No Download Link
Rate this Novel
Episode 12
“دل تیرے سنگ جوڑ لیا”
از
حوریہ ملک
اس کے خوبصورت چہرے پہ پھیلے شرم و حیا کے رنگوں کے ساتھ گھلے ملے سے غصے کے رنگوں کا بغور جائزہ لیتا وہ قدرے اوپر کو ہوتا تکیہ بازووں میں جھکڑتے ہوئے بیڈ کراون سے ٹیک لگا گیا۔
“اس اٹخ پٹخ کی وجہ دریافت کر سکتا ہوں؟” اس کے زرتاری آنچل کے نیچے چھپے لمبے بالوں سے ٹپکتے پانی کے قطروں کو گہری نگاہوں سے دیکھتا وہ سنجیدگی سے گویا ہوا تو اس انداز پہ وہ سلگ اٹھی۔
“جو آپ کرنا چاہتے تھے وہ کر چکے ہیں اس لیے اب مجھے واپس چھوڑ کے آئیں حویلی۔” بنا اس کے چہرے کی جانب تکتی وہ نم مگر تلخ سے انداز میں گویا ہوئی۔
“کیا کرنا چاہتا تھا میں؟” دوسری جانب سے دکھائے گئے ناسمجھی کے اس تاثر پہ اس کا دماغ بھک سے اڑا تھا جبکہ لب جیسے سِل سے گئے تھے۔
“اور اگر اس سوال کا جواب یہاں پاس آ کے دیں گی تو شاید مجھے زیادہ اچھے سے سمجھ آ جائے کیونکہ میں جاگتے ہی آپ کو بانہوں میں لے کے خود کو جگانا چاہتا تھا اس لیے میرا دماغ اپنی نیند میں ہے اسے نزدیک آ کے جگائیں اور اپنی بات کے معنی سمجھا جائیں۔” نجانے وہ واقعی یونہی تفصیلاً بات کیا کرتا تھا یا یہ سہولت صرف اسے ہی دی گئی تھی لیکن یہ اور بات تھی کہ اس سہولت سے اس کی سانسیں ضرور منتشر ہو جایا کرتی تھیں۔
“آبگینے!” اس کی باتوں کے جواب میں جب وہ کچھ نہ بولی تو اس نے گہرے لہجے میں اسے پکارا تو وہ چونکی۔
“مجھے واپس میری حویلی چھوڑ کے آئیں۔” اس نے الفاظ مجتمع کرتے ہوئے اپنی بات دوبارہ دہرائی تو اس کی کشادہ پیشانی پہ بے شمار بل نمودار ہوئے۔
“معذرت خواہ ہوں، ایسا حوصلہ نہیں رکھتا میں۔” چبھتے ہوئے لہجے میں بولتا وہ واپس لیٹتا تکیے میں منہ گھسیڑ چکا تھا۔
اس کے اس انداز پہ اس کو جیسے آگ سی لگ گئی اور وہ جلتی بھنتی بنا انجام کی پرواہ کیے اس کی جانب بڑھی۔
“میری زندگی میں اتنا بڑا طوفان کھڑا کر کے اتنے سکون سے کیسے سو سکتے ہو تم؟میری یہ سوچ کہ نیندیں اڑ چکی ہیں کہ آنے والے لمحے میں نجانے کیا ہو جائے گا مگر تم ی۔۔۔۔۔۔۔۔۔” اس کے کندھے کو بدلحاظی سے جھنجھوڑتی ہوئی وہ بری طرح سے چٹخی جب اس نے رخ موڑے بنا ہاتھ پیچھے کو کرتے ہوئے اس کا ہاتھ پکڑ کے کھینچا تو وہ ایک جھٹکے سے اس کے بے حد نزدیک بیڈ پہ گر سی گئی۔
“آپ کی نیندیں کسی دوسرے کے بارے میں سوچتے ہوئے نہیں اڑنی چاہیے بلکہ آپ کی نیندیں اڑانے کے لیے میرا نام کافی ہے۔” خوبصورت لب و لہجے میں جذب سے بولتا وہ اس کے ہونق چہرے پہ انگشت شہادت پھیرتا ٹھہری دھڑکنوں کو پاگل کر گیا۔
“اچھی لگ رہی ہیں یوں میرے رنگ میں رنگی ہوئی پوری مسز رہبان گردیزی لگ رہی ہیں۔” چہرے سے سرکتا ہوا ہاتھ جب گردن پہ اس کی گول گلے والی شرٹ پہ پہنچا تو وہ اس کی تھوڑی پہ لب رکھتے ہوئے بولا تو وہ بوکھلا گئی۔
“چ۔۔۔۔” اس نے اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھتے ہوئے اسے پرے ہٹانا چاہا جب اس نے اس کا وہی تھامتے ہوئے دوسرے ہاتھ سے سائیڈ ٹیبل پہ پڑا باکس اٹھایا اور اسے یونہی اپنی گرفت میں رکھے وہ باکس کھولنے لگا۔
“اتنا ہی کرو جتنا کہ واپس خود پہ بیتنے پر برداشت کر سکو، اس عاشقی کی پٹی ہٹا کے اردگرد کی خبر لو خدا کے لیے کیونکہ مجھے لے کے آئے تمہیں چوبیس گھنٹے ہو چکے ہیں اور پیر حویلی کے افراد اپنا بدلہ لینا میں چوبیس گھنٹوں سے زیادہ وقت نہیں لگاتے۔” اس سے پہلے کہ وہ باکس سے کچھ نکالتا وہ اس کی ڈھیلی گرفت کا فائدہ اٹھاتی اسے پوری قوت سے پرے کو دھکیل کے بیڈ سے اٹھی اور سلگتے ہوئے لہجے میں کہتی بھاگنے کے سے انداز میں چلتی واشروم میں گھس گئی۔
جبکہ اپنے ہاتھ میں اس کے لیے گفٹ لے کے بیٹھا رہبان اس کی حرکت و الفاظ پہ مارے ضبط کے زور سے مٹھیاں بھینچ کے رہ گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“پتہ نہیں کیا آپ نے رہبان اور آبگینے کا؟” سائرہ بیگم نے حماد گردیزی کو چائے کا کپ تھماتے ہوئے افسردگی سے استفسار کیا۔
“وہ شہر سے باہر کہیں گئے ہیں، پریشان نہیں ہوں آ جائیں گے۔” انہوں نے رسانیت سے کہتے ہوئے بیوی کو تسلی دینی چاہی۔
“بی جان بہت پریشان ہیں، ان کی طبیعت سٹیبل نہیں ہو رہی۔” انہوں نے انہیں مزید بتایا تو ان کے چہرے پہ ہلکی سی جھنجھلاہٹ نمودار ہو گئی۔
“انہیں سمجھائیں آپ سب لوگ، ایسے پریشان ہونے کا کوئی فائدہ نہیں ہے اس نے کوئی گناہ نہیں کیا بلکہ ایک فرسودہ رسم کو جڑ سے اکھاڑا ہے۔” ان کے سنجیدہ لہجے پہ بھی سائرہ بیگم کے چہرے پہ چھایا تفکر کم نہ ہوا۔
“آپ کی بات ٹھیک ہے لیکن وہ پیر حویلی کے ری ایکشن سے خوفزدہ ہیں کیونکہ وہ کہہ رہی تھیں کہ وہ لوگ اپنی اس بے عزتی کو کبھی نہیں بھولیں گے۔” انہوں نے اب کہ ساس اور اپنا ملا جھلا خوف ان کے سامنے پیش کیا تو ان کے باوقار چہرے کی گھمبیرتا بڑھ گئی۔
“آپ لوگ پریشان نہیں ہوں بس کچھ دن گھر سے باہر نکلنے میں احتیاط کریں باقی اللّٰہ محافظ ہے۔” انہوں نے تسلی دیتے ہوئے بدد صاحب کا نمبر ملانا شروع کیا تاکہ کچھ دن عقیدت اور بچوں کے باہر نکلنے سے متعلق انہیں ہدایات دے سکیں۔
“چہرے پہ چھائے اس خوف کو ختم کریں بیگم، ایس پی کی ماں ہیں آپ۔جائیں بچیوں کو بلا کے لائیں اور سب کو فریش کریں۔” انہیں ریلیکس کرنے کے لیے وہ ہلکے پھلکے انداز میں گویا ہوئے تو وہ جھینپتے ہوئے سب کو بلانے چل دیں جبکہ انہوں نے اشارے سے وہاں آتی مائرہ گردیزی کو ایک نمبر ملانے کو کہا اور خود تیزی سے کچھ سوچتے ہوئے باہر کی جانب بڑھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ آہستگی سے متوازن چال چلتی ہوئی کچن کی جانب بڑھ رہی تھی جب مدہم سی نسوانی آوازیں اس کے کانوں میں پڑیں تو وہ لاشعوری طور پہ ٹھٹھک سی گئی۔
“یہ ٹرے جلدی سے تیار کرو اور باقی سب افراد کے ڈائیننگ روم میں آنے تک ‘بڑی بیگم صاحبہ’ کے کمرے تک پہنچا آو۔” ایک ملازمہ قدرے گھبرائے ہوئے انداز میں بولتی خود بھی تیزی سے ہاتھ چلانے لگی۔
“اُن کو یہ ناشتہ یا کھانا دے کے آنے کا کیا فائدہ ہے بھلا جب وہ خود اپنے ہاتھوں سے اچھے سے کچھ کھا نہیں سکتیں اور ہمیں اجازت نہیں ہے ان کی مدد کرنے کی۔” دوسری ملازمہ دلگرفتگی سے کہتی ٹرے میں ناشتہ سجانے لگی۔
“اس مجبوری اور ذلت کی زندگی جینے سے بہتر ہے وہ مر جائیں تاکہ اس اذیت سے تو جان چھوٹ جائے ان کی۔” وہ مزید بولی تو اب کی بار اس کے دل کو جیسے پتنگے سے لگ گئے۔
“کیا یہ ‘وہی’ ہیں؟”
اس نے بے اختیار سوچا اور پھر سرعت کے ساتھ کچن سے دور ہٹ کے دیوار کی اوڑ ہو گئی۔
کچھ ہی ثانیوں کے بعد ملازمہ ناشتے کی ٹرے لیے کچن سے نکلی اور بڑے محتاط لیکن تیز تیز قدم اٹھاتی ایک جانب بڑھ گئی۔
ایک چور نگاہ اردگرد ڈال کے وہ آگے بڑھی اور اسی جانب چلنے لگی جس طرف ملازمہ گئی تھی۔
“آپ یہاں کیا کر رہی ہیں؟” اس کے قدموں کی آہٹ محسوس کر کے جب ملازمہ حیرانگی سے پلٹی تو اس کے سوال پہ وہ بنا گھبرائے بولی۔
“شازمین میڈم سے اجازت مل چکی ہے مجھے، میں گھر کا راونڈ لگا رہی ہوں تاکہ ذوالنورین کو باہر لا کے اس کی آسانی والی جگہوں پہ اسے لے جا سکوں۔” اس نے لفظوں کو ترتیب دیتے ہوئے الٹی سیدھی سی توجیہہ پیش کی اور چہرے پہ لاپرواہی کا عنصر سجائے آگے بڑھ گئی۔
جبکہ اس کی توجیہہ پہ ملازمہ نے کندھے اچکا دیے کہ جب شازمین میر اجازت دے چکی تھی تو وہ لوگ سوال و جواب کرنے والی کون ہوتی ہیں؟
ملازمہ کے سامنے سے ہٹتے ہوئے اس نے پیچھے کو پھنسائی چوڑیوں کو کلائیوں تک لایا اور اپنے ہاتھوں کو نامحسوس انداز میں حرکت دی تو فضا پل بھر کے لیے چوڑیوں کی کھنکھناہٹ سے گونج اٹھی۔
“ان کی آواز اچھی ہے۔” ایک گھمبیر سرگوشی پیلس کے اس قدرے ویران کوریڈور میں گونجی اور ساتھ ہی اسے چند قدم دور موجود کمرے میں ٹھاہ کی آواز سنائی دی تو اس کے واپسی کو پلٹتے ہوئے قدم یکلخت تھم گئے۔
“کیا ‘وہ’ یہاں ہیں؟”
“اور کیا وہ واقعی ‘وہی’ ہیں؟”
حسبِ معمول بیک وقت بہت سے سوالات نے دماغ پہ دستک دی تو وہ الجھ سی گئی۔
اور اسی الجھن کا حل تلاشتی وہ تیز تیز قدم اٹھاتی واپس ‘ذوالنورین میر’ کے کمرے کی جانب بڑھ گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“تم مجھے یہ بتاو کہ ایسا سڑا ہوا منہ ہی بنا کے رکھنا تھا تو ٹرپ پہ آنے کی ضرورت کیا تھی؟” تہمینہ اور حمنہ جو اس کے اترے ہوئے چہرے اور وحشت زدہ سی خاموشی سے پریشان تھی، ایک دم سے پھٹ پڑیں جبکہ حمنہ کی بات پہ اس نے خالی خالی نگاہوں سے اسے دیکھا اور پھر ایک دم سے پھوٹ پھوٹ کے رو پڑی۔
“کیا ہوا شہرے؟” اس کے اس طرح رونے پہ وہ بری طرح سے گھبرائی تھیں، ایک گھنٹہ قبل ہی وہ سوات کے اس خوبصورت ہوٹل میں اپنے کالج فیلوز اور ٹیچرز کے ساتھ پہنچی تھیں اور دورانِ سفر اور اب بھی اس کی خاموشی پہ جو ان کے استفسار پہ اس کا ردِعمل سامنے آیا تھا وہ انہیں پریشان کر گیا۔
“اتن۔۔اتنا بڑا دھوکہ دیا ہے انہوں نے مجھے۔” وہ ہچکیوں کے درمیان کانپتے ہوئے لہجے میں گویا ہوئی تو وہ دونوں مزید الجھیں۔
“کس کی بات کر رہی ہو اور کیسا دھوکہ؟” مینا نے الجھے ہوئے لہجے میں استفسار کیا لیکن اس سے پہلے کہ وہ انہیں کوئی جواب دے پاتی، انہیں ڈنر کے لیے نیچے بلا لیا گیا تھا۔
“اٹھو جلدی سے منہ ہاتھ دھو کے فریش ہو، جو بھی بات ہے ریلیکس ہو کے ہمیں کمرے میں آ کے بتانا لیکن اس سے پہلے خبردار جو تم مزید پریشان ہوئیں۔ جس نے تمہیں دھوکہ دیا ہے یا پریشان کیا ہے اس سے نپٹنا ہمارا کام ہے لیکن تم پریشان نہیں ہو۔” محبت بھرے لہجے میں کہتے ہوئے مینا نے اس کے چہرے پہ بکھرے آنسو اپنی ہتھیلی سے پونچھے اور اسے زبردستی کھڑا کر کے واشروم کی جانب دھکیل دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اس وقت اپنی ایک بزنس میٹنگ کے سلسلے میں مری جا رہا تھا جب اس کا پرسنل موبائل رنگ ہوا۔
سٹیرنگ پہ گرفت قائم رکھے اس نے ڈیش بورڈ سے موبائل اٹھا کے نمبر دیکھا تو ایک ہلکی سی مسکان ہونٹوں پہ پھیل گئی۔
“السلام علیکم!ضرغام ملک اسپیکنگ۔” اس نے اپنے مخصوص انداز میں سلامتی بھیجی تو دوسری جانب موجود نگاہ کھل کے مسکرا دی۔
“وعلیکم السلام!مسز ضرغام ملک از ہیئر۔” حسبِ معمول اس نے کھنکھتے ہوئے لہجے میں جواب دیا تو اس کے گھنی مونچھوں تلے خوبصورت لبوں پہ بکھری مدہم سی مسکان مزید گہری ہوئی تھی۔
“کل کوئی مجھے کہہ رہا تھا کہ اس کا مجھ سے اگلے تین دن مکمل پردہ ہو گا۔” گاڑی کی سپیڈ نارمل کرتے ہوئے اس نے مسکراتے ہوئے اسے چھیڑا۔
“بات کرنے کا پردہ ہرگز نہیں کہا تھا۔” دوسری جانب وہ احتجاجی انداز میں گویا ہوئی تو اس کا مدہم سا قہقہہ گاڑی کی فضا میں گونجتا نگاہ کو گہرے سکون میں مبتلا کر گیا تھا۔
ایسا بہت کم ہوتا تھا جو وہ یوں اسے خوش اور پرسکون دیکھتی ہو اس لیے اس کے لیے وہ لمحے امر ہوتے تھے جب وہ مسکرایا کرتا تھا۔
“ویسے بھی میں نے اس لیے آپ کو یاد کیا تھا کہ بتا سکوں کہ میں نے آپ کا گفٹ آپ کے کمرے تک بھجوا دیا ہے۔” اس کی ہنسی کو سماعتوں میں جذب کرتی وہ پیار سے بولی۔
“بہت شکریہ لیکن میں پچھلے دو دن سے اپنے کمرے میں نہیں گیا اس لیے آپ کے گفٹ کے متعلق بے خبر ہوں۔ابھی میٹنگ کے لیے جا رہا ہوں واپسی پہ دیکھوں گا۔” وہ جو مصروفیت کے سلسلے میں واقعی دو دن سے کمرے میں نا جا سکا تھا وہ یہ نا جان سکا کہ دو دن پہلے وہاں جانے والی شہرے کا گفٹ کھلی کلوزٹ کے نزدیک تاحال بے دردی سے نیچے فرش پہ گرا ہوا تھا۔
نگاہ سے سات آٹھ منٹ کی گفتگو کرنے کے بعد جب اس نے کال بند کی تو ایک انجان نمبر سے چھ مسڈ کالز دیکھ کے اس کا ماتھا ٹھنکا۔
لیکن اس سے پہلے کہ وہ کال بیک کرتا ایک دفعہ پھر سے وہی نمبر سکرین پہ جگمگایا۔
اس نے کچھ سوچتے ہوئے کال پک کی مگر اس سے پہلے کہ وہ کوئی خیرمقدمی کلمات کہتا دوسری جانب سے سنائی دیتی متکبر آواز اسے ششدر کر گئی۔
“دوسروں کے گھروں کے معاملات میں ٹانگ اڑانے سے قبل اپنے گھر کے گرد اونچی فصیلیں قائم کر لیتے تو آج یوں عزت دو کوڑی نہ ہو رہی ہوتی۔” متکبر لہجے میں کہے گئے گھٹیا ترین الفاظ پہ اس کا فشارِ خون یکلخت بلند ہوا تھا جبکہ بھوری آنکھیں مارے غضب کے سرخ ہو گئیں۔
“کیا بکواس کر رہے ہو؟” وہ زخمی شیر کی مانند یوں غرایا گویا مخاطب کو فون سے ہی دبوچ کے عالمِ بالا تک پہنچا دے گا۔
اس کے اشتعال پہ دوسری جانب سےمکروہ ہنسی ہنستے ہوئے فوراً کال کاٹ دی گئی تھی۔
اس نے فورا موبائل کان سے ہٹا کے ایک نمبر ملانا چاہا جب اس کے پرسنل ملازم کی کال آئی تھی۔
“سر!میں س.۔۔۔وات ہوٹل سے ب۔۔۔ول رہا ہوں۔یہاں ش۔۔شہرے بی بی کو کچھ دیر پہلے ک۔۔کچھ آدمی اٹ۔۔۔ا لے لے گئے۔” درد سے چور آواز میں کہے گئے ٹوٹے پھوٹے الفاظ ضرغام ملک کی سانسیں کھینچ گئے۔
اس نے ایک دم سے گاڑی کو بریک لگائی تو اس اچانک جھٹکے پہ اس کا سر پوری قوت کے ساتھ ڈیش بورڈ سے ٹکراتا زخمی ہوا تھا مگر وہ اس لمحے اس تکلیف کو محسوس کرنے سے قاصر تھا کیونکہ کچھ دیر قبل کہے الفاظ اسے جیتے جی مار گئے تھے۔
“س۔۔۔سر!ش۔۔شہرے ب۔۔۔۔۔۔” دوسری جانب سے اچانک رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔
“آپ کے ہاتھ پہ موجود تِل مجھے بہت پسند ہیں۔”
کھنکتا ہوا لہجہ سماعتوں میں گونجا تو اس نے سانس لینے کی کوشش کی مگر اسے احساس ہوا کہ اس پل اس کے لیے سانس لینا کس قدر بھاری پڑ رہا تھا۔
مگر
اس کا خیال آنے پہ اس نے بمشکل اپنے ہاتھوں کو حرکت دیتے ہوئے گاڑی کو سٹارٹ کرنے کی کوشش کی۔
اسی لمحے اس کا موبائل ایک دفعہ پھر سے بج اٹھا۔
“اطلاع تو مل چکی ہو گی تمہیں لیکن افسوس تمہارے پہنچنے تک بہت دیر ہو جائے گی۔” کال پک کرنے پہ وہی مکروہ آواز اسے سنائی تو جامد ہوئے وجود میں ایک سے فشارِ خون بلند ہوا تھا جبکہ ماتھے کی رگیں پھول گئیں۔
ایک جھٹکے سے گاڑی سٹارٹ کرتے ہوئے اس نے فل سپیڈ پہ اسے چھوڑ کے تیزی سے موبائل پہ انگوٹھا پریس کرتے ہوئے ایک نمبر ملایا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“تمہیں ایک گڈ نیوز دوں؟” ادھ کھلا دروازہ ایک جھٹکے سے کھولتے ہوئے وہ تیزی سے کمرے میں داخل ہوئی لیکن سامنے نگاہ پڑتے ہی وہ ٹھٹھک سی گئی۔
کرسی کے پاس رکھی وہیل چیئر پہ بیٹھا وہ قدرے نیچے کو جھکا ہوا پیروں کے پاس گری کتاب اٹھا رہا تھا۔
“یہ کیا کر رہے ہو تم؟” اس کے چہرے پہ تکلیف دہ تاثرات دیکھ کے وہ ہوش میں آتی اس کی جانب لپکی اور نیچے گری کتاب سرعت سے اٹھا کے اسے تھمائی۔
“تم خود کو تکلیف کیوں پہنچاتے ہو؟” اس کے سوال پہ اس نے لمحہ بھر کے لیے اپنی نظریں اس کے دلکش چہرے پہ ڈالتے ہوئے واپس موڑ کے اس کی کلائیوں میں موجود چوڑیوں پہ ٹکا لیں۔
“آپ کسی گڈ نیوز کی بات کر رہی تھیں مس ابراہیم؟” اس کے سوال کو کمال خوبصورتی سے نظرانداز کیے وہ سپاٹ لہجے میں بولا تو وہ اسے دیکھ کے رہ گئی۔
“میں تمہاری ماما تک پہنچ گئی ہوں لیکن ان کے کمرے میں جانے سے قبل تمہیں مجھے ان کی تصویر دکھانا ہو گی اور۔۔۔۔۔۔” اس کے مدہم لہجے میں کیے گئے انکشاف پہ اس نے پہلی دفعہ اس کے چہرے کے متغیر ہوتے تاثرات دیکھے تھے لیکن اس کے رکنے پہ وہ انہی تاثرات سمیت اس کی جانب متوجہ ہوا تو وہ حلق تر کرتی مزید بولی۔
“اور تمہیں مجھے یہ بتانا پڑے گا کہ وہ تمہاری ماں ہو کے تم سے دور کیوں ہیں اور وہ تمہاری اس حالت کے باوجود تم سے ملنے کیوں نہیں آتیں؟” دھک دھک کرتے دل کے ساتھ اس نے بات مکمل کرتے ہوئے اس کی جانب دیکھا تو اس کے چہرے پہ چھائے تاثرات دیکھ کے اس کا نازک سا دل دھک سے رہ گیا۔
جاری ہے۔
