121.2K
52

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 12


وہ دوپہر کے کھانے کے لئے سامان لیکر آیا تھا, معمول کے مطابق اس نے بیل بجائی اور سامان مین دروازے کے باہر رکھ دیا, وہ پلٹ کر گیٹ تک آ گیا لیکن کسی نے بھی دروازہ کھول کر سامان نہ اٹھایا
اسے حیرانی ہوئی تھی, وہ پلٹ کر آیا اور دوبارہ بیل بجائی… جواب ندارد
ناچار وہ دروازہ کھول کر اندر آ گیا
“خالہ جان… ” سامان کچن میں رکھتے ہوئے اس نے آمنہ کو آواز دی تھی, جواب ندارد
انیتا… ” اس نے قدرے زور سے انیتا کو آواز دی…کوئی جواب نہ آیا
“انیتا… ” وہ یکدم پریشان ہو کر اوپر کو بھاگا, عین اسی لمحے انیتا اپنے کمرے سے باہر نکلی تھی, وہ شاور لے رہی تھی اسلیے کوئی ایک آواز بھی نہیں سن سکی, اب بھی وہ معمول کے سے انداز سے گیلے بالوں کو تولیے میں لپیٹے, بنا دوپٹے کے لوشن ہاتھوں میں پکڑے اپنے کمرے سے نکلی تھی, دھڑ دھڑ سیڑھیاں چڑھتا ارمغان پوری قوت سے اس سے ٹکرایا اور پیچھے کو لڑکھڑا گیا
“ارمغان… ” انیتا نے بوکھلاہٹ میں اس کا ہاتھ تھاما تھا لیکن… بجاۓ اس کے کہ وہ ارمغان کو گرنے سے بچا پاتی, بیچاری خود بھی اس کے ساتھ ہی رپٹ گئی
“انیتا… دھیان سے” ارمغان کے مضبوط بازو اس کے گرد حلقہ بنا گئے تھے, بڑی مشکلوں سے دس, بارہ سیڑھیاں گرنے کے بعد ارمغان نے خود کو سنبھالا
کہاں کا تولیہ اور کہاں کا لوشن…
سختی سے بند کی ہوئی آنکھیں کھولیں تو عین سامنے وہی تھا جس کی گردن میں دونوں بازو مضبوطی سے ڈالے وہ بالکل اس کے ساتھ لگی ہوئی تھی, ارمغان کے بازو کس کے اس کی کمر کے گرد بندھے ہوئے تھے, چند لمحے تو دونوں بس پھٹی پھٹی آنکھوں سے ایک دوسرے کو دیکھتے ہی رہے
“یہ کیا بے ہودگی تھی ؟؟؟” انیتا کو پہلے ہوش آیا تھا
“میں نے… کوئی دس آوازیں دیں سب کو… کوئی جواب ہی نہیں آیا… مجھے لگا… جیسے کچھ… ہو گیا ہے” ارمغان ابھی تک دم بخود تھا
“امی اور ابو ماموں کی طرف گیے ہوۓ ہیں… میں اوپر نہا رہی تھی… تم سامان رکھ کر چلے جاتے” انیتا نے اٹھنا چاہا لیکن ارمغان کی گرفت ہی بہت مضبوط تھی, وہ ایک جھٹکے سے دوبارہ اس پر گر سی گئی, لمبے گیلے بال یکدم ہی ارمغان کے چہرے پر آن گرے تھے
“چھوڑو اب… ” وہ بولی, اب کے اسے ہوش آیا تھا, ایک خفیف سی مسکراہٹ اس کے لبوں پر پھیل گئی
“چھڑوا لو… ” وہ بولا
“ارمغان… اپنی حد میں رہو سمجھے” انیتا کو غصہ آ گیا, ارمغان نے پہلی بار اسے اپنے اتنے قریب محسوس کیا تھا
“تم بھی اسی حد میں کیوں نہیں آ جاتیں انیتا راۓ… ” وہ ذرا سا آگے کو ہوا تھا
“کیونکہ میری اوقات تمہاری اس حد سے کہیں زیادہ ہے” انیتا نے ایک جھٹکے سے خود کو چھڑوایا تھا, گیلے بالوں کی بوچھاڑ سے ارمغان کا سارا چہرہ گیلا ہو گیا, وہ مسکراتے ہوئے کھڑا ہوا تھا, انیتا دوبارہ سیڑھیاں چڑھ گئی
“انیتا… ” اس نے بہت محبت سے اسے پکارا تھا, وہ آخری سیڑھی پر سے مڑی
“میرے دل میں رہنے کا کیا لو گی ؟؟؟” وہ پوچھ رہا تھا, انیتا بولی کچھ نہیں… بس اسے ٹھینگا دکھا کر چلی گئی… دل ایک لمحے میں چکنا چور ہو گیا تھا
……………………
دوپہر ایک بجے کا وقت تھا جب نفیس اور فرحان, صفوان کو رہا کروا کر واپس آۓ, فرزانہ تو اس کی بلائیں اتار اتار کر ہی ہلکان ہو گئی
“خدا غارت کرے ان قریشیوں کو, آگ لگے ان کے گھروں کو… میرا بچہ فضول ہی جیل میں جھونک دیا… ” وہ کوسنے دییے جا رہی تھی
“چل میرا پتر…پہلے نہا لے پھر کھانا کھا” فرزانہ نے کہا
“حنا… بھائی کے کپڑے استری کر کے دے, ثناء بھائی کے لئے کھانا گرم کر… جلدی” انہوں نے آوازیں دی تھیں
“امی بس کریں… جیل سے ہو کر آئیں ہیں… کوئی میدان جنگ سے واپس نہیں آۓ ” فرحان تپ کر بولا
“بکواس بند کر… ” فرزانہ نے اسے گھرکا, ناشیہ نے چپ چاپ کھانا گرم کر کے ٹیبل پر لگا دیا, فرزانہ خود اسے ایک ایک چیز نکال کر دے رہی تھی, صفوان کوشش کے باوجود ناشیہ سے نظریں نہ ملا سکا
رات کو وہ اس کے پہلو میں آ کر لیٹی تو وہ جاگ رہا تھا… ناشیہ نے کروٹ بدل کر کمبل تان لیا, صفوان کو سمجھ نہ آئی کہ اسے کیا کہے
“ناشیہ… ” اس نے دھیرے سے ناشیہ کے اوپر ہاتھ رکھا تھا
“کیا ہے ؟؟؟” وہ مڑی
“ناشیہ ایم سوری… ” صفوان بس اتنا ہی کہہ سکا
“کس بات کے لئے ؟؟؟” ناشیہ نے پوچھا
“وہ… میں بس… آییندہ نہیں ہو گا” صفوان نے کہا
“بات آییندہ کی نہیں ہے صفوان… بات یہ ہے کہ پہلی بار ہی کیوں ہوا ؟؟؟” ناشیہ پوری طرح اس کی طرف مڑتے ہوۓ بولی تھی
“صفوان مجھ میں کوئی کمی ہے تو بتائیں ؟؟؟ میں اگر آپ کے لئے کافی نہیں ہوں تو بتائیں ؟؟؟ آخر کیوں میرے ہوتے ادھر ادھر دیکھتے ہیں آپ ؟؟؟” وہ پھٹ پڑی
“یار میں شرمندہ ہوں” وہ بولا
“نہیں صفوان… شرمندہ تو میں ہوں, شادی کے صرف دو ماہ بعد ہی آپ کسی لڑکی کے اغواء کے الزام میں جیل کی ہوا کھا کر آۓ ہیں” وہ بولی, آنکھوں میں آنسو چمکنے لگے تھے
“ناشیہ… سوری یار” وہ سر جھکاتے ہوۓ بولا تھا
“میں اب سے صرف تمہارا ہو کر رہوں گا, میں بہت شرمندہ ہو پلیز… ایم سوری” وہ اس کی طرف دیکھ بھی نہیں پا رہا تھا, ناشیہ نے چپ چاپ کروٹ بدل لی
“ناشیہ… ” صفوان دھیرے سے اس کی پشت سے جڑتے ہوۓ اس کے ساتھ ہی لیٹ گیا, دھیرے دھیرے ناشیہ نے اس کے ہاتھوں اور پیروں کی انگلیوں کی سرسراہٹیں اپنے اوپر محسوس کی تھیں
“آئی لو یو ناشیہ… میں بس تمہارا ہوں… بس تمہارا” ناشیہ پر بوجھ بڑھتا جا رہا تھا
……………………………
صبح تقریباً ساڑھے آٹھ بجے کا وقت تھا, دونوں پورشنز میں افراتفری مچی ہوئی تھی, غاشیہ نے جلدی سے حدید کے کپڑے استری کیے, جوتے پالش کیے اور کچن میں چلی گئی
“غاشی جلدی کر دو یار… ” وہ واش روم سے ہی چیخے جا رہا تھا, تبھی نیچے سیڑھیوں والے پچھلے دروازے پر دستک ہوئی
“حدید کوئی آیا ہے… ” غاشیہ نے کچن سے آواز لگائی تھی
“دودھ والا ہو گا.. جاؤ پکڑ لاؤ” حدید فقط ایک پینٹ پہنے کھڑا تھا
“دودھ والا تو نو بجے آتا ہے… ” غاشیہ بڑبڑاتی ہوئی نیچے اتر گئی, دروازے پر کوریئر والا کھڑا تھا
“میڈم غاشیہ… ؟؟؟” اس نے کنفرم کیا
“جی… ” وہ بیچاری ہاتھ میں ڈول لیے کھڑی تھی
“میڈم یہ آپ کے لئے… ” اس نے سرخ گلابوں کا ایک بکے اور ایک کارڈ اس کی طرف بڑھا دیا, غاشیہ حیران رہ گئی, واپس اوپر آئی تو حدید تیار ہو کر ٹیبل کے پاس کھڑا تھا
“یہ کیا ہے ؟؟؟” وہ اچنبھے سے بولا
“پتہ نہیں کس نے بھیجے ہیں ؟؟؟ ” اس نے حیرانی سے کارڈ کھولا تھا
Happy birthday to my one and only… Ghashia Malik…
حدید نے کارڈ اس کے ہاتھ سے لے لیا
“ہے کون یہ… ؟؟؟” اس کا صبح صبح ہی موڈ خراب ہو گیا تھا
“”غاشیہ یہ جو بھی ہے سب کچھ جانتا ہے… حالانکہ مجھے یاد نہیں تھا لیکن اسے یاد تھا کہ آج تمہارا برتھ ڈے ہے… کون ہے یہ ؟؟؟” بھلے ہی حدید اس پر آنکھیں بند کر کے یقین کرتا تھا لیکن… پھر بھی
“مجھے کیا پتہ یہ کون ہے حدید ؟؟؟” وہ خود پریشان تھی, حدید اس کے بعد ایک لفظ بھی نہیں بولا, چپ چاپ فقط ایک چاۓ کا کپ پی کر آفس چلا گیا
………………………
خالد نے اسے تگنی کا ناچ نچا دیا تھا, اس نے تو سوچا ہی نہیں تھا کہ سب سے مشکل کام خالد کو منانا ہو گا, طہٰ جب بھی اس سے بات کرنے کی کوشش کرتا, خالد سر منہ لپیٹ لیتا
“آخر اپ کو مسئلہ کیا ہے خالد بھائی… ؟؟؟ کس سے ڈرتے ہیں آپ ؟؟” وہ ایک دن پھٹ ہی پڑا, وہ اس کے پیچھے سٹور پر ہی چلا گیا تھا
“طہٰ… یہاں سے چلا جا”
“کیوں… ؟؟”
“کیونکہ مجھے تیرا ساتھ نہیں دینا… میں بھر پایا ایک کا ہی ساتھ دے کر” وہ بولا
“بس وہی آپ کی بہن تھی خالد بھائی…. میں کچھ نہیں لگتا” ایموشنل بلیک میلنگ
“طہٰ… یہ ناممکن ہے” وہ بولا
“آپ ساتھ دیں گے تو ممکن ہو جاۓ گا نا… ” طہٰ نے کہا
“کیسے ؟؟؟” اس نے پوچھا
“اطہر سے بات کریں, وہ آپ کا کلاس فیلو بھی ہے اور اتنا اچھا دوست بھی… ” طہٰ نے ایس ڈی پی او اطہر جلال کا نام لیا تھا
“اور کیا کہوں اسے ؟؟؟” خالد نے کہا, طہٰ نے ساری بات دہرا دی
“بس انہیں تھوڑا دباؤ ڈالنا ہو گا ابو پر… تھوڑا ڈرانا ہو گا کہ کیس بن جاۓ گا, فی الحال چپ کر جائیں ” طہٰ نے کہا
“طہٰ… میں بتا رہا ہوں اس سب کا کوئی فایدہ نہیں ہو گا… تو پہلے سٹیپ پر ہی فیل ہو جاۓ گ دیکھ لینا… راۓ عبید مر جاۓ گا لیکن اپنی بیٹی کا نکاح تیرے سے نہیں کرے گا” خالد نے کہا
“وہ بھی مجبور ہوں گے خالد بھائی.. ” طہٰ پر یقین تھا
“کیسی مجبوری… ؟؟؟؟ اذن کے علاوہ کیا ان کے خاندان میں اور لڑکے نہیں ہوں گے… بس تو ہی ہو گا وہاں ایک اکلوتا کنوارہ…” خالد نے کہا, اب کے طہٰ کی سٹی گم ہوئی تھی, ظاہر ہے شادی میں تو دور دور سے مہمان آۓ ہوں گے, اگلے ہی دن وہ زرقا کے سامنے تھا, کرید کرید کر اس نے زرقا اور اور اذن کے دور دراز کے رشتے داروں کے کنوارے لڑکوں کی معلومات حاصل کیں…ارمغان کا ذکر زرقا گول ہی کر گئی تھی… ویسے بھی وہ ان دونوں گھروں میں نہ ہونے کے برابر تھا…. فی الحال تو پریشانی کی کوئی بات نہیں تھی
………………………
آج صبح سے اس کا ذہن الجھا ہوا سا تھا, بار بار عجیب و غریب خیالات کلبلاۓ جا رہے تھے, ورکشاپ پر آ کر بھی ذہن سیٹ نہ ہو سکا
کئی سوال تھے ؟؟؟ کئی شبھات تھے ؟؟؟
اخیر بارہ بجے کے قریب اس کی بس ہو گئی, ورکشاپ ایک سینیر کاریگر کے حوالے کر کے اس نے اپنی موٹر سائیکل نکالی اور لاہور جانے والی سڑک پر ہو لیا
“مراد آباد… ” اس نے کسی سے ایڈرس پوچھا تھا, وہاں آ کر اس نے اپنا موبائل نکال لیا…کچھ دیر وہ اذن کا نمبر ملا کر کھڑا رہا… پھر موبائل دوبارہ جیب میں ڈال لیا
“تیمور ملک کا آئرن سٹور کہاں ہے ؟؟؟”اس نے دو تین لوگوں سے پوچھا اور وہاں تک پہنچ گیا
وہ سٹور سامنے ہی تھا… اس نے موٹر سائیکل ایک طرف کھڑی کی اور خود سٹور میں داخل ہو گیا
“تیمور ملک سے ملنا ہے ؟؟؟” اس نے پسینہ صاف کرتے ہوئے کہا
“وہ تو نہیں ہیں… ” وہ شاید کوئی کاریگر تھا
“کوئی اور ہے ان کے گھر سے… ” اس نے پوچھا
“خالد بھائی… ” کاریگر نے دور بیٹھے خالد کو آواز دی تھی
“یہ آپ سے ملنے آۓ ہیں… ” وہ زور سے بولا اور کسٹمرز کے ساتھ مصروف ہو گیا
“تیمور ملک سے ملنا تھا… ” وہ خالد کے پاس آتے ہوئے بولا
“کیا کام ہے ؟؟؟” خالد نے پوچھا
“آپ کیا لگتے ہیں ان کے ؟؟؟” ایک اور سوال
“میں ان کا بھتیجا ہوں” خالد نے کہا, ارمغان بس اسے دیکھتا رہ گیا تھا
ذہن میں کئی ایک جھماکے ہوۓ تھے… وہ بڑا سا گھر… لوگوں سے بھرا ہوا… اور سفید کپڑوں میں لپٹا وہ ساکت سا وجود…اس وجود کے سرہانے کھڑا وہ روتا ہوا بچہ
“اگر آپ کو کوئی کام ہے تو مجھے بتا دیں” خالد نے کہا, ارمغان بول نہ سکا… بس دھواں دھواں چہرہ لیے اسے دیکھتا چلا گیا
“تم… شاہ نور کے بیٹے ہو ؟؟؟” اس نے بمشکل پوچھا تھا, اب کے خالد چونکا
“تم کون ہو ؟؟؟” سوال ہوا تھا, ارمغان کو لگا جیسے اس کی آنکھوں کے گوشے نم ہو گیے ہوں
“میں…حمنہ اور شاہ نور کا… بیٹا ہوں” وہ خالد کے سر پر دھماکہ کر گیا تھا
………………………….
ان دونوں بھائیوں کا شاید مقدر ہی ایک جیسا تھا… پہلے آنکھ بند کر کے محبت کرنا… پھر اس محبت کو دفن کر کے اس پر مٹی ڈالنا… پھر ساری عمر اس محبت کی دہائیاں دیتے رہنا
صرف چھ ماہ بعد ہی رافع اور حریم کا وہی حال ہو گیا جو شافع اور فرح کا تھا… شافع کا پلس پوائنٹ یہ تھا کہ وہ بہت زیادہ حلیم اور نرم مزاج تھا…فرح اس پر کتنا بھی چیخ چلا لیتی, اسے کتنا بھی برا بھلا کہہ لیتی… وہ صبر کر جاتا تھا, اس کی ہر بدتمیزی کو برداشت کر لیتا تھا, چار سالوں میں اس نے کبھی فرح پر ہاتھ نہیں اٹھایا تھا, کبھی اس پر چلایا نہیں تھا لیکن رافع… اس کا مزاج شافع کی طرح نہیں تھا, وہ جلدی ضبط کھو دیتا تھا… حریم کی پوری بات برداشت نہیں کر پاتا تھا وہ… اس دن بھی روبینہ کچن میں تھیں جب کمرے سے ایک دم فرح کے چلانے کی آواز آئی… وہ گھبرا کر باہر نکلیں… فرح فل ٹاس گلا پھاڑتے ہوۓ شافع کو کوسے جا رہی تھی
“کیا ہو گیا ؟؟؟” روبینہ بھاگ کر اس کے کمرے میں گئیں
“میں ملازم ہوں اس کی… یا خرید کر لایا ہے مجھے” وہ آپے سے باہر ہو رہی تھی
“شافع کیا کہا تو نے اسے ؟؟؟”
“گھنٹے سے موبائل لیکر بیٹھی تھی… بس اتنا کہہ دیا کہ رحمہ کو چینج کروا دو” شافع نے کہا, اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتیں… وپر سے حریم کی آوازیں آنا شروع ہو گئیں
“ابھی صرف چھ ماہ ہوۓ ہیں ان دونوں کی شادی کو اور ان کے جھگڑے بھی شروع ہو گئے ” روبینہ نے تاسف سے کہا تھا, رافع کی زور دار چنگھاڑ پر وہ ہول کر باہر نکلیں, وہ تن فن کرتا سیڑھیوں سے نیچے اتر رہا تھا
“رافع… ناشتہ تو کر لے” روبینہ اس کے پیچھے بھاگیں
“بس کر لیا… بھر گیا پیٹ میرا” وہ بکتا جھکتا موٹر سائیکل نکال کر باہر نکل گیا تھا
……………………………….
وہ اس دن حدید کے ساتھ واک پر نکلا تھا, اسے حدید نے ہی کال کر کے بلایا تھا
“طہٰ یار ایک بات پوچھوں تیرے سے ؟؟؟” حدید نے کہا, طہٰ نے اثبات میں سر ہلا دیا
“ناشیہ اور صفوان کا کیا حال ہے ؟؟؟” اس نے پوچھا
“ٹھیک ہیں حدید بھائی… ناشیہ از پریگنینٹ ” طہٰ نے کہا
“اوہ… اچھا… مطلب خوش ہے ناشیہ وہاں ؟؟؟” وہ نہ جانے کیا اگلوانا چاہ رہا تھا
“خوش کا تو پتہ نہیں حدید بھائی لیکن… وہ گزرے چھ ماہ میں صرف دو بار میکے آئی ہے…” طہٰ نے کہا
“اور صفوان… ؟؟؟” حدید نے پوچھ ہی لیا, اسے کافی دنوں سے صفوان پر شک ہو رہا تھا…وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ اس کی خصلت کیسی ہے
“صفوان بھائی کی تو مت ہی پوچھیں… شادی کے دو مہینے بعد ہی ان کا پھر کوئی چکر پکڑا گیا تھا, مجھے تو بس سرسری سا ہی بتایا تھا خالد بھائی نے… جیل کی ہوا بھی کھائی ہے شاید… ” طہٰ کہتا چلا گیا, حدید سوچ میں پڑ گیا…
اگر صفوان کی فطرت کو دیکھتا تو اسکا شک یقین میں بدل جاتا تھا کہ غاشیہ کو پھول بھیجنے والا وہی ہے لیکن… جب یہ سوچتا کہ اس کی اور غاشیہ کی شادی کو دو سال ہونے کو آۓ تھے, صفوان اور ناشیہ کی شادی کو چھ ماہ ہو گئے تھے… تو کیا اب یاد آئی تھی اسے غاشیہ… ؟؟؟
“حدید بھائی…. ” وہ اپنی سوچوں میں غلطاں تھا جب طہٰ نے اسے پکارا
“سب ٹھیک ہے ؟؟؟”
“ہاں… خالد سے بات ہو گئی ؟؟؟” حدید نے پوچھا
“جی… وہ اور میں کل اطہر سے ملنے جائیں گے” طہٰ نے کہا, حدید نے سر ہلاتے ہوئے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ دیا, بڑے ہلکے پھلکے موڈ میں وہ واپس آیا تھا اور دروازے سے اندر داخل ہوتے ہی سیڑھیوں پر رکھے کارڈ نے اس کا سارا موڈ ستیاناس کر دیا تھا
……………………..
وہ آج عمر فاروق کو لیکر گھر وزٹ کرنے آیا تھا, دو تین گھنٹے وہ ادھر ادھر پھرتے مختلف گھر دیکھتے رہے… آخر ایک گھر عمر فاروق کو پسند آ گیا تھا
واپسی پر انہوں نے اذن کو ویک اینڈ پر گھر آنے کا کہا تھا
گاؤں والی زمین کے کاغذات عمر فاروق کے نام ہی تھے, اذن ویک اینڈ پر گھر گیا تو ان دونوں نے مل کر اس زمین کا سودا کر دیا
دوسری طرف اسماء اور آمنہ نے اپنی مہم تیز کر دی تھی, ساری خریداری دونوں طرف سے اسماء اور اسراء نے ہی کرنی تھی, آۓ روز ان دونوں کے مارکیٹ کے چکر لگنے لگے تھے
دو مہینے مزید گزرے تو عمر فاروق, آمنہ اور انیتا شادی کی تاریخ لینے چلے گئے… اذن ابھی وہیں تھا…گلابی رنگ کے ریشمی کامدار سوٹ میں ملبوس زرقا کے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں… عام سے حلیے میں ملبوس اذن بس اسے دیکھ دیکھ کر مسکراۓ جا رہا تھا… وہ جب اسے یوں دیکھ کر مسکراتا تھا تو زرقا کو اس پر سو فیصد شک ہونے لگتا تھا… کیا خبر کہ وہ اس کا دل رکھنے کے لئے ناٹک ہی کر رہا ہو اور عین وقت پر چپ چاپ اس سے نکاح کر لے
چار مہینے بعد ان دونوں کی تاریخ طے ہو گئی تھی… اسی دن اذن اور عمر فاروق نے نئے گھر کا سودا بھی کر لیا تھا… ستر فیصد ایڈوانس دے دیا تھا اور باقی کا تیس فیصد دو مہینے میں ادا کرنا تھا, آمنہ کے علم میں لاۓ بنا ہی انہوں نے پرانا گھر ارمغان کے نام کر دیا تھا
…………………………
اس کا موبائل بجا تھا… انجان نمبر تھا
“ہیلو…. “
“کام شروع کر دیا ؟؟؟”
“ہاں… ” وہ دھیرے سے بولا
“کتنے فیصد ہو گیا… ؟؟؟”
“ابھی تو شروع ہو ہے… ” اس نے کہا
“اور کتنا وقت لگے گا ؟؟؟”
“آپ کو بھی پتہ ہی ہے…کسی کا دل خالی کروانا… گھر خالی کروانے جیسا نہیں ہوتا” وہ مسکرایا تھا
“جلدی کرو… ایڈوانس پیسے چاہیئے تو لے لو”
“میں نے کب کہا کہ مجھے پیسے چاہئیے… میں نے کہا تھا کہ جو میں کہوں گا… ” وہ بولا تھا
“ٹھیک ہے… ” کال ڈس کنیکٹ ہو گئی تو وہ کھل کے مسکرا دیا
……………………..
جاری ہے