57.1K
55

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 3

“دل تیرے سنگ جوڑ لیا”
از
حوریہ ملک

وہ ایک دفعہ پھر سے اسی کمرے کے سامنے پہنچ چکی تھی جہاں گزرے چند لمحے اس کی زندگانی کی تمام تر اذیتوں پہ بھاری تھے۔

مگر وہ چاہ کے بھی اپنے قدم واپسی کی جانب نہ موڑ سکتی تھی۔

اس نے آہستگی سے دروازہ کھولا تو اندر صوفے پہ اُس کے ساتھ بیٹھے ڈاکٹر مرتضیٰ نے پلٹ کے اس کی جانب دیکھا جبکہ ان کے ساتھ بیٹھے شخص کی نگاہیں کمرے میں پڑی اپنی وہیل چیئر پہ مرکوز تھیں۔

“آئیں بیٹا!بیٹھیں آپ؟” ڈاکٹر مرتضیٰ نے فورا اسے خوش آمدید کہا تو وہ ہولے سے قدم اٹھاتی نرم و دبیز قالین کو روندتی جا کے کرسی پہ بیٹھ گئی۔

“آپ کا نام کیا ہے؟” کمرے میں چھائی آکورڈ سی خاموشی کو توڑنے کے لیے انہوں نے ایک اور سوال کیا تو اس نے دزدیدہ نگاہوں سے اس شخص کے چہرے پہ پھیلتی ناگواری کو محسوس کیا لیکن ضبط کر گئی۔

“زحلے۔۔زحلے ابراہیم!” اس نے اپنا تعارف کروایا اور پھر نگاہ اپنی گود میں رکھے ہاتھوں پہ مرکوز کر دی۔

“بہت پیارا نام ہے، یہ میرا بہت پیارا دوست ہے ذوالنورین میر، یہ آج کا شاگرد ہے۔” انہوں نے تعارف کروایا تو اس نے بنا اس شخص کی جانب دیکھے ہولے سے سر ہلایا۔

“میں اب چلتا ہوں.ذوالنورین مجھے شکایت نہ ملے۔” وہ اپنی جگہ سے اٹھے اور ایک تنبیہی نگاہ بے نیازی کی مورت بنے بیٹھے ذوالنورین پہ ڈالی تو اس نے خفگی سے سر جھٹکا۔

“آپ کے نوٹس اور بکس کہاں ہیں؟” ڈاکٹر صاحب کے جانے کے بعد جب وہ چند لمحے کچھ نہ بولا تو اس نے جی کڑا کرتے ہوئے سر ہولے سے اٹھایا اور اس کی جانب دیکھتے ہوئے متوازن لہجے میں استفسار کیا۔
جبکہ اس کے یوں ڈائریکٹ سوال پہ ذوالنورین کے چہرے پہ کڑواہٹ سی پھیل گئی۔

“آپ سے کچھ پوچھا ہے میں نے؟” اس کی خاموشی پہ اس نے اپنے الفاظ پہ زور دیا تو اس نے گردن گھما کے کھا جانے والی نگاہوں سے اسے دیکھا۔

“نہیں ہے میرے پاس، آپ نے پڑھانا ہے تو پڑھا کے جائیں یہاں سے۔” شاید ڈاکٹر صاحب سے ہوئی کلاس کا اثر تھا جو وہ تم سے آپ ہو گئی تھی لیکن اکڑ اور نخوت جوں کی توں برقرار تھی۔

“آپ کے سبجیکٹس کیا ہیں؟” اس نے گہری سانس بھرتے ہوئے اسے دیکھا جو سیاہ ٹی شرٹ اور سیاہ ہی ٹراوزر پہنے صوفے پہ بیٹھا ہوا تھا جبکہ ٹانگوں پہ ایک براون شال پڑی ہوئی تھی جو اس کے پیروں تک کو ڈھانپے ہوئے تھی۔
اس شاندار اور بھرپور مرد کی ایسی حالت پہ اس کے دل میں فطری دکھ ابھرا تھا لیکن اس نے اس کا اظہار بالکل نہ کیا۔

“دیکھیے مس ابراہیم!آپ کا کام مجھے پڑھانا ہے اس کے علاوہ جو بھی آپ کے فضول سوالات ہیں ان کے متعلق آگہی لے کے اس کمرے تک آتیں تو بہتر تھا۔” اس کی جانب ہولے سے گردن موڑے وہ سپاٹ لہجے میں بولتا اسے شرمندگی کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈبو گیا۔
اس کا چہرہ ہتک کے احساس سے فورا سرخ پڑا تبھی وہ بمشکل ضبط کرتی اپنی جگہ سے اٹھی۔

“اوکے ذوالنورین!ہم کل اسی ٹائم کلاس سٹارٹ کریں گے امید ہے کہ کل آپ مینٹلی اس کے لیے تیار ہوں گے۔” سنجیدگی سے ایک نظر اسے دیکھتی وہ تیز تیز قدم اٹھاتی اس کے کمرے سے باہر نکل گئی۔

سیڑھیاں اترتے ہوئے اس کی آنکھوں میں وہ ستر ہزار روپے لہرائے جن کی قیمت اس کی ہمت و سکت سے بہت زیادہ تھی لیکن۔۔۔۔۔۔
اس لیکن کا جواب بہت اذیت ناک تھا اس لیے وہ لب سختی سے بھینچے سیڑھیاں اتر کے ملازمہ کو بتا کے لاونج سے باہر نکل گئی۔
جبکہ اوپر کمرے میں بیٹھا ذوالنورین اپنی وحشت زدہ نگاہیں موندے صوفے کی پشت سے ٹیک لگا کے بیٹھا اپنے بائیں گھٹنے پہ بائیں ہاتھ کی انگلیاں بجاتا زہر خند سوچوں میں مگن تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بایاں ہاتھ سٹیئرنگ پہ رکھے وہ دایاں بازو کھلے شیشے پہ رکھے بہت ضبط کے ساتھ کار میں بیٹھا شہرے کا انتظار کر رہا تھا جو کال کرنے کے باوجود ابھی تک نہیں آئی تھی۔

ایک اچٹتی نگاہ سائیڈ مرر پہ ڈالتے ہوئے اس نے اپنی گاڑی کے پیچھے کھڑی گارڈز کی گاڑی دیکھی تو غصے کا گراف جیسے مزید بڑھ گیا اور شاید اسی لیے وہ تیزی سے اپنی کار کا دروازہ کھول کے باہر نکلا اور اس سے پہلے کہ کالج کے گیٹ کی جانب بڑھتا، سیاہ ٹراوزر کے ساتھ سفید لوز سی شرٹ پہنے وہ سفید حجاب اوڑھے اپنی دوستوں کے ساتھ باہر نکلتی دکھائی دی تو اس نے اپنے قدم وہیں روک لیے۔

“شہرے!وہ یونانی اپالو تمہیں لینے آیا ہے؟” وہ قدم واپس کار کی جانب موڑ رہا تھا جب شہرے کی دوست کی نظر اس پہ پڑی جو سیاہ پینٹ اور لائٹ بلیو شرٹ پہنے جس کے بازو کہنیوں تک فولڈ کیے، وہ بائیں کلائی میں بیش قیمت گھڑی پہنے، سیاہ جوتے پہنے ، ہوا سے بے ترتیبی کا شکار ہوئے بالوں کو ماتھے پہ سجائے وہ چہرے پہ سنجیدہ تاثرات لیے خوبصورتی و وجاہت کا جیتا جاگتا مجسمہ لگ رہا تھا۔

“اوہ مائی گاڈ!شہرے یہ اتنا شاندار بندہ تمہیں کہاں سے مل گیا؟ تمہاری فیملی کے سارے مرد ہی شاندار ہیں لیکن یہ تو کوئی الگ قسم کا چارم لے کے آیا ہے، یہ تمہارا فیانسی تو نہیں؟اگر نہیں ہے تو پلیز اس سے شادی کر لو نہیں تو میری کروا دو۔” شہرے جو ابھی منعم کے سوال کا جواب دینے ہی والی تھی، حرا کے بے صبرے پن پہ بوکھلا گئی۔

جبکہ ان سے چند فرلانگ کے فاصلے پہ کھڑا ضرغام ملک اس لڑکی کے آخری جملوں پہ جہاں کا تہاں کھڑا رہ گیا۔

“پاگل ہو چکی ہو تم، یہ ضرغام چاچو ہیں اور ان کا نکاح ہو چکا ہے۔” ان کی فضول گوئی پہ سرخ ہوتے چہرے کے ساتھ وہ دبے دبے لہجے میں گویا ہوئی تو اس کے الفاظ پہ ضرغام ملک کا دل کیا پوری ہستی پل میں فنا ہوئی تھی۔

بھوری آنکھوں کو زور سے میچتے ہوئے وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا کار کی جانب بڑھا اور اس کا فرنٹ ڈور شہرے کے لیے کھول کے وہ اپنی سائیڈ کا دروازہ ایک جھٹکے سے کھول کے اندر بیٹھا۔
چند ہی ثانیوں کے بعد وہ خوشبوئیں بکھیرتی کھلے دروازے سے اندر بیٹھی اور دروازہ بند کر کے اس کی جانب دیکھا جو نجانے کیوں ہمیشہ اسے دیکھنے سے احتراز برتتا تھا۔

“ضرغام چاچو!ایک سوال پوچھوں آپ سے؟” گاڑی میں چھائی خاموشی اور ضرغام کا اجنبی رویہ جب اس سے برداشت نہ ہوا تو وہ بول اٹھی جبکہ اس کی آواز پہ ضرغام نے ہولے سے سر خم کرتے ہوئے گویا بولنے کا اشارہ کیا۔

“آپ مجھ سے ناراض ہیں کیا؟نا آپ مجھ سے بات کرتے ہیں نا میری طرف دیکھتے ہیں حالانکہ میں تو آپ کو تنگ بھی نہیں کرتی۔” وہ اس کی طرف ہلکا سا رخ موڑے اس کی جانب دیکھتی شکوہ کناں لہجے میں بولا تو اس کے سوالات پہ ضرغام کا چہرہ جیسے انتہائی سرخ پڑا تھا۔
یہ لمحے شاید اس کے لیے بہت بھاری ترین لمحے تھے۔

“ایسا کچھ نہیں ہے،آپ جانتی ہیں کہ میری طبیعت ہی ایسی ہے۔” بنا اس کی جانب دیکھے وہ بمشکل لہجے کو کمپوزڈ کیے بولا تو شہرے نے خفگی سے اسے دیکھا۔

“نگاہ چچی سے تو آپ اتنے پیار سے بات کرتے ہیں۔” شکوہ کرتے ہوئے وہ یہ بات فراموش کر گئی کہ وہ کس سے اپنا مقابلہ کر رہی ہے۔
جبکہ اس کی یہ بے خبری دوسری جانب آگ لگا گئی تھی تبھی وہ خشک لہجے میں اسے ٹوک گیا۔

“شہرے پلیز!” اس کے ٹوکنے پہ وہ لحظہ بھر کے لیے خاموش ہو گئی اور پھر رخ مکمل طور پہ کھڑکی جانب موڑتی گزرتے مناظر کو دیکھنے لگی۔
جبکہ اس کی موجودگی میں ہمکتے دل کو سختی سے ٹوکتا ہوا وہ مکمل طور پہ سامنے سڑک پہ توجہ مرکوز کر گیا۔
اور ہر گزرتے لمحے کے ساتھ گاڑی میں خاموشی بڑھتی جا رہی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جائے نماز تہہ کر کے اسے رکھنے کے بعد وہ اپنے بیڈ کی جانب بڑھی ہی تھی کہ اس کے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹانے کے بعد ساجدہ بیگم کمرے میں داخل ہوئیں تو اس نے چونک کے انہیں دیکھا۔

“اماں سائیں!آپ اس وقت؟” اس نے دیوار پہ لٹکی گھڑی پہ ایک نظر ڈال کے ان کی طرف دیکھا جو آج بہت غیر متوقع طور پہ اس وقت کمرے میں آئی تھیں۔

“نماز پڑھ لی تم نے؟” ساجدہ بیگم اس کے بستر پہ بیٹھتے ہوئے تمہید باندھنے کے سے انداز میں گویا ہوئیں تو آبگینے سر اثبات میں ہلاتی ان کی گود میں سر رکھ کے لیٹ گئی۔

“آپ پریشان لگ رہی ہیں، کیا ہوا؟” ان کے چہرے سے مترشح ہوتی پریشانی کو دیکھتے ہوئے وہ بولی تو انہوں نے ایک نظر اس کے خوبصورت چہرے پہ ڈالی اور پھر ہمت مجتمع کرتے ہوئے بولیں۔

“پیر سائیں تمہاری شادی کرنا چاہتے ہیں۔” انہوں نے بالآخر اس کے سر پہ دھماکہ کرتے ہوئے وقفہ لیا تو آبگینے ساکت ہوتی دھڑکنوں اور پھٹی پھٹی آنکھوں کے ساتھ ماں کا چہرہ دیکھنے لگی جو مزید بول رہی تھیں۔

“لیکن اماں۔۔۔یہ سب۔۔ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟” وہ ایک جھٹکے سے ان کی گود سے اٹھتی ششدر سی ماں کو تکنے لگی جنہوں نے اس کی سماعتوں پہ ایسا اندوہناک انکشاف کیا تھا کہ اس کا وجود ہل کے رہ گیا۔

“ایسا تو کہیں نہیں لکھا ہے اماں سائیں، اللّٰہ تعالیٰ نے اگر انسانوں کی جان کا صدقہ قبول کرنا ہوتا تو وہ حضرت اسماعیل کی جگہ دنبہ کو نہ بھیجتا پھر۔۔۔پھر پیر سائیں کس صدقے کس قربانی کی بات کر رہے ہیں؟” وہ ڈوبتی سانسوں اور اڑے اڑتے حواسوں کے ساتھ بے ربط سے انداز میں بولتی جا رہی تھی جبکہ اس کی حالت دیکھ کے ساجدہ بیگم کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے تھے۔

“میری بچی یہ صدیوں سے اس گھرانے کی روایت چلی آ رہی ہے۔” وہ اس کے ہولے ہولے لرزتے وجود کو اپنی بانہوں میں سمیٹنے کی کوشش کرتیں گلوگیر لہجے میں بولیں تو وہ مچل اٹھی۔

“پھر اس روایت کو اس گھٹیا طریقے سے پورا کیوں کرتے ہیں اس گھرانے والے؟کیا ضروری ہوتا ہے کہ ایک لڑکی کی آنکھوں میں شادی کے خواب سجا کے اس کا نکاح ان دیکھے مرد سے کروا کے اسے رخصت کر کے اس کے ساتھ بھیجنے کی بجائے زندان خانے میں بھیج دیا جائے جہاں سسکتی ہوئی وہ جان گھرانے کی سلامتی کے لیے قربان ہو جائے، قربان ہی کرنا ہے تو پیدا ہوتے ہی بند کر دیا کریں نا تب تو جان جلدی چھوٹ جاتی ہے۔” یہ صدمہ اور ایسی شرمناک حقیقت نے اسے بے حال سا کر دیا تھا اس لیے وہ ان کی گرفت میں بے قابو ہوتی سسکنے لگی۔

“ایسا ضروری ہوتا ہے میری بچی۔” وہ اسے سینے میں سمیٹتی روتے ہوئے بولیں تو اس کی ہچکیاں بندھنے لگیں۔

“اماں سائیں پلیز، آپ۔۔آپ پیر سائیں کو منع کریں نا۔انہیں روکیں نا آپ جانتی ہیں کہ اندھیرے سے جان جاتی ہے میری اور۔۔۔اور اکیلے رہنا میری سانس بند کر دے گا، میرے ساتھ یہ ظلم نہیں کریں، پلیز اماں سائیں۔” وہ ایک دم سے ماں کے ہاتھ پکڑتی لجاجت سے گویا ہوئی تو ساجدہ بیگم کا دل بیٹی کی حالت دیکھ کے جیسے پھٹنے لگا تھا۔
اس کا پھولوں کی طرح مہکتا وجود پل میں جیسے کسی کھنڈر نما عمارت کا منظر پیش کرنے لگا تھا۔

“صبر کرو میری بچی اور اپنے لیے اللّٰہ پاک سے بس دعا کرو۔” اس کے چہرے پہ بوسہ دیتیں وہ نم لہجے میں کہتیں اس کے سسکتے وجود کو خود میں چھپا گئیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رات کی تاریکی میں سڑک پہ رواں دواں ٹرک کا شور ایک عجیب سا سماں پیدا کر رہا تھا اور اسی شور میں شاید ٹرک کے اندر موجود انسانی وجود کی سسکیاں دبنے لگی تھیں۔

“کتنے آئٹمز ہیں؟” ٹرک ڈرائیور کے ساتھ فرنٹ سیٹ پہ بیٹھے دونوں نفوس میں سے ایک بولا تو دوسرے نے فورا جواب دیا۔

“تیس ہیں۔” اس نے جواب دیتے ہوئے نسوار زبان کے نیچے رکھی۔

“تم نے چیک کر لیا تھا نا کہ آگے کوئی چیک پوسٹ تو نہیں ہے؟” پہلے والے شخص نے اب کی بار ڈرائیور کی جانب دیکھتے ہوئے استفسار کیا۔

“نہیں صاحب!وہ ایس پی آج کل شہر سے کہیں باہر گیا ہے اور اس کے علاوہ کوئی مائی کا لال ایسا نہیں ہے جو ہمارے ٹرک کی جانب آنکھ اٹھا کے بھی دیکھ سکے۔” ڈرائیور سینہ پھیلاتے ہوئے شیخی سے بولا۔
اس سے پہلے کہ وہ شخص اس کی بات کا کوئی جواب دیتا اچانک تیز روشنی سامنے سے پڑنے پہ تینوں نے بے ساختہ ہاتھ آنکھوں کے سامنے رکھا جس سے ٹرک ڈگمگا سا گیا جسے بمشکل سنبھال کے ڈرائیور نے سر جھکا کے چندھیائی آنکھوں سے سامنے دیکھا تو گویا سانس حلق میں اٹک گیا ہو۔

“ایس پی رہبان گردیزی!” اس کی سرگوشی پہ وہ دونوں شخص بھی بری طرح سے چونک اٹھے۔

“اگر اس شخص کے ہتھے ہمارا مال چڑھا تو ہماری لاشوں کے ٹکڑے پاکستان کے چیل کوے کھائیں گے۔” ان میں سے ایک شخص نے خوفزدہ انداز میں کہتے ہوئے اپنے پسٹلز نکال کے ان پہ گرفت مضبوط کی لیکن اس سے قبل کے ان میں سے کوئی بھی ہوشیاری کرتا ٹرک کے آگے والے ٹائر ایک ساتھ پنکچر ہوئے اور ٹرک ہچکولے کھاتا سڑک سے اترتا نیچے کچے میں لگے مضبوط درخت سے ٹکڑا گیا۔
جبکہ اپنے بائیں ہاتھ میں ایک پسٹل تھامے ایس پی رہبان گردیزی اپنی کمر میں اٹکا دوسرا پسٹل بھی نکالتا دائیں ہاتھ میں پکڑ کے ٹرک کی جانب بڑھا۔

جاری ہے