57.1K
55

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 20

“دل تیرے سنگ جوڑ لیا”
از
حوریہ ملک

گولیوں کی بوچھاڑ میں جب سیاہ کار لہراتی ہوئی درخت کے ساتھ جا ٹکرائی تو اچانک گولیوں کی آواز تھم گئی۔
اور اُن کی کار سے دور دو سیاہ گاڑیوں میں براجمان افراد ہاتھوں میں جدید ہتھیار لیے نیچے اترے اور مضبوط ڈگ بھرتے وہ اس دھواں اڑاتی کار کی جانب بڑھ دیے جس کی حالت گولیوں کی بوچھاڑ سے تباہ کن ہو چکی تھی۔

ان افراد میں سے دو فرنٹ سیٹ کی جانب بڑھے اور دروازہ کھولنے کے بعد ایک سائیڈ پہ ڈھلکی ہوئی آبگینے کا ہاتھ اپنے سخت ہاتھ میں جھکڑا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

متغیر تاثرات اور شعلے اگلتی آنکھوں سے چند لمحے نگاہ کا چہرہ دیکھنے کے بعد اس نے نرمی سے اسے اپنے سامنے سے ہٹایا اور تیز تیز قدموں سے چلتا دروازے کی سمت بڑھا۔

“ضرغام!” گردن کی بھنچی ہوئی نسیں، پیشانی کا مخصوص بل، آنکھوں میں چھایا خوفناک تاثر اور اس پہ مستزاد وجود پہ طاری غصے کی ایسی منہ زور جھلکی اس پہ دیکھ کے وہ بے ساختہ اس کی جانب لپکی تھی لیکن وہ اس کے روکنے سے قبل ہی کمرے کی دہلیز پار کرتا ہوا سیڑھیوں کی جانب بڑھ چکا تھا۔

سیڑھیوں کو پار کرنے کے بعد وہ بنا رکے صدر دروازے سے باہر نکلتا ‘ملک ہاوس’ کے بالکل سامنے موجود ‘ملک منزل’ کی جانب بڑھ گیا۔
اسے یوں غیرمتوقع اور بے موقع وہاں آج دیکھ کے شاید چوکیدار بات برائے بات وجہ پوچھ ہی لیتا مگر اس کے چہرے پہ چھایا جمود دور سے ہی اتنا ٹھٹھرا دینے والا تھا کہ اس نے بنا کچھ کہے چھوٹا گیٹ اس کے لیے کھول دیا۔

“شہرے کہاں ہے؟” جب وہ ہال میں پہنچا تو اس کی توقع کے مطابق وہاں کوئی نہ تھا کیونکہ ملک منزل کے افراد دس بجے کے ساتھ زیادہ تر کمرہ نشین ہو جایا کرتے تھے اور اس وقت تقریباً پونے گیارہ ہونے والے تھے۔

وہ شاید سیدھا بنا رکے اس کے کمرے کی جانب بڑھ چکا ہوتا لیکن ملازمہ کے سامنے آنے پہ اس نے سنجیدگی سے استفسار کیا تو وہ بھی اسے یوں بے وقت دیکھ کے حیران ہوئی تھی۔

“اپنے کمرے میں ہیں۔پندرہ منٹ پہلے ہی ملک ہاوس سے آئی ہیں۔” ملازمہ نے لگے ہاتھوں دو اطلاعات اسے بہم پہنچائیں تو وہ سر ہلاتے ہوئے اس کے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وائٹ کلر کے نائٹ پاجامہ اور لوز ٹی شرٹ میں ملبوس وہ ڈریسنگ مرر کے سامنے کھڑی ہاتھوں پہ موئسچرائزر لگا رہی تھی جب اس کے کمرے کا دروازہ ہلکی سی دستک کے ساتھ کھلا۔
اس وقت کمرے کا دروازہ کھلنے پہ اس نے حیرانگی سے پلٹ کے نووارد کو دیکھنا چاہا جب بہت ہی غیرمتوقع طور پہ سامنے کھڑے ‘ضرغام’ کو دیکھ کے وہ جی جان سے چونکی تھی۔

“آپ؟” وہ مکمل طور پہ اس کی جانب پلٹتی حیرانگی سے گویا ہوئی۔
لیکن دوسری جانب اس کی حیرانگی کو خاطر میں لائے بغیر اس کی طرف بڑھا جو سفید نائٹ سوٹ میں ملبوس، اپنے گھنیرے بال کمر پہ بکھیرے حیرانگی سے اسے دیکھ رہی تھی۔

“نگاہ سے کیا کہا ہے آپ نے؟” اس کے نزدیک چند انچ کا فاصلہ چھوڑ کے ٹھہرتا وہ انتہائی سنجیدگی سے گویا ہوا تو وہ جو اس کی اس قدر نزدیکی پہ ششدر ہو رہی تھی اس کے سوال پہ کرنٹ کھا کے اس کا چہرہ دیکھا۔

بلیو پینٹ کے ساتھ سفید شرٹ جس کے اوپری دو بٹن کھلے جبکہ آستنیں کہنیوں تک مڑی ہوئی تھیں، پہنے وہ چہرے پہ ناقابلِ فہم تاثرات سجائے اس کی جانب مکمل طور پہ توجہ تھا۔
اس نے اب جا کے محسوس کیا تھا کہ وہ بھوری آنکھیں جو ہمیشہ ایک جامد سا تاثر چھپائے رکھتی تھیں آج ان آنکھوں میں برف و آگ کے ملے جلے تاثر سے لبریز لپک عجب وحشت میں مبتلا کر رہی تھی۔

“نگاہ سے کیا کہا ہے آپ نے؟” اس کی خاموشی پہ اس نے دوبارہ سے اپنا سوال دہرایا تو وہ جیسے کسی گہرے خواب سے چونکی تھی۔

“آپ یہ کس طرح سے بات کر رہے ہیں مجھ سے؟” اس کی آواز میں چھپی سردمہری پہ گھبراتے ہوئے وہ خفگی سے گویا ہوئی تو ضرغام کے چہرے کی گھمبیرتا مزید بڑھ گئی۔
وہ دو قدم مزید آگے بڑھا اور اس کے نزدیک ٹھہرتا اس کی جانب جھکتے ہوئے اس کی دلکش آنکھوں میں اپنی بھوری آنکھیں گاڑھتا ہوا بولا۔

“میرے اس انداز کو میرے ضبط کی آخری حد سمجھیں شہرے اور مجھے بتائیں کہ نگاہ سے کیا فضول گوئی کی ہے آپ نے؟” ٹھٹھرا دینے والے انداز میں کہتے بات کے اختتام میں اس کی آواز قدرے بلند ہوئی تھی۔
اور اس کی اس ٹون پہ اس کے اندر کی ضدی شہرے انگڑائی لے کے فوراً بیدار ہوئی تھی۔

“میرے سے دور رہ کے بات کریں اور جب بات آپ کو معلوم ہو چکی ہے تو اس پہ عمل کرنے کی بجائے آپ مجھ سے سوال جواب کرنے کیوں آئے ہیں؟” اس سے فاصلہ بڑھاتے ہوئے اس نے کاٹ دار لب و لہجے میں جواب دیتے ہوئے اس کے پہلے سے بھڑکتے وجود کو جیسے آتشِ نذر کیا۔

“سوال جواب نہیں کرنے آیا ہوں بلکہ۔۔۔۔۔۔۔” ایک چبھتی ہوئی نگاہ اس کے باغی سراپے پہ ڈالتے ہوئے اس نے سہولت سے ہاتھ آگے بڑھایا اور ایک جھٹکے سے اسے اپنی جانب کھینچا تو اس افتاد پہ بری طرح سے گڑبڑاتی وہ چیخی۔

“ضرغام چاچ۔۔۔۔۔۔۔” اس کے سینے پہ دونوں ہاتھ جماتی وہ خود کو مکمل طور پہ اس کے وجود کا حصہ بنانے سے بچاتی چلائی تھی جب اس نے سرعت سے دوسری ہتھیلی اس کے ہونٹوں پہ رکھی۔

“اونہوں، اپنے لفظوں کے معاملے میں محتاط رہیں کیونکہ ابھی آپ پچھلے فعل کی جوابدہی کر لیں۔” اس کے ہونٹوں کی نرماہٹ اپنی ہتھیلی تلے محسوس کرتا وہ سرد لہجے میں گویا ہوا تو اس کے اندر آگ سے لگی تھی۔

“چھوڑیں مجھے ورنہ میں بڑے ابا کو بلا کے بتاوں گی کہ آپ میرے کمرے میں آ کے عجیب باتیں کر رہے ہیں۔” اس کے حصار میں مچلتی وہ مزاحمت کی پوری کوشش میں تھی۔

“اور جو اگر بڑے ابا کو پتہ چلے کہ ان کی پوتی اپنے لیے ‘طلاق’ جیسی پلاننگ کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں بھی اکیلے کر دینے کا ارادہ بنائے بیٹھی ہے تو کیا ہو گا یہ سوچا ہے آپ نے؟” اس کے گرد حائل بائیں بازو کی گرفت مزید مضبوط کرتا وہ سنجیدگی سے گویا ہوا تو اس کا مزاحمت کے لیے مچلتا ہوا وجود پل بھر کے لیے ساکت ہوا تھا۔

“جب آپ کو پلاننگ کا پتہ چل چکا ہے تو آپ اس پہ عمل کیوں نہیں کرتے؟” کچھ لمحوں کے بعد سنبھلتے ہوئے وہ تیکھے لہجے میں گویا ہوئی تو ضرغام کے چہرے پہ پل بھر کے لیے تبسم چھلکا جسے دباتے ہوئے وہ ہلکا سا اس کی جانب جھکا تھا۔

“یہ بات آپ کے شعور میں سما گئی کہ آپ کا مجھ سے نکاح ہوا ہے اور اس نکاح کو ختم کرنے کے لیے آپ ارادے بھی بنا رہی ہیں تو آپ کے شعور نے آپ کو اس بات کا احساس نہیں دلایا کہ میں اب آپ کا ‘چاچو’ نہیں ہوں؟” اس کی اس خفیف چوٹ پہ اس کا دماغ بھک سے اڑا تھا۔

“ہاں کیونکہ جب اس زبردستی بنے رشتے کو مانتی ہی نہیں تو اس کے لیے پرانے رشتے کیوں ختم کروں؟اسی لیے میں نے اس کو ختم کرنے کو کہا ہے۔” اپنی مزاحمت مسلسل جاری رکھے وہ سابقہ انداز میں گویا ہوئی تو وہ چند لمحے سنجیدگی سے اسے دیکھنے کے بعد ہولے سے گویا ہوا۔

“میں نے آپ کی بات سن بھی لی ہے اور سمجھ بھی لی ہے اب آپ میری بات سنیں بھی اور سمجھیں بھی۔۔۔۔” اس کے مچلتے وجود کو اپنی گرفت سے آزاد کرتے ہوئے وہ سنجیدگی سے بولتا ہوا رکا۔

“جو رشتہ بندھ چکا ہے وہ کسی طور بھی ختم نہیں ہو گا۔نہ آپ کے کہے پہ نہ کسی اور کے کہے پہ اس لیے آج کے بعد یہ لفظ زبان پہ لانے کا سوچیے گا مت۔” وہ بات مکمل کرتے ہوئے مڑا کیونکہ مکمل حقوق رکھتے ہوئے رات کے اس پہر اسے یوں اپنے سامنے بے پرواہ دیکھ کے وہ کسی کمزور لمحے کا مرتکب نہیں ٹھہرنا چاہتا تھا۔

“ٹھیک ہے میں آپ کی بات مان لیتی ہوں لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔” نہایت ہی غیرمتوقع طور پہ عقب سے آتی اس کی سپاٹ آواز پہ وہ ٹھہرا۔

“لیکن پہلے آپ کو مجھے بتانا پڑے گا کہ آپ نے نگاہ چچی سے نکاح کیوں کیا تھا؟” اس کے سادہ میں لہجے میں چھپے ہزار انکشاف لیے اس سوال پہ ضرغام ایک جھٹکے سے اس کی جانب مڑا جو بہت چبھتی ہوئی نگاہوں سے اس کی جانب دیکھ رہی تھی۔
اس کی نگاہوں میں ایسی کاٹ تھی جو چند قدم دور ضرغام پہ انکشاف کر گئی کہ وہ کسی حد تک کسی مدفن ‘سچ’ تک پہنچ چکی تھی۔

“اور اگر میں آپ کی بات نہیں مانتا؟” خود کو سنبھالتے ہوئے اس نے جانچتی نگاہوں سے اسے دیکھا۔

“تو میں کل بڑے ابا کے وکیل دوست سے ڈائیورس کا کہہ دوں گی۔” بے خوفی سے کہتی وہ اس سمندر میں طوفان برپا کر گئی۔
بھڑکتے ہوئے اس کی جانب بڑھتے اس نے لپک کے اس کی کلائی تھامی اور اسے اپنی جانب کھینچتے ہوئے دیوار کے ساتھ ہولے سے پن کیا۔

“شہرے!اپنی ضد میں میرے اندر چھپے ‘ضرغام’ کو جگانے کی کوشش مت کریں کیونکہ آپ کا ذہن اس نکاح اور طلاق کے اردگرد گھوم رہا ہے جبکہ اگر میرے اندر کا ضرغام جاگا تو وہ بہت کچھ آپ کو باور کروا دے گا۔” اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتا ہوا وہ درشتگی سے گویا ہوا تو دیوار کے ساتھ لگی شہرے اس کی قربت میں دم سادھے اس کی پرتپش سانسوں کی حدت سے اندر تک خائف ہو رہی تھی۔
لیکن اس کے الفاظ پہ اس کا وجود جیسے بھڑک اٹھا۔

“بچی نہیں ہوں میں جو یہ بات نہ جان سکوں کہ آپ نے نگاہ چچی سے نکاح زبردستی کیا تھا جبکہ وہ منگیتر تھیں آپ کے دوست کی۔” وہ ایک دم سے بلند آواز میں چلائی تو ضرغام نے لمحہ بھر کو ٹھہر کے توجہ سے اسے دیکھا۔

“کیا ہے تو پھر؟اب آپ کیا چاہتی ہیں؟” اس کے جواباً پرسکون انداز میں دیے گئے جواب پہ اس کا وجود چند لمحوں کے لیے اسی زاویے میں ساکت رہ گیا لیکن پھر سنبھلتے ہوئے وہ پھنکاری۔

“نگاہ چچ۔۔۔۔۔۔۔” وہ بول رہی تھی جب ایک ہاتھ میں اس کے ہاتھوں کو گرفت میں رکھے وہ دوسرا ہاتھ اس کے گرد حائل کیے اس پہ جھکا اور بہت نرمی سے اس کے ہونٹوں کے بالکل پاس اپنے عنابی لب یوں جما گیا کہ گھنی مونچھوں کی چبھن اس کے گلابی ہونٹوں پہ بری طرح سے جاگ اٹھی۔

اس کی ایسی غیرمتوقع جسارت پہ اس کا وجود لڑکھڑا اٹھا اور سانسیں لمحے بھر کے لیے تھم کے اگلے ہی پل اس قدر تیزی سے چلنے لگیں کہ انتشار کا شکار ہونے لگیں۔
جبکہ اس لمحے گویا کائنات تھم کے اس پرفسوں پل کو تکتی پرسوز سی مسکرا دی کیونکہ وہ گواہ تھی ضرغام ملک کی جنونیت بھری محبت کی اور وہ یہ بھی جانتی تھی کہ یہ لمحے ضرغام ملک کو مکمل کر گئے تھے۔

“آج کے بعد شاید آپ نگاہ کو چچی اور مجھے چاچو کہنے کی زحمت نہیں کریں گی۔” اس کے چہرے کی ملائمت محسوس کرتے جب طلب مزید بڑھی تو وہ خود کو سنبھالتے ہوئے سیدھا ہوا اور اس کے سرخ چہرے کو تکتے ہوئے بھاری لہجے میں گویا ہوا۔

“آپ۔۔آپ نے مجھ۔۔مجھے۔۔۔۔۔۔۔۔” مارے بے یقینی، صدمے اور غصے سے اس کے لفظ حلق میں ہی دم توڑ گئے تھے۔

“ششش!آپ میرے جس روپ سے واقف ہیں اسی پہ اکتفا کریں کیونکہ اسی روپ میں بہتری ہے۔” ہولے سے اس کا گال تھپتھپا کے کہتا وہ اسے اپنی گرفت سے آزاد کرتا دو قدم دور ہوا۔
وہ جو ابھی تک اس کی جسارت سے ہی سنبھل نہ پائی تھی اس کے لفظوں پہ الجھتی ہوئی اسے تکنے لگی جو اسی پہ گہری نظریں جمائے الٹے قدم چلتا دروازے کی جانب بڑھ رہا تھا۔

جبکہ اپنی ڈوبتی سانسوں کو سنبھالتی شہرے فق چہرے کے ساتھ اس کو تک رہی تھی جو کبھی اس کا آئیڈیل رہا تھا۔
لیکن اس پل اسے محسوس ہو رہا تھا کہ وہ تو کبھی اسے جانتی ہی نہ تھی۔
کون سا روپ اس کا اصل روپ تھا؟
وہ، جو اس نے ہمیشہ سے دیکھ رکھا تھا یا۔۔۔۔
پھر وہ،
جو اس کی کلوزٹ میں چھپا ہوا یہ انکشاف کر رہا تھا کہ نگاہ سے اس شخص کا تعلق اتنا سیدھا ہرگز نہ تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ناشتے کی ٹرے تھامے جب وہ اوپر آئی تو وہ ثمر(ملازم) کی مدد سے فریش ہو کے ٹیرس کا دروازہ کھلوا کے وہیں اپنی وہیل چیئر پہ براجمان تھا۔
ناشتے کی ٹرے لیے وہ ٹیرس کی جانب بڑھ گئی کیونکہ وہ پہلے بھی اکثر ٹیرس پہ ناشتہ کرتے ہوئے پایا جاتا تھا۔
ٹرے خاموشی سے اس کے سامنے پڑے میز پہ رکھ کے اس نے اس کی پلیٹ میں ناشتہ سجا کے اس کے سامنے رکھا۔
اس ساری کاروائی کے دوران وہ اپنی کلائی پہ بندھی بینڈیج سے نکلتے خون سے اتنی ہی بے خبر نظر آ رہی تھی جتنی بے خبر وہ سامنے بیٹھے ذوالنورین کی اپنی کلائی پہ پھسلتی ہوئی گہری نگاہوں سے۔
وہ اس کی خاموشی پہ کلمہ شکر پڑھتی اٹھ کے کمرے میں واپس آئی اور سیدھی واشروم کی جانب بڑھ گئی جہاں اس نے جا کے اپنا آدھا ادھورا چہرہ دھویا اور پھر کمرے میں آ کے اپنا موبائل ڈھونڈ کے ابراہیم صاحب کا نمبر ملانے لگی۔

ابراہیم صاحب جو کل اس کے نکاح کے بعد سینے میں اٹھتے درد کے باعث ہاسپٹل میں رہے تھے اور ابھی ہی اپنے لیے متعین کیے گئے ملازم کے ساتھ گھر پہنچے تھے کہ ملازم کو زحلے ایڈوانس میں کچھ مہینوں کی تنخواہ دے چکی تھی اس لیے وہ اس جانب سے بے فکر تھی۔
اپنے بستر پہ لیٹے موبائل کے بجنے پہ جب انہوں نے زحلے کا نمبر دیکھا تو فورا کال پک کی۔

“السلام علیکم بابا!” اس کا متوازن لب و لہجہ گونجا۔

“وعلیکم السلام!ٹھیک ہو؟” اس سے استفسار کرتے ہوئے ایک آنسو بے اختیار ان کی آنکھ سے ٹپکا تھا۔

“جی بابا،آپ ٹھیک ہیں؟” بہت سی آنسو حلق میں اتارتے ہوئے اس نے جواباً استفسار کیا۔

“میں بالکل ٹھیک ہوں۔” ان کے زبردستی بشاشت سے بولنے پہ وہ یاسیت سے مسکرا دی۔

“بابا!کسی طرح سے میرا۔۔میرا سامان تو مجھے بھجو۔۔۔۔۔۔۔” اس کے چہرے اور کلائی سے نکلنے والے خون نے اس کے کپڑوں میں جذب ہو کے عجیب سی بساند پھیلا رکھی تھی اس لیے وہ انہیں چینج کرنا چاہتی تھی تبھی اپنی چیزیں منگوانی چاہیں۔
لیکن اس کے الفاظ وہیں دم توڑ گئے جب وہ نہایت اطمینان سے اس کے ہاتھوں سے فون اچک چکا تھا۔

“سر آپ کو سامان بھجوانے کی ضرورت نہیں ہے، سامان ان کو مل جائے گا۔” سرد نگاہیں اس پہ جمائے اس نے دوٹوک لہجے میں بات مکمل کی اور بنا ان کی سنے کال کاٹ کے موبائل پرے صوفے کی جانب اچھال دیا۔

“جو جنگ ہمارے درمیان ہے اسے ہمارے درمیان رہنے دیں مس ابراہیم، جن کو میں یہ کہہ چکا ہوں کہ میں آپ کو پسند کرتا ہوں ان کو آپ نکاح کے چند گھنٹوں کے بعد یہ باور کروانا چاہتی ہیں کہ میں آپ کو پہننے کے لیے کپڑے نہیں دلوا سکتا؟” چبھتے ہوئے کاٹ دار لب و لہجے میں کہتا وہ اسے اندر تک خاموش کر گیا تھا۔
وہ اس شخص کے اندازِ جنگ پہ کسی طور حیران بھی تھی اور پریشان بھی۔
یہ شاید اس کا مقابل کو چاروں شانے چت کرنے کا انداز تھا جو وہ اپنے مخالف کو بالکل اپنے برابر لانے کی کوشش کرتا اور پھر یکلخت اسے بلندی سے نیچے کی طرف پٹخ کے شکست سے دوچار کرتا تھا۔

“میں واقعی اسی انداز میں جنگ لڑتا ہوں جیسا آپ سوچ رہی ہیں۔آپ کو بھی موقع اس لیے دے رہا ہوں کہ خود کو اس جنگ کے لیے تیار کر لیں کیونکہ دوسروں کے احساسات کا سودا کرنے والوں کے ساتھ تو حساب میرا بہت پرانا ہے۔” اس کے زخمی چہرے پہ گہری نگاہ ڈالتے ہوئے وہ بولا تو زحلے الجھی۔

“تمہیں جب یہ پتہ ہی تھا کہ میں تمہاری مجرم ہوں تو تم مجھے ویسے سزا دے لیتے یہ نکاح والا ڈرامہ کیوں کیا؟” اس نے کل سے ہی اپنے اندر مچلتا ہوا سوال اس کے سامنے پیش کیا۔

“وہ سزا شاید چند لمحوں پہ مشتمل ہوتی لیکن آپ مجھے اپنے پیار میں پھنسا کے مجھے زندگی بھر کے لیے جس اذیت کا شکار بنانا چاہتی تھیں۔میں اس ڈرامہ کو سر انجام دینے کے بعد آپ کو ہر روز اس اذیت کا شکار دیکھنا چاہتا ہوں۔” اس کے لہجے کی بے رحمی و سفاکیت جہاں کمرے میں موجود زحلے ابراہیم کو سر تا پا لرزا گئی تھی وہیں اس کمرے کے باہر کھڑی شازمین میر کے وجود میں سرشاری سی بھر گئی۔

“اور یہ احساس کتنا آسودہ ہوتا ہے جب آپ کے دشمن بنا آپ کے کسی ہتھکنڈے کے خود ہی اپنی تباہی کا سامان بن جائیں۔” پرمسرت انداز میں سوچتی وہ ادھ کھلے دروازے پہ ایک نظر ڈالتی واپس پلٹ گئی۔
جبکہ اندر اب ذوالنورین میر ڈاکٹر ارتضیٰ کو کال کر کے زحلے کے لیے اس کی ضرورت کا سامان منگوانے کے لیے ان کی نواسی کو بلوانے کا کہہ رہا تھا۔
اور
صوفے پہ براجمان زحلے خاموش نگاہوں سے اس کی ٹانگوں کو دیکھ رہی تھی جو ہمیشہ کی طرح سیاہ شال تلے چھپی ہوئی تھیں۔
اور اس سارے میں وہ یہ جان نہ سکی کہ کمرے میں موجود دوسرا فرد آنکھوں میں اک محظوظ سی چمک لیے اس کے چہرے کے تاثرات قید کرتا جا رہا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

قدرے سنسان سڑک پہ وہ ان ہٹے کٹے آدمیوں کی گرفت میں مچلتی ہوئی بار بار تڑپ کے پیچھے موجود سیاہ کار کو تک رہی تھی جس میں موجود شخص اس لمحے اس کے وجود سے جیسے زندگی کے سارے رنگ چرا لے گیا تھا۔

“رہبان!” وہ روتی ہوئی بلند آواز میں اسے پکار رہی تھی اور یہ اسی پکار کی تڑپ تھی جو سٹیرنگ پہ سر رکھے خون آلود وجود کے ساتھ رہبان گردیزی کی سانسوں کے ربط کو ٹوٹنے نہیں دے رہی تھی۔
ان لوگوں کے ساتھ گھسیٹتی ہوئی وہ ان کی گاڑی تک پہنچی ہی تھی کہ فضا میں ایک دفعہ پھر سے گولیوں کی آواز گونجی تو وہ دونوں ہاتھ کانوں پہ رکھے زور سے چیختی ہوئی وہیں گاڑی کے پاس پیروں کے بل بیٹھ گئی۔

“آبگینے؟” وہ کانوں پہ ہاتھ رکھے اس وحشت ناک ماحول سے بچنے کی ناکام سعی کر رہی تھی جب اس کی سماعتوں میں نرم مگر نامانوس سی آواز پڑی۔
کسی خدشے کے تحت اس نے روتے ہوئے اپنا سر ہولے سے اٹھایا تو گاڑی کی ایک ہیڈ لائٹ سے نکلتی روشنی میں نگاہ ایک اجنبی چہرے سے ٹکرائی۔
لیکن ساتھ ہی اس کے ذہن میں جھماکا ہوا، اس نے یہ چہرہ کہیں دیکھا تھا۔

“آ جائیں میرے ساتھ۔” اس نے نرمی سے کہتے ہوئے ہتھیلی اس کی جانب بڑھائی ساتھ ہی ایک محتاط نگاہ اردگرد ڈالی جہاں اب تک اس کے گارڈز صورتحال کو انڈر کنٹرول کر چکے تھے جبکہ رہبان کو بھی اس کی گاڑی سے نکال کے اپنی گاڑی میں ڈال چکے تھے۔
اس کے ہاتھ سامنے کرنے پہ وہ ہاتھ بڑھانے کی بجائے روتی ہوئی اسے دیکھنے لگی تو اس نے گہری سانس بھری۔

“رہبان کا دوست ہوں میں۔جلدی کریں،رہبان کی حالت ٹھیک نہیں ہے اسے ہاسپٹل لے کے جانا ہے۔” اس نے مجبوراً اسے تفصیل سے آگاہ کیا تو رہبان کے نام پہ اس کے وجود کو جیسے جھٹکا لگا۔
اس نے پلٹ کے مسخ ہوئی کار کو دیکھا اور پھر اس کے ہاتھ پہ اپنی ہتھیلی رکھ کے بمشکل اٹھی۔

“وہ۔۔رہبان۔۔!” سسکیاں بھرتے ہوئے اس نے کہا تو وہ اسے اپنی گاڑی کی جانب لے کے بڑھتا ہوا بولا۔

“وہ اسی گاڑی میں ہے، آپ پریشان نہیں ہو۔” اس کی تسلی پہ وہ تیز قدموں سے گاڑی کی جانب بڑھی لیکن جیسے ہی پچھلی سیٹ پہ خون سے تر وجود لیے زخمی رہبان پہ نظر پڑی تو دل کو جیسے دھکا سا لگا تھا اور آنسووں ایک دفعہ پھر سے بے لگام ہوتے زارو قطار رخساروں پہ بہنے لگے۔

“جس قدر چڑتے تھے تم روتی ہوئی لڑکیوں سے، اس قدر ہی آنسو بہانے والی بیوی ملی ہے تمہیں۔” اس کے بہتے آنسووں کو تاسف سے دیکھتے ہوئے اس نے گاڑی کی سپیڈ بڑھائی تھی کیونکہ اسے میڈیا کو خبر ہونے سے پہلے آبگینے کو ‘گردیزی ہاوس’ بھجوا کے رہبان کو ہاسپٹل لے کے پہنچنا تھا۔

کیونکہ وہ یہ جانتا تھا کہ صبح تک ‘ایس پی رہبان گردیزی’ پہ حملے کی خبر ہر طرف تہلکہ مچا دے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“کیا؟” ان سب کی ‘کیا’ اس قدر بلند اور خوفناک تھی کہ اس کے ہاتھوں میں پکڑا ہوا سیب پھسل کے دور جا گرا۔

“تم نے مطلب تم نے ایک قطعی اجنبی شخص سے پیسے لے کے اپنی فیس ادا کی؟” مشعل سے کسی طور بھی یہ بات ہضم نہ ہو رہی تھی تبھی وہ اس دھماکے سے فوری سنبھلتی ہوئی جس انداز میں گویا ہوئی وہ مزید گڑبڑا کے رہ گئی۔

“پیسے نہیں لیے تھے اس نے خود ہی فیس جمع کروا دی۔” ان سب کی شعلے اگلتی نگاہوں سے گھبراتے ہوئے وہ منمنائی تو وہ بھنا اٹھیں۔

“پیسے لے کے فیس ادا کی یا اس نے خود فیس دے دی بات تو ایک ہی ہے۔تم بس یہ بتاو کہ فقیرنی ہو کیا تم کہ تمہیں بھی راہ چلتا پیسے دے گا تو تم پکڑ لو گی؟” آیت تپے ہوئے لہجے میں بولی تو وہ تڑپ اٹھی کیونکہ لفظ ‘فقیرنی’ سیدھا دل کو جا کے لگا تھا۔

“فقیرنی نہیں ہوں میں، فیس کی آخری ڈیٹ تھی اس لیے میں نے بہت مجبوری میں یہ سب کیا تھا۔” اس نے اب کے احتجاجی آواز میں اپنے فعل کی وضاحت کی۔

“ہاں تو تمہیں کس نے کہا تھا کہ گھر کے کسی ایک بھی فرد کا نمبر زبانی یاد نہ رکھو اور رات بھر بکواس ڈرامے دیکھ کے موبائل کی بیٹری ڈیڈ کر کے یونی پہنچو۔” زمل نے بھی بے مروتی سے اس کی عزت افزائی کی تو اس نے بے بسی سے حمدان اور داود کی جانب دیکھا۔

“دیکھو جو ہونا تھا وہ ہو چکا ہے اب یہ بتاو کہ تمہیں اس بندے کا نام پتہ معلوم ہے یا پھر اس کا کوئی نمبر؟” اس کی روہانسی صورت دیکھ کے داود نے سب کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی۔

“آں۔۔۔نہیں میرا مطلب ہے کہ اس نے مجھے اپنا نام بتایا تھا لیکن ٹینشن میں میں بھول گئی۔” اس کے منمناتے انداز پہ سب کا کم ہوتا پارہ ایک دم سے چڑھ گیا۔

“کس دنیا میں رہتی ہو تم دریہ؟” آیت نے دانت کچکچا کے اسے دیکھا۔

“اس نے کہا تھا کہ وہ کل خود مجھ سے اپنے پیسے لے لے گا۔” اس نے آیت کی بات بمشکل نظرانداز کرتے ہوئے جلدی سے پتے کی بات بتائی۔

“اوکے کل تم یونی میں سارا دن ہمارے ساتھ رہو گی۔ہم اسے پیسے واپس کر کے شکریہ ادا کر دیں گے اور خبردار ابھی گھر میں کسی کو کچھ نہ بتانا ورنہ سب کو باحماعت لعنتیں پڑیں گی۔” داود نے اسے ہدایت دیتے ہوئے کہا تو اس نے جلدی سے سر اثبات میں ہلایا۔

“ویسے اگر وہ کل پیسے نہ لینے آیا تو۔۔۔۔؟” مشعل کے پرسوچ سوال پہ سب نے ہی چونک کے اس کی جانب دیکھا۔

جاری ہے۔