No Download Link
Rate this Novel
Episode 10
“دل تیرے سنگ جوڑ لیا”
از
حوریہ ملک
اس اچانک ہوئے تصادم پہ آبگینے کا سانس جیسے رک سا گیا جبکہ دوسری جانب رہبان اس مہکتے سراپے کو اپنی بانہوں میں یوں دیکھ کے پل بھر کے حیران ہونے کے بعد کھل کے مسکرا دیا۔
اور اس سے قبل کے آبگینے سنبھلتے ہوئے اس سے فاصلہ بڑھاتی اس نے بایاں بازو بڑھایا اور اس کی نازک کمر کے گرد حائل کر دیا۔
“خیر مقدمی کا یہ دلپزیز انداز بہت پسند آیا مجھے۔” گھمبیر مگر دلکش لہجے میں کہتا ہوا وہ اس کے سینے سے لگی آبی کے حواس ٹھٹھرا گیا۔
نازک کمر کے گرد لپٹے اس کے مضبوط بازو کا سلگتا ہوا لمس، اس کی پرتپش سانسوں کی لپک، خوبصورت لب و لہجے میں چھپا ہوا تبسم اور پہلو پہ سرسراتی اس کی انگلیوں کی حرکت یہ سب اس کے اعصاب پہ بہت بھاری محسوس ہو رہا تھا۔
“چ۔۔چھوڑیں مجھے۔” اپنی پوری ہمت مجتمع کرتے ہوئے اس نے اس کی گرفت میں کسمساتے ہوئے خود کو آزاد کروانا چاہا جب اس کے وجود کی نرمیوں کو محسوس کرتا رہبان اس مزاحمت پہ چونکا اور پھر کھل کے مسکرا دیا۔
“معافی چاہتا ہوں لیکن بہت المینرڈ ہوں میں اس معاملے میں، کسی کے حکم دینے پہ عمل نہیں کرتا میں۔” دلکشی سے کہتے ہوئے اس نے اس کی کمر کے گرد لپٹے اپنے بازو کو جھٹکا دیتے ہوئے اسے مزید خود کے قریب کیا تو اس قیامت خیز قربت پہ اس کی سانسیں اتھل پتھل ہونے لگیں۔
“چھوڑیں مجھے پلیز۔” اب کی بار مترنم لہجے میں ہلکی سی نمی جھلکی تو رہبان نے نظریں جھکا کے اس کے چہرے کی جانب دیکھا جو ہنوز نیٹ کے سرخ آنچل میں چھپا ہوا اس کے احساسات پہ عجب انداز میں اثر چھوڑ رہا تھا۔
بنا اس کی کمر سے بازو ہٹائے اس نے دوسرا ہاتھ آگے بڑھایا اور ان دونوں کے بیچ دیوار بنتے اس آنچل کو بہت آہستگی سے اس کے چہرے پر سے ہٹایا تو جیسے چاند بادلوں سے نکل کے سامنے آ گیا تھا۔
اس کے نام کے سولہ سنگھار کیے وہ اس کے دل کے کواڑوں پہ دستک دیتی محسوس ہو رہی تھی اور اس کے روپ سروپ کی اس دلکشی کو دیکھتے ہوئے رہبان گردیزی کا دل اس دستک پہ سارے کواڑ کھولنے کے درپے تھا۔
“breath taking…..”
اس کی ستواں ناک میں پہنی گئی نتھ پہ اپنی مخمور نگاہیں جمائے اس نے مدہوش سے لہجے میں سرگوشی کی تو اس انداز اور اندازِ بے خودی پہ سامنے بیٹھی آبگینے لرز اٹھی۔
“ک۔۔کون ہیں آپ؟” اس نے گھبرائے ہوئے لہجے میں وہی سوال دہرایا جو وہ گزشتہ دو مرتبہ بھی ان کے درمیان ہوئی گفتگو میں استعمال کرتی آئی تھی۔
“آپ کو آپ کے گھر والوں کے سامنے اپنی بانہوں میں اٹھا کے رخصت کروانے کے بعد فوری ہنی مون ارینج کر کے اپنے سامنے بٹھا کے دیکھنے کی جرات وہی کر سکتا ہے جس کے نام کی مہندی اپنے ہاتھوں پہ سجائے بیٹھی ہیں۔” بڑے دلکش اور پرجذب انداز میں کہتے ہوئے اس نے دونوں ہاتھ بڑھاتے ہوئے اس کی کپکپاتی ہتھیلیاں اپنے ہاتھوں میں جھکڑیں اور بڑی نرمی کے سامنے جھکتے ہوئے اپنے نرم گرم لب اس کی ہتھیلوں پہ رکھے تو اس لمس اور اس جرات پہ آبگینے تھراہ اٹھی اور اسی ہڑبڑاہٹ میں اس کے لپ اسٹک سے سجے خوبصورت ہونٹوں سے ایک چیخ سی نکلی تھی۔
“نہیں!” اس نے فورا اس کی گرفت سے ہتھیلیوں کو آزاد کرواتے ہوئے بڑے بے ساختہ انداز میں اپنے آنچل تلے چھپاتے ہوئے حیرانگی و بے یقینی سے اسے دیکھا جو اسی کی جانب دیکھ رہا تھا۔
“یہ کام آئندہ مت کیجیے گا۔” اس کی خوبصورت شیڈز سے سجی آنکھوں میں جھانکتا وہ اسے وارن کرنے والے لہجے میں بولا تو اس سحر انگیز شخص سے آبگینے کو خوف سا محسوس ہونے لگا۔
“کیوں لے کے آئے ہیں آپ مجھے یہاں؟” اس کے اس بے تکے اور فضول سوال کو سن کے وہ بھنا سا گیا تھا۔
“جھک مارنے کے لیے۔” اگر سوال سیر تھا تو جواب سوا سیر تھا جسے سن کے آبگینے کو اس شخص کی خودسری سے خوف آنے لگا۔
“مجھے گھر جانا ہے اپنے۔” اس نے اپنی ہتھیلیوں کو زور سے رگڑتے ہوئے اپنے لب ایک دفعہ پھر سے کھولے تو رہبان کی کشادہ پیشانی پہ ایک بل نمودار ہوا۔
“میں یہ پہلے واضح کر چکا ہوں کہ میں کسی کے کہے پہ نہیں چل سکتا۔” مضبوط لہجے میں کہتے ہوئے اس نے ہاتھ اس کی جانب بڑھائے تو وہ نفی میں سر ہلاتی ایک انچ پیچھے کو کھسکی۔
“آ۔۔۔آپ مجھے تنگ نہیں کریں، مجھے واپس جانے دیں۔پیر سائیں آپ کو زندہ نہیں چھوڑیں گے۔” وہ چاہتی تھی کہ اسے اس آزمائش سے بچایا جائے اور اس رسم کا خاتمہ کیا جائے لیکن بے ہوش ہونے سے قبل جو ردعمل وہ اپنی حویلی والوں کا دیکھ چکی تھی اس پہ مستزاد رہبان کا اسے لے کے روپوش ہو جانا یہ سب اس کو خوفزدہ کر گیا تھا۔
وہ اپنے گھر والوں کی جنونیت، ضد اور انتقام سے واقف تھی اس لیے وہ کم از کم اس رسم کو ان سے ایسی ٹکر لے کے ختم نہیں کروانا چاہتی تھی جس میں بے جا خون کی ندیاں بہیں۔
“فی الحال تو آپ یوں دور رہ کے میری چلتی سانسوں پہ بھاری پڑ رہی ہیں۔” اس کی فاصلہ بڑھانے والی حرکت پہ چوٹ کرتے ہوئے اس نے ہاتھ بڑھایا اور بڑی سہولت کے ساتھ اسے اپنی گرفت میں مقید کیا تو وہ اس کی گرفت میں پھڑپھڑائی۔
“میں نے یہ شادی بس اس رسم کو ختم کرنے کے مقصد کے لیے کی تھی کیونکہ کسی نے مجھے کہا تھا کہ شادی کر لو نکاح کے بولوں کی طاقت محبت کروا دے گی لیکن۔۔۔۔۔۔” اس کی مزاحمت کو مکمل نظر انداز کرتے ہوئے وہ بایاں بازو اس کی کمر کے گرد حائل کیے ہوئے دائیں ہاتھ کی مضبوط انگلیاں اس کے جھومر پہ پھیرتا اس کی دھڑکنوں کے زیرو بم کو تباہ کر رہا تھا۔
“لیکن اب آپ کو مکمل استحقاق کے ساتھ اپنی بانہوں میں اس روپ کے ساتھ محسوس کرتے ہوئے مجھے لگ رہا ہے کہ میں محبت نہیں شدید ترین عشق کی طرف مائل ہو رہا ہوں اور میرے جیسے عاشق کسی کی دھمکیوں سے گھبراتے نہیں ہیں۔” پرفسوں لہجے میں بولتے ہوئے وہ اس کے کان کے بھاری جھمکے کی جانب جھکا اور اسے اپنے ہونٹوں سے چھوتے ہوئے اسے بے ساختہ زور سے بھینچتے ہوئے اپنے سینے میں پیوست کیا۔
“شادی سے قبل جذبات و احساسات صرف ایک ہی طرف مبذول تھے اس لیے ایک بڑی اہم شے ‘منہ دکھائی’ آپ کی دلکشی کے شایانِ شان لینا بھول گیا ہوں لیکن منہ دکھائی کے بعد جو احساسات میں تلاطم برپا ہوا ہے اس کے مطابق تحفہ وصول کریں۔” بھاری مخمور لہجے میں بولتے ہوئے وہ اس کے کچھ بھی سمجھنے سے قبل جھکا اور اس کی بھاری نتھ پہ اپنے لب رکھتا وہ اپنے پرشدت لمس کی حدت سے اس کے چہرے کو دہکا گیا۔
اور پھر یہی نہیں اس کے گستاخ لب سرسراتے ہوئے اس کے بالائی لب کے اوپر بالکل درمیان میں موجود بڑے سے تل پہ اپنا تسلط جماتے اس کی سانسوں کی رفتار کو بڑھا گئے۔
“پلیز۔” دونوں ہاتھ اس کے سینے پہ رکھتے ہوئے اس نے فاصلہ بڑھانے کی کوشش کرتے ہوئے مزاحمت کرنی چاہی ورنہ تو اس بے لگام شخص کی حرکتیں، باتیں اور بے باک نگاہیں اس کے حواس چھوڑنے کا باعث بنتی جا رہی تھیں۔
“آبگینے یہ فضول کی مزاحمت چھوڑ دیں کیونکہ اس کا فائدہ نہیں ہے۔” اس کی مزاحمت دیکھتے ہوئے وہ سنجیدگی سے گویا ہوا اور ہاتھ اس کے جھمکوں کی جانب بڑھاتے ہوئے انہیں اس کے کانوں سے الگ کرنا چاہا تو وہ جیسے پھٹ پڑی۔
“آپ اتنے پرسکون کیسے ہو سکتے ہیں؟ آپ کو سمجھ کیوں نہیں آ رہی کہ جس لڑکی کو اس کے گھر والوں کے سامنے آپ یوں اٹھا کے لا کر رومانس بگھاڑ رہے ہیں وہ کوئی عام لڑکی نہیں ہے بلکہ وہ پیر حویلی میں صدیوں سے چلتی رسم کو پورا کرنے کے لیے چنی گئی لڑکی ہے اور اسے یوں اٹھا کے لانے پہ آپ کے خاندان، آپ پہ آپ کے جاننے والوں پہ کس قدر مشکلات آ سکتی ہیں آپ کو ان کا اندازہ نہیں ہے اس لیے خدا کے لیے مجھے واپس گھر چھوڑ کے آئیں۔” پوری قوت لگا کے اس کی گرفت سے آزاد ہونے کی ناکام کوشش سے جھلستی وہ بلند آواز میں بولتی چلی گئی جبکہ وہ بنا کوئی تاثر دیے اس کی بات مکمل ہونے کا منتظر تھا۔
“اس ساری بات میں صرف ایک بات پہ شدید اختلاف ہوا ہے، رومانس بگھاڑنے کا طعنہ دینے سے قبل یہ تو سوچ لینا تھا کہ آپ رونس بگھاڑنے ہی کہاں دے رہی رہیں آپ؟” دلکشی و جذب سے کہتے ہوئے وہ اس کے چہرے پہ جھکا اور اس کے کسی بھی بچاو سے قبل اس کے خوبصورت نقوش کو اپنے ہونٹوں کے بے لگام لمس سے چھوتا ہوا سرخ کرنے لگا جبکہ اس کی جرات پہ ہق دق سی آبگینے اس کے سینے سے لگی اس کی گستاخیوں پہ لرز رہی تھی۔
“میں کوئی پلے بوائے نہیں ہوں آبگینے جو صرف انجوائے منٹ کے لیے اتنا بڑا قدم اٹھا گیا۔میں ایک اٹھائیس سالہ باشعور مرد ہوں, مجھے اندازہ ہے کہ جو میں کر چکا ہوں اس کے کیا کیا اثرات ہو سکتے ہیں لیکن اگر میں نے یہ قدم اٹھایا ہے تو مجھے اس کے بدلے ہونے والے ہر ردعمل کو ڈیفینڈ بھی کرنا آتا ہے۔اس لیے آپ یہ بات ذہن سے نکال دیں کہ میں آپ کو اپنے نام کر کے کسی بھی فضول رسم کا حصہ بننے کے لیے وہاں واپس چھوڑ کے آوں گا۔یہ تو تب بھی ممکن نہ تھا جب آپ کو صرف اپنی ‘بیوی’ بنانے کی غرض سے گیا تھا اب تو آپ سے ‘عشق’ ہونے والا ہے۔” اپنے خوبصورت لب و لہجے میں بولتا ہوا وہ اس کی تمام باتوں کا جواب بہت واضح الفاظ میں دیتا آخر میں شوخی سے کہتے ہوئے اپنی بائیں آنکھ دبا گیا تو وہ جیسے ہوش میں آئی۔
“اور۔۔۔اور اگر میں اپنی مرضی سے کہوں کہ م۔۔مجھے آپ کے ساتھ نہیں رہنا تو پھر۔۔۔؟؟” اس کے دماغ میں گولی کی گونج جیسے اودھم مچا چکی تھی لیکن اپنی بات کے جواب میں رہبان گردیزی کی بے باک و گستاخ حرکت جو اودھم اس کے وجود میں مچا گئی تھی وہ ایک لمحے کے لیے لرز اٹھی تھی۔
کیونکہ اس کے سوال کے جواب میں اس کے پہلووں پہ دونوں ہاتھ مضبوطی سے جمائے اس کے وجود کی نرمی کو محسوس کرتے ہوئے بڑے گستاخانہ انداز میں اس کی گردن پہ جھکا اور ایک پرشدت لمس وہاں چھوڑتے ہوئے اس کے وجود کو لرزنے پہ مجبور کر گیا۔
“پہلے ہی بتا چکا ہوں بڑا بے ادب اور المینرڈ سا بندہ ہوں۔” اپنے مخصوص لہجے میں اسے باور کرواتے ہوئے اس نے اب کے ہاتھ اس کی گردن پہ جمے بھاری ہار کی جانب بڑھائے تو اس کے ارادوں کو سمجھتی آبگینے کی سانسیں اس کے سینے میں اٹکنے لگیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گہری تاریک رات کے سائے میں وہ برآمدے کی سیڑھیوں پہ بیٹھی ہوئی اس سمے گہری سوچوں میں مگن تھی جب اپنی وہیل چیئر کو گھسیٹتے ہوئے ابراہیم صاحب وہاں آئے تھے۔
“کیا بات ہے زحلے، اس وقت یہاں کیوں بیٹھی ہو؟” اس کے نزدیک آ کے رکتے ہوئے انہوں نے نرمی سے استفسار کیا تو وہ ان کی اچانک آواز پہ جیسے چونک اٹھی۔
“کچھ نہیں بابا، نیند نہیں آ رہی تھی تو یہاں آ کے بیٹھ گئی۔” وہ سنبھلتے ہوئے مسکراتی ہوئی گویا ہوئی تو وہ بغور اس کا چہرہ دیکھنے لگے۔
“کوئی پریشانی ہے کیا؟” ان کے سوال پہ وہ جزبز سی ہو گئی اور پھر کچھ سوچتے ہوئے بولنے لگی۔
“بابا!اگر کوئی چیز گھر کے اندر ہی کھو گئی ہو تو اسے کیسے ڈھونڈا جائے؟” اس نے بمشکل اپنے اندر ہوتی جنگ کو مناسب لفظوں کا روپ دیا تھا۔
“گھر کے اندر کھوئی چیزوں کے متعلق گھر والوں سے بہتر کوئی نہیں جان سکتا۔” انہوں نے اپنے مخصوص مشفقانہ انداز میں جواب دیا تو وہ مزید الجھی۔
“لیکن اگر گھر والوں سے پوچھا نہ جا سکتا ہو تو پھر کیسے ڈھونڈی جائے؟” اس کے سوال پہ وہ ہلکا سا مسکرائے۔
“گھر سے پوچھیں۔” ان کے جواب پہ اس نے متعجب انداز میں ان کی جانب دیکھا۔
“گھر کے اندر کی بہت قیمتی چیز کھوئی ہو تو ہمیں گھر کے در و دیوار سے بھی پوچھنا چاہیے کیونکہ اس سے بہتر کوئی جواب نہیں دیتا، اس قیمتی چیز کا گھر کے کسی نہ کسی حصے سے کوئی نہ کوئی تعلق، ربط، یاد نکل آتی ہے جس سے ہم اس تک پہنچ جاتے ہیں۔” ان کے رسانیت بھرے انداز میں اس کے اندر جاری خلفشار کسی حد تک کم ہو گیا۔
“بہت شکریہ بابا, میں بس تھوڑی سی پریشان تھی لیکن اب میں ٹھیک ہوں۔” وہ قدرے ہشاش بشاش لہجے میں گویا ہوئی تو وہ بھی پرسکون ہو گئے۔
“چلو پھر اسی خوشی میں اچھی سی چائے بناو، دونوں باپ بیٹی مل کے پیتے ہیں اور ساتھ گپ شپ بھی لگاتے ہیں۔” انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا تو وہ سر اثبات میں ہلاتی اپنی جگہ سے اٹھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“اللّٰہ کا واسطہ ہے شہری!یہ پخ ابھی چھوڑنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔” وہ ابھی گھر میں داخل ہو رہا تھا جب آیت کی جھنجھلائی سی آواز اس کے کانوں میں سنائی دی۔
“آیت پھپ۔۔۔۔۔۔” جواباً اس نے کچھ کہنا ہی چاہا تھا کہ وہ چلا اٹھی۔
“خدا کے لیے شہری، مجھے آیت ہی رہنے دو مجھے نہیں چاہیے اپنے سے دو ماہ چھوٹی لڑکی سے اتنی عزت۔” اس کے انداز پہ شہرے سمیت وہاں موجود سبھی افراد کھلکھلا اٹھے جبکہ اسی جانب آتا ضرغام بھی ہلکا سا مسکرا دیا۔
“بھئی میں بہت با ادب اور تمیز دار بچی ہوں، رشتوں کا لحاظ رکھ کے مخاطب ہوتی ہوں۔” اس کے شوخ لہجے پہ آیت نے فلور کشن اٹھا کے اس کی جانب پھینکا۔
“ہاں اور تمہارے اسی ادب کے چکر میں ہم سب کے چانس تم خراب کر دیتی ہو۔اب دیکھو ذرا ضرغام لالہ،جازم لالہ، ارسم،راسم، عیسی اور موس لالہ کو کس اینگل سے یہ تم جیسی لڑکی کے چاچو لگتے ہیں؟” آیت کے انداز پہ اس کے ہونٹوں سے ایک دفعہ پھر سے کھلکھلاہٹ آزاد ہوئی تو ضرغام نے بمشکل آنکھوں پہ ضبط کے گہرے پہرے بٹھاتے ہوئے اس کی جانب دیکھنے سے مکمل گریز کیا اور صوفے پہ براجمان ہو گیا۔
“نوشے میاں!آپ کب لے رہے ہیں آفس سے آف؟” اسے دیکھ کے سب اس کی جانب متوجہ ہو گئے جبکہ اسے دیکھ کے شہرے کے دماغ میں بے ساختہ تہمینہ کے کہے گئے الفاظ لہرائے تو اس نے ایک دفعہ پھر سے اس کی جانب گردن گھمائی لیکن اسے مکمل ارسم کی جانب متوجہ دیکھ کے وہ پرسکون ہو گئی۔
“مینا کا تو دماغ خراب ہے، چاچو تو نگاہ چچی کو بہت پسند کرتے ہیں۔” اپنے دل کو تسلی دیتی ہوئی وہ تہمینہ کے کہے کو رد کرتی پرسکون سی ہو گئی۔
“مہندی والے دن۔” اس نے آہستگی سے جواب دیتے ہوئے ملازمہ کے ہاتھ سے پانی کا گلاس تھاما اور گھونٹ گھونٹ پینے لگا۔
“چلو تمہارا تو مان لیا کہ تم تو ہو ہی روبوٹک مشین لیکن ان محترمہ کا دیکھو جو تمہاری شادی کے لیے اتنی بے چین پھر رہی تھیں وہ کل ٹرپ پہ جا رہی ہیں۔” عیسیٰ نے اس کی توجہ شہرے کی طرف دلوانی چاہی جو اس وقت وہاں ان سب کو اپنے ٹرپ کے بارے میں ہی بتانے آئی تھی۔
“تو اس میں کیا پریشانی ہے؟ یہ مواقع روز روز تھوڑی آتے ہیں، مہندی دو دن بعد تیسرے دن ہے تو تب تک یہ واپس آ جائیں گی۔” وہ جو واقعی یہ چاہتا تھا کہ وہ ان دنوں اس کی نظروں سے اوجھل ہو جائے کیونکہ یہ لمحے، یہ دن اور اس پہ مستزاد اس کی موجودگی اس پہ بہت بھاری پڑ رہی تھی اور وہ اپنا ضبط کھوتا جا رہا تھا۔
اسے یہ موقع بہت بہترین لگا اس لیے بنا اس کی جانب دیکھے اس نے اس کی طرف داری کی تو وہ جیسے کھِل اٹھی۔
“واو،تھینک یو ضرغام چاچو۔اب تو دلہے کی جانب سے پرمٹ مل گیا ہے اب تو جانا کنفرم ہو چکا ہے نا۔” وہ چہکتی ہوئی اپنی دوستوں کو مطلع کرنے کے لیے اٹھی اور وہاں سے بھاگ نکلی۔
جبکہ وہیں بیٹھا ضرغام ملک اس کی غیرموجودگی کو محسوس کرتا وہاں ہو کے بھی وہاں موجود نہ تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
‘پیر حویلی’ کے افراد اس وقت پاگل کتوں کی مانند رہبان گردیزی اور آبگینے جعفر کو تلاش کر رہے تھے جو ان کو ملی گئی اطلاع کے مطابق ‘گردیزی پیلس’ نہ گئے تھے۔
“پیر سائیں!آپ کس بات کا انتظار کر رہے ہیں؟آپ کیوں اجازت نہیں دے رہے کہ گردیزیوں کی بیٹی کو اٹھا کے لے آئیں اور رہبان گردیزی کو کہیں کہ یا تو ہماری بیٹی ہمیں واپس کر دے یا اپنی بہن کو اس رسم کی بھینٹ چڑھانے کے لیے تیار ہو جائے۔” سفیر سائیں اور طلال جعفر جو ان سب سے زیادہ غصے سے آگ بگولہ ہو رہے تھے وہ غصے سے پیر سائیں سے مخاطب ہوئے۔
“اونہوں، تحمل کا مظاہرہ کرو کیونکہ اب ہماری بچی تو ہماری رسم نبھانے کے قابل نہیں رہی۔” انہوں نے نپے تلے الفاظ کا سہارا لیا کیونکہ ان کے خیال میں اب تک رہبان گردیزی آبگینے کے وجود پہ اپنے وجود کی چھاپ چھوڑ چکا ہو گا اور اس صورت میں تو وہ یہ رسم نبھانے کی اہل نہ رہی تھی۔
“اس لیے ہم رہبان گردیزی کے گھر کی ایک بچی کو اس رسم کے لیے ضرور اٹھا کے لائیں گے لیکن اس سے پہلے اس شخص کو کمزور کرنا ہو گا جس کی پشت پناہی سے وہ کمینہ شخص ہماری بچی اٹھا کے لے گیا ہے۔” پیر سائیں کی بارعب آواز پہ سب نے چونک کے ان کی جانب دیکھا جن کے چہرے پہ اس وقت پرجلال سائے چھائے ہوئے تھے۔
“کون سا شخص؟” جعفر سائیں نے استفسار کیا تو پیر سائیں کے مریدِ خاص سے اس شخص کا نام سن کے لحظہ بھر کے لیے سب چپ سے ہو گئے۔
“اس کی شادی ہونے والی ہے ایک دو دن میں اور اس کی شادی ہونے سے قبل چاہے اس کی ہونے والی بیوی کے ذریعے، گھر کے کسی مرد کے ذریعے یا پھر کسی بھی عورت کے زریعے اس شخص کو اپنے قابو میں کرو اور یہ کام انہی دو دنوں میں کرو۔پھر اس کے بعد اسی شخص کے ذریعے رہبان گردیزی کو شکست دو۔” پیر سائیں کے کہے گئے الفاظ کو وہاں موجود ہر مرد پوری طرح سے ذہن نشین کرتا اپنے لیے ٹارگٹ سیٹ کرتا اس کے نزدیک موجود رشتوں کو جانچنے لگا۔
اور پھر ان نزدیکی رشتوں میں نکلنے والے تین ناموں کو دیکھ کے پیر سائیں اور ان کے بیٹوں کی آنکھیں چمکنے لگیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“کیا آپ میرے ساتھ اس کمرے سے باہر نکلو گے؟” اس کو ناشتے کے بعد والا لیکچر دینے کے بعد اس نے اچانک اس سے استفسار کیا تو ذوالنورین نے چونک کے اس کی جانب دیکھا۔
“کیوں؟” اس کے یک لفظی سوال پہ وہ گہری سانس بھرتے ہوئے اس کی جانب متوجہ ہوئی جو بائیں جانب دیوار کو دیکھ رہا تھا۔
“کیونکہ مجھے آپ کے دیے ٹارگٹ کو پورا کرنا ہے لیکن میں اس گھر میں آپ کے بنا کہیں گھوم نہیں سکتی۔” اس کے سیدھے سے جواب پہ اس نے لحظے بھر کے لیے اسے دیکھا اور پھر نظریں واپس دیوار پہ جما دیں۔
“میرا سہارا اس قدر مضبوط بھی نہیں ہے کہ آپ اس کی بنا پہ اپنے آپ کو محظوظ محسوس کریں۔” اس کے گھمبیر لہجے کہے گئے ان گہرے الفاظ پہ وہ سُن سی ہو گئی تھی۔
وہ نہیں جانتی تھی کہ اس نے یہ الفاظ کیونکر بولے تھے لیکن نجانے کیوں یہ الفاظ اس کے دل پہ بہت بری طرح سے اثر انداز ہوئے تھے۔
“آپ چوڑیاں پہن کے آئیں۔ماما کو ان کی کھنک بہت پسند ہے یہاں کوئی چوڑیاں استعمال نہیں کرتا اس لیے آپ کی چوڑیوں کی آواز پہ وہ آپ تک خود آ جائیں گی۔” اس کی خاموشی پہ وہ مزید بولا تو زحلے کو اچانک اپنی کلائی پہ ایک اجنبی سا نرم گرم لمس یاد آیا تو اس نے نظر اٹھا کے اس کی جانب دیکھا جو اس کی کلائی کی جانب ہی متوجہ تھا۔
اس کی نگاہوں میں نجانے کیسی لپک تھی کہ اس کو اپنا بازو ان دیکھی آگ میں جھلستا ہوا محسوس ہوا اور پھر اگلا لمحہ اس کے لیے حیرت کا سامان پیدا کر گیا جب اس نے اس کے بائیں ہاتھ کو اس کی نازک کلائی کی جانب بڑھتے ہوئے دیکھا۔
جاری ہے۔
