57.1K
55

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 9

“دل تیرے سنگ جوڑ لیا”
از
حوریہ ملک

وہ نگاہ کا سوال نہیں تھا بلکہ ایک بلاسٹ تھا جو ضرغام ملک کی ذات کے پرخچے اڑا گیا تھا۔

“کیا اتنا ارزاں تھا میرا عشق کہ یوں اس کی تشہیر ہو گئی؟” بے ساختہ اس کے دل سے ہوک نکلی۔

“ضرغام!” اس کی اس قدر گہری خاموشی پہ نگاہ نے اسے پکارا تو وہ چونکا اور فورا خود کو سنبھالا دیا۔

“آپ کو ایسا کیونکر محسوس ہوا؟” اس کی سپاٹ آواز میں ایک عجیب سرد سا تاثر تھا جس نے نگاہ کو قدرے نروس سا کر دیا تھا۔

“آپ کی نظروں سے۔” اس نے بہت دھیرے سے بہرحال جواب دیا جسے سن کے وہ پل بھر کے لیے زور سے اپنی پلکیں میچ کے رہ گیا تھا۔

“جن سوالوں کے جواب نہیں ہوں اُن سوالوں کو دفن کر دینا چاہیے نگاہ۔ آپ میری اُن نگاہوں کو محسوس کریں جو آپ کی طرف اٹھتی ہیں کیونکہ بیوی آپ ہیں میری۔” جو بے نام رشتہ اس کے دل کے کواڑ خانوں میں کہیں سانسیں لیتا تھا وہ اس کی تشہیر کر کے اُس کی عزت پہ سوال نہیں لانا چاہتا تھا اس لیے مدہم مگر نپے تلے انداز میں بولتا اس کے بے چین دل کو قرار سونپ گیا۔

“میں جانتی ہوں بس نجانے دل میں کیا سمائی تھی کہ پوچھ لیا۔” وہ اس کے پرسکون ردعمل پہ خجل سی ہوتی ہوئی بولی تو ضرغام کو گہری شرمندگی نے آن گھیرا تھا۔

“اپنے دل کو پرسکون رکھیں نگاہ، میں نے یہ رشتہ اپنی رضامندی سے جوڑا ہے بے فکر رہیں۔” وہ جانتا تھا کہ اس کی چاہت لاحاصل ہے اور اسی بناء پہ جب اس نے نگاہ کو زندگی میں شامل کیا تھا تو پوری رضامندی سے کیا تھا۔
یہ اور بات تھی کہ دل کے خانوں میں مقید محبت کبھی بے اختیار ہو جایا کرتی تھی مگر وہ اپنی لیے محدود کی گئی حدبندیوں کو کراس کرنے کا ارادہ نا رکھتا تھا اس لیے وہ پورے جذب کے ساتھ اسے بولتا چلا گیا کیونکہ وہ اپنی خواہش کے پیچھے کسی لڑکی کے جذبات کا قاتل نہیں بننا چاہتا تھا۔

اس کے اتنے خوبصورت اندازِ تسلی پہ وہ ہلکی پھلکی سی ہوتی اس سے شادی کی تیاریوں کے متعلق باتیں کرنے لگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“آپ کیوں اپنی سٹڈی کو لے کے سیریس نہیں ہو رہے ذوالنورین؟” وہ بہت دلجمعی سے نوٹس پہ جھکی اسے لیکچر دے رہی تھی کہ پوائنٹ کلیئر کرنے کے بعد جب اس نے سر اٹھا کہ اس کی جانب دیکھا تو وہ دیوار پہ نظریں جمائے بیٹھا اس کے تن بدن میں آگ دہکا گیا تھا۔

“آپ کیوں میری سٹڈی کو لے کے اتنی کانشیئس ہو رہی ہیں؟آپ کو سیلری چاہیے نا تو بس آئیں وہاں اس کرسی پہ بیٹھ جائیں اور اپنے وقت پہ گھر واپس چلی جائیں۔” اس کا دل جلاتا اطمینان قابلِ دید تھا جسے محسوس کر کے زحلے نے گہری سانس اندر کی جانب کھینچی۔

“ان پیسوں اور مجبوریوں کے چکر میں اپنی ذات کو بیچ چکی ہیں اور آپ کہتے ہو کہ بنا کام کیے فری میں پیسے بٹورتی رہوں؟” نجانے دل میں کیا سمائی تھی کہ وہ تلخی سے اپنی زندگی کا سب سے ازیت ناک سچ اس کے سامنے اُگل گئی تھی لیکن سامنے والے نے سن کے بھی کوئی تاثر نہ تھا۔
یہ اس دن سے ہفتے بعد کی بات تھی جب اس نے اس کا منہ زبردستی دلوایا تھا اور اسی دن کے بعد سے وہ شازمین میر کے ہزار اصرار کے باوجود بالوں کی چٹیا بنائے بغیر اس کے سامنے نہ گئی تھی ہاں ہونٹوں پہ پنک لپ اسٹک کی بجائے نیچرل کلر کا رنگ سجا کے آتی تھی اور شازمین میر کے کہنے پہ ہی ڈریسز بھی پہلے سے بہتر ہوتے تھے اور اس کے کمرے میں آنے کے بعد دوپٹہ وہ سر پہ اوڑھے بڑی چادر کندھوں پہ پھیلا کے رکھتی تھی۔

“آپ چاہتی ہیں کہ میں اپنی ڈگری جلد از جلد مکمل کروں؟” اچانک وہ یکسر بدلے ہوئے لہجے میں بولا تو زحلے چونک کے اس کی جانب متوجہ ہوئی۔

“جی۔” اس نے ہولے سے سر اثبات میں خم کرتے ہوئے جواب دیا کیونکہ وہ واقعی اس جان کے عذاب سے جان چھڑانا چاہتی تھی جس میں اسے اپنے سے بڑی عمر کے مرد کو ناصرف بند کمرے میں ٹیوشن دینا پڑ رہی تھی بلکہ اسے رجھانے کا گھٹیا ترین کام بھی اسے سونپا گیا تھا۔

“میں آپ کے کہنے پہ ایگزام دوں گا لیکن اس کے بدلے آپ کو مجھے کچھ دینا ہو گا۔” آج وہ بہت معمول سے ہٹ کے بیہیو کرتا ہوا اس کی جانب مکمل طور پہ متوجہ ہوتا لہجے میں اک نامحسوس سا اضطراب لیے بولا تو نجانے کیوں اک خوف سا زحلے کی رگوں میں سرائیت کرنے لگا۔

“ک۔۔کیا دینا ہو گا؟” اس کے مضبوط وجود کو شہد رنگ آنکھوں سے خوفزدہ انداز میں دیکھتے ہوئے اس نے کترائے سے لہجے میں استفسار کیا۔

“وہ میں آپ کو بتاتا ہوں لیکن یاد رکھیے گا کہ جاننے کے بعد اگر آپ میری بات نہیں مانیں گی تو دنیا کی کوئی بھی طاقت مجھے یہ ڈگری مکمل کرنے پہ مجبور نہیں کر سکتی۔” سرد سے لہجے میں کہتے ہوئے وہ اس کے خوف کو مزید گہرا کر گیا۔
اس کا دل چاہا وہ یہاں سے بھاگ نکلے جہاں ہر طرف اس کی ذات کو لے کے سودے کیے جا رہے تھے۔

“کیا چاہتے ہو آپ؟” اس کو اپنی وحشت سے بھرپور آواز سنائی دی تو اس کے سامنے بیٹھے ذوالنورین کے چہرے پہ ایک تاریک سا سایہ لہرایا۔

“اپنی م۔۔ماما سے ملنا چاہتا ہوں۔” بہت ہی غیر متوقع الفاظ سماعتوں کی نذر ہونے پہ اس نے کرنٹ کھا کے اس کے خوبصورت چہرے کو دیکھا جو اس وقت گہرے کرب میں ڈوبا نظر آ رہا تھا۔

“آپ کی ماما؟وہ کہاں ہیں؟” اس کے دماغ میں کچھ دن قبل کا منظر لہرایا جب وہ بیہوشی میں بھی اپنی ماں کو پکار رہا تھا اور اب اس کی ایسی فرمائش؟

“وہ یہیں ہیں،اسی گھر میں ہی ہیں لیکن میں ان سے مل نہیں پا رہا۔آپ اگر ان سے مجھے ملوا دیں گی تو میں وعدہ کرتا ہوں کہ اس ڈگری کو آپ کے پڑھائے بغیر مکمل کر لوں گا اور آپ کو جتنے پیسوں کی ضرورت ہے وہ بھی آپ کو مل جائیں گے۔” اتنے عرصے میں پہلی دفعہ اسے اس شخص کے چہرے پہ التجا، شکستگی اور منت جیسے تاثرات نظر آئے تھے اور یہ تاثرات سامنے بیٹھی زحلے کا دل پسیج گئے۔

“کون تھی اس شخص کی ماں؟”
“اگر وہ اسی پیلس میں موجود تھی تو کیوں سامنے نہ آتی تھی؟کیوں بیٹے کو اس حالت میں اکیلا چھوڑا ہوا ہے؟”
“اور کیوں وہ اس بڑے سے پیلس میں فقط نوکروں کے در پہ پڑا تھا؟”

اس کی فرمائش پہ اچانک بہت سارے سوالات اس کے ذہن میں گڈمڈ ہونے لگے اور تبھی اس نے ارادہ بنایا کہ وہ ضرور اس شخص کو اس کی ماں سے ملوائے گی۔

“مجھے آپ کی شرط منظور ہے۔” اس نے آہستگی سے منظوری دی۔
کہ اس کے لیے یہ بہتر تھا جتنی جلدی اس کے یہاں سے جانے کا بندوبست ہو جاتا اتنی ہی جلدی اس کی ایک اجنبی کے نزدیک رہنے سے بھی جان چھوٹ جائے گی۔

“شکریہ مس ابراہیم!” سنجیدگی سے اس کا شکریہ ادا کرتا ہوا وہ دوبارہ سے دیوار کی سمت دیکھنے لگا جبکہ زحلے اٹھ کے اس کی میڈیسن لانے چل دی۔
اور یہ بھی الگ ہی داستان تھی کہ کتنے جتنوں اور ذلت آمیز لمحوں کے بعد یہ شخص اس کے ہاتھوں لائے گئے کھانے اور دوائی کو قبول کرنے لگا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“شہرے!جو کل تمہیں کالج سے پک کرنے آیا تھا وہ کون تھا؟” کالج کی بیک سائیڈ پہ بنے لان میں بچھی نرم گھاس پہ آلتی پالتی مار کے بیٹھی شہرے کو تہمینہ نے مخاطب کیا تو اس کے ساتھ بیٹھی حمنہ بھی اس کی جانب متوجہ ہوئی۔

“شاہ زین لالہ اور ضرغام چاچو تھے۔” اس نے سرسری سے لہجے میں جواب دیا۔

“یہ تمہارے سگے چاچو نہیں ہیں نا؟” اس نے اگلا سوال کیا تو اس نے نفی میں سر ہلایا۔

“نہیں ڈیڈ کے کزن ہیں لیکن تمہیں کیا ہوا جو اس قدر ان کے متعلق تفتیش کر رہی ہو؟ یاد رکھو ان کی چار پانچ دن تک شادی ہے۔” وہ اپنے مخصوص شرارتی انداز میں گویا ہوئی لیکن تہمینہ کے چہرے پہ اس کی شرارت کے کوئی اثر نہ جھلکا۔

“شہرے!وہ تمہیں پسند کرتے ہیں۔” اس کے الفاظ شہرے کے پورے وجود کو زلزلوں کی زد میں لے گئے جبکہ خوبصورت آنکھیں حیرت و بے یقینی سے پھیلتیں چہرے کی خوبصورتی و معصومیت کو اک جلا سی بخش گئیں۔

“ان کا تمہیں دیکھنے کا انداز، انہوں نے تم پہ اک نگاہ ہی ڈالی تھی لیکن وہ نظر سب سے الگ تھی۔” وہ مزید بولی تو شہرے کے چہرے کی رنگت بدلنے لگی مگر کچھ ثانیوں کے بعد وہ کچھ سنبھلی تو پھر ہنستی چلی گئی۔

“پاگل ہو چکی ہو مینا تم، ایک تو میرا اور ان کا رشتہ اور دوسری بڑی بات ان کی شادی ہونے والی ہے وہ بھی اُن سے جس سے انہوں نے اپنی مرضی سے نکاح کیا تھا۔” اس کے کیے گئے انکشاف کے صدمے سے نکلتے ہوئے وہ اپنے مخصوص کھنکتے ہوئے لہجے میں بولی تو تہمینہ الجھی۔

“لیکن شہری۔۔۔۔۔۔” اس نے کچھ کہنا چاہا جب شہرے نے سرعت سے اس کی بات کاٹی۔

“ناولز کم پڑھا کرو میری جان ورنہ آنے والے وقتوں میں تمہیں سب کی نظریں بدلی ہوئی نظر آئیں گی۔” شرارت سے اس کی بات چٹکیوں میں اڑاتے ہوئے وہ کھل کے ہنس دی جبکہ اس کی شرارت پہ حمنہ بھی ہنسنے لگی۔

“اچھا چلو یہ سب ختم کرو اور شہری یہ بتاو کل جا رہی ہو نا ہمارے ساتھ ٹرپ پہ؟” حمنہ نے اس موضوع کی طرف توجہ دلوانی چاہی جس پہ ڈسکشن کے لیے وہ یہاں آ کے بیٹھی تھیں۔

“یار میں کنفیوژ ہو گئی ہوں، اب شادی کا فنکشن بھی سر پہ ہے اور ٹرپ چھوڑنے کا بھی دل نہیں ہے۔” وہ منہ بناتے ہوئے بولی۔
“تو اس میں پریشانی والی کیا بات ہے دو دن بعد ہم واپس آ جائیں گے اور اس کے بعد ہی شادی کے فنکشن شروع ہونے ہیں تو تم آرام سے شادی بھی انجوائے کر لینا۔” حمنہ نے سکون سے تجویز پیش کی جو اسے بھی قدرے بھائی۔

“چلو ٹھیک ہے آج گھر جا کے ڈیڈ سے بات کر کے فائنل میسج کر دوں گی۔” وہ نیم رضامندی دیتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی۔

“چلو اٹھ جاو، ڈرائیور آ چکا ہو گا۔” اس نے دونوں کو اٹھنے کا اشارہ کیا اور وہاں سے باتیں کرتی ہوئیں گیٹ کی مانند چل دیں۔

گیٹ کے پاس کھڑی سیاہ مرسڈیز کو دیکھ کے شہرے کو بے ساختہ تہمینہ کی باتیں یاد آئیں۔

“شہرے وہ تمہیں پسند کرتے ہیں۔”
اس کا پروثوق لہجہ کانوں میں اچانک گونجا تو بیک سیٹ پہ بیٹھتی شہرے کا دل ایک دم سے اپنی لے بدل گیا۔

“پاگل ہے وہ اور مجھے بھی کرنا چاہتی ہے۔” سر جھٹکتے ہوئے اس نے اس لمحے کی زد سے خود کو نکالتے ہوئے سر سیٹ کی پشت پہ ٹکایا اور اپنی پلکیں موند گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

‘گردیزی پیلس’ کا ماحول اس وقت انتہائی کشیدگی کا شکار ہو رہا تھا۔
بی جان پوتے کی ڈھٹائی پہ شرمندہ ہوتیں اس وقت مارے فکر و پریشانی کے بستر سے لگی ہوئی تھیں کہ ایک طرف اپنے پیر سائیں کی ناراضگی کا خوف تھا اور دوسری طرف رہبان کی روپوشی نے دل کو مزید خوف سے ہمکنار کر رکھا تھا۔
جبکہ دوسری جانب باقی سارے افراد بھی اپنی جگہ پریشانی کا شکار تھے کیونکہ رہبان کی حرکت پہ پیر حویلی والوں نے جس قدر دھمکیاں دی تھیں ان پہ مستزاد بی جان کی ناساز حالت اور رہبان کی آبگینے سمیت گمشدگی الگ دل دھڑکائے جا رہی تھی۔

“آپ پتہ کیوں نہیں کر رہے کہ کہاں لے کے گیا ہے وہ آبگینے کو؟” سائرہ بیگم بی جان کے کمرے میں ہی موجود حماد صاحب سے قدرے جھنجھلائے ہوئے لہجے میں کہا تو وہ بھنا سے گئے۔

“خدانخواستہ مسجدوں میں اعلان کرواتا پھروں یا پولیس اسٹیشن میں ایک قابل ایس پی کی اپنی ہی بیوی کو لے کے بھاگ جانے کی رپورٹ درج کروا کے آوں؟” ان کے بھنائے ہوئے انداز پہ نوجوان پارٹی کے پریشان چہروں پہ بڑی بے ساختہ سی مسکان پھیلی تھی جبکہ سائرہ بیگم جھینپ سی گئیں۔

“میرا یہ مطلب نہیں تھا لیکن آپ کسی کے ذریعے یا آس پاس کے علاقے میں اپنے آدمی بھیج کے پتہ کروائیں نا۔” انہوں نے اب کی بار لجاجت سے شوہر کو منانا چاہا کیونکہ انہیں بی جان کی حالت زیادہ پریشان کر رہی تھی۔

“پتہ کروا رہا ہوں، نہیں لے کے جاتا چاند کے پار اپنی بیوی کو۔آپ سب کے اسی رویے سے خائف وہ غائب ہوا ہو گا اس لیے اب لکیر پیٹنے سے بہتر ہے کہ خود کو پرسکون رکھیں۔ جو ہو چکا ہے اس پہ صبر شکر کریں اور بی جان کو ریلیکس کرنے کی کوشش کریں۔” انہوں نے رسانیت سے اب کی بار سب کو اجتماعی طور پہ مخاطب کیا تو مائرہ بیگم نے فورا تائیداً سر ہلایا۔

“بھائی صاحب بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں۔دیکھا جائے تو رہبان نے بہت اچھا قدم اٹھایا ہے اور بڑی جی داری سے ایک فضول رسم کا خاتمہ کرنے کی کوشش کی ہے اس لیے بہتر ہے کہ ہم اس چیز کو تسلیم کریں اور بی جان کو بھی پرسکون کریں۔” مائرہ نے بہن کے کندھے پہ ہاتھ رکھتے ہوئے انہیں سمجھایا تو ان کے تنے ہوئے اعصاب ڈھیلے پڑ گئے اور وہ ہولے سے مسکراتی ہوئیں بی جان کی جانب بڑھی جنہیں اس وقت ڈرپ لگی ہوئی تھی جبکہ نوجوان پارٹی کے دلوں میں اپنے بے باک سے لالہ اور ان کی خوبصورت سی بیوی دیکھنے کا اشتیاق بڑھتا جا رہا تھا۔
لیکن ان کے اشتیاق سے پرے وہ دونوں گردیزی ہاوس سے بہت دور مظفر آباد میں بنے ایک بے حد دلکش کاٹیج کے سامنے موجود تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اپنے دونوں بازو دائیں بائیں پھیلائے وہ گہری سانس بھرتے ہوئے شام کے گہرے ہوتے سائے میں اپنے سامنے موجود خوبصورت کاٹیج کو دیکھتا گاڑی کی بیک سیٹ کی جانب مڑا۔

“افففف!” دروازہ کھول کے جب اندر جھانکا تو اسے ہنوز ہوش و حواس سے بے نیاز پایا تو سلگ اٹھا۔

“لعنت پہ مجھ پہ جو تم جیسے سڑے ہوئے شخص کی بات مان کے پہلے سے بیہوش بیوی کی نس دبا کے اسے بیہوش کیے رکھا۔” بڑبڑانے کے سے انداز میں کہتے ہوئے اس نے اس کے پھولوں کی طرح مہکتے ہوئے وجود کو اپنی مضبوط بانہوں میں سمیٹا تو جذبات سبک رو ہونے لگے۔

“بیوی کے قدم سے قدم ملا کے اُس کے گھر سے رخصت لینے سے لے کے اُس کے ہمارے گھر میں پہنچنے کا جو خوشگوار احساس ہے اسے محسوس کرنے کی بجائے میں بیہوش بیوی کو رخصت کروا کے بیہوش ہی بیوی کو بانہوں میں اٹھائے اس کے نئے گھر میں لے جا رہا ہوں۔” اپنی انوکھی شادی پہ محظوظ ہوتا وہ کاٹیج میں موجود ملازم میاں بیوی کے دروازہ کھولنے پہ اندر داخل ہوا اور انہیں کھانا کمرے میں پہنچانے کا کہہ کے سیدھا کمرے کی جانب بڑھ گیا۔

کمرے میں داخل ہونے کے بعد اس کے مہکتے وجود کو بیڈ پہ لٹانے کے بعد وہ اس کے چادر میں چھپے سراپے کو دیکھ رہا تھا جب دروازے پہ دستک دینے کے بعد ملازمہ کھانے کی ٹرے لیے اندر داخل ہوئی۔

“بہت شکریہ، اب آپ سو سکتی ہیں۔” اس نے شائستگی سے اس کا شکریہ ادا کیا اور اس کے جانے کے بعد دروازہ بند کرنے کے بعد واپس بیڈ کی جانب بڑھا اور بہت آہستگی کے ساتھ اس کے نزدیک بیڈ پہ بیٹھ گیا۔

اس کی زندگی بڑے شفاف انداز میں گزری تھی، وہ ہر کام ہر بات ڈنکے کی چوٹ پہ کرنے کا عادی تھا لیکن زندگی میں پہلا کام تھا جو اس نے ڈنکے کی چوٹ پہ کرنے کے ساتھ ساتھ بہت کچھ پوشیدہ رکھ کے کیا تھا۔
اس سب کو کرنے کا مقصد بہت واضح تھا لیکن اب اس چادر سے ڈھکے وجود کو دیکھتے ہوئے جو احساسات میں سُبک روی آ رہی تھی وہ اس مقصد کو متزلزل کر رہی تھی۔

گہری سانس بھرتے ہوئے اس نے ہاتھ بڑھایا اور اس کے چہرے سے چادر کا پلو سرکایا تو نگاہ نیٹ کے ڈوپٹے میں چھپے چاند چہرے سے الجھ سی گئی لیکن سرعت سے نگاہوں کی لگامیں کھینچتے ہوئے اس نے آگے بڑھ کے پانی کی بوتل تھامی اور ہتھیلی میں پانی لے کے اس کے اس کے نیٹ کے ڈوپٹے تلے چھپے چہرے پہ ہی پانی کا چھڑکاو کرنے لگا۔

وہ بہت سکون سے پلکیں موندے پڑی تھی جب اچانک اسے محسوس ہوا تھا کہ وہ کھلے آسمان تلے آ گئی ہے جہاں سے برستی بارش نے مجبوراً اسے آنکھیں کھولنے پہ مجبور کر دیا۔
کسمسائے سے انداز میں مسکارے سے بوجھل پلکوں کو وا کرتے ہوئے اس نے اردگرد دیکھنا چاہا تو پہلی ہی نظر سرخ نیٹ کے آنچل سے ٹکرائی تو گہرے خواب میں سویا ہوا دماغ ایک جھٹکے سے جیسے جاگا تھا۔
اسے یاد آیا تھا کہ وہ کس طرح سے ہوش و حواس سے بیگانہ ہوئی تھی اور یہ یاد آنا ہی تھا کہ وہ ایک جھٹکے سے اٹھی ہی تھی کہ خود کی جانب قدرے جھکے رہبان گردیزی کے چوڑے سینے سے جا ٹکرائی۔

جاری ہے۔