57.1K
55

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 24

“دل تیرے سنگ جوڑ لیا”
از
حوریہ ملک
ایک جھٹکے سے گردن گھما کے اس نے دیکھا تو وہ دروازے کے پاس دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے بہت گہری نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا۔
اور اس کی گہری نگاہوں کو تکتے ہوئے شہرے کے دل و دماغ نے اچانک ایک ہچکولہ سا گیا۔

“وہ تمہیں بہت خاص انداز سے دیکھتے ہیں۔”
“وہ تمہیں پسند کرتے ہیں۔”

سماعتوں میں ہونے والی اس بازگشت کے ساتھ ساتھ جب آنکھوں کے سامنے سرخ رنگ لہرایا تو دل جیسے بے ساختگی میں ہی اک گھٹن کا شکار ہوا تھا۔
اور ایسی ہی گھٹن اسے ٹرپ پہ جانے سے ایک دن قبل ہوئی تھی۔

وہ فق پڑتے چہرے کے ساتھ غیر دماغی سے اسے ہی دیکھ رہی تھی جو بہت چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا اسی کی طرف بڑھ رہا تھا۔
اور اس کی بھوری آنکھیں۔۔۔
ان آنکھوں میں چھایا تاثر اس پل جانے کیوں بے لگام ہو رہا تھا۔

مگر پھر یکایک ان آنکھوں کو تکتے ہوئے اس کی آنکھوں کے سامنے کلوزٹ میں رکھا ایک فولڈر اور اپنے ساتھ نکاح کے لیے معترض ہوتا ضرغام لہرایا تو ایک سرد جمود پورے وجود پہ چھا گیا۔
اور اس جمود تلے اس کی آنکھوں سے چھلکتے تاثر سے لے کر اس رشتے کی خوبصورتی تک دب گئی تھی۔

“رک کیوں گئی ہیں آپ؟اپنی ڈیٹ آف برتھ ٹرائی کر لیں۔” اس سے چند قدموں کے فاصلے پہ ٹھہرتا وہ اس کے ساکت کھڑے وجود کو دیکھتے ہوئے گویا ہوا تو اس کی آواز پہ وہ ہڑبڑاتے ہوئے ہوش میں آئی۔

“میری ڈیٹ آف برتھ ٹرائی کر لی،نگاہ کی ڈیٹ آف برتھ ٹرائی کر لی لیکن آپ شاید بھول رہی ہیں کہ میری دو بیویاں ہیں تو دوسری کی ٹرائی کر لیں آپ۔” سر تا پا بغور اسے دیکھتے ہوئے اس نے ایک دفعہ پھر سے قدم اٹھائے تو شہرے نے بے ساختہ قدم پیچھے کی طرف اٹھایا۔

“آئیں مل کے پاسورڈ ٹرائی کرتے ہیں۔” ہنوز اس فاصلے کو سمیٹتا وہ اس کے بے حد نزدیک آن ٹھہرا جو پشت کلوزٹ کے ساتھ ٹکائے اب کہ بہت گھبرائی ہوئی نظر آ رہی تھی۔

“نہیں اور آپ پلیز اپنے ہاتھ دور رکھیں مجھ سے۔” اس کے دایاں ہاتھ آگے بڑھانے پہ وہ دل ہی دل میں گھبرائی لیکن بظاہر سرد لہجے میں گویا ہوئی تو اس نے سر خمِ تسلیم کرتے ہوئے ہاتھ پیچھے ہٹا لیا۔

“میں آپ کی اس کمرے میں آمد کو کیا سمجھوں؟” دونوں ہاتھ پشت پہ باندھتا وہ اب کی بار سنجیدگی سے گویا ہوا تو اس نے اس لمحے پہ سو بار لعنت بھیجی جب وہ اس کمرے میں آئی۔

“وہ۔۔۔۔” وہ اس کے دوبارہ استفسار پہ ادھر ادھر دیکھتی الفاظ بنانے کی کوشش میں تھی جب بیڈ پہ اس کی نظر پڑی۔

“وہ میں کپڑے رکھنے آئی تھی آپ کے۔” اس نے دل ہی دل میں شکر کرتے ہوئے تیزی سے جواب دیا کہ بروقت بہت اچھا بہانہ مل گیا تھا۔

“رکھیں پھر۔” اس نے ایک نظر اس کے چہرے پہ ڈالتے ہوئے سنجیدگی کا مظاہرہ کیا تو اس گلے پڑتی سچویشن پہ روہانسی ہو گئی۔

“آپ پہلے کمرے سے جائیں۔” اس کی بے باک حرکتوں کے باعث وہ اس سے خائف ہونے کے سبب اس کے سامنے زیادہ دیر ٹکنے کا رسک نہیں لے سکتی تھی۔

“شہرے!گڑھے مردے مت اکھاڑیں کیونکہ نگاہ اور میرے تعلق کے پنے جب کھولیں گے تو بہت کچھ ایسا سامنے آ جائے گا جو آپ برداشت نہیں کر سکیں گی اس لیے بہتر ہو گا کہ اپنے مائنڈ سے اس سارے میس کو نکال کے اپنی سٹڈی پہ فوکس کریں۔” اس کے باہر جانے کے حکم پہ باہر کی طرف قدم بڑھانے کی بجائے اس نے دو قدم اس کی اوڑ بڑھائے اور اس سے انچ بھر کے فاصلے پہ ٹھہرتا بھاری مگر قدرے مدہم آواز میں گویا ہوا۔
اس کی باتوں کو بہت توجہ سے سنتی شہرے اس کی باتوں پہ الجھ رہی تھی۔

“جس رشتے کو لے کے آپ مینٹلی تیار نہیں ہیں اس کو سر پہ سوار نہیں کریں۔اپنا آپ، اپنی نرمی، اپنی معصومیت، اپنی بے ساختگی و شخصیت کو اس رشتے کی نذر نہیں کریں پلیز۔” خلافِ توقع وہ بنا اسے اپنی شدتوں سے آگاہ کروائے گھمبیر لہجے میں بولتا ورطہء حیرت میں مبتلا کر رہا تھا۔

“تو آپ اس رشتے کو ختم کیوں نہیں کر دیتے جبکہ آپ اس رشتے کے لیے راضی بھی نہیں تھے اور آلریڈی نگاہ سے پیار کرتے ہیں۔” اس کے نرم لہجے نے اسے اتنی ہمت تو دے ہی دی تھی کہ وہ حیرت کے جھٹکے سے سنبھلتی سپاٹ تاثرات کے ساتھ سنجیدگی سے گویا ہوئی تو اس کے چہرے کی گھمبیرتا بڑھ گئی۔
جبکہ لمحے کے ہزارویں حصے میں اس کی کنپٹی کی رگ نمایاں ہوئی۔

“آپ یہ رشتہ ختم کرنا چاہتی ہیں؟” وہ ایک قدم مزید اس کی جانب بڑھا تو ان کے بیچ موجود انچ بھر کا فاصلہ لمحوں میں ختم ہوا۔
اس اچانک نزدیکی اور اس پہ مستزاد اس کا سوال جبکہ ذہن میں گونجتے الفاظ “وہ تمہیں پسند کرتے ہیں” اور کلوزٹ میں رکھا انویلپ سب نے ایک ساتھ اس پہ حملہ کیا تھا۔
جس کے باعث وہ فطری طور پہ گھبرا گئی تھی۔

“جی۔” جی کڑا کے کہتے ہوئے اس نے کلوزٹ کے ساتھ ِچِپکے چِپکے ہی وہاں سے کھسکنا چاہا جب اس نے سرعت سے اپنا دایاں ہاتھ کلوزٹ پہ رکھا۔
اس کی اس حرکت پہ متحیر ہوتے اس نے بائیں جانب سے کھسکنا چاہا جب اس جانب بھی اس کے مضبوط بازو نے زنجیر بنا ڈالی۔
اس کے بے حد نزدیک ٹھہری وہ ایک طرح سے اس کی بانہوں کے حصار میں محصور اس کی پرتپش سانسوں کی لپک سے گھبرا رہی تھی۔
جس شخص کو ہمیشہ اور رشتے میں اپنے سامنے دیکھا تھا اس شخص کو اچانک ہی ایک الگ روپ میں پانا اس کے دل و دماغ کو ہِلا چکا تھا تبھی وہ جلد از جلد اس الجھن سے رہائی پا کے اس صورتحال سے نکلنا چاہتی تھی۔

“آپ کے معاملے میں میری قسمت مجھ سے ہمیشہ ناراض رہی ہے۔کبھی اس کی وجہ میرے اپنے بنے اور کبھی آپ خود بن جاتی ہیں لیکن۔۔۔۔۔۔۔” اس کے کہے الفاظ پہ شہرے نے کرنٹ کھا کے اس کی جانب دیکھا۔
یہ فقط سادہ سے الفاظ تو نا تھے اور ان الفاظ سے جو مطلب اسے سمجھ آ رہا تھا وہ اس کے دل کو پتنگے سے لگا گیا۔
جبکہ اس کے دل کی منتشر ہوتی حالت سے صرفِ نظر وہ سانس لینے کے بعد مزید بولا۔

“لیکن اگر آپ واقعی یہ رشتہ ختم کرنا چاہتی ہیں تو ٹھیک ہے، یہ رشتہ ختم ہو جائے گا۔” کلوزٹ پہ رکھے ہاتھوں کی مٹھیاں زور سے بھینچتے ہوئے اس نے یہ الفاظ کس ضبط سے بولے تھے یہ فقط وہی جانتا تھا۔
جبکہ اس کے کہے الفاظ اگر چہ اس کے حسبِ منشا تھے لیکن اس قدر غیرمتوقع طور پہ سماعتوں کی نذر ہوئے تھے کہ وہ سن سی ہو گئی۔

“مگر اس کے لیے آپ کو اپنی سٹڈی مکمل ہونے تک کا ویٹ کرنا پڑے گا۔آپ جانتی ہیں کہ اس نکاح کے پیچھے کیا وجہ تھی اس لیے ابھی صرف اپنی سٹڈی پہ فوکس کریں تاکہ تب تک ان لوگوں کی توجہ آپ کی سمت سے مکمل طور پہ ہٹ جائے۔” وہ بھاری لہجے میں کہتا اس کے اندر تک کو خاموش کر گیا۔
اسے ہرگز توقع نہیں تھی کہ وہ اتنی جلدی اور اس قدر آسانی سے مان جائے گا لیکن پھر اسے نگاہ کا خیال آیا تو پرسکون ہوئی کہ اس فیصلے کے پیچھے یقیناً نگاہ ہو گی۔

اس کے چہرے کے بنتے بگڑتے پرسوچ تاثرات کو گہری نگاہوں سے دیکھتے ہوئے وہ ہولے سے اس پہ جھکا تو وہ جو اپنی سوچوں میں مگن تھی اچانک گڑبڑائی۔

“کپڑے سیٹ کر دیں ورنہ نیچے جا کے کیا جواب دیں گی کہ اتنی دیر فقط میرے ساتھ وقت بِتاتے ہوئے کر دی؟” اس کے کہنے پہ خجل سی ہوتی وہ اس کے بازو کے نیچے سے نکلنے کی کوشش کرنے لگی جب بہت بے ساختگی میں وہ اس کے رخسار پہ جھکا تو وہ زور سے آنکھیں میچتی اس لمس کی حدت کو بمشکل برداشت کرتی اس کے بازو کو ہٹا کے تیزی سے اس کی پہنچ سے دور ہوئی۔

“میری سٹڈی مکمل ہونے تک مجھے اس طرح سے ہراس کرنے سے گریز کیجیے گا کیونکہ میرے لیے یہ رشتہ کبھی بھی اہم نہیں رہا اور آج میری طرف سے یہ رشتہ میرے لیے ختم ہو چکا ہے چاہے اس کی قانونی کاروائی دو سال بعد ہی کیوں نہ ہونی ہو۔” سرد مہری سے بھرپور لہجے میں وہ سنجیدگی کے ساتھ بات مکمل کرتی وہ بنا اس کے تاثرات جانچتی تیزی سے دروازے کی جانب بڑھی۔
دروازے ایک جھٹکے سے کھولتے اس کی نظر باہر سے دروازے کی جانب ہاتھ بڑھاتی نگاہ سے ٹکرائی تو پل بھر کے لیے ٹھٹھک گئی لیکن اگلے ہی لمحے وہ نظریں چراتی اس کے پہلو سے ہوتی باہر نکل گئی۔

اس کے چہرے پہ چھائے ناقابلِ فہم تاثرات سے الجھتی نگاہ نے لحظہ بھر کے لیے اس کی پشت کو دیکھا اور پھر سر جھٹکتی ہوئی کمرے میں اندر داخل ہوئی۔

کمرے میں داخل ہوتے ہی پہلی نظر بیڈ پہ پھینکنے کے سے انداز میں رکھے کپڑوں پہ پڑی تو چہرے پہ چھائی سنجیدگی مزید بڑھ گئی۔
کپڑوں سے نظر ہٹا کے اس نے بائیں جانب دیکھا جہاں وہ چہرے پہ پتھریلے تاثرات سجائے بلیو پینٹ کے ساتھ وائٹ شرٹ جس کے کف بازووں تک فولڈ کیے وہ شرٹ کے اوپری دو بٹن کھولے دایاں ہاتھ کلوزٹ پہ جمائے بائیں ہاتھ کی مٹھی بھینچے جیسے گہرے ضبط کے کڑے مراحل میں تھا۔

“ضرغام!” اس کے ضبط سے سرخ پڑتے چہرے اور کنپٹی کی نمایاں ہوتی رگوں کو دیکھتی وہ پریشانی سے اس کی جانب بڑھی لیکن وہ اس کی پکار پہ بھی ہرگز اس کی جانب متوجہ نہ ہوا۔
اس پل وہ نگاہ کو وہی ضرغام محسوس ہوا جو رخصتی سے قبل صبح ناشتے کے بعد دو سے تین گھنٹے اس دنیا سے بیگانہ ہو جایا کرتا تھا۔

“ضرغام!” اس کے متوجہ نہ ہونے پہ وہ اس کے نزدیک پہنچی اور آہستگی سے اپنا ہاتھ اس کے کندھے پہ رکھا تو وہ بہت بری طرح سے چونکا۔

“کیا ہوا؟سب ٹھیک ہے نا؟” اس کی خوبصورت آنکھوں کے کناروں پہ گہری ہوتی سرخی کو تکتے ہوئے اس نے متفکر لہجے میں استفسار کیا۔

“ہممم!” ہنکارا بھرتے ہوئے اس نے ہاتھ کلوزٹ سے ہٹاتے ہوئے اپنے گھنے بالوں میں پھیرتے ہوئے گویا خود کو سنبھالنے کی سعی کی۔
لیکن اندر لگی آگ جیسے آج سب کچھ جلا کے خاکستر کرنے کے درپے ہو رہی تھی۔

“آپ ٹھیک ہیں؟” اس نے دوبارہ استفسار کیا تو وہ جو پہلے سے بھی کئی گنا گھٹن اپنے اندر محسوس کر رہا تھا وہ شرٹ کے تیسرا بٹن کھولتا اس کی جانب پلٹا۔

“آئم سوری نگاہ لیکن میں اس وقت کوئی بھی بات سمجھنے یا سننے کی کنڈیشن میں نہیں ہوں۔آپ سو جائیں۔” بمشکل اس سے بات کرتے اس نے لہجے کو کمپوز کیے رکھا اور پھر بنا اسے دیکھے سرعت سے اس کے نزدیک سے گزرتا وہ سٹڈی روم میں گھس گیا۔
ایک دھماکے کی آواز کے ساتھ دروازہ بند ہونے پہ اس نے لرز کے بند دروازے کو گھورا اور پھر بیڈ پہ پڑے کپڑوں کو تکنے لگی۔
ان بکھرے کپڑوں کو تکتے ہوئے وہ اپنے چہرے پہ پھیلنے والے ناگوار تاثرات سے انجان تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

چادر کو اپنے کھلے بالوں والے سر پہ ٹکائے وہ اپنے اڑے حواسوں اور متغیر ہوتی رنگت پہ بمشکل قابو پانے کی کوشش کرتی اپنے مطلوبہ کمرے کی طرف بڑھ رہی تھی جب اچانک ہی شازمین میر اس کے سامنے آن رکیں۔

“کہاں اڑی اڑی پھر رہی ہو؟” سر تا پا اس کا گہری نگاہوں سے جائزہ لیتے ہوئے اس نے عجیب سے لہجے میں استفسار کیا تو وہ خاموشی سے اسے تکنے لگی جو نک سِک سی تیار شاید کہیں جانے کے لیے مستعد کھڑی تھی۔

“آپ کو نہیں لگتا کہ آپ مجھ سے اب کوئی بھی سوال پوچھنے کی متحمل نہیں ہیں۔جو پیسے آپ مجھے میری مجبوریوں کے سودے کے عوض دے چکی ہیں انہیں آپ میری عزت کا تماشہ لگا کے وصول کر چکی ہیں۔” تلخی سے کہتے ہوئے اس نے اس کے سامنے سے ہٹنا چاہا جب شازمین میر نے درشتگی سے اس کا بازو تھام کے اسے ایک جھٹکے سے اپنے سامنے کیا۔

“میں تم سے ہر لمحے کی رپورٹ لینے کی مجاز ہوں کیونکہ جہاں تم کھڑی ہو وہ گھر میرا ہے۔” آنکھوں میں تنفر کی آگ لیے وہ پھنکاری تو زحلے نے سنجیدگی سے اسے دیکھا۔

“بالکل ہو گا یہ آپ کا گھر لیکن میں اس گھر میں نہ آپ کے کہے پہ ٹھہری ہوں نا آپ کے لیے ٹھہری ہوں۔جس کے لیے ٹھہری ہوں اس کے نام کے ساتھ لگا ‘میر’ یہ واضح کر رہا ہے کہ یہ گھر اس کا بھی ہے۔” دوٹوک مگر جتانے والے انداز میں کہتے ہوئے اس نے اس کی آنکھوں میں دیکھا جن میں تنفر بھری آگ مزید دہک اٹھی تھی۔

“یہ گھر اس کا ہوتا یا اس میں دم خم ہوتا تو کیا وہ اپنی ماں کو یوں ایک کمرے تک محدود رکھتا؟اس لیے تمہارے لیے بھی بہتر ہے کہ اس کے کمزور پروں پہ بھروسہ کرنے کی غلطی ہرگز مت کرو کیونکہ عنقریب تم ان کمزور پروں کے بدلے در بدر بھٹکنے والی ہو۔” ہڈیوں کو جما دینے والی سرد مہری سے کہتی وہ آتش فشاں لہجے میں گویا ہوئی تو جانے کیوں زحلے کو اس سے خوف سا محسوس ہوا۔

“اور ہاں اس عورت سے ملنے کی غلطی ہرگز مت کرنا کیونکہ جس عورت کو اس کا بیٹا ملنے نہیں آتا تو اس کی کوئی تو وجہ ہو گی۔” پراسرار لہجے میں اسے تنبییہ کرتے ہوئے وہ اس کے سامنے سے ہٹی تو ششدر کھڑی زحلے کو جیسے ہوش آیا۔

“اُن کے ساتھ ایسا غیر انسانی سلوک آپ نے کر رکھا ہے؟” اس کے اچانک اور غیرمتوقع سوال پہ شازمین میر نے جھٹکے سے گردن گھما کے اسے دیکھا۔

“اونہوں!اس کے اپنے بیٹے نے۔” اس کے متبسم لہجے میں دیے گئے اس جواب پہ اس کا دماغ گھوم کے رہ گیا جبکہ وجود گویا ہوا میں معلق ہو گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“حد ہے یار!میرے سسرالی بھی بکواس ترین نشانے کے مالک ہیں۔نہیں مطلب کندھے پہ گولی مارنے کی تُک کیا بنتی ہے۔” مسلسل بڑبڑاتے ہوئے وہ فرنٹ سیٹ پہ بیٹھا ڈرائیونگ سیٹ پہ بیٹھے ضرغام کے کان کھائے جا رہا تھا۔

“ہاں بالکل گولی تمہاری زبان پہ مارنی چاہیے تھی تاکہ اسے بریک لگے۔” چڑے ہوئے انداز میں کہتے ہوئے اس نے تیزی سے گیئر بدلا تو رہبان نے خاصا برا مناتے ہوئے اس کی جانب خفگی سے دیکھا۔

“انجان اور ناپسندیدہ لوگوں سے میں بات نہیں کرتا۔یہ تم لوگ ہی ہو جنہیں میں شرف بخشتا ہوں کہ وہ میری خوبصورت آواز سے فیض یاب ہو سکیں۔” شاکی لہجے میں کہتے ہوئے وہ اترایا تو اس نے بیزاری سے ایک نظر اس پہ ڈالی۔

“نوازش۔” مختصراً کہتے ہوئے وہ نظریں ونڈو اسکرین پہ جما چکا تھا۔

“تم پریشان ہو؟” اس کے انداز کی بے چینی اور اضطراب محسوس کر کے وہ کچھ لمحوں بعد سنجیدگی سے بولا تو اس نے سٹیرنگ زور سے گھماتے ہوئے ایک نظر اس پہ ڈالی اور سر جھٹکتے ہوئے بولا۔

“نہیں۔” اس کے یک لفظی جواب پہ اس کی تشفی ہرگز نہ ہوئی۔

“شہرے نے کچھ کہا ہے یا نگاہ نے؟” اس نے اب کی بار الفاظ کے ردو بدل سے اپنا سوال دہرایا۔
“بھابھی بلایا کرو۔” ناگواری سے فوراً ٹوکا گیا لیکن مقابل نے یوں کرنٹ کھا کے حیرت سے اسے دیکھا گویا کہ اس نے کچھ انہونا کہہ دیا ہو۔

“کسے بھابھی کہوں؟شہرے کو جس نے دس سال قبل تمہارا دوست ہونے کی پاداش میں چاچو بنا ڈالا یا نگاہ کو جس کو کم از کم بھابھی اور وہ بھی تمہارے رشتےسے میں نے امیجن نہیں کیا اس لیے میں بھابھی تو بلا نہیں رہا۔” اس نے دوٹوک اور صاف گو انداز میں اس کا حکم مسترد کیا۔

“اچھا ویسے ایک بات تو بتاو؟” کچھ لمحوں کی خاموشی کے بعد وہ دوبارہ سے گویا تو ضرغام نے کچھ کہنے کی بجائے استفہامیہ نظر اٹھا کے اس کی جانب دیکھا۔

“یہ شہرے ابھی تک تمہیں ‘چاچو’ کہتی ہے؟” اس کے بظاہر سنجیدگی سے پوچھے گئے اس سوال کے پیچھے چھپی اس کی شرارت پہ بھناتے ہوئے اس نے گاڑی کو ایک دم سے بریک لگایا تو وہ ڈیش بورڈ سے ٹکراتے ٹکراتے بچا۔

“میرے خیال میں نا تمہارا باپ آئل کمپنیز میں کام کرتا ہے نا میرا باپ۔اس لیے میں فضول میں مزید گاڑی نہیں بھگا سکتا تو مہربانی کر کے یہ بتاو کہ کیا کرنے کا ارادہ ہے؟” وہ اپنے مخصوص لہجے میں گویا ہوا تو وہ بھی فوراً سیدھا ہوا۔

“سسرالیوں کو جوابی تحفہ دینا ہے اس لیے فیکٹری چلو۔” پراسرار لہجے میں کہتے ہوئے وہ مسکرایا تو ضرغام نے دوبارہ سے گاڑی سٹارٹ کر دی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

‘بدر ہاوس’ میں موجود وہ اس وقت درِمکنون کے کمرے میں ڈریسنگ سٹول پہ بیٹھی وہ شیشے سے نظر آتے اپنے عکس کو دیکھ رہی تھی۔
رائل گولڈن کلر کی فرش کو چھوتی میکسی میں ملبوس،وہ میچنگ نفیس سی جیولری پہنے، شہد رنگ بالوں کا جوڑا بنائے، سافٹ سا میک اپ کیے کسی اپسرا کا سا روپ دھارے بیٹھی اپنی انگلیاں چٹخا رہی تھی۔

“اس قدر گھبرا کیوں رہی ہو؟پہلی دفعہ تھوڑی ملنا ہے رہبان سے؟” اس کی گھبراہٹ دیکھتی عقیدت بیگم ہلکے پھلکے انداز میں بولیں تو وہ جھینپ سی گئی۔

“نن۔نہیں۔وہ بس ہیوی ڈریس سے دل گھبرا رہا ہے میرا۔” اس نے بروقت بہانہ سوجھنے پہ ہلکی سی آواز میں توجیہہ پیش کی۔

“بالکل بھی دل نہیں گھبرائے گا جب سیاں جی کی دلفریب نظریں اس ڈریس میں ملبوس اس حسین سراپے کو دیکھیں گے۔” دریہ اور آیت جو ابھی وہاں داخل ہوئی تھیں وہ اس کی بات سنتے شرارت سے گویا ہوئیں تو اس کے گال گلابی ہونے لگے۔

“اماں حضور!آپ ذرا اپنے بھتیجے کے آنے کی خبر لیں تب تک ہم بھابھی کی سولو پکس لیتے ہیں اور ان کا دوپٹہ بھی سیٹ کر دیتے ہیں۔” دریہ انہیں کہتی اس کا بیڈ پہ پڑا گولڈن کلر کا دوپٹہ لیے اس کی جانب بڑھی اور دوپٹہ اس کے کندھوں اور سر پہ سجانے لگی۔

“آپ تو اکیلی کھڑی چاند کو مات دے رہی ہیں اور جب لالہ آپ کے ساتھ کھڑے ہوں گے تب کیا عالم ہو گا؟” اس کی خوبصورتی کو کھلے دل سے سراہتے ہوئے آیت شرارت سے گویا ہوئی تو اس شخص کی بے باکیوں اور شدتوں کو یاد کرتے ہوئے اس کے گال یکایک دہکنے لگے۔

“آ رہا ہے رہبان، جلدی کرو بھابھی کو ساتھ لے کے نیچے پہنچو۔” اسی پل عقیدت بیگم نے کمرے میں پہنچتے جلدی سے انہیں حکم دیا تو وہ اس کے کندھوں پہ بڑی چادر اوڑھاتی اسے ساتھ لیے نیچے کی جانب بڑھنے لگیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دریہ اور آیت کے ہمراہ جب وہ ‘گردیزی ہاوس’ کے مین گیٹ کے پاس پہنچی ہی تھی کہ ایک سفید کار ان کے پاس آن رکی۔
چادر میں چھپے چہرے سے جھانکتی آنکھوں کے ساتھ اس نے کار کی جانب دیکھنا چاہا تو نظر جیسے وہیں جم کے رہ گئی۔
سیاہ جینز کے ساتھ بلیو جرسی پہنے وہ اپنے رف ٹف سے حلیے میں ملبوس کار سے نکل رہا تھا۔

“السلام علیکم لالہ!” وہ نجانے کب تک ہونقوں کی مانند نظریں اس پہ جمائے کھڑی رہتی کہ آیت اور دریہ کی ایک ساتھ آواز پہ چونکی تو اس نے دیکھا کہ ڈرائیونگ سیٹ پہ بیٹھا ایک اور پرکشش اور خوبصورت مرد بھی کار سے باہر نکل رہا تھا۔

“یہ لالہ کے بہت دلعزیز دوست ہیں، آپ کی رخصتی والے دن ان کی ہی مدد سے آپ کے گھر والوں کے سامنے لالہ آپ کو رخصت کروا کے لے گئے تھے۔” اسے ضرغام کو گھورتے پا کر دریہ نے اس کے کان کے پاس گھستے ہوئے اسے اطلاع بہم پہنچائی۔

“السلام علیکم!کیسی ہیں آپ سب؟” ان کے نزدیک آ کے ان سے سلام دعا کرنے کے بعد وہ اندر کی جانب بڑھ گیا
جبکہ رہبان نے ہتھیلی سجی سنوری آبگینے کے سامنے پھیلائی۔

جاری ہے۔