No Download Link
Rate this Novel
Episode 13
“دل تیرے سنگ جوڑ لیا”
از
حوریہ ملک
اس کے چہرے پہ اس وقت اس قدر شدید وحشت و برودت چھائی ہوئی تھی کہ وہ بے ساختہ اک قدم پیچھے ہٹی۔
اگلے ہی لمحے اس کے ہونٹوں سے بڑی واشگاف سی چیخ نکلی۔
اپنے ہاتھ میں پکڑی کتاب کو زور سے سائیڈ ٹیبل پہ مارتا وہ وہاں پڑی تمام چیزیں نیچے گراتا ایک بے ہنگم سا شور برپا کر گیا۔
“ہاو ڈیئر یو؟ یہ پوچھنے کی ہمت کیسے کی؟” وہ بول نہیں رہا تھا بلکہ چیخ رہا تھا اور اس کے لفظ لفظ پہ سامنے کھڑی زحلے کے دل کی دھڑکن مدغم ہوتی جا رہی تھی۔
“جو سامنے ہے وہی سچ ہ۔۔۔۔۔۔۔۔” کھڑکی کے مضبوط شیشے پہ زور سے ہاتھ مارتے ہوئے وہ ایک دفعہ پھر سے چیخا تو اب کی بار وہ اس قدر اشتعال برداشت نہ کر سکی اور حواس کھوتی ہوئی بہت بری طرح سے زمین بوس ہوئی۔
“آ۔۔۔یہ کیا ہے؟ڈیم اٹ۔۔۔۔” وہ جو غیض و غضب کا شکار ہوتا اس پل اس ایک بات فراموش کیے اسی غضب میں بہہ نکلا تھا اس کے یوں دھڑام سے گرنے پہ اس کے چہرے پہ چھائے مشتعل رنگوں میں جھنجھلاہٹ کے رنگ نمودار ہوئے۔
اس نے ہلکا سا وہیل چیئر کو حرکت دیتے ہوئے اس کی جانب رخ کیا تو خوبصورت چہرے کی گھمبیرتا میں کئی گنا اضافہ ہوا۔
“شٹ۔۔۔۔۔!!” دبیز قالین پہ گرتے ہی وہاں سائیڈ ٹیبل سے گر کے چکنا چور پڑے لیمپ کا شیشہ اس کے بازو اور بائیں رخسار کو بری طرح سے زخمی کرتا ہوا قالین کو سرخ خون سے رنگتا چلا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کی گاڑی بہت تیزی سے ان خطرناک سڑکوں پہ چلتی ہوئی اک نامعلوم سی منزل کی جانب بڑھ رہی تھی جبکہ اسٹیرنگ کو جھکڑے ہاتھوں کی نمایاں ہوتی رگیں اس کے اندرونی خلفشار کو بیان کر رہی تھیں۔
اسی لمحے گاڑی کی خاموش فضا میں موبائل رنگ ٹیون بجی تو اس نے فورا کال آن کرتے ہوئے موبائل سپیکر پہ کیا۔
“پتہ چلا کچھ؟” بنا سوال و جواب میں وقت ضائع کیے وہ چھوٹتے ہی بولا تھا۔
اس کے انگ انگ میں اس وقت بے چینی، تفکر اور اشتعال بھرا ہوا تھا۔
“نہیں لیکن تم ف۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔” دوسری جانب سے اس کی کیفیت کا اندازہ کرتے ہوئے وہ تسلی آمیز لہجے میں گویا ہوا تو اس نے بھڑکتے ہوئے اس کے الفاظ قطع کیے۔
“لعنت ہے تم پہ اور تمہاری ٹیم پہ، آدھا گھنٹہ ہو چکا ہے اور اس کے باوجود تم مجھے صرف لفظوں سے بہلانے کی کوشش کر رہے ہو۔” وہ زور سے ایک ہاتھ اسٹیرنگ پہ مارتا بلند آواز میں دھاڑا تو دوسری جانب اس کی یہ بے عزتی بمشکل ضبط کی گئی تھی۔
“ضرغام صبر رکھو م۔۔۔۔۔۔” بات عزت تک پہنچ چکی تھی اور وہ یہ جانتا تھا کہ اس وقت اس پہ کیا بیت رہی ہو گی اس لیے لہجہ اب بھی نارمل رکھے وہ بولا تھا لیکن اس نے فورا اس کی بات کاٹی۔
“یہاں جان پہ بن آئی ہے تم صبر کی تلقین کر رہے ہو۔” اس کے بلند لہجے میں چھپی اذیت پہ دوسری جانب اس نے افسوس سے لب بھینچے۔
“میں تمہیں پانچ منٹ میں لوکیشن سینڈ کرتا ہوں۔” سنجیدگی سے کہتے ہوئے اس نے کال بند کی.
جبکہ وہ ایکسلیٹر پہ پاوں دباتا گاڑی کی سپیڈ مزید بڑھاتے ہوئے سوات کی جانب بڑھ رہا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنے نم بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے وہ کمرے سے باہر نکلا تو نگاہ سیدھی چھوٹے سے لاونج میں پڑے صوفے پہ دونوں پیر اوپر رکھ کے بیٹھی آبگینے پہ پڑی۔
وہ ابھی تک اسی کے ٹراوزر شرٹ میں ملبوس اپنے برائیڈل ڈریس کا دوپٹہ اوڑھے ہوئے تھے جو اس کے سر سے ڈھلکا ہوا اس وقت فقط اس کے کندھوں پہ ٹکا ہوا تھا۔
“لنچ میں کیا لیں گی؟” مضبوط قدم اٹھاتا وہ اس کی جانب بڑھا اور اس کے بے حد نزدیک جا کے کھڑا ہوا تو اس کی مسحور کن خوشبو نے اسے چاروں طرف سے گھیرا تھا۔
اس کے ڈھلکے ہوئے آنچل سے جھلکتے خوبصورت بالوں کو دیکھتے ہوئے اس نے نرمی سے استفسار کیا کہ صبح کی منہ ماری کے بعد دونوں نے ہی ناشتہ نہ کیا تھا جبکہ اس کی پھیلی خوشبو کو ناگواری سے سانسوں میں اتارتی آبگینے لمحے کی دیری کیے فوراً پھنکاری تھی۔
“زہر۔” اس کے یک لفظی جواب پہ وہ پہلے الجھا اور پھر یکلخت مسکرا دیا۔
“اونہوں!اب شادی اور رخصتی نارمل انداز میں نہیں ہوئی تو اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ میں اب ہر کام ہی دنیا سے نرالا کرنے لگوں۔ آپ کا اس گھر میں بلکہ میرے ساتھ پہلا لنچ ہے اور چونکہ آپ کے ہاتھوں کی مہندی نہیں اتری اس لیے میں پہلے ہی دن لنچ میں اپنی مسز کو اُس کی ‘فرمائش’ پہ زہر نہیں دے سکتا لیکن۔۔۔۔۔۔۔” متبسم لہجے میں بڑے دلفریب رنگ لیے وہ بولتے بولتے ایک دم سے رکا تو اپنے گھٹنوں پہ سر رکھے اسے سنتی آبگینے اس کے رکنے پہ لاشعوری طور پہ چوکنی سی ہو گئی۔
“لیکن آپ کی یہ ‘فرمائش’ میں کچھ دنوں تک پوری کر سکتا ہوں تاکہ کچھ تو میری زندگی میں بھی نارمل ہوتا نظر آئے کہ بیوی کے مظالم سے اکتائے شوہر نے اسے زہر دے دیا۔” اس کی آواز جس قدر دلکش و سحر انگیز تھی،اس کے الفاظ اسی قدر ہی آگ لگانے والے تھے تبھی اسی مکمل نظرانداز کرنے کا عہد کیے بیٹھی آبگینے نے اپنے گھٹنوں سے سر اٹھاتے ہوئے خونخوار نظروں سے اسے گھورا۔
“جس قدر فضول تمہارے کام ہیں اس سے بھی زیادہ فضول تم بولتے ہو۔” وہ بلند لہجے میں چٹخی تھی۔
“میرا بولنا ہی برداشت کریں آنسہ آبگینے رہبان کیونکہ جس قدر دلنشین آپ مجھے اپنے کپڑوں میں یوں بیٹھی ہوئی لگ رہی ہیں نا میری کوئی اور حرکت آپ برداشت نہیں کر سکیں گی۔” سنجیدہ لہجے میں کہے گئے ذومعنی الفاظ اور چمکتی آنکھوں کے ساتھ وہ اسے پل میں گڑبڑانے پہ مجبور کر گیا۔
بے ساختہ اس کا ہاتھ اپنے دوپٹے کی طرف گیا جسے اس نے فورا سنبھالتے ہوئے خود کو اس میں لپیٹا اور سر واپس گھٹنوں پہ ٹکا دیا۔
“یہ تو اب آ۔۔۔۔۔۔” اس کی حرکت کو آنکھوں میں پرتپش سی لپک لیے وہ بول رہا تھا جب اس کی جینز میں رکھا اس کا موبائل گنگنا اٹھا۔
جینز سے موبائل نکال کے اس نے سکرین کی طرف دیکھا تو نمبر دیکھ کے اس کے لب ہلکا سا مسکرائے۔اس نے فورا کال پک کر کے موبائل کان سے لگایا۔
“السل۔۔۔۔۔” شگفتہ انداز میں خیر سگالی کلمات کہنے چاہے جب دوسری جانب وہ چھوٹتے ہی بولا۔
“شہرے کڈنیپ ہو گئی ہیں۔” اس کے کیے گئے دھماکے کے زیرِ اثر وہ چند لمحے کچھ بول نہ سکا تھا۔
“کس نے کیا اور کب ہوا؟تم کدھر ہو؟” سنبھلتے ہی اس نے یکے بعد دیگرے سوالات جھاڑے۔
“تمہارے سسرال والوں کا کارنامہ ہے، سوات ہے وہ اس وقت اور میں مری ہوں۔” دوسری جانب وہ جانے کیسے ضبط سے بولا تو اس کے پہلے الفاظ پہ رہبان نے بے ساختہ سامنے بیٹھی آبگینے کو دیکھا اور پھر بہت ہی نا محسوس انداز میں اس سے چند قدم دور ہٹتا ہوا بولا۔
“انہوں نے شہرے کو کڈنیپ کیوں کیا؟” اس کے سنجیدہ لہجے میں اس وقت متفکر سوچ کی پرچھائیاں تھیں۔
“یہ سوالات و جوابات کا وقت نہیں ہے، مجھے اُن کی لوکیشن چاہیے ابھی۔” دوسری جانب جیسے وہ ضبط کھو کے چلایا تو وہ گہری سانس لے کے رہ گیا۔
“انہیں میرے خاندان کی کسی عورت کو ٹارگٹ کرنا تھا اور ان دنوں شہرے کی ملک ہاوس میں آمد اور وہاں قیام کی وجہ سے وہ اس خطرے میں پڑ چکی ہیں لیکن اگر انہوں نے کوئی بھی سنگین قدم اٹھایا تو میں ان کے خاندان کی نسلیں تباہ کر دوں گا۔” وہ غضبناکی سے کہتا کال بند کر گیا جبکہ اس صورتحال پہ خود بھی تفکر و غصے کا شکار ہوتا وہ واپس لاونج کی جانب بڑھا۔
“کچن میں ہر شے موجود ہے، مجھے ابھی کہیں جانا ہے آپ کھانا ضرور کھا لیجیے گا اور ہاں۔۔۔۔” اس کے پاس ٹھہرتے ہوئے وہ سنجیدگی سے بول رہا تھا لیکن وہ ہنوز گھٹنوں پہ سر نیہوڑے اسے نظرانداز کیے ہوئے تھی۔
“خود کو نقصان پہنچانے کی کوشش بھی مت کیجیے گا ورنہ اس کا خمیازہ آپ کے پیارے بھگت سکتے ہیں۔” اس کی جانب ہلکا سا جھکتے ہوئے وہ اسی سنجیدگی سے گویا ہوا اور پھر اس کے جھکے ہوئے سر کو دیکھتے ہوئے اس نے آہستگی سے لب اس کے سر پہ رکھے اور پھر بنا رکے تیز تیز قدموں سے چلتے ہوئے باہر نکل گیا۔
جبکہ گھٹنوں میں سر دیے بیٹھی آبگینے کے آنسو اس کی آغوش میں مدغم ہوتے چلے گئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“دروازہ کھولو خدا کیلیے!پلیز دروازہ کھولو۔” دونوں ہاتھوں سے دروازہ کھٹکھٹاتی وہ اونچی آواز میں مدد کے لیے پکارتی ہوئی ساتھ ساتھ رو رہی تھی۔
وہ کھانے کے لیے ہوٹل کے ڈائیننگ ایریے میں حمنہ اور تہمینہ کے ساتھ آئی تھی اور پھر کھانا کھانے کے بعد جب سب واک کے لیے نکلے تو چند لمحوں کے لیے جب وہ اپنی سوچوں کے باعث ان سے دور ہوئی تو نجانے کہاں سے دو آدمی اس کے نزدیک آئے اور اسے ہوش و حواس سے بیگانہ کر گئے تھے۔
ہوش آنے پہ اس نے خود ایک کمرے میں پایا جس کا بند دروازہ اس پہ یہ ہولناک انکشاف کر گیا تھا کہ اسے اغوا کیا جا چکا ہے اور یہ ادراک ہوتے ہی وہ روتی ہوئی اتنا دروازہ کھٹکھٹا چکی تھی کہ اس کے ہاتھ زخمی ہو چکے تھے لیکن دروازے کے پار بیٹھے نفوس نجانے بہرے تھے یا بے حس ہو چکے تھے جو اس کی چیخ و پکار پہ بھی کسی مدد کے لیے نہ آئے تھے۔
“ڈیڈ!
بڑے بابا!
ماما!
چاچو”
وہ باری باری سب کو پکارنے لگی لیکن اس وقت اس سے بہت دور اس کے اپنے اس کی پکار سننے سے قاصر تھے۔
اسے دروازہ پیٹتتے اور روتے ہوئے نجانے کتنی دیر بیت گئی کہ دروازہ ایک کھٹکے کی آواز سے کھلا تو اس نے سر ایک جھٹکے سے اٹھایا۔
“کک۔۔۔کون ہو تم؟” قطعی اجنبی شخص کو دیکھ کہ وہ بری طرح خوفزدہ ہوئی تھی۔
“یہ جاننا تمہارے لیے ضروری نہیں ہے بلکہ تمہارے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ تم یہاں کیوں لائی گئی ہو؟” سر تا پا گہری نگاہوں سے اسے دیکھتے ہوئے سفیر سائیں نے خشونت بھرے لہجے میں کہا تو وہ خود میں سمٹتی ہوئی لرزتے ہوئے لہجے میں بولی۔
“ک۔کیوں لے کے آئے ہو؟” اس نے بری طرح سے روتے ہوئے سوال کیا۔
“اس لیے کہ تم ضرغام ملک کو ابھی کہ ابھی فون کرو اور اسے کہو کہ ہماری بچی لے کے آئے اور تمہیں واپس لے جائے۔اگر وہ یا تم ایسا نہیں کرتے تو مجبوراً ہمیں تمہاری جان و عزت کی قربانی دینی پڑے گی۔” متکبر لہجے میں کہے گئے ان الفاظ پہ اس کا ذہن گھوم کے رہ گیا جبکہ دل کو گہرا دھچکا لگا۔
“ضرغام چاچو۔۔ان کی لڑکی۔۔۔۔۔”
“لیکن وہ تو نگاہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔” اس کے انتشار کا شکار دماغ میں اس وقت بہت سے سوالوں سے یکلخت ہی اودھم مچایا تھا۔
“نن۔۔نہیں، مجھے گھر جانا ہے اپنے۔” وہ بمشکل ان سوالوں سے جان چھڑواتی ہوئی ہچکیوں کے ساتھ بولی تو سامنے کھڑے سفیر سائیں نے طیش میں مبتلا ہوتے ہوئے ایک زوردار تھپڑ اس کے رخسار پہ رسید کیا تو وہ لہراتی ہوئی نیچے جا گری۔
“تمہیں گھر جانے کی پڑی ہے جبکہ وہ ذلیل انسان دن دیہاڑے اپنے اس کمینے دوست کے ساتھ اپنی عزت مٹی تلے روند کے ہماری بچی کو اٹھا کے لے گیا۔” بلند آواز میں گرجتے ہوئے وہ ایک دفعہ پھر سے اس کی جانب لپکے ہی تھے کہ اس کمرے سے چند قدم دور گھر کا داخلی دروازہ اتنی شدت سے لرزنے لگا کہ اس کی آواز پہ شہرے نے بے ساختہ سسکتے ہوئے دونوں ہاتھ کانوں پہ رکھے۔
سفیر سائیں اور کمرے کے باہر کھڑے ان کے دونوں آدمی حیرت سے دروازہ دیکھنے لگی جسے باہر سے زوردار ضربیں لگاتے ہوئے گویا توڑنے کی بھرپور کوشش کی جا رہی تھی۔
صورتحال کی سنگینی کا اندازہ لگاتے ہی سفیر سائیں نے شہرے کی جانب بڑھنا چاہا جب لکڑی کا بنا دروازہ ایک دھماکے کے ساتھ ٹوٹتا ہوا اس تنگ سے صحن میں بلند آواز کے گرتا ان کے بڑھتے قدموں کو روک گیا۔
اور اس سے پہلے کہ وہاں موجود تینوں نفوس کچھ سدِباب کرتے ہوئے اپنا بچاو کرتے وہ آندھی طوفان بنا ان دونوں آدمیوں کی جانب بڑھا جو اپنے ہتھیار سیٹ کرتے اس پہ نشانہ باندھنے کو تھے لیکن اس نے بہت بپھرے ہوئے انداز میں سامنے کھڑے آدمی سے بندوق کھینچی اور اس کا پٹ اس کی کنپٹی پہ مارا تو وہ اڑتا ہوا دوسرے آدمی پہ جاگرا جس کے باعث اس کے ہاتھ سے بھی بندوق نیچے جا گری۔
“اپنے قدم یہیں روک لو سفیر سائیں ورنہ میں ہر طرح کے انجام کی پروا کیے بغیر تمہیں گولیوں سے بھون کے رکھ دوں گا۔” سفیر سائیں نے جب اس تلاطم خیز طوفان کے تیور ملاحظہ کیے تو اپنے پسٹل کو دائیں ہاتھ میں جھکڑتے ہوئے شہرے کو اپنی تحویل میں لینا چاہا تو اس کے آدمیوں کی اچھے سے درگت بناتا ہوا وہ اس کے اٹھتے قدم کو دیکھ کے اس قدر وحشت زدہ انداز میں بولا تھا کہ پیر حویلی میں سب سے زیادہ سفاک اور ظالم مشہور سفیر سائیں بھی ٹھٹھک سا گیا اور گردن گھما کے اسے دیکھا جو چہرے پہ ناقابلِ فہم تاثرات لیے سکائی بلیو شرٹ اور کالی پینٹ پہنے بکھرے بال پیشانی پہ بکھرائے وہ سرخ ہوتی آنکھوں میں جھلسا دینے والی نفرت و انتقام لیے اس کی جانب بڑھ رہا تھا۔
“اپنے قدم وہیں روک لو تم بھی ضرغام ملک، یہ مت بھولو کہ میری پسٹل کا نشانہ یہ لڑکی ہے اور سفیر شاہ کا نشانہ کبھی چوکتا نہیں ہے۔” اس کے آگے بڑھنے پہ انہوں نے بھی بلند آواز میں اسے وارن کیا۔
لیکن اسی لمحے گولی کی بلند آواز گونجی تو جہاں ایک طرف ساکت بیٹھی شہرے کے ہونٹوں سے چیخ بلند ہوئی تھی وہیں سفیر سائیں کی پسٹل نشانہ لگنے پہ دور جا گری۔
“آپ کا نشانہ اچھا ہو گا لیکن ایس پی رہبان سے بہتر ہرگز نہیں ہو گا۔” اکھڑی ہوئی چوکھٹ پہ کھڑا وہ شخص شاید آخری شخص ہو گا جسے وہ اس پل یہاں دیکھنا یا سننا نہ چاہتے ہوں گے۔
“میرے گھر کی عورتوں کی طرف نگاہ اٹھانے کی جرات کیسے کی تم نے؟” بپھرا ہوا ضرغام جو شہرے کے چیخ مارنے پہ اس کی جانب متوجہ ہوا تھا اس کے رخسار پہ انگلیوں کے سرخ نشان اور اس کے پھٹے ہوئے ہونٹ کو دیکھ کے پاگل ہو گیا تھا وہ فورا سفیر سائیں کی جانب لپکا اور اس کا گریبان اپنے ہاتھ میں لیتا وہ دوسرے ہاتھ سے اس کے منہ پہ مکے مارتا غصے سے دھاڑا۔
شہرے جس نے ہمیشہ اس کا بہت پرسکون اور متحمل روپ دیکھا وہ اس کا ایسا جنونی روپ دیکھ کے سانس لینا بھول گئی اور لب بھینچے وہ ساکت سی پھٹی پھٹی نگاہوں کے ساتھ اسے تک رہی تھی جو اس لمحے پاگل ہوا جا رہا تھا۔
“یہ تو خوش قسمتی سے ہمارا پہلا نشانہ بن گئی، اگر تم نے ہماری لڑکی واپس نہ بھجوائی اپنے اس کمینے دوست سے لے کے تو تمہاری منکوحہ، تمہاری ماں،تمہاری بہ۔۔۔۔۔۔۔۔” اس کے ہاتھوں پڑنے والے مکوں کا درد بمشکل برداشت کرتے ہوئے وہ بلند آواز میں بولے تو اس کے اندر گویا آگ دہک اٹھی۔
“بکواس بند کر اپنی، میں تم لوگوں کی آنکھیں نوچ لوں گا جس سے تم لوگوں نے ان کی جانب دیکھنے کی جرات کی ہے۔” زور سے دھاڑتے ہوئے اس نے مٹھی پوری قوت سے بند کرتے ہوئے مکہ پیٹ میں مارا اور پھر ان کا بایاں ہاتھ پکڑ کے انگلیاں پوری قوت سے مڑوڑیں۔
“تمہارے نام کے ساتھ لگے لفظ کی وجہ سے تمہارے ہر جائز ناجائز کام پہ چپ رہا ہوں لیکن میرے خاندان یا کسی بھی عورت کو اپنے انتقام کا نشانہ بنانے کی کوشش کی تو یہ ضرغام ملک تم سے وعدہ کرتا ہے کہ تم پہ آنے والی ہر گھڑی بد سے بدتر ہو گی۔” وحشت و برودت سے بھرپور لہجے میں بولتا ہوا وہ اسے گریبان سے گھسیٹ کے رہبان کی جانب دھکیل چکا تھا۔
“ایف آئی آر درج ہو چکی ہے، اب یہ شخص جیل کی سلاخوں سے نکلا تو تمہارے بدن سے تمہاری وردی میں اترواوں گا۔” کڑی نگاہوں سے اسے دیکھتے ہوئے اس نے دھمکی دی تو اس نے زور سے سر جھٹکا۔
“تمہاری اس دھمکی سے میں اس قدر خوفزدہ ہو چکا ہوں کہ میری سانسیں بند ہونے لگی ہیں۔” طنزیہ انداز میں کہتے ہوئے اس نے اپنے اہلکاروں کو بلایا اور ان تینوں کو گاڑی میں بٹھانے کے لیے کہا۔
“چلیے محترم، اپنی بیوی کو ابھی شادی کا تحفہ دینا باقی ہے۔آج جا کے تحفتاً اطلاع پہنچاوں گا کہ اپنی گھٹیا طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اُن کے چچا جان نے جو حرکت کی ہے اس کے باعث انہیں جیل میں بند کر کے آیا ہوں اور آپ کی گرفتاری کے بعد آپ کے بھائیوں نے ایسی فضول حرکت کی تو ایسے بہت سے تحفے انہیں دن رات دوں گا۔” سفیر سائیں کو ہتھکڑی لگاتے ہوئے وہ سرد لہجے میں انہیں سناتے ہوئے پولیس وین کی جانب بڑھ گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“شہرے!” سفیر سائیں کو رہبان کی جانب دھکیلنے کے بعد وہ فورا اس کی جانب لپکا جو دیوار سے ٹیک لگائے پھٹی پھٹی خوفزدہ سی آنکھوں کے ساتھ اسے دیکھ رہی تھی۔
“شہرے!آپ ٹھیک ہو؟” اس کی حالتِ زار پہ بمشکل ضبط کرتے ہوئے اس نے اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھا تو وہ بری طرح سے چونکی اور پھر یکایک اس کے قاتل نین نمکین پانیوں سے بھر گئے۔
“وہ۔۔مم۔۔بابا۔۔م۔۔۔۔” بہت کچھ بولنے کی چاہ میں اس کے لب پھڑپھڑائے لیکن وہ ذہن جو پچھلے تیس گھنٹوں سے پہلے ہی انتشار کا شکار تھا اس پہ مستزاد اغوا اور اس پر ضرغام کا ایسا روپ دیکھنا اس کے اعصاب پہ اس قدر بھاری پڑا تھا کہ ضرغام کو اب اپنے قریب دیکھ کے وہ حواس کھو کے اسی کے بازووں میں بکھرتی چلی گئی۔
اس کے ہوش کھونے پہ وہ اسے خود میں سمیٹتا اس چھوٹے سے تنگ گھر سے لے کے نکلا اور پھر اس کی حالت کو دیکھتے ہوئے وہ اسے لے کے نسبتاً کم درجے کے ہوٹل میں لے آیا تاکہ ان کے لیے مسئلہ نہ بنے۔
لیکن اس کی اس قدر احتیاط کے باوجود پیر حویلی کے مرد جو چاہتے تو نگاہ کو کڈنیپ کرنا تھا لیکن اس کے باہر نہ نکلنے کی وجہ سے جب شہرے کو وہاں سے نکلتے ہوئے دیکھا تو اسے ہی مہرہ بنانے کا سوچ کے کڈنیپ کر لیا۔
اغوا کے بعد وہ جو آبگینے کی بازیابی کی توقع کر رہے تھے سفیر سائیں کی غیرمتوقع گرفتاری پہ پاگل ہوتے وہ لوگ اب دوسرے ہتھکنڈے پہ اتر آئے۔
اگلا سورج نکلنے سے قبل انہوں نے جو آدمی سفیر سائیں کے شہرے کو کڈنیپ سے لے کے اس سارے میس کے دوران سیف سائیڈ کے لیے ان کے تعاقب میں لگا رکھا تھا اس کے موبائل میں بننے والی ویڈیو سے انہوں نے وہ پارٹ لیا جب ضرغام شہرے کو بازووں میں اٹھا کے اس گھر سے نکل رہا تھا اور پھر اپنی گاڑی میں بٹھا کے ہوٹل پہنچ کے اسی انداز میں لیے ہوٹل گیا۔
اس ویڈیو اور تصاویروں کو فورا وائرل کیا اور ساتھ ہی یہ خبر پھیلا دی کہ شہرے ملک جو آئی تو کالج ٹرپ کے ساتھ تھی وہ درحقیقت یہاں ضرغام ملک کے ساتھ رنگ رلیاں منانے کے لیے آئی تھی۔
یہ خبر جنگل میں پھیلی آگ کی مانند اس قدر تیزی سے پھیلی تھی کہ ان سے دور ملک ہاوس کے مکینوں سمیت نگاہ واحدی پہ بھی یہ کسی بلاسٹ کی مانند پھٹی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوات میں موجود قدرے نچلے درجے کے ہوٹل میں موجود ضرغام کرسی پہ بیٹھا کرب سے اسے دیکھ رہا تھا جو اس وقت تھی تو ہوش میں لیکن گہری نیند میں تھی۔
یہاں آتے ہی اس نے سب سے پہلے اسے ہوش میں لانے کی کوشش کی اور چونکہ وہ مکمل ہوش میں نہیں تھی اس لیے ہوٹل سروسز سے جوس منگوا کے اسے پلانے کے بعد اس نے ان سے ہی منگوائی گئی سکون آور گولی اسے دی تاکہ وہ ریلیکس ہو سکے اور خود اس سے دور پڑی کرسی پہ براجمان ہوتا اسے دیکھنے لگا جسے اس طرح سے دیکھ کے اسے بہت تکلیف ہو رہی تھی۔
یونہی پراذیت سوچوں میں گم نجانے کب رات اپنے پر سمیٹے صبح کا اجالا پھیلانے لگی تھی اسے کچھ خبر نہ ہوئی۔
اس وقت شاید صبح کے پونے پانچ بجے تھے جب رہبان کی جانب سے ملنے والی کال نے اس کے پورے وجود کو ہلا کے رکھ دیا تھا۔
وہ لڑکی جس سے منسلک جذبات کو اس نے خود سے بھی چھپا کے رکھا تھا اسے اس کے ساتھ نتھنی کر کے پوری دنیا کے سامنے تماشا بنا کر رکھ دیا تھا۔
یکلخت اس کے اندر انگارے سے دہکنے لگے جبکہ دل گویا ہر شے تہس نہس کرنے کو بے قرار ہوا تھا۔
چونکہ اس وقت شہرے کی بے خبری ہی بہتر تھی اس لیے وہ اسے یونہی سوتے میں ہی اٹھا کے واپسی کی جانب گامزن ہوا تھا کیونکہ اب کی بار ملنے والی چوٹ پہ وہ دشمن کو ناقابلِ فراموش سزا دینے والا تھا۔
لیکن وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ گھر پہنچنے پہ اس کے لیے کیسی قیامت خیز گھڑی اس کی منتظر تھی۔
۔,۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“فار گاڈ سیک بابا جان!آپ کیسے مجھے اس رشتے کے لیے فورس کر سکتے ہیں جبکہ آپ جانتے ہیں کہ میں کمیٹڈ ہوں۔” اسد صاحب کا غیرمتوقع حکم اسے کسی چابک کی طرح لگا تھا۔
اور اس چابک کی ضرب اتنی شدید تھی کہ وہ اپنی جگہ سے کھڑا ہوتا انتہائی بلند آواز اور تلخ لہجے میں بولا تو سب نے ہی دہل کے اس کے غضبناک تاثرات ملاحظہ کیے۔
“میں تمہیں اس کمٹمنٹ کو ختم کرنے کے لیے نہیں کہہ رہا بل۔۔۔۔۔” اس کے بے لچک و اکھڑ تاثرات دیکھتے ہوئے اسد صاحب نے اسے نرمی سے ہینڈل کرنا چاہا۔
جبکہ وسیع و عریض ہال میں پڑے قیمتی و دیدہ زیب صوفوں پہ بیٹھے نفوس خاموش تماشائی بنے ان باپ بیٹا کو دیکھ رہے تھے۔
“میں آپ کے کہنے پہ یہ کمٹمنٹ ختم بھی نہیں کرنے والا ہوں۔” اس کے نخوت سے کہنے پہ جہاں وہاں موجود چند ایک نفوس کے ہونٹوں پہ دبی دبی مسکراہٹ پھیل گئی جبکہ اسد صاحب کا چہرہ سرخ پڑا۔
“بات کو گھماو مت، میں تمہیں صرف نکاح کے لیے کہہ رہا ہوں۔” انہوں نے اب کے سنجیدگی سے اس کی جانب دیکھا جو ایک اتھڑے بے لگام گھوڑے کی مانند لگ رہا تھا جسے نکیل ڈالنے والا فی الحال کوئی نہ تھا۔
“میرا نکاح ہو چکا ہے بابا جان!” وہ چبھتے ہوئے لہجے میں بولا جبکہ سلگتی ہوئی آنکھیں ان کے سرخ چہرے پہ گڑھی ہوئی تھیں۔
“ضرغام ملک!مرد کو چار نکاح کرنے کی اجازت ہے۔” انہوں نے اس کے مقابل آتے ہوئے سنجیدگی سے کہا تو اس نے زور سے اپنے ہاتھوں کی مٹھیاں بھینچیں۔
“لیکن میرے لیے ایک نکاح کافی ہے۔۔۔۔” اس کی تلخ آواز کو ایاز صاحب نے قطع کیا۔
“آج یوں دامن چھڑانے سے قبل تمہیں کل ایکشن لیتے ہوئے سوچنا چاہیے تھا۔” انہوں نے اسے ٹھنڈا کرنا چاہا لیکن بے سود ٹھہرا۔
“مجھے علم ہوتا کہ میرے ‘ہمدردانہ’ عمل سے آپ کی شان و شوکت کے لیے مسئلہ کھڑا ہو گا اور وہ مسئلہ آپ میرے لیے مسئلہء کشمیر بنانے والے ہیں تو میں انہیں مرنے دیتا وہیں۔” وہ اس وقت اس ذہنی کشیدگی کا شکار ہوتا سخت بے رحم اور نخوت زدہ لہجے میں بولتا سب کے دل دہلا گیا۔
“ضرغام بھولو مت کہ تم کس کے متعلق بات کر رہے ہو۔” اسد صاحب اس کے بے رحم الفاظ پہ مشتعل ہوتے قدرے بلند آواز میں بولے تو وہ ایک قدم اٹھاتا ہوا ان کے سامنے کھڑا ہوتا لفظ چبا چبا کے بولا۔
“یہ بات میں ہر گز نہیں بھول رہا لیکن آپ شاید یہ بات فراموش کر چکے ہیں کہ جس سے آپ میرے دوسرے ‘نکاح’ پہ زور دے رہے ہیں وہ ناصرف مجھ سے عمر میں چھوٹی ہیں بلکہ بھتیجی لگتی ہیں میری۔” اس کے چبھتے ہوئے لہجے پہ لحظہ بھر کے لیے خاموشی چھا گئی۔
جاری ہے۔
