No Download Link
Rate this Novel
Episode 27
ستائیسویں قسط
سات سال پہلے
آج اسماء کی بارات تھی… فنکشن ہال میں رکھا گیا تھا, اسراء کا دل تو نہیں چاہ رہا تھا لیکن مجبوری تھی… وہ بڑی بے توجہی سے تیار ہوئی… اس کی اور انیتا کی ساڑھیاں بالکل ایک جیسی تھیں
سرخ عروسی جوڑے میں اسماء کی سج دھج ہی نرالی تھی
نکاح کے بعد اسے صمد کے برابر میں بٹھا دیا گیا…رسومات شروع ہو چکی تھیں, دودھ پلائی میں زبردستی انیتا نے اسے کھینچ لیا, خود پر جبر کر کر کے وہ تھک گئی تو نا محسوس سے انداز سے سیڑھیاں چڑھتی ہوئی اوپر چلی گئی, ہال کا اوپری حصہ زیر تعمیر تھا, وہ دونوں بازو سینے پر باندھتی ہوئی ریلنگ کے پاس کھڑی ہو گئی… نیچے سے کھانے کی انتہا انگیز خوشبو آنے لگی تھی, کافی دیر وہ وہاں کھڑی لاہور کی جگ مگ دیکھتی رہی, دسمبر ک اوائل تھا… بلاؤز کی ہاف سلیوز میں اسے کپکپاہٹ سی محسوس ہوئی تھی
اس سے پہلے کہ وہ پلٹ کر واپس نیچے کی طرف جاتی, کسی کے قدموں کی آہٹ سی ابھری تھی, اسراء نے حیرانی سے پلٹ کر دیکھا
وہ نیوی بلو چیک سٹائل کے تھری پیس میں ملبوس عین اس کے پیچھے کھڑا تھا… معمول سے کچھ زیادہ ہی پرکشش اور خوبصورت لگ رہا تھا, اسراء تا دیر اس پر نظریں جماۓ کھڑی رہی
“تمہیں کس نے بلایا ؟؟” اس نے پوچھا
“تم نے تو نہیں بلایا نا… ؟؟؟” شکوہ ہوا تھا
“میں تمہیں اپنی شادی میں بلاؤں گی” اسراء نے دھیرے سے کہا تھا, وہ دیوانہ وار اسے دیکھتا رہ گیا, وہ قاتل حسینہ بھی نیوی بلو ساڑھی میں ہی ملبوس تھی… سیاہ ریشمی بال ہوا کے ساتھ ساتھ ہی سرسرا رہے تھے, اس لمحے وہ اس چھت پر کھڑی سیاہ رات کا چاند ہی لگ رہی تھی
شافع کو اس لمحے شدت سے اپنے خالی پن پر رونا آیا.. وہ ہاتھ بڑھا کر اسے چھو سکتا تھا لیکن…. کس حق سے ؟؟؟
“اسراء… ” وہ بے خود ہو گیا, اس کی طرف بڑھتا چلا گیا…اسراء پیچھے ہٹتی چلی گئی, ریلنگ نے حد بندی کی تھی, اسراء کے قدموں کو بریک لگی تھی, شافع اس کے قریب آ گیا… اتنا کہ اس کی صراحی دار گردن میں پہنا نیکلس واضح ہوا تھا, اس کے کانوں سے لٹکتے ایئر رنگز جھولتے نظر آنے لگے, اس کے وجود سے اٹھتی خوشبو سانسوں سے ٹکرانے لگی
“میں کیسے پورا کروں گا تمہارا خسارہ… ؟؟؟” شافع نے اپنے دونوں بازو اس کے دائیں بائیں ریلنگ پر رکھے تھے, اسراء کو اس کی وہی مانوس سی خوشبو محسوس ہونے لگی
“جیسے میں پورا کروں گی… تمہارا خسارہ” دو موتی جیسے آنسو اس کی آنکھوں کے گوشوں میں چمکے تھے, ٹھنڈی ہوا کا جھونکا سا آیا تھا, اسراء کے بال شافع کے چہرے کو چھو کر اس کے چہرے سے لپٹ گئے, بڑے حق سے شافع نے اپنا ایک بازو اس کی کمر کے گرد لپیٹا تھا یوں کی اسراء اس کے بازو کے حصار میں آ گئی.. پھر ہلکا سا دباؤ ڈال کے اسے اپنے ساتھ جوڑ لیا… دوسرے ہاتھ سے اس نے اسراء کے چہرے سے لپٹتی زلفیں ہٹائیں تھیں… اس کی انگلیاں اسراء کے بالوں میں سرسراتی چلی گئیں
“شافع… ” وہ بولی تو شافع انصاری کو جلترنگ سنائی دینے لگے, بے خود سا ہو کر اس نے اسراء کے بالوں کی مہک کو اپنے اندر اتارا تھا
“میں نے تو اپنے تئیں سب ٹھیک کیا تھا اسراء… تمہیں دیکھا… تم سے محبت کی… تم سے نکاح کرنا چاہا…تمہارا رشتہ مانگا… پھر غلطی کہاں ہوئی ہے مجھ سے ؟؟؟” وہ اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوۓ پوچھ رہا تھا, اسراء کے آنسو گالوں پر لڑھک آۓ
“تم مجھے دیکھنا ہی نہیں چاہئے تھا… ” وہ اس کا حصار توڑ کر باہر نکلی تھی
“اسراء… ” اس کی کلائی شافع کے ہاتھوں میں آ گئی… چوڑیاں کھنکھنا گئی تھیں
“I love you… “
شافع انصاری کی اس بے بسی کو کون جان سکتا تھا
………………….
“حدید…. ” اسے اپنے پیچھے انیتا کی مسکراتی سی آواز سنائی دی تھی, مونگیا رنگ کی شیفون کی ساڑھی میں وہ کسی کا بھی دل دھڑکانے کی حد تک حسین لگ رہی تھی
“تم سے بات کرنی تھی ؟؟؟” وہ بولی
“ہاں… ” حدید کی یہ بے نیازی ہی تو قاتل تھی
“وہ… اس شام چھت پر… تم نے مجھ سے جو کہا… وہ مذاق تھا نا ؟؟؟؟” انیتا کہا… حدید بس اسے دیکھتا رہ گیا
“انیتا… وہ اگر مذاق ہوتا… تو آج اسماء اور صمد کے ساتھ ساتھ ہم دونوں کی بھی شادی ہو جاتی” وہ کسقدر صاف گو تھا
“مطلب تم… ” وہ بول نہ پائی
“انیتا… میری بات سنو, تم بہت اچھی ہو…بہت زیادہ, میں بہت عزت کرتا ہوں تمہاری… لیکن… ایم سوری, میں تمہاری محبت کے بدلے میں تم سے محبت نہیں کر سکتا” حدید کہتا چلا گیا
“کیوں ؟؟؟ کیا یہ اتنا ہی مشکل ہے ؟؟؟” اس کی سرمئ جھیلیں لبا لب بھر گئیں
“یہ مشکل نہین ہے…. نا ممکن ہے ” حدید نے کہا
“میرے لئے خود کو ضائع مت کرو انیتا… میں تمہارے لئے نہیں ہوں” وہ صاف الفاظ میں کہہ گیا تھا, انیتا بس گم صم سی کھڑی رہ گئی
…………………………….
دھیرے سے وقت کچھ اور سرکا… اسماء کو رخصت ہوئے چھ ماہ گزر گئے, شافع کو یقین ہو گیا کہ اسراء ک منگیتر اب واپس نہیں آنے والا… کئی بار اس کا دل چاہا کہ اس کی انویسٹیگیشن کرواۓ… لیکن پھر رک گیا
ایک بار پھر وہ روبینہ کو لیکر اسراء کے گھر گیا… ایک بار پھر سے اپنے سارے وعدے دہراۓ, ساری التجائیں نئے سرے سے آمنہ کے آگے رکھیں, روبینہ جتنا فقیر بن سکتی تھیں بن گئیں لیکن آمنہ کی بس یہ ہی رٹ تھی کہ میری بیٹی کا رشتہ ہو چکا ہے اور اگلے سال اس کی شادی ہے
چھ ماہ مزید گزرے تو آمنہ نے ایک بار پھر راۓ عبید کے گھر کا رخ کیا… اسراء اور درید کی منگنی کو تین سال ہونے کو آۓ تھے, راۓ عبید نے اسی رات درید کو فون کیا…بجاۓ اس کے کہ وہ واپس آتا… اس نے اپنے چند دن کے بیٹے کی تصویریں بھیج دیں
ایک بار پھر صمد اور راۓ عبید سر جوڑ کر بیٹھ گئے
“یہ سارا سیاپا تیرا کھلارا ہوا ہے…نہ تو اس جعفر کے بچے کا احسان لیتا اور نہ یہ درید کا بچہ وہاں شادی کرتا… ” راۓ عبید نے کہا
“ابو میرا کیا قصور… ؟؟ میں نے کہا تھا اسے کہ جا کر فٹ شادی بھی کر لے” صمد تڑخا
“ابو… ابھی بھی وقت ہے, پھپھو کو منع کر دیں, انہیں سچ بتا دیں, اسراء کی زندگی تباہ ہو جانی ہے” صمد نے کہا
“نہیں صمد… میں ساری عمر کیا منہ دکھاؤں گا اسے… وہ کہے گی تین سال بعد منگنی توڑ دی, کیا عزت رہ جاۓ گی برادری میں ؟؟؟ ” راۓ عبید نہیں مان رہے تھے, انہیں ڈر تھا کہ میری اکلوتی بہن چھوٹ جاۓ گی, عمر کیا کہے گا کہ میری بیٹی کے ساتھ کیا کیا ؟؟؟ لوگ کیا کہیں گے کہ راۓ عبید نے اپنی بہن کے ساتھ کیا کیا ؟؟؟ جھوٹ بولا… وعدہ خلافی کی… سگی بھانجی کا رشتہ توڑ دیا… برادری کیا کہے گی ؟؟؟ انہوں نے سب کچھ سوچا… بس ایک اسراء کا ہی نہ سوچا کہ اس کا کیا قصور تھا…؟؟؟
آسیہ کو بھی ان دونوں نے کچھ نہ بتایا… درید کو بھی اسے کچھ بھی بتانے سے منع کر دیا…یونہی چھ ماہ مزید گزر گئے
………………………
اس دن شافع گھر پہنچاتو سیٹھ بابر آیا ہوا تھا, رافع بھی گھر پر ہی تھا, روبینہ نے چاۓ بنا لی, پورا کمرہ سگریٹ کے مرغولوں سے بھر گیا تھا
“شافع… تجھ سے ایک بات کرنی تھی” وہی اس کا سپاٹ سا لحجہ
“جی ابو… “وہ بیچارہ ناک پر رومال رکھ کر بیٹھا تھا
“شادی کا کب تک ارادہ ہے تیرا ؟؟؟” اس نے پوچھا
“خیر ہے ؟؟؟” شافع نے کہا
“بانو آجکل فرح کے لئے رشتہ ڈھونڈ رہی ہے, چوبیس سال کی ہو گئی ہے وہ… میں چاہ رہا تھا کہ اگر تیرا اور فرح کا رشتہ… ” روبینہ نے اس کی بات کاٹ دی
“تو آپ احمد یا شاہد کے لئے کیوں نہیں لے لیتے اسے…” روبینہ نے کہا
“احمد تو باہر جانے کا کہہ رہا ہے… ” وہ بولا
“اور شاہد… ؟؟؟” روبینہ نے کہا
“شاہد کی طبیعت ذرا تند مزاج ہے… فرح کا گزارہ نہیں ہو گا اس کے ساتھ” بابر نے یوں کہا جیسے روبینہ انجان ہو
“تو ساجد کے لئے لے لیں… فرح سے چھ ماہ ہی چھوٹا ہے وہ… ” وہ بولیں
“شافع کی ہو جاۓ گی تو تجھے کیا مسئلہ ہے ؟؟؟” بابر اکتا کر بولا
“میں بچی نہیں ہوں بابر… میں نے پندرہ سال گزارے ہیں اس گھر میں…فرح کی خصلتوں سے میں بہت اچھی طرح واقف ہوں… پتہ ہے مجھے کہ رضیہ اسے اپنے بیٹوں کے لئے کیوں نہیں لے رہی” روبینہ کہتی چلی گئی
“ابو… ” اس سے پہلے کہ سیٹھ بابر کچھ کہتا… شافع بول پڑا
“میں کسی اور سے شادی کرنا چاہتا ہوں… “سیٹھ بابر چپ رہ گیا
“کون ہے ؟؟؟؟”شافع نے مختصراً بتا دیا
“راجپوت تو مر کے بھی رشتہ نہ کریں انصاریوں میں…؟؟؟” بابر نے کہا
“ابو…. ایک دفعہ اس کے باپ سے بات تو کریں, پلیز” شافع نے ایک اور کوشش کرنی چاہی تھی
“اگر وہ نہ مانا تو ؟؟؟” بابر نے پوچھا
“پھر فرح سے کر لے گا.. ؟؟؟؟”
“دیکھوں گا… آپ بات تو کریں… ” شافع نے کہا
لیکن بابر کے عمر فاروق سے بات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں تھا… وہ تو مانے ہوۓ تھے
اس رات وہ ایک بار پھر آمنہ کے سامنے کھڑے ہو گئے
“تین سال ہو گئے ہیں اسراء کی منگنی کو… اب اور کتنا امتحان لینا ہے انہوں نے ہمارا… ؟؟؟”
“درید آۓ گا تو ہو جاۓ گی شادی… ” آمنہ نے کہا
“کب آۓ گا ؟؟؟” انہوں نے پوچھا تھا
اس ک جواب تو آمنہ کے پاس بھی نہیں تھا, اگکے ہی دن وہ راۓ عبید کے گھر جا پہنچیں
“عبید بھائی میں آج اخری بار آئی ہوں.. اب نہیں آؤں گی… بس اب میں انگوٹھی ہی واپس بھجواؤں گی… میری بچی کو تو تماشہ بنا دیا آپ نے.. ” شافع کا سارا غصہ راۓ عبید پر اتر گیا
“نہیں آمنہ… ایسی کوئی بات نہیں ہے… ” آسیہ بھونچکا رہ گئیں
“تو اور کیا بات ہے… ؟؟؟ آسیہ میری بچی میں کوئی کمی ہے کیا… ؟؟؟ اسماء سے زیادہ خوبصورت ہے, دن کے دس رشتے آتے ہیں اس کے لئے…. تین سال یو گئے اسے درید کے نام پر بیٹھے… ہم تو نہ ادھر کے نا ادھر کے… نہ یہاں سے توڑنے والے نا کہیں اور جوڑنے والے” آمنہ برس ہی پڑیں
“وہ لڑکا انوکھا ہی باہر گیا ہے جو دس, پندرہ دنوں کے لیے واپس نہیں آ سکتا… میں کہہ رہی ہوں آسیہ کہ اگر دو ماہ کے اندر اندر وہ لڑکا واپس نہ آیا تو میں اسراء کی منگنی توڑ دوں گی” وہ ببانگ دہل کہہ آئی تھیں
“آخر مسئلہ کیا ہے اس بے غیرت انسان کے ساتھ… واپس کیوں نہیں آتا ؟؟؟” آسیہ, راۓ عبید پر برس پڑیں
“میری بات کروائیں اس نکمے سے… ” انہوں نے آسمان سر پر اٹھا لیا تھا
“درید… مجھے بس اتنا بتا دے کہ تو واپس آۓ گا کہ میں آؤں ؟؟؟” وہ اس پر چڑھ دوڑی تھیں
“امی… کچھ دیر… ” آسیہ نے اس کی بات کاٹ دی
“صمد میرا ویزہ کروا.. میں خود جا رہی ہوں دبئی ” آسیہ نے کال ہی کاٹ دی تھی
عجیب صورتحال بن گئی تھی…. وہ واپس آنے کے لئے تیار نہ تھا…. راۓ عبید آمنہ کو انکار کرنے کے لئے تیار نہ تھے…اور آسیہ دبئی جانے کو تلی بیٹھی تھیں
ناچار صمد خود دبئی گیا… آسیہ سے چوری چھپے اور انتہائی سمجھا بجھا کر درید کو واپس لیکر آیا تھا
……………………….
شافع کی آخری امید بھی ختم ہو گئی… ارمغان کی زبانی اسے درید کے واپس آنے کی خبر ملی تھی, اسراء کی شادی ہونے جا رہی تھی, اس نے شافع سے ہر قسم کا رابطہ منقطع کر دیا تھا
درید صرف پندرہ دن کے لئے آیا تھا… آمنہ نے اس کے اچھے ہی لتے لئے
دوسری جانب سیٹھ بابر شافع کے سر پر سوار ہو گیا تھا, اور روبینہ انکار پر انکار کر رہی تھیں.. وہ بانو کو بھی ساتھ لیکر آیا تھا
روبینہ ساری دنیا کو انکار کر سکتی تھیں لیکن بانو… اس عورت سے انہوں نے پندرہ سال خلوص کے سوا کچھ نہ پایا تھا
“روبینہ… میں جانتی ہوں وہ کسی طور شافع کے قابل نہیں ہے, شافع کے مقدروں میں تو کوئی شہزادی لکھی ہو گی… لیکن… وہ میری اکلوتی بچی ہے روبینہ.. وہ کسی کو بھی دی تو جوتے ہی کھاۓ گی, احمد, شاہد یا ساجد میں سے کوئی بھی اسے برداشت نہیں کرے گا… کوئی اسے نہیں سدھارے گا روبینہ… یہ سدھار لے گا, تیرے جیسا صبر ہے اس میں… ” وہ کہتی چلی گئی
“اور اگر وہ نہ سدھری نا بانو… تو میرے بچے کی زندگی ہو بہو میرے جیسی ہو جاۓ گی” روبینہ نے کہا تھا
اسراء کے نکاح والی رات وہ آخری بار اس سے ملنے آیا تھا… ظاہر ہے اس ملاقات کے لئے اس نے ارمغان کا ہی منت ترلہ مارا تھا, پانچ, سات منٹ کے لئے وہ اسے برائیڈل روم میں چھوڑ گیا تھا
“میں نے ہمیشہ تمہارا یہ روپ اپنے لیے سوچا تھا… ” اس پچیس سالہ کامیاب ترین آپریشن مینیجر کا دل کیا کہ اپنی قسمت پر پھوٹ پھوٹ کر روۓ…
اور ایسا ہی ہوتا ہے… ہم اگر زندگی کے کسی موڑ پر کامیاب ترین ہوتے ہیں تو اگلے ہی کسی موڑ پر بری طرح فیل بھی ہو جاتے ہیں… اور وہ محبت پر آ کر فیل ہو گیا تھا
“کاش تم میری ہو جاتیں اسراء راۓ… تو میں دنیا کو دکھا دیتا کہ محبت سے کیسے محبت کرتے ہیں” بڑے حق سے, بنا کسی کی پرواہ کئے… وہ اس کا ماتھا چوم کر واپس چلا آیا تھا
ہمیشہ کے لئے…
تمہارا نعم البدل بھی بس تم ہو
یعنی خسارہ در خسارہ ہے
پندرہ دن بعد اس کی پروموشن ہوئی تو ساتھ ہی اس نے ٹرانسفر کروا لیا
اسراء کی شادی کے دو ماہ بعد ہی اس کا اور فرح کا نکاح ہو گیا تھا
…………………………………..
درید پندرہ دن بعد ہی واپس چلا گیا, وہ تو بس خانہ پری کے لیے آیا تھا, اییر پورٹ پر کھڑے ہو کر ہی وہ. ان دونوں سے الجھ پڑا
“خبردار… جو آپ دونوں میں سے کسی نے بھی جعفر یا طاہرہ کو میری اور اسراء کی شادی کے بارے میں بتایا…. مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا… اسی وقت میں نے اسراء کو سب کچھ بتا دینا ہے” وہ ستا پڑا تھا اسراء کا ایک نا ختم ہونے والا انتظار شروع ہو گیا تھا, اسماء کو خدا نے دو بیٹوں سے نوازا تھا, واپس جانے کے دو ماہ بعد ہی درید نے اپنی بیٹی کی خوشخبری بھی سنا دی… وہ تو فیملی مکمل کیے بیٹھا تھا, یونہی سال مزید گزر گیا… درید نے دوبارہ چکر نہ لگایا
اسماء نے دھیرے دھیرے حدید اور انیتا کے رشتے پر دباؤ ڈالنا شروع کر دیا, وہ اس گھر کی بڑی بہو تھی, راۓ عبید اور آسیہ اس کی بہت مانتے تھے, اور ویسے بھی حدید اپنے پیروں پر کھڑا ہو چکا تھا, آسیہ بیمار رہنے لگی تھیں, انیتا کا ایم اے مکمل ہو چکا تھا
وہ بھی ایسی ہی ایک عام سی رات تھی جب حدید نے بم پھوڑ دیا
“میں غاشیہ سے شادی کرنا چاہتا ہوں… ” راۓ عبید ششدر رہ گئے تھے, آسیہ ہکا بکا اسے دیکھ رہی تھیں, صمد دنگ کھڑا تھا
جتنا راۓ عبید اس پر غصہ کر سکتے تھے انہیں نے اتنا غصہ کیا… آسیہ نے منہ موڑ لیا, اس سے بات کرنی چھوڑ دی لیکن وہ اپنی ضد پر اڑ گیا, راۓ عبید نے چھان بین کروائی تو ان پر تو جیسے آسمان ہی ٹوٹ پڑا
غاشیہ ملک… تیمور ملک کی بیٹی تھی… ان کا پرانا دشمن
ان کے لبوں پر انکار جم گیا…
“آسیہ… کل ہم آمنہ سے اس کی اور انیتا کی شادی کی تاریخ لینے جائیں گے” انہوں نے فیصلہ سنا دیا تھا, حدید نے آسیہ کے سامنے صاف انکار کر دیا
دونوں باپ بیٹا آمنے سامنے کھڑے ہو گئے تھے, دونوں ہی اپنی ضد پر قائم تھے, اس بات کو عبید اور آسیہ نے حتی الامکان اسماء کے کانوں تک پہنچنے سے روکے رکھا.. وہ تو قیامت لے آتی
راۓ عبید نے آناً فاناً اس کی شادی کی تاریخ طے کر دی, درید کو دبئی گئے سال ہو گیا تھا, اسماء پھر امید سے تھی
گھر میں شادی کے شادیانے بجنے لگے, حدید انکار کرتا… راۓ عبید اس پر چڑھ دوڑتے…. آسیہ تو بیچ کشتی کی سوار بن گئی تھیں
ایک طرف شوہر… ایک طرف لاڈلا بیٹا
جب حدید نے دیکھا کہ کسی طرح دال نہیں گل رہی تو انیتا کے سر پر جا پہنچا…
“انیتا میں نے تمہیں بتایا تھا… ” وہ شکوہ کر رہا تھا
“کیا بتایا تھا… ” وہ انجان بن گئی
“میں کسی اور سے محبت کرتا ہوں” وہ تڑخا
“تو کرتے رہو… وہ تمہارا مسئلہ ہے, میں تو تم سے محبت کرتی ہوں نا… ” انیتا سب کچھ جانتے بوجھتے بھی انجان بن رہی تھی, خاموش رہنے میں کیا جاتا تھا اگر بدلے میں اسے حدید مل رہا تھا
ایک ہفتے بعد انیتا کی مہندی تھی, ڈھولک رکھی جا چکی تھی, سب تیاریاں ہو چکی تھیں
اس رات حدید غاشیہ کا ہاتھ تھامے گھر واپس آیا تھا
“یہ میری بیوی ہے…. غاشیہ ملک” اس نے اعلان کیا تھا اور اس کے پہلو میں کھڑی غاشیہ ملک اس رات حدید راۓ کے بدلے سب کچھ چھوڑ آئی تھی…
اپنا باپ… بہن بھائی.. گھر… سب کچھ
رشتہ اس کا بھی طے تھا, شادی اس کی بھی ہونے والی تھی… اور بالکل حدید کی طرح وہ جب ایک ایک کو منا کر تھک گئی تو چپ چاپ اس کے سنگ گھر سے نکل آئی
“ابھی اسی وقت یہاں سے دفع ہو جا حدید… آج کے بعد تیری شکل نظر نہ آۓ ہمیں.. ” راۓ عبید نے اسے گھر سے نکال دیا تھا
انیتا کے ہاتھ سفید ہی رہ گئے… حدید اس کی پوروں سے چھو کر جدا ہو گیا تھا
وہ پہلا دن تھا… اسماء کی غاشیہ سے نفرت کا… اس نے اپنی آنکھوں نے انیتا کو سسکیاں بھرتے دیکھا تھا, ایک ہفتے بعد اس کی شادی ہونے والی تھی اور غاشیہ نے سب برباد کر دیا تھا
……………………………
وہ بینک سے واپس آیا تھا
رات ذرا زیادہ گہری ہو گئی تھی… اس نے جیسے ہی موٹر سائیکل کالونی کی طرف موڑا تو یکلخت ٹھٹھک گیا… فرح کسی کے گھر سے نکلی تھی
“یہاں کیا کر رہی ہو ؟؟؟” رات کے نو بجے اسے ایک انجان گھر سے نکلتے دیکھ کر وہ ساکت کھڑا رہ گیا
“وہ… میں… ایک دوست سے ملنے آئی تھی” وہ فٹ سے بولی
“فرح… وقت دیکھو ذرا… بیٹھو” شافع نے اسے موٹر سائیکل پر بیٹھنے کا اشارہ کیا تھا, گھر پہنچا تو رحمہ کی چیخیں باہر تک سنائی دے رہی تھیں
“کیا ہوا اسے ؟؟” شافع نے بھاگ کر اسے اٹھایا
“مجھے تو پتہ ہی نہیں تھا کہ یہ بیڈ پر اکیلی بیٹھی تھی… فرح نہ جانے کہاں تھی… گر گئی نیچے” روبینہ نے کہا, شافع نے تاسف سے فرح کو دیکھا تھا
اور یہ اس ایک رات کی کہانی نہیں تھی… یہ تو شافع انصاری کے دو سالوں کی داستان تھی, فرح گھر کی چاردیواری میں ٹکنے والی لڑکی نہیں تھی, ہر محلے دار عورت اس کی جاننے والی تھی, ہر لڑکی اس کی دوست تھی, ہر دوکاندار اسے جانتا تھا, ہر بندہ اس سے واقف تھا, شافع کی پابندیوں کا کوئی اثر نہیں تھا
……………………….
چھبیس سال گزر گئے تھے… اور چھبیس سال بہت ہوتے ہیں
سوچ بدلنے کے لئے, انداز بدلنے کے لئے… ان گزرے چھبیس سالوں نے بھی راۓ عبید کے اندر کی سختی کو راۓ وحید جیسا نہیں رہنے دیا تھا, پھر انہوں نے بہن کا دکھ دیکھا تھا… اسے برباد ہوتے دیکھا تھا, صرف ستائس سال کی عمر میں دنیا سے رخصت ہوتے دیکھا تھا… کچھ اس کا بھی اثر تھا…
اور چھبیس سال پہلے حمنہ کا ساتھ دینے والی اس کی ماں زندہ نہیں تھی… وہ تن تنہا باپ اور بھائی سے نہیں لڑ سکی تھی… لیکن آج… آسیہ اپنے سب سے لاڈلے بیٹے کو یوں سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر جاتا دیکھنا برداشت نہیں کر سکی تھیں
راۓ عبید نے ٹھان لی تھی کہ اسے واپس نہیں آنے دیں گے… وہ غاشیہ کو لے کر رینٹ پر رہنے لگا تھا, راۓ عبید نے اس کا نام تک لینے پر پابندی لگا دی تھی لیکن… انہی دنوں آسیہ کی طبیعت بگڑ گئی, ان کے گردے ختم ہوتے جا رہے تھے, ہسپتال کے بستر پر پڑے ہر لمحہ ان کے لبوں پر بس حدید کا ہی نام ہوتا تھا
“عبید اسے واپس لے آئیں… کوئی گناہ تو نہیں کیا اس نے ؟؟؟” وہ مسلسل راۓ عبید سے بحث کرتیں
اور راۓ عبید بس چپ کر جاتے تھے… انہیں بار بار یہ خیال آتا کہ چلو وہ تو چھبیس سال پہلے والا فیصلہ دوبارہ سے نہیں لے سکے…
لیکن تیمور ملک نے بھی وہ فیصلہ نہیں لیا… ؟؟؟
چھبیس سال پہلے وہ اپنے بھائی پر جو سختی کر گیا… وہی سختی اپنی بیٹی پر کیوں نہیں کر سکا… ؟؟؟ حالانکہ وہ تو لڑکی تھی… اس کے خاندان کی عزت تھی
پھر وہ کیوں چپ ہو کر بیٹھا ؟؟؟؟ وہ کیوں حدید کے پیچھے نہیں آیا ؟؟؟ کیا وہ بھی جوان بھائی کی موت سے پگھل گیا… ؟؟؟
یا اس کی بھی سوچ چھبیس سال بعد بدل گئی ؟؟؟
آسیہ بیماری سے لڑتے لڑتے ہار گئی تھیں… چھ ماہ وہ بستر پر پڑی رہیں
“عبید… میرا بچہ… میرا بچہ رل جاۓ گا, اسے رشتوں سے جدا نہ کریں… شادی ہی تو کی ہے ؟؟؟ وہ اپنی آخری سانسوں پر تھیں
حدید دو بار ان سے ملنے آیا تھا… اور اس کی شادی کے محض آٹھ ماہ بعد ہی آسیہ دنیا سے رخصت ہو گئی تھیں
ان کی آخری خواہش بھی حدید سے شروع ہو کر حدید پر ختم ہو گئ تھی… آمنہ بھی ان کی میت دیکھ کر ذرا پگھل گئی تھیں… اسماء نے البتہ بہت واویلا کیا تھا
“عبید… میرا بچہ اپنا گھر ہوتے ہوئے بھی کراۓ کے مکانوں میں رل رہا ہے… اس پر اتنا ظلم نہ کریں ” وہ ان سے وعدہ لے گئی تھیں
اور آسیہ کی وفات کے اگلے ہی دن راۓ عبید نے ان دونوں کو اوپر والا پورشن بخش دیا تھا… لیکن اس کا جرم نہیں بخشا تھا
………………………..
جاری ہے
