121.2K
52

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 21

دوپہر کے بارہ بجنے والے تھے… بارات روانگی کے لئے بالکل تیار تھی, اذن کی سہرا بندی آخری مراحل میں تھی, وہ بلیک کلر کی شیروانی اور وائٹ لٹھے کی شلوار زیب تن کئے ہوۓ تھا, شیروانی کے بین اور کفوں پر نفیس سی سلور ایمبرائیڈری تھی, گلے میں سرخ پھولوں کا ایک ہار ڈالے, بالوں کو جیل لگا کر سٹائل سے سیٹ کئے, چہرے کو ذرا ذرا سا سنوارے وہ وجاہت کا پورا پورا شاہکار لگ رہا تھا, آمنہ تو اکلوتے بیٹے کی بلائیں اتار اتار کر ہی واری صدقے جا رہی تھیں
“انکل… گاڑیاں ریڈی ہیں” ارمغان سیل کان سے لگاۓ بھاگتا ہوا اندر آیا تھا, گرے کلر کے ایمبرائیڈیڈ کرتے کے ساتھ وائیٹ شلوار اور لاییٹ گرے کوٹ پہنے وہ معمول سے ذرا زیادہ ہی ہینڈسم لگ رہا تھا
“عمر انیتا کو تو لے آئیں.. ” آمنہ کو وہ بھی یاد آئی تھی
“ارمغان… بیٹا جا ذرا بھاگ کے انیتا کو تو پارلر سے لے آ” عمر فاروق بد کا سامان گاڑی میں رکھوا رہے تھے
ارمغان ملک تو سنتے ہی باہر کو بھاگا… کبھی کبھی بھاگ ایسے بھی کھل جاتے ہیں
حسب معمول وہ اسے گاڑی کے پاس کھڑا دیکھ کر تلملا گئی تھی
اور حسب عادت وہ اسے دیکھ کر مبہوت رہ گیا تھا
وہ فیروزی اور نیوی بلو کنٹراسٹ کا کامدار لہنگا اور شرٹ پہنے ہوۓ تھی, دائیں کندھے سے اسی امتزاج کا ریشمی دوپٹہ لٹک رہا تھا, سیاہ ریشمی زلفیں آدھی کمر پر اور آدھی سامنے کی طرف لہرا رہی تھیں, جیولری اور میک اپ سے آراستہ وہ اپنا لہنگا ذرا سا اوپر اٹھاۓ اس کے قریب آئی تھی
ارمغان نے دھیرے سے اس کے لئے فرنٹ ڈور کھولا
“میں پیچھے بیٹھوں گی… ” وہ بولی
“تو پھر ہم یہیں کھڑے رہیں گے چاہے ساری رات گزر جاۓ… ” وہ جیسے اس کا چاند چہرہ حفظ کر رہا تھا
“ارمغان.. کم از کم آج کے دن میرا موڈ خراب مت کرو پلیز” وہ کوفت سے بولی
“اور تم پلیز آج کے دن ضد مت کرو… بیٹھو جلدی کرو… پھر تمہیں پھولوں والی گاڑی میں بھی بیٹھنا ہے… ” وہ ذو معنی سے انداز میں بولا تھا
“پھولوں والی گاڑی مطلب… ؟؟” انیتا بل کھا گئی
“مطلب دولہے والی گاڑی… ” وہ ہنستا چلا گیا
“خواب ہی ہے تمہارا… ” انیتا ناچار آگے ہی بیٹھ گئی تھی , ارمغان نے دھیمے سے مسکراتے ہوئے گاڑی سٹارٹ کی تھی, چند ہی منٹوں میں وہ اسے گھر لے آیا, باراتی گاڑیوں میں لوڈ ہو رہے تھے
“انیتا نے جلدی سے دروازہ کھولا اور جیسے ہی اجلت میں پاؤں باہر نکالا, اس کے ہیلز کا سٹریپ کار کی سیٹ بیلٹ میں پھنس گیا
“کیا مصیبت ہے… ” وہ تڑخ کر بولی اور جھکی, سیاہ بال گھٹاؤں کی صورت پشت پر بکھرتے چلے گئے, ارمغان اس کے پاس ہی کھڑا سارا تماشہ دیکھ رہا تھا, وہ بال پیچھے کرتی تو دوپٹہ آگے کو گر جاتا, دوپٹہ ٹھیک کرتی تو لہنگا آڑے آ جاتا, لہنگا اٹھا کر جھکتی تو بال اور دوپٹہ دونوں ساتھ ہی جھک جاتے… آخر اسے ترس آ ہی گیا
“رکو… سیدھی کھڑی رہو… ” وہ آگے کو ہوا اور اس کے بالکل قریب پیروں کے بل نیچے بیٹھ گیا, بڑی مشکلوں سے اس نے انیتا کے جوتے کا سٹریپ آزاد کیا تھا, جیسے ہی وہ فارغ ہو کر اٹھا…انیتا سرعت سے آگے بڑھی اور ریشمی بال ارمغان کے کف لنکس میں پھنس گئے
“سسس… ہاۓ” وہ بلبلا کر مڑی تھی, ارمغان بھونچکا رہ گیا
“یا خدا… ” وہ مارے خفت کے سرخ ہو گئی اور زور سے بال کھینچے
“رکو رکو… اکھڑ جائیں گے سارے ” ایک بار پھر وہ اس کی مدد کو آیا تھا, بڑی نرمی سے اس کے بال کف لنکس سے نکال رہا تھا, انیتا نے بس ایک نظر اس کا چہرہ دیکھا, وہ اس کے بے حد قریب تھا, ارمغان اس کی نظروں کا ارتکاز بھانپ گیا تھا
“نکل آۓ… ” وہ چند لمحوں بعد بولا, انیتا آگے کو بڑھی تھی
دفعتاً اس کی کلائی ارمغان کے ہاتھ میں آ گئی
“سنو… ” وہ دھیرے سے پکارا
“تم بہت خوبصورت ہو… ” اس نے تعریف کی تھی, انیتا کے گال ذرا ذرا سے سرخ ہو گئے, یکدم اپنی کلائی چھڑواتی ہوئی وہ اندر بھاگ گئی تھی
تقریباً ساڑھے بارہ بجے بارات روانہ ہوئی, ریسیپشن پر صمد, درید اور راۓ عبید خود کھڑے تھے, دوسری جانب اسراء اور اسماء کھڑی تھیں, آتشی گلابی اور جامنی رنگ میں ان دونوں کی ساڑھیاں بالکل ایک جیسی تھیں, ہم رنگ سا میک اپ کیے, میچنگ جیولری کے ساتھ وہ دونوں ہی بہت خوبصورت لگ رہی تھیں, زرقا پارلر سے آ چکی تھی اور برائیڈل روم میں بیٹھی تھی,اسے اذن کے برابر میں لا کر کھڑا کر دیا گیا… سرخ عروسی کامدار لہنگے اور گولڈن کامدار شرٹ کے ساتھ سرخ اور گولڈن امتزاج کا بھاری کامدار دوپٹہ سیٹ کیے وہ سبھی نظروں کا مرکز تھی, گولڈن ہیوی جیولری کے ساتھ سرخ لالی سے لبوں کو سجاۓ وہ سرتاپا کسی حور سے مشابہ لگ رہی تھی, دھیرے دھیرے چلتے ہوئے وہ دونوں سٹیج تک آ گئے, نکاح وہیں پڑھایا جانا تھا, زرقا کا دل کسی سوکھے پتے کی طرح تھرتھرا رہا تھا…اس کے ہاتھوں کی لرزش اور لبوں کی کپکپاہٹ اذن کی نظروں سے پوشیدہ نہیں تھی
“میں نکلنے لگا ہوں…” اسے طہٰ کا میسیج آیا تھا, موبائل پرس میں ڈالتے ہوئے اس نے ایک نظر پورے ہال پر دوڑائی تھی
سبھی خوش تھے… مگن تھے… مسکرا رہے تھے
راۓ عبید, عمر فاروق, صمد اور درید ایک طرف کھڑے تھے, اسماء اور اسراء, آمنہ کے ساتھ کھڑی باتیں کر رہی تھیں, انیتا اپنا دودھ پلائی کا سامان تیار کرتی پھر رہی تھی, چونکہ زرقا اکلوتی بہن تھی اور کزنز میں قریبی صرف انیتا ہی تھی سو وہ زرقا کی بہن کے طور پر اپنے بھائی کی دودھ پلائی خود ہی کر رہی تھی, غاشیہ, حدید کے پاس کھڑی تھی, وہ بلیک کلر کی ڈھیلی سی فیری فراک پہنے ہوئے تھی, اس کا چوتھا مہینہ چل رہا تھا, ریشمی دوپٹہ کندھے پر ڈال رکھا تھا, بلاشبہ خوبصورتی میں اس کا کوئی ثانی نہیں تھا
“کب آۓ گا وہ شاہ رخ خان…؟؟” حدید نے پوچھا
“کہہ رہا ہے کہ نکلنے لگا ہوں ” غاشیہ نے کہا
“یہ سب کو مرواۓ گا دیکھنا… “حدید کی پریشانی واضح ہوتی جا رہی تھی, تبھی غاشیہ کا سیل بجا… انجان نمبر تھا, اس نے حدید کی طرف دیکھا
“سپیکر آن کرو… ” اس کی بھی چھٹی حس جاگ گئی تھی, غاشیہ نے کال اٹینڈ کرتے ہی سپیکر آن کر لیا
“میں نے بہت بار دیکھا ہے… سیاہ بادلوں میں چھپتا ہوا چاند لیکن… ہمیشہ آسمان پر دیکھا ہے… یوں چند انچ کی دوری سے آج دیکھ رہا ہوں” مسکراتی ہوئی آواز تھی
“کک… کہاں ہو تم… ؟؟؟” غاشیہ چیخ پڑی
“غاشی آہستہ… ” حدید نے اس کے ہاتھ سے موبائل لینا چاہا تھا
“کمینے انسان… تم اپنے باپ کی اولاد ہو تو کال مت کاٹنا… کال مت کاٹنا” وہ سیل کان سے لگاۓ باہر کو بھاگی تھی, حدید اسے دیکھتا رہ گیا
“ہو کہاں تم خبیث انسان…”وہ مسلسل ادھر ادھر نظریں دوڑاتے ہوۓ ہال میں ادھر ادھر دوڑ رہی تھی, جوائنٹ فنکشن تھا…بلاک ہیل میں ادھر سے ادھر بھاگتے اس کا سانس پھول گیا تھا
“غاشیہ… ہوش کرو…حالت دیکھو اپنی” حدید نے اسے کندھوں سے تھام کر کرسی پر بٹھایا تھا, تبھی ایک ویٹر اس کے پاس چلا آیا
“میم… یہ آپ کے لئے ” وہ ایک ٹرے میں جوس کا گلاس رکھ کر لایا تھا
“یہ کس نے بھیجا ہے ؟؟” غاشیہ اس پر چڑھ دوڑی, تبھی اس کا سیل بجا
“خبیث انسان سامنے کیوں نہیں آتے ہو ؟؟” وہ چنگھاڑی
“غاشیہ ریلیکس… ” حدید کو اس کی بکھرتی حالت پر طیش چڑھ رہا تھا
“غاشیہ ملک بس کرو… بس کرو خود سے جھوٹ بولنا… اپنی حالت پر ترس کھاؤ… تمہیں کچھ ہو گیا تو میرا نقصان کون بھرے گا” وہ بڑے جذب سے, بڑے حق سے کہہ رہا تھا, غاشیہ نے گھما کے موبائل ہال کی دیوار سے دے مارا… وہ لمحوں میں چکنا چور ہو گیا تھا
“خبردار جو اب تم اس کرسی سے اٹھیں… ” حدید نے انتہائی غصے سے کہا تھا, تبھی اس کا موبائل بجا… اذن کی کال تھی
“ہاں.. ” حدید نے اپنا لحجہ نارمل رکھتے ہوئے کہا
“طہٰ نہیں پہنچا اب تک… ؟؟؟” اس نے پوچھا
“نہیں…”
“میں کال کر رہا ہوں تو نمبر بند ہے…. ” اذن نے کہا
“اچھا میں کرتا ہوں… “حدید نے ایک لمبی سانس بھرتے ہوئے طہٰ کا نمبر ملایا… وہ واقعی بند تھا
“طہٰ کا کوئی اور نمبر ہے… ؟؟” اس نے غاشیہ سے پوچھا جو اپنے ہاتھوں میں سر گراۓ بیٹھی تھی
“جو بھی تھا اسی میں تھا… ” وہ کرچی کرچی ہوۓ موبائل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولی
“یہاں سے ہلنا مت… “حدید اسے کہہ کر سٹیج پر آ گیا, اذن نے نظروں ہی نظروں میں اس سے سوال کیا تھا, وہ دھیرے سے سر ہلاتے ہوئے زرقا کے پاس بیٹھ گیا
“طہٰ کا نمبر بند ہے… کوئی دوسرا نمبر ہے تو دو” اس نے کہا, زرقا نے موبائل نکالا اور اسے نمبر نوٹ کروایا, حدید نے کال کی تو وہ بھی بند تھا
“بیس منٹ پہلے کا آنلائن ہے… اس کے بعد سے نمبر بند ہے” اذن دھیرے سے حدید کی طرف جھکتے ہوۓ بولا تھا
“حدید… مولوی صاحب آگئے ہیں” درید نے آ کر دھماکہ کیا تھا, اب وہ پریشان ہوا
“خالد کا نمبر ہے ؟؟؟” اس نے زرقا سے پوچھا, اس نے نفی میں سر ہلا دیا, حدید بھاگ کر غاشیہ کے پاس آیا
“خالد کا نمبر یاد ہے ؟؟؟” اس نے نفی میں سر ہلا دیا
“آیا نہیں طہٰ… ؟؟؟” وہ پریشانی سے اٹھ کھڑی ہوئی
“مجھے تو لگتا ہے کہ ڈر گیا سالا… ” حدید نے کہا
“کہیں ابو کو نہ پتہ چل گیا ہو… اور انہوں نے اسے گھر میں بند کر دیا ہو” غاشیہ پریشانی سے بولی, تبھی اذن خود اٹھ کر حدید کے پاس آیا
“ارمغان کہاں ہے ؟؟؟؟” اس نے پوچھا
“کیوں… ؟؟” حدید حیرانی سے بولا
“اس کے پاس خالد کا نمبر ہو گا” اذن نے کہا
“وہ کیسے ؟؟؟” حدید سمجھ نہ سکا, اذن نے ایک نظر غاشیہ کو دیکھا, خالد سمیت ان تینوں بہن بھائیوں کو بھی ارمغان کے بارے میں کچھ نہیں پتہ تھا…تیمور ملک نے بتایا ہی نہیں, بس انہیں اتنا پتہ تھا کہ شاہ نور چاچو نے خود کشی کر لی تھی…سواۓ شازیہ کے… وہ تب چھ سال کی تھی سو حقیقت جانتی تھی… یہ ہی اس لمحے اذن نے سوچا, اسے لگا شاید غاشیہ کو ارمغان کے بارے میں نا پتہ ہو
“وہ بعد میں بتاؤں گا… فی الحال اسے کال کریں” اذن نے کہا
“اذن… کیا مسئلہ بن گیا ؟؟؟” عمر فاروق اس کی طرف آۓ
“کچھ نہیں ابو… آ جائیں” وہ انہیں لیے دوبارہ سٹیج کی طرف چلا گیا
“ارمغان… ” حدید نے کچھ فاصلے پر کھڑے ارمغان کو آواز دی تھی, غاشیہ دوبارہ کرسی پر ڈھے سی گئی
“خالد ملک کا نمبر چاہئے… وہ آئرن سٹور والا” حدید نے کہا
“تیمور آئرن سٹور والا… ؟؟؟” ارمغان کو اچنبھا ہوا تھا
“ہاں.. ” حدید نے کہا
“خیر ہے ؟؟؟ بھابھی کی طبیعت تو ٹھیک ہے ؟؟” اسے لگا جیسے غاشیہ کو کچھ ہو گیا ہے
“ہاں یار… بعد میں تفصیل بتاتا ہوں, پہلے نمبر دے”حدید نے کہا, ارمغان نے اسے نمبر سینڈ کر دیا
“حدید بات کر رہا ہوں… ” خالد اسے پہچان گیا تھا
“طہٰ نہیں پہنچا اب تک… ؟؟؟” اس نے پوچھا
“میرے پاس سے تو بیس منٹ پہلے نکل گیا تھا گاڑی لیکر…. ” خالد نے حیرانی سے کہا
“نمبر بند جا رہا ہے اس کا” حدید نے کہا
“میں پتہ کرتا ہوں”وہ بھی پریشان ہو گیا تھا
“حدید… ” درید نے اسے آواز دی تھی وہ اس کی طرف چلا آیا, غاشیہ بھی اس کے پیچھے ہی تھی
“مولوی صاحب نے ایک اور جگہ بھی جانا ہے… پھوپھا کہہ رہے ہیں جلدی کرو” درید نے کہا, تبھی سائید روم سے نکاح خوان اور اس کا اسسٹنٹ باہر نکل آۓ, عمر فاروق اور راۓ عبید ان کے ساتھ تھے, حدید نے پریشانی سے سٹیج کی طرف دیکھا… اذن کے چہرے پر اب ہوائیاں اڑی تھیں… پچھلے سارے عرصے میں وہ اب پریشان ہوا تھا… زرقا کی رنگت پیلی زرد ہو گئی تھی
“حدید کچھ کرو…. انکل نکاح خوان کو لے آۓ ہیں, حدید پلیز… طہٰ تو ابھی آیا ہی نہیں… ” غاشیہ کے چھکے چھوٹ گئے تھے, وہ چاروں افراد مسلسل سٹیج کی طرف بڑھ رہے تھے
“حدید کچھ کرو… حدید زرقا کا نکاح ہو جاۓ گا… ” غاشیہ نے اس کا بازو کھینچا تھا, تبھی خالد کی کال آ گئی
“میرا طہٰ سے کوئی رابطہ نہیں ہوا, وہ گھر پر بھی نہیں ہے, دوستوں سے بھی نہیں ملا… اطہر کو بھی کوئی خبر نہیں”وہ کہتا چلا گیا
“ہاۓ… حدید کچھ کرو… ” غاشیہ کے آنسو نکلنے والے ہو گئے تھے
ایک طرف طہٰ کی ٹینشن اور دوسری طرف اس انجان بندے کی پریشانی… حدید کی ساری فرسٹریشن ایک تھپڑ کی صورت میں غاشیہ پر نکل گئی
“شٹ اپ… ” وہ زور سے دہاڑا تھا, غاشیہ لڑکھڑا کر نیچے کو گر گئی…آنکھیں حیرانی سے پھیل سی گئیں, دایاں ہاتھ سرخ گال پر رکھے وہ بے یقینی سے حدید کو دیکھتی رہ گئی, راۓ عبید یکدم رک گئے, پورا ہال ان دونوں کو دیکھنے لگا تھا, اسماء کے چہرے پر مسکراہٹ رینگ گئی, اسراء نے بھاگ کر غاشیہ کو اٹھایا تھا
“یہ کیا بے ہودگی اور بدتمیزی ہے… ؟؟؟ جو مار پیٹ کرنی ہے دونوں گھر جا کر کرنا سمجھے” راۓ عبید کو طیش چڑھ گیا تھا, نکاح خوان سٹیج تک پہنچ چکے تھے, غاشیہ بمشکل خود پر قابو پاتے ہوئے کرسی پر بیٹھ گئی, حدید نے دروازے کی طرف دیکھا… طہٰ کا دور دور تک نام و نشان نہیں تھا, راۓ عبید دوبارہ سٹیج تک پہنچ گئے, حدید اور درید ان کے پیچھے تھے, زرقا کی انگلیوں کی کپکپاہٹ بڑھتی جا رہی تھی, اذن خود دم بخود بیٹھا تھا… یہ تو اس نے سوچا ہی نہیں تھا
تبھی اسے شونا کی کال آئی…
“میں کب آؤں ؟؟؟” وہ پوچھ رہی تھی
“طہٰ نے کال نہیں کی ؟؟؟” اذن نے پوچھا
“اس کا تو نمبر ہی بند ہے… “شونا کے کہتے ہی اذن ششدر سا رہ گیا
طہٰ نہ جانے کہاں رہ گیا تھا
“شروع کریں مولانا صاحب… ” عمر فاروق نے کہا, سبھی سٹیج کے آس پاس موجود تھے, زرقا کے ساتھ والے صوفے پر آمنہ بیٹھی تھیں, ان کے ساتھ اسماء اور انیتا کھڑی تھیں, اسراء سٹیج سے نیچے غاشیہ کے پاس کھڑی تھی, اذن کے ساتھ والے صوفے پر مولانا صاحب بیٹھے تھے, ان کے ساتھ عمر فاروق اور راۓ عبید بیٹھے تھے, پیچھے صمد اور درید کھڑے تھے, نیچے حدید اور ارمغان کھڑے تھے
مولانا نے نکاح شروع کر دیا
زرقا کا سر جھکتا ہی جا رہا تھا, بمشکل وہ آنسوؤں پر بند باندھے بیٹھی تھی… اذن بھی گھبراہٹ میں مسلسل ٹانگ ہلاۓ جا رہا تھا
حدید نے پھر مڑ کر دیکھا… طہٰ ندارد
خالد کی کال آ گئی… وہ ذرا سائیڈ پر ہو گیا
“پہنچ گیا طہٰ… ” اس نے پوچھا
“نہیں… ” حدید کی آواز بھی نہ نکل سکی
“خالد… یار اس کا پتہ کر… نکاح شروع ہو گیا ہے” حدید از حد پریشان تھا
“وہ… کہیں بھی نہیں ہے… خدا جانے کیا ہوا ہے اس کے ساتھ… ؟؟؟” خالد انتہائی فکرمند تھا, حدید نے کال کاٹ دی
“اذن فاروق راۓ ولد عمر فاروق راۓ کیا آپ کو زرقا راۓ ولد راۓ عبید سے نکاح بعوض حق مہر پچاس ہزار روپے سکہ رائج الوقت قبول ہے ؟؟؟” مولانا نے اس سے پوچھا تھا
اذن کے ہوش اڑ گئے… اس نے سامنے ہال کے دروازے کی طرف دیکھا… وہاں کوئی بھی نہیں تھا
“اذن میرے بھائی… کچھ بھی ہو جاۓ… قبول ہے مت کہنا” اسے یاد آیا… لیکن… کیا قبول یے نہ کہنا اتنا ہی آسان تھا ؟؟؟
اس نے حدید کو دیکھا… غاشیہ کو دیکھا… پھر دروازے کو دیکھا…اور پھر سر جھکا دیا
“قبول ہے… ” اس کے ساتھ بیٹھے وجود پر قیامت ٹوٹ پڑی تھی
“زرقا راۓ ولد راۓ عبید کیا آپ کو اذن فاروق راۓ ولد عمر فاروق راۓ سے نکاح بعوض حق مہر پچاس ہزار روپے سکہ رائج الوقت قبول ہے ؟؟؟” مولانا اب کے اس سے مخاطب تھے, زرقا نے بمشکل سر اٹھایا… دروازے کی طرف دیکھا
“طہٰ… ” دل سے ہوک سی اٹھی… حدید چپ کھڑا تھا… غاشیہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی
“زرقا… ” اسماء نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا
زرقا نے آنکھیں بند کر لیں…
“قبول ہے… ” دو آنسو ٹوٹ کر اس کے ہاتھوں پر آن گرے تھے, غاشیہ نے زور سے اپنا سر میز پر گرا دیا… آمنہ نے اسے خود سے لگا لیا… مبارک سلامت کی آوازیں آ رہی تھیں
مولانا نے دعا کروائی اور اذن کو مبارکباد دے کر اٹھ کھڑے ہوئے
“مبارک ہو میرا بیٹا… ” سب سے پہلے اسے عمر فاروق نے گلے لگایا تھا… پھر راۓ عبید, صمد, درید, ارمغان… حدید اپنی جگہ سے ہل نہ سکا
اذن نے اس کی طرف دیکھا… وہ تھکا تھکا سا اس کی طرف بڑھا
“خدا کے کرنے میں بہت بھلائی ہے… جو ہوا یہ ہی بھلا ہو گا” وہ سرگوشی میں بولا تھا, اذن دوبارہ زرقا کے برابر میں بیٹھ گیا, اسے صرف اس کی کپکپاتی ہوئی انگلیاں دکھائی دے رہی تھیں… سر جھکا ہوا تھا
بہت نرمی سے اس نے بنا کوئی پرواہ کیے اس کی لرزتی ہوئی انگلیوں کو اپنے مضبوط ہاتھ کے حلقے میں مقید کیا تھا
“پلیز رونا مت… ” زرقا کے کانوں میں سرگوشی سی گھولتے ہوۓ وہ بالکل اس کے ساتھ جڑ کر بیٹھ گیا تھا, کچھ ہی دیر بعد کھانا کھل گیا…غاشیہ ہنوز اسی میز پر سر گراۓ بیٹھی تھی
“غاشیہ… طبیعت ٹھیک ہے تمہاری ؟؟؟” اسراء نے اس کے پاس آ کر پوچھا
“ہاں…ٹھیک ہے”وہ پانی کا پورا گلاس حلق میں اتارتے ہوئے بولی تھی
“کچھ لا دوں تمہیں.. ؟؟؟” اسراء کو وہ بالکل ٹھیک نہیں لگ رہی تھی
“نہیں. اسراء… تھینکس” وہ جبری سا مسکرائی پھر اٹھ کر زرقا کے پاس آ گئی, وہ اکیلی ہی بیٹھی تھی, اسماء اس کے لئے کھانا لینے گئی تھی, اذن کو بھی حدید وہاں سے لے گیا تھا
“زرقا… ” غاشیہ نے اس کے دونوں ہاتھ تھام لئے… وہ ٹھنڈی برف ہوۓ جا رہی تھی
“میری طرف دیکھو… ” اس نے کہا, زرقا نے بمشکل اس کی طرف دیکھا… لبا لب بھری ہوئی آنکھیں
“جتنا رونا ہے یہیں سے رو کر جانا… اپنے گھر جا کر مت رونا… ایک چناؤ تمہارا تھا… اور ایک چناؤ اس رب کا تھا… بہترین تو اسی کا ہے نا… ” وہ کہتی چلی گئی, تبھی اسماء اس کا کھانا لے آئی
“اب کیا پٹیاں پڑھا رہی ہو اس کو… ؟؟” وہ طنز کیے بنا رہ نہ سکی, غاشیہ خاموشی سے وہاں سے اٹھ گئی, کھانے کے بعد رسومات شروع ہو گئیں, طہٰ کا ہنوز کچھ پتہ نہیں تھا
دودھ پلائی کی رسم کے دوران ارمغان نے انیتا کو اچھا ہی تنگ کیا… وہ بیچاری زچ ہو گئی تب اذن کو اسے پیسے دینے دئیے, چار بجے تک فوٹو سیشن چلا… پانچ بجے کے قریب رخصتی ہونا تھی, اسماء نے ایک چادر زرقا کے سر پر ڈال دی, سب ایک بار پھر گلے مل رہے تھے, درید نے ان دونوں پر قرآن کا سایہ کر رکھا تھا, زرقا رو نہ سکی… راۓ عبید نے اسے گلے سے لگایا, اس کا ماتھا چوما, صمد نے سر پر ہاتھ رکھا, درید نے بازوؤں میں لیا… وہ رو نہ سکی
بس خاموشی سے اذن کے برابر میں چلتی چلی گئی, مین دروازے پر کافی رش تھا, فوٹو گرافرز, مووی میکرز, مہمان, شائقین…
تبھی وہ بھاگتا ہوا اندر آیا تھا… گرتے پڑتے لوگوں میں جگہ بناتے ہوئے آگے کو بڑھا تھا
سب سے پہلے اسے حدید نے دیکھا… پھر زرقا نے… پھر اذن نے… پھر غاشیہ نے
ماتھے پر سفید پٹی جو خون سے سرخ ہو رہی تھی, آنکھ کے نیچے رستا ہو زخم… چہرے پر جا بجا نیل… دایاں ہاتھ شاید فریکچر تھا… پلستر میں لپٹا ہوا… گردن سے لٹکتا ہوا… دائیں ٹانگ میں واضح لنگراہٹ تھی, بازوؤں پر جا بجا خراشیں… لیکن وہ پھر بھی رستہ بناتے ہوئے آگے بڑھ رہا تھا
اسی لمحے غاشیہ بھاگتی ہوئی آگے بڑھی, سامنے کھڑے لوگوں کے پیچھے سے ہوتی ہوئی مجمع میں گھسی اور اس سے پہلے کہ وہ کیمرے کے سامنے آتا… غاشیہ نے اسے بازو سے پکڑ کر پیچھے کھینچ لیا
“چھوڑو مجھے… ” وہ بلک اٹھا
“طہٰ… چلو میرے ساتھ” وہ اسے اپنے ساتھ کھینچتے ہوۓ سائیڈ روم میں لے آئی دروازہ بند کر دیا
“غاشیہ دروازہ کھولو… وہ میری ہے… وہ میری ہے… میں آ تو گیا” وہ دوبارہ دروازے کی طرف بھاگا تھا, غاشیہ نے اسے بازو سے پکڑ کر کھینچا اور خود سے لگا لیا
“طہٰ… بس کرو, وہ تمہاری نہیں رہی” وہ اسے مضبوطی سے بازوؤں میں لیکر نیچے بیٹھتی چلی گئی تھی, آنسو بہتے چلے آ رہے تھے
دوسری جانب حدید اسے دیکھتے ہی زرقا کی طرف بڑھا تھا
“حدید بھائی.. ” وہ ایک دم پھوٹ پھوٹ کر روئی تھی. حدید نے اسے بھینچ کر خود سے لگا لیا
“بس میرا بچہ… بس, بس” وہ اسے اپنے بازوؤں میں لیے باہر گاڑی تک لے آیا, زرقا روۓ جا رہی تھی, تبھی اس کی نظر خالد پر پڑی… طہٰ کو شاید وہی لیکر آیا تھا, ذرا دور ایک گاڑی کے پاس کھڑا تھا, حدید نے خاموشی سے زرقا کو پچھلی سیٹ پر بٹھا دیا, ساتھ اسراء بیٹھ گئی تھی
“اذن اسے رونے دینا… جتنا چاہے رونے دینا” وہ اذن سے گلے ملا اور اس کے لئے گاڑی کا فرنٹ ڈور کھولا, وہ چپ چاپ بیٹھ گیا, ارمغان سرعت سے گاڑی نکال لے گیا تھا, حدید دوبارہ اندر کو بھاگا…خالد اس کے پیچھے ہی تھا
“غاشیہ…” وہ سائیڈ روم میں آیا اور ٹھٹھک گیا.. طہٰ اس سے لپٹا بچوں کی طرح رو رہا تھا
“غاشیہ…. “خالد کے کہتے ہی اس نے سر اٹھایا… آج ڈھائی سال بعد شکل دیکھی تھی اس کی
“خالد بھائی… ” وہ ایک بار پھر رو پڑی
“دیکھیں خالد بھائی… ہم تینوں بہن بھائیوں کا مقدر کتنا ایک جیسا ہے… ہمیں چپ رہ کر بھی کچھ نہیں ملتا, ہمیں کوشش کر کے بھی کچھ نہیں ملتا… اور ہمیں حاصل ہو کر بھی کچھ نہیں ملتا” وہ ڈھے سی گئی
“طہٰ… اٹھ یار… جوان ایسے تھوڑی نہ روتے ہیں… ” حدید نے اسے غاشیہ سے الگ کیا تھا
“حدید بھائی وہ… میری تھی… میں نے کیا کچھ نہیں کیا… میں نے…” طہٰ روۓ جا رہا تھا
“خالد… اسے گھر لے جا… دھیان رکھنا اس کا” خالد نے بمشکل اسے گاڑی میں بٹھایا تھا
“چلو… ” اس نے آخر میں غاشیہ کا ہاتھ تھام لیا جسے اس نے ایک جھٹکے سے جھٹک دیا تھا
…………………………
جاری ہے
کھانا تو کھا لیا تھا نا سب نے ؟؟؟؟