57.1K
55

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 31

“دل تیرے سنگ جوڑ لیا”
از
حوریہ ملک
Episode#31;

نین کی بلند ہونے والی چیخوں کو سن کے جب بوکھلاتے ہوئے وہ دونوں پلٹے تو سرفراز شاہ کے دوست بخت خان کے ساتھ سفیر سائیں اور آفاق میر کو دیکھ کے ٹھٹھک گئے۔
انہوں نے دیکھا تھا کہ بخت خان ہاتھ میں پسٹل تھامے نین کی ٹانگوں اور بازووں کو نشانہ بنا چکا تھا۔

“تم لوگوں کی ہمت کیسے ہوئی میرے بیٹے پہ ہاتھ اٹھانے کی؟” سفیر سائیں سرفراز شاہ کی مخدوش حالت دیکھ کے اس قدر پاگل ہو گیا کہ سڑک کنارے پڑا سریا اٹھا کے وہ ان کی جانب بڑھا اور نین کے جہاں گولیاں لگی تھیں اس جگہ پہ گھسیڑنے لگا اس کی بلند چیخیں سن کے وہ دونوں ہوش میں آتے اس کی جانب لپکے تھے جب بخت خان نے ایک دفعہ پھر سے فائرز کیے لیکن رہبان کی جوابی فائرنگ سے دونوں طرف کے نشانے خطا ہو گئے۔

لیکن چونکہ وہ دونوں نین کی تکلیف پہ تڑپتے ہوئے اسے سنبھالنے کو اس کی جانب لپکے تھے وہ لاشعوری طور پہ خود کو اور نگاہ کو بھول گئے جو نین کو گولیاں لگتے دیکھ کے حواس کھونے کو تھی۔
ان لوگوں کی اسی لاپرواہی کا فائدہ اٹھاتے بخت خان نے پسٹل سنبھال کے پھر سے نشانہ باندھا جو سفیر سائیں کے ہاتھ سے سریا کھینچتے رہبان کے سینے پہ جا لگا جبکہ اس کا دوسرا نشانہ ضرغام کا وجود تھا جو نین کے خون آلود وجود کو سنبھالنے کی کوشش کر رہا تھا۔
یکایک دو فائرز ضرغام ملک کے سینے میں پیوست کرتے ہوئے اس نے آفاق میر جو کہ سلیمان میر کی حالت دیکھ کہ غصے سے آگ بگولہ ہو چکا تھا اس کے ہاتھ سے شاپر میں لپٹی ایک بوتل پکڑی۔

“تم لوگوں سے بس ‘میر سنز اینڈ کمپنیز’ کی پاور آف اٹارنی چاہیے تھی اور اس لڑکی کے ساتھ کچھ لمحے گزارنے کے لیے وقت چاہیے تھا میرے دوست کو لیکن تم لوگوں کی ہیرو گیری تم سب کی عبرتناک موت کا باعث بن گئی ہے۔” ان لوگوں کے خون آلود وجود کو پتھریلی سڑک پہ پڑے دیکھ کے بخت خان نے تنفر سے زمین پہ تھوکتے ہوئے قدم ان کی جانب بڑھائے جب خود کو سنبھالتے ہوئے سفیر سائیں اپنی جگہ سے کھڑا ہوا اور اپنے پاوں کی ٹھوکر سے ان تینوں کو متوجہ کرنا چاہا۔

“آنکھیں کھولو اپنی کمینو، اس لڑکی کی وجہ سے تم لوگوں نے میرے بیٹے کا یہ حشر کیا ہے نا۔اب دیکھو میں کس طرح سے اس لڑکی کے وجود کو عبرت کا نشان بناتا ہوں۔” وہ تینوں جن کے وجود سے زندگی کی رمق گویا ختم ہونے کو تھی اس شخص کی ایسی گھٹیا بات سن نے انہوں نے اپنی ہمت مجتمع کی اور پوری کوشش کی کہ نگاہ کی جانب بڑھ سکیں لیکن ٹوٹتی سانسوں کا ربط اس وقت گویا مکمل طور پر ٹوٹ گیا جب انہوں نے نگاہ کے دلخراش چیخیں سنیں کیونکہ بخت خان نے ہاتھ میں پکڑی تیزاب کی بوتل نگاہ کے چہرے کی جانب اچھال دی تھی۔

“نگاہ!” وہیں اِس لمحے نگاہ کی چیخوں کے ساتھ جو آخری آواز تھی وہ ذوالنورین میر کی پھٹی ہوئی آواز تھی جو اپنے دوستوں کی ایسی حالت دیکھ کر وہیں جم گیا تھا۔

یہاں اگر ایسا انسانیت سوز واقعہ یوں دھڑلے سے پیش آیا تھا تو اس کی وجہ یہ تھی کہ شازمین میر اور سفیر سائیں نے پولیس کو بھاری رقم دے کر تعمیراتی کام کا بہانہ بنا کے اس روڈ پہ ٹریفک تقریباً مکمل بند کروا کے متبادل روڈ استعمال کرنے کا حکم دیا تھا۔
ذوالنورین میر جس کی دگرگوں حالت کے باوجود وہ اس کی ذہنی پراگندی کا فائدہ نہ اٹھا سکے کہ اس نے ہاسپٹل میں پاور آف اٹارنی کے پیپرز پہ سائن نہ کیے تھے کیونکہ وہ کم عمر لڑکا نہیں تھا جس سے ماں کے آپریشن کے علاوہ کسی بھی پیپر پہ بہلا پھسلا کے سائن کروائے جا سکتے تبھی شازمین میر نے سوچا کہ اسے بھی وہیں اس کے دوستوں تک کسی طریقے پہنچا کے اس کا بھی کام تمام کیا جائے۔بعد میں پاور آف اٹارنی کے پیپرز بنوانا بہت آسان تھا۔
ولید میر کا کام وہ پہلے ہی تمام کروا چکے تھے، کلثوم میر کومے میں تھے ایسے میں ان دونوں بھائیوں کی موت کے بعد پاور آف اٹارنی تو تھی ہی اُن کی۔
یہی سوچ کے اس نے اسے کسی نمبر سے اس واقعہ کی چھوٹی سی ویڈیو بھجوائی جب نین پہ تشدد ہو رہا تھا تبھی وہ ماں کی ذاتی ملازمہ کو ان کا خیال رکھنے کا کہہ کر ہاسپٹل سے تیزی کے ساتھ نکلا مگر اسے آنے میں دیر ہو چکی تھی کہ اس کے آنے تک اس کے بھائی سمیت اس کے دوست اُن سب کی نفرت, حسد اور انتقام کا نشانہ بن چکے تھے۔
اپنے منجمند ہوتے وجود کو پوری قوت سے حرکت دینے کی کوشش کرتے ہوئے اس نے نگاہ کی طرف بڑھنا چاہا جب عقب سے آتی شازمین میر کے ہائیر کردہ آدمی کی گاڑی نے اسے زور سے ہِٹ کیا تو وہ اس کا وجود اچھلتا ہوا کئی فٹ دور جا گرا اور ذہن تاریکی میں ڈوبتا چلا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ابراہیم صاحب کی میڈیسن ختم ہو چکی تھیں اور بدقسمتی سے وہ آج ٹیوشن سے بھی لیٹ ہو چکی تھی اس لیے تیز تیز قدم اٹھاتی وہ ٹیکسی کا انتظار کیے بغیر میڈیکل سٹور کی تلاش میں چل پڑی کیونکہ جس سائیڈ پہ وہ ٹیوشن کے لیے آتی تھی وہاں کوئی بھی میڈیکل سٹور نہیں تھا۔
اسے چلتے ہوئے تقریباً پندرہ منٹس ہو چکے تھے جب یکے بعد دیگرے چار گاڑیاں بہت تیزی کے ساتھ اس کے پاس سے گزریں تو ان کی سپیڈ دیکھ کے وہ دہل سی گئی۔

“یا وحشت!” زیرِ لب بڑبڑاتے ہوئے وہ چادر مزید خود لے گرد لپیٹتی ہوئی آگے بڑھی جب چلتے چلتے اس کی نظر بائیں جانب مین سڑک سے ہٹ کے قدرے سنسان سڑک پہ گئی تو اس کا وجود گویا تھرا سا گیا۔
اگلے ہی پل وہ بھاگتی ہوئی اس طرف گئی لیکن وہاں موجود پانچ افراد کے خون آلود وجود دیکھ کر اس کے ہونٹوں سے مارے خوف کے دبی دبی سی چیخ نکلی۔

اسی خوف کے زیرِ اثر وہ شاید وہاں سے بھاگ جاتی لیکن جب اس کی نظر نگاہ کے گلے سڑے چہرے پہ پڑی تو وہ ہمت جتاتی ہوئی اپنے خوف پہ کڑے پہرے باندھ کے اس کی جانب بڑھی اور اس کے پاس پڑا دوپٹہ اس کے چہرے پہ ڈال کے اس نے کپکپاتے ہاتھوں سے اس کی کلائی تھامی۔
رک رک کے چلتی سانسوں کو محسوس کر کے اس کے اپنے اندر گویا زندگی کی رمق دوڑ گئی۔
اس نے کپکپاتے لرزتے ہاتھوں سے کندھے پہ پڑے بیگ سے اپنا موبائل نکال کے ایمبولینس کو کال کی اور اس جگہ کی لوکیشن بتا کے کال بند کر دی۔
نگاہ کے زندہ ہونے کا یقین خود کو دلا کر وہ ان تینوں لڑکوں کی جانب بڑھی جو ایک دوسرے کے بالکل نزدیک پڑے ہوئے تھے۔
اس نے باری باری ان تینوں کی نبض چیک کی تو اُن میں سے ایک کی سانسیں اسے بہت ہی مدہم محسوس ہوئیں۔

“الہی خیر!پتہ نہیں کون لوگ ہیں یہ؟کس نے کیا ہے اتنا ظالمانہ تشدد ان لوگوں پہ؟” ان لوگوں کی حالت دیکھ کے اس کے اپنے اوسان خطا ہو رہے تھے لیکن وہ اس طرح اپنے سامنے کسی کو دم توڑتے نہیں دیکھنا چاہتی تھی اس لیے اس نے ایک دفعہ پھر سے ایمبولینس کو کال کی۔
کال سے فارغ ہونے کے بعد وہ اس شخص کی طرف متوجہ ہوئی جو ان سے قدرے دور اوندھے منہ پڑا ہوا تھا۔
آگے بڑھ کے اس نے اس شخص کے کندھوں پہ ہاتھ رکھے۔شاید عام حالات میں وہ کسی مرد کے اتنا نزدیک ہرگز نہ آتی لیکن اس وقت مسئلہ زندگی موت کا تھا اس لیے اس نے بمشکل اسے سیدھا کیا جس کا خون آلود چہرہ اس شخص کے نقوش کی پہچان نہ کروا سکا۔

“تم ٹھیک ہو؟” اس شخص کی نبض چیک کرتے ہوئے اس نے آہستگی سے اسے پکارا تو اس نے دیکھا کہ اس شخص نے بمشکل اپنی خون سے تر پلکیں کھولنے کی کوشش کی تھی۔

“ن۔۔نی۔۔۔نگ۔۔۔۔۔۔” اس شخص کے ہونٹوں سے چند حرف ٹوٹ ٹوٹ کے نکلے اور اگلے ہی پل وہ شخص بھی اپنی پلکیں واپس سے موند گیا۔

کچھ منٹوں کے بعد ایمبولینس وہاں پہنچ گئی لیکن چونکہ یہ مرڈر کیس تھا اس لیے ان لوگوں کے ہاسپٹل پہنچنے اور وہاں ایڈمٹ ہونے تک اسے بے پناہ پریشانی اور سوالات کا سامنا کرنا پڑا لیکن دو گھنٹے پولیس کے بے معنی سوالات کے جوابات دے اُن کی تشفی اچھی سے کروا کے وہ رات کے ساڑھے آٹھ بجے ابراہیم صاحب کی دوائیوں کے بغیر گھر کی جانب روانہ ہو گئی۔

جبکہ ہاسپٹل کے آئی سی یو وارڈ میں موت اور زندگی کی جنگ لڑتے وہ پانچوں دوست جانتے ہی نہ تھے کہ راہ چلتی ‘زحلے ابراہیم’ ان لوگوں کو انجانے میں ہی دوبارہ زندگی دینے کی وجہ بن گئی تھی۔
ماسوائے اُس کے جس نے لمحے بھر کے لیے اپنی خون سے تر پلکیں کھول کے اس کی شبیہہ اپنی آنکھوں میں بسانے کی کوشش کی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تقریباً تین دن کے بعد رہبان اور ضرغام کو ہوش آیا تھا لیکن ابھی تک وہ انڈر آبزرویشن تھے۔
ان کے ساتھ ہوئے حادثے کی خبر نجانے کس کی بدولت لیکن خبروں کی زینت بننے سے بچ گئی تھی کیونکہ ان کے دشمن جان گئے تھے کہ وہ پانچوں ہاسپٹل میں زیرِ علاج ہیں مگر پانچوں کے ہی بچنے کے چانسز نہ تھے اور وہ اس خبر کو پھیلا کے ان پانچوں کے ہمدرد پیدا نہیں کر سکتے تھے۔

ضر کی اس کنڈیشن کے متعلق اسد صاحب اور داد بخش صاحب کے علاوہ کوئی نہ جانتا تھا اور رہبان کی اس حالت کی خبر صرف حماد گردیزی کو تھی۔
نگاہ کی کنڈیشن کے متعلق اس کے والد اچھے سے جانتے تھے۔
جبکہ نین اور ذونین کی کنڈیشن کے متعلق پورا میر پیلس جانتا تھا لیکن وہاں کسی کو ٹکے کی بھی پروا نہ تھی بلکہ وہ ایسے کسی ڈاکٹر کی تلاش میں تھے جو وہیں ان کا کام تمام کر دیں۔
مگر ان کی کوششیں رنگ نہ لا سکیں کیونکہ ضر اور رہبان کے ہوش میں آتے ہی واحدی صاحب کو سمجھا بجھا کے اسد صاحب اور گردیزی صاحب نے ان کے کہنے پہ راتوں رات ان سب کو کس ہاسپٹل میں شفٹ کروایا وہ لوگ جان نہ سکے تھے۔
اسد صاحب نے ان تینوں کو اپنے دوست کے ہاسپٹل میں مکمل رازداری کے ساتھ ان کا علاج کروانا شروع کر دیا جبکہ دوسری طرف انہوں نے اپنے بہترین کلائنٹ کے بیٹے کو دوسرے ہاسپٹل میں زیرِ علاج کلثوم میر کی نگرانی پہ بھی لگا دیا جو ہاسپٹل میں ملازموں کے ہی آسرے زیرِ علاج تھیں۔

ڈیڑھ مہینے کے جان گسل انتظار کے بعد جب نگاہ کو ہوش آیا تو اپنے چہرے کی مسخ شدہ حالت دیکھ کے وہ جیسے اپنے ہوش کھو بیٹھنے والی تھی اس پہ مستزاد نین کو بدستور بے ہوش دیکھ کے وہ نیم پاگل ہونے لگی تھی۔
اس کی حالت دیکھ کے اسد صاحب نے واحدی صاحب سے مکمل مشورہ کر کے اس کی سرجری کروانے کا فیصلہ کیا کیونکہ وہ ہوش میں آتے ہی اپنا چہرہ نوچتی زور زور سے رونے لگتی تھی۔
جس لمحے نگاہ کی سرجری کے لیے اسے لے جایا گیا تھا تبھی ذوالنورین کو ہوش آ گیا لیکن یہ جان کے وہ سب ایک دفعہ پھر سے ڈھے گئے تھے کہ ٹانگوں پہ گاڑی کے ڈائریکٹ ہِٹ کرنے سے وہ چلنے پھرنے سے معذور ہو گیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وقت بہت آہستگی سے زخموں پر کھرنڈ جمائے گزر رہا تھا وہ چاروں اس دورانیے میں کچھ حد تک سنبھل گئے تھے لیکن نین کی حالت تاحال بہت نازک تھی جس کے باعث نگاہ بھی ذہنی طور پہ سنبھل نہیں رہی تھی۔

بیٹھے بیٹھے کبھی چیخنے لگتی، کبھی اپنا سرجری کے بعد کسی بھی نشان سے پاک لیکن پہلی والی نگاہ سے قدرے الگ چہرہ نوچنے لگتی کبھی خود کو نقصان پہنچانے لگتی۔
اس کی یہ حالت ان تینوں کے لیے بہت تکلیف دہ تھی لیکن وہ اس کی تکلیف کم کرنے سے قاصر تھے۔

“میرے خیال میں تم لوگ اپنے دشمنوں سے تو اچھے سے واقف ہو چکے ہو گے تو اب کی بار جذباتی ہو کے کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے خود کو اس قدر مضبوط کرو کہ دشمن کو منہ کی کھانے پڑے۔” ہاسپٹل میں موجود ڈاکٹر کے کیبن میں موجود اسد صاحب جو کہ حماد گردیزی کے ساتھ صوفے پہ براجمان تھے انہوں نے اِن تینوں کو مخاطب کیا جن کے چہرے اس وقت بے رنگ و رونق ہو رہے تھے۔

“دشمن کو اسی کے انداز میں جواب دینے کے لیے انتظار کرو بہترین وقت کے آنے کا، اس وقت تک چاہے دشمن تمہارے منہ کے سامنے ہی کیوں نہ کھڑا ہو تم لوگ بس چپ کر کے ڈٹے رہو کیونکہ دشمن تاحال تم لوگوں کی کمزوریوں سے واقف ہے۔” اسد صاحب نے بیٹے کی جانب دیکھا جو اُن کی طرف عرصہ ہوا دیکھنا چھوڑ چکا تھا۔

یہ اسد صاحب اور گردیزی صاحب کی نصیحتوں کا نتیجہ تھا کہ وہ تینوں ایک دفعہ پھر سے منظر پہ آئے تھے لیکن پہلے سے بہت بدلے ہوئے۔
ضر نے پہلی فرصت میں بزنس جوائن کیا اور سٹڈی ساتھ ساتھ جاری رکھنے کا سوچا، رہبان نے واپس سے ڈیوٹی جوائن کی جبکہ ذوالنورین جب میل اٹینڈینٹ کے ساتھ وہیل چیئر پہ بیٹھا میر پیلس میں داخل ہوا تو شازمین میر سمیت ان سبھی کو جیسے سانپ سونگھ گیا۔
لیکن جب وہ بنا ان لوگوں کو کچھ کہے اٹینڈینٹ کو کہہ کے اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا تو انہیں لگا جیسے وہ واقعہ اس کی چوٹوں کے باعث اس کی یاداشت سے محو ہو چکا تھا۔
اس کے منظر پہ آنے سے شازمین میر کا پاور آف اٹارنی ہتھیانے کا منصوبہ تو پانی میں مِل گیا لیکن اس کے پاس شطرنج کا ایک مہرہ ضرور تھا جسے اس نے فوراً استعمال میں لایا تھا۔
فوراً سے پہلے اس نے کچھ دن قبل ہی ہوش میں آنے والی کلثوم میر کو ہاسپٹل سے گھر بلوایا لیا تھا اور یہ جان کے وہ بہت خوش ہوئی کہ وہ اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھی تھی۔
کلثوم میر کو اپنی ہی کسٹڈی میں رکھتے ہوئے اب وہ منظر پہ آئے بغیر کسی اور سے اسے پریشرائز کروا کر پاور آف اٹارنی چاہتی تھی۔
یہ موقع اسے جلد ہی مل گیا تھا لیکن اسے یہ جان کے صدمہ لگا تھا کہ اگر ان بھائیوں میں سے کسی ایک کے بھی سائن نہ ہوئے تو ‘میر اینڈ سنز کمپنیز’ کا سارا اختیار گورنمینٹ کو مل جائے گا۔

یہ جاننا تھا کہ اُس نے نین کی تلاش شروع کر دی لیکن کلثوم میر کو رہا نہ کیا بلکہ اسے اسی بند کمرے میں رکھا گیا کیونکہ یہ مہرہ وہ کبھی بھی استعمال کر سکتی تھی۔
اور یہ مہرہ استعمال کرنے کا اسے بہت جلد موقع مل گیا تھا جب اُس نے اپنے آدمی کے ذریعے ذوالنورین میر کو کال کروائی کہ اگر اُس نے کبھی بھی ‘میر پیلس’ میں موجود کلثوم میر تک پہنچنے کی کوشش کی ‘ولید میر’ کی اذیت ناک موت اس کی رات کی نیند حرام کر دے گی۔
وہ لوگ جو یہ سمجھ رہے تھے ولید میر بھی ان کے انتقام کا نشانہ بن کے موت کی نذر ہو چکے تھے ان کے زندہ ہونے اور پھر ان کی ہی کسٹڈی میں ہونے کا سن کر ان سب کے ہاتھ ایک دفعہ پھر سے بندھ گئے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وقت بہت تیزی سے سالوں کا عرصہ نگلتے ہوئے گزر رہا تھا جب ایک دفعہ پھر سے نگاہ کا تعاقب کیا جانے لگا کیونکہ ان کے دشمنوں کو یہ یقین تھا کہ ذوالقرنین میر زندہ ہے تبھی وہ اُس کے زریعے نین تک پہنچنا چاہتے تھے۔
تبھی نین اور نگاہ دونوں کی زندگی و عزت بچانے کے لیے حماد گردیزی نے جب ضرغام کے سامنے ایک حل رکھا تو اسے لگا وہ کھڑے کھڑے فنا ہو جائے گا۔

“یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ انکل؟” اس کی آنکھوں میں نین اور نگاہ کے چہروں کے ساتھ ایک خوبصورت چہرہ لہرایا جسے وہ دانستاً اپنے ذہن کے پردوں سے ہٹا کے رکھتا تھا۔

“اِس کے علاوہ اس کا کوئی بہترین حل نہیں ہے۔ نین کی کنڈیشن تمہارے سامنے ہے۔ تمہارے اس ایک فعل سے ناصرف نگاہ اور نین کی زندگی آسان ہو گی بلکہ ذوالنورین اور اس کی والدہ سے بھی شکنجہ کم ہو جائے گا۔” انہوں نے رسانیت سے سمجھایا۔

“آپ کی بات ٹھیک ہے لیکن میں نے نگاہ کے متعلق ایسا کبھی نہیں سوچ سکتا، میرے لیے وہ ہمیشہ ایک بہن اور دوست ہی رہی ہے اور سب سے بڑھ کے وہ میرے دوست کی محبت ہے۔” اس نے سختی سے اُن کی بات کی تردید کی جبکہ چیک اپ کے لیے آیا ذونین اور رہبان آنکھوں میں شدید تکلیف کے رنگ لیے زندگی کے اس مقام اور قسمت کے اس فیصلے پہ بمشکل اپنے آنسو ضبط کر رہے تھے۔

“اس کام کے بعد بھی وہ صرف آپ کی دوست ہی رہے گی۔ یہ جان لیں کہ آپ ایسا صرف اپنے دوستوں کے لیے کر رہے ہیں۔” انہوں نے پھر سے اس کو سمجھانے کی کوشش کی لیکن وہ کسی طور بھی اس بات پہ آنے کے لیے راضی نہ ہو رہا تھا۔
بیشک شہرے ملک کا ساتھ اس کے نصیب میں نہ تھا لیکن وہ اس مقام پہ کسی کو نہیں لا سکتا تھا وہ بھی اس لڑکی کو جو اس کے دوست کی انمول چاہت تھی اور اس کے لیے ہمیشہ دوست اور بہن جیسی رہی تھی۔

مگر اس کی یہ ساری مزاحمت اس وقت خاک میں مل گئی جب ایک دفعہ پھر سے نگاہ پہ حملہ کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“مجھے معاف کر دینا، حالات چاہے جیسے بھی ہیں لیکن میں تمہاری چاہت کو اپنانے جا رہا ہوں اور ایسا کرتے ہوئے مجھے خود سے ہی وحشت ہو رہی ہے۔” نین کے بے جان مشینوں میں جھکڑے وجود کے پاس بیٹھا وہ آنسووں سے روتا ہوا اپنا دل ہلکا کر رہا تھا کیونکہ اسے چند گھنٹوں کے بعد ‘نگاہ واحدی’ سے نکاح کرنا تھا۔
وہی نگاہ واحدی جو ذوالقرنین میر کے کے نینوں کا تارا تھی۔

‘ملک ہاوس’ میں جب اس نے ارجنٹ بیسز پہ نگاہ سے نکاح کے لیے کہا تو دادبخش ملک نے ہلکی سی مخالفت کی لیکن اس کی ہٹ دھرمی دیکھ کے انہیں اس کا ساتھ دینا پڑا جبکہ ایسے ارجنٹ نکاح پہ نوجوان پارٹی اسے لوو میرج کا نام دے گئی اور ان سب میں پہلے نمبر پہ وہ تھی جس کا سوچ کے نکاح نامے پہ سائن کرتے ہوئے اس کے ہاتھ مرد ہونے کے باوجود بری طرح سے لرز اٹھے تھے۔

ان کے نکاح کی خبر جب پھیلی تو دشمن یہ جان کے دنگ رہ گئے کہ نکاح کی تاریخ ان پر حملے کے کچھ عرصے بعد کی تھی مطلب کہ ذوالقرنین میر حملے کے کچھ مہینوں بعد ہی مر گیا تھا۔
اس سب کے متعلق مکمل تحقیق کروانے کے بعد وہ ہر ممکنہ کوشش کر رہے تھے کہ کسی طرح پاور آف اٹارنی کو حاصل کیا جا سکے کہ سبھی کا انتقام پورا ہو چکا تھا لیکن شازمین میر نے جس لالچ میں یہ بساط بچھائی تھی وہ اسے حاصل نہ ہو سکا تھا۔

اس لالچ میں وہ روز نت نئی کوششیں کرتی تھی اور پھر بالآخر پانچ سال کے دورانیے کے بعد اسے پاور آف اٹارنی حاصل ہتھیانے کے لیے ‘زحلے ابراہیم’ ملی جو اس کے پلان کی بدولت اپنے جال میں ذوالنورین میر کو الجھا کر اس سے ان پیپرز پہ ناصرف ذونین کے بلکہ نین کے سائن بھی کروا لے کیونکہ یہ وہ جانتی تھی نین کے سائن کرنا ذونین کے لیے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔
مگر اس کا یہ پلان اس وقت خاک میں ملتا نظر آنے لگا جب زحلے نے کلثوم میر سے ملنے کی کوشش کی تھی تبھی اس نے اسے اس کے کیے کی سزا دینے کی کوشش کی کہ وہ انتقام لینا نہیں بھولتی تھی مگر اسے پھر سے منہ کی کھانی پڑی جب ذونین نے زحلے سے نکاح کر لیا۔
وہ شاید کھل کے کلثوم میر کے وجود کو مہرے کے طور پہ استعمال کرتی لیکن ذونین کے اندازو اطوار سے وہ ٹھٹھک گئی تھی جیسے وہ بہت کچھ جانتا ہو۔
اس لیے اس نے فوری ردعمل دینے کی بجائے اب کی بار بہت ٹھوس منصوبہ بنانے کا سوچ کر ان کے نکاح کو ہونے دیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نگاہ اس نکاح کے لیے کیسے مانی تھی یہ صرف وہ سب ہی جانتے تھے۔
نکاح کا سن کے وہ ہسٹریائی سی ہو گئی لیکن پھر گردیزی صاحب اور واحدی صاحب کے سمجھانے بجھانے اور نین کی کنڈیشن کے واسطے دے کر اسے بمشکل نکاح پہ راضی کیا گیا۔
پہلے پہل تو اس نے ضر سے کیا کسی سے بھی رابطہ کرنا ختم کر دیا تھا لیکن پھر ضر اور رہبان کی کوششوں کے بعد وہ ایک دفعہ پھر سے نارمل ہونے لگی۔

“میں جانتا ہوں نگاہ کہ نین کے لیے تم یا تمہارے لیے نین کیا اہمیت رکھتا ہے۔لیکن یہ بات تم بھی جانتی ہو کہ تم ہمارے لیے کیا اہمیت رکھتی ہو یا ہم تم سے کتنی محبت کرتے ہیں اور محبت کے باعث یہ میری ذمہ داری ہے کہ ان حالات میں تمہاری اور نین کی حفاظت کروں۔ یہ جو قدم اٹھایا ہے باخدا تمہارے اور نین کے لیے ہی اٹھایا گیا ہے اور جس دن نین اپنے قدموں پہ کھڑا ہوا میں اُس کے نینوں کا تارا اسے لٹا دوں گا۔” نگاہ کو سمجھاتے ہوئے اس نے ہولے سے اس کے ہاتھ تھپتھپائے تو وہ بات کے اختتام میں یاسیت سے مسکرائی تھی۔
کیونکہ اس نکاح کی اصلیت اسد صاحب اور کسی قدر داد بخش صاحب ہی جانتے تھے اس لیے نگاہ وقتاً فوقتاً ملک ہاوس چکر لگانے لگی لیکن جب سب نے اسے ‘بھابھی’ کہا تو رہبان نے آرام سے اس کو پرسکون کیا۔

“تم پریشان کیوں ہوتی ہو؟ تم نین کی بنو گی تو تب بھی ان کے لیے بھابھی ہو گی اس لیے یہی سمجھوں آنے والے خوش کن لمحے کی تیاری ہے یہ۔” اس کی بات پہ وہ بھی امید کے دیے جلائے نین کے جلد ہوش میں آنے کی دعا کرنے لگی۔
کیونکہ وہ ضرغام ملک جس نے سالوں پہلے کہا تھا کہ وہ شہرے سے متعلق اپنے جذبات دفن کر چکا تھا، وہ شہرے ملک کو دیکھ کے اپنی ذات فراموش کر بیٹھتا تھا۔
اس کی یہی حالت دیکھ کر وہ اسے واپس نارمل کرنے کو صبح کے وقت جب بھی کال کرتی ہمیشہ یہی کہتی ‘مسز ضرغام ملک از ہیئر’۔
اس کی یہ چھوٹی سی کوشش ضرغام کو اپنا آپ سنبھالنے میں بہت مدد دیتی تھی لیکن یہ چند لمحے اکثر اس کے جذبات کے سامنے ہیچ پڑنے لگتے جب وہ شہرے کو خود سے بے پرواہ لیکن بے حد قریب پاتا۔

ایسے ہی بے خود لمحے جب نگاہ کی نظر میں آئے تو اس نے ایک دفعہ پھر سے سالوں پہلے کیا اپنا سوال دہرایا۔

“آپ شہرے سے پیار کرتے ہیں؟” سوال وہی تھا بس دنیا دکھاوے کو دونوں کا اندازِ تخاطب ‘تم’ سے ‘آپ’ ہو چکا تھا۔

وہ اس سوال کا جواب جانتی تھی لیکن وہ نہیں چاہتی تھی اگر شہرے اس کے نصیب میں نہیں تھی تو وہ اس کے لیے اپنی ذات رول دے کیونکہ ان لوگوں نے زندگی کے بہت سال پہلے ہی کسی کے انتقام کی زد میں گزار دیے تھے۔
وہ یہ بھی جانتی تھی کہ نگاہ سے نکاح اگرچہ مجبوری تھی لیکن اس کی مرضی اور رضامندی سے ہوا تھا۔
ایسڈ اٹیک کے بعد نگاہ کے ذہن پہ بہت برا اثر پڑا تھا۔اسے اکثر ہسٹریائی اٹیک ہوتے کہ شاید وہ بہت بدصورت ہو چکی ہے اسے کوئی اون نہیں کرے گا ایسے میں ضر بہت شائستگی اور تحمل سے اپنے لفظوں کے مرہم لگا کر اسے ہینڈل کرتا تھا۔

انہی دنوں نین کی کنڈیشن میں پازیٹو رسپانس آنے پر جب اسد صاحب نے اس سے اُس کی شادی کے متعلق بات کی تو اُس نے رخصتی کے لیے کہہ دیا۔
یہ رخصتی دراصل نین اور نگاہ کی رخصتی تھی کہ نین کی کنڈیشن مکمل سٹیبل ہونے پر وہ اسے ڈائیورس دے کر نین سنگ رخصت کرنے والا تھا اور اس کے بعد وہ کیا چاہتا تھا اس کے متعلق اسد صاحب کوئی اندازہ نہ لگا سکے تھے۔

اسی دورانیے میں رہبان کی شادی کے چرچے جاگ اٹھے۔ وہ جو ایسی کسی فضول رسم کو پانی دینے کے لیے کسی کو بھی پلے نہیں باندھنا چاہتا تھا جب حماد گردیزی نے اسے ‘آبگینے’ کی فیملی کے متعلق آگاہ کیا تو وہ یہ جان کر ششدر کر گیا کہ اُس کی ممکنہ بیوی کا چچا ان کے گزرے ہر دکھ و تکلیف کی وجہ تھا۔
یہ جاننا تھا کہ اُس نے پرعزم ارادہ باندھ کے شادی کے لیے منظوری دے دی اور اس ارادے پہ عمل کے لیے جب اس نے ضر کو بلایا تو غیرمتوقع طور پر اپنے دیرینہ دشمنوں کو ایک دفعہ پھر سے اپنے سامنے دیکھ کر سفیر سائیں غصے و ہتک سے پاگل ہو گیا۔
تبھی اس نے ہر ممکنہ حربہ آزمایا اور ایک دفعہ پھر سے انہیں توڑنے کی کوشش کی۔

اور اسی شہرے کی وہی عزت جس کے جانے کے خوف سے اسد ملک صاحب نے بیٹے کے دل کی بستی اپنے ہاتھوں سے اجاڑی تھی، سفیر سائیں کی اخلاق سوز گھٹیا حرکت کے باعث شہرے کی عزت بچانے کے لیے انہیں وہ فیصلہ لینا پڑا جس نے ایک دفعہ پھر سے بہت سی زندگانیوں میں بھونچال لایا تھا۔

کیونکہ جس نین کے ساتھ نگاہ کو ضر رخصت کروانا چاہتا تھا اس کی طبیعت اچانک پھر سے خراب ہو گئی تھی۔
تبھی ایک دفعہ پھر سے قسمت کی چک پھیریوں کے باعث اسے نگاہ کو اپنے ساتھ رخصت اور شہرے سے نکاح دونوں ایک ہی دن کرنے پڑے۔

رخصتی سے قبل وہ نگاہ کے پاس گیا تھا کیونکہ وہ نین کے لیے ذہنی طور پر تیار بیٹھی ایسے میں وہ اپنا نکاح کیسے کر سکتا تھا اس لیے اس نے اسے پہلے رخصت کروایا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اگر وہ یونہی اکیلی رہی تو شاید ذہنی دباو سے ہوش کھو بیٹھے تبھی اس نے نکاح سے پہلے اسے رخصت کروایا تھا۔

نکاح کے بعد اُس نے لان میں رہبان سے جب کہا کہ میں نگاہ سے نئی زندگی شروع کرنے والا تھا تو اس کا مطلب یہ تھا کہ وہ اس رشتے کو ختم کر کے واپس سے وہی دوستی کی ڈور باندھنے والا تھا لیکن اسے ایک نئے رشتے میں باندھ دیا گیا وہ بھی ایسا رشتہ جس میں مقابل اس سے نفرت کرتی تھی۔
اس کے اندر اس قدر گھٹن تھی کہ جب وہ کمرے میں داخل ہوا کمبل سرکا کہ جب نگاہ پہ نظر پڑی تو گھٹن مزید بڑھنے لگی۔
وہ سب ایک دوسرے سے پہلے بھی فرینک تھے اور اکثر نگاہ کے یونی میں بالوں کی پونی تک بنا دیتے تھے ایسے میں اُس کے چہرے کی تھکن دیکھ کر اس نے اس کے بالوں میں اٹکی پنیں نکالتے ہوئے اس کی مدد کرنی چاہی۔

اس دوران اُس کی کہی گئی باتیں ساری کی ساری درپردہ نین کے لیے ہی تھیں۔
اس کے نگاہ اس کی زمہ داری تھی جسے اس کے صحیح حقدار تک پہنچاتے ہوئے اس نے اس کی حفاظت کرنا تھی۔
دوست ہونے کے ناطے وہ اس کی محبت تھی، اس کی ہمراز تھی۔
اس نے جب کہا کہ خدا نے اسے اس آزمائش کے لیے چُنا ہے تو مطلب وہ کبھی یہ خیال ذہن میں نہ لائے کہ وہ اپنے دوست کے حق پہ ڈاکہ ڈالے گا اور پیش رفت کا حوالہ اس نے نین کے متعلق دینے کی کوشش کی تھی کہ وہ اسے اس ہاسپٹل سے نکلوا کے کہیں اور شفٹ کروانا چاہتا تھا لیکن اس کے اس خیال کو نگاہ نے روک دیا تبھی اس نے کہا کہ اس کی پیش رفت لمبے عرصے کا انتظار ہرگز نہیں کرے گی کیونکہ وہ ہرگز فرشتہ نہ تھا جو ان کشیدہ حالات میں بھی اپنے اعصاب پہ قابو رکھ سکے۔

ان دونوں کا تعلق کمرے کے اندر فقط دوستوں والا تھا، وہ جیسے پہلے اکثر اس کا ہاتھ تھامتا تھا یا کبھی سر تھپتھپاتا تھا وہ سب وہ اب بھی نا دانستگی میں کر لیتے تھے۔
اس نے اسے منہ دکھائی کے نام پہ تحفہ بھی دیا کہ گھر والے تو ان کی شادی کی حقیقت سے بے خبر تھے۔
جس طرح ضر کے لیے نگاہ اس کے دوست کی امانت تھی اس طرح نگاہ بھی شہرے اور ضر کے نکاح سے بہت خوش تھی۔
وہ اپنی خوشی کا شاید کھل کے اظہار بھی کرتی جو اگر وہ طلاق کا مطالبہ نہ کر بیٹھتی۔
وہ دوست جو ایک دوسرے کے ساتھ جیتے مرتے تھے ان کے لیے ایک دوسرے کی تکلیف برداشت کرنا بے حد مشکل تھا ایسے میں جب جب شہرے کی جانب سے ضر تکلیف میں مبتلا ہوتا نگاہ کے لیے اس سب کو برداشت کرنا مشکل ہو جاتا۔
دنیا کی نظر میں وہ دونوں سوتنیں تھیں لیکن عجیب بات تھی اسے اس بات سے فرق نہیں پڑتا تھا کہ وہ ضر کے نکاح میں تھی لیکن یہ بات اس سے برداشت نہ ہوتی تھی کہ وہ ضر کو اذیت دے۔
اور ایسے لمحوں میں اسے کے تاثرات چیخ چیخ کے گواہی دیتے کہ نگاہ واحدی شہرے ملک کی اس حرکت پہ کس قدر ناگواری میں مبتلا ہوتی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ضر نے اپنے کہے لفظوں کا پاس رکھا اور نین کو بے حد رازداری کے ساتھ ایک بہترین ہاسپٹل شفٹ کیا اور اس کے علاج میں بہتری لانے کے لیے ڈاکٹرز کو مکمل طور پر الرٹ کیا۔
اُس کی اور ڈاکٹرز کی کوششیں رفتہ رفتہ رنگ لانے لگیں کہ اتنے عرصے سے بیڈ پہ بے جان پڑے نین نے اپنے پیروں کو حرکت دینے کی کوشش کی تھی۔
نین کی بہتری کی طرف مائل طبیعت کے متعلق وہ چاروں ہی فقط جانتے تھے لیکن وہ کس قدر بہتری کی طرف گامزن ہے اس کے متعلق صرف ضرغام جانتا تھا۔
ضرغام یہ بھی جانتا تھا کہ اپنے پیروں پہ کھڑا ہونے کے بعد اس نے بہت کم ہی دورانیے میں خود کو پیروں پہ اس مضبوطی سے جمایا کہ جب رہبان پہ حملہ ہوا تھا تو اس کو بچانے کے لیے جانے والا نین ہی تھا۔

جاری ہے۔

ب