No Download Link
Rate this Novel
Last Episode
وہ چپ چاپ ڈرائیونگ کر رہا تھا, زرقا کندھوں کے گرد شال لپیٹے کھڑکی کی طرف رخ کیے بیٹھے تھی, ہاتھوں کی کپکپاہٹ سردی کی وجہ سے نہیں تھی… لبوں کی لرزش کسی آنیوالی خوشی کی وجہ سے نہیں تھی, آنکھیں بس برس جانے کے لئے ہمہ وقت تیار تھیں
مال سے ذرا پیچھے اذن نے گاڑی کی رفتار آہستہ کی تھی, ساتھ ہی طہٰ کو کال ملا لی
“کہاں ہو ؟؟؟” دوسری جانب کی بات سن کر اس نے ایک طرف کو گاڑی پارک کر دی, طہٰ کی گاڑی اس سے چند قدم آگے کھڑی تھی, زرقا کو وہ ڈرائیونگ سیٹ سے باہر نکلتا ہوا دکھائی دیا تھا
“چلو آؤ… ” اذن نیچے اتر گیا, طہٰ اپنی گاڑی کے پاس ہی کھڑا تھا
اذن نے نیچے اتر کر ڈکی میں سے اس کا بیگ باہر نکالا تھا, زرقا خاموشی سے نیچے اتر آئی, طہٰ چلتا ہوا ان دونوں کے قریب آ گیا…اس نے براؤن جیکیٹ کے ساتھ گلے میں براؤن ہی مفلر لپیٹا ہوا تھا
“آؤ زرقا… ” وہ اس کا بیگ گھسیٹ کر اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گیا تھا, زرقا دھیرے سے اذن کی طرف مڑی, آنکھیں پانیوں سے لبا لب بھری ہوئی تھیں
“جاؤ… یہ ضروری تو نہیں ہے کہ میاں بیوی کی جدائی ہمیشہ مار پیٹ اور گالم گلوچ کے بعد ہی طلاق کے تین بولوں پر ہو… ایسے بھی تو ممکن ہے” اذن نے اپنی جیکیٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالتے ہوئے کہا تھا, زرقا بمشکل اپنے آنسوؤں پر قابو پاتے ہوئے دھیرے سے طہٰ کی طرف پلٹ گئی, قدم من من کے ہو رہے تھے, طہٰ نے اس کے لئے فرنٹ ڈور کھول دیا
“مانا کے محبت بہت خوبصورت ہے.. لیکن یہ سب سے خوبصورت نہیں ہے زرقا… یہ میرا ماننا ہے… “اس کے ذہن پر اذن کی آواز لہرائی تھی
“میرا مشورہ ہے کہ ایک بار پلٹ کر ضرور دیکھنا… “
“کیوں ؟؟؟”
“ہو سکتا ہے تمہیں کچھ ایسا ملے جو محبت سے زیادہ خوبصورت ہو “
“مثلاً کیا… ؟؟؟”
“مثلاً میں… ” وہ زور سے مسکرایا تھا
زرقا نے ایک نظر طہٰ کو دیکھا… جب اس کی محبت ہی اتنی خوبصورت تھی تو اسے پلٹ کر دیکھنے کی ضرورت ہی کیا تھی…گاڑی کھڑی تھی… دروازہ کھلا تھا.. محبت چند پلوں کی دوری پر تھی
پھر آخر پلٹ کر دیکھنے کی ضرورت ہی کیا تھی
وہ پھر بھی پلٹ گئی
اذن گاڑی کے پاس کھڑا تھا… دونوں ہاتھ جیکیٹ کی جیبوں میں تھے
“میں حمنہ کو جسٹیفائی نہیں کرتا… کیونکہ وہ اگر ایک بار پلٹ کر دیکھ لیتیں تو انہیں وہ ملتا جو سب سے خوبصورت تھا… “
“کیا… ؟؟؟”
“عمر فاروق راۓ… ” اذن کی آواز کے ساتھ ہی اس کے آنسو نکل آۓ
بہت دھیرے سے اس نے طہٰ کی گاڑی کا کُھلا ہوا دروازہ بند کر دیا… قدم واپسی کے لئے پلٹ گئے تھے… طہٰ ششدر سا کھڑا رہ گیا
اذن اسے اپنی طرف آتے دیکھ رہا تھا, وہ اس کے قریب آ کھڑی ہوئی… اذن نے چپ چاپ فرنٹ ڈور کھول دیا… وہ اندر بیٹھ گئی, طہٰ نے خاموشی سے اس کا بیگ واپس گاڑی کے پاس رکھ دیا تھا
اذن نے اس کا بیگ دوبارہ اندر رکھا اور گاڑی سٹارٹ کر دی.. زرقا نے شیشے سے باہر نظر اٹھائی… وہ شیشے کے اس پار کھڑا تھا
لٹا ہوا…. ہارا ہوا… کس سے… ؟؟؟ محبت سے…زرقا راۓ سے
اذن نے گاڑی آگے بڑھا دی… وہ تہی داماں عاشق وہیں کھڑا رہ گیا
محبت کیسے اس کے پوروں کو چھو کر واپس پلٹ گئی تھی, بہت دیر تلک وہ وہاں سے ہل نہ سکا… یخ بستہ ہوا جسم کے آر پار ہو رہی تھی, دفعتاً سیل بجنے لگا…شازیہ کی کال تھی
ظاہر ہے وہ سب اس کے انتظار میں تھے, وہ تھکا سا واپس گاڑی کی طرف آ گیا, آنکھیں لمحہ بہ لمحہ پانیوں سے بھرتی جا رہی تھیں, اس نے چپ چاپ گاڑی گھر جانے والے راستے پر ڈال دی
حالانکہ سپیڈ زیادہ نہیں تھی, حالانکہ وہ بالکل اپنی سائیڈ پر تھا… پھر بھی… نہ جانے کیسے… ایک آستین سے آنکھیں رگڑتے ہوۓ وہ گاڑی بے قابو ہوئی تھی اور سامنے سے بالکل نارمل سی سپیڈ سے آتی اس بلیک کرولا سا ٹکرا گئی تھی
…………………………
گھر کے سامنے گاڑی رکتے ہی وہ نیچے اتر آئی اور سیدھی اپنے کمرے میں چلی گئی, اذن گاڑی اندر کر کے خاموشی سے اس کا بیگ اوپر لے آیا تھا, زرقا اسی حلیے میں بستر کے ایک کونے پہ بیٹھی تھی… اذن کو اندر آتے دیکھ کر اٹھ کھڑی ہوئی
“تم نے مجھے کہا تھا کہ… تم غاشیہ کو تو جسٹیفائی کر سکتے ہو… لیکن تم حمنہ کو جسٹیفائی نہیں کرتے…” وہ یکدم روتے ہوئے اس کے قریب آئی تھی
“…پھر تم مجھے کیسے جسٹیفائی کر سکتے ہو ؟؟؟” وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی, اذن نے بہت نرمی سے اس کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں کے پیالے میں بھرا تھا
“کیونکہ میں تم سے محبت کرتا ہوں…. ” وہ اقرار کر گیا تھا
“میں شاید کبھی نہ سمجھ پاتا کہ ابو آج تک حمنہ کو ان کے غلط فیصلے کے باوجود کس طرح جسٹیفائی کر لیتے ہیں.. ؟؟؟ اگر مجھے اپنی بیوی سے محبت نہ ہو گئی ہوتی… وہ حمنہ کو جسٹیفائی نہیں کرتے زرقا… وہ اپنی محبت کو جسٹیفائی کرتے ہیں…. میں بھی وہی کرتا… کیونکہ جن سے محبت کی جاۓ ان کی خوبیوں کے ساتھ ساتھ ان کی خامیاں بھی سر آنکھوں پر ہی رکھی جاتی ہیں” وہ کہتا چلا گیا تھا
“تو جب میں نے تمہیں پہلی رات کہا تھا کہ اذن اپنا حق وصول کر لو… تو تبھی کر لیتے… پورا سال کیوں لٹکے رہے ؟؟؟” وہ بولی
“کیونکہ تم اس رات رو رہی تھیں زرقا… تمہیں اس رات میری یا میرے ساتھ کی کوئی ضرورت نہیں تھی, میں تمہارا وجود تسخیر کر کے کیا کرتا… جب تمہارا دل ہی میرا نہیں تھا… ” وہ بولا
“میں مانتا ہوں مجھے شادی سے پہلے تم سے کوئی انسیت نہیں تھی… لیکن میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ مجھے پورا ایک سال اپنے ساتھ ایک ہی کمرے میں رینے والی میری بیوی سے بہت محبت ہے… اور میں اس محبت کی خاطر اسے ہمیشہ جسٹیفائی کرتا رہوں گا” اس نے دھیرے سے زرقا کا چہرہ خشک کیا تھا
“اذن ایم سوری… ایم سوری ” وہ دونوں بازو اس کے گرد باندھتے ہوئے, اپنا چہرہ اس کے سینے پر رکھ کر ایک بار پھر چھلک گئی تھی
“میں ہمیشہ تمہارے ساتھ ہوں… آج کے بعد میری زندگی میں تمہارے علاوہ کوئی دوسرا نہیں ہو گا… بس مجھے گزرے اس ایک سال کی بے وفائی معاف کر دو…. آگے کی پوری زندگی تمہاری وفادار رہوں گی” وہ کہتی چلی گئی تھی, اذن نے بہت نرمی سے اس کے بالوں میں انگلیاں چلائی تھیں, بہت محبت سے اس کا وجود اپنے بازؤؤں میں بھر لیا تھا
“آئی لو یو… ” اس کی سرگوشیاں زرقا کے کانوں میں گھلتی جا رہی تھیں
“اذن… ” کافی دیر بعد اس نے سر اٹھایا
“وہ نوٹسز…؟؟؟” اس نے پوچھا
“لے کے آؤ… “وہ بولا, زرقا نے دراز میں سے تینوں نوٹس نکالے تھے
“کھولو…” وہ بغلوں میں ہاتھ دیتے ہوئے بولا تھا, زرقا نے بستر پر بیٹھتے ہوئے پہلا لفافہ کھولا….پھر دوسرا… پھر تیسرا
“یہ تو… یہ تو خالی ہیں… ” اس نے اچنبھے سے اذن کی طرف دیکھا
“تمہاری ذہنی کیفیت کو مد نظر رکھتے ہوئے مجھے سو فیصد یقین تھا کہ محترمہ نے لفافے کھولے ہی نہیں ہوں گے… ” وہ مسکراتا ہوا اس کے مقابل آ بیٹھا
“میں تو کبھی کورٹ گیا ہی نہیں زرقا راۓ… آفس سے واپسی پر ایک خاکی لفافہ بند کر کے لے آتا تھا بس… ” وہ مسکراۓ جا رہا تھا
“فرض کرو… میں سچ مچ چلی جاتی تو ؟؟؟” زرقا نے اس کی طرف دیکھا
“تم چلی جاتیں… ؟؟؟ مجھے چھوڑ کر ؟؟؟” وہ درمیان میں پڑے لفافے ایک طرف کرتے ہوئے اس کے قریب ہوا تھا یوں کے زرقا کے چہرے کے رنگ اسے واضح نظر آنے لگے تھے
“بتاؤ… ؟؟؟ ” اس نے دو انگلیوں سے زرقا کا چہرہ اوپر اٹھایا تھا, وہ بول نہیں سکی
“تم کبھی نہیں جاتیں زرقا… تمہیں بس وقت چاہئے تھا یہ ماننے کے لئے کہ… تم اب میری ہو… وہ اور بات ہے کہ تم نے پورا سال لے لیا…وہ اور بات ہے کہ تم عین اس کی گاڑی کے پاس جا کر پلٹ آئیں” وہ مدھم سا مسکرایا تھا, زرقا نے سرخ پڑتے ہوۓ رخ موڑ لیا, اذن ہنستے ہوئے پیچھے کو گرا اور اسے اپنے بازو پر گراتے ہوئے اس کے گرد حلقہ تنگ کر گیا
“اچھا چھوڑو… ” وہ ہولے سے کسمسائی تھی
“بالکل بھی نہیں… پورا ایک سال ہو گیا ہے مجھے امی اور اسماء باجی کے سوالوں کا سامنا کرتے ہوئے… کہ شادی کے ایک سال بعد بھی اذن فاروق راۓ کے کندھے سے کوئی بچہ کیوں نہیں لٹک رہا… ” وہ ہنستے ہوئے اس کے اوپر جھک آیا تھا, زرقا مارے شرم کے بس مسکراتی چلی گئی
“انہوں نے آج صبح ہی مجھے الٹی میٹم دیا ہے کہ اسراء کے نکاح کے بعد وہ ہم دونوں کو بذات خود ہسپتال لیکر جائیں گی… سمجھیں” وہ کہتا جا رہا تھا
“سو تب تک کوئی بندوبست کرنا ہے کہ نہیں…. “وہ پوری طرح اس پر حاوی ہوا تھا
“اذن… تم پندرہ دن میں کیا کر لو گے ؟؟” وہ بس گھٹی گھٹی سی ہنستی جا رہی تھی
“Don’t underestimate me ok… “
اس نے جیکیٹ اتارتے ہوئے زرقا کے شال بھی صوفے پر اچھال دی تھی
“اذن آ بھی گیا… ” نیچے سے عمر فاروق کی حیران سی آواز سنائی دی تھی
“اذن… دروازہ کھلا ہے” زرقا کے کہتے ہی اذن دوڑ کر دروازے تک گیا تھا
“جی ابو… “
“او تو آ بھی گیا… ” انہوں نے پوچھا
“ہاں جی… زرقا کو چھینکیں آۓ جا رہی تھیں, اسلیے…جلدی آ گئے ” وہ مسکراہٹ دباۓ دروازہ بند کر گیا, زرقا ہنستے ہوئے کمبل میں دبک گئی تھی, اذن نے اپنی شرٹ کے بٹن کھولتے ہوئے لائیٹ آف کی تھی
………………………….
ایمرجنسی پر موجود نرس نے اس کی پٹی کر دی تھی, ماتھے کے کونے پر زخم آیا تھا اور ایک دو خراشیں آئی تھیں
“مجھے یہاں کون لایا ؟؟؟” اس نے پوچھا
“میں لایا ہوں… ” نرس کے برابر میں کھڑا وہ شاندار سی پرسنیلٹی کا مالک کوئی ڈاکٹر ہی تھا… گلے میں سٹیٹھو سکوپ لٹک رہی تھی اور کندھوں پر سفید اوور آل پہنا ہوا تھا
“تھینک یو… ” وہ پٹی کروا کر کھڑا ہو گیا
“ڈاکٹر شایان احمد… ” وہ مسکراتے ہوئے بولا اور ہاتھ بڑھا دیا, طہٰ نے ایک بار پھر شکریے کے ساتھ اس سے ہاتھ ملایا تھا
“چالیس کی سپیڈ پر بھی گاڑی ٹھوک دی… خیر تھی ؟؟؟” شایان نے پوچھا, وہ اسے سیدھا اپنے ہسپتال ہی لے آیا تھا
“بس.. دھیان کہیں اور تھا” وہ بولا
“آؤ… “شایان اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا تھا, وہ اسے اپنے آفس میں لے آیا, دور کہیں اس کی چھٹی حس جیسے اسے کہہ رہی تھی کہ وہ لڑکا محبت میں بری طرح ہار کر بیٹھا تھا
“چاۓ پیو گے ؟؟؟” اس نے پوچھا
“نو سر… تھینکس” طہٰ نے کہا
مجھے پوچھنے کا کوئی حق تو نہیں ہے لیکن…. پھر بھی… ایک مسیحا ہونے کے ناطے پوچھ رہا ہوں… کیا ہوا ہے ؟؟؟” شایان نے گلے سے سٹیتھ اتارتے ہوئے پوچھا, طہٰ بول نہ سکا
“مات ہو گئی ؟؟؟” شایان نے خود ہی پوچھا, وہ بس سر جھکا گیا تھا
“وہ خوش ہے ؟؟؟” شایان کے کہتے ہی طہٰ نے سر اٹھایا تھا
“کیا مطلب ؟؟؟”
“مطلب یہ کہ وہ تمہیں مات دے کر خوش ہے ؟؟؟” اس نے پھر پوچھا
“ہاں…” حالانکہ طہٰ نے اسے مسکراتے ہوئے نہیں دیکھا تھا لیکن اگر وہ پلٹ گئی تھی… تو صرف اسلیے کہ وہ اذن کے ساتھ خوش تھی
“جس کے ساتھ خوش ہے وہ تم جیسا ہے یا… تم سے بہتر ہے ؟؟؟” اس نے پھر پوچھا تھا
“مجھ سے بہتر ہے… ” طہٰ اقرار کر گیا تھا
“تو پھر اتنے غمگین کیوں ہو ؟؟؟ تمہیں تو مسکرا کر اسے الوداع کہنا چاہئے تھا… دنیا میں اس سے زیادہ آسودگی والی بات بھی کوئی ہو گی کہ ہماری محبت کسی ہم سے بہتر کے پہلو میں خوش ہے… ہنستی ہے… مسکراتی ہے” وہ کہتا چلا گیا
“دل کیا کیا کروں ؟؟؟” وہ بولا
“سنبھل جاۓ گا… جب اسے اپنی زندگی میں خوش ہوتے, ہنستے مسکراتے دیکھے گا تو خود ہی سنبھل جاۓ گا” شایان نے کہا
“نام کیا ہے تمہارا ؟؟؟”
“طہٰ ملک… “
“دیکھو طہٰ… میرا ایمان ہے کہ اپنی محبت کو کسی ایسے کے سپرد ہر گز مت کرو جسے اس کی رتی برابر بھی پرواہ نہ ہو… قدر نہ ہو, جس کے ساتھ بس وہ ہمیشہ سسکتی ہی نظر آۓ… تب چھیننی بھی پڑے تو چھین لو لیکن… اگر تمہاری محبت کا دوسرا دعویدار تم سے زیادہ بہتر, تم سے زیادہ برتر اور تم سے زیادہ اچھا ہے تو چپ چاپ قدم پیچھے ہٹا لو… کیونکہ محبت ہمیشہ آسودہ ہی اچھی لگتی ہے… بھلے ہی کسی اور کے پہلو میں ہو” وہ کہتا چلا گیا, طہٰ ایک لمبی سانس بھرتے ہوئے کھڑا ہو گیا
“تھینک یو سر… مجھے اجازت دیں” وہ بولا
“میں چھوڑ آؤں ؟؟؟” شایان نے پوچھا
“نہیں… میں خود ہی چلا جاؤں گا” وہ مدھم سا مسکرایا تھا, پھر اس سے ہاتھ ملا کر باہر نکل گیا, شایان واپس اپنی کرسی پر بیٹھ گیا, تبھی اس کی نظر باہر کو گئی, ڈاکٹر زخرف ملک کی گاڑی عین ہسپتال کے سامنے آ کر رکی تھی, پھر اس نے ڈاکٹر ماریہ کو کاریڈور میں بھاگتے دیکھا, زخرف نے اسے دیکھ کر زور سے ہارن بجایا تھا, وہ ہنستی ہوئی فرنٹ ڈور کھول کر اندر بیٹھ گئی… زخرف مسکراتے ہوئے اسے کچھ کہہ رہا تھا… پھر طگاڑی بڑھا لے گیا تھا
واقعی… محبت آسودہ ہی اچھی لگتی ہے
اسے بھی ڈاکٹر ماریہ خان ڈاکٹر زخرف ملک کے پہلو میں ہنستی ہوئی ہی اچھی لگتی تھی
……………………………
وہ سرخ عروسی جوڑا پہنے اسی کمرے کی چارپائی پر بیٹھی تھی, آنکھیں ہر دوسرے لمحے چھلک جاتی تھیں, تھوڑی ہی دیر میں اس کا اور صفوان کا نکاح ہونے والا تھا
ایک وہ تھا… جو خدا نے اس کے لئے چنا تھا… سب سے بہترین جسے وہ اپنے چنے ہوئے کی خاطر ٹھوکر مار گئی تھی… تو خدا نے بھی پھر اس کا مقدر ہی بدل دیا تھا, اسے وہی دے دیا تھا جو شاید اسی کے لئے بنا تھا
ایسے ہی ہوتا ہے… رب ہمارے نصیب میں ہمیشہ بہترین ہی لکھتا ہے… یہ ہم ہی ہیں جو اپنے لئے شر مانگ لیتے ہیں… اور پھر رب ہمارے مقدر کا وہ خیر شر سے بدل دیتا ہے… وہ ہمیں وہی دے دیتا ہے جس کے لئے ہم ضد کرتے ہیں…
اسے بھی وہی مل گیا تھا… جو اس نے ضد کر کے مانگا تھا
“شافع میں تمہارے بچوں کی ماں ہوں… بھلے ہی اپنی بیوی کو معاف نہ کرو, اپنے بچوں کی ماں کو ہی معاف کر دو… پلیز… ” اس کی سماعتوں میں اس کی اپنی ہی آواز گونج گئی, ذہن کے پردے پر وہ منظر تازہ ہو گیا تھا
شافع پلٹ کر اس کی طرف آیا تھا
“فرح… میں تمہیں ہر چیز معاف کر سکتا ہوں, تمہاری بےوفائی, تمہاری خیانت, تمہارا جرم… سب کچھ, شاید وہ رات بھی جب تم مجھے ٹھکرا کر چلی گئیں تھیں, شاید وہ رات بھی جب تم نے میرا حق کسی اور کو دے دیا… لیکن میں تمہیں وہ رات کبھی معاف نہیں کروں گا جب میرا تین سالہ بچہ ماں کے لئے بلک رہا تھا اور اس کی ماں کسی نا محرم کے پہلو میں لیٹی ہوئی تھی… ” اس نے چار سالوں میں پہلی بار شافع کے ماتھے پر غصے کے بل دیکھے تھے
“تمہیں ایک بے وفا بیوی کے طور پر آج اور ابھی معاف کر دیا فرح… لیکن تمہیں ایک ماں کے طور پر ساری زندگی معاف نہیں کروں گا… میرے چھوٹے چھوٹے بچے جنہیں ماں کے علاوہ شاید کوئی لفظ کہنا ہی نا آتا ہوں… تم نے ان سے وہ لفظ ہی چھین لیا…ساری عمر… ساری عمر مجھے اس بات کا افسوس رہے گا کہ تم میرے بچوں کی ماں تھیں… ” شافع کی آواز اس کے کانوں میں گونجتی چلی گئی
“فرح… مولوی صاحب آ گئے ہیں” راشدہ نے آ کر کہا تھا, فرح کے آنسو نکل آۓ, کچھ ہی دیر میں اسے صفوان کے برابر بٹھا دیا گیا
اب وہی اس کا نصیب تھا… اچھا یا برا… جیسا بھی تھا
شام کے چار بج رہے تھے جب سیٹھ بابر نے اسے صفوان کے ہمراہ رخصت کر دیا تھا
“فرح… تو اگر اب بھی نہ سدھری تو میں اپنی ذات پر لکھے گناہوں میں تیرا قتل بھی شامل کر لوں گا” سیٹھ بابر نے اس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے بس اتنا ہی کہا تھا
………………………….
دروازہ دھڑدھڑانے کی آواز پر اذن کی آنکھ کھلی تھی, زرقا کے مومی سے وجود کے ٹکڑے ابھی تک اس کے آس پاس بکھرے ہوئے تھے
“کون… ؟؟؟” اس نے نیند میں ڈوبی ہوئی آواز میں پوچھا تھا
“اذن کوئی تم سے ملنے آیا ہے… ” اسراء کی آواز تھی
“آ رہا ہوں… “وہ کہتا ہوا زرقا کی طرف مڑا جو کروٹ بدل گئی تھی, بڑی مشکلوں سے اس کے بکھرے بکھرے سے وجود پر سے نظریں ہٹائی تھیں, شرٹ پہنتے ہوۓ ہوۓ وہ نیچے آ گیا
طہٰ ڈرائینگ روم میں بیٹھا تھا, اسے دیکھ کر اٹھ کھڑا ہوا, اس کی سرخ آنکھیں گواہی دے رہی تھیں کہ وہ ساری رات آنکھوں میں کاٹ کر آیا تھا
مجھے بس پانچ منٹ تمہاری بیوی سے بات کرنی ہے… اس کے بعد کبھی پلٹ نہیں دیکھوں گا”وہ بولا, کوئی اور ہوتا تو شاید اذن اس کی بات نا مانتا…لیکن… طہٰ کو ایک نظر دیکھتے ہوئے وہ زرقا کو بلا لایا تھا, وہ رات والی شال ہی کندھوں کے گرد لپیٹے ہوۓ تھی
“کیا کہنا ہے ؟؟؟” وہ اس کے عین سامنے آ کھڑی ہوئی, اذن نے احتیاطاً دروازہ بند کر دیا تھا
“مجھے صرف اتنا بتا دو کہ مجھ میں… اور اس میں… فرق کیا ہے جو اسے چن لیا ہے تم نے ؟؟؟” وہ بولا
“یہ میرا شوہر ہے… ” وہ سکون سے بولی تھی
“حادثاتی طور پر بن گیا نا… ورنہ آج اس کی جگہ میں ہوتا ” وہ بولا
“لیکن تم نہیں ہو… “
“تمہاری وجہ سے نہیں ہوں… تمہاری بے وفائی کی وجہ سے نہیں ہوں” وہ زور سے بولا
“اگر ایک بیوی کی شوہر سے وفاداری کو تم بےوفائی گردانتے ہو تو ایسے ہی ٹھیک ہے… میں بے وفا ہی سہی” وہ بولی
“تم انتہائی دھوکے باز, خود غرض, بے رحم اور پتھر دل بھی ہو” وہ سلگ اٹھا تھا
“ہاں ٹھیک ہے… ” زرقا نے کہا
زرقا میں کون ہوں ؟؟؟” اسے رونا آیا تھا
“پرانا دوست… پرانی محبت… پرانی یاد” وہ کہتی چلی گئی, طہٰ بڑا زخمی سا مسکرایا تھا
“بڑی جلدی پرانا کر دیا تم نے مجھے ” وہ بولا
“طہٰ… خدا کی قسم میں ابھی سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر تمہارے ساتھ چلی جاؤں اگر مجھے اس بات کا ایک فیصد بھی شک ہو کہ یہ شخص آنیوالی زندگی میں کبھی میری آنکھ میں آنسو لا سکتا ہے, کبھی مجھے تکلیف دے سکتا ہے, کبھی مجھ پر غصہ ہو سکتا ہے, کبھی مجھے تنگدست کر سکتا ہے, کبھی مجھے تھپڑ مار سکتا ہے, کبھی مجھ پر ظلم کر سکتا ہے…” وہ اذن کا ہاتھ تھامے کہتی چلی گئی تھی
“لیکن…جانتے ہو یہ اس شخص کا خون ہے جس کے خمیر میں محبت کے سوا اور کچھ نہیں ہے… میں آج تمہارے ساتھ چلی جاؤں لیکن… کیا میری اور تمہاری محبت ہی سب کچھ ہے طہٰ… ؟؟؟ اس لمحے میرے برابر کھڑا یہ شخص… اس کا مان, اس کی عزت, اس کی غیرت, اس کی وفاداری, اس کا خلوص, اس کی محبت… یہ سب کچھ نہیں…” اس نے پوچھا, طہٰ نے ایک نظر اس کے ساتھ کھڑے اذن کو دیکھا تھا
“سالے مجھے پتہ تھا تو کہیں نا کہیں ڈنڈی ضرور مارے گا… اور تو نے مار دی, مجھے سو فیصد یقین ہے تو نے اسے نوٹس کے نام پر کچھ بھی نہیں دیا ہو گا…ٹھیک ہے زرقا راۓ… تمہیں تمہارا یہ اذن فاروق راۓ مبارک ہو, رہو اس کے ساتھ… اس کے بچے پیدا کرو اور ساری عمر انہیں پالتی رہنا… تم سے زیادہ اچھی, تم سے زیادہ خوبصورت اور تم سے زیادہ امیر لڑکی سے شادی کروں گا میں…دیکھ لینا” طہٰ کو یکلخت ہی غصہ آیا تھا اور اس کی آخری بات پر زرقا کو بھی تپ چڑھ گئی
“وہ بھی آ کر تمہارے بچے ہی پیدا کرے گی…. اور ساری عمر انہیں پالتی رہے گی… دنیا کی ساری عورتیں یہ ہی کرتی ہیں طہٰ ملک…” وہ زور سے بولی تھی, طہٰ ان دونوں کو قہر بار نظروں سے گھورتا ہوا باہر نکل گیا, دروازہ دھڑام سے بند ہوا تھا
“ایک یہ رہ گیا تھا مجھے بچے کا طعنہ دینے والا… یہ بھی دے گیا, زرقا میں بتا رہا ہوں اگلی سردیاں آنے تک ان سب کے منہ بند کروا دینا پلیز” اذن کی اس نرالی ٹینشن پر زرقا بس منہ دباۓ مسکراتی چلی گئی تھی
…………………………..
دروازے پر دستک ہوئی تھی… شافع نے دروازہ کھولا
سیٹھ بابر آیا تھا
“کب ہے تیرا اور رافع کا نکاح ؟؟؟” اس نے پوچھا, شافع نے اسے بس اپنے اور رافع کے رشتے طے ہو جانے کا ہی بتایا تھا
“پرسوں… “
“رافع کہاں ہے ؟؟؟” شافع نے اسے بھی بلوا لیا, وہ بس مارے باندھے ہی اس کے سامنے کھڑا ہوا تھا, روبینہ ایک طرف خاموش بیٹھی تھیں
“یہ رکھ لو… ” اس نے ایک چیک شافع کے سامنے رکھا تھا
“اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے… “رافع تڑخ گیا
“پھر بھی لے لو… باپ تو ہوں نا تیرا…” بابر نے کہا
“اس بات کا افسوس مجھے ساری عمر رہے گا… ” رافع دروازے سے ہی واپس پلٹ گیا تھا
“روبینہ…. ” اس نے دھیرے سے پکارا
“معاف کر دینا… ” دھوئیں کے مرغولوں میں روبینہ کو اس کا وہی سپاٹ سا چہرہ نظر آیا تھا, وہ کچھ بھی نہ بولیں
“میں نے فرح کا نکاح کر دیا ہے… اسی لڑکے سے, تو اور رافع… دونوں مجھے بہت عزیز ہو, ہو سکے تو مجھے معاف کر دینا… وہ چھوٹا بھائی ہے تیرا… میں جانتا ہوں وہ تیری بہت مانتا ہے… اسے بھی کہیں کہ مجھے معاف کر دے… ” وہ کہتا چلا گیا, پھر کچھ دیر بعد اٹھ کھڑا ہوا
“خوش رہو… ” دھیرے سے شافع کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے وہ باہر نکل گیا تھا… شافع نے اسے ایک بار بھی اپنے نکاح میں شامل ہونے کی دعوت نہ دی… اس کا نا آنا ہی بہتر تھا
…………………………..
رات کے نو بج رہے تھے, ان سب نے ڈنر اکٹھے ہی کیا تھا… ناشیہ کے نکاح میں بس چار دن باقی رہ گئے تھے, تیمور ملک نے اسی شام کو کال کرکے فرحان کے رشتے کو انکار کر دیا تھا
وہ فیصلہ تو بہت آسان ہوتا ہے جب آپشنز میں ایک غلط اور ایک درست ہو… فیصلہ تو تب مشکل ہوتا ہے جب آپشنز میں دو ہوں اور دونوں ہی بہتر ہوں… تیمور ملک نے اس بار فیصلے کا سارا اختیار ناشیہ کو ہی سونپ دیا تھا… زندگی اس کی تھی… اسی نے گزارنی تھی اور وہ یہ زندگی کس کے ساتھ گزارنا چاہتی ہے اس فیصلے کا حق بھی صرف اسی کو تھا
شازیہ, ناشیہ کے نکاح کا جوڑا بھی خرید لائی تھی, روبینہ نے تیمور ملک سے ریکوئسٹ کر کے ان دونوں بھائیوں کے نکاح کا فنکشن اکٹھا ہی رکھو لیا تھا
اس رات غاشیہ اور حدید بھی آۓ ہوۓ تھے
“طہٰ کہاں ہے ؟؟؟” حدید نے پوچھا تھا
“اپنے کمرے میں… ” شازیہ نے کہا
“خیر تو ہے اسے…. اتنی سر شام تو وہ اپنے کمرے میں کبھی بھی نہیں گھستا… یہاں لاؤنج میں ہی معاذ کے ساتھ گھلتا رہتا ہے” حدید نے مسکراتے ہوئے کہا تھا, غاشیہ نے شازیہ کی طرف دیکھا
“کچھ نہیں بنا ؟؟؟” اس نے اشارے سے پوچھا تھا, شازیہ نے نفی میں سر ہلا دیا, غاشیہ کھانا کھا کر اوپر اس کے کمرے میں آئی تھی
“او ہیرو… کیا ہوا ؟؟” غاشیہ اس کے بستر پر چڑھ گئی, وہ کمبل تانے لیٹا تھا, غاشیہ اس کے ساتھ ہی کمبل میں گھس گئی
“کیا آفت ہے تمہیں ؟؟؟” وہ سڑا پڑا تھا
“ایسے ماتم منانے کا کوئی فائدہ ہے بھلا ؟؟؟ جگر والوں کی طرح ہنس کر محبت کی چوٹ سہو” وہ بولی
“میں جگر والا نہیں ہوں” وہ بولا
“چلو اللہ تمہیں بہت جلد جگر گوشوں والا بناۓ… آمین ” وہ بولی, طہٰ نے اسے گھور کر دیکھا تھا
“اچھا چلو بس کرو… جو ہو گیا بہتر ہو گیا”وہ بولی
“تم ہمیشہ اسی کی سائیڈ لینا… ” طہٰ نے کہا
“وہ بھی اچھا ہے طہٰ… شائد وہ زرقا کے حق میں تم سے زیادہ بہتر ہو… ” غاشیہ نے اس کے بالوں میں انگلیاں چلائی تھیں
“چلو اٹھو… وہ معاذ تمہیں بلا رہا ہے… ” غاشیہ نے اس کا کمبل کھینچتے ہوۓ کہا تھا
……………………….
دو دن بعد اسراء کا نکاح تھا, اسماء بھی بچوں سمیت آ گئی تھی, اسراء نے اپنے لیے میرون رنگ کی ہلکے پھلکے سے کام والی گھیر دار پشواز خریدی تھی, لہنگے کو اس نے صاف انکار کر دیا تھا, عمر فاروق کے حد درجہ اصرار پر بھی شافع جہیز کے نام پر کچھ بھی لینے کو تیار نہیں ہوا تھا, اس نے اسراء کے آنے سے پہلے ہی اپنا کمرہ اور باقی گھر فرنشڈ کروا لیا تھا, نچلا پورشن اس کے پاس تھا اور اوپر والا رافع کے پاس… ظاہر ہے رافع بھی بڑے بھائی کے نقش قدم پر ہی تھا
اس رات بھی وہ سب ٹی لاؤنج میں بیٹھے تھے, اسماء اور زرقا, اسراء کے کپڑے سیٹ کر رہی تھیں, اذن اور فاروق راۓ مہمانوں کی لسٹ فائنل کررہے تھے
” ارے… کوئی میری بچی کو فون کرو… وہ کب آۓ گی؟؟؟” آمنہ کو انیتا یاد آئی تھی
“اسراء… اسے فون کر جلدی… ” آمنہ نے اسراء کو آواز دی تھی, دوسری بیل پر اس نے فون اٹھا لیا
“انیتا… بچے کیا حال ہے ؟؟؟” آمنہ نے پوچھا
“ٹھیک ہوں…”وہ بیزار سے آواز میں بولی
“اب کیا ہوا ؟؟؟” انہوں نے پوچھا
“کچھ نہیں… “
“تم دونوں نے کیا مہمانوں کی طرح عین وقت پر آنا ہے… ؟؟؟” آمنہ نے پوچھا, اسراء نے سپیکر آن کر دیا تھا
“امی میں کیا کروں… ؟؟؟ یہ جو man who was a hospital ہے اسے ایک ہائی نیک, ایک جرسی اور ایک لیدر جیکیٹ پہننے کے باوجود کل سے ٹھنڈ لگی ہوئی ہے, ساری رات الٹیاں کرتا رہا ہے, اب بھی واش روم میں گھسا ہوا ہے… ” انیتا بیزار سی فون کان سے لگاۓ بستر پر بیٹھی تھی
ارمغان کی آ آ کی آوازیں فون سے باہر تک سنائی دے رہی تھیں
“انیتا… میرا بچہ اس بیمار آدم کو جیسے تیسے گھسیٹ کر یہاں لے آ… میں خود ہی اس کا علاج کروا لوں گا…مجھے پتہ ہے اسے کیسے ہینڈل کرنا ہے” عمر فاروق نے ہنستے ہوئے کہا تھا
“یہ لڑکا کیوں اتنا بیمار رہتا ہے… ؟؟؟” آمنہ پریشان ہو گئیں
“آمنہ وہ شروع سے ہی ایسا ہے… سردیاں ایسے ہی مشکل گزرتی ہیں اس کی” عمر فاروق نے کہا
“خالہ کو میرا میسیج بھی دے دو… ” وہ نڈھال سا واش روم سے باہر نکلا اور اس کے پاس ہی بستر پر بے دم سا ہو کر گر گیا
“امی.. یہ اپنے چھوٹے جوائی راجہ کی فرمائش سن لیں… یہ لو خود ہی کہہ دو” انیتا نے فون اس کے آگے کر دیا
“خالہ جان… “
“ہاں بچے… ؟؟؟”
“وہ… میں یہ کہہ رہا تھا… کہ میرا ولیمہ بھی رہتا ہے” وہ دھیرے سے بولا, اس سے پہلے کہ آمنہ کچھ کہتیں, اسماء نے ان کے ہاتھ سے موبائل لے لیا
“او ہیرو… شہزادہ سلیم کے جانشین… تیرا ولیمہ امی نے نہیں کروانا… وہ تو میں کرواؤں گی اور ایسا کرواؤں گی کہ تو یاد رکھے گا ساری عمر… ” وہ اپنی ہنسی دباتے ہوۓ کہتی چلی گئی, ارمغان اور انیتا بھی دھیمے انداز سے مسکرانے لگے تھے
“چل بس کر دے…. “آمنہ نے اس کے ہاتھ سے فون کھینچا
“دھیان سے آنا ارمغان ملک… اپنا سارا بندوبست کر کے آنا… چھوڑوں گی نہیں میں تمہیں… شاہ رخ نا ہو تو” وہ مسلسل بیک گراؤنڈ میں بولے جا رہی تھی
“ارمغان بچے شافع کے ساتھ ہی اس کے چھوٹے بھائی کا بھی نکاح ہے… تو اس کی امی نے فنکشن ایکساتھ رکھوایا ہوا ہے, تیرا ولیمہ میں اسراء کے نکاح کے بعد کر دوں گی”وہ بولیں
“او یار تو آ جا… ابو اسراء کے نکاح سے اگلے دن ارمغان کا ولیمہ بھی کر ہی دیتے ہیں” اذن نے ہنستے ہوئے کہا تھا
“ہم لوگ شام تک آ جائیں گے خالہ… میں گاڑی ٹھیک کروا لوں بس…”ارمغان نے کہا
“کوئی بیک اپ پلان بنا کر آنا ارمغان ملک…. ” اسماء نے پھر تان اٹھائی تھی
“میرے ہوتے میرے شوہر کو کسی بیک اپ پلان کی ضرورت نہیں ہے… سمجھیں… ” انیتا نے ہنستے ہوئے کال کاٹ دی تھی
“بڑا شوق ہے تمہیں اپنا ولیمہ کروانے کا… ” اس نے گھور کر ارمغان کو دیکھا
“اچھا…. میری سہاگ رات والی فیلینگ کا کیا… ؟؟” وہ بولا
“تم مرد چاہے دس بچوں کے باپ بن جاؤ… سہاگ رات والی فیلینگ تب بھی ختم نہیں ہوتی… ” انیتا نے اسے زور سے تکیہ مارا تھا, وہ بس ہنستا ہوا اس پر حاوی ہوتا چلا گیا تھا
…………………………..
آج ان دونوں بھائیوں کا نکاح تھا…فنکشن جوائنٹ ہی رکھا گیا تھا, شافع اپنے نکاح کے فنکشن کے لئے اپنے دونوں بچوں کے کپڑے بھی خود ہی خرید کر لایا تھا, وہ خود زنک کلر کا تھری پیس پہنے ہوۓ تھا, رافع نے چاکلیٹ براؤن تھری پیس پہنا ہوا تھا… گزرے ترپن سالوں میں روبینہ کے چہرے پر آج آسودگی نظر آئی تھی, وہ اپنے بیٹوں کی خوشیوں میں مگن ہو کر جیسے ساری بیماریاں ہی بھول گئی تھیں
ملک ہاؤس میں بھی ایک افراتفری کا سا عالم تھا… طہٰ ملک تو پچھلے ایک گھنٹے سے اپنے کمرے کا دروازہ بند کئے نہانے میں مصروف تھا, شازیہ نے سب سے پہلے تیار ہو کر معاذ کو بھی تیار کر دیا تھا, ناشیہ کو تیار کرنے کے لئے بیوٹیشن آئی ہوئی تھی
“شازیہ … یہ کوئی ناشیہ کے لئے دے کر گیا ہے” خالد نے ایک پارسل اسے پکڑایا تھا
“یہ کیا ہے.. ؟؟”
“پتہ نہیں… میں ذرا ہال جا رہا ہوں, تم اور ناشیہ تایا جان کے ساتھ آ جانا” وہ کہتا ہوا باہر نکل گیا
“ناشیہ… یہ پارسل آیا ہے… ” شازیہ اس کے کمرے میں آئی تھی
“کیا ہے یہ.. ؟؟؟”
“پتہ نہیں…. کھولوں ؟؟؟”
“کھولیں… ” وہ بولی, شازیہ نے ڈبہ کھولا تو س میں سیاہ اور سلور امتزاج کی بہت خوبصورت سی میکسی تھی, ناشیہ دم بخود رہ گئی
“اگر تم میری ہو جاتیں تو میں تمہارے لیے سیاہ رنگ کا جوڑا خریدتا… مجھے تم سیاہ رنگ میں بہت اچھی لگتی ہو” وہ اسے رافع نے ہی بھجوایا تھا
“یہ… رافع نے بھیجا ہے” وہ جھینپ کر بولی تھی
“اب یہ پہننا ہے…؟؟؟” شازیہ نے پوچھا
“پہننا تو اس کے لئے ہے نا ؟؟؟” ناشیہ نے کہا, شازیہ بس ہنستی ہوئی باہر نکل گئی تھی, کچھ دیر بعد وہ اور تیمور ملک بھی ہال کے لئے نکل گئے, معاذ کو بھی وہ ساتھ لے گئی تھی, ناشیہ, طہٰ کے ذمے لگا دی گئی تھی
کچھ ہی دیر بعد غاشیہ اور حدید بھی پہنچ گئے… ایک بچہ حدید نے اٹھا رکھا تھا اور ایک غاشیہ نے…. اب تو دونوں بیٹھنے بھی لگے تھے
عمر فاروق اور آمنہ پہلے ہی ہال چلے گئے تھے, اسراء اور زرقا کو اذن نے لیکر آنا تھا, اسماء اور صمد اپنی گاڑی میں آۓ تھے, انیتا اور ارمغان اپنی گاڑی میں تھے
شافع, رافع , روبینہ اور بچوں کو لیکر اپنی ہی گاڑی میں ہال پہنچا تھا, سارہ اپنے باپ کی گود میں ہی چڑھی ہوئی تھی, وہ سوا سال کی بچی اپنے باپ سے بہت زیادہ اٹیچ ہو گئی تھی
کچھ ہی دیر میں دونوں دلہنیں بھی پہنچ گئیں… طہٰ ملک کے صبر کا بھی کوئی انوکھا ہی امتحان تھا, اس کی اور اذن کی گاڑی ایک ساتھ ہی ہال کی اینٹرینس میں داخل ہوئی تھی, اس کے ساتھ فرنٹ سیٹ پر بیٹھی زرقا راۓ کو دیکھ کر اس کا حلق تک کڑوا ہو گیا تھا, وہ چپ چاپ ناشیہ کو اپنے حصار میں لئے اندر لے آیا, اسراء کو زرقا نے تھام رکھا تھا
سٹیج بالکل تیار تھا
میرون پشواز میں میرون شیڈ میں میک اپ کئے انتہائی خوبصورت سی اسراء راۓ…. اور
سیاہ اور سلور میکسی میں سرخ شیڈ کا میک اپ کئے اتنی ہی خوبصورت ناشیہ ملک
روبینہ کی آنکھوں میں فرط جذبات سے بار بار پانی آ رہا تھا, دل سے بار بار دعائیں نکل رہی تھیں
“شافع انصاری… ” اپنے پیچھے ارمغان کی آواز سن کر وہ پلٹا تھا
“کیسا ہے دوست ؟؟؟” شافع اس سے گلے ملتے ہوئے بولا
“مبارک ہو تجھے… باالآخر محبت مل ہی گئی” ارمغان نے کہا
“تجھے بھی… ” وہ ہنستے ہوئے بولا تھا
اسماء, روبینہ کے پاس کھڑی تھی جب اس نے غاشیہ کو دیکھا… وہ اپنی بیٹی کو گود میں اٹھاۓ ہوۓ تھی اس لمحے جسقدر آسودگی غاشیہ کے چہرے پر تھی… اسماء بس دیکھتی رہ گئی
واقعی… اگر اس کے نصیب میں لکھی خوشیاں خدا کی عطا کردہ تھیں تو وہ ہوتی کون تھیں انہیں چھیننے والی… ؟؟؟ مجرم تو وہ اس کی تھی
“رہنے دو اسماء… تم اس سے بدلے کا تھپڑ کھا چکی ہو” دل میں کہیں انا نے سر اٹھایا تھا, وہ اسے دیکھتی رہی, پھر دھیرے سے اس کی طرف بڑھی
“سنو… ” غاشیہ مسکراتے ہوئے اس کی طرف پلٹی تھی
“I am sorry… “
اسماء ملک نے کہہ ہی دیا تھا, غاشیہ بس اسے دیکھتی رہ گئی… کیا تھا اگر یہ سوری وہ اس دن کہہ دیتی ؟؟؟ شاید اس لمحے وہ غاشیہ کے سامنے کچھ زیادہ معتبر ہوتی
“کوئی بات نہیں… میرا شوہر, میرے بچے… میرا گھر سلامت ہے…. یہ ہی بہت ہے”غاشیہ نے دھیرے سے کہا تھا
“پکڑ لیا…. پکڑ لیا ہیرو کو” اسماء نے یکدم ہی اس کا کان پکڑا تھا, ارمغان بلبلا کر رہ گیا
“میرا دل کرتا ہے ارمغان کہ میرا جوتا ہو اور تیرا سر ہو… اور گنتی کبھی ختم نا ہو… ” وہ مسلسل اس کا کان مروڑ رہی تھی
“قصور سارا میرا تو نہیں ہے… ” وہ بولا
“ہاں ہاں… تو تو ہیرو بن گیا, مجھے ولن بنا دیا” اسماء نے کہا
“انیتا…. ” اس نے اپنے ازلی بے بس لحجے میں اسے آواز دی تھی
“اب بیوی کو آوازیں کیوں دے رہا ہے” اسماء نے اسے کان سے پکڑے پکڑے ہی جھنجھوڑا تھا, انیتا نے اس کی پکار سن لی تھی
“امی دیکھ لیں اب… اس بیچارے کے تو پہلے ہی پرزے ڈھیلے ہیں, اب چار دن کان کو لیکر روتا رہے گا” انیتا نے آمنہ سے کہا تھا, انہوں نے بمشکل اسے اسماء کے چنگل سے چھڑوایا
کچھ ہی دیر میں دونوں کا نکاح ہو گیا… سب بار باری ان دونوں جوڑوں کو مبارکباد دے رہے تھے
“دیکھو ذرا… وہ بڑا اچھا ہے جس کے برابر میں اتنی خوش ہو کر کھڑی ہے” طہٰ کی نظر پھر سے زرقا پر پڑ گئی تھی
“اچھا تو ہے… ” غاشیہ اس کے برابر میں ہی کھڑی تھی
“تم میرے ساتھ ہو یا اذن کے ساتھ ؟؟؟” طہٰ کو تاؤ آ گیا
“میں زرقا کے ساتھ ہوں… ” غاشیہ نے مسکراتے ہوئے اس کے کندھے پر ہاتھ مارا تھا
کھانا ختم ہوتے ہی رخصتی کا شور اٹھ کھڑا ہوا
ایک طرف تیمور ملک تھے جنہوں نے ناشیہ کے سر پر ہاتھ رکھا تھا, شازیہ اور خالد نے اسے ڈھیروں دعاؤں سے نوازا تھا, غاشیہ بہت محبت سے اس سے گلے ملی تھی, طہٰ اسے اپنے بازؤؤں کے حلقے میں گاڑی ک لیکر آیا تھا
دوسری طرف آمنہ تھیں جنہوں نے روتے ہوئے اسراء کا ماتھا چوما تھا, عمر فاروق نے اپنی لاڈلی بیٹی کے آنسو خود صاف کیے تھے, اسماء اور انیتا نے گلے سے لگایا تھا, اذن اسے بہت محبت سے خود سے لگاۓ باہر لیکر آیا تھا
وقت جیسا بھی ہو…جلد یا بدیر کٹ ہی جاتا ہے….بس یہ کہ برے وقت کو صبر سے کاٹ لینا ہی آزمائش پر پورا اترنا ہے
…………………………
وہ چینج کر کے واش روم سے نکلا تو شازیہ سیل کان سے لگاۓ اندر آئی تھی, ناشیہ کی کال تھی, وہ معاذ کا پوچھ رہی تھی, شازیہ ہال سے واپسی پر معاذ کو اپنے ساتھ ہی لے آئی تھی, اب بھی وہ پوری طرح نیند میں مگن بستر کے ایک طرف سو رہا تھا
کال ختم کر کے وہ بھی چینج کرنے چلی گئی, واپس آئی تو خالد موبائل لیے معاذ کے ساتھ لیٹا تھا, شازیہ اس کے پاس ہی بیٹھ گئی
“خالد… ” اس نے پکارا
“ہاں… ” وہ بولا
“میں اگلے مہینے پورے چھتیس سال کی ہو جاؤں گی” شازیہ نے کہا, خالد نے اسے یوں دیکھا جیسے وہ ہوش میں نہ ہو
“پھر… تمہیں شازیہ جی کہنا شروع کر دوں؟؟؟”
“نہیں… پھر یہ کہ تم ابھی صرف تیس سال کے ہو… آجکل کے لڑکے تو تیس سال کی عمر میں بھی بمشکل شادی کروانے پر راضی ہوتے ہیں… سو… ” اس نے بولتے بولتے خالد کی طرف دیکھا
“خالد میری محرومی کی سزا آخر تم کیوں بھگتو… ؟؟؟ مجھے کوئی اعتراض نہیں ہو گا اگر تم…. دوسری شادی کرنا چاہو تو” وہ کہہ ہی گئی
“دوسری شادی کر کے کیا ہو گا ؟؟؟” خالد نے موبائل ایک طرف رکھ دیا
“خدا تمہیں صاحب اولاد کر دے گا” وہ بولی
“اور تم… ؟؟” خالد نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا
“میں یہیں رہوں گی… اسے تم الگ گھر میں رکھ لینا, اپنے بچوں کو یہاں لے آیا کرنا, بس اسے مت لانا… اتنا بڑا دل نہیں کر پاؤں گی میں… ابو کو میں خود ہی منا لوں گی” شازیہ کہتی چلی گئی, خالد نے ایک لمبی سانس بھری تھی
“شازیہ… مجھے تم سے شادی کرنے سے پہلے بھی تمہاری اس محرومی کا پتہ تھا, یہ بھی پتہ تھا کہ تم مجھ سے چھ سال بڑی ہو… میں چاہتا تو تایا جان کو اسی وقت انکار کر دیتا لیکن…” وہ شازیہ کے قریب ہوا تھا
“یہ خدا کی تقسیم ہے شازیہ ملک… کسی کو ایک دے دے, کسی کو دو… کسی کو بہت سارے… اور چاہے تو کسی کو ایک بھی نا دے… میں اور تم اگر آخری والی تقسیم میں آتے ہیں تو کیا زور زبردستی اس تقسیم کو بدلنا ضروری ہے ؟؟؟” اس نے کہا, شازیہ خاموش رہ گئی
“بس یہ بات ابھی اور اسی وقت ختم ہو گئی ہے… میں اور تم… ایسے ہی ٹھیک ہیں” اس نے شازیہ کا ہاتھ تھام کر کہا
“اگر تمہیں زیادہ ہی شدت سے یہ احساس ہو رہا ہے تو… ناشیہ سے کہو کہ معاذ ہمیں دے دے” خالد نے کہا
“نہیں… کبھی نہیں… خالد اس دنیا میں سب سے بڑا ظلم یہ ہے کہ ایک ماں سے اس کی اولاد مانگ لی جاۓ… میں آج ناشیہ یا غاشیہ میں سے کسی کے سامنے دامن پھیلاؤں تو ان دونوں میں سے کوئی بھی مجھے انکار نہیں کرے گی لیکن…. میں اتنا ظلم کیوں کروں ؟؟؟ ایک ماں سے اس کا لخت جگر الگ کیوں کروں ؟؟؟” شازیہ نے کہا
“تو بس پھر… اپنی قسمت پر صبر کرو, طہٰ کی شادی ہو جاۓ گی تو اس کے بچے تمہاری ذمہ داری ہی ہوں گے, تم اس کے بچوں کی بڑی پھپھو پلس دادی ماں دونوں ہی بن جانا” وہ ہنستے ہوئے بولا تھا, شازیہ بھی دھیرے سے مسکرا دی
“اب سو جاؤں شازیہ جی… ؟؟؟ بہت تھک گیا ہوں” خالد نے ہنستے ہوئے پوچھا تھا, شازیہ نے اثبات میں سر ہلا دیا
“آ جاؤ پھر… ” خالد نے لیٹتے ہوۓ اس کی جانب بازو کھول دیا تھا, وہ مسکراتی ہوئی اس کی آغوش میں سمٹ گئی تھی
………………………….
اس نے دھیرے سے کال ڈسکنیکٹ کر دی تھی, رافع ابھی تک باہر ہی تھا, وہ اپنی کامدار میکسی بمشکل سنبھالتی ہوئی شیشے کے سامنے آن کھڑی ہوئی, سر پر لگی پنیں بالوں کو کھینچنے لگی تھیں, اس سے پہلے کہ وہ ان کا سدباب کرتی, دروازہ کھلا اور رافع اندر آ گیا, سارہ اس کے کندھے سے لگی سو رہی تھی اس نے آہستہ سے اسے بستر پر لٹا دیا, ناشیہ ڈریسنگ ٹیبل کے پاس کھڑی تھی, وہ سارہ پر کمبل دیتا ہوا سیدھا ہوا اور اپنا کوٹ اتارتے ہوئے اس کی طرف آیا
“یاد ہے جس رات تمہاری مہندی تھی… اور میں تمہیں چھت پر ملنے آیا تھا…” وہ کہتا ہوا عین اس کے سامنے آ گیا
“اس سیاہ کالی رات میں آسمان پر چمکتے اس پورے چاند کی خوبصورتی … اس لمحے میرے سامنے کھڑی میری محبت کی خوبصورتی کے سامنے کچھ بھی نہیں ہے” وہ اس کے بے حد قریب تھا, بہت نرمی سے اس نے ناشیہ کے حنائی ہاتھوں کو اپنے سینے پر رکھا تھا
“سیاہ رنگ پہن کر ہمیشہ یونہی میرے دل کے آر پار ہو جاتی ہو تم” رافع کی آنکھوں سے سرشاریاں چھلک رہی تھیں, یکلخت ہی اس نے ناشیہ کے دونوں ہاتھوں کو زور سے اپنی طرف کھینچا… وہ لہراتی ہوئی اس کے سینے سے آن لگی تھی, سیاہ اور سلور چوڑیوں سے مزین کلائیاں رافع کی گردن کے گرد ہار بنا گئی تھیں, رافع کے دونوں بازو اس کی نازک سی کمر کو اپنے حصار میں لے گئے یوں کے اس کا دل ناشیہ کے دل کی دھڑکنیں سن سکتا تھا
“آئی لو یو ناشیہ… ” رافع نے ہولے سے اپنی پیشانی ناشیہ کی پیشانی سے ٹکا دی, ناشیہ نے آسودگی سے آنکھیں بند کی تھیں, کچھ ہی دیر میں اس نے رافع کے لبوں کی نرمیاں اپنے پورے چہرے پر محسوس کی تھیں, دھیرے دھیرے اس کی مخروطی انگلیاں رافع کے بالوں میں سرسرانے لگیں, وہ بڑے حق سے اس کے ریشمی دوپٹے کی سوئیاں کھولتا چلا گیا تھا
…………………………….
وہ بیڈ کراؤن سے ٹیک لگاۓ بیٹھی تھی جب روبینہ اندر آئیں…ان کے ساتھ ہی رحمہ جھینپی جھینپی سی اندر آئی تھی
“اسراء… بیٹے اسے نا شافع کے ساتھ سونے کی عادت ہے… اسی بستر پر… راحم تو میرے ساتھ سو جاتا ہے لیکن یہ نہیں سوتی, میں اسے یہاں لٹا دوں ؟؟” وہ بولیں
“بالکل آنٹی… یہاں لٹا دیں” اسراء نے اپنے برابر میں جگہ بنائی تھی
“یہ بس خود ہی لیٹے لیٹے سو جاۓ گی” انہوں نے رحمہ کو اس کے پہلو میں لٹا دیا
“شافع تھوڑی دیر تک آ جاۓ گا… اس کے بینک کے کولیگز آۓ ہوۓ ہیں” روبینہ نے کہا
“کوئی بات نہیں آنٹی… ” اسراء نے خوشدلی سے کہا تھا, روبینہ واپس چلی گئیں, اسراء نے رحمہ کو اپنے ایک بازو کے حلقے میں لے لیا
“آپ کا ڈریس تو بہت پیارا ہے… کس نے لیکر دیا ؟؟؟” وہ اسے دھیرے دھیرے تھپکنے لگی تھی
“پاپا نے… ” وہ بولی, اسراء اس سے یونہی چھوٹی چھوٹی باتیں کرتے ہوئے اس کے ساتھ خود بھی نیند کی وادی میں اتر گئی تھی
کتنی ہی دیر وہ اسے ساتھ لگاۓ سوتی رہی… دفعتاً اسے اپنے وجودپر کسی کی انگلیوں کی سرسراہٹ محسوس ہوئی تھی, وہ فوراً سے سمجھ نہ پائی… اور جب تک آنکھیں کھولیں…وہ شافع انصاری کے حصار میں آ چکی تھی, اس نے پورے حق سے اس کے سنورے ہوۓ وجود کو رحمہ سے الگ کر کے اپنے بازوؤں میں لے لیا تھا, وہ بس گھبرائی گھبرائی سی نیند آلود آنکھوں سے اس اپنے بے حد قریب دیکھتی رہ گئی, شافع کے وجود سے اٹھتی کولون کی مہک اسے سرشار کر دینے کے لئے کافی تھی
“چلو یہ بھی شکر ہوا… تم نے نیند تو پوری کر لی” اس نے معنی خیز انداز سے کہا تھا, اسراء بس لب دانتوں تلے دبا کر دھیرے سے مسکرا دی
“بڑی محنت سے کمایا ہے میں نے تمہیں اسراء رانی… بس اب ہمیشہ یونہی میرے دل سے جڑی رہنا…” وہ اسے اپنے دل سے لگاۓ دھیرے دھیرے اس کے کامدار دوپٹے سے پنیں کھینچتا چلا گیا تھا, اسراء کی منتشر سی سانسیں یکلخت ہی اس کی گردن پر بکھر سی گئیں
“شافع… ” اس کی مدھر سی سرگوشی شافع انصاری کو ہوش و خرد سے بیگانہ کر دینے کے لئے کافی تھی
“آئی لو یو… بہت زیادہ…. بہت ہی زیادہ ” اس نے بہت محبت اور نرمی سے اس محبت کا ثبوت شافع کی گردن پر چھوڑا تھا اور شافع بس اس کی قربت کے زیر اثر اسے اپنی شدتوں سے مغلوب کرتا چلا گیا تھا
………………………….
ختم شد
