57.1K
55

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 27

“دل تیرے سنگ جوڑ لیا”
از
حوریہ ملک
Episode#27;

اپنے دونوں ہاتھ پہلووں پہ جمائے وہ جو ہنسنا شروع ہوئے تو پھر ہنستے ہی چلے گئے جبکہ نگاہ بمشکل ان تینوں لڑکیوں کا لحاظ کرتی اندر ابلتے قہقہوں کو ضبط کرنے کی کوشش کرنے میں سرخ ہوتی جا رہی تھی۔

“ضرغام چاچو!آپ کے فرینڈز کو کیا ہوا ہے؟” ان تینوں کے بلند قہقہوں سے جزبز ہوتی شہرے ایک دفعہ پھر سے بولی تو ان تینوں کا ایک ساتھ پھر سے جناتی قہقہہ ابل پڑا۔
جبکہ وہ اُن کی اس کمینگی پہ سوائے دانت کچکچانے کے اس پل کچھ بھی نہ کر پا رہا تھا۔

“منہ بند کرو اپنا کمینو۔” زیرِ لب غراتے ہوئے اس نے ان کے خوفناک قہقہوں کو روکنا چاہا اور اس میں کسی قدر کامیاب بھی ٹھہرا کیونکہ ان کی نظر ہونق کھڑی آئلہ، آیانہ اور آیت پہ پڑ چکی تھی۔

“آئم سوری۔” تینوں نے سنبھلتے ہوئے ایک ساتھ اُن تینوں سے معذرت کی تو ہولے سے مسکرا کے رہ گئیں کہ اب لالہ کے دوستوں کو کیا کہہ سکتی تھیں۔

“آپ تینوں سے مل کے بہت اچھا لگا۔” رہبان نے اپنی بے ساختہ حرکت کو کور کرنے کے لیے مسکراتے ہوئے انہیں کہا جو اُن کے لیے صرف ضرغام کی بہنیں نہیں تھیں بلکہ یہی اُنسیت وہ بھی ان کے لیے محسوس کر رہے تھے۔

“تھینک یو رہبان چاچو آپ کی بھی آواز بہت پیاری ہے۔” شہرے جسے ہر رشتے کو اس کے مرتبے کے لحاظ سے پکارنا اچھا لگتا تھا، اس نے ‘ضرغام چاچو’ کے دوست کو بھی ‘چاچو’ ہی سمجھتے ہوئے مسکراتے ہوئے کہا تو سامنے کھڑا رہبان لمحوں میں ہونق ہوا تھا۔

جبکہ آئلہ نے بے ساختہ ماتھے پہ ہاتھ مارتے ہوئے اس پہ افسوس کیا جس نے کھڑے کھڑے جوان جہان لڑکے کو لے دے کے ‘چاچو’ بنا دیا تھا اور شہرے کی اس بے ساختگی پہ اس دفعہ نگاہ کا قہقہہ پھوٹ پڑا تھا۔

“یہ لالہ کے فرینڈز پاگل تو نہیں ہیں؟” آیانہ جس کی عمر تقریباً اس وقت اٹھارہ سال ہو گی وہ اکیس سالہ ضرغام کے دوستوں کے ان جناتی قہقہوں سے خائف ہوتی آئلہ کے کان میں گھسی جو اس سے تین سال چھوٹی اور شہرے کی ہم عمر تھی۔
اس کی سرگوشی ضرغام سمیت ان چاروں کے کانوں میں پڑی تو فوراً سیدھے ہوئے اور چہروں پہ تدبر بھری سنجیدگی سجا لی۔

“چلیں اندر۔” اس نے ان کو کہتے ہوئے اندر کی جانب قدم بڑھاتے ہوئے ان تینوں کو بھی آنے کا کہا لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔

“ہم شہری کے ڈریسز لے کے آتے ہیں۔” آئلہ نے اسے جواب دیتے ہوئے شہری کا ہاتھ تھاما اور تیزی سے وہ تینوں گیٹ پار کر گئیں۔
ان تینوں کے ہی گیٹ کراس کرنے پہ وہ چاروں اس کا راستہ روکتے ایک ساتھ اس کے گرد گھیرا بنا کے کھڑے ہوتے تفتیشی افسروں کی مانند اسے گھورنے لگے۔

“منہ سے کچھ پھوٹو گے بھی یا یونہی گندی نظروں سے گھورتے رہو گے؟” ان سب کی تفتیشی نگاہوں سے چڑتے ہوئے اس نے انہیں لتاڑنا چاہا۔

“ہماری گندی نظریں مزید گندی ہو سکتی ہیں اس لیے ہمیں جلدی سے بتاو کہ یہ ‘چاچو’ والا کیا چکر ہے؟” نین (ذوالقرنین) نے بھنویں سکیڑتے ہوئے تیکھے چتونوں کے ساتھ اس سے سوال کیا تو وہ گہری سانس بھر کے رہ گیا۔

“ڈیڈ کے کزن کی پوتی ہے تو بس اسی لحاظ سے وہ یوں مخاطب ہوتی ہیں۔” وہ اپنی قدرے بڑھی ہوئی بیئرڈ کو کھجاتے ہوئے مدہم لہجے میں بولا تو سب نے اسے یوں دیکھا جیسے اس کے سر پہ سینگ نکل آئے ہوں۔

“اور تو اپنی بھتیجی کے عشق میں سالوں سے گرفتار ہے؟” رہبان کے تیکھے الفاظ پہ وہ تڑپ ہی تو گیا تبھی فوراً اسے بے دریغ گھورا۔

“سگی بھتیجی نہیں ہیں میری وہ اور نہ کبھی میں نے اس نظر سے انہیں دیکھا ہے۔” اس نے گویا خفگی سے کہتے ہوئے اس کے کہے لفظوں کو بمشکل نگلا تھا۔

“ہاہ لیکن ضرغام شہری تو تمہیں چاچو ہی سمجھتی ہے نا؟” نگاہ بھی اس عجیب سی صورتحال پہ آکورڈ سا فیل کر رہی تھی۔

“ابھی اُنہیں میں نے کچھ بھی احساس دلانے کی کوشش نہیں کی اور ویسے بھی جب رشتہ بدلے گا تو محسوسات اور اندازِ تخاطب بھی بدل جائے گا۔” اس نے اپنے ماتھے پہ بکھر جانے والے بالوں کو انگلیوں کی مدد سے پیچھے کرتے ہوئے انہیں جواب دیا جو اسے بیچ لان میں روکے سوال و جواب کر رہے تھے۔

“میرا مشورہ یہی ہے کہ تم وقت ضائع کیے بغیر اپنے پیرینٹس سے اس کے متعلق بات کر لو کیونکہ اگر شہرے کی سٹڈی مکمل ہونے کا ویٹ کرتے رہے تو اس کے مائنڈ میں تمہیں لے کے جو ایک رشتہ بن چکا ہے اسے ختم کرنا مشکل ہو جائے گا۔” نین نے سنجیدگی سے اسے مشورہ دیا تو وہ پرسوچ انداز میں سر اثبات میں ہلا کے رہ گیا۔

“ویسے ساری باتیں ایک دفعہ یہ خود سے سات آٹھ سال چھوٹی لڑکی کو ‘آپ’ کہنے کا جگرا کہاں سے لاتے ہو؟” ذونین نے اس کے چہرے پہ چھائی سنجیدگی کو کم کرنے کے لیے بظاہر سنجیدگی سے دریافت کیا جبکہ اس کی خوبصورت آنکھیں شرارت سے چمک رہی تھیں۔

“عادت بن گئی ہے اب تو۔” اس کی شرارت سے حظ اٹھاتے ہوئے وہ بولا کیونکہ جانتا تھا کہ وہ اسے چڑانا چاہتا ہے لیکن اس نے ایسا کوئی موقع اسے نہ دیا اور ان چاروں کو لے کے صدر دروازے سے اندر کی جانب بڑھ گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“آپ دونوں ٹوئنز ہیں؟” عیسیٰ نے نین کو مخاطب کرتے ہوئے ذونین کی جانب اشارہ کیا تو اس نے ہلکے سے مسکراتے ہوئے سر اثبات میں ہلایا۔

“لیکن آپ کی شکلیں تو سیم نہیں ہیں۔” آئلہ نے اپنی عمر کے مطابق فوراً اس کی بات کی تردید کرنی چاہی۔

“ہماری شکلیں، عقلیں، ہاتھ، پیر، ناک کچھ بھی سیم نہیں ہیں لیکن پھر بھی غلطی سے ہم ٹوئنز ہیں۔” ذونین نے شوخی سے جواب دیا تو سبھی مسکرا دیے۔

اس وقت سب ہی حسبِ معمول لاونج میں بیٹھے گپ شپ لگا رہے تھے اور چونکہ اُس کی ان چاروں سے بانڈنگ اتنی سٹرانگ تھی اور اسے ان پہ بھروسہ اتنا تھا کہ وہ انہیں گیسٹ روم کی بجائے اندرونی حصے میں ہی لایا تھا۔

“تم لوگوں کا کچھ بھی سیم ہو نہ ہو لیکن یہ خوبصورت آنکھوں کا چمکتا ہوا رنگ ایک جیسا ضرور ہے۔” ارسم ان دونوں کی خوبصورت آنکھوں کو دیکھتا ہوا گویا ہوا تو سب نے ہی اس کی بات کی تائید کی۔

“بس یہی ایک ان کا آئیڈینٹی مارک ہے لوگوں کو دکھانے کے لیے کہ یہ ٹوئنز ہیں۔” رہبان نے ٹکڑا لگایا جسے سبھی نے ہی انجوائے کیا۔

“نگاہ کی بچی کو سمجھاو کہ خبردار شہرے کے کان میں کچھ الٹا سیدھا نہ پھونک ڈالے۔” ضرغام نے بے چینی سے اس جانب نگاہ ڈالی جہاں شہرے کے کان میں گھسی نگاہ نجانے کون سے رازو نیاز میں مصروف تھی۔
جبکہ اس کی سرگوشی پہ زونین نے بھی ایک محتاط نظر اس جانب ڈالی جہاں لڑکیوں نے ڈیرہ جمایا ہوا تھا۔

“اتنی بیوقوف تو وہ ہرگز نہیں ہے اس لیے بیفکر رہو۔” ذونین نے اسے تسلی سے نوازا لیکن پھر بھی وہاں بیٹھے اس کی نظر بھٹکتی ہوئی بار بار اس کونے کی طرف ہی جا رہی تھی جہاں سیاہ ٹراوزر شرٹ میں ملبوس کھلکھلاتی ہوئی شہرے موجود تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“میر کنسٹرکشنز اینڈ کمپنیز” کے تھرڈ فلور پہ موجود مین آفس میں اس وقت گویا طوفان آیا ہوا تھا جس کی زد میں اس وقت شازمین میر، عبدالرحمن میر، آفاق میر آئے ہوئے تھے۔

“دماغ خراب ہو چکا ہے تم لوگوں کے بھائی کا جو اس ایمپائر کے پاور آف اٹارنی وہ دونوں بھائی بنا دیے جنہیں اپنی آوارہ گردیوں سے فرصت نہیں ملتی۔” غیض و غضب کا شکار شازمین میر ادھر سے ادھر چکر لگاتی نفرت سے غرا رہی تھی۔
دوسری جانب یہی حال ان دونوں بھائیوں کا بھی تھا جنہیں اپنے بڑے بھائی ‘ولید میر’ سے اس طرزِ عمل کی توقع ہرگز نہ تھی۔

“اب کیا ہم ہر چھوٹی بڑی بات، ضرورت یا دستخط کے لیے ان سنپولیوں کے سامنے ہاتھ پھیلائیں گے مائی فٹ۔” وہ نفرت سے پھنکارتی ہوئی ایک دفعہ پھر سے چلائی تو عبدالرحمن صاحب نے اسے دیکھا جس کا رنگ مارے اشتعال کے سرخ پڑنے لگا تھا۔

“تم ٹینشن نہیں لو، میں آج ہی بات کرتا ہوں بھائی صاحب سے۔” انہوں نے بمشکل خود پہ قابو پاتے ہوئے بپھری ہوئی بیگم کو رام کرنے کی کوشش کی لیکن وہ مزید بھڑک اٹھی۔

“اپنے بھائی صاحب کے تلوے چاٹنا بند کرو تم دونوں۔ اب کوئی بھی اُن بھائی صاحب سے بات نہیں کرے گا بلکہ میں خود اس پاور آف اٹارنی کو چھین کے دکھاوں گی۔” انتقام اور نفرت کی آگ میں جھلستی وہ پاگل ہوئی جا رہی تھی جبکہ اس کے پہلے فقرے پہ دونوں بھائیوں کے چہرے اہانت سے سرخ پڑے۔

“شازمین بیگم! کوئی بھی انتہائی قدم اٹھانے سے قبل۔اچھی طرح سے سوچ لینا۔” عبدالرحمن میر نے دبے دبے لہجے میں انہیں تنبیہہ کرنی چاہی کیونکہ اپنی بیوی کے سامنے کھل کے بولنے کی ہمت وہ کبھی نہ کر سکے تھے۔

“مجھے کوئی سبق پڑھانے کی کوشش نہ کرو کیونکہ میں اپنے جیتے جی اس ایمپائر کو کسی اور کے حوالے ہونے نہیں دوں گی اور اس کے لیے میں ہر حد کو پار کر جاوں گی اب چاہے وہ حد کسی کی موت ہی کیوں نہ ہو۔” سفاکی و بے رحمی سے کہتی وہ ان دونوں کو بھی ششدر کر گئی جو خود بھی یہی چاہتے تھے لیکن اس انتہا پہ جا کے نہیں لیکن وہ تو گویا ہر انجام سے بے بہرہ ہو چکی تھی۔

“اپنے ارادوں پہ عمل کرنے سے قبل یہ جان لو کہ نا تو بھائی صاحب کوئی عقل سے ماورا شخص ہیں جو کسی ٹریپ کو نہ سمجھ سکیں اور نہ ہی وہ دونوں بھائی اتنے معصوم اور شریف ہیں کہ ہم انہیں آسانی سے شکار کر سکیں۔آپ جانتی ہو کہ دونوں کا غصہ کس قدر زہریلا ہے۔” آفاق صاحب نے اب کے بنا کسی لحاظ کے اپنی بھابھی کے سامنے صورتحال واضح کی تو وہ شیطانی انداز میں مسکرا دی۔

“میرے پاس ہر زہر کا تریاق موجود ہے اور فکر مت کرو مجھے لاٹھی توڑے بغیر سانپ مارنا آتا ہے۔” پراسرار انداز میں مسکراتے ہوئے وہ ان کو خاموش کر گئی تھی۔
کیونکہ اس پل اس ساری گیم کی کوئین وہ تھیں جن کے بل بوتے پہ وہ اپنی جائیداد کو پورے حق سے استعمال کر سکتے تھے۔
وہی جائیداد جس کو ان کے باپ نے ان کے سوتیلے بھائی (ولید میر) کے نام کر دیا تھا تاکہ یہ تینوں بھائی ہمیشہ ایک ساتھ جڑے رہیں کیونکہ انہیں اپنے اِن دونوں آوارہ مزاج بیٹوں کی عیاشیوں کا اندازہ تھا۔
لیکن دوراندیشی سے کام لیتے ہوئے وہ یہ نہ جان سکے کہ اپنے آشیانے کو ایک ساتھ باندھ رکھنے کی خواہش کو پایہٴ تکمیل تک پہنچانے کے لیے وہ اپنے بڑے بیٹے اور اس کی فیملی کو کس اندھی کھائی کی نذر کر رہے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“ارسم چاچو!آپ کو ایک بات بتاوں؟” اس وقت ملک ہاوس کے وسیع و کشادہ لاونج میں جازم کی ڈھولکی بہت جوش و خروش سے رکھی جا چکی تھی کہ کل مہندی تھی اس لیے آج سب دل کھول کے ڈھولکی سے لطف اندوز ہونا چاہتے تھے۔

“ضرور بتاو۔” اس نے اسے اجازت دی تو وہ فوراً اس کے کان میں گھسی۔

“یہ ضرغام چاچو کے ساتھ جو لڑکی آئی ہے نا یہ مجھے بہت غور سے دیکھتی ہے اور مسکراتی رہتی ہے۔” وہ جو پچھلے دو دن سے نگاہ کی مسکراتی نگاہوں سے جزبز ہو رہی تھی وہ ارسم کے میسر آنے پہ فورا اس کے کان میں گھس گئی تھی۔

“بھئی اب تم پیاری ہی اتنی ہو کہ تم سے نگاہیں ہٹانا سب کے لیے مشکل ہو جاتا ہے اس میں کیا پریشانی والی بات ہے۔” ارسم نے اس کی پریشانی چٹکیوں میں اڑانے کی کوشش کی۔

“اب یہ تو جھوٹ ہوا نا، یہاں تو سبھی بہت پیارے ہیں۔” اس نے فوراً ہی اس کا بیان رد کیا اور کچھ سوچتی ہوئی فوراً ضرغام کی پیچھے بھاگی جو کچن کی جانب بڑھ رہا تھا۔

“ضرغام چاچو یہ جو آپ کے ساتھ آپ کی فرینڈ آئی ہے یہ مجھے بہت گھور کے دیکھتی ہے، کیوں؟” ارسم کے بعد وہ اگر کسی کے ساتھ بہت فرینک تھی تو وہ ضرغام تھا تبھی وہ اس کے نزدیک ٹھہرتی بنا کسی تمہید کے اچانک بولی تو ایک دم سے اسے اپنے بے حد نزدیک دیکھ کے وہ لحظے بھر کے لیے تھما تھا لیکن فورا ہی خود کو سنبھالتے ہوئے اس کے خوبصورت سراپے سے نظریں چرائیں۔

“کیونکہ آپ مجھے پیاری ہیں اور میری دوست ہونے کے ناطے آپ اُس کو بھی بہت پیاری ہیں۔” اس نے ایک گہری نظر اس کے گلابی چہرے پہ ڈالتے ہوئے گھمبیر لہجے میں جواب دیا تو وہ الجھی نگاہوں سے اسے دیکھنے لگی کیونکہ اس کے دماغ نے اس بات کو سمجھنے سے معذوری ثابت کی تھی۔

“مطلب جو آپ کو پیارا لگے گا وہ آپ کے فرینڈز کو بھی پیارا لگے گا؟” وہ کنفیوژڈ سے انداز میں مستفسر ہوئی۔

“بالکل کیونکہ جب ہمیں کوئی شخص اچھا لگتا ہو تو اس سے جڑی ہر شے ہی اسے بے حد عزیز لگتی ہے۔” فریج سے پانی کی بوتل نکالتے ہوئے وہ اپنے مخصوص انداز میں بولا تو وہ مسکرا دی۔

“یہ تو آپ نے بالکل ٹھیک کہا، آپ مجھے پیارے لگتے ہیں نا تو مجھے آپ کے ہاتھوں کے تِل بھی پیارے لگتے ہیں۔” نرمی سے مسکرا کے کہتے ہوئے اس کے کہے الفاظ کا ثبوت اس کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کرتے ہوئے اس کے دل کے تار چھیڑ انجانے میں ہی چھیڑ دیے۔

بے قابو پوتے جذبات سے گھبراتے ہوئے اس نے فوراً رخ بدلتے ہوئے پانی کا بھرا ہوا گلاس منہ سے لگاتے غٹاغٹ پی دیا۔

“شہرے!جلدی آو ہماری باری آنے والی ہے۔” اس سے پہلے کہ وہ مزید کچھ کہتی لاونج سے آیانہ نے اسے ہانک لگائی کہ اگلا گانا انہوں نے گانا تھا تبھی وہ جلدی سے بھاگنے کے سے انداز میں کچن سے باہر نکلی تو ‘چھن’ کی آواز پہ اس نے چونک کے فرش کی جانب دیکھا جہاں حسبِ معمول اس کا کیچر اس کے سلکی بالوں سے پھسلتا ہوا نیچے جا گرا تھا۔

“جس سے آپ عشق کرتے ہوں اس سے وابستہ ہر جاندار اور بے جان شے آپ کو اپنی جان سے زیادہ عزیز ہو جاتی ہے۔” اس کے کیچر میں نگاہیں جمائے وہ خود سے بولا اور پھر سر جھٹکتے ہوئے کیچر جینز کی جیب میں اڑستا ہوا کچن سے باہر نکلتا لاونج میں پھیلی رونق کا حصہ بن گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“مجھے یہ سب بہت اچھا لگ رہا ہے۔” لائٹننگ سے سجے خوبصورت لان کے ایک گوشے میں کھڑی نگاہ مہندی کے فنکشن کی ہلچل کو تکتی ساتھ کھڑے نین سے مخاطب ہوئی جو آنکھوں میں نرم گرم جذبات لیے اسے ہی تک رہا تھا۔

“واقعی سب بہت اچھا لگ رہا ہے۔” مسٹرڈ کلر کے دیدہ زیب فینسی سوٹ میں ملبوس، ہلکے سے میک اپ کے ساتھ کھلے بالوں کے ساتھ کھڑی نگاہ پہ نظریں جمائے وہ گہرے لہجے میں بولا تو اس کے لہجے کی گھمبیرتا پہ وہ چونکی اور پھر اس کی توجہ کا مرکز جان کر جھینپ سی گئی۔

“مجھے یوں دیکھنا بند کرو نین۔” اس نے اپنی جھینپ مٹانے کو ادھر ادھر تکتے ہوئے اسے ٹوکا لیکن وہ مسکراتے ہوئے اس کے چہرے پہ پھیلے دلکش رنگوں میں کھویا رہا۔

“تمہارے خیال میں کیا یہ اتنا آسان ہے؟” لہجے میں خوبصورت سے جذبات کی مہک لیے بولتا وہ اس کے دل کو دھڑکا سا گیا جبکہ چہرہ گلال ہونے لگا۔

“نین پلیز۔” اس کی نگاہوں کی حدت سے پگھلتی وہ بے اختیار رخ بدل گئی۔
ایسا بہت کم ہوتا تھا کہ وہ یوں بے اختیار ہوتا لیکن جب کبھی اس کی نظروں کا رنگ بدلتا اس کا دل گویا سینے کی دیواریں توڑتا اس کے ہاتھوں میں دھڑکنے لگا۔

“میں اس شادی سے واپسی پہ مما سے تمہیں بلوانا چاہتا ہوں۔” اس کے کھلے بالوں پہ ایک نظر ڈالتے ہوئے اس نے اس نے سر پہ دھماکہ کیا۔
وہ جو اس کی جانب سے رخ موڑے کھڑی تھی ایک جھٹکے سے واپس اس کی جانب مڑی۔
“نہیں میرا مطلب کہ اتنی جلدی۔” اس نے بوکھلاتے ہوئے اسے کہا جو نجانے کیوں دل و نظر کو بے حد بھلا کیوں محسوس ہوتا تھا۔

“جس طرح یہ تمہیں دیکھ رہا ہے مجھے تو خطرہ ہے کہ آج ہی نکاح نہ پڑھوا لے جبکہ تم جلدی کی بات کرتی ہو۔” اس سے پہلے کہ وہ کوئی جواب دیتا بائیں جانب سے آتی رہبان کی شوخ آواز پہ وہ دونوں چونکے۔
فورا گردن گھمائی تو وہ تینوں مسکراتے ہوئے ان سے کچھ قدم کے فاصلے پہ کھڑے تھے۔

چونکہ مہندی کی تقریب زور و شور سے جاری و ساری تھی جبکہ وہ لوگ اس وقت نسبتاً تاریک گوشے میں کھڑے اس سب کو دیکھ رہے تھے۔

“تم یونی میں بے شرمی اور ڈھٹائی کی کلاسز لینے جاتے ہو کیا؟” اس کی شرارت پہ حسبِ سابق وہ فورا چڑی تھی۔

“اونہوں میں یہ ان مجنوں کی اولادوں کے ساتھ عاشقی کی کلاسز لینے کی کوشش کرتا ہوں لیکن یہ سب میرے پلے نہیں پڑتا ہے۔” اس نے بیک وقت ضرغام اور نین کو نشانہ بنایا تو دونوں نے ایک ساتھ بے دریغ اسے یوں گھورا کہ وہ بوکھلا سا گیا۔

“تم سے تو بعد میں نپٹتا ہوں لیکن نین تم نے ٹھیک سوچا ہے۔آنٹی نگاہ کے متعلق ویسے تو جانتی ہی ہیں تو جلد ہی کوئی فائنل سٹیپ لو کیونکہ تم انکل (نگاہ کے والد) کی نیچر کو جانتے ہو۔” ضرغام نے سنجیدگی سے اسے مشورہ دیا تو وہ آہستگی سے سر اثبات میں ہلا کے رہ گیا۔

“نگاہ!” اسی لمحے ثمرین بیگم نے نگاہ کو آواز لگائی کہ وہ آ کے لڑکیوں کے ساتھ سٹیج پہ جا کے رسم کرے۔
کیونکہ وہ اکیلی بہن تھی اور ایسے فنکشنز کو بہت پسند کرتی تھی اس لیے سب کی کوشش تھی کہ اسے ہر فنکشن میں ساتھ لے کر خوب انجوائے کروایا جائے۔
ابھی بھی وہ نین کے بلانے پہ کچھ دیر کے لیے ان سب سے دور ہوئی تھی۔

“جائیں نگاہ صاحبہ!اچھے سے سب کچھ دیکھیں اور انجوائے کریں کیونکہ آپ کا وقت بھی بے حد نزدیک ہے۔” اسے وہاں سے جاتے دیکھ کے ذونین نے ہانک لگائی تو ان سب کے کھلکھلاتے چہروں کو دیکھ کے نجانے کیوں تقدیر بہت اداسی سے مسکائی تھی جبکہ فضا ایک دم سے بوجھل ہو گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ ان تینوں کو ساتھ لیے سٹیج کی جانب بڑھ رہا تھا کیونکہ اب لڑکے سٹیج پہ تیل اور مہندی سے لتھڑے بیٹھے جازم کی رسم کر رہے تھے اس لیے اب وہ بھی اسی واسطے سٹیج کی جانب بڑھ رہا تھا۔
جب تیزی سے سٹیج پر سے اترتی شہرے لہنگے میں پیر اٹکنے کی صورت میں لڑکھڑاتی ہوئی ضرور زمین بوس ہوتی جو وہ اسے بروقت تھام نہ لیتا۔
مگر اسے سہارا دینے کی کوشش میں شہرے کے ہاتھوں میں تھامی پلیٹ جس میں تیل، مہندی اور سویٹ(جو وہ رسم کرنے کے لیے سپیشل اپنے لیے تیار کر کے لائی تھی) تھی وہ اس کے کشادہ سینے سے ٹکرانے پہ اس کے آف وائٹ کرتے کو رنگ گئی۔

“آہ ہائے۔” اس اچانک تصادم پہ سب کے ہونٹوں سے مختلف طرح سے اظہارِ حیرت و تاسف کے لیے آوازیں نکلیں۔

“اوپسسس۔” جبکہ اس کے کرتے پہ بنے نقش و نگار کو تکتی شہرے کے بھی ہونٹوں سے ہلکی سی چیخ نکلی جبکہ وہ جو سارے فنکشن کے دوران دانستاً اس کے خوبصورت مگر کم سن سراپے سے نظریں چرائے ہوئے تھا اسے یوں اچانک اپنے نزدیک دیکھ کے چند پل کے لیے اس کے دلکش چہرے سے نظریں نہ ہٹا سکا جو اورنج، گرین اور پنک امتزاج کے خوبصورت سے لہنگے کرتی میں ملبوس بہت دلفریب لگ رہی تھی۔

“آئم سوری ضرغام چاچو۔” سٹیج پہ بیٹھے سبھی نفوس کی نظریں ضرغام کے کرتے پہ ملبوس تھیں، اس سے پہلے کہ ثمرین بیگم اس تک پہنچتیں شہرے نے اپنی کلائی سے بندھا سرخ ریشمی اسکارف کھول کے بے ساختگی میں اس کے کرتے پہ رکھتے ہوئے گویا اس کے کرتے کو صاف کرنا چاہا تھا۔

“اونہوں، رہنے دیں۔” اس کے لمس کو اپنے سینے پہ محسوس کر کے وہ جیسے ہوش میں آیا اور سنبھلتے ہوئے پہلی فرصت میں اس کے ہاتھوں پہ اپنا ہاتھ رکھ کے اسے ٹوکا۔

“اس سے صاف نہیں ہو گا شہرے بیٹا، آپ پریشان نہیں ہوں۔” ثمرین بیگم نے ان کے نزدیک پہنچتے شہرے کے روہانسے چہرے کو دیکھ کے اسے تسلی دینی چاہی جو بوکھلائی سی ضرغام کے سنجیدہ چہرے کو تک رہی تھی۔

“ڈونٹ وری، آپ اپنے ڈریس کو صاف کریں، میں یہ چینج کر آتا ہوں۔” بہت ہی نامحسوس انداز میں وہ سرخ اسکارف جو شہرے اکثر اپنے ریشمی بالوں میں باندھا کرتی تھی اور ابھی بھی شاید اسی مقصد کے لیے اس کی کلائی سے لپٹا ہوا تھا، وہ اس کے ہاتھ سے لیتے ہوئے اس نے نرمی سے کہا کیونکہ کچھ چھینٹے اس کے لباس پہ بھی پڑے تھے۔

ریشمی چھوٹے سے اسکارف کو اپنی مٹھی میں دبائے وہ اُن تینوں پہ ایک نظر ڈال کے اندر کی جانب بڑھا جبکہ باقی سب واپس سے رسم کرنے میں مصروف ہو گئے۔

ان سب کھلکھلاتے اور بے فکر کھلنڈرے رسم کرتے چہروں میں ایک چہرہ ایسا بھی تھا جو سپاٹ تاثرات کے ساتھ ضرغام کے چہرے سے عیاں ہوتے تاثرات اور اس کی مٹھی میں دبے اس سرخ اسکارف کو گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے ناقابلِ فہم جذبات کی حدت سے دہک رہا تھا۔

وہ چہرہ کس کا تھا؟
کون تھا ایسا جو اُس کے چار دوستوں کے علاوہ اس کے چھپے جذبات کا گواہ بن گیا تھا؟

یہ سوال آنے والے دنوں میں بہت تیزی کے ساتھ ان پانچوں کے مابین ڈسکس ہونے والا تھا۔
کیونکہ آنے والے دنوں میں ان پانچوں کی زندگی ایک انجانے بھنور میں الجھنے والی تھی۔

جاری ہے۔