57.1K
55

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 46

“دل تیرے سنگ جوڑ لیا”
از
حوریہ ملک
Episode#46;

اس نے بڑی سرعت سے اپنی نگاہیں اس کی نگاہوں سے چرائیں۔
اس کا شدت سے دل چاہا کہ وہ واپس پلٹ جائے لیکن پھر سب کی توجہ خود پہ مرکوز پا کر وہ ان سب کے سوالات سے بچنے کے لیے دھیرے دھیرے قدم اٹھانے لگی۔

“دریہ!یہ تمہارا لیچڑ ہیرو تو گھر تک آ گیا ہے۔” اس کے پیچھے چلتی زمل نے مدہم آواز میں سرگوشی کی تو وہ دبی دبی آواز میں غرائی۔

“بکواس بند کرو اپنی۔” اسے اچھے سے لتاڑ کے وہ ان لوگوں کے نزدیک پہنچی اور سپاٹ انداز میں سلام کر کے بی جان کے پاس بیٹھ گئی۔

“اتنے غصے میں کیوں ہو آج؟” اس کے چہرے کے زاویے بغور ملاحظہ کرتے رہبان نے استفسار کیا تو وہ جیسے پھٹ پڑی۔

“یہ سارا زمل اور داود کا قصور ہے، نجانے چھٹی ٹائم کے وقت کون سی دوستیاں نبھانے اندر کھڑے ہو جاتے ہیں جبکہ میں باہر دھوپ میں سڑھ کے کوئلہ بن جاتی ہوں۔” خفگی سے بولتے ہوئے اس نے ان دونوں کی شکایت لگائی جبکہ رہبان کے ساتھ بیٹھے طلال کی نگاہیں بہت دلچسپی سے اس کے دھوپ اور غصے کی شدت سے سرخ ہوئے چہرے اور مسلسل حرکت کرتے ہونٹوں کو دیکھ رہا تھا۔

“دھوپ کو الزام دینے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ تم آلریڈی جلتا بھنتا کباب بن چکی ہو۔” داود نے اس کی دہائی سن کے فوراً جواب دیا تو وہ بلبلا اٹھی۔
لیکن سامنے بیٹھے طلال کی موجودگی کے باعث اپنے ہاتھوں اور زبان کو بمشکل بریک لگائی۔

“فضول باتیں کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔دریہ اگر آج کے بعد یہ تمہیں لیٹ کریں تو گاڑی کی چابی لے کر نکل آیا کرنا۔” رہبان نے بہت سنجیدگی کے ساتھ اسے مشورہ دیا تو اس کا چہرہ ایک دم سے کھل اٹھا۔
اس پہ گاہے بگاہے نظریں ڈالتا طلال ان بدلتے رنگوں کو بغور پرکھ رہا تھا۔

“کھانا لگ گیا ہے۔تم لوگ جلدی سے فریش ہو کے آو اور آپ آو بیٹا۔” سائرہ بیگم کی اچانک آمد پہ باتوں کا سلسلہ ایک دم سے تھما تھا۔
جبکہ کھانا لگنے کا سن کے ان کی بھوک ایک دم سے چمک اٹھی تھی تبھی بنا کسی تگ و دو کے اپنی جگہیں چھوڑیں۔

“نہیں آنٹی!کھانا نہیں کھاوں گا میں۔آبگینے سے ملنے آیا تھا۔بہت شکریہ آپ کا۔” کھانے کا سن کے اس نے فوراً سنجیدگی سے معذرت کی اور جانے کے لیے اٹھ کھڑا ہوا۔

“تم پہلی دفعہ ہمارے گھر آئے ہو۔اس طرح بنا کچھ کھائے گئے تو تمہاری بہن اور بھانجے کو گلٹی فیل ہو گا۔” اس کے اٹھنے پہ رہبان بھی اس کے ساتھ ہی کھڑے ہوتے ہوئے اس سے بھی دوگنا زیادہ سنجیدگی سے گویا ہوا۔
تو طلال کے آبگینے کی جانب دیکھنے پر اس نے خجل سا ہوتے ہوئے دوپٹہ اپنے وجود کے گرد مزید پھیلاتے ہوئے اپنی فطری ہڑبڑاہٹ چھپانے کی کوشش کی۔

پھر نجانے ایک دفعہ پھر سے اُس جنگلی بلی کو دیکھنے کی طلب تھی یا واقعی بہن اور ہونے والے بھانجے کی ناراضگی کا احساس تھا۔ وہ رہبان کی معیت میں کھانے کی میز تک پہنچ گیا۔
کھانا انتہائی پرسکون ماحول میں کھاتے ہوئے اس کی نگاہیں گاہے بگاہے اپنے کزنز اور بہن بھائیوں کے ساتھ الجھتی دریہ پر بھی جا رہی تھیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“کیا اب تم سے بات کرنے کی اجازت مل سکتی ہے۔اب تو تمہارے گھر میں کھڑا ہوں۔” پورچ میں رہبان کے ساتھ کھڑے طلال نے جب پتھریلی روش پہ چلتی دریہ کو عقیدت بیگم کی طرف جانے کے لیے گیٹ کی جانب بڑھتے دیکھا تو بے اختیار اسے پکار بیٹھا۔
اس کی اس بے اختیاری پہ جہاں دریہ نے اچنبھے سے پلٹ کے اس کی طرف دیکھا وہیں اس کے ساتھ کھڑا رہبان غصے سے اس کی جانب پلٹا۔
اور ان کی جانب آتی آبگینے اس جرات پہ جیسے تھراہ اٹھی۔

“اس جرات کا ماخذ جان سکتا ہوں طلال شاہ؟” رہبان کا خشک لہجہ وہاں موجود دونوں لڑکیوں کا خون خشک کر گیا۔
جبکہ وہ نہایت پرسکون انداز میں گویا ہوا۔

“کچھ دن قبل ہماری حویلی میں ہونے والے حادثے کی بدولت تمہاری بہن میری جانب سے غلط فہمی کا شکار ہو چکی ہے۔میں وہ دور کرنا چاہتا ہوں۔” اس کے اس بظاہر سادگی بھرے انداز پہ دریہ کا دل چاہا وہ اس شخص کا منہ تھپڑوں سے لال کر دے۔
جبکہ رہبان کا چہرہ مارے ضبط کے سرخ اور آبگینے کا چہرہ کسی انہونی کے خیال سے سفید پڑتا جا رہا تھا۔

“اور میری بہن سے تمہارا کیا رشتہ ہے جو اس کی غلط فہمی دور کرنے کے لیے تم نے اتنا کشٹ اٹھایا؟اس بہن کے گھر چلے آئے جس کا گھر تم اجاڑنا چاہتے تھے۔” اس کا لہجہ ناچاہتے ہوئے بھی تیز جبکہ الفاظ دو دھاری تلوار کی مانند ہو رہے تھے۔

“کیونکہ میں پسند کرتا ہوں تمہاری بہن کو۔” انکشاف اس قدر اچانک اور گہرا ہوا تھا کہ رہبان کا ہاتھ بے ساختہ اٹھا اور اس کے جبڑے پہ گہرا نشان چھوڑ گیا۔
دوسری جانب اس انکشاف پہ جہاں دریہ سن ہو چکی تھی وہیں آبگینے کو ٹھنڈے پسینے آنے لگے تھے۔

“تم جانتے ہو کہ کیا بکواس کر رہے ہو اور کس کے سامنے کر رہے ہو؟” اس کے گریبان کو دونوں ہاتھوں سے تھامے وہ دبی دبی آواز میں غرایا تو آبگینے ایک دم سے جیسے ہوش میں آئی تھی۔

“رہبان پلیز!بھائی کو چھوڑیں۔” تیزی سے اس کی جانب بڑھتی وہ دونوں ہاتھ اس کے سینے پہ رکھتی اسے طلال سے دور دھکیل گئی تھی۔
جبکہ اس کے اس عمل پہ رہبان نے ہولے سے گھور کے اسے دیکھا لیکن وہ فی الوقت اپنے بھائی کی جانب متوجہ تھی۔
“میں یہ سب اس لیے آرام سے سہہ گیا ہوں کیونکہ ایسا وار میری جانب سے بھی تم پہ کیا گیا تھا۔مگر میری بات پہ اپنی انا کو حاوی کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔بنا محبت کے اپنا نام لگ جانے کی صورت میں تم نے ڈنکے کی چوٹ پہ ہم سے ہماری بہن چھینی تھی۔۔۔۔۔۔” بات کرتے کرتے وہ ایک دم سے رکا تو اس کے لفظ ‘محبت’ پہ رہبان کا دل جیسے پھڑک اٹھا۔
لیکن طلال نے فوراً ہاتھ اٹھا کے اسے روکا۔

“کرتے ہو گے اب تم محبت یا عشق لیکن اُس وقت بات صرف نام کی تھی جبکہ میں تمہاری بہن کو پسند کرتا ہوں اس لیے کسی چور دروازے یا خاندانی سیاست و داو کھیلنے کی بجائے تم سے ڈائریکٹ اپنی خواہش کا اظہار کر رہا ہوں۔” انکشافات کی زد میں ہنڈولتی دریہ نے جب اپنی ٹانگوں کو بے جان ہوتا محسوس کیا تو وہیں گھٹنوں کے بل بیٹھتی پھٹی پھٹی آنکھوں سے اُن سالے بہنوئی کو تک رہی تھی۔

“اور میں جیسے تمہاری یہ خواہش خوشی خوشی پوری کر دوں گا۔ جاو یہاں سے اپنا راستہ ناپو لڑکے۔” اسے گھورتے ہوئے اس نے جھلائے ہوئے لہجے میں بولتے ہوئے گیٹ کی جانب اشارہ کیا تھا۔

“بی ہیو رہبان! یہ بات مت بھولو کہ وہ مہمان ہے اور سب سے بڑھ کر آبگینے کا بھائی ہے۔” رضا گردیزی صاحب کی باوقار اس قدر اچانک گونجی تھی کہ وہ سب بیک وقت چونک کہ ان کی جانب مڑے تھے۔
جو وہیں روش پہ ہق دق بیٹھی دریہ کو بازووں کے حلقے میں لیتے کھڑا کر رہے تھے۔

“تم نے اپنی خواہش کا اظہار کیا جو کہ ہم نے سن لیا۔لیکن بہتر زیادہ یہی رہے گا کہ تم اپنی یہ خواہش اپنے گھر کے کسی بڑے کے ہمراہ آ کے کرو تاکہ ہمیں ہر طرح کا ممکنہ جواب دینے میں آسانی ہو سکے۔” اس کی تدبر سے بھرپور آواز پہ طلال کے کشیدہ اعصاب قدرے پرسکون ہوئے تھے۔
جبکہ رہبان نے ناراضگی سے باپ کی جانب دیکھا جو اب ایک بازو میں دریہ کو لیے دوسرے ہاتھ سے اس کے ساتھ مصافحہ کر رہے تھے۔
جو ہاتھ تو بظاہر گردیزی صاحب سے ملا رہا تھا لیکن نگاہیں اُس کی ان کے بازو میں سمٹی کھڑی دریہ پہ مرکوز تھیں۔

“اس سے زیادہ بھی گھورو گے تب بھی فائدہ نہیں ہو گا اس لیے بہتر یہی ہو گا کہ اپنی نظریں جھکا لو۔پھر نہ کہنا کہ پولیس والے نے لحاظ نہیں کیا۔” اس کی حرکات و سکنات کو ملاحظہ کرتے رہبان کی بھنائی آواز ابھری تو اب کی بار بھائی سے ملتی آبگینے نے گھور کے اسے دیکھا۔
جو طلال سے بادل نخواستہ ہاتھ ملاتا اسے رخصت کر رہا تھا۔

“ویسے آج مجھے یقین ہو گیا کہ میکے والے سامنے آنے پہ بیویاں یونہی شوہروں پہ ظلم ڈھاتی ہیں۔” طلال کے رخصت ہوتے ہی وہ آبگینے کی جانب مڑا جو ہنوز اس کو کڑی نگاہوں سے دیکھ رہی تھی۔

“فی الحال مجھ سے بات کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔” تڑخ کے اسے جواب دینے کے بعد وہ دریہ اور گردیزی صاحب کی جانب بڑھی جو واپس اندر کی جانب بڑھ رہے تھے۔
جبکہ وہ سالے کے بعد بیوی کے تیور ملاحظہ کرتا پرسوچ نگاہوں سے صدر دروازے کی جانب دیکھ رہا تھا جہاں سے وہ تینوں اندر غائب ہوئے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بوجھل قدموں کے ساتھ ‘ملک منزل’ کا گیٹ پار کرنے کے بعد وہ اندر کی جانب بڑھا جہاں آمنہ بیگم احسن صاحب اور زونیہ بیگم کے ہمراہ بیٹھی چائے پی رہی تھیں۔
ان سے ملنے ملانے کے بعد وہ کوئی بھی مروت و تکلف نبھائے بغیر شہرے کے متعلق استفسار کرنے لگا۔

کیونکہ ‘ملک ہاوس’ میں داخل ہوتے ہی اسے ثمرین بیگم نے شہرے کے متعلق آگاہ کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے منتظر ہونے کا بھی بتا دیا تھا۔
اور وہ اپنی زندگی کے اسی لمحے سے خائف تھا جب اسے شہرے کو اس سب سے آگہی دینا تھی۔

زونیہ بیگم کے جواب دینے پہ وہ گہری سانس حلق سے خارج کرتا ہوا سیڑھیوں کی جانب بڑھا۔
اس کے مضبوط قدموں کی منزل اس کے کمرہ تھا جس میں وہ گزشتہ کچھ گھنٹوں سے مقید تھی۔
ہولے سے مقفل دروازے پہ دباو ڈالتے ہوئے اس نے دروازہ وا کیا تو اندھیرے میں ڈوبے کمرے نے اس کا استقبال کیا جسے دیکھ کر نجانے کیوں دل کی گھٹن مزید بڑھ گئی تھی۔
چند قدم آگے بڑھ کے اس نے دیوار پہ ہاتھ مارتے ہوئے سوئچ آن کیے تو کمرہ یکایک روشنیوں سے نکھر گیا۔
روشنیوں نے آشنائی حاصل ہوتے ہی اس نے اضطرابی نگاہ کمرے میں دوڑائی تو نظر صوفے کے ساتھ پشت ٹکائے فلور کشن پہ گھٹنوں میں منہ دیے بیٹھی شہرے پہ پڑی تھی۔
جس کی کمر پہ بکھرے بال دیکھ کر اس کی گردن میں ایک گلٹی سی ابھر کر معدوم ہوئی تھی۔

وہ آگے بڑھا اور اس کے نزدیک وہیں ایک ٹانگ فولڈ کر کے نیچے بیٹھتے ہوئے اس کے بالوں کو نرمی سے اپنے ہاتھ سے سہلایا۔

“شہرے!” وہ جو پچھلے کچھ گھنٹوں سے ایک ہی پوزیشن میں بیٹھی اس کے آنے کی منتظر تھی۔
اس کی مانوس خوشبو اور قدموں کی آہٹ پہ نجانے کیوں چاہتے ہوئے بھی وہ خود میں حرکت کرنے کی ہمت نہ جتا پائی تھی۔
لیکن پھر اچانک اس کی مضبوط انگلیوں کا لمس بالوں میں سرکتا ہوا ایک عجب سا طوفان دل میں اٹھا گیا۔
ایک جھٹکے سے گھٹنوں سے سر اٹھا کے اس کی جانب نگاہ اٹھائی تو سرخ متورم سوجی ہوئی آنکھیں ضرغام کے دل میں ایک تہلکہ سا مچا گئیں۔
بے ساختہ اس نے دوسرا ہاتھ بڑھاتے ہوئے اس کی آنکھوں کے سوجے ہوئے پپوٹوں کو چھونا چاہا تو اس نے ایک جھٹکے سے چہرہ پیچھے کیا۔

“مجھے چھونے سے پہلے میرے ایک سوال کا جواب دیں۔” رونے کی شدت سے قدرے بیٹھی ہوئی آواز میں اس نے جب کہا تو لہجے کی سرد تاثیر نے کمرے کی فضا کو گھٹن زدہ سا کر دیا۔

“آپ کون ہیں؟” اس نے اپنا سوال کچھ اس انداز میں اس کے سامنے پیش کیا تھا کہ اس کی جانب بڑھا ہوا ضرغام کا ہاتھ بے جان سا ہوتا واپس اس کے پہلو میں گر گیا۔

“بتائیں نا کون ہیں آپ؟” نگاہ کے ضر ہیں یا شہرے کے سرخ سکارف کو ایک ان کہی یاد رکھنے والے ضرغام ہیں آپ؟” اس کی سرخ آنکھوں کے گوشے ایک دفعہ پھر سے بھیگنے لگے تو اس نے اس کی مزاحمت رد کرتے ہوئے دونوں ہاتھوں میں اس کا چہرہ تھاما اور والہانہ انداز میں اس کی نم آنکھوں پہ لب رکھتے ہوئے ان آنکھوں میں اٹکے ہوئے نمکین پانیوں کو اپنے لبوں سے چن لیا۔
حملہ اس قدر اچانک ہوا تھا کہ وہ اپنے بچاو کی تدبیر بھی نہ کر سکی اور نرم گرم لبوں کی حدت نم پلکوں کو بوجھل کر گئی۔

“جس جگہ پہ میری اور نگاہ کی تصاویر دیکھ کر مجھ سے بدظن ہوئی تھی اس جگہ پہ تب ہی اس سرخ سکارف کو اور ہیئر کلپس کو دیکھ لیتی تو شاید ایسی فصیلیں ہمارے اردگرد نہ اگتی۔” اس کی تپتی پیشانی کے ساتھ اپنی پیشانی ٹکائے وہ بھاری لہجے میں گویا ہوا تو اس کے دل میں جوار سا پھٹنے لگا تھا۔

“میری اذیتوں کا جواب وہ کپڑے کا ایک ٹکڑا اور میٹل کے چند کلپس نہیں ہو سکتے ضرغام ملک۔” دونوں ہاتھ اس کے سینے پہ بمشکل جماتی وہ اسے خود سے دور دھکیلتی یکلخت بلند آواز میں غرائی تو اس نے اپنی سلگتی آنکھیں اٹھا کے اس کی جانب دیکھا۔
جو گہری سانسیں لیتی اس کی جانب خاصی کاٹ دار نگاہوں سے دیکھ رہی تھی۔

“کیسا جواب چاہیے آپ کو اپنی اذیتوں کا؟” اس کی جانب دیکھتے ہوئے اس کا لہجہ اب کی بار بے پناہ سنجیدگی سمیٹ لایا تھا۔
کیونکہ وہ سمجھ چکا تھا کہ وہ مفاہمت کی حد سے نکل چکی ہے۔
“کیا آپ ایسے کسی سوال کے مجاز ہیں؟” اگر اس کا لہجہ سنجیدگی سے بھرپور تھا تو اس کا لہجہ تلخی سے لبریز تھا۔

“آپ کسی سوال کے مجاز نہیں ہیں بلکہ آپ جو کچھ کر چکے ہیں، آپ کو سوالات سے نہیں اپنے جوابات سے غرض ہونی چاہیے۔” اس کی کہی بات نے آگ ایسی دل میں لگائی تھی کہ جسے وہ اپنے لفظوں کی کاٹ سے ٹھنڈا کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔

” میرے جوابات سن پائیں گی؟”

جاری ہے۔