57.1K
55

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 51

“دل تیرے سنگ جوڑ لیا”
از
حوریہ ملک
Episode#51(3rd last Episode Part 2);

اس کے ہونٹوں سے نکلنے والے الفاظ گردن کے عین وسط میں پہلے سے بھی زیادہ شدت سے چھوڑے جانے لمس نے وہیں گھونٹ دیے تھے۔
جبکہ اسے جاگتا پا کر وہ پہلے سے بھی زیادہ شدت اور جارحانہ انداز میں اس کی گردن کو اپنے لمس سے دہکاتا جا رہا تھا۔

“پ۔۔پلیز!” اس اندازِ قربت اور بے اختیاری نے اسے لرزا کے رکھ دیا تھا مگر مقابل شاید اس کی حالتِ زار پہ رحم کھانے کے موڈ میں نہیں تھا۔
تبھی اس کی التجا پہ بجائے پیچھے ہٹنے سے وہ پہلے بھی زیادہ وارفتگی سے اس کے بائیں کندھے کی جانب جھکا تو اس نے لرزتے ہوئے اپنے ہاتھ اس کے سینے پہ جمائے اسے روکنے کی سعی کی تھی۔
لیکن وہ دائیں ہاتھ میں اس کی دونوں کلائیاں سر کے اوپر سے گزار کے تکیے کے ساتھ پِن کرتا اس کے بائیں کان میں غرایا۔

“ڈیڈ کو رخصتی کے لیے منع کیوں کیا؟” رات کی تاریکی و تنہائی، جان میں اترنے والی قربت، رگوں کو جھلسانے والی پرتپش سانسوں کی لپک اس پہ مستزاد اس کے ایسے اطوار و الفاظ پہ جیسے جان حلق میں آن اٹکی تھی۔

“پ۔۔پلیز پیچھیں ہٹیں۔مم۔۔میری جان نکلنے لگی ہے۔” وہ مر کے بھی اس کے ساتھ ایسے اندازِ قربت کا تصور نہیں کر سکتی تھی۔مگر اب جب حقیقت سے واسطہ پڑا تھا تو دل جیسے کنپٹیوں میں دھڑکنے لگا تھا۔
اپنی مغلوب کیفیت سے خائف ہوتی وہ بھیگے لہجے میں دبا دبا سا چلائی تو اس نے بایاں ہاتھ اس کے بالوں میں پھنساتے ہوئے اس کا چہرہ اپنے چہرے کے مزید قریب کیا تو وہ اپنی سانسیں تک رکتی محسوس کرنے لگی۔

“اور جو آپ پل پل میری جان نکالنے کے درپے ہیں اس کا حساب کون دے گا؟” بھاری گھمبیر لہجے میں جذبوں کا طوفان سمیٹے وہ اس کے نم ہوتے رخساروں پہ لب رکھتا نمکین پانیوں کا ذائقہ چکھنے لگا تو وہ اتنی شدت سے اس کی شرٹ کو دبوچ گئی کہ اسے لحظہ بھر کو یوں لگا کہ شرٹ آخری دموں پہ ہو۔

“ضر۔۔ضرغام پلیز، خدا کے لیے پیچھے ہوں۔” جب دل کی حالت مزید مخدوش ہونے لگی تو وہ پیروں ہاتھوں کی انگلیاں زور سے بھینچتی کپکپاتے ہونٹوں کے ساتھ بولی تو وہ اس کی ٹھوڑی کو چھوتے ہوئے اس پر سے اٹھا اور ہاتھ بڑھا کے سائیڈ ٹیبل پہ پڑا لیمپ آن کیا۔
تو وہ بجلی کی سی تیزی کے ساتھ اپنی جگہ سے اٹھی اور کانپتے ہاتھوں کے ساتھ اپنا بلینکٹ مزید کھینچ کے گردن تک لپیٹا۔
لیمپ کی چاندنی سی روشنی میں بکھرے حلیے کے ساتھ سرخ چہرہ و گردن لیے وہ اس کے اندر لگی آگ کو مزید بھڑکانے لگی تھی۔

“کیوں آئے ہیں آپ یہاں؟” خود کو اپنے طور پر کمفرٹر میں محظوظ کرنے کے بعد وہ شاکی انداز میں اس سے مخاطب ہوئی تو ہنوز بیڈ پہ اس کے نزدیک براجمان اس پہ نگاہیں مرکوز کیے اس کی دھڑکنیں سست کر رہا تھا۔

“آپ کو یہ باور کروانے کے لیے کہ محترمہ شہرے ملک اس زمانے سے نکل آئیں جب آپ کے لیے میں کسی اور رشتے کے اہم تھا۔جو رشتہ اب جڑا ہے اسے دل و دماغ میں رکھیں گی تو فائدے میں رہیں گی۔مانتا ہوں کہ میری وجہ سے آپ کی عزت نفس، آپ کا پندار زخمی ہوا ہے لیکن جب مقصد کسی دوسرے کو راحت پہنچانا ہو تو خود کانٹوں پہ چلنے کا درد فراموش کرنا پڑتا ہے۔” رخ مکمل طور پہ اس کی جانب موڑتے ہوئے وہ اس کی بھیگی آنکھوں میں اپنی دلکش آنکھیں گاڑھتا ہوا گھمبیر لہجے میں بولا تو اس کا دل عجیب سے انداز میں گداز ہونے لگا تھا۔

“ل۔۔لیکن مجھے ابھی رخصتی نہیں کروانی ہے۔” اس کی جانب دیکھنے سے مکمل گریز برتتی وہ دھیمے لہجے میں بولی تو ضرغام نے جینز کی پاکٹ سے سگریٹ نکال کے اسے سلگاتے ہوئے سنجیدگی سے ایک نظر اسے دیکھا۔

“میں زور زبردستی کا قائل نہیں ہوں لیکن اس بار مجھے یہ بھی کرن پڑا تو کر لوں گا کہ آپ کا انکار بے بنیاد ہے۔” سگریٹ لبوں میں دباتے ہوئے اس کے لہجے کی گھمبیرتا شہرے کو جھلانے پہ مجبور کر گئی تھی۔

“انکار بے بنیاد نہیں ہے۔” وہ ایک دم سے چٹخی تھی جب وہ سگریٹ دائیں ہاتھ میں تھامتا ایک بار پھر سے اس کی جانب جھکا تو وہ گڑبڑاتی ہوئی بیڈ کراون کے ساتھ ٹیک لگا گئی۔

“اس انکار کو بے بنیاد ہی کہتے ہیں جو آپ اپنے شوہر کی قربت سے خائف ہو کر کریں۔ اس لیے شہرے ضد نہیں کریں اتنے سالوں کے بندھے جذبات میں مزید ابال مت آنے دیں۔آپ کا نازک وجود سہہ نہیں سکے گا۔” اس کے بے حد نزدیک جھکا وہ مدہم مگر بھاری لہجے میں بولتا اس کے کانوں سے دھواں نکال گیا۔
جبکہ شرم و حیا سے تپتا ہوا چہرہ لہو چھلکانے لگا تھا۔

“آ۔۔۔ششش!” اس نے کچھ کہنے کو لب کھولنے چاہے جب ضرغام نے بائیں ہاتھ کی انگلی اس کے ادھ کھلے ہونٹوں پہ رکھتے ہوئے اسے خاموش کروایا۔

“کیا اب آپ کو ان پر پیار نہیں آتا ہے؟” اپنی سیدھی ہتھیلی اس کے سامنے پھیلاتے ہوئے اس نے وسط میں جگمگاتے تلوں جن کی کبھی وہ دیوانی تھی ان کی جانب اشارہ کیا تو اس کی نگاہ اس کی ہتھیلی سے الجھنے لگی۔

“آپ کو مجھ پر غصہ نہیں آتا؟” اس کی ہتھیلی پہ نظریں جمائے وہ آہستگی سے گویا ہوتی اس دن کی جانب اشارہ کرنے لگی جب نگاہ سے ڈائیورس کا سن کر اس نے اس پر الزامات کی بوچھاڑ کی تھی۔

“نہیں، پیار آتا ہے اور بڑی شدت کے ساتھ آتا ہے، کر لوں؟” آنکھوں میں غیر معمولی چمک لیے وہ بظاہر سنجیدگی سے بولتا اس کے اتنے قریب آ گیا کہ اس کے ہلتے لب وہ اپنی ٹھوڑی پہ محسوس کرتی کپکپا اٹھی تھی۔

“ن۔نہیں۔پیچھے ہوں پلیز۔” فوراً سے پیشتر اسے پرے کرتی وہ ایک انچ مزید پیچھے کھسکی تھی۔

“کل مما کے ساتھ جا کر اپنی شاپنگ مکمل کر لیجیے گا کیونکہ آپ کے بڑے دادا کی ہر دفعہ نہیں مان سکتا میں۔” اس کے شگرفی ہونٹوں کو دیکھتا وہ گھمبیر لہجے میں بولتا اس کے اوسان خطا کر گیا۔

“لیکن۔۔۔۔۔۔”

“شہرے!پلیز میں نے ہجر کی کالی راتیں آپ کے بغیر گزاری ہیں۔اب جب دل کو سکون کے پل نصیب ہوئے ہیں تو کیوں نا سارے گلے شکوے ایک ساتھ مل کے کریں تاکہ انعام وصل کی صورت میں مل سکے۔” بنا پیے ختم ہو جانے والا سگریٹ بجھاتا وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے جس انداز میں بولا اس کا ہر لفظ اس کے اندر دم توڑنے لگا تھا۔

“میں اب اپنی وارڈروب کو اس سرخ رومال کی بجائے آپ کی موجودگی کے احساس سے سجانا چاہتا ہوں۔” اس کے سرخ ہونٹوں پہ انگوٹھا پھیرتا وہ خمار آلود لہجے میں بولا تو اس کا سانس سینے میں اٹکنے لگا۔

“اوکے۔لیکن آپ پلیز اب جائیں۔” اس سے پہلے وہ ایک دفعہ پھر سے اسی روپ میں آتا وہ جلدی سے بولی تو ضرغام کے بھرے بھرے ہونٹوں پہ دلکش سی مسکان پھیل گئی جسے اس کے ہونٹوں پہ سجانے کے لیے وہ اس کے سمجھنے سے قبل ہی اس کے چہرے پہ جھک گیا۔
تو وہ بے ساختہ دونوں ہاتھوں سے بلینکٹ کو دبوچ کے رہ گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کمرے میں ادھر سے ادھر چکر لگاتے ہوئے وہ ہاتھ میں پکڑی پلیٹ سے بریانی کی چمچ لگاتی کان میں لگے بلیو ٹوتھ کی مدد سے اپنی دوست کے ساتھ محوِ گفتگو تھی۔

“میری توبہ جو زندگی میں پھر کبھی دلہن بنی۔یار حد ہے اتنے گھنٹوں سے ایک ہی پوزیشن میں بٹھایا ہوا تھا۔ میری تو ٹانگیں دکھنے لگی ہیں۔” زور زور سے پیر زمین پہ مارتے اس کا پیدل مارچ، کھانا اور بولنا ایک ساتھ جاری تھا۔
خوبصورت شرارے سوٹ میں ملبوس، وہ گندھی ہوئی چٹیا کو کندھے پہ ڈالے، مہندی لگے ہاتھوں میں ڈھیروں چوڑیاں پہنے وہ میچنگ جیولری پہنے دوپٹے سے مکمل طور پر آزاد کچھ گھنٹے قبل کی دلہن ہرگز نہ لگ رہی تھی۔

“اللّٰہ نہ کرے اور خبردار یہ مشعل اور زمل کو ایسے بکواس مشورے دینے کی بالکل ضرورت نہیں ہے۔سخت ناپسند ہیں مجھے یہ کپلز کے پرسنل فوٹوشو۔۔۔۔۔۔” دوسری جانب موجود اپنی بہت قریبی دوست جو کہ آج نکاح پہ آ نہ سکی تھی، اس کی بات سن کر قدرے بلند آواز میں بول رہی تھی جب زمل کی چہکتی ہوئی آواز گونجی۔

“دریہ!زرا فریش ہونا جلدی سے.طلال بھائی اور فوٹوگرافر آ رہے ہیں فوٹو شوٹ کے لیے۔” اس کے منہ سے یہ بات سنتی دریہ کا دل چاہا وہ دھاڑیں مار مار کے روئے۔

“مجھے نہیں کروانا کوئی فوٹوشوٹ۔” مارے کوفت کے اس کی آنکھیں جھلملانے لگیں لیکن اس سے قبل کے زمل کچھ کہتی دروازہ ہولے سے ناک کرتا ہوا وہ بڑے استحقاق کے ساتھ کمرے میں داخل ہوا۔
ایک دم سے غیرمتوقع طور پر اس کے سامنے آنے اس پہ مستزاد اپنے لاپرواہ سراپے کا احساس ہونے پر اس کے ہاتھوں میں پکڑی بریانی کی پلیٹ لرز کے رہ گئی۔
جسے فورا سے پہلے پاس پڑی میز پہ رکھتی وہ وہیں صوفے پہ پڑا مشعل کا دوپٹہ کھینچ کے اپنے گرد لپیٹ گئی۔
اس کی حواس باختگی پہ جہاں وہ زیرِ لب مسکرا رہا تھا وہیں زمل نے سو بار اپنے ماتھے کو پیٹا تھا۔

“آپ باتیں کریں طلال بھائی۔میں آپ کے لیے پانی لے کر آتی ہوں۔” زمل نے طلال کو ایک نظر دیکھتے ہوئے وہاں سے نکل جانا بہتر سمجھا۔
جب اسے وہاں سے جاتے دیکھ کر وہ گڑبڑائی تھی۔

“ن۔۔نہیں رکو زمل، پانی ہے یہاں پ۔۔ڑا۔” اس نے قدرے بلند آواز میں کہتے ہوئے سائیڈ ٹیبل کی جانب اشارہ کیا مگر سامنے کھڑے طلال کے اٹھتے قدم دیکھ کے اس کے لفظ ٹوٹنے لگے تھے۔

“ایسے دیکھو گی تو میں خود پہ ضبط نہیں رکھ پاوں گا۔اس لیے مجھ سمیت خود پہ رحم کھاو پلیز۔” اس کی خائف سی نگاہیں خود پہ جمی پا کے وہ بڑھتے قدموں کے ساتھ سنجیدگی سے بولا تو اس کی پہلے سے پھیلی آنکھیں ناسمجھی سے مزید پھیلیں۔
مگر بات جب شعور تک پہنچی تو فوراً سے پیشتر اس نے گڑبڑاتے ہوئے ناصرف پلکیں جھپکائیں بلکہ بڑی سرعت کے ساتھ اس کے خود تک پہنچنے سے قبل بیڈ پہ جا بیٹھی۔

“ایک پرپوزل دیا تھا تمہیں، اس کا جواب لینے آیا ہوں مسز دریہ طلال۔” اس کے نزدیک بیڈ پہ بیٹھتا وہ اس کے گرد لپٹے دوپٹے کا پلو اپنے دائیں ہاتھ کی انگلیوں میں لیتا ہوا بولا تو قدرے سمٹ کے بیٹھی دریہ کی ہارٹ بیٹ مس ہوئی۔

“اس پرپوزل کا جواب میں کچھ گھنٹے قبل اتنے لوگوں کی موجودگی میں دے چکی ہوں۔” اس کے دوبارہ استفسار کرنے پہ وہ ہاتھوں کو مسلتی ہوئی مدہم لہجے میں گویا ہوئی۔
تو اس کے سینے میں مقید دل جیسے پلٹا کھا کے ساتھ بیٹھی اس نازک سی لڑکی کے قدموں میں جا لپٹا تھا۔
اس کو دیکھتی اس کی آنکھیں اچانک لو دینے لگی تھیں۔

“اور اگر میں اپنی مرضی سے جواب لینا چاہوں تو۔” دھیرے سے دوپٹے کا پلو اس کے دائیں کندھے سے کھسکاتے ہوئے وہ بھاری لہجے میں بولا تو دریہ کا دل جیسے کنپٹیوں میں دھڑکنے لگا تھا۔

“ت۔۔تو میں جواب نہیں دوں گی۔” جی کڑا کے کہتے ہوئے اس نے اس سے دور ہٹنا چاہا جب اس نے دوپٹے کے پلو پہ گرفت مضبوط کرتے ہوئے اس کی کوشش ناکام بنائی ہے۔

“اس قدر فاصلہ کیوں بنانے پہ تلی ہوئی ہو۔مجھے اس جواب کے بعد خود کو سراہنے کا موقع نہیں دوں گی؟” نئے اٹوٹ رشتے سے جنم لیتے جذبات کی شدت سے اس کا لہجہ بوجھل ہو رہا تھا جسے سن کے اس کی ریڑھ کی ہڈی میں سرسراہٹ سی دوڑ گئی تھی۔
اس پہ مستزاد اس کے گستاخ ہوتے ہاتھ، جو اس کے گرد لپٹے مشعل کے دوپٹے کو ڈھیلا کر چکے تھے اور اب وہ اپنے ہوش اڑا دینے والے روپ کے ساتھ سمٹی ہوئی اس کے روبرو بیٹھی تھی۔

“آ۔۔آپ ایسی باتیں نہیں کریں پلیز۔” وہ اسے یہ نہ کہہ سکی کہ ایسی عجیب باتیں نہیں کرو کیونکہ اس نے ہمیشہ اسے بڑے ڈیسنٹ انداز میں دیکھا تھا اس کا یہ مدہوش انداز اس کے ہوش اڑائے جا رہا تھا۔

“میں باتیں کرنا بھی نہیں چاہتا اس لمحے۔” معنی خیز انداز میں کہتے ہوئے وہ ہولے سے جھکا اور اپنے پیار اور اس رشتے کی پہلی مہر اس کی کنپٹی پہ لگاتا اس کی ٹھہری دھڑکنوں کو پاگل کر گیا۔
اور پھر یہی نہیں اس کے لب پوری آزادی اور استحقاق کے ساتھ اس کی کنپٹی سے گردش کرتے ہوئے دائیں رخسار، ٹھوڑی اور پھر جب گردن کی حدود تک پہنچے تو وہ تڑپ کے اس سے دور ہٹی۔

“ب۔۔بس پلیز۔” اس کا چہرہ اس وقت تپتے انگارے کی مانند دہک رہا تھا جبکہ دل گویا ہاتھوں پیروں میں دھڑکنے کو بے قرار تھا۔

لیکن اس کی ‘بس’ کے جواب میں اس نے ہاتھ بڑھا کے اسے ایک بار پھر نزدیک کیا اور یونہی بنا میچنگ دوپٹے کے اسے خود کے ساتھ لگائے وہ جیب سے موبائل نکال کے اس کی اور اپنی تصویریں لینے لگا تھا۔

“تم اس رشتے کے لیے تذبذب کا شکار کیوں تھی؟” تصویریں لیتے ہوئے طلال نے نظر جھکا کے اپنے کندھے سے لگی دریہ کا سر دیکھا۔

“جو کچھ ہو چکا ہے اس کے بعد یہ سوال پوچھنا تو نہیں چاہیے لیکن مجھے لگا تھا کہ آپ یہ رشتہ صرف لالہ سے بدلہ لینے کے لیے جوڑنا چاہتے ہیں۔مگر جب میں نے اس رشتے پہ بھابھی کو خوش دیکھا تو میرے اندر کے سارے وہمات ختم ہو گئے۔” اپنی طبیعت کے مطابق وہ جو کچھ تھا کھل کے بول گئی۔
اس کی بڑی وجہ شاید یہ بھی تھی کہ اس وقت وہ بھی خاصی شرافت کا مظاہرہ کیے چپ بیٹھا ہوا تھا۔

“اور اگر تمہارا پہلے والا خدشہ ہی اصل سچ ٹھہرا تو؟” کچھ جانچتے انداز میں اس کے چہرے کو دیکھتے ہوئے اس نے اس کے بالوں کو چھیڑا تو اس کے دلکش چہرے کا رنگ بڑی سرعت سے بدلا تھا۔

“تو۔۔۔کچھ نہیں بس میں مر جاوں گی۔” سپاٹ سے لہجے میں وہ آنکھوں میں ڈھیر ساری کیفیات لیے بولی تو اس کے دل کو جیسے دھچکا سا لگا۔اس کی ذات ساری جیسے ہل کے رہ گئی تھی۔
اس نے بے ساختہ اسے بانہوں میں بھرتے ہوئے زور سے اپنے سینے میں بھینچتے شدت سے اس کے بالوں، گالوں اور آنکھوں کو چومنے لگا۔
جبکہ اس کے سینے سے لگی دریہ اس کی گرفت، اس کے لمس اور اس کی قربت سے جھلکتے والہانہ جذبات کو محسوس کرتی پرسکون سی انداز میں ہلکا سا مسکرا دی۔

اس کی خوبصورت مسکراہٹ کو دیکھتا طلال جب آنکھوں میں خمار لیے اس کے ہونٹوں کی جانب جھکا تو دروازہ ایک دم سے زور زور سے بجنے لگا۔

“طلال بھائی!نیچے آپ کے پیر سائیں آئے ہیں۔” زمل کی دی جانے والی اطلاع نے بیک وقت دونوں کو اچھا خاصا چونکا دیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“تم۔۔۔۔۔” بخت خان کی آنکھیں بے یقینی اور حیرت سے پوری وا ہو گئیں۔
جبکہ ایسی غیرمتوقع صورتحال دیکھ کر بخت خان کے آدمیوں نے فوراً نشانہ اس پہ باندھا جو سرعت سے نزدیک کھڑے بخت خان کی حیرت کا فائدہ اٹھاتا اسے اپنی جانب کھینچ کے اسے ڈھال بنا چکا تھا۔
اگلے ہی پل وہ بخت خان کی گردن میں بائیں بازو کا شکنجہ کسے دائیں ہاتھ سے اس کا پسٹل والا ہاتھ تھام کے اُسی کے آدمیوں کا نشانہ اسے کے ہاتھوں لینے لگا۔
ایسے پرفیکٹ اور پھرتیلے انداز میں اسے نشانے باندھتے دیکھ کر اس کی گرفت میں پھنسے بخت خان کی آنکھیں حیرت کی شدت سے پھٹنے والی ہو چکی تھیں۔ مگر رفتہ رفتہ گرتے اپنے آدمیوں کو دیکھ کر اس کی حیرت پہ جب غصے اور انتقام نے غلبہ پایا تو اس نے اس کی پسلی میں کہنی مارتے ہوئے اس کی گرفت سے نکلنا چاہا جب وہ اس کا بازو مروڑ کے کمر سے لگا گیا۔

“بخت خان!اپنے قد سے بڑے لوگوں سے دشمنی پالو تو اس کے کچھ اپناو۔ دوست کی خبر رکھو نہ رکھو لیکن دشمن سے اس قدر بے خبر ہرگز نہیں رہنا چاہیے جتنا تم تھے۔” اس پہ گہری چوٹ کرتے ہوئے اس نے اس کی گرفت سے پسٹل لے کر اسے ایک جھٹکے سے اپنے سامنے کی جانب دھکا دے کے پرے دھکیلا تو اس کا چہرہ مارے غضب کے سرخ ہونے لگا۔

“کمینے انسان!جو حشر تیرا پانچ سال پہلے کیا تھا اس سے بھی بدترین حشر تیرا آج کرنے کے بعد تیری ماں اور بیوی کے جسم کے چیت۔۔۔۔۔۔” اچانک لگنے والی اس ناکامی کی چوٹ نے اسے بلبلا کے رکھ دیا تھا جب اس کے بکواس پر اس نے ایک دھاڑ کے ساتھ اس کے پیٹ اور منہ پہ تابڑتوڑ حملے کرنے شروع کر دیے اور چند ہی منٹوں میں اس کا نقشہ مکمل طور پر تباہ کر دیا۔

“یہ میری بیوی پر ہاتھ اٹھانے کے لیے۔” اچانک اپنی سیاہ جیکٹ کی پاکٹ سے چھوٹا چاقو نکال کے ہاتھ میں لیتے وہ سفاک لہجے میں بولتا اس کے منہ پہ اسی ہاتھ سے وار کرتا ہوا درد سے چلانے پر مجبور کر گیا تھا۔
یہ سب پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھتی کلثوم میر کی آنکھوں میں گزشتہ سالوں میں گزرا ہوا ہر اذیت بھرا لمحہ جاگا تھا اور ان کے ذہن میں پنہاں ہر الجھن کی گرہ کھلتی چلی گئی۔

“ضروری نہیں کہ ہر بار اللّٰہ تیری رسی کو دراز کرے بلکہ اس بار اللّٰہ حق اور انصاف کا ساتھ دے رہا ہے۔” اس کے زخمی پڑے ساتھیوں اور اس کی ادھ موئی سی حالت کو زہر خند نظروں سے دیکھتے ہوئے وہ نفرت سے غرایا تو شکست اور ناکامی کی شدت سے پاگل ہوتا بخت خان ایک بار پھر سے چیخا۔

“تم لوگ اتنے سال ڈرامہ کرتے رہے ہو ہمارے ساتھ۔” اس کے سیاہ پینٹ شرٹ میں ملبوس بھرپور مردانہ وجاہت کے شاہکار وجود کو دیکھتے ہوئے وہ نفرت بھری بے بسی سے چلا رہا تھا۔
جب قدموں کی چاپ ابھری اور رہبان کے ساتھ نین نزدیک آتے ہوئے دکھائی دیے۔

“جو کچھ تم کر چکے ہو یا کرنے کا ارادہ رکھتے ہو۔دل تو چاہ رہا ہے کہ تمہیں ایسی عبرتناک موت سے ہمکنار کروں کہ تیری لاش کے ٹکڑے بھی کسی کو نہ ملیں لیکن قانون کی کتابیں پڑھ کر قانون نہیں توڑ سکتا۔” اس کے نزدیک پہنچ کے نین نے پے در پے کئی تھپڑ اس کے منہ پہ رسید کیے۔
جب اس کی آخری بات پر گہرے گہرے سانس لیتے بخت خان کے ہونٹوں پہ تمسخرانہ سی مسکان پھیل گئی تھی کہ بس ایک دفعہ مجھے جیل پہنچا دو پھر اس قانون کو خریدنا کون سا مشکل کام تھا۔
مگر اس کی یہ مسکان ہاتھ میں رومال لے کر پسٹل تھام کے اپنے سے چند فٹ کے فاصلے پر آ کے کھڑے ہونے والے رہبان اور نین کو دیکھ کر سمٹ سی گئی تھی۔

اور اگلے ہی لمحے بیک وقت دو فائر بخت خان کی ٹانگوں میں ہوئے اور وہ کھنڈر ہوتی عمارت لڑکھڑا کے نیچے گرتے. بخت خان کی چیخوں سے گونج اٹھی۔
اور پھر جب ذوالنورین نے ایک سائیڈ پہ پڑا سریہ کا ٹکڑا اٹھا کے ان گولیوں کے زخم پہ کھبویا تو درد کی شدت کی تاب نہ لاتے ہوئے وہ فرعون بنا ہوا شخص بے ہوش ہو گیا۔

اس کے بے ہوش ہونے پر تینوں نے سر جھٹک کے ایک ساتھ سر اٹھا کے آسمان کی طرف دیکھا اور پھر کلثوم میر کے پاس گئے اور اس کے وجود سے لپٹتے اپنے دل کی بھڑاس آنسووں کی صورت نکالنے لگے۔
کہ آج برسوں بعد جسم اور روح پہ لگے کچھ زخموں کا بدل انہیں نصیب ہوا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“تمہیں پسند کیوں نہیں آ رہا کوئی ڈریس؟” ارسم نے اسے شش و پنچ کا شکار دیکھا تو استفسار کیا۔
اس وقت ‘ملک ہاوس’ کے تقریباً سبھی نفوس اس ارجنٹ شادی کی شاپنگ کے لیے نکلے ہوئے تھے۔
ماسوائے دولہے کے جو صبح سے کہیں نکلا ہوا تاحال واپس نہ پلٹا تھا۔

“اب اتنی ایمرجنسی میں کیسے سلیکٹ کروں ڈریس؟” وہ جواباً خفگی سے بولی تھی۔

“اپنے کھڑوس اور سڑیل شوہر سے مشورہ لے لینا تھا نا کہ اسے کون سا کلر پسند ہے؟” عمارہ نے شرارت سے اسے چھیڑا تو وہ اس ستم گر کے ذکر پہ جھینپ سی گئی جس نے اسے کل رات حواسوں سے بے حواس کر دیا تھا۔

“ان کا کیا پوچھتی ہیں بھابھی، وہ محترم تو ان کو ہر رنگ میں دیوانہ وار پسند فرمائیں گے۔” ارسم نے آنکھ دباتے ہوئے بے شرمی سے کہا تو اُس محترم کی ‘دیوانگی’ کی جھلک یاد آتے ہی جسم میں ایک میٹھی سی لہر دوڑ گئی جبکہ چہرہ سرخی چھلکانے لگا تو وہ روہانسی ہو گئی۔

“بڑی دادو!ان سب کو منع کریں نا۔” اس نے ہمیشہ کی طرح ثمرین بیگم کو شکایت لگائی تو انہوں نے فوراً اسے ساتھ لگاتے ہوئے سیلز گرل کے سامنے لا کے رکھے مہندی ڈریسز کے خوبصورت ڈیزائن دیکھنے لگیں۔

“مجھے یہ بہت اچھا لگ رہا ہے۔” انہوں نے اورنج، پنک اور گرین کنٹراسٹ سے مزین ایک دیدہ زیب مہندی ڈریس پہ ہاتھ رکھا تو اس کی آنکھیں چمکنے لگیں۔

“یہ بہت پیارا ہے بڑی دادو۔” اس نے فوراً ان کی پسند پہ مہر لگائی۔

“دیکھو شہری، ساس کے ساتھ بنا کے رکھنا اچھی بات ہوتی ہے لیکن یار بہتر نہیں ہے کہ تم لالہ سے ایک دفعہ ان کی پسند کا کلر پوچھ لو۔” ثمرین بیگم کو اشارے سے منع کرتے ہوئے انیلہ نے شہرے سے کہا تو وہ متذبذب ہونے لگی۔

“کر لو شاباش، شوہر سے مشورہ کرنا اچھی بات ہوتی ہے۔” کاونٹر کے سامنے کرسیوں اور صوفے پہ بیٹھے وہ بڑے اطمینان سے اسے دیکھتے مشورے دیے جا رہے تھے۔
جبکہ سامنے کھڑی سیلز کھڑی اس پیاری سی لڑکی کو کبھی ان کی باتوں پہ خائف ہوتی تو کبھی جھینپتے ہوئے دیکھ کر مسکرائے جا رہی تھی۔

“شوہر نہیں ہیں وہ میرے۔” آیت کی بات پہ اس نے جلدی سے کہا تو ایک فلک شگاف فرمائشی قہقہہ مال میں گونجتا بہت سوں کو اس شاپ کی جانب متوجہ کر گیا جہاں وہ سب جمع ہوئے تھے۔

“اچھا چلو شوہر نہ سہی لیکن ایک عدد پرانے ‘چاچو’ سے مشورہ لینا بھی اچھا ہوتا ہے۔” اب کی بار اس کو دیکھتے راسم نے اسے پچکارنا چاہا تو وہ اپنی ہی بات سمجھ میں آنے اور ان کے طنز پر خجل سی ہو گئی تھی۔
ابھی یہ جنگ جاری تھی جب ماہ وش چچی نے بہت سکون سے ضرغام کو ویڈیو کال ملا کے موبائل اس کے سامنے رکھ دیا تھا۔
اس سے پہلے کہ وہ کال بند کرتی اس کی گھمبیر آواز سپیکر سے گونجتی اس کی دھڑکنیں تیز کر گئی۔

“السلام علیکم!ضرغام ملک سپیکنگ۔” اپنے دھیان میں گم اس نے اپنے مخصوص انداز میں تعارف کروا کے موبائل سکرین کی جانب دیکھا تو وہ اولیو کلر کے کرتا ٹراوزر میں ملبوس سنہرے بالوں کی پونی ٹیل بنائے سیاہ چادر کندھوں پہ رکھے گھبرائی ہوئی سی اس سے نظریں چرا رہی تھی۔

“وعلیکم السلام!یہ۔۔۔یہ آپ سب کے لیے کپڑے پسند کر دیں پلیز۔” سب کی پرشوق نظریں خود پہ جمے دیکھ کر اس نے جلدی سے کیمرے کا رخ بدل کے اسے کپڑوں کا ڈھیر دکھایا۔
اور وہ جو اس وقت شدید ذہنی ٹینشن کا شکار ایک مسئلے میں الجھا ہوا تھا، اپنی بیوی کی اپنے بچاو کے لیے کی گئی اس حرکت کے باعث اگلے چالیس منٹ تک سب کے ڈریسز پسند کروانے میں اپنی رائے کا اظہار کرتا ان کی شاپنگ مکمل کرواتا چلا گیا۔

ہر طرح کی شاپنگ مکمل کروانے کے بعد اس نے ثمرین بیگم کو اس کے لیے برائیڈل ڈریس اور اس کی اس دن کے حوالے سے دیگر اسیسریز خریدنے سے منع کرتے ہوئے کال بند کر دی۔

“یہ بندہ ہمارے خاندان میں عاشقی کی نئی مثال رقم کرنے والا ہے۔” برائیڈل ڈریس کی بابت جب سب کو علم ہوا تو سب کے کم و بیش یہی خیالات تھے۔
جو سن کر بظاہر اس سے بہت سے ذہنی اختلافات رکھتی شہرے کو اپنی دھڑکنیں منتشر ہوتی محسوس ہوئیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

‘گردیزی ہاوس’ میں جہاں کچھ دیر قبل پرمسرت قہقہے گونج رہے تھے وہاں اس وقت ایک غیر آرام دہ سی خاموشی چھائی ہوئی تھی۔

“باپ کیا اتنا ظالم نظر آنے لگ گیا تھا جعفر سائیں کہ بیٹے کا نکاح اس کی غیرموجودگی میں چوری کرنے ہر مجبور ہو گئے؟” گردیزی ہاوس کے وسیع لاونج میں پڑے سیاہ رنگ کے صوفوں میں سے ایک پر بیٹھے پیر سائیں نے جعفر سائیں کی طرف دیکھتے بڑے ٹھنڈے سے لہجے میں استفسار کیا تو وہ شرمندگی سے سر جھکا کے رہ گئے۔

“نکاح کی مبارک ہو آپ لوگوں کو۔ جو ہونا تھا ہو گیا ہے اور جو آج ہوا ہے وہ بہت بہتر ہوا ہے۔کہ رسم تو وہ ہے جو ٹوٹ چکی ہے اب بے بنیاد دشمنی گھسیٹنے کا فائدہ نہیں کوئی۔” پیر سائیں کے کہنے پہ بہت سوں کے چہرے دوبارہ سے کھل اٹھے۔

“ٹھیک کہہ رہے ہیں آپ پیر سائیں۔” بی جان جو کہ پیر سائیں کو ماننے والوں میں سے تھیں، خاصے عقیدت بھرے انداز میں تائیداً گویا ہوئیں۔
کہ اتنے عرصے بعد ان کے پیر سائیں ان کے پوتے کی منمانی کے باوجود خود آ کے اس دشمنی کو ختم کر رہے تھے اس سے بڑھ کے انہیں کیا چاہیے تھا۔

“ایک ہفتے تک ہم لوگ اپنی امانت لینے آئیں گے۔” دلہن کے روپ میں سجی دریہ کو بڑی سی چادر میں خود کو سمیٹے دیکھ کر اس کے سر پہ ہاتھ رکھتے ہوئے انہوں نے بردباری سے کہا تو حماد گردیزی صاحب نے گہری سانس بھرتے ہوئے ان کی بات کی تائید کی۔

“لیکن ہم چاہتے ہیں کہ جب طلال بارات لینے آئے تو آبگینے ہمارے ساتھ آئے اور اپنی بھابھی کو یہاں سے رخصت کروا کے لے جائے۔یہ طلال کی اکلوتی بہن ہے اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ یہ اس خوشی میں ہمارے ساتھ رہے۔” اسی بارعب و سنجیدہ لہجے میں کہتے ہوئے اب کی بار وہ بہت سوں کے چہرے پھیکے کر گئے۔

“آبگینے کیسے جا سکتی ہے آپ کے ساتھ؟” رضا صاحب نے فورا پوچھا تو اس کی کشادہ پیشانی پہ بل پڑا تھا۔

“اب اس سوال کا کوئی جواز نہیں بنتا میاں، وہ اپنے بھائی کی شادی کی تیاریوں کے لیے جائے گی۔” اب کے لہجے کی سنجیدگی دو چند تھی۔
جسے محسوس کر کے بی جان نے ان کی ناراضگی کے خیال سے سب کے یہ باور کروانے کہ رہبان گھر نہیں ہے، کے باوجود انہوں نے آبگینے کو تیار ہونے کا حکم جاری کر دیا۔
کہ ان کے خیال میں جب سب ختم ہو چکا ہے تو پھر ایسی ردوکد اور ٹال مٹول سے کام ہرگز نہیں لینا چاہیے۔
اور پھر اگلے چند ہی منٹوں میں دل میں ایک عجیب سا بھاری پن لیے سب کے ساتھ ملتی ہوئی آبگینے ‘ملک ہاوس’ کی دہلیز پار کرتی جب گاڑی میں آ کے بیٹھی تو جانے کیوں دل بھر آیا تھا۔

دل نے بے ساختہ اس شخص کو شدت سے یاد کیا جو اپنے چاروں دوستوں کے ساتھ ‘سپیشل روم’ میں موجود اپنے تمام دشمنوں ماسوائے پیر سائیں کے، ان سب کو ان کے کیے کی سزا ان کے مطابق دینے کو تیار کھڑا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سیاہ کرولا بہت تیزی کے ساتھ پتھریلی سڑک پر بھاگتی جا رہی تھی۔
جب ڈرائیونگ سیٹ پہ بیٹھے رہبان نے بیک ویو مرر سے بیک سیٹ پر بیہوش پڑی زحلے اور اس کے ڈھلکے سر کو کندھے پہ ٹکائے ذوالنورین میر کو دیکھا تھا۔
جبکہ کلثوم میر نین کے ساتھ الگ گاڑی میں جا چکی تھیں۔

“ذونین!تو واقعی اپنی میڈم سے اتنا ڈرتا ہے؟” ذوالنورین جو زحلے کے بالوں میں انگلیاں چلاتا ہوا اپنی سوچوں میں مگن تھا اس کے اس سوال پہ چونکا۔

“کیا مطلب؟” اس نے بھنویں سکیڑتے ہوئے اس کی پشت کو گھورا۔

“مطلب یہ کہ بھابھی کی اتنی دہشت کہ اپنا ایکشن دکھانے لیے ان کو پہلے بیہوش کرنا پڑا۔” اس نے دانت نکوستے ہوئے وجہ بیان کی تو وہ اسے دیکھ کے رہ گیا۔
جو کچھ قبل والے رہبان سے مکمل طور پر مختلف نظر آتا سکون سے گاڑی ڈرائیو کرتا دماغ کے پہیے گھمائے جا رہا تھا۔

“ٹیچرز سے سٹوڈینٹس ڈرتے ہی ہیں۔” ایک نظر اس کے وجود پہ ڈالتے ہوئے اس نے بے نیازی شو کروانی چاہی لیکن سامنے بھی رہبان گردیزی تھا۔

“لیکن یہ اور بات ہے کہ ذوالنورین میر اپنی بیگم زحلے ابراہیم سے ضرورت سے زیادہ ڈرتا ہے۔رائیٹ؟” آنکھوں میں کمینگی بھرے اس کے بظاہر بڑی سادگی سے دریافت کرنے
پر ذونین کا دل چاہا رکھ کے ایک دھموکا اسے دے مارے۔

“رائیٹ اور رانگ کا کوئز میں تمہارے ساتھ ہرگز نہیں کھیلنے والا اس لیے منہ کے زاویے درست رکھو۔ تمہاری فضول کی چر چر سے میم کی نیند خراب ہو سکتی ہے۔” اس نے بے دریغ اسے لتاڑتے ہوئے اس کی زبان بند کرنی چاہی جو کہ ناممکن تھا۔

اس کی بے سروپا باتوں کے بعد جب گاڑی میر پیلس کے پورٹیکو میں رکی اور زحلے کا ہوش و حواس سے بیگانہ وجود اٹھائے ذوالنورین نے جب اس کا بیگ اٹھانا چاہا تو کھلے بیگ سے نظر آتے اس کے سامان کو دیکھ کر اس کے چہرے کی گھمبیرتا خطرناک حد تک بڑھ گئی۔
اور پھر جب بھینچے ہوئے ہونٹوں کے ساتھ ذوالنورین نے زحلے کے نازک وجود کو اپنے بیڈ پہ لٹایا تھا۔
اسی لمحے ‘پیر حویلی’ میں چند لمحے قبل پہنچنے والی آبگینے رہبان کے سامنے پیر سائیں نے خلع کے پیپرز رکھے تھے۔

جاری ہے۔