57.1K
55

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 5

“دل تیرے سنگ جوڑ لیا”
از
حوریہ ملک

اس نے ایک نظر بیڈ پہ پڑے موبائل کی جانب دیکھا۔حویلی میں لڑکیوں کے پاس ذاتی موبائلز نہیں تھے لیکن ہر فیملی کے پاس ایک موبائل ضرور تھا جو زیادہ تر ماوں کی زیرِ حراست ہوتا تھا لیکن آج کل چونکہ ساجدہ بیگم ذہنی پراگندگی کا شکار تھیں اس لیے موبائل یوں بے دھیانی میں پڑا تھا۔

اس نے مسلسل بجتے ہوئے موبائل کی گنگناہٹ سے بیزار ہوتے ہوئے لپک کے موبائل اٹھایا اور کال پک کر کے فون کان سے لگا لیا۔

“السلام علیکم!” اس نے اپنی نم آنکھوں کو صاف کرتے ہوئے لہجے کو نارمل کرتے ہوئے سلامتی بھیجی جبکہ لہجے سے چھلکتی ہلکی سی نمی دوسری جانب فورا سماعتوں میں جذب ہوئی تھی۔

“وعلیکم السلام!” بھاری مردانہ لیکن بے حد خوبصورت لب و لہجے میں دیے گئے جواب پہ وہ جیسے ہِل سی گئی تھی۔
اس نے چونک کے موبائل کان سے ہٹایا اور سکرین کی جانب دیکھا جہاں کوئی نام وغیرہ نہ لکھا تھا۔

“کون؟” اس نے موبائل کان سے لگاتے ہوئے اب کی بار لٹھ مار انداز میں استفسار کیا تو دوسری جانب موجود شخص اپنے سلام کے جواب میں اس کے لہجے میں در آنے والی اس تبدیلی پہ جیسے محظوظ ہوا تھا۔

“خاکسار کو رہبان گردیزی کہتے ہیں۔” نہایت عاجزانہ انداز اختیار کیے وہ آنکھوں میں ایک چمک لیے بولا تو دوسری جانب آبگینے نے ایسے اندازِ تعارف پہ خوفزدہ انداز میں دروازے کی جانب دیکھا کہ اگر جو کسی کو معلوم ہو گیا کہ وہ کسی اجنبی کی کال پک کر چکی ہے تو اگلے چند لمحوں میں اس کے ساتھ کیا ہو سکتا ہے؟یہ سوچتے ہی اس کا وجود مارے خوف کے کپکپا اٹھا۔

“کال بند مت کیجیے گا۔” وہ جو دروازے کی جانب دیکھتی خود سے جامد ہو چکی تھی اس کی اگلی بات پہ اسے جیسے ہوش آیا تھا۔

“کون رہبان گردیزی؟” اس نے سنبھلتے ہوئے قدرے خوفزدہ لہجے میں استفسار کیا تو اس سوال پہ سکون سے کرسی کی پشت سے ٹیک لگا کے بیٹھے ایس پی رہبان گردیزی کا سکون لمحے میں غارت ہوا۔

“لعنت ہو تم پہ رہبان گردیزی، چار دن بعد بننے والی بیوی سے عشق بگھارنے کے چکروں میں تھے اور یہاں وہ سرے سے تمہیں پہچانتی ہی نہیں ہے۔” وہ خود کو لتاڑتے ہوئے ایک کھا جانے والی نگاہ موبائل پہ ڈالتا واپس ٹیک لگا گیا۔

“تعارف موبائل پہ چاہتی ہیں یا روبرو؟” اس کے گھمبیر لہجے میں کیے گئے اگلے سوال پہ آبگینے نے ایک جھٹکے سے موبائل کان سے ہٹایا اور کال بند کرتی موبائل بیڈ پہ پٹخ چکی تھی۔

“نجانے کون بدتمیز ہے۔” اس اجنبی کو لتاڑتے ہوئے وہ چند لمحوں کے لیے ہی سہی لیکن اپنی زندگی میں آنے والی آزمائشوں کو فراموش کر گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گھڑی کی سوئیاں اس وقت رات کے تقریباً دس بجا رہی تھیں اور ان آگے پیچھے دوڑتی گھڑی کی سوئیوں سے بے نیاز وہ سیاہ شلوار قمیض پہنے اپنے کمرے سے منسلک اپنی شاندار سٹڈی میں بیٹھا اپنا کام کر رہا تھا۔

اسی لمحے اس کے سٹڈی ٹیبل پہ پڑا انٹرکام بجا تو اس نے لیپ ٹاپ پہ نگاہیں جمائے بڑے مصروف سے انداز میں انٹرکام اٹھایا تو دوسری جانب ‘اسد ملک’ تھے جو کہ کل رات ہی سیمینار سے واپس آئے تھے اور اس وقت اس سے ملنے کو کہہ رہے تھے۔
اس نے گہری سانس بھرتے ہوئے انہیں مثبت جواب دیا اور خود لیپ ٹاپ پہ تیزی سے انگلیاں دباتا اپنا کام مکمل کرنے لگا۔اگلے پانچ منٹوں میں سٹڈی روم کا دروازہ ہولے سے کھٹکھٹانے کے بعد اسد ملک وہاں داخل ہوئے تو اس نے لیپ ٹاپ بند کر کے ہونٹوں پہ خیر مقدمی مسکراہٹ سجا کے انہیں دیکھا تھا۔

“مصروف تو نہیں تھے؟” وہاں موجود صوفے پہ بیٹھتے ہوئے انہوں نے اس کی جانب دیکھا جو انہی کی جانب متوجہ تھا۔

“نہیں۔” یک لفظی جواب دیتے ہوئے وہ خاموشی سے انہیں دیکھنے لگا۔

“رخصتی کا ارادہ کب تک کا ہے؟” انہوں نے جیسے بات کرنے کو تمہید باندھنے کی کوشش کی تھی۔

“یہ سوال کرنے کی نوبت کیونکر آن پہنچی آپ کو؟” سوال اگرچہ سادہ تھا لیکن اس سوال میں چھپی چبھن محسوس کرتے ہوئے اسد صاحب نے زور سے اپنے لب بھینچے۔

“تمہاری ماما چاہتی ہیں کہ اب تمہاری شادی ہو جانی چاہیے۔” انہوں نے نرمی سے جواب دیا تو اس کی خوبصورت بھوری آنکھوں کے گوشے ہلکے گلابی ہونے لگے۔

“تو آپ لوگوں کو کب سے میری رضامندی کی فکر ہونے لگی، آپ فیصلہ سنائیے کہ کب لے کے جانی ہے مجھے بارات؟” اس نے ایک بازو کرسی کے ہتھے پہ جمائے دوسرا ہاتھ اپنے گھٹنے پہ ہولے سے مارتے ہوئے اپنی خوبصورت آنکھیں ان کے چہرے پہ گاڑھے بے تاثر سے انداز میں جواب دیا تو شدتِ ضبط سے اسد صاحب کا چہرہ سرخ پڑا تھا۔

“ضرغام!تم وہ بات فراموش نہیں کر سکتے؟تم جانتے ہو کہ وہ تمہ۔۔۔۔۔” انہوں نے بیٹے کا بے تاثر چہرہ دیکھتے ہوئے اسے اپنے تئیں اس کی اذیت سے نکالنا چاہا جب وہ ایک جھٹکے سے اپنی جگہ سے کھڑا ہوتا ان کی بات قطع کر گیا۔

“وہ بات ختم ہو چکی ہے بابا جان۔گڑھے مردے نہ اکھاڑیے۔” وہ ان کے سامنے سے ہٹتا سامنے دیوار پہ ٹنگی پینٹنگ کو تکتے ہوئے مدہم لہجے میں گویا ہوا تو اسد صاحب نے بغور اس کا چہرہ دیکھا۔

“اگر بات واقعی ختم ہو چکی ہے تو اس کے اثرات تمہاری ذات پہ ابھی تلک کیوں موجود ہیں؟کیوں اس کا نام تک تمہیں تمہاری ذات سے بھی دور لے جاتا ہے۔” ان کا وار اس قدر گہرا تھا کہ خود پہ تہہ در تہہ خول چڑھائے ضرغام ملک کا گویا وجود تار تار ہو گیا۔
وہ سرخ چہرے کے ساتھ پلٹا اور واپس اپنی کرسی پہ بیٹھ کے رخ سٹڈی ٹیبل کی جانب موڑتا سپاٹ لہجے میں بولا۔

“آپ اس مہینے کی کوئی سی بھی تاریخ رکھ لیجیے شادی کے لیے۔” بنا ان کی جانب دیکھے وہ سپاٹ لہجے میں بولا لیکن اس کے لہجے میں پنہاں ازیت اور اک نامحسوس سی کپکپاہٹ نے شاید اتنے سالوں میں پہلی دفعہ انہیں ان کے کیے فیصلے کے غلط ہونے کا اشارہ دیا تھا۔
لیکن اب بہت دیر ہو چکی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تیزی سے کام نپٹاتے ہوئے اس کے ہاتھوں میں چھنکتی کانچ کی سرخ چوڑیاں گنگناتیں تو اس کے لب ہولے سے مسکرا اٹھتے۔
کل اس کی سالگرہ تھی اور ابراہیم صاحب نے ان سے اکثر ملنے کے لیے آنے والے اپنے دوست فردوس صاحب سے اس کے لیے تحفتاً کانچ کی چوڑیاں منگوائیں تھیں جو اسے رات کو اس کے لائے گئے کیک کی کٹنگ کے دوران دیں تو اس کی خوشی دوبالا ہو گئی تھی۔

“اچھا بابا!میں اب چلتی ہوں۔کھانا یہ میں نے آپ کے پاس ڈھانپ کے رکھ دیا ہے اور یہ چولہا بھی ساتھ ہی ہے تو آپ کھانا کھانے کے بعد دن والی میڈیسن یاد سے لے لیجیے گا۔” وہ اپنی سیاہ چادر اپنے گرد اوڑھتی انہیں ہدایات دیتی ان کے سامنے جھکی اور ان سے دعائیں لے کے وہ اپنی منزل کی طرف گامزن ہو چکی تھی۔

ذوالنورین میر کے کمرے میں آنے کے بعد اس نے اپنی جگہ پہ بیٹھتے ہوئے نوٹس کھولے تو اپنے دھیان میں گم ذوالنورین میر نے چونک کے اس کی جانب دیکھا جو توجہ پوری طرح سے نوٹس پہ مبذول کیے ہوئے تھی۔

“اوکے لیٹس سٹارٹ!” مطلوبہ صفحہ کھولنے کے بعد نوٹس اس کی جانب بڑھاتے ہوئے وہ بولی تو ایک دفعہ پھر سے اس کا چونکنا اسے ٹھٹھکا گیا۔

“کیا ہوا؟” وہ اسے دیکھنے لگی جو آج اپنے پیروں کو دیکھنے کی بجائے اس کی جانب متوجہ تھا۔

“وہ یہ چوڑیاں۔۔۔۔” اس نے الجھے ہوئے لہجے میں کہتے ہوئے اپنا بایاں ہاتھ بڑھا کے اس کی مومی کلائی میں موجود سرخ چوڑیوں کو چھوا تو اس کی اس حرکت پہ اس کا وجود سن ہوا تھا۔
اس کی مضبوط انگلی اس کی کھنکھتی چوڑی پہ محوِ حرکت تھی لیکن اسے اس کی انگلی اپنی رگ دباتی محسوس ہوئی تو اس نے فورا اپنا ہاتھ پیچھے کو کھینچتے ہوئے گہری سانس خارج کی۔

“ان کی آواز اچھی ہے۔” اس کے ہاتھ کھینچنے کا نوٹس لیے بنا وہ مزید بولا تو آج پہلی دفعہ زحلے کو کمرے کی تنہائی محسوس ہوئی تھی کیونکہ آج پہلی دفعہ ذوالنورین میر کی توجہ اپنے شال میں ڈھکے وجود کی بجائے اس کی خوبصورت کلائیوں کی جانب مبذول تھی۔

وہ بنا جواب دیے سر اثبات میں ہلاتی بہت نامحسوس انداز میں چوڑیاں کلائی سے دور کرتی انہیں پیچھے کو بازو میں پھنسانے لگی تاکہ ان کی آواز پیدا نہ ہو۔

“آنلائن ایڈمیشن بھجوا دیا ہے نا آپ نے اپنا؟” تقریباً بارہ بجے جب انہوں نے پہلا سیشن مکمل کر کے بریک لی تو خیال آنے پہ اس نے استفسار کیا۔

“نہیں۔” جواباً ملنے والے پرسکون انداز میں بہت متحمل مزاج زحلے کا بھی دماغ ایک لمحے کو گھوم گیا۔

“ابھی تک ایڈمیشن نہیں کروایا رجسٹریشن نہیں کروائی تو ایگزامز کب دیں گے آپ؟ اناونس کی گئی ڈیٹ کے بعد؟” وہ خشک میں بولتی چلی گئی جب اس نے گردن گھما کے اس کی جانب دیکھا جو اسی کی جانب متوجہ تھی۔

“مس ابراہیم!مجھے کوئی ایگزام نہیں دینا ہے۔” وہ بہت ٹھہرے ہوئے لہجے میں بولتا اس کا دماغ بھک سے اڑا گیا۔

“یہ بات اپنے دماغ میں بٹھا لیں اور جس نے بھی آپ کو یہاں بھیجا ہے انہیں بھی کلیئر کر دیں کہ میں کوئی ایگزام نہیں دے رہا اور اگر آپ یہ نہیں کر سکتیں تو زیادہ بہتر یہی ہو گا کہ اپنی ڈیوٹی کو مکمل کریں مگر اس ڈیوٹی میں مجھ سے آج کے بعد کوئی سوال مت کیجیے گا اور اس ٹون میں بات تو بالکل بھی مت کیجیے گا۔” اس کی جانب دیکھتے ہوئے اس نے اتنے سارے دنوں میں شاید پہلی دفعہ کوئی بات اتنی تفصیل سے کی تھی۔
لیکن وہ اس وقت اس تفصیل کی گہرائی میں نہیں جا رہی تھی کہ اس کی آنکھوں سے چھلکتی وحشت اس کی ریڑھ کی ہڈی تک سنسنا گئی تھی۔

اور شاید یہ اس کے لہجے کی دہشت اور آنکھوں کی وحشت ناکی ہی تھی کہ وہ اس کے لنچ ٹائم میں شازمین بیگم کے روبرو پہنچتی انہیں اس کے ارادوں سے باخبر کر گئی۔

“مس زحلے!آپ سے کس نے کہا کہ اسے ایگزامز دلوائیں یا اسے ایگزامز کے لیے آمادہ کریں کیونکہ یہ بات تو میں پہلے سے ہی جانتی ہوں کہ وہ ایسا کچھ نہیں کرنے والا ہے۔” وہ زحلے کے خوبصورت مگر سادگی بھرے وجود کو دیکھتے ہوئے بڑے نرم مگر پراسرار لہجے میں گویا ہوئیں تو اس کا دل و دماغ جیسے الجھ سا گیا۔

“کیا مطلب؟پھر یہ ٹیوشن۔۔۔۔؟” وہ بات ادھوری چھوڑ کے انہیں دیکھنے لگی جو اچانک بہت عجیب سے انداز میں مسکراتی ہوئیں آگے کو ہوتیں اپنے دونوں بازو میز پہ ٹکا کے بولنے لگیں۔

“زحلے ابراہیم تمہیں یہ ٹیوشن ذوالنورین میر کو ایگزامز کلیئر کرنے کے لیے نہیں دی گئی تھی بلکہ تمہاری ٹیوشن اسے اپنے اس سادگی بھرے حسن کے جال میں پھنسانے کے لیے ہے۔” ان کے مکروہ لہجے میں کیے گئے انکشاف پہ اس کے سر پہ دھڑا دھڑ ساتوں آسمان ٹوٹتے چلے گئے اور اس ملبے تلے وہ سر تا پا دھنستی چلی گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تیزی سے سیڑھیاں پھلانگتے ہوئے وہ نیچے آیا اور بنا رکے باہر کی جانب لپکنے ہی والا تھا کہ بدر صاحب (پھپھا) نے اسے دیکھتے ہی ہانک لگائی۔

“نوشے میاں!یہ سواری کہاں ہوا کے گھوڑے پہ اڑنے کو تیار ہے؟یہاں ہمیں آپ کے شاہی آرڈر کے مطابق آپ کی شادی کے لیے بلایا گیا ہے لیکن آپ ہیں کہ آنکھ میں ڈالنے کو بھی نہیں مل نہیں رہے۔” بدر صاحب نے اپنے ازلی شگفتگی بھرے انداز میں اسے روکا تو ان کے اتنے لمبے چوڑے شکوے پہ زیرِ لب مسکراتا ہوا پلٹا اور ان کے نزدیک جا بیٹھا۔

“یہ بدر صاحب کو ہم خاکساروں کو آنکھ میں ڈالنے کی نوبت کیونکر آن پہنچی ہے جبکہ ان کے سامنے عقیدت گردیزی براجمان ہیں۔” اس نے اپنے مخصوص انداز میں اپنی پھپھو کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بڑے اطمینان سے انہیں چھیڑا تو عقیدت ایک دم سے جھینپ گئیں جبکہ باقی سب کھلکھلا اٹھے۔

“بدر چاچو!آپ نے غور کیا یہ رہبان لالہ کچھ دنوں سے بہت کھِلے کھِلے نظر آ رہے ہیں۔” ریحان نے بھائی پہ نظریں جمائے شرارت سے کہا تو بدر صاحب نے زور و شور سے سر ہلایا۔

“شادی ہونے سے پہلے ایسا ہی ہوتا ہے فیوز تو بعد میں اڑتے ہیں۔” ان کی برجستگی پہ چھت پھاڑ قہقہے ابل پڑے جبکہ رہبان کے ہونٹوں پہ نا چاہتے ہوئے بھی مسکراہٹ پھیل گئی جسے فورا دباتے ہوئے وہ ان کی جانب جھکا۔

“فکر مت کریں ہم دوسروں کے فیوز اڑانے والوں میں سے ہے کیونکہ ہمارا پیشہ ہمیں ہمارے فیوز اڑانے کی اجازت نہیں دیتا۔” مضبوط لہجے میں کہتے ہوئے اس نے واپس صوفے کی پشت سے ٹیک لگائی تو اس کی بات پہ بدر صاحب نے ستائشی انداز میں ابرو اچکا کے اس کی جانب دیکھا جو واقعی کچھ دنوں سے بہت مطمئن نظر آ رہا تھا۔

“رہبان لالہ!کیا ہم لوگ بھی بی جان کے ساتھ جائیں گی بھابھی کی طرف مہندی کی رسم کے لیے؟” زمل نے اس کی جانب رخ کرتے ہوئے اسے مخاطب کیا۔

“ضرور جائیں آپ سب لوگ۔” اس کے جواب پہ عقیدت بیگم الجھ گئیں۔

“رہبان یہ سب کرنے کی کیا ضرورت ہے جب پتہ ہے کہ یہ شادی بس ایک کاغذی کاروائی ہے۔” انہوں نے اسے گویا باور کروانا چاہا۔

“پھپھو!شادی کاغذی ہو،اصلی ہو یا پھولوں والی ہو، شادی شادی ہی ہوتی ہے اس لیے آپ لوگ ساری رسومات مکمل کریں جو بعد کے کام ہیں انہیں ایٹ دا سپاٹ دیکھ لیا جائے گا۔ شادی کاغذی ہے تو کیا ان سب کے مہندی کی رسم کرنے سے اس کاغذی شادی پہ مہر تھوڑی لگ جائے گی۔” اس کے سنجیدہ لب و لہجے پہ عقیدت بیگم نے گہری سانس بھر کے مائرہ بیگم کی جانب دیکھا جو رہبان کی جانب دیکھتیں ہولے سے مسکرا رہی تھیں۔

“مانو نا مانو یہ اپنے لالہ محترم شادی والے دن کوئی گل کھلانے والے ہیں۔” زمل ساتھ بیٹھی مشعل کے کان میں گھسی تو اس کے الفاظ پہ جزبز ہوتی مشعل نے فورا اسے ایک تھپڑ رسید کیا۔

“ہمیشہ الٹی سیدھی ہی سوچنا تم۔” اسے لتاڑتے ہوئے وہ اپنی جگہ سے اٹھی۔
“آو جلدی سے ہم لوگ اپنا ڈریس سلیکٹ کر لیں یہ نا ہو کہ دیر کرنے پہ بی جان لے کے ہی نہ جائیں۔” وہ زمل،عدن اور دریہ کو لے کے تیزی کے ساتھ وہاں سے نو دو گیارہ ہو گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سگریٹ ہونٹوں میں دبائے وہ اپنی بتدریج سرخ ہوتی آنکھوں کے ساتھ اپنے سامنے میز پہ پڑے سنہری کارڈ کو تک رہا تھا۔
جبکہ کانوں میں زہریلی آوازوں کی گونج سینے میں ایک الاو سا دہکا رہی تھی۔

“شرم سے ڈوب مرنا چاہیے تمہیں ضرغام ملک، اپنے سے عمر میں چھوٹی لڑکی سے عشق بگھاڑتے ہوئے اور وہ بھی اس لڑکی سے جو تمہاری بھتیجی لگتی ہے۔” خوبصورت آنکھوں کے گوشے مزید سرخ ہوئے جبکہ سینے میں اٹھتا درد مزید سوا ہوا تھا۔

“اگر تم نے اپنی ضد نہ چھوڑی تو اپنے ساتھ اپنی ماں کو لے کے اس حویلی کی دہلیز پار کرنا ہو گی۔” ایک اور زہریلی آواز نے سماعتوں کا پیچھا کیا تو اس نے اندر کی گھٹن کم کرنے کے لیے ٹائی کی گرہ ڈھیلی کرتے ہوئے گریبان کے اوپری دو بٹن کھولے۔

“شہرے!” اندر اٹھتے شور، دل میں اٹھتے درد اور اپنے اندر کی اذیت سے چور ہوتے ہوئے وہ جیسے ہارے ہوئے انداز میں کہتا اپنی چیئر کے ساتھ سر ٹکاتا خوابیدہ پلکیں موند گیا۔

“ضرغام چاچو!”
“ضرغام چاچو!” ڈوبتے دل و دماغ کے ساتھ اس کے کانوں میں اس کی کھنکھتی ہوئی آواز نے رس گھولا تو زور سے آنکھیں میچتے ہوئے اس نے ان آوازوں سے اور اس کے سحر سے چھٹکارا پانا چاہا لیکن جب آوازیں اندر اودھم مچانے لگیں تو اس نے خوبصورت آنکھیں وا کرتے ہوئے سامنے دیکھا تو اس کا دھندلا سا سراپا اس کے ہونٹوں پہ زہر خند سی مسکراہٹ بکھیر گیا۔

“آپ کا خیال میری ذات کو برباد کرنے پہ تلا ہے اور اب آپ کا تخیل مجھے فنا کر دینے کے درپے ہے۔” آتش زدہ لہجے میں کہتے ہوئے اس نے ہاتھ بڑھا کے اس دھندلے سے سراپے کو اپنی گرفت میں لیا۔

“آج کچھ اذیت، تھوڑی سلگتی ہوئی آگ آپ بھی محسوس کریں۔” مخمور مگر پرتپش لہجے میں کہتے ہوئے اس نے عالمِ مدہوشی میں اس تخیل کو خود میں سمیٹنے کی خود میں بھیچنے کی کوشش کی تو اگلے ہی لمحے جیسے اس کا وجود راکھ ہوا تھا۔

“ضرغام چاچو!” اس کے سینے سے بھینچی ہوئی شہرے ملک کی چیختی ہوئی نم آواز اس کی سماعتوں پہ جیسے دہکتے ہوئے سیسے کی مانند اتری تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسے نہیں پتہ تھا کہ وہ کس طرح سے گھر پہنچی تھی، اس کی سماعتوں میں شازمین میر کے الفاظ جبکہ نگاہوں کے سامنے ان کا مکروہ چہرہ آ رہا تھا جسے یاد کرتے ہی اس کی شہد رنگ آنکھوں سے بہتے ہوئے آنسووں کی رفتار مزید تیز ہوئی تھی۔

گھر میں داخل ہوتے ہی اس نے جلدی سے دروازہ لاک کیا جیسے شازمین میر نامی عفریت اس کے پیچھے چلی آئے گی اور پھر خود اپنا چہرہ صاف کر کے تیز قدموں سے چلتی ہوئی ابراہیم صاحب کے کمرے کی جانب چل دی لیکن دہلیز پہ پیر رکھتے ہی اس کے وجود کو جھٹکا سا لگا۔

“بابا!” اس نے بھاگ کے نیچے گرے ابراہیم صاحب کو اٹھانے کی کوشش کی لیکن آج کے دن ملے دھچکوں نے اس کی ہمت جیسے نچوڑ ڈالی تھی تبھی وہ بھاگنے کے سے انداز میں اٹھی اور سیڑھیوں کا دروازہ زور زور سے کھٹکھٹاتی اپنے سوتیلے بھائیوں کو مدد کے لیے پکارنے لگی۔
باپ کے بارے میں سن کے غیرمتوقع طور پہ دونوں بھائی بھاگتے ہوئے آئے تھے اور انہیں اٹھا کے ٹیکسی کے ذریعے ہاسپٹل لے آئے تھے۔
آدھ گھنٹے بعد جب ڈاکٹر نے ابراہیم صاحب کے فوری آپریشن کا کہا تو وہ ایک موہوم سی امید کے تحت بھائیوں کو دیکھنے لگی جنہوں نے فورا نظریں چرائیں۔

“تم جانتی ہو زحلے، ہمارے پاس کوئی سیونگ نہیں ہے جو ماہانہ کماتے ہیں وہ خرچ ہو جاتا ہے ایسے میں آپریشن کے لیے پانچ لاکھ کا بندوبست ہم کیسے کر سکتے ہیں؟” معیز کے کہنے پہ وہ چپ ہوتی سائیڈ پہ ہو گئی اور اپنے موبائل میں سیو کیا ہوا نمبر ڈائل کرنے لگی۔

“السلام علیکم!میں زحلے بات کر رہی ہوں۔” اس نے بہتے آنسووں پہ قابو پانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے لرزتے لہجے میں سلام کیا۔

“زحلے ابراہیم تمہیں یہ ٹیوشن ذوالنورین میر کو ایگزامز کلیئر کرنے کے لیے نہیں دی گئی تھی بلکہ تمہاری ٹیوشن اسے اپنے اس سادگی بھرے حسن کے جال میں پھنسانے کے لیے ہے۔” اس کی سماعتوں میں دوسری جانب سے کہے الفاظ کی بجائے یہی الفاظ بار بار ٹکرا رہے تھے جنہیں سر جھٹکتے ہوئے وہ نظرانداز کرتی اب کے بہت مشکل سے گویا ہوئی۔

“میم!مجھے ارجنٹ پانچ لاکھ کی ضرورت ہے۔” اس کے کہے الفاظ پہ دوسری جانب موجود شازمین میر کے ہونٹوں پہ بڑی کمینی سی مسکان پھیلی تھی۔

“اگلے دس منٹ تک تمہیں پیسے مل جائیں گے اور اپنے باپ کے آپریشن کے اگلے پانچ دنوں کے بعد تم میر پیلس موجود ہو گی۔” انہوں نے حکم جاری کرتے ہوئے کال بند کر دی جبکہ وہ زارو قطار روتی ہوئی وہیں گھٹنوں کے بل زمین پہ بیٹھتی چلی گئی۔
کیونکہ اس دفعہ باپ کی زندگی بچانے کی قیمت بہت بھاری چکانی پڑنی تھی اس کو۔

جاری ہے۔