاری میں دھڑکا تھا۔
اور اسی سرشاری کے ہاتھوں بہکتے ہوئے وہ اس کی ٹھوڑی کو چھوتے ہوئے سرخ ہونٹوں کی کپکپاہٹ سمیٹنے والا تھا جب اس کی سانسوں کی حدت اپنے ہونٹوں پہ محسوس کرتی شہرے کوئی جائے فرار نہ پاتی چہرہ اس کے کشادہ سینے میں چھپا گئی تھی۔

“پ۔۔پلیز!میرا دل بند ہونے لگا ہے۔” اس کے سینے سے لگی وہ پاگل ہوتی دھڑکنوں کو بمشکل سنبھالتی سرگوشی نما آواز میں بولی تو اپنے منہ زور ہوئے جذبات کو لگام ڈالتے ہوئے اس نے پوری شدت کے ساتھ اسے اپنے بازووں میں بھینچا تھا۔

چند لمحے یونہی اسے محسوس کرنے کے بعد وہ ہولے سے اسے خود سے الگ کرتا اس کے چہرے کو بغور تکتے ہوئے کلوزٹ کی جانب بڑھا جہاں کپڑے بکھرے پڑے تھے۔

“م۔۔مجھے آپ کے ساتھ الماری سیٹ نہیں کرنی ہے۔” وہ اس کے پیچھے ہٹنے پہ مزید فاصلہ بناتی گھبرائے ہوئے انداز میں بولی تھی۔
کیونکہ اس کا ایسا منہ زور انداز اس کے چھکے چھڑا گیا تھا۔اسے ابھی تک اپنے ہونٹوں پہ اس کی سانسوں کی لپک محسوس ہو رہی تھی۔

“الماری سیٹ کروا لیں کیونکہ اگر بیڈ کی جانب گئے تو میری نیت پھر سے بگڑ سکتی ہے۔” اس کے اعتراض کو اپنے ہی انداز میں رد کرتا وہ اسے پل بھر کے لیے ہونق سا کر گیا لیکن چند ثانیے بعد جب بات اس کے شعور تک پہنچی تو وہ سر تا پا شرم و حیا کے احساس سے جھنجھنا اٹھی۔

“آپ۔۔۔۔” وہ اسے یہ نہ کہہ سکی کہ وہ شخص ‘ضرغام چاچو’ کے روپ میں بہت اچھا تھا جبکہ ‘ضرغام ملک’ کے روپ میں وہ ایسے ایسے انداز اس کے سامنے پیش کر چکا تھا کہ وہ دنگ رہ گئی تھی۔

اس کی خاموش سی وارننگ سے گڑبڑاتی وہ اب بڑی خاموشی کے ساتھ اس کے ساتھ مل کر اس کے کپڑے سیٹ کر رہی تھی۔
یہ اور بات تھی کہ اس سارے کام کے دوران ضرغام ملک نے اپنے ہاتھوں کا استعمال صرف اس حد تک کیا تھا کہ اُن ہاتھوں میں شہرے کے ہاتھ تھامے وہ کپڑے سیٹ کروا رہا تھا۔
جبکہ اسد ملک کی نصیحت، ضرغام کی باتوں اور خود سے الجھتی وہ خود پر ضبط کرتی اس کی یہ جسارتیں برداشت کر رہی تھی۔
کیونکہ اسے ‘ضرغام اور نگاہ’ کے تعلق کی سچائی جاننا تھی جو اس کے ہنوز ایک پہیلی بنا ہوا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“تم لوگوں کو تو سو درے لگانے چاہیے، اس عمر میں مجھے پڑھنے پہ لگا کے میری بے بسی کا تماشہ دیکھ رہے ہو۔” جب سے وہ پیپر دے کے گھر آیا تھا تب سے اس کا مزاج بگڑا ہوا تھا۔
اور ابھی اسی بگڑے مزاج کے ساتھ وہ فون پہ موجود ‘نین’ سے محوِ گفتگو تھا۔

“میری ‘میڈم’ پاگل نہیں ‘معصوم’ ہے۔” دوسری جانب سے نجانے کیا کہا گیا تھا کہ اس کے غصے سے تنے ہوئے چہرے پہ نرم سی مسکان پھیلی تھی۔
جبکہ آنکھیں اس کے احساس سے جیسے جگمگ کرنے لگیں۔

“تمہیں میرے خیال سے اب نگاہ سے شادی کر لینی چاہیے۔” دوسری جانب نین نے اسے چھیڑا تو وہ فوراً بھناتے ہوئے بولا تھا۔
جبکہ زحلے جو اس کے کپڑے لیے کمرے میں داخل ہو رہی تھی۔
اس کی سماعتوں میں پورا جملہ پڑنے کی بجائے ‘اب نگاہ سے شادی کر لینی چاہیے۔” کے الفاظ پڑے تو قدم جیسے زمین نے جھکڑ لیے۔

جاری ہے۔