Dil Tere Sang Jor Liya By Huria Malik Readelle50062 Last updated: 7 July 2025
No Download Link
Rate this Novel
Dil Tere Sang Jor Liya
By Huria Malik
وہ بہت کوفت و بیزاری کے ساتھ سامنے شیشے کی میز کے دوسری جانب بیٹھی ایک خوبصورت اور طرحدار سی خاتون کی ایکسرے کرتی نگاہوں کو بمشکل برداشت کرتی وہ ان کے مزید بولنے کا انتظار کرنے لگی جو اس کی سی وی پہ ایک نظر ڈالنے کے بعد فارمل انٹرویو کی بجائے اس کی فیملی کے متعلق سوال و جواب کرنے کے بعد نجانے کن سوچوں میں مشغول ہو چکی تھیں۔
"مس زحلے ابراہیم! آپ کی سی وی میں نے چیک کی ہے آپ کا اکیڈمک ریکارڈ بہت زبردست ہے لیکن آپ کے پاس تجربہ نہیں ہے۔" بالآخر انہوں نے اپنی خاموشی توڑی تو زحلے کے چہرے پہ مایوسی پھیل گئی لیکن وہ چہرے پہ مصنوعی مسکراہٹ بکھیرے اپنی فائل لیے کرسی سے اٹھی۔
"اٹس اوکے میم،تھینک یو۔" مروتاً ان کا شکریہ ادا کرنے کے بعد وہ وہاں سے اٹھنے کو تھی جب پاور سیٹ پہ بیٹھی 'مسز شازمین میر' نے اسے فورا روکا۔
"بیٹھی رہیے مس ابراہیم!اگر چہ آپ کے پاس اس طرح کی کمپنیز میں جاب کرنے کا ایکسپیرینس نہیں ہے لیکن جیسا کہ میں نے کہا کہ آپ کا اکیڈمک ریکارڈ بہت زبردست ہے اس لیے میرے پاس آپ کے لیے ایک جاب ہے۔" ان کی بات بے توجہی سے سنتی زحلے جو کرسی پہ بے دلی سے ٹکی ہوئی تھی ان کے کہے آخری جملے پہ جی جان سے چونکی۔
"جاب؟" اس کی متعجب و بے یقین خوبصورت نگاہیں ان کے میک اپ سے سجے خوبصورت چہرے پہ مرکوز تھیں۔
"بالکل۔" انہوں نے ہولے سے سر خم کرتے ہوئے اس کی حیرانگی دور کرنی چاہی۔
"کیسی جاب؟" اس کی آنکھیں یکایک امید کے تمتماتے دیوں سے چمکنے لگیں تو شازمین میر کے چہرے پہ سکون پھیلتا چلا گیا۔
"میرے شوہر کے بھتیجے کو ہوم ٹیوشن دینا ہو گی، اس کے لیے آپ کو پک اینڈ ڈراپ کی سہولت دی جائیگی اور مکمل سیلری پیکج بھی دیا جائے گا جو یہاں موجود ورکرز کو دیا جاتا ہے کیونکہ آپ کے بھی ہوم ٹیوشن کی ٹائمنگ صبح نو سے شام ساڑھے پانچ بجے تک ہو گی۔" ان کی تفصیل میں کی گئی اس بات پہ اس کے چہرے پہ تعجب کے رنگ مزید گہرے ہوئے کہ اتنی لمبی ٹیوشن وہ کیسے دے سکے گی لیکن پھر سوچا کہ کوئی اور جاب کرتی تب بھی اتنا وقت تو دینا ہی تھا اس لیے وہ اپنے ساتھ جڑی بہت سی امیدوں کو سوچتی انہیں اپنی رضامندی دے گئی۔
اس کے رضامند ہونے پہ شازمین میر نے اس کے سامنے کانٹریکٹ پیپر رکھے جن کے مطابق وہ ان کے شوہر کے بھتیجے کا کورس مکمل ہونے سے پہلے اس جاب کو نہیں چھوڑ سکتی تھی۔ اس کانٹریکٹ پہ شاید وہ کوئی سوال اٹھاتی لیکن اس معمولی سی جاب کے عوض جو مراعات اور ستر ہزار ماہانہ تنخواہ مل رہی تھی اس نے اس کی زبان پہ تالے لگا دیے تھے۔ اور شاید ایسے ہی تالے یہاں موجود ہر دوسرے فرد کے منہ پہ لگ جاتے ہیں جب انہیں اپنے سے زیادہ خود سے وابستہ رشتوں کی خوشی، سلامتی اور سکون کے لیے ایسی مراعات درکار ہوں۔
"مس ابراہیم جاتے ہوئے ریسیپشنسٹ سے اپنا اپائٹمنٹ لیٹر لیتی جائیے گا۔" وہ اپنی سوچوں میں گم شازمین میر کا شکریہ ادا کرتی آفس سے نکلنے والی تھی جب عقب سے آتی ان کی آواز پہ وہ گہری سانس بھرتی سر اثبات میں ہلا کے دروازہ پار کر گئی۔
جبکہ اندر لگژری آفس روم کی پاور سیٹ پہ بیٹھی شازمین میر پہلی 'سیڑھی' پہ قدم جمائے بہت سرشاری کے ساتھ مسکراتی ہوئی باقی انٹرویو کینسل کرنے کا آرڈر دے رہی تھیں۔ کیونکہ انہیں اپنا کوہِ نور مل چکا تھا۔
